اردو
Saturday 24th of July 2021
418
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

عمروعاص اپنی پوری زندگی میں کیساآدمی تھا؟

عمروعاص اپنی پوری زندگی میں کیساآدمی تھا؟

عمروبن عاص ، وهی" عمرو بن عاص بن وائل سهمی" هے- وه ایک موقع پرست اور چالباز انسان تھا- " نابغه " نامی ایک عورت سے پیدا هوا اور باپ کے لحاظ سے " عاص بن وائل " سے منسوب تها- "عاص بن وائل سهمی" وهی مشرک هے که جس نے پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کے بیٹے حضرت قاسم (ع) کی وفات کے بعد آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کی بهت هی بری طرح طعنه زنی کی اورآپ(ص) کو ابتر کها، جس کے بعد اس کے بارے میں آیه " ان شانئک هوالابتر" نازل هوئی-

عمرو بن عاص چالبازی اور مکاری میں معروف تها- اس نے ،حضرت امام علی علیه السلام کی خلافت کے زمانے میں معاویه کے ایک قوی بازو اور حامی کی حیثیت سے حضرت علی علیه السلام کے خلاف جنگ صفین کی آگ بھڑ کادی اور اسی چالبازی سے جنگ کے دوران بهت سے مسلمانوں کو دهوکه دیا اور حکمیت کے قضیه میں سیدهے سادهے ابو موسی اشعری کو دهوکه دے کر معاویه کی ایک بڑی خد مت کی اور اس کے بعد اسے مصر کا گورنر بنایا گیا اور سنه ٤٣ هجری میں ٩٠سال کی عمر میں مرگیا-

تفصیلی جوابات

عمروبن عاص بن وائل سهمی ، مشهور ترین موقع پرست اور چالباز افراد میں سے ایک هے جو نابغه نامی ایک عورت سے پیدا هوا هے - لیکن اس عورت کے پانچ مردوں

( ابولهب ، امیه بن خلف، هشام بن مغیره ، ابو سفیان اور عاص بن وائل) سے همبستری کر نے کی وجه سے ، پانچوں مردوں نے اس کے باپ هو نے کا دعوی کیا، یهاں تک که طے پایا که اس کا فیصله خود نابغه کرے گی- اس نے عاص بن وائل کو چن لیا -( اس کے باوجود که ابوسفیان کهتا تها که عمر و میری نسل سے هے اور عمرو اس کے ساتھـ کچھـ شباهتیں بھی رکهتا تھا) کیو نکه نابغه ابوسفیان کو بخیل جانتی تھی اور کهتی تھی که عاص میری زیاده مدد کرتا هے[1] - اس طرح عاص بن وائل ، عمرو کا باپ مقرر هوا - عاص بن وائل وهی مشرک هے، جس نے پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کے بیٹے حضرت قاسم (ع) کی وفات کے بعد آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کی بهت هی بری طرح طعنه زنی کی اور آپ (ص) کو (نعوذ باالله) ابتر کها - ( یعنی جس کا کوئی بیٹا نه هو تاکه اس کی نسل باقی رهے) اس بری طعنه زنی کے بعد سوره مبارکه کوثر نازل هوا اور اس سوره کی آخری آیت اسی شخص یعنی عاص بن وائل کی مذ مت میں هے[2]-

عمرو بن عاص، پیغمبر (ص) کے زمانه میں :

عمرو بن عاص ، پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کے زمانه میں ایک انتهائی منفور اور پلید شخص تها، کیو نکه وه وهی شخص هے جس نے آنحضرت صلی اللله علیه وآله وسلم کے خلاف ستر اشعار کهے تهے اور مکه کے بچے جب آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کو دیکهتے تهے تو انهی اشعار کو بلند آواز میں پڑهتے تهے اور یه کام پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم کے لئےاذیت و آزار کا سبب بن جاتا تها- اس لئے رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم نے دعا کی : " خداوندا! عمرو نے میری هجو کی هے لیکن میں شاعر نهیں هوں اور شاعری میرے لئے مناسب نهیں هے تا که میں اس کا جواب شعر میں دیدوں اس لئے اس کے اشعار کے هر حرف کے مقابلے میں اسے هزار بار لعنت بهیجنا[3]-"

عمر وعاص وهی شخص هے که قریش کے سرداروں نے اس کی سر پرستی میں ایک گروه کو حبشه بهیجا تا که نجاشی سے تقاضا کریں که مشرکین سے بچنے کے لئے حبشه بها گے مسلمانوں کو ان کے حواله کرے، لیکن نجاشی نے ان کی بات نهیں مانی اور عمر وعاص اور اس کے ساتھی خالی هاتھـ لوٹے[4]-

