اردو
Wednesday 27th of October 2021
331
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

روزہ احادیث کے آئینے میں - 2


روزہ احادیث کے آئینے میں - 2
۱۷. عَنْ عَجْلَانَ أَبِي صَالِحٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام أَوْقِفْنِى عَلَى حُدُودِ الْإِيمَانِ فَقَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ وَ الْإِقْرَارُ بِمَا جَاءَ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَ صَلَوَاتُ الْخَمْسِ وَ أَدَاءُ الزَّكَاةِ وَ صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ حِجُّ الْبَيْتِ وَ وَلَايَةُ وَلِيِّنَا وَ عَدَاوَةُ عَدُوِّنَا وَ الدُّخُولُ مَعَ الصَّادِقِينَ.

اصول كافى ج : 3 ص : 29 رواية :2

عجلان ابو صالح کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا مجهے ایمان کی حدود سے آگاہ فرمائیں. امام علیہ السلام نے فرمایا: اس بات پر گواہی دینا کہ "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد (ص) رسول خدا ہیں اور خدا کی جانب سے آپ (ص) کے لائی ہوئی چیزوں کا اقرار کرنا اور پنجگانہ نمازوں کی بجاآوری، ماہ رمضان کے روزے رکھنا، حج بیت اللہ کی بجاآوری، ہمارے دوستوں کے ساتھ دوستی اور ہمارے دشمنوں کے ساتھ دشمنی کرنا، اور سچوں کے ساتھ ہوکر رہنا.

(چنانچہ خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَكُونُواْ مَعَ الصَّادِقِينَ (سوره توبه آيت 119)ـ اے ايمان والو! (خدا كي نافرماني سے) پرہيز كرو اور سچوں كے ساتھ ہوجاؤ)۔

۱۸. عَنْ زُرَارَةَ عن عَنْ أَبِى جَعْفَرٍ علیه السلام قَالَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسَةِ أَشْيَاءَ عَلَى الصَّلَاةِ وَ الزَّكَاةِ وَ الْحَجِّ وَ الصَّوْمِ وَ الْوَلَايَةِ قَالَ زُرَارَةُ فَقُلْتُ وَ أَيُّ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ فَقَالَ الْوَلَايَةُ أَفْضَلُ لِأَنَّهَا مِفْتَاحُهُنَّ وَ الْوَالِي هُوَ الدَّلِيلُ عَلَيْهِنَّ...

اصول كافى ج : 3 ص : 30 رواية :5

امام باقر (ع ) نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر استوار ہے. نماز، زکوٰة، حج، روزہ اور ولایت.

زرارہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا کون سی چیز چیز افضل و برتر ہے؟ فرمایا: ولایت افضل ہے کیونکہ ولایت ان اشیاء کی کنجی ہے اور والی (امام اور نائب امام) ان اعمال کی طرف بندگان خدا کا راہنما ہے. (اور ائمہ علیہم السلام نماز، روزہ، زکوٰة، حج اور روزے کی طرف راہنمائی کرتے ہیں اور یہ اعمال ان کی راہنمائی کے بغیر صحیح نہیں ہیں)۔

۱۹. ... عن ابي حمزة عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَسْأَلُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام فَقَالَ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ أَخْبِرْنِى عَنِ الدِّينِ الَّذِى افْتَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَى الْعِبَادِ مَا لَا يَسَعُهُمْ جَهْلُهُ وَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ غَيْرُهُ مَا هُوَ فَقَالَ أَعِدْ عَلَيَّ فَأَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم وَ إِقَامُ الصَّلَاةِ وَ إِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَ صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ ثُمَّ سَكَتَ قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ وَ الْوَلَايَةُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَذَا الَّذِى فَرَضَ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ وَ لَا يَسْأَلُ الرَّبُّ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولَ أَلَّا زِدْتَنِى عَلَى مَا افْتَرَضْتُ عَلَيْكَ وَ لَكِنْ مَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه و آله و سلم سَنَّ سُنَناً حَسَنَةً جَمِيلَةً يَنْبَغِى لِلنَّاسِ الْأَخْذُ بِهَا

اصول كافى ج : 3 ص : 35 رواية :11

على بن ابى حمزہ کہتے ہیں: میں ابو بصیر کو امام صادق علیہ السلام سے دریافت کرتے ہوئے سنا جو عرض کررہے تهے: میں آپ پر فدا ہوجاؤں مجهے اس دین کے بارے میں بتائیں جو خداوند متعال نے بندوں کے اوپر فرض کیا ہے اور اس کے سوا بندوں سے کوئی اور چیز قابل قبول نہیں ہے اور بندوں کے لئے اس کے حوالے سے نادانے جائز نہیں ہے.

