اردو
Saturday 18th of September 2021
302
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی چالیس حدیثیں

 

دنیا امیرالمؤمنین علیہ السلام کی نگاہ میں

اسی پر اکتفا کرو جو تمہارے پاس ہے

1۔ خُذ مِن الدُّنیا ما أَتاکَ، و تَوَلَّ عمَّا تَولّى عنک، فإن أنت لم تَفعل فأجمِل فى الطَّلَب۔

(نهج البلاغه، حکمت ۳۹۳)

دنیا سے اتنا ہی لے لو جتنا کہ تمہیں ملتا ہے اور جو تم سے روگردانی کرے اسے نظرانداز کرو اور اگر ایسا نہیں کرسکتے ہو تو کم از کم اپنی خواہش کو کم کردو۔

دنیا پرستی کا ثمرہ

2۔ إذا أقبلت الدّنیا على أحدٍ أعارته محاسن غیره، و اذا أدبرت عنه سلبته محاسن نفسه۔

(مروج الذهب، ج ۳، ص ۴۳۴)

اگر دنیا کسی کی طرف رخ کرے تو وہ دوسروں کی خوبیاں وقتی طور پر اس کو دے دیتی ہیں اور جب کسی سے منہ موڑتی ہے تو اس سے اپنی خوبیاں اور مراعات واپس لے لیتی ہیں۔

دنیا کا طالب موت کو مطلوب

3۔ مَن طَلَبَ الدُّنیا طَلَبهُ المَوت حتّى یُخرِجَه عَنها، وَ مَن طلب الآخره طلبته الدّنیا حتّى یستوفى رزقه منها۔

(العقد الفرید، ج ۳، ص ۱۵۷)

جو دنیا کے تعاقب میں نکلے گا موت اس کا تعاقب کرتی ہے اور جو شخص آخرت کی طلب میں نکلے گا دنیا اس کو طلب کرے گی اور اس کا رزق اس کو پہنچا دے گی۔

ره آورد ترک آخرت به خاطر دنیا

4۔ لایترک الناس شیئاً من أمر دینهم لاستصلاح دنیاهم الّا فتح اللّه علیهم ما هو أضرّ منه۔

(نهج البلاغه، حکمت ۱۰۶)

لوگ اپنے دین کی کسی چیز کو اپنی دنیا کی خاطر ترک نہیں کرتے اور اگر ایسا کریں تو اللہ تعالی اس سے کہیں زیادہ نقصان دہ شیئے اس پر وارد کردے گا۔

دنیا پریشانی کی لائق نهین

5۔ من أصبح على الدّنیا حزیناً فقد أصبح لقضاء اللّه ساخطاً و من لهج قلبه بحبّ الدنیا التاط قلبه منها بثلاثٍ: همّ لا یغبّه، و حرص لا یترکھ ، و أملٍ لا یدرکه۔

(تذکره الخواص، ص ۱۴۴)

جو شخص دنیا کی خاطر مغموم و محزون ہوتا ہے وہ درحقیقت خدا کی قضا و قدر سے ناخوشنود ہے اور جس کا دل دنیا کی محبت کے رشتے میں منسلک ہے اس کا قلب تین چیزوں سے آلودہ ہوتا ہے: 1. ایسا غم و اندوہ جو اس سے کبھی جدا نہ ہوگا 2. ایسا حرص و لالچ جو اسے کبھی بھی تنہا نہ چھوڑے، 3. ایسی آرزو جس کو وہ کبھی بھی حاصل نہ کرسکے۔

دنیا سانپ کی مانند

6۔ مثلُ الدُّنیا کَمَثَل الحَیَّهِ ، لَیِّنٌ مَسُّها ، وَ السَّمُّ الناقِعُ فى جَوفِها ، یَهوى إلیها الغِرُّ الجاهل ، و یَحذَرُها ذواللُّب العاقِل۔

(نهج البلاغه، حکمت ۱۱۹)

دنیا سانپ کی مانند ہے، اس کو چھونا نرم اور ملائم ہے مگر اس کا باطن زہر بھرا ہے؛ چنانچہ جاہل فریب خوردہ شخص اس کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور عاقل و ہوشیار شخص اس سے اجتناب کرتا ہے۔

دنیا غدار غدار ہے دھوکے باز ہے

7۔ احذروا الدّنیا فإنّها غدّارةٌ غرّارةٌ خدوعٌ، معطیهٌ منوعٌ، ملبسهٌ نزوع، لایدوم رخاؤها، ولا ینقضى عناؤها، و لا یرکد بلاؤها۔

