اردو
Saturday 31st of July 2021
998
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

حلالہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

حلالہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

سوال: Salam alikum halala kub shoro howa ahlusunat ki kitabo ki hiwalay say bitahay
جواب: حلالہ کا مسئلہ عصر پیغمبر سے ہی شروع ہوا جس کی وجہ سے قرآن کی آیت بھی نازل ہوئی اور اس سلسلے میں پیغمبر اکرم (ص) نے احادیث بھی ارشاد فرمائیں۔

اسلام میں حلالہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت کو جب تین طلاق دے دئے جائیں تو اس کے بعد اس کی طرف رجوع نہیں کیا جا سکتا مگر یہ کہ وہ عورت اپنی مرضی سے کسی دوسرے مرد سے شادی کرے اور اس کے بعد اس کے ساتھ ہمبستری کرے اور یہ مرد اپنی مرضی سے بغیر کسی کے دباو کے اس عورت کو طلاق دے دے یا وہ عورت اپنے اختیار سے طلاق لے لے اس کے بعد سابقہ شوہر اس عورت کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۳۰ میں اس بارے میں حکم دیا گیا ہے: « فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا» (بقره 230).
یعنی اگر شوہر نے عورت کو تین طلاق دے دئے تو اسکے بعد وہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہو گی جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کر لے پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو اس صورت میں پہلے شوہر کے اس کی طرف رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یہ چیز اسلام نے اس وجہ سے رکھی ہے تاکہ مسلمانوں کے درمیان طلاق کی نحوست کو کم کیا جائے طلاق سے سماج میں پیدا ہونے والے مسائل کا سد باب کیا جائے چونکہ جب انسان اپنی زوجہ کو طلاق بائن یعنی تین مرتبہ طلاق دے دے گا اس کے بعد اگر اپنے کئے پر پشیمان بھی ہو تو اس پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا چونکہ اب اس عورت کو حاصل کرنا گویا انتہائی مشکل ہے اس لیے کہ جب وہ عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرے گی تو ضروری نہیں کہ اس کے بعد اس سے طلاق کا مطالبہ کرے اور بالفرض اگر وہ مطالبہ کرے تو ضروری نہیں کہ اس کا شوہر اسے طلاق دے دے اور اس دوسری شادی میں اسلامی نے ہمبستری کی قید لگائی ہے کہ دوسرا مرد اس عورت کے ساتھ جو اب اس کی بیوی ہے ہمبستری بھی کرے اس چیز سے پہلے مرد کو یہ احساس بھی ہو گا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق بائن دے کر بھیج دے گا وہ کسی دوسرے مرد سے شادی کر کے ہمبستری کر لے گی اس کے بعد اگر بالفرض طلاق کی صورت میں وہ اس سے شادی بھی کرے تو یہ اسکی بے غیرتی کا ثبوت ہو گا۔
لیکن بعض جاہل لوگ اس مسئلہ کو دوسرے روپ سے پیش کرتے اور اس الہی حکم میں تحریف پیدا کر کے اپنا مفاد پورا کرتے ہیں جیسا کہ بعض ان اسلامی فرقوں میں جن میں صرف تین بار طلاق طلاق طلاق کہنے سے تین طلاق ہو جاتے ہیں حلالہ ایک بڑی مشکل کا علاج ہے۔ عام جاہل لوگ حلالہ کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ادھر تین طلاق دینے کے بعد جب اپنے کئے پر پشیمان ہوئے تو اپنی بیوی کو کسی مرد کے پاس ایک رات کے لیے بھیج دیا اس کے بعد دوسرے دن وہ حلال ہو کر واپس آگئی۔ اس عمل کو شریعت اسلامی نے صریحا حرام قرار دیا ہے۔ جیسا کہ حدیث نبوی(ص) میں ایسا کرنے والوں پر لعنت بھی کی گئی ہے'' لعن اللہ المحلل و المحلل لہ‘‘ (ترمذی)''خدا کی لعنت ہو اس مرد پر جو اپنی بیوی کو حلال کرنے کے لیے بھیجے اور اس مرد پر جو دوسرے کی بیوی کو اس طرح حلال کرے‘‘۔ ( یہ حدیث أبوداود ،احمد ،النسائي ،الترمذي اورابن ماجه میں بیان ہوئی ہے)
عام لوگوں میں رائج حلالہ اور قرآن میں بیان شدہ حکم حلالہ میں فرق
۔ عوام میں جو حلالہ رائج ہے وہ یوں ہے کہ جو اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد نادم ہو جائے تو وہ حلالہ کو اپنی مشکل کا راہ حل سمجھتے ہوئے اپنی بیوی کو کسی ملاں کے پاس بھیج دیتا ہے اور وہ ملاں اسے حلال کر کے لوٹا دیتا ہے یہ چیز اہل تشیع کے سماج میں رائج نہیں ہے کیونکہ اہل تشیع کے نزدیک تین بار طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہوتی اور جو شخص الگ الگ دفعہ تین بار اپنی بیوی کو طلاق دے وہ دوبارہ کم ہی اس کی طرف رجوع کی سوچے گا اور پھر حلالہ کرنے کی کوشش کرے گا اس لیے حلالہ زیادہ تر اہلسنت کے نزدیک رائج ہے۔
لیکن قرآن اور شریعت میں جو حلال کرنے کا طریقہ کار ہے وہ یہ ہے کہ تین طلاق کے بعد عورت کو اختیار حاصل ہے وہ چاہے کسی سے شادی کرے یا نہ کرے اور کسی دوسرے مرد سے شادی کرنے کی صورت میں بھی اس کو مکمل اختیار ہے کہ وہ دوسرے شوہر سے طلاق لے یا نہ لے اس میں پہلے مرد کا کوئی رول نہیں ہے اب ایسی صورت میں یہ عورت دوسرے کے ساتھ سالھا سال زندگی بسر کرے اور فرضا اگر اس کا شوہر اسے اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا مر جائے تو ایسی صورت میں اگر وہ عورت چاہے تو پہلے مرد کے ساتھ دوبارہ شادی کر سکتی ہے۔
لہذا وہ حلالہ جو اہل سنت کے سماج میں رائج ہے بالکل ناجائز اور حرام ہے اور اس بات پر تمام علمائے اہلسنت اور علمائے اہل تشیع کا اتفاق ہے لیکن حلالہ کا وہ طریقہ جو قرآن اور احادیث میں بیان ہوا ہے وہ تمام علمائے اسلام کے نزدیک صحیح اور اسلامی طریقہ ہے۔

 


source : www.abna.ir
998
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

روزے كے اثرات كيا هر شخص پر يكساں هوتے هيں ؟
مذہب شيعہ باب مدينة العلم امام علي (ع) کے زمانے سے
نماز کے تشہد میں کیوں علی ولی اللہ پڑھنے سے نماز باطل ...
امام کیوں ضروری ہے؟
شیعہ کب وجود میں آئے؟
حدیث میں آیا ہے کہ دو افراد کے درمیان صلح کرانا، تمام ...
کتاب "مکیال المکارم" کے مطابق امام زمانہ کی باقی ...
مجلس کیا ہے
خون کا ماتم کرنا اگر حرام ہے تو کیوں لوگ اس سے پرہیز ...
عورت کا جہاد؟

 
user comment