امام علیہ السلام نے فرمایا: دوبارہ پوچھو! ابوبصیر نے اپنا سوال دہرایا. تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ خدا کے سوا کوئی بھی لائق پرستش نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خدا کے رسول ہیں؛ اور نماز قائم کرنا، زکوٰة ادا کرنا، حج بیت اللہ بجا لانا ہر اس شخص کے لئے جو اس کی استطاعت اور توانائی رکھتا ہو اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا. اس کے بعد امام علیہ السلام لمحہ بهر خاموش رہے اور دو مرتبہ فرمایا: اور ولایت پر یقین و ایمان رکھنا؛ یہی وہ دین ہے جو خدا نے اپنے بندوں پر فرض کردیا ہے؛ اور خداوند متعال قیامت کے روز بندوں سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے میری طرف سے فرض شدہ اعمال سے بڑھ کر کیوں کوئی عمل نہیں کیا مگر اگر کوئی واجبات و فرائض سے بڑھ کر عمل کرے تو اس کی جزا اور انعام میں اضافہ فرمائے گا. بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خوبصورت سنتیں وضع فرمائی ہیں اور لوگوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ ان سنتوں پر عمل کریں.

 

۲۰. ... قَالَ السّائِلُ لِأَبِي جَعْفَرٍ علیه السلام يَا ابْنَ رَسُولِ اللّهِ (ص) كَيْفَ أَعْرِفُ أَنّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ تَكُونُ فِي كُلّ سَنَةٍ قَالَ إِذَا أَتَى شَهْرُ رَمَضَانَ فَاقْرَأْ سُورَةَ الدّخَانِ فِي كُلّ لَيْلَةٍ مِائَةَ مَرّةٍ فَإِذَا أَتَتْ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَ عِشْرِينَ فَإِنّكَ نَاظِرٌ إِلَى تَصْدِيقِ الّذِي سَأَلْتَ عَنْهُ

اصول كافى جلد 1 صفحه: 368 رواية: 8

کسی سائل نے امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا: اے فرزند رسول خدا (ص)! میں کیسے مطمئن ہوجاؤں کہ ہر سال ماہ مبارک میں لیلة القدر بھی ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: جب ماه مبارک رمضان وارد ہوجائے تم ہر شب 100 مرتبه سوره دخان کی تلاوت کرو اور جب تئیسویں کی رات ہوگی تو تم اپنے سوال کا جواب دیکھوگے اور اس کی تصدیق کروگے.

۲۱. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ ابو عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام لابي بصير: ... يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ لِرَمَضَانَ حَقّاً وَ حُرْمَةً لَا يُشْبِهُهُ شَيْءٌ مِنَ الشُّهُورِ وَ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه و آله و سلم و سلم يَقْرَأُ أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ أَوْ أَقَلَّ إِنَّ الْقُرْآنَ لَا يُقْرَأُ هَذْرَمَةً وَ لَكِنْ يُرَتَّلُ تَرْتِيلًا فَإِذَا مَرَرْتَ بِآيَةٍ فِيهَا ذِكْرُ الْجَنَّةِ فَقِفْ عِنْدَهَا وَ سَلِ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ الْجَنَّةَ وَ إِذَا مَرَرْتَ بِآيَةٍ فِيهَا ذِكْرُ النَّارِ فَقِفْ عِنْدَهَا وَ تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ

اصول كافى جلد 4 صفحه : 422 رواية : 2

على بن ابى حمزہ کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے کی خدمت میں شرفیاب ہوا تو ... امام علیہ السلام نے ابوبصیر سے مخاطب ہوکر فرمایا: ماہ مبارک رمضان کے لئے ایک حق اور ایک حرمت ہے اور دوسرے مہینے اس کی مانند نہیں ہیں. اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب قرآن کی تلاوت ایک مہینے یا اس سے کمتر مدت میں مکمل کیا کرتے تھے اور قرآن مجید کی تلاوت میں عجلت سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ تلاوت قرآن ہموار، طمانیت اور خوبصورت لحن کے ساتھ ترتیل کے انداز میں ہونی چاہئے. اور جب کسی آیت میں جنت کا نام آئے تو رک جاؤ اور خداوند عزّ و جلّ سے اپنے لئے جنت کی دعا کرو اور جب کسی آیت میں دوزخ کا نام دیکھو تو رک جاؤ اور دوزخ کی آگ سے خداوند عزّ و جلّ کی پناہ مانگو.

۲۲. عَنْ بَدْرِ بْنِ الْخَلِيلِ الْأَزْدِيِّ قَالَ كُنْتُ جَالِساً عِنْدَ أَبِى جَعْفَرٍ علیه السلام فَقَالَ آيَتَانِ تَكُونَانِ قَبْلَ قِيَامِ الْقَائِمِ علیه السلام لَمْ تَكُونَا مُنْذُ هَبَطَ آدَمُ إِلَى الْأَرْضِ تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَ الْقَمَرُ فِى آخِرِهِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى آخِرِ الشَّهْرِ وَ الْقَمَرُ فِى النِّصْفِ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ علیه السلام إِنِّى أَعْلَمُ مَا تَقُولُ وَ لَكِنَّهُمَا آيَتَانِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ هَبَطَ آدَمُ علیه السلام.

حديث شماره 258روضة الكافي

بدر بن خلیل ازدى کہتے ہیں: میں امام باقرالعلوم علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: امام قائم علیہ السلام کے ظہور پرنور سے قبل دو نشانیاں نمودار ہونگی جو ھبوط آدم علیہ السلام سے اب تک نمودار نہیں ہوئیں:

ـ نصف رمضان میں سورج گرہن ہوگا اور

ـ ماہ رمضان کے آخر میں چاند گرہن ہوگا۔

حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا (ص)، عام طور پر سورج گرہن مہینے کی آخر میں ہوتا ہے اور چاند گرہن مہینے کے وسط میں ہوتا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: جو تم کہہ رہے ہو اس کا مجھے علم ہے لیکن یہ دو ایسی نشانیاں ہیں جو آدم علیہ السلام کی (جنت سے زمین پر) اتر آنے سے اب تک نمودار نہیں ہوئیں۔(امام علیہ السلام کی اس فرمان میں ظہور امام زمانہ کی دونشانیان بیان ہوئی ہیں)۔

۲۳. قال رسول الله صلي الله عليه و آله و سلم هو شهر اوله رحمة و اوسطه مغفرة و اخره عتق من النار.

رسول الله صلی الله علیہ و آله و سلم نے فرمایا: رمضان ایسا مہینہ ہے جس کی ابتداء رحمت ہے، اس کا وسط مغفرت ہے اور اس کی انتہا دوزخ کی آگ سے آزادی و رہائی ہے.

بحار الانوار،ج93،ص342.

۲۴. عن الصادق، عن آبائه عليهم السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه واله: شعبان شهري و رمضان شهر الله عز و جل فمن صام من شهري يوما كنت شفيعه يوم القيامة، و من صام شهر رمضان اعتق من النار ... و قال صلي الله عليه و آله و سلم: شعبان شهري، و رمضان شهر الله، و هو ربيع الفقراء، و إنما جعل الله الاضحى لشبع مساكينكم من اللحم فأطعموهم۔

بحار الأنوار ج 94 ص 71 و ص 75.

امام صادق علیہ السلام اپنے آباء طاہرین اور اجداد طیبین علیہم السلام سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان خدا کا مہینہ ہے پس جو شعبان مین ایک دن روزہ رکھے روز قیامت میں اس کی شفاعت کرونگا اور جو رمضان کے روزے رکھے دوزخ کی آگ سے رہائی پائے گا... دوسرے مقام پر امام صادق علیہ السلام ہی اپنے سلسلۂ سند سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان خدا کا مہینہ ہے جو غریبوں کی بہار ہے؛ اور بے شک خداوند متعال نے اس مہینے کو تمہارے مساكين كا پيٹ گوشت سے بھرنے كے لئے "اضحی" يعنی قربانی كا دن قرار ديا ہے پس انہيں كھلاؤ.