(نهج البلاغه، خطبه ۲۲۰)

دنیا کی چمک دمک سے ہوشیار رہو کیونکہ دنیا دھوکے باز، فریب کار اور غدار و مکار ہے، بخشتی ہے جبکہ محروم کرنے والی ہے؛ پہناوا دیتی ہے جبکہ برہنہ کردینے والی ہے؛ اس کا سکون عارضی اور اس کی مصیبتیں مسلسل ہیں جن کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔

دنیا کے لئے اہتمام آخرت کا غم

8۔ مَن کانَتِ الدُّنیا هَمَّهُ کَثُرَ فى القیامهِ غَمُّه۔

(شرح ابن ابى الحدید، ج ۲۰، ص ۲۱۱)

جس شخص کی ہمت دنا ہو روز قیامت غم کثیر اس کی پاداش غم کثیر ہے۔

دنیا کے لئے اہتمام حسرت کا پیش خیمہ

9۔ مَن کانَتِ الدُّنیا هَمَّهُ اشتدّت حَسرَتُهُ عِندَ فِراقِها۔

(مستدرک نهج البلاغه، ص ۱۶۵)

جس شخص کی ہمت دنیا کے لئے ہو اس سے جدا ہوتے وقت اس کی حسرت شدید ہوگی۔

دنیا کا شہد زہر ہے

10۔ الدُّنیا سَمٌّ یَأکُلُهُ مَن لا یَعرِفُه۔

(غررالحکم، ج ۱، ص ۶۹)

دنیا مہلک زہر ہے جو اسے نہیں پہچانتا اسے کھا لیتا ہے۔

دنیا پر مشغولیت خسارہ ہے

11۔ المَغبُونُ مَن شَغَلَ بِالدُّنیا، وَفاتَه حَظُّهُ مِن الآخره۔

(غررالحکم، ج ۱، ص ۱۰۶)

نقصان اس شخص کا مقدر ہے جو دنیا پر مشغول ہو اور آخرت سے اس کو جو فائدہ ملنا تھا وہ ضائع ہوچکا ہے۔

حب دنیا کا انجام

12۔ إیّاک و الوَلَهَ بالدُّنیا، فإنّها تُورِثُکَ الشَّقاءَ وَ البَلاء، و تَحدُوک على بَیعِ البَقاءِ بالفَناء۔

(نهج البلاغه، خطبه ۲۸)

دنیا کے شیدائی بننے سے بچ کر رہو، کیونکہ وہ تمہارے لئے بدبختی اور مصائب و آزمائشیں تمہارے دامن میں ڈالتی ہے اور تمہیں بقاء کو فناء کے عوض بیچنے پر آمادہ کرتی ہے۔

زہد اور انتظار موت کے فوائد

13ـ مَنْ زَهِدَ فِى الدُّنْيَا اسْتَهَانَ بِالْمُصِيبَاتِ وَ مَنِ ارْتَقَبَ الْمَوْتَ سَارَعَ إِلَى الْخَيْرَاتِ

(حکمت 31 نهج البلاغه)

وہ شخص جو دنیا میں زہد و ترک دنیا پیشہ کرتا ہے مصیبت اور بلا کو آسان سمجھتا ہے اور جو شخص موت کا منتظر ہے تیزی کے ساتھ نیکیوں کی طرف دوڑتا ہے۔

دنیا بعض لوگوں کے لئے اچھی ہے!

14۔ لَا خَيْرَ فِى الدُّنْيَا إِلَّا لِرَجُلَيْنِ رَجُلٍ أَذْنَبَ ذُنُوباً فَهُوَ يَتَدَارَكُهَا بِالتَّوْبَةِ وَ رَجُلٍ يُسَارِعُ فِى الْخَيْرَاتِ۔

(حکمت 94 نهج البلاغه)

دنیا میں دو قسم کے لوگوں کے سوا کسی کے لئے کوئی خیر و نیکی نہیں ہے:

ایک وہ گنہگار جو توبہ کرکے گناہ کی تلافی کرتا ہے اور ایک وہ نیک عمل انسان جو نیکیوں میں عجلت اور تیزرفتاری سے کام لیتا ہے۔

دنیا آخرت کی دشمن ...

