اردو
Monday 21st of June 2021
273
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

توسل قرآن و سنت کی نگاہ میں

آیت اللہ العظمی سبحانی نے قرآن مجید اور روایات اہل بیت علیہم السلام کی روشنی میں دعا اور توسل پر وارد ہونے والے شبہات کے جوابات دیئے۔
توسل قرآن و سنت کی نگاہ میں

    آیت اللہ العظمی سبحانی نے قرآن مجید اور روایات اہل بیت علیہم السلام کی روشنی میں دعا اور توسل پر وارد ہونے والے شبہات کے جوابات دیئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی شیخ جعفر سبحانی نے مشہد مقدس کے مدرسۂ عالی نواب میں "اسلامی کلام" کی سلسلہ وار نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا: توسل یہ ہے کہ ہم قرآن، نبی اکرم (ص) یا امام معصوم (ع) کے وسیلے سے اللہ کی قربت حاصل کرتے ہیں "وسیلہ" "سبب" ہے اور "توسل" "وسیلے کو بروئے کار لانا"ہے۔

انھوں نے کہا: کسی شیئے یا فرد کا وسیلہ ہونا شریعت میں "تعبداً" ثابت ہونا چاہئے اور کسی شیئے یا فرد کو وسیلہ قرار دینے کے لئے قرآن مجید نے ضابطہ عطا فرمایا ہے؛ ارشاد ربانی ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ" (سورہ المائدة آیت 35)

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کے غضب سے بچو اور اس کے پاس پہنچنے اور اس کی قربت کے لئے وسیلہ (ذریعہ) ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو شاید تم دین و دنیا کی فلاح (رستگاری اور بہتری) حاصل کرلو۔

اس مرجع تقلید نے کہا: امیرالمؤمنین امام علی بن ابیطالب علیہما السلام نے نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 110 میں ایمان باللہ، ایمان برسول اللہ (ص)، جہاد فی سبیل اللہ، نماز قائم کرنے، زکات ادا کرنے، روزہ رکھنے، حج بیت اللہ ادا کرنے، صدقہ دینے اور نیک اعمال انجام دینے کو ایمان کے وسائل قرار دیا ہے۔ مگر وسائل صرف یہی نہیں ہیں بلکہ آیات و روایات میں دیگر وسائل کا ذکر بھی آیاہے۔

آیت اللہ العظمی سبحانی نے سورہ اعراف کی آیت 180 کا حوالہ دیا ـ جہاں اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: "وَ لِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا کَانُوا يَعْمَلُونَ" (اور اللہ کے لئے بہترین اور زیباترین نام، تو اسے پکارو ان ہی ناموں سے اور چھوڑو انہیں جو اس کے نیک ناموں میں تحریف کرتے ہیں (یا ان ناموں سے منحرف ہوجاتے ہیں اور غلط راستہ اختیار کرتے ہیں) جلد ہی انہیں ان کے اعمال کی سزا ملے گی) ـ اور کہا: خدا سے تقرب کا بہترین وسیلہ فرائض اور نوافل کی طرف خصوصی توجہ دینا ہے؛ اس طرح اسماء اللہ سے دعا اور توسل  تمام اسلامی مکاتب و مذاہب کے نزدیک قابل قبول ہے۔

آیت اللہ العظمی سبحانی نے کہا: قرآن کریم اور نیک اعمال سے توسل اور ایک مؤمن کی دوسرے کے لئے دعا بھی تمام اسلامی مکاتب کے نزدیک قابل قبول اور مسلّم ہے اور سورہ بقرہ کی آیت 127 (وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ = اور(یاد کرو اس وقت کو) جب ابراہیم (ع) اور اسماعیل (ع) خانۂ کعبہ کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے؛ (اور التجا کررہے تھے کہ)  اے ہمارے پروردگار!ہم سے قبول فرما یقینا تو بڑا سننے والا ہے۔جاننے والا ہے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے نیک عمل کو بھی دعا کے لئے وسیلہ قرار دیا جاسکتاہے۔

انھوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی: اگر تم نے اپنی زندگی میں کوئی نیک عمل انجام دیا ہے تو اپنا عمل خداوند متعال کو جتا دو کیونکہ ایسی صورت میں بھی اللہ تعالی انسان کی دعا قبول کرتا اور اس کی حاجت برلاتاہے۔

اس مرجع تقلید نے کہا کہ حتی وہابی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات کے وقت آپ (ص) سے توسل جائز قرار دیتے ہیں اور تمام اسلامی مکاتب مذکورہ توسلات کے قائل و معترف ہیں۔

انھوں نے سورہ منافقون کی آیت 5 (وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَکُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَکْبِرُونَ = اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ پیغمبر خدا (ص) تمہارے لئے دعائے مغفرت کر دیں تو وہ (کبر و غرور کی بنا پر) اپنے سر گھماتے ہیں اور (اے میری رسول (ص)! آپ) انہیں دیکھتے ہیں کہ آپ کے کلام سے اعراض (اور دوری) کرتے ہیں اور وہ تکبر برتنے والے ہیں) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: شیعہ اور وہابیوں کے عقیدے میں فرق اس بات پر ہے کہ وہ رسول اللہ (ص) کی حیات ظاہری میں آپ (ص) سے توسل کے قائل ہیں جبکہ شیعہ کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ (ص) کے وصال کے بعد بھی آپ (ص) سے توسل کیا جاسکتاہے۔

اس مرجع تقلید نے اہل تشیع کے عقیدے کی دلیل کو سورہ نساء کی آیت 64 اور سورہ حجرات کی آیت 2 کا مفہوم و اطلاق قرار دیا جہان ارشاد ربانی ہے: "َمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا؛ اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس کے لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر وہ اپنے اوپر ستم کرتے (اور اللہ کے فرامین کو پامال کرتے) تو آپ کے پاس آتے اور پھر اللہ سے بخشش کے طلبگار ہوتے اور پیغمبر ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے تو اللہ کو بڑا توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان پاتے۔ اور "يا أََيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ کَجَهْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُکُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ" اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو پیغمبر (ص) کی آواز پر بلند نہ کرو اور آپ (ص) سے اونچی آواز سے باتیں نہ کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ زور زور سے بات کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر تک نہ ہو (الحجرات آیت 2 )

انھوں نے کہا: یہ دو آیتیں مطلق ہیں اور ان میں ایسی قید و شرط نظر نہیں آتی کہ صرف حیات رسول (ص) میں آپ (ص) سے توسل جائز ہے اور وصال کے بعد آپ (ص) سے توسل نہیں کیا جاسکتا۔

آیت اللہ سبحانی نے حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے فرزندوں اور دعائے نبی (ع) سے ان کے توسل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس قصے میں واضح کیا گیا ہے کہ دعائے نبی (ع) سے توسل پچھلی امتوں میں بھی مرسوم تھا۔

اس مرجع تقلید نے "برزخی حیات" اور "برزخ میں زندگی گذارنے والوں کے دنیا سے رابطے" کی طرف اشارہ کیا اور اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا: برزخی زندگی کے اثبات پر متعدد قرآنی آیات گواہ ہیں؛مثال کے طور پر خداوند متعال آل فرعون کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:


source : abna
273
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

قرآن و سنت کی روشنی میں امت اسلامیہ کی بیداری
ساباط و کربلا ایک ہی مقصد کے دونام
شیعہ اثنا عشری عقائد کا مختصر تعارف
رمضان المبارک کے فضائل
غدیر کا ھدف امام کا معین کرنا-2
اقوال حضرت امام علی النقی علیہ السلام
امام جعفر صادق (ع ) کے احادیث
شیر خدا اور شیر رسول جناب حمزہ علیہ السلام
حضرت فاطمہ (س)کی شہادت افسانہ نہیں ہے
جھوٹ

 
user comment