بحار الأنوار ج 97، ص 83.

۲۵. قال الامام الباقر عليه السلام: لِِكُلِّ شَیئٍ رَبِیعٌ، وَ رَبِیعُ القُرآنِ شَهرُ رَمَضَانَ.

ہر چیز کی بہار ہوتی ہے اور قرآن مجید کی بہار ماہ مبارک رمضان ہے.

الكافی، ج2 ، ص 630.

۲۶. قال الامام الحسن عليه السلام: إنَّ اللَّهَ جَعَلَ شَهرَ رَمضانَ مِضماراً لِخَلقِهِ فَیستَبِقونَ فیهِ بِطاعَتِهِ إلى مَرضاتِهِ.

بحارالأنوار ، ج 75، ص 110

خداوند متعال نے رمضان كو اپنی مخلوقات كے لئے مقابلے كا میدان قرار دیا تا کہ اس كی طاعت و بندگی كے ذريعے اس کی رضا و خوشنودی كے حصول ميں ايک دوسرے پر سبقت ليں.

۲۷. قال الصادق عليه السلام : «إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ»(1) فغرة الشهور شهر الله عز ذكره شهر رمضان، و قلب شهر رمضان ليلة القدر، و نزل القرآن في أول ليلة من شهر رمضان، فاستقبل الشهر بالقرآن.

1. سوره توبه آيت 36.

بحار الأنوار ، ج 55 ، ص 376 ـ الكافي: ج 4، ص 66.

امام صادق علیہ السلام نے اس آیت «خدا کے نزدیک کتاب الہی میں مہینوں کی تعدا بارہ ہے جس روز سے اس نے آسمانوں اور زمین کو خلق فرمایا» پس مہینوں کی پیشانی ـ اور باره مہینوں میں سے سے اہم اور گرانبہاء مہینہ، اللہ عزّ ذکرہ کا مہینہ یعنی ـ ماہ مبارک رمضان ہے اور رمضان کا قلب شب قدر ہے اور قرآن مجید ماہ رمضان کی پہلی رات کو نازل ہوا ہے پس اس کا استقبال تلاوت قرآن کے ساتھ کرو.

۲۸. قال رسول الله صلي الله عليه و آله و سلم: لكل شیئ زكاة و زكاة الابدان الصیام.

ہر چیز کی زکوٰة ہوتی ہے اور انسانی بدن کی زکوٰة روزہ ہے.

(الكافى، ج 4، ص 62)

۲۹. قال اميرالمؤمنين عليه السلام: صوم النفس عن لذات الدنیا انفع الصیام.
دنیا کی لذتوں سے نفس انسانی کا روزہ، سب سے زیادہ نفع پہنچانے والا روزہ ہے.

(غرر الحكم، ج 1 ص 416)

۳۰. قال الامام الصادق عليه السلام: اذا صمت فلیصم سمعك و بصرك و شعرك و جلدك.

جب تم روزہ رکھتے ہو لازمی ہے کہ تمہاری آنکھیں، کان، بال، اور بدن کی جلد بھی روزہ دار ہوں (یعنی ہر قسم کے گناہ سے دوری کرنی چاہئے).

(الكافى ج 4 ص 87)

۳۱. قال الامام الصادق عليه السلام: ان من تمام الصوم اعطاء الزكاة یعنى الفطرة كما ان الصلوة على النبى (ص) من تمام الصلوة.

روزوں کی تکمیل زکوٰة یعنی فطره کی ادائیگی سے ہے جس طرح کہ نماز کی تکمیل پیغمبر صلی الله علیہ و آله و سلم پر درود سے ہے.

(وسائل الشیعه، ج 6 ص 221)

۳۲. قال الامام علي بن موسي الرضا عليه السلام: انما امروا بالصوم لكى يعرفوا الم الجوع و العطش، فيستدلوا على فقر الآخرة، و ليكون الصائم خاشعا ذليلا مستكينا ماجورا و محتسبا عارفا، صابرا على ما اصابه من الجوع و العطش، فيستوجب الثواب مع ما فيه من الامساك عن الشهوات و يكون ذلك واعظا لهم فى العاجل و رائضا لهم على اداء ما كلفهم و دليلا لهم فى الآجل و ليعرفوا شدة مبلغ ذلك على اهل الفقر و المسكنة فى الدنيا فيؤدوا اليهم ما افترض الله لهم فى اموالهم .