15۔ إِنَّ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةَ عَدُوَّانِ مُتَفَاوِتَانِ وَ سَبِيلَانِ مُخْتَلِفَانِ فَمَنْ أَحَبَّ الدُّنْيَا وَ تَوَلَّاهَا أَبْغَضَ الْآخِرَةَ وَ عَادَاهَا وَ هُمَا بِمَنْزِلَةِ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَاشٍ بَيْنَهُمَا كُلَّمَا قَرُبَ مِنْ وَاحِدٍ بَعُدَ مِنَ الْآخَرِ وَ هُمَا بَعْدُ ضَرَّتَانِ ۔

(حکمت 103 نهج البلاغه)

(حرام) دنیا اور آخر دو مختلف دشمن اور دو الگ الگ راستے ہیں؛ پس جو اس کے عشق میں مبتلا ہوا آخرت سے دشمنی کرے گا اور اس کی نسبت کینہ رکھے گا اور یہ دو (دنیا اور آخرت) مشرق و مغرب کی مانند اور اس انسان کی طرح ہیں جو ان کے درمیان چل رہا ہے جب ایک سے قریب تر ہوگا دوسری سے دورتر ہوجائے گا اور یہ دونوں تسلسل کے ساتھ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے والی ہیں۔

ترک دنیا اور آخرت میں رغبت کے ثمرات

16۔ يَا نَوْفُ طُوبَى لِلزَّاهِدِينَ فِى الدُّنْيَا الرَّاغِبِينَ فِى الْآخِرَةِ أُولَئِكَ قَوْمٌ اتَّخَذُوا الْأَرْضَ بِسَاطاً وَ تُرَابَهَا فِرَاشاً وَ مَاءَهَا طِيباً وَ الْقُرْآنَ شِعَاراً وَ الدُّعَاءَ دِثَاراً ثُمَّ قَرَضُوا الدُّنْيَا قَرْضاً عَلَى مِنْهَاجِ الْمَسِيحِ۔

(حکمت 104 نهج البلاغه)

اے نوف ! خوشبخت ہیں وہ لوگ جنہوں نے دنیا پرستی سے آنکھیں پہیرلیں اور آخرت کی جانب راغب ہوئے! وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو بستر، پانی کو خوشبو، قرآن کو اپنا شعار (نچلا لباس)، دعا کو اپنا اوپر والا لباس قرار دیا اور دنیا کے ساتھ عیسی مسیح علیہ السلام کا سا رویہ اپنایا۔

آخرت کے فرزند بنو دنیا کے نہیں

17۔ كونوا من أبناء الآخرة و لا تكونوا من أبناء الدّنيا، فانّ كلّ ولد سيلحق بأمّه يوم القيامة.

(غررالحکم و درر الکلم جلد 1 ـ ص 42)

آخرت کے بیٹے بنو اور دنیا کے بیٹے مت بنو کیونکہ بتحقیق ہر فرزند قیامت کے روز اپنی ماں کے ساتھ جاملے گا۔

دنیا بقاء سے محروم

18۔ الدُّنْيَا دَارُ مَمَرٍّ لَا دَارُ مَقَرٍّ وَ النَّاسُ فِيهَا رَجُلَانِ رَجُلٌ بَاعَ فِيهَا نَفْسَهُ فَأَوْبَقَهَا وَ رَجُلٌ ابْتَاعَ نَفْسَهُ فَأَعْتَقَهَا۔

(حکمت 133 نهج البلاغه)

دنیا گذرنے کا راستہ (گذرگاہ) ہے باقی رہنے کی جگہ نہیں ہے اور اس میں لوگوں کے دو گروہ ہیں: ایک گروہ نے اپنا سودا کرکے اپنے آپ کو تباہ کیا اور دوسرے گروہ نے اپنے آپ کو خرید کر آزاد کردیا۔

ظہور مہدی آخرالزمان علیہ السلام کی خوشخبری:

دنیا آخر کار اہل بیت (ع) کی طرف رجوع کرے گی

19۔ لَتَعْطِفَنَّ الدُّنْيَا عَلَيْنَا بَعْدَ شِمَاسِهَا عَطْفَ الضَّرُوسِ عَلَى وَلَدِهَا وَ تَلَا عَقِيبَ ذَلِكَ وَ نُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِى الْأَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوارِثِينَ ۔

(حكمت 209 نهج البلاغه)

دنیا (ہمارے خلاف طویل) سرکشی کے بعد ہماری طرف رجوع کرے گی اس بدخو اونٹنی کی طرح جو اپنے بچے پر مہربان ہوجاتی ہے۔ (اس کے بعد امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس آیت کی تلاوت فرمائی):

"اور ہم نے ارادہ کیا کہ روئے زمین پر مستضعف بنائے جانے والوں پر احسان کریں اور انہیں ائمہ اور وارث قرار دیں"۔(القصص ـ 5)