سر انجام ، عمرو عاص ساتویں هجری میں مسلمان بن گیا ، اس نے اس شرط پر رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کی بیعت کی تاکه اس کا سابقه قرض معاف کیا جائے[5]-

بعض تاریخی کتابوں کے نقل کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم نے عمرو کے مسلمان هو نے کے بعد اسے " ذات السلاسل [6]" نامی جنگ کے کمانڈر کی حیثیت سے منصوب کیا اور اس کے بعد عمان کے لوگوں سے زکواۃ جمع کر نے کی ذمه داری سونپی[7]-

عمرو عاص ، ابو بکر، عمر اور عثمان کے زمانه میں :

عمرو عاص ابو بکر اور عمر کی خلافت کے دوران ان کے نزدیک ترین افراد میں شمار هو تا تها اور فتح شام میں مسلمانوں کی فوج کے کمانڈروں میں سے ایک تها -عمر کی خلافت کے دوران ایک مدت تک فلسطین کا گورنر مقرر هوا اور اس کے بعد اسے فتح مصر کی ذمه داری سونپی گئی - مصر کو فتح کر نے کے بعد خود وهاں کا گورنر بن گیا - عمر کی وفات کے بعد چند برسوں تک اسی عهده پر بر قرار تھا- عثمان نے اسے معزول کیا اور وه دوباره فلسطین چلا گیا اور اس کے بعد عثمان کے مخا لفین سے جاملا اور مدینه بهت کم آتا تھا[8]

عمرو عاص ، امیرالمٶمنین حضرت علی کی خلافت کے دوران :

عثمان کے قتل اور حضرت علی کے خلیفه بننے کے بعد ، حضرت علی علیه السلام نے معاویه کو شام کی حکو مت سے معزول کر دیا ، معاویه نے جب اپنی حکو مت کو خطره میں دیکها ، تو حضرت علی علیه السلام کو عثمان کے قتل کا ذمه دار قرار دیا اور خود عثمان کی خونخواهی کے عنوان سے حضرت علی علیه السلام کے خلاف علم بغاوت بلند کی- وه اس کام میں عمر وعاص کی حمایت سے بے نیاز نهیں تھا- اس لئے اس نے عمروعاص کو ایک خط لکها اور اس سے اس سلسله میں تعاون کی درخواست کی -

عمروعاص نے جواب میں لکها: "میں نے تمهارا خط پڑها اور سمجھـ گیا ، لیکن یه که تم نے مجھـ سے چاها هے که دین اسلام سے خارج هو کر تیرے ساتھـ وادی ضلالت میں داخل هو جاٶں اور باطل کی راه میں تیری مدد کروں اور امیرالمٶمنین کے خلاف تلوار اٹهالوں ، جبکه وه رسول خدا( صلی الله علیه وآله وسلم ) کے بهائی ، ولی ، وصی اور وارث هیں ، اسی نے پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کی امانتوں کو ( آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کے مدینه هجرت کر نے کے بعد ) ادا کیا اور وعدوں کو پورا کیا ، وه پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے داماد ، خاتون عالم کے شوهر اور سردار جوانان بهشت حسن(ع) و حسین (ع) کے والد هیں ، اس لحاظ سے میں تیری دعوت کو قبول نهیں کرسکتا هوں - لیکن یه جو تونے کها هے که میں عثمان کا خلیفه هوں ( یاد رکهنا که ) عثمان کے مر نے سے تم معزول هو چکے هو اور خلافت زائل هو چکی هے - کیا تم نهیں جانتے هو که ابوالحسن (ع) نے خدا کی راه میں اپنی جان نثاری کا ثبوت دیا هے اور وه بستر رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم پر سو گئے اور رسول خدا (ص) نے ان کے بارے میں فر مایا هے : " جس جس کا میں مولا هوں اس کے علی (ع) بهی مولا هیں [9]-"

