اردو
Monday 26th of September 2022
0
نفر 0

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے‘ آپ نے فرمایا: جابر! علی کا شیعہ وہ ہے جس کی آواز اس کے کان سے تجاوز نہ کرے اور اس کی دشمنی اس کے جسم سے تجاوز نہ کرے اور ہمارے کسی دشمن
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے‘ آپ نے فرمایا:

جابر! علی کا شیعہ وہ ہے جس کی آواز اس کے کان سے تجاوز نہ کرے اور اس کی دشمنی اس کے جسم سے تجاوز نہ کرے اور ہمارے کسی دشمن کی مدح وثنا نہ کرے اور ہمارے کسی دشمن سے تعلقات قائم نہ کرے اور ہمارے عیب بیان کرنے والے سے ہم نشینی اختیار نہ کرے۔

علی کا شیعہ وہ ہے جو کتے کی طرح سے نہ بھونکے اور کوے کی طرح سے لالچ نہ کرے۔ اسے بھوکا مرنا گوارا ہو لیکن لوگوں سے سوال کرنا گوارا نہ ہو۔ ہمارے شیعہ سبک زندگی رکھتے ہیں (یعنی ان کے پاس وسائل معاش کم ہوتے ہیں) اور وہ خانہ بدوش رہتے ہیں اگر وہ کسی جگہ پر رہائش پذیر ہوں تو ان کو پہچاننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اور اگر وہ غائب ہوں تو کوئی ان کو تلاش نہیں کرتا اور اگر وہ بیمار ہوں تو کوئی ان کی تیمارداری نہیں کرتا اور اگر مرجائیں تو لوگ ان کے جنازے میں شامل نہیں ہوتے۔ وہ قبروں میں رہ کر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔

میں (راوی) نے کہا: بھلا میں ان صفات کے حامل افراد کو کہاں تلاش کروں؟

آپ نے فرمایا: انہیں زمین کے اطراف اور بازاروں میں تلاش کرو۔ اللہ تعالیٰ نے انہی کے لیے فرمایا ہے:

مومنین کے لیے تواضع کرنے والے اور کافروں کے مقابلہ میں سرفراز ہوتے ہیں۔

حقیقی شیعہ انتہائی قلیل ہیں

مفضل بن قیس نے کہا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: کوفہ میں ہمارے شیعوں کی کیا تعداد ہے؟

میں نے کہا: پچاس ہزار۔

آپ مسلسل یہی سوال کرتے رہے اور میں تعداد کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:

کیا تجھے امید ہے کہ ان کی تعداد بیس ہوگی؟

پھر آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! میری یہ خواہش ہے کہ کوفہ میں پچیس افراد ایسے ہونے چاہییں جو کہ ہمارے امر ولایت کی معرفت رکھنے والے ہوں اور ہمارے متعلق سچ کے علاوہ اور کچھ نہ کہیں۔

عقیدہ تشیع کا جلدی سے اظہار کیوں ہوجاتا ہے؟

محمد بن علی ماجیلویہ کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

ابوالعباس سفاح کے دورِ حکومت میں ابوجعفر منصور دوانیقی نے حیرہ میں مجھ سے پوچھا تھا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ کا شیعہ ایک ہی نشست میں اپنے اندرونی مطالب کو اگل دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کے مذہب کا فوراً پتہ چل جاتا ہے؟

امام جعفر صادق علیہ السلام نے کہا:
اس کی وجہ ان کے سینوں میں حلاوتِ ایمان کی موجودگی ہے۔ ایمان کی شیرینی کی وجہ سے وہ اپنا اندرونی عقیدہ ظاہر کر دیتے ہیں۔

فضیلت کا معیار معرفت ہے

امام محمد باقر علیہ السلام یا امام جعفر صادق علیہ السلام میں سے کسی ایک امام نے فرمایا:

تم میں سے کچھ شیعہ کسی سے زیادہ نماز گزار ہوتے ہیں اور کچھ دوسرے سے زیادہ حج بجا لانے والے ہوتے ہیں اور کچھ کسی سے زیادہ صدقہ دینے والے ہوتے ہیں اور کچھ دوسروں سے زیادہ روزدار ہوتے ہیں اور تم میں سے افضل وہ ہے جو معرفت میں افضل ہو۔


source : tebyan
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

روز حساب
مفہوم تشيع
طبیب، جو خود مریض کے پاس جائے
وقف و وصل
جرات بھی اسی سمت ہے ایمان جدھر ہے
خدا کی راہ میں خرچ کرنا
ياد خدا
عدل
تقیہ کے بارے میں شکوک اورشبہات
توسّل اور توبہ

 
user comment