ہوشیار رہو دنیا پرستی سے

20۔ قد اصبحتم فی زمن لا یزداد الخیر فیه الا ادبارا ، و لا الشر الا اقبالا و لا الشیطان فی هلاک الناس الا طمعا فهذا اوان قویت عدته و عمت مکیدته و امکنت فریسته. اضرب بطرفک حیث شئت من الناس فهل تبصر الا فقیرا یکابد فقرا او غنیا بدل نعمة الله کفرا او بخیلا اتخذ البخل بحق الله » فرا او متمردا کان باذنه عن سمع المواعظ و قرا . این خیارکم و صلحاؤکم و این احرارکم و سمحاؤکم ؟ و این المتورعون فی مکاسبهم و المتنزهون فی مذاهبهم ؟

(خطبه خطبه 127 نهج البلاغه)

''بے شک تم ایسے زمانے سے گذر رہے ہو کہ جس میں بھلائی اور خیر و نیکی کے قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں اور بدی آگے بڑھ کر آرہی ہے اور لوگوں کو تباہی سے دوچار کرنے پر شیطان کی حرص ہر لمحہ بڑھ رہی ہے. چنانچہ یہی وہ وقت کہ اس کے (ہتھکنڈوں) کا سروسامان مضبوط ہوچکا ہے اور اس کی سازشل پھیل رہی ہیں اور اس کے شکار آسانی سے پھنس رہے ہیں۔ جدھر چاہو لوگوں پر نگاہ ڈوراؤ کیا تمہیں اس فقیر کے سوا کوئی نظر آرہا ہے جو فقر و فاقہ جھیل رہا ہے؟ یا وہ دولت مند شخص جو اللہ کی نعمت کو کفران نعمت میں بدل رہا ہے یا وہ بخیل جو اللہ کا حق دبا کر مال بڑھا رہا ہے ایا وہ سرکش جو پند و نصیحت سے کان بند کئے پڑا ہے؟ کہاں ہیں تمہارے نیک اور صالح افراد اور کہاں ہیں تمہارے عالی حوصلہ اور کریم النفس لوگ؟ کہاں ہیں کاروبار میں (دغا و فریب سے) بچنے والے اور اپنے طور طریقوں میں پاک و پاکیزہ رہنے والے؟

دنیا کی تلخی آخرت کی شیرینی اور...

21۔ مَرَارَةُ الدُّنْيَا حَلَاوَةُ الْآخِرَةِ وَ حَلَاوَةُ الدُّنْيَا مَرَارَةُ الْآخِرَةِ ۔

(حکمت 251 نهج البلاغه)

دنیا کی تلخی آخرت کی شیرینی اور دنیا کی شیرینی آخرت کی تلخی ہے۔

دنیا کے ساتھ کیسا رویہ اپنائیں؟

22۔ النَّاسُ فِى الدُّنْيَا عَامِلَانِ عَامِلٌ عَمِلَ فِى الدُّنْيَا لِلدُّنْيَا قَدْ شَغَلَتْهُ دُنْيَاهُ عَنْ آخِرَتِهِ يَخْشَى عَلَى مَنْ يَخْلُفُهُ الْفَقْرَ وَ يَأْمَنُهُ عَلَى نَفْسِهِ فَيُفْنِى عُمُرَهُ فِى مَنْفَعَةِ غَيْرِهِ وَ عَامِلٌ عَمِلَ فِى الدُّنْيَا لِمَا بَعْدَهَا فَجَاءَهُ الَّذِى لَهُ مِنَ الدُّنْيَا بِغَيْرِ عَمَلٍ فَأَحْرَزَ الْحَظَّيْنِ مَعاً وَ مَلَكَ الدَّارَيْنِ جَمِيعاً فَأَصْبَحَ وَجِيهاً عِنْدَ اللَّهِ لَا يَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَةً فَيَمْنَعُهُ ۔

(حكمت 269 نهج البلاغه)

لوگ دنیا میں دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں: ایک گروہ وہ ہے جس نے دنیا کے لئے کوشش و محنت کی اور دنیا نے اس کو آخرت سے باز رکھا؛ وہ اپنے پسماندگان کی غربت سے خائف ہے اور خود غربت سے محفوظ ہے؛ یہ گروہ اپنی زندگانی کو دوسروں کے مفاد میں ضائع کردیتا ہے۔