وسائل الشيعه، ج 7، ص 4

بے شک لوگوں کو روزہ رکھنے کا امر ہوا ہے تا کہ وہ بھوک اور پیاس سے پہنچنے والی تکلیف کا ادراک کریں اور اس تکلیف کو دیکھ کر آخرت کی بھوک، پیاس اور غربت کو سمجھ لیں اور صائم و روزہ دار کو چاہئے کہ وہ بارگاہ الہی میں خاشع، ذلیل اور نیازمند ہو اور اپنے اعمال کی معرفت رکھتا ہو اور بھوک اور پیاس سے ملنے والی تکلیف پر صبر کرنے والا ہو. تب جاکر روزہ رکھنے اور دل اور نفس کی چاہتوں کو روکے رکھنے کی پاداش میں اس کو ثواب فراوان ملے گا اور یہ امر دنیا میں لوگوں کے لئے باعث نصیحت ہوگا اور روزہ داروں کو ذمہ داریوں اور فرائض پر عمل کرنے کی رغبت دلائے گا اور عالم آخرت میں ان کے لئے اچھا راہنما بن کر رہے گا؛ روزہ داروں کو غرباء اور بے چارہ لوگوں کی مشکلات کی سختی اور اہمیت کی معرفت ہونی چاہئے تا کہ وہ اپنے اموال میں سے خدا کی طرف سے مقرر کردہ غرباء و مساکین کا حق ادا کریں (یعنی خمس و زکوٰة و صدقات ادا کرکے ان کے مسائل حل کردیں اور تنہاخوری پر اکتفا نہ کریں اور ایسا نہ ہو کہ خود کھائیں اور پہنیں اور غرباء بھوکے اور ننگے رہیں).

۳۳. قال الامام الحسن عليه السلام: ان لكل صائم عند فطوره دعوة مستجابة فاذا كان اول لقمة فقل : بسم الله اللهم یاواسع المغفرة اغفر لی.

اقبال الاعمال ، ص 116.

بے شک افطار کے وقت ہر روزہ دار کی ایک دعا قبول ہے پس پہلا نوالہ اٹھاتے ہی کہو: "اللہ کے نام سے"، اے ہمہ گیر مغفرت کے مالک میری مغفرت فرما.

۳۴. قال اميرالمومنين عليه السلام: فَرَضَ اللَّهُ الْإِيمَانَ تَطْهِيراً مِنَ الشِّرْكِ وَ الصَّلَاةَ تَنْزِيهاً عَنِ الْكِبْرِ وَ الزَّكَاةَ تَسْبِيباً لِلرِّزْقِ وَ الصِّيَامَ ابْتِلَاءً لِإِخْلَاصِ الْخَلْقِ وَ الْحَجَّ تَقْرِبَةً لِلدِّينِ وَ الْجِهَادَ عِزّاً لِلْإِسْلَامِ وَ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ مَصْلَحَةً لِلْعَوَامِّ وَ النَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ رَدْعاً لِلسُّفَهَاءِ وَ صِلَةَ الرَّحِمِ مَنْمَاةً لِلْعَدَدِ وَ الْقِصَاصَ حَقْناً لِلدِّمَاءِ وَ إِقَامَةَ الْحُدُودِ إِعْظَاماً لِلْمَحَارِمِ وَ تَرْكَ شُرْبِ الْخَمْرِ تَحْصِيناً لِلْعَقْلِ وَ مُجَانَبَةَ السَّرِقَةِ إِيجَاباً لِلْعِفَّةِ وَ تَرْكَ الزِّنَى تَحْصِيناً لِلنَّسَبِ وَ تَرْكَ اللِّوَاطِ تَكْثِيراً لِلنَّسْلِ وَ الشَّهَادَاتِ اسْتِظْهَاراً عَلَى الْمُجَاحَدَاتِ وَ تَرْكَ الْكَذِبِ تَشْرِيفاً لِلصِّدْقِ وَ السَّلَامَ أَمَاناً مِنَ الْمَخَاوِفِ وَ الْأَمَانَةَ نِظَاماً لِلْأُمَّةِ وَ الطَّاعَةَ تَعْظِيماً لِلْإِمَامَةِ .