ان باتوں کے باوجود جب معاویه نے عمروعاص کو مصر کی خلافت کا وعده دیا ، تو اس نے اپنے آپ کو معاویه کے اختیار میں قرار دیا اور معاویه کے ساتھـ مکمل تعاون کیا اور شام کے لوگوں کو دهوکه دیکر اور خون عثمان کا بهانه بناکر حضرت علی علیه السلام کے خلاف جنگ صفین کی آگ بھڑ کادی اور دهوکه ، افوابازی اور مکاری سے جنگ کا اداره کیا - اس کے باوجود حضرت علی علیه السلام اور آپ (ع) کے ساتهیوں کی شجاعت وبهادری کے نتیجه میں ، معاویه اور عمر وعاص شکست کے دهانے پر پهنچ گئے ، لیکن یهاں پر بهی عمروعاص نے حضرت علی علیه السلام کی فوج کو فریب کاری کے ذریعه قرآن مجید کو نیزوں پر بلند کر کےدهوکه دینے میں کامیاب هوا اور حضرت علی (ع) کو حکمیت قبول کر نے پر مجبور کیا -" اشعث بن قیس ، جیسے افراد بهی عمر وعاص کے فریب میں آگئے اور حضرت علی علیه السلام کو حکمیت اور ابو موسی اشعری جیسے سیدهے سادهے فرد کو حکم کی حیثیت سے قبول کرنے پر مجبور کیا - عمر وعاص نے اسی حکمیت میں پهلے سے منصوبه بند طریقے پر بڑی آسانی کے ساتھـ ابو موسی اشعری کو دهوکه دیا اور معاویه کی خلافت کو بر قرار رکها - اس کے بعد حضرت علی علیه السلام خوار جوں کے ساتھـ جنگ کر نے پر مجبور هو گئے-

عمروعاص بھی ، معاویه کے وعده کے مطابق مصر چلا گیا - اس وقت مصر میں حضرت علی علیه السلام کی طرف سے محمد بن ابا بکر گور نر تھے ، اس کے بعد حضرت علی نے مالک اشتر کو مصر روانه کیا ، لیکن مالک راسته میں هی معاویه اور عمروعاص کے کارندوں کے هاتهوں زهر دلاکر شهید کئے گئے- محمد بن ابا بکر کو بهی بڑی بے دردی سے شهید کیا گیا اور اس طرح عمر وعاص نے مصر کی گورنری کو غصب کیا [10]-

وه اسی منصب پر تها که ایک مدت کے بعد معاویه کو مصر کا خراج نه بهیجنے کے الزام میں معاویه نے اسے معزول کر نے کی دهمکی دیدی! اس نے اس کے جواب میں معاویه کو ایک خط لکها اور اس میں " جلجیه" کے عنوان سے ایک شعر اس کے لئے بهیجا اور اس شعر میں حضرت علی علیه السلام کے بهت سے فضا ئل کا اعتراف کیا اور معاویه کو بد امنی پهیلانے کے الزام میں دهمکی دی -آخر کار وه مصر میں اسی عهده پر ٩٠ سال کی عمر میں سنه ٤٣ هجری [11]میں اس دنیا سے چلا گیا[12]-


[1] - شرح ابن ابی الحدید ،ج٦،ص٢٨٢; همان،ج٢، صص ١٠٠-١٠١-

[2] - مجمع البیان (١٠ جلدی طبع بیروت) جلد١٠،ص٤٦١-

[3] - سفینه البحار ،٤جلدی آستان قدس ،ج٣،ص٦٥٩-

[4] - دلائل النبوۃ ،تر جمه، ج٢،ص٥١-

[5] - تاریخ طبری ،ج٥،ص;١٤٩٤،و١٥٢٥- اسد الغابۃ ،ج٣،ص;٧٤٢-

[6] - المغازی ،ج٢،ص٧٧-

[7] - اسد الغابۃ ،ج٣،ص;٧٤٢-

[8] - اسد الغابۃ ، ج٤،ص٢٤٤، طبقات ج٤، ص ٢٥٦، قاموس الرجال ج٨،ص١١-

[9] - تذکرۃ الخواص،ص٨٤-

[10] - تاریخ گزیده ،ص١٩٨-

[11] - تاریخ اسلام ، ج٤،ص٩٠; مروج الذهب ،ج٣،ص٢٣-

[12] - مروج الذهب ، ج٣، ص٢٣-

 


source : www.islamquest.net
418
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

میثاقِ مدینہ
حجتہ الوداع کے موقع پر رسول خدا کی پرزور تقریر
جنت البقیع اور ا س میں د فن اسلامی شخصیات
اصحاب الرس
کیا ابوبکر اور عمر کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے معاف ...
حضرت خضرعلیه السلام کے هاتھوں نوجوان کے قتل کئے جانے ...
سقیفائی حکومت کا دوسرا چہرہ
انصار كى دلجوئي
مغربي زندگي کي خامياں
آسيہ

 
user comment