اور دوسرا گروہ وہ ہے جو دنیا میں آخرت کے لئے کار و کوشش کرتا ہے اور دنیا کی نعمتیں بھی محنت کے بغیر اس کی طرف دوڑ کر آتی ہیں، پس اس نے دونوں دنیاؤں سے نفع حاصل کی اور دونوں جہانوں کا مالک بن گیا وہ اللہ کی بارگاہ میں آبرومند ہوکر صبح کرلیتا ہے اور اللہ سے جو بھی درخواست کرے برآوردہ ہوجاتی ہے۔

دنیا کا دوست اس کا بیٹا

23۔ النَّاسُ أَبْنَاءُ الدُّنْيَا وَ لَا يُلَامُ الرَّجُلُ عَلَى حُبِّ أُمِّهِ ۔

(حكمت 303 نهج البلاغه)

(دنیا پرست) لوگ دنیا کے فرزند ہیں اور کسی پر بھی ماں سے محبت کرنے کے واسطے ملامت نہیں کی جاتی۔

انسان کامل کا عملی نمونہ

24۔ مَنْ أَكْثَرَ مِنْ ذِكْرِ الْمَوْتِ رَضِيَ مِنَ الدُّنْيَا بِالْيَسِيرِ وَ مَنْ عَلِمَ أَنَّ كَلَامَهُ مِنْ عَمَلِهِ قَلَّ كَلَامُهُ إِلَّا فِيمَا يَعْنِيهِ۔

(حكمت 349 نهج البلاغه)

جو شخص موت کو زیادہ یاد کرتا ہے دنیا میں قلیل ترین پر راضی ہے اور جو شخص جان لے کہ اس کی گفتار بھی اس کے اعمال کا حصہ ہے وہ ضرورت سے زیادہ نہ بولے گا۔

خودسازی کا راستہ

25۔ يَا أَسْرَى الرَّغْبَةِ أَقْصِرُوا فَإِنَّ الْمُعَرِّجَ عَلَى الدُّنْيَا لَا يَرُوعُهُ مِنْهَا إِلَّا صَرِيفُ أَنْيَابِ الْحِدْثَانِ أَيُّهَا النَّاسُ تَوَلَّوْا مِنْ أَنْفُسِكُمْ تَأْدِيبَهَا وَ اعْدِلُوا بِهَا عَنْ ضَرَاوَةِ عَادَاتِهَا ۔

(حكمت 359 نهج البلاغه)

اے آرزوؤں کے اسیرو! بس کرو! کیونکہ دنیا کے مقامات و مراتب کے مالک لوگوں کو صرف زمانے کے حوادث کے دانت خوفزدہ کردیتے ہیں؛ اے لوگو! اپنی تربیت (خودسازی) کا ذمہ داری خود سنبھالو اور اپنے نفس کو ان عادتوں سے لوٹا دو جن پر وہ (نفس) حریص ہے۔

دنیا کی فصل اور آخرت کی فصل

26۔ إنَّ الْمَالَ وَ الْبَنِينَ حَرْثُ الدُّنْيَا وَ الْعَمَلَ الصَّالِحَ حَرْثُ الْآخِرَةِ.

(خطبه 23 نهج البلاغه)

دولت اور فرزند دنیا کی فصل ہیں اور عمل صالح آخرت کی فصل ہے۔

دنیا کی قدر و قیمت اور اسلاف سی عبرت لینی کی ضرورت

27۔ فَلْتَكُنِ الدُّنْيَا اءَصْغَرَ فِي اءَعْيُنِكُمْ اءَصْغَرَ مِنْ حُثَالَةِ الْقَرَظِ، وَ قُرَاضَةِ الْجَلَمِ، وَ اتَّعِظُوا بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، قَبْلَ أَن يَتَّعِظَ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَ ارْفُضُوها ذَمِيمَةً فَإ نَّهَا قَدْ رَفَضَتْ مَنْ كانَ اءَشْغَفَ بِها مِنْكُمْ۔

(خطبه 32 نهج البلاغه)

دنیا تمہاری آنکھوں میں قرظو (یعنی قینچی سے گرنے والے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں) سے بھی زیادہ بے قدر و قیمت ہونی چاہئے؛ گذرے ہوئے لوگوں سے سبق حاصل کرو اس سے پہلے کہ تم خود آئندہ نسلوں کے لئے عبرت بنو۔ دنیا کو ملوم و مذموم قرار دے کر ترک کردو کیونکہ دنیا نے ان لوگوں کو بھی اپنے سے دور کردیا ہے جو تم سے بھی زیادہ اس کے عاشق و شیدائی تھے۔

