اردو
Saturday 27th of November 2021
563
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

همیں معلوم هے کے پوری دنیا میں ﮐﭽﮭ ایسے افراد پائے جاتے هیں جو مسلمان یا شیعه نهیں هیں لیکن وه اﭽﮭﮯ اور نیک کردارانسان هیں ،غیر مسلمین نے بهت سی نئی نئی چیزیں ایجاد کی هیں تو کیا اس صورت میں صرف اس دلیل کی بنا پر که وه مسلمان نهیں هیں هم انهیں جهنم اورعذا

همیں معلوم هے کے پوری دنیا میں ﮐﭽﮭ ایسے افراد پائے جاتے هیں جو مسلمان یا شیعه نهیں هیں لیکن وه اﭽﮭﮯ اور نیک کردارانسان هیں ،غیر مسلمین نے بهت سی نئی نئی چیزیں ایجاد کی هیں تو کیا اس صورت میں صرف اس دلیل کی بنا پر که وه مسلمان نهیں هیں هم انهیں جهنم اورعذا

همیں معلوم هے کے پوری دنیا میں ﮐﭽﮭ ایسے افراد پائے جاتے هیں جو مسلمان یا شیعه نهیں هیں لیکن وه اﭽﮭﮯ اور نیک کردارانسان هیں ،غیر مسلمین نے بهت سی نئی نئی چیزیں ایجاد کی هیں تو کیا اس صورت میں صرف اس دلیل کی بنا پر که وه مسلمان نهیں هیں هم انهیں جهنم اورعذاب الهی کا مستحق جانیں؟
ایک مختصر

جو لوگ دین اسلام پر ایمان نهیں لائے هیں وه دو قسم کے هیں:۱۔ وه لوگ جنھیں اصطلاح میں جاهل مقصر و کافر کها جاتا هے یعنی اسلام کا پیغام ان لوگوں تک پهنچا اور انهیں اس کی حقانیت کا بھی پتا چلا لیکن اس کے باوجود ضد اور سرکشی کی وجه سے انھوں نے حق کو قبول نهیں کیا اس گروه کے تمام لوگ عذاب کے مستحق هیں اور همیشه جهنم میں رهیں گے۔ ۲۔ وه لوگ جنهیں اصطلاح میں جاهل قاصر کها جاتا هے یعنی یا تو اسلام اور اس کا پیغام ان لوگوں تک نهیں پهنچا هے یا بهت زیاده ناقص اور غیر واقعی صورت میں انهیں پیغام ملا هے جسے وه ادیان هند و چین کے مانند اور زیاده سے زیاده یهودیت و مسیحیت کی حد تک سمجھتے هیں ایسے لوگ اپنے دین و آئین میں سچے هونے کے بنا پرنجات پائیں گے۔

تفصیلی جوابات

اسلام ایک بر حق دین هے جسے عقل سلیم نے تسلیم کیا هے یه ایک آسان اور سهل الحصول دین هے اس کی حقیقت کو دریافت کرنا ممکن و آسان هے اور اس حقیقت کو دریافت کرنے کے لیئے خدا کی جانب سے دو حجتوں "ظاهر و باطن" یعنی انبیاء و اولیاء اور عقل کا بند و بست کیا گیا هے ۔[1]

اسلام، دینی پلورلیزم سے مکمل طور پر اختلاف رکھتا هے کیونکه پلورلیزم ان اصول پر مبنی هے که مختلف قسم کے عقائدمیں کوئی فرق نهیں هے ،مسلم دین دار اور مسیحی و یهودی و غیره شان و درجه کے لحاظ سے برابر هیں اور کسی عقیده کے باطل هونے پر کوئی دلیل موجود نهیں هے کیونکه حقیقت ایک ایسی چیز هے جسے درک نهیں کیا جا سکتا هے اور دین بھی ایک امر نسبی هے جو مکمل طور سے شخصی مضمون کا حامل هے اور نه صرف یه که اس کی حقیقت و مضامین کو درک نهیں کیا جاسکتا هے اور هر انسان دین سے ایک جدا مفهوم کو سمجھتا هے بلکه متعدد حقائق اوربهت سی سچی راهیں نجات حاصل کرنے کی پائی جاتی هیں!

ایسا نظریه مکمل طور سے دین اسلام کے مخالف هے کیونکه دین اسلام ﮐﭽﮭ اعتقادی اور عملی و شرعی اور اخلاقی فروعات کا مجموعه هے ۔[2] اس کے باوجود اسلام نے ایک قسم کی کثرت کی گفتگو کی هے اور وه کثرت عملی میدان میں هے، یعنی ان لوگوں کے ساﺗﮭ روا داری و مدارا کرنا جو اسلام کی حقیقت سے دور هیں ۔ دوسرے لفظوں میں یه کها جاسکتا هے که: جو لوگ دین اسلام پر ایمان نهیں لائے هیں ان کے دو گروه هیں :۱۔وه گروه جس کو جاهل مقصّر وبغض و عناد رکھنے والے کافروں کا هے یعنی ان کے پاس اسلام پهنچا اور انهیں اس کی حقانیت کا بھی اندازه هوا لیکن ضد و سرکشی کی بنا پر انھوں نےاسے قبول نهیں کیا اس طرح کے افراد،دشمنی رکھنے والے کافر هیں اور عذاب دوزخ کے مستحق هیں کیونکه انھوں نے حق و حقیقت کو پهنچانا اور پورا پورا اختیار رکھتے هوئے علم و آگاهی کے ساﺗﮭ جان بوﺟﮭ کر مخالفت کی اس گروه کے لوگ اهل نجات هوسکتے تھے چاهے ظاهر میں ان کے اعمال اچھے هوں لیکن چونکه انھوں نے حق کو چھپایا اور حقیقت کے ساﺗﮭ دشمنی و ضد کی اس طرح انھوں نے اپنے هی سے اپنی نجات کا دروازه بند کر لیا اور نتیجه میں اپنا ٹھکانا منتخب کرلیا۔

