اردو
Saturday 26th of September 2020
  41
  0
  0

امام موسيٰ کاظم (ع) اسوہ عبادت و استقامت

ائمہ طاہرين عليہم السلام نے اپني گہربار زندگي کے دوران اثبات حق اور رہبري امت کے لئے کسي کوشش سے دريغ نہيں کيا- اس مقصد کي خاطر انہوں نے ہر پريشاني کو خندہ پيشاني سے قبول کيا- اسي لئے ائمہ اطہار عليہم السلام راہِ حق ميں صبر و استقامت کا نمونہ بن کر سامنے آئے اور راہِ فضيلت پر چلنے والوں کے لئے اسوہ بن گئے- يہي وجہ ہے کہ عارف اور خدا کي تلاش ميں رہنے والے انسان زيارتِ جامعہ جيسي روح بخش زيارت کے اس جملے کو خلوت و جلوت ميں اپني زبان پر جاري رکھتے ہيں کہ: اشہد انکم قد وفيتم بعہد اللہ و ذمتہ و لکل م
امام موسيٰ کاظم (ع) اسوہ عبادت و استقامت

ائمہ طاہرين عليہم السلام نے اپني گہربار زندگي کے دوران اثبات حق اور رہبري امت کے لئے کسي کوشش سے دريغ نہيں کيا- اس مقصد کي خاطر انہوں نے ہر پريشاني کو خندہ پيشاني سے قبول کيا- اسي لئے ائمہ اطہار عليہم السلام راہِ حق ميں صبر و استقامت کا نمونہ بن کر سامنے آئے اور راہِ فضيلت پر چلنے والوں کے لئے اسوہ بن گئے- يہي وجہ ہے کہ عارف اور خدا کي تلاش ميں رہنے والے انسان زيارتِ جامعہ جيسي روح بخش زيارت کے اس جملے کو خلوت و جلوت ميں اپني زبان پر جاري رکھتے ہيں کہ: اشہد انکم قد وفيتم بعہد اللہ و ذمتہ و لکل ما اشترط عليکم في کتابہ و دعوتم الي سبيلہ و اتخذتم طاقتکم في مرضاتہ و حملتم الخلائق علي منہاج النبوّۃ- (ميں گواہي ديتا ہوں کہ آپ (ائمہ اہلبيت عليہم السلام) نے خدا کے ساتھ اپنے عہد و ذمہ کو پورا کيا اور جو کچھ اس نے اپني کتاب ميں آپ کے ساتھ شرط کيا تھا اسے بہترين طور پر انجام ديا- لوگوں کو راہِ خدا کي طرف دعوت دي اور اپني تمام توانائيوں کو رضائے الہي کے حصول ميں استعمال کيا اور مخلوقات کي سنتِ رسول (ع) کي جانب رہنمائي فرمائي)-

شيعيانِ حيدرِ کرار (ع) کے ساتويں امام، حضرت موسيٰ کاظم عليہ السلام 7 صفر سن 128 ہجري کو مکہ اور مدينہ کے درميان واقع ايک گاوں، ابوائ ميں دنيا ميں تشريف لائے- آپ (ع) نے بھي تمام ائمہ معصومين کي طرح اپني امامت کے 35 برسوں کے دوران دين اسلام کے احيائ اور الہي اقدار کے فروغ کے لئے ہر قسم کي مشکلات اور پريشانيوں کا خندہ پيشاني سے مقابلہ کيا اور راہِ اسلام ميں صبر و استقامت کو عملي جامہ پہنايا- آپ کا دورِ امامت چار ظالم عباسي خلفائ کے ساتھ رہا يعني منصور، مہدي، ہادي او رہارون الرشيد)-

آپ (ع)  نے اس مقصد کے لئے اپني پوري طاقت صرف کي اور فضيلتوں کے دفاع اور اخلاقي اور اجتماعي برائيوں کے مقابلے کے لئے استقامت او رپائداري کو پورے طور پر مجسم کيا- ہم آپ (ع)  کي زيارت ميں پڑھتے ہيں:

اشہد انک--- صبرت علي الاذيٰ في جنب اللّٰہ و جاھدت في اللّٰہ حق جہادہ- (ميں گواہي ديتا ہوں کہ آپ نے --- راہِ خدا ميں ہر تکليف و اذيت پر صبر کيا اور راہِ خدا ميں اس طرح جدوجہد کي جيسا کہ اس کا حق تھا)-

آپ (ع)  نے عباسي خلفائ اور خصوصاً ہارون رشيد کے بے رحمانہ اور ناقابلِ برداشت مظالم کا صبر و استقامت کے ساتھ مقابلہ کيا اور 25 رجب 183 ہجري کو اس دنيا سے رخصت ہوکر معبود حقيقي کي بارگاہ ميں تشريف لے گئے- آپ (ع)  کے لئے مخصوص صلوات ميں آيا ہے:

اللّٰہم صلِّ عليٰ موسَي بنَ جعفر و صيّ الابرار و امام الاخيار--- و مآلف البلويٰ و الصبر و المضطہد بالظلم و المحبور بالجور و المعذب في قعر السجون و ظلم القطامير ذي الساق المرضوض بحلق القيود- (خدايا موسيٰ ابن جعفر پر درود نازل فرما! جو نيک لوگوں کے جانشين اور اچھے لوگوں کے امام تھے--- جو بلاوں اور صبر سے واقف، ظلم وستم کا شکار، قيدخانوں اور تنگ و تاريک کمروں ميں اذيتيں اٹھانے والے، ورم زدہ اور زخمي پيروں اور زنجيروں ميں جکڑے ہوئے تھے--)

زيرِ نظر مقالہ امام موسيٰ کاظم عليہ السلام کے صبر و استقامت، عزم و قاطعيت، پہاڑوں جيسي سختي و سربلندي اور ظالم دشمنوں کے سامنے صراحت کے ساتھ ديئے گئے پيغامات اور جدوجہد کے چند اوراق ہيں-


source : tebyan
  41
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

15 رمضان امام مجتبى سبط اكبر(ع) کی ولادت با سعادت
قرآن شفاء ہے
اھل بیت علیھم السلام ، رشد و کمال کے لئے واسطہ
امام حسین علیہ السلام کی زیارت
معصوم دھم (حضرت امام علی رضاعلیہ السّلام)
قصیدہ در مدح امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام
حسنین کے فضائل صحیحین کی روشنی میں
تحقیق احادیث سلام پیغمبر اسلام
صحابہ شیعوں کی نظر میں
بغض اہلبيت (ع) كے اثرات

 
user comment