ترک گناہ توبہ سے آسان تر

28. تَرْكُ الْخَطِيئَةِ أَيْسَرُ مِنْ طَلَبِ التَّوْبَةِ وَ كَمْ مِنْ شَهْوَةِ سَاعَةٍ أَوْرَثَتْ حُزْناً طَوِيلًا وَ الْمَوْتُ فَضَحَ الدُّنْيَا فَلَمْ يَتْرُكْ لِذِي لُبٍّ فَرَحاً

(اصول كافى جلد 4 صفحه : 188 رواية : 1)

خطائیں ترک کرنا توبہ مانگنے سے آسان ہے اور بسا اوقات لمحہ بھر شہوت پرستی طویل غم و حزن کا سبب ہے اور موت نے دنیا کو رسوا کردیا ہے اور اس نے کسی بھی عقلمند شخص کے لئے شادمانی نہیں چھوڑی ہے۔

دنیا کی فنا اور ناپائیداری

29۔ وَ الدُّنْيَا دَارٌ مُنِيَ لَها الْفَناءُ، وَ لِاءَهْلِها مِنْهَا الْجَلاَءُ، وَ هِيَ حُلْوَةٌ خَضْرَهٌ، وَ قَدْ عَجِلَتْ لِلطَّالِبِ، وَ الْتَبَسَتْ بِقَلْبِ النَّاظِرِ، فَارْتَحِلُوا مِنْها بِاءَحْسَنِ ما بِحَضْرَتِكُمْ مِنَ الزَّادِ، وَ لا تَسْاءَلُوا فِيها فَوْقَ الْكَفَافِ، وَ لا تَطْلُبُوا مِنْهَا اءَكْثَرَ مِنَ الْبَلاَغِ۔

(خطبه 45 نهج البلاغه)

اور دنیا ایک سرائے ہے جس کا مقدر فنا اور ناپائیداری ہے؛ اس میں رہنے والے اس سے رخت سفر باندھ لیں گے۔ شیریں و گوارا بھی ہے سبز و خرم بھی ہے اپنے خواہشمندوں کو جلد پالیتی ہے اور اپنے اوپر نظر رکھنے والوں کا دل جلدی موہ لیتی ہے۔ ((())) پس تم جس حد تک میسر ہو سفر کے لئے خرچ اٹھاؤ اور سفر کی راہ پر گامزن ہوجاؤ؛ دنیا میں اس سے زیادہ کی خواہش نہ کرو جتنا کہ تمہارے لئے کافی ہے اور جتنا کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس سے زیادہ مت مانگو۔

دنیا نے تم سے منہ موڑ لیا ہے

30۔ اءَلاَ وَ إِنَّ الدُّنْيَا قَدْ تَصَرَّمَتْ وَ آذَنَتْ بِانْقِضَاءٍ وَ تَنَكَّرَ مَعْرُوفُهَا وَ اءَدْبَرَتْ حَذَّاءَ فَهِىَ تَحْفِزُ بِالْفَنَاءِ سُكَّانَهَا وَ تَحْدُو بِالْمَوْتِ جِيرَانَهَا وَ قَدْ اءَمَرَّ فِيهَا مَا كَانَ حُلْوا وَ كَدِرَ مِنْهَا مَا كَانَ صَفْوا فَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلا سَمَلَةٌ كَسَمَلَةِ الْإِدَاوَةِ اءَوْ جُرْعَةٌ كَجُرْعَةِ الْمَقْلَةِ لَوْ تَمَزَّزَهَا الصَّدْيَانُ لَمْ يَنْقَعْ فَاءَزْمِعُوا عِبَادَ اللَّهِ الرَّحِيلَ عَنْ هَذِهِ الدَّارِ الْمَقْدُورِ عَلَى اءَهْلِهَا الزَّوَالُ وَ لاَ يَغْلِبَنَّكُمْ فِيهَا الْاءَمَلُ وَ لاَ يَطُولَنَّ عَلَيْكُمْ فِيهَا الْاءَمَدُ۔

(خطبه 52 نهج البلاغه)

