اردو
Friday 27th of January 2023
0
نفر 0

روزگار اسکیم کے تحت گورنمنٹ سے قرضہ لینا جائز ہے؟

روزگار اسکیم کے تحت گورنمنٹ سے قرضہ لینا جائز ہے؟

علیکم السلامکاروبار اور کام کاج کے لیے گورنمنٹ سے سود پر قرضہ لینے میں کوئی اشکال نہیں ہے اس نیت یا آپشن کے ساتھ کہ آپ گورنمنٹ کو اپنے کاروبار میں شریک جانیں اور کاروبار سے حاصل شدہ پرافٹ میں گورنمنٹ کو شریک قرار دیں اس عنوان سے قرضہ لینے کا عنوان اور اس کے سود کا عنوان بدل جاتا ہے جو شرعا کوئی اشکال نہیں رکھتا یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص آپ کو بزنس کرنے کے لیے پیسہ دے اور کہے کہ اس کے پرافٹ میں میرا حصہ بھی ہے جو شرعا کوئی اشکال نہیں رکھتا۔(استفتائات مقام معظم رہبری کی روشنی میں)۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲


source : www.abna.ir
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

قرآن مجید کے مطابق خاندان میں مردوں کی عورتوں پر ...
کيا اصحاب کهف کا واقعه سائنس سے مطابقت رکهتا يے؟
کیا قرآن مجید میں " پل صراط" کی طرف اشاره ھوا ھے؟
جب غدیر میں رسول نے علی ولی اللہ کی گواہی دے دی تو ...
حدیث سفینہ میں اہل بیت سے مراد کون لوگ ہیں؟
قیامت کے روز اعمال کا مشاهده کرنے سے کیا مراد هے؟
صراط مستقیم کیا ہے ؟
شفاعت کے کیا شرائط ہیں؟
آیاحضرت خدیجہ (ع)رسول سے قبل شادی شدہ تھیں ؟
کیا کوکب دری کے مصنف عارف تھے؟

 
user comment