نهج البلاغه ـ كلمات قصار ـ حكمت 252

خداوند متعال نے

ـ ایمان کو شرک سے پاکیزگی کی خاطر؛

ـ اور نماز کو کبر و غرور سے پاک کرنے کی خاطر؛

ـ اور زکوٰة کو وسعت رزق کی خاطر؛

ـ اور روزہ کو بندوں کا اخلاص جانچنے کی خاطر ؛؛

ـ اور حج کو مسلمانوں کے آپس میں یکجہتی اور قربت کی خاطر؛

ـ اور جہاد کو اسلام کی عزت و عظمت کی خاطر؛

ـ اور امر بالمعروف کو ناآگاہ معاشرے کی اصلاح کی خاطر؛

ـ اور صلۂ ارحام اور قرابتداروں کی مراعات کو اعزّا و اقارب کی کثرت کی خاطر؛

ـ اور قصاص کو خون کی پاسداری کی خاطر؛

ـ اور شرعی حدود کو عفت و پاکدامنی کی خاطر؛

ـ اور ترک زنا کو انسانی نسل کی سلامتی کی خاطر؛

ـ اور ترک لواطت کو کثرت اولاد کی خاطر؛

ـ اور شہادت و گواہی کو ضائع شدہ حقوق کے حصول کی خاطر؛

ـ اور ترک دروغ (جھوٹ کو ترک کردینے) کو صداقت کی حرمت کی خاطر؛

ـ اور سلام کو خوف و خطر سے بچاؤ کی خاطر؛

ـ اور امامت کو امت کے امور کے نظم و نسق کی خاطر؛

ـ اور امام کی اطاعت و فرمانبرداری کو امامت کی تعظیم کی خاطر

فرض کردیا ہے.

۳۵. قالت فاطمةالزهراء سلام الله عليها: ... جعل الله الايمان تطهيرا لكم من الشرك، والصلاة تنزيها لكم عن الكبر، والزكاة تزكية للنفس، و نماء في الرزق، والصيام تثبيتا للاخلاص، والحج تشييدا للدين، والعدل تنسيقا للقلوب، و طاعتنا نظاما للملة، و امامتنا امانا للفرقة والجهاد عزا للاسلام، والصبر، معونة على استيجاب الأجر، والأمر بالمعروف مصلحة للعامة، وبر الوالدين وقاية من السخط، وصلة الارحام منساة في العمر و منماة للعدد، والقصاص حقنا للدماء، والوفاء بالنذر تعريضا للمغفرة، وتوفية المكائيل والموازين تغييرا للبخس، والنهى عن شرب الخمر تنزيها عن الرجس واجتناب القذف حجابا عن اللعنة، وترك السرقة ايجابا بالعفة، وحرم الله الشرك اخلاصا له بالربوبية، ف«اتقوا الله حق تقاته، ولا تموتن الا وانتم مسلمون(1)»، و اطيعوا الله فيما امركم به ونهاكم عنه، فانه «انما يخشى الله من عباده العلماء...(2)».

احتجاج طبرسی ج 1.

1. سوره آل عمران آيت 102

2. سوره فاطر آيت 28.

خداوند متعال نے

ایمان کو شرک سے پاکیزگی کا سبب،

ـ اور نماز کو تکبر سے بچنے کا سبب،

ـ اور زکوٰة کو تزکیۂ نفس اور وسعت رزق کا سبب،

ـ اور روزے کو اخلاص کی استواری اور استحكام کا سبب،

ـ اور حج کو اسلام کو مضبوط اور مستحکم کرنے کا سبب،

ـ اور عدل و انصاف کو دلوں کی تسکین اور التیام کا سبب،

ـ اور ہماری اطاعت و فرمانبرداری کو ملت کے نظم و نسق اور انتظام کا سبب،

ـ اور ہماری امامت کو اختلاف اور تفرقے سے امان کا سبب،

ـ اور جہاد کو اسلام کی عزت و عظمت کا سبب،

ـ اور صبر و استقامت کو اجر و ثواب کے لئے مدد و معونت کا سبب،

ـ اور امر بالمعروف کو معاشرے کی مصلحت و بہتری کا سبب،

ـ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کو غضب الہی سے بچاؤ کا سبب،

