اردو
Tuesday 18th of May 2021
186
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

معاد کی واضح دلیلیں

ہمارا عقیدہ ہے کہ معاد کی دلیلیں بہت واضح اورروشن ہیں کیونکہ : الف: دنیا کی زندگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ دنیا، جس میں انسان چند دنوں کے لئے آتا ہے مشکلات کے درمیان زندگی بسر کرتا ہے اور مرجاتا ہے، انسان کی خلقت کا آخری ہدف ہو افحسبتم انما خلقناکم عبثاوانکم الینا لاترجعون یعنی کیا تم یہ گمان کرتے ہوکہ ہم نے تمھیں کسی مقصد کے بغیر پیداکیا ہے اور تم ہمارے پاس پلٹ کر نہیں آؤ گے۔ یہ ا س بات کی ط
معاد کی واضح دلیلیں

ہمارا عقیدہ ہے کہ معاد کی دلیلیں بہت واضح اورروشن ہیں کیونکہ :

الف: دنیا کی زندگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ دنیا، جس میں انسان چند دنوں کے لئے آتا ہے مشکلات کے درمیان زندگی بسر کرتا ہے اور مرجاتا ہے، انسان کی خلقت کا آخری ہدف ہو افحسبتم انما خلقناکم عبثاوانکم الینا لاترجعون   یعنی کیا تم یہ گمان کرتے ہوکہ ہم نے تمھیں کسی مقصد کے بغیر پیداکیا ہے اور تم ہمارے پاس پلٹ کر نہیں آؤ گے۔ یہ ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر معاد کا وجود نہ ہوتا تو دنیا کی زندگی بے مقصد رہ جاتی ۔

ب: الله کا عدل، اس بات کا تقاضاکرتا ہے کہ نیک اور بد لوگ، جو اس دنیا میں ایک ہی صف میں رہتے ہیں بلکہ اکثر بدکار آگے نکل جاتے ہیں، وہ آپس میں جدا ہوں اور ہر ایک اپنے اعمال کی جزا یاسزا پائے ام حسب الذین اجترحوا السیئات ان نجعلهم کالذین آمنوا وعملوا الصالحات سواء محیا هم ومماتهم ساء ما یحکمون یعنی کیا برائی اختیار کرنے والوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم انھیں ایمان لانے والوں اورنیک عمل کرنے والوں کے برابر قراردیں گے کہ سب کی موت و حیات ایک جیسی ہو، یہ انھوں نے بہت برافیصلہ کیا ہے ۔

ج: الله کی لا زوال رحمت اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کا فیض اور نعمتیں انسان کے مرنے کے بعد بھی قطع نہ ہوں بلکہ صاحب استعداد افراد کا تکامل مر نے کے بعد بھی اسی طرح ہوتا رہے کتب علی ٰ نفسه الرحمة لیجمعنکم الی ٰ یوم القیامة لاریب فیه یعنی الله نے اپنے اوپر رحمت کولازم قراردے لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن اکٹھا کرے گا، اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

جو افراد معاد کے بارے میں شک کرتے ہیں قرآن کریم ان سے فرماتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تم مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں، الله کی قدرت میں شک کر و، جب کہ تم کو پہلی بار بھی اسی نے پیدا کیا ہے۔ بس جس نے تمھیں ابتدا میں خاک سے پیدا کیا ہے وہی تمھیں دوسری زندگی بھی عطا کرے گا۔ افعیینا بالخلق الاول بل هم فی لبس من خلق جد ید   یعنی کیاہم پہلی خلقت سے عاجز تھے؟( کہ قیامت کی خلقت پر قادر نہ ہوں) ہر گز نہیں! لیکن وہ (ان روشن دلائل کے باوجود ) نئی خلقت کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں  ضرب لنا مثلاً ونسی خلقه قال من یحی العظام وهی رمییم ۔۔۔۔ قل یحیها الذی انشائهااول مرة وهو بکل خلق علیم   یعنی وہ ہمارے سامنے مثالیں پیش کرتا ہے، اپنی خلقت کو بھول گیا، کہتا ہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟، آپ کہہ دیجئے ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی مرتبہ خلق کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کا بہتر جاننے والا ہے ۔

اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ زمین و آسمان کی خلقت زیادہ اہم ہے یا انسان کا پیدا کرنا ! بس جو اس وسیع جہان کو اس کی تمام شگفتگی کے ساتھ خلق کرنے پر قادر ہے وہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔  اولم یروا ان الله الذی خلق السمو ٰ ت والارض ولم یعی بخلقهن بقادر علی ٰ ان یحی الموتی ٰ بلی ٰ انه علی ٰ کل شی ٴ قدیر   یعنی کیا وہ نہیں جانتے کہ الله نے زمین وآسمان کو پیدا کیا اور وہ ان کو خلق کرنے سے عاجز نہیں تھا، بس وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادرہے بلکہ وہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے


source : tebyan
186
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

کیا حکمت اور علم میں کوئی فرق هے؟
اہل تشیع کے اصول عقائد
ياد خدا
خدا کی شناخت اور معرفت کا ایک راستہ فطرت ہے
خدا، یونانی فلسفیوں کی نگاه میں
شیعہ بھی حضرات اہلسنت کا مسلک کیوں نہیں اختیار کر لیتے؟
حضرت علی علیہ السّلام کی حیات طیّبہ
شیعہ اہل بیت علیہم السلام کی نظر میں
علم کا مقام
کیا نذر کرنے سے تقدیر بدل سکتی ہے؟

 
user comment