اردو
Thursday 28th of January 2021
1593
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

عذاب، خود اختیار پر دلیل ھے

خداوندعالم كا گناہكاروں پر عذاب كرنا، انسان كے مختار هونے پر بہترین دلیل ھے، اس سلسلہ میں قرآن مجید میں موجودہ آیات كو ملاحظہ فرمائیں: <لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ > ”اگر (كھیں) شرك كیا تو یقیناً تمھارے سارے اعمال اكارت هوجائیں گے اور ضرور تم گھاٹے میں آجاؤ گے“ <فَلاَیُجْزَی الَّذِینَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ إِلاَّ مَا كَانُوا یَعْمَلُونَ >
 عذاب، خود اختیار پر دلیل ھے

خداوندعالم كا گناہكاروں پر عذاب كرنا، انسان كے مختار هونے پر بہترین دلیل ھے، اس سلسلہ میں قرآن مجید میں موجودہ آیات كو ملاحظہ فرمائیں:

<لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ >

”اگر (كھیں) شرك كیا تو یقیناً تمھارے سارے اعمال اكارت هوجائیں گے اور ضرور تم گھاٹے میں آجاؤ گے“

<فَلاَیُجْزَی الَّذِینَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ إِلاَّ مَا كَانُوا یَعْمَلُونَ >

”اور برائی كرنے والوں كو اتنی ھی سزا دی جائے گی جیسے وہ اعمال كرتے رھے ھیں“

< یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اٴَلْسِنَتُہُمْ وَاٴَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ>

”جس دن ان كے خلاف ان كی زبانیں اور ان كے ھاتھ اور پیر ان كی كارستانیوں كی گواھی دیں گے“

<وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ>

”اور جیسی جیسی تمھاری كرتوتیں تھیں (ان كے بدلے) اب ھمیشہ عذاب كے مزے چكھو“

<وَقِیْلَ لِلظَّالِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ>

”اور ظالموں سے كھا جائے گا كہ تم دنیا میں جو كچھ كرتے تھے اب اس كے مزے چكھو۔“

<فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اٴَمِرِہِ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَةٌ>

”جو لوگ اس كے حكم كی مخالفت كرتے ان كو اس بات سے ڈرتے رہنا چاہئے كہ (مبادا) ان پر كوئی مصیبت آپڑے“

<وَمَنْ یَزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اٴَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ>

”اور جس نے ھمارے حكم سے انحراف كیا اسے ھم (قیامت میں) جہنم كے عذاب كا مزا چھكائیں گے“

كیونكہ اگر خداوند عالم اپنے بندوں كے افعال كا خالق هو اور پھر ان كاموں پر ان كو عذاب میں بھی مبتلا كرے تو یہ محال ھے كیونكہ یہ تو كھلم كھلا ظلم ھے، (كہ افعال كو خود انجام دے اور سزا بندوں كو دے) اور خداوند عالم ھر ظلم سے پاك و پاكیزہ ھے:

<وَمَارَبُّكَ بِظَلاّٰمٍ لِلْعَبِیْدِ>

”اور تمھارا پروردگا ر بندوں پر (كبھی) ظلم كرنے والا نھیں ھے“

<وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْس بِظَلاّٰمٍ لِلْعَبِیْدِ>

” خدا تو كبھی بندوں پر ظلم كرنے والا نھیں“

<وَمَا اٴَنَابِظَلاّٰمٍ لِلْعَبِیْدِ>

”اور میں اپنے بندوں پر (ذرہ برابر بھی) ظلم كرنے والا نھیں هوں“

<وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْماً لِلْعَالَمِیْنَ>

”اور خدا سارے جھان كے لوگوں (میںسے كسی) پر ظلم كرنا نھیں چاہتا“

<وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْماً لِلْعِبَادِ>

”اور خدا تو اپنے بندوں پر ظلم كرنا چاہتا ھی نھیں“

<اِنَّ اللّٰہَ لاٰ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ>

”خدا تو ھر گز ذرہ برابر بھی ظلم نھیں كرتا“

<اِنَّ اللّٰہ لاٰ یَظْلِمُ النَّاْسَ شَیْئاً>

”خدا تو ھر گز لوگوں پر كچھ ظلم نھیں كرتا“

<وَلاٰ یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحداً>

”اور تیرا پروردگار كسی پر (ذرہ برابر) ظلم نہ كرے گا“

(یہ تھیں وہ آیات جن میں خداوندعالم نے اپنے سے ظلم كی نفی كی ھے۔)

لیكن بعض علماء علم كلام نے خداوندعالم كی طرف ظلم كی نسبت كو صحیح مانا ھے، چنانچہ ان كے نظریہ كا خلاصہ یہ ھے:

”خداوندعالم كے لئے ظلم قبیح نھیں ھے كیونكہ وہ ظلم قبیح ھے جس كو عقل مكروہ جانے، یعنی وہ ظلم قبیح ھے جو دوسرے پر كیا جائے لیكن اگر اپنے پر ظلم كیا جائے چاھے وہ اپنے بدن پر هو یا اپنے مال اور اپنی عزت پر، كیونكہ انسان اپنے مال میں تصرف كرنے میں آزاد ھے اور بغیر كسی قید وشرط كے تصرف كرسكتا ھے اور اس كا یہ تصرف كرنا قبیح نھیں ھے۔

اسی طرح خداوند عالم كو بھی اپنی مخلوقات میں تصرف كرنے كامكمل حق ھے كیونكہ وھی ان كا خالق اور مالك ھے اور چونكہ اس كائنات میں جو كچھ بھی ھے وہ سب اللہ كی ملكیت ھے اور اس كی قدرت وسلطنت كے آگے خاضع ھیں، لہٰذا وہ جس طرح چاھے ان میں تصرف كرسكتا ھے، پس جس كو چاھے عذاب كرے چاھے وہ مومن ھی كیوں نہ هو، اور جس كو چاھے اپنی نعمتوں سے سرفراز كرے چاھے وہ كافر ھی كیوں نہ هو، كیونكہ تمام انسان اس كی ملكیت ھیں:

<وَلاٰ یُسْاٴَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْاٴَلُوْنَ >

”جو كچھ وہ كرتا ھے اس كی پوچھ گچھ نھیں هو سكتی (ھاں) اور لوگوں سے باز پرس هوگی۔“

لہٰذا انسان كو یہ حق نھیں ھے كہ خدا كی عظمت كے سامنے اپنی قابلیت دھائے اور كھے كہ خداوندعالم كا یہ فعل حسن ھے اور یہ فعل قبیح۔


source : tebyan
1593
0
0% ( نفر 0 )
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

انتخابی خلافت کا سیاسی طریقہ اور اسکا شیعی عقیدے کے ...
اس كی سند میں مندرجہ ذیل راوی ھیں
ضرورت وجود امام
فلسفہ خمس
معاد کے بغیر زندگی بے مفہوم ہے
جوانمردي
نجد پر تركوں كا دوبارہ حملہ اور فیصل كو گرفتار كركے جلا ...
مسئلہ امامت فروع دین میں سے ہے نہ کہ اصول دین میں سے
اپنے آپ سے بے خبری
شیعہ:لغت اور قرآن میں

 
user comment