جان لو کہ دنیا اپنا پیوند منقطع کرچکی ہے اور چلے جانے پر بضد ہے اور اس نے وداع کی صدا اٹھا رکھی ہے اس کی خوشیوں نے دوسرا لباس زیب تن کیا ہے۔ ہاں! دنیا نے منہ موڑ لیا ہے اور تیزی کے ساتھ جارہی ہے اور اپنے ساکنین کو فنا کی طرف ہانک رہی ہے اور اپنے پڑوسیوں کو موت کی وادی میں دھکیل رہی ہے۔ اس کا شہد زہر میں تبدیل ہوگیا ہے اور اس کی شفافیت تیرگی میں تبدیل ہوئی ہے؛ اس سے تہہ ماندہ (((()))) کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے اس قطرے کے برابر جو مشک کی تہہ میں باقی بچا ہے جس کو اگر جام میں ڈال دیا جائے اور جام میں پڑے ہوئے ریت کے ایک ذرے کو بھگو دیتا ہے اور اگر پیاسا شخص اس کو چوس لے تو اس کی پیاس نہیں بجھتی۔ اے بندگان خدا! عزم سفر کرو اس سرائے سے جس کے باشندوں کا مقدر زوال ہے۔ خبردار کہیں اس سرائے فانی میں نفسانی خواہشات سے دوچار نہ ہوجانا اور کبھی بھی مت سمجھنا کہ تمہاری زندگی اس میں زیادہ عرصے تک طول نہیں کھینچے گی۔

دنیا اتفاقیہ آخرت استحقاقیہ

31- احوال الدنيا تتبع الاتفاق و احوال الاخرة تتبع الاستحقاق.

(غرر الحكم: 2036)

دنیا کے حالات اتفاق (واقعات و حوادث) کے تابع ہیں جبکہ آخرت کے حالات استحقاق اور لیاقت کے تابع ہیں۔

حرص دنیا اور حرص آخرت کا انجام

32- من حرص على الاخرة ملك، من حرص على الدنيا هلك.

(غرر الحكم: (8441 ـ 8442)۔

جو شخص آخرت پر حریص ہوگا اسے حاصل کرلے گا اور جو دنیا کے حرص میں مبتلا ہوگا نیست و نابود ہوجائے گا۔

دنیا بدبختوں کی آرزو

33- الدنيا منية الاشقياء، الاخرة فوزالسعداء.

(غرر الحكم: (694 ـ 695))۔

دنیا اشقیاء اور بدبختوں کی آرزو ہے اور آخرت سعادتمندوں اور خوشبخت انسانوں کی کامیابی ہے۔

دنیا تمہارے قدم چھومے

34- عليك بالآخرة تأتك الدنياصاغرة

(غرر الحكم: 6080)

آخرت کا دامن تھام لو، دنیا خوار ہوکر تمہارے قدم چھومے گی۔

آخرت کے لئے آمادگی کی ضرورت

35- استعدوا ليوم تشخص فيه الابصار، وتتدله لهوله العقول، وتتبلد البصائر.

(غرر الحكم:2573)

اس دن کے لئے تیاری کرو جب انسانوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہیں گی اور عقلیں دہشت و خوف سے ناکارہ ہونگی اور ذہانت و ذکاوت کندذہنی میں تبدیل ہوگی۔

دنیا منقطع اور آخرت قریب

36- ان الدنيا منقطعة عنك، والاخرة قريبة منك.

(نهج البلاغة خط نمبر 32)

بے شک دنیا تم سے جدا ہونے والی ہے اور آخرت تمہارے قریب ہے۔

فرصت نہیں سفرخرچ اٹھا کر چلو

37- اجعلوا اجتهادكم فيها التزود من يومها القصير ليوم الاخرة الطويل، فانها دار عمل،والاخرة دار القرار والجزاء

(نهج السعادة: 3 / 150)

اس (دنیا) میں ـ جس کا دورانیہ قلیل المدت ہے ـ اپنی کوششوں کو آخرت کے لئے ـ جس کی مدت بہت طویل ہے ـ خرچہ کمانے کے لئے وقف کرو؛ بتحقیق دنیا محنت اور کوشش کا مقام ہے اور آخرت باقی رہنے، استقرار اور جزا و پاداش حاصل کرنے کا مقام ہے۔

ذکر آخرت شفاء اور ذکر دنیا ...

38۔ ذكر الاخرة دواء وشفاء،ذكرالدنيا ادوا الادواء

(غرر الحكم 5175 ـ 5176)

آخرت کی یاد دوا ہے اور علاج جبکہ دنیا کی یاد بدترین درد اور بیماری ہے۔

میں دنیا کو دور پھینکنے والا ہوں

39- انا كاب الدنيا لوجهها،وقادرها بقدرها، وناظرها بعينها

(شرح نهج البلاغة لابن ابي الحديد: 8 / 125۔ )۔

میں ہوں جس نے دنیا کو دور پھینک دیا ہے اور جس نے اس کی اہلیت کے مطابق اس کی توقیر کی ہے اور اس کو اس کی اپنی آنکھ (تحقیر کی نظر) سے دیکھا ہے۔