ـ اور صلۂ ارحام (قرابتداروں سے پیوند جوڑے رکھنے) کو درازی عمر اور اعزّا و اقارب کی کثرت کا سبب،

ـ اور قصاص کو خون اور زندگیوں کی حفاظت کا سبب،

ـ اور نذر کی ادائیگی کو مغفرت الہی کے حصول کا سبب،

ـ اور ناپ و تول کے اوزاروں کو کم فروشی سے بچاؤ کا سبب،

ـ اور شرابخوری سے نہی کو پلیدی سے پاک کردینے کا سبب،

ناروا تہمت سے اجتناب کو لعنت خدا سے نجات کا سبب،

ـ اور ترک سرقت (چوری ترک کرنے) کو پاکدامنی سے بہرہ مند ہونے کا سبب،

قرار دیا.

خداوند متعال نے شرک کو حرام قرار دیا تا کہ توحید و یکتاپرستی خالص ـ اور ملاوٹ سے پاک ہو؛

ـ اور خدا سے ڈرو اور مسلمان بنے بغیر مت مرو (ایمان کی جوہر کو موت کی لمحی تک گوہر ایمان کی حفاظت کرو)!اور خداوند متعال کی اطاعت کرو ان چیزوں میں جن کا تمہیں اس نے حکم دیا ہے اور ان چیزوں میں جن سے اس نے تمہیں روک رکھا ہے. اور بے شک علماء اور اہل دانش ہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں.

وضاحت:

حضرت امیرالمؤمنین اور حضرت سیدہ علیہما السلام کی ان دو حدیثوں میں مماثلت دیکھ کر بخوبی واضح ہوتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کے کلام کا منبع ایک ہی ہے اور امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ہماری حدیث رسول اللہ کی حدیث ہے اور رسول اللہ کی حدیث جبرئیل علیہ السلام سے لی گئی ہے اور جبرئیل (ع) کا لایا ہؤا کلام خداوند متعال کا کلام ہے؛ چنانچہ یہ بهی صادق آْل محمد علیہ السلام کے کلام کی صداقت کا ہی ایک ثبوت ہے.

۳۶. قالت فاطمةالزهراء سلام الله عليها: ما یصنع الصائم بصیامه اذا لم یصن لسانه و سمعه و بصره و جوارحه.

بحار الانوار، ج 93 ص 295.

جس روزہ دار نے زبان، کانوں، آنکھوں اور اعضاء و جوارح کی حفاظت نہ کی ہو اس کے روزے کا اسے کیا فائدہ ملے گا!؟.

۳۷. قال اميرالمومنين عليه السلام: الصَّلَاةُ قُرْبَانُ كُلِّ تَقِيٍّ وَ الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ وَ لِكُلِّ شَيْ ءٍ زَكَاةٌ وَ زَكَاةُ الْبَدَنِ الصِّيَامُ وَ جِهَادُ الْمَرْأَةِ حُسْنُ التَّبَعُّلِ .

نهج البلاغه ـ كلمات قصار ـ حكمت 136.

نماز ہر پارسا کے لئے خدا کی قربت کا سبب ہے اور حج ہر کمزور کے لئے جہاد ہے. ہر چیز کی زکوٰة ہوتی ہے اور بدن کی زکوٰة روزہ ہے جبکہ عورت کا جہاد بہتر انداز میں شوہرداری ہے.

۳۸. قال اميرالمومنين عليه السلام: كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَ الظَّمَأُ وَ كَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ وَ الْعَنَاءُ حَبَّذَا نَوْمُ الْأَكْيَاسِ وَ إِفْطَارُهُمْ .

نهج البلاغه ـ كلمات قصار ـ حكمت 145

کتنے روزہ دار ہیں جن کو ان کے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا اور کتنے شب زندہ دار ہیں جن کو بے خوابی کی تکلیف کے سوا کوئی فائدہ نہیں ملتا؛ بہت خوب ہے زیرک انسانوں کی نیند اور ان کا افطار!.