۲۔ وه گروه جسے اصطلاح میں جاهل قاصر کها جاتا هے یعنی یا تو اسلام اور اس کا پیغام ان لوگوں تک نهیں پهنچا یا بهت ناقص و غیر واقعی طور پر پهنچا جس کی وجه سے انھوں نے اسلام کو هند و چین کے ادیان کے مانند سمجھا اور زیاده سے زیاده یهودیت و مسیحیت کی حد تک اسے تسلیم کیا ۔ واضح هے که اس گروه کے لوگ چاهے پچھڑے علاقوں میں بسر کریں یا یورپ و امریکه میں رهیں جو تهذیب و تمدن کا گهواره هیں چونکه ایمان نه لانے میں قصور وار نهیں هیں لهذا عذاب جهنم میں گرفتار نه هوں گے کیونکه عذاب ان گنهکاروں کے لیئے هے جو تقصیر و کوتاهی کرتے هیں لیکن جن لوگوں تک اسلام کا پیغام هی نهیں پهنچا اور انهیں اس کی حقانیت معلوم نه هوسکی یا غیر واقعی اسلام ان تک پهنچا لهذا انهیں دین اسلام کی حقانیت کا علم نهیں هے یه لوگ اسلام کو قبول نه کرنے میں قصوروار نهیں هیں جو گنهکارشمار هوں۔

افسوس که اسلام کے خلاف اس قدر پروپگینڈے کئے جارهے هیں که اکثر لوگوں کو آزادی کے

ساﺗﮭ سوچنے سمجھنے اور حقیقت تک پهنچنے سے محروم کردیا گیا هے جس کی وجه سے لوگ حق کو باطل سے تشخیص نهیں دے سکتےواقعیت یه هے که جس طرح تیزی کے ساﺗﮭ مادی ترقیاں هوئی هیں اس کے خلاف آج کا انسان معنویت کے لحاظ سے پیچھے چلاگیا هے اور اس کا سبب ،عالمی استکبار اور

اس کی پروپیگینڈه مشینریاں هیں یه لوگ پوری قوت کے ساﺗﮭ حقیقت میں تحریف کرنے اور اسے بدلنے میں مشغول هیں جس کی وجه سے بهت سے لوگ یهاں تک که تهذیب و تمدن کے گهواره میں رهنے والے افراد ،اسلام اور اهل بیت علیهم السلام کے حیات آفریں مکتب سے بے خبر هیں اور اس سے بھی بری بات یه هے که اسلام کے بارے میں انھیں غلط اور غیر واقعی معلومات دی گئی هیں اس طرح که جو دین سراسر رحمت و محبت اور عدالت کا نمونه هے اسے شدت و سختی اور ظلم و بے انصافی کا دین بتایا گیا هے۔

اسلام کے نظریه کے مطابق ایسے افراد اگر اپنے دین و آئین میں سچے هوں (اور فطرت کی بنیاد پر) مثلأ جھوٹ سے پرهیز کریں اور انسانیت کے خلاف کوئی کام نه کریں تو انھیں نجات ملے گی اور وه الهی رحمت کے امید وار هوں گے۔

یه بحث ان موحد وخداشناس دانشوروں کے بارے میں صادق هے جن تک اچھی طرح سے اسلام نهیں پهنچایا گیا اسی طرح ان اهل سنت افراد کے بارے میں بھی صادق هے جن کے اوپر شیعیت کی حقیقت واضح نهیں کی گئی هے خلاصه یه که جس کے پاس حقیقت نه پهنچی هو اور وه بھی اس حقیقت کے حصول میں قصوروار نه هوتو وه دوزخ کا مستحق نهیں هے کیونکه دوزخ گناهگاروں کی جگه هے ان لوگوں کی جگه نهیں هے جو حقیقت سے ناواقف هیں۔[3]


[1] اصول کافی :ج1 ص 25 ،حدیث نمبر 22 کتاب عقل و جھل.

[2] دینی پلورلیزم کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیئے فصلنامه کتاب نقد شماره 4 پائیز 76 زیر عنوان "پلورلیزم دینی و تکثر گرائی" خاص طور سے ڈاکٹر لگنھاوزن کی گفتگو به عنوان "مفهوم نبوت را خراب نکنیم" نیز مقاله ،"آیۃ الله جوادی آملی و پلورلیزم دینی " نصر عبدالله کا مقاله "یقین گمشده" ،سروش پبلیکیشن ،هادی صادقی سے اینٹرویوصص319 - 427 ۔.

[3] مطهری استاد شهید مرتضی ،عدل الهی : انتشارات اسلامی ،تهران،بخش ھشتم صص319-427 ،اور اسی کتاب پر تنقیدی مقاله بعنوان "کافر مسلمان و مسلمان کافر"از محمد حسن قراملکی

 


source : www.islamquest.net
563
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

بنی نجار میں ایک عورت
۔حضرت علی اور حضرت فاطمہ علیھاالسلام کے دروازے پر ھجوم
حضرت سلمان فارسی
امام حسن (ع) کا بچپن كا زمانہ
ولایت تکوینی اور ولایت تشریعی
امام حسن(ع) کی صلح اور امام حسین (ع)کے قیام کا فلسفہ
حضرت امام حسين عليہ السلام اور اسلامي حکومت
حضرت ادريس عليہ السلام
بنی ہاشم اور بنی امیہ کے متعلق حضرت علی (ع) کا تبصرہ
اخبارات و جرائد کا نظارتي کردار

 
user comment