دنیا کی اچھائیاں اور خوبصورتیاں:

40ـ إِنَّ الدُّنْيَا دَارُ صِدْقٍ لِمَنْ صَدَقَهَا وَ دَارُ عَافِيَةٍ لِمَنْ فَهِمَ عَنْهَا وَ دَارُ غِنًى لِمَنْ تَزَوَّدَ مِنْهَا وَ دَارُ مَوْعِظَةٍ لِمَنِ اتَّعَظَ بِهَا مَسْجِدُ أَحِبَّاءِ اللَّهِ وَ مُصَلَّى مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَ مَهْبِطُ وَحْيِ اللَّهِ وَ مَتْجَرُ أَوْلِيَاءِ اللَّهِ اكْتَسَبُوا فِيهَا الرَّحْمَةَ وَ رَبِحُوا فِيهَا الْجَنَّةَ فَمَنْ ذَا يَذُمُّهَا وَ قَدْ آذَنَتْ بِبَيْنِهَا وَ نَادَتْ بِفِرَاقِهَا وَ نَعَتْ نَفْسَهَا وَ أَهْلَهَا فَمَثَّلَتْ لَهُمْ بِبَلَائِهَا الْبَلَاءَ وَ شَوَّقَتْهُمْ بِسُرُورِهَا إِلَى السُّرُورِ رَاحَتْ بِعَافِيَةٍ وَ ابْتَكَرَتْ بِفَجِيعَةٍ تَرْغِيباً وَ تَرْهِيباً وَ تَخْوِيفاً وَ تَحْذِيراً فَذَمَّهَا رِجَالٌ غَدَاةَ النَّدَامَةِ وَ حَمِدَهَا آخَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَكَّرَتْهُمُ الدُّنْيَا فَتَذَكَّرُوا وَ حَدَّثَتْهُمْ فَصَدَّقُوا وَ وَعَظَتْهُمْ فَاتَّعَظُوا ۔

(حکمت 131 نهج البلاغه)

بے شک دنیا سچوں کے لئے سچائی کا گھر، دنیا شناسوں کے لئے تندرستی کی سرائے، آخرت کا سفرخرچ لینے والوں کے لئے بے نیازی اور استغنا کی منزل، نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصیحت کا مقام ہے۔ دنیا اللہ کے دوستوں کی سجدہ گاہ، کروبیوں کے لئے نمازخانہ، اللہ کی وحی نازل ہونے کا مقام اور خدا کے دوستوں کا تجارت خانہ ہے جس میں انھوں نے خدا کی رحمت کمائی اور جنت کو منافع کے طور پر کما گئے۔ کون ہے جو دنیا پر ملامت کرے حالانکہ دنیا نے اپنی جدائی کا اعلان کیا ہے اور چِلّا کر بتایا ہے کہ "وہ باقی اور جاویدانی نہیں ہے"، اور اس نے اپنی اور اپنی پرستش والوں کی نابودی کا اعلان کیا ہے؟۔ اپنی بلاؤں کے ذریعے بلاؤں کی مثال دی اور اپنی خوشی کے ذریعے انہیں شادمان کیا۔ شب کے آغاز پر سلامتی کے ساتھ گذری مگر صبح کو جان گداز مصائب کے ساتھ لوٹ آئی تا کہ لوگوں کو مشتاق کردے، دہمکی دے، ڈرا دے اور خبردار کرے۔ پس بعض لوگ ندامت کی صبح کو نادم ہوکر دنیا پر مذمت کرتے ہیں اور بعض دیگر قیامت کے روز اس کی تعریف و تمجید کرتے ہیں (کیونکہ) دنیا نے ان کو حقائق کی یادآوری کی پس وہ ہوشیار ہوئے؛ دنیا نے ان کو حقائق و حوادث کی حکایت کی اور انھوں نے اس کی تصدیق کی اور دنیا نے انہیں نصیحت کی اور انھوں نے نصیحت قبول کرلی۔

 


source : www.abna.ir
302
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

جاہلانہ افکار کے ساتھ جوانوں کا مقابلہ
رمضان المبارک کے سترہویں دن کی دعا
روزہ احادیث کے آئینے میں - 2
سستی و جمود یا نشاط وارتقاء؟
چارلي ايبڈو ،جاہليت کا عکاسي
ایک سنجیدہ مسئلہ
عورت کی حیثیت
شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی برسی
آداب نشست
بچہ اور دينى تعليم

 
user comment