۳۹. قال اميرالمؤمنين عليه السلام: إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَوَسَّلَ بِهِ الْمُتَوَسِّلُونَ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى الْإِيمَانُ بِهِ وَ بِرَسُولِهِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ فَإِنَّهُ ذِرْوَةُ الْإِسْلاَمِ، وَ كَلِمَةُ الْإِخْلاَصِ فَإِنَّهَا الْفِطْرَةُ، وَ إِقَامُ الصَّلاَةِ فَإِنَّهَا الْمِلَّةُ، وَ إِيتَاءُ الزَّكَاةِ فَإِنَّهَا فَرِيضَةٌ وَاجِبَةٌ، وَصَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَإِنَّهُ جُنَّةٌ مِنَ الْعِقَابِ، وَ حَجُّ الْبَيْتِ وَ اعْتِمَارُهُ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَيَرْحَضَانِ الذَّنْبَ، وَ صِلَةُ الرَّحِمِ فَإِنَّهَا مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ وَ مَنْسَأَةٌ فِي الْأَجَلِ، وَ صَدَقَةُ السِّرِّ فَإِنَّهَا تُكَفِّرُ الْخَطِيئَةَ، وَ صَدَقَةُ الْعَلاَنِيَةِ فَإِنَّهَا تَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ، وَ صَنَائِعُ الْمَعْرُوفِ فَإِنَّهَا تَقِي مَصَارِعَ الْهَوَانِ.

نهج البلاغه ـ خطبه : 109

بہترین وسیلہ جس سے خدا کی طرف وسیلہ ڈھونڈنے والے توسل کرتے ہیں:

ـ خدا اور اس کے رسول (ص) پر ایمان ہے؛

ـ اور اس کی راہ میں جہاد ہے؛ کیونکہ جہاد اسلام کا رکن اعلی ہے؛

ـ اور کلمہ توحید ہے جو ہر انسان کی فطرت و جبلّت میں موجود ہے؛

ـ اور نماز قائم کرنا ہے جو ملت اسلام کی نشانی ہے؛

ـ اور زکوٰة کی ادائیگی ہے جو ایک واجب فریضہ ہے؛

ـ اور رمضان کا روزہ ہے جو بندوں کو خدا کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے؛

ـ اور حج بیت اللہ اور بیت اللہ کا عمرہ ہے، جو فقر اور غربت کو مٹا دیتا ہے؛

ـ اور صلۂ ارحام اور قرابتداروں کے ساتھ تعلق ہے جو مال و دولت میں اضافے اور اجل کی تأخیر کا سبب ہے؛

ـ اور خفیہ صدقہ ہے جو خطاؤں کو چھپا دیتا ہے؛

ـ اور اعلانیہ صدقہ ہے جو ناگہانی موت کو ٹال دیتا ہے؛

ـ اور نیک کام سرانجام دینا ہے جو انسان کو ذلت و خواری میں مبتلا ہونے محفوظ رکھتا ہے.

۴۰. قال اميرالمؤمنين عليه السلام: ... وَ عَنْ ذَلِكَ مَا حَرَسَ اللَّهُ عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالصَّلَوَاتِ وَ الزَّكَوَاتِ، وَ مُجَاهَدَةِ الصِّيَامِ فِي الْأَيَّامِ الْمَفْرُوضَاتِ، تَسْكِينا لِأَطْرَافِهِمْ، وَ تَخْشِيعا لِأَبْصَارِهِمْ، وَ تَذْلِيلاً لِنُفُوسِهِمْ، وَ تَخْفِيضا لِقُلُوبِهِمْ، وَ إِذْهَابا لِلْخُيَلاَءِ عَنْهُمْ.

نهج البلاغه ـ خطبه 234

خداوند متعال اپنے مؤمن بندوں کو ـ نمازوں،‌ زَکَوات، مقررہ واجب ایام میں روزے رکھنے کی مجاہدت کے ذریعے شیطان کے جال میں پھنسنے سے محفوظ رکھتا ہے تا کہ ان کے جسم کو سکون ملے؛ اور ان کی آنکھوں میں خشوع اور خدا کا خوف آشکار ہوجائے؛ اور ان کے نفوس میں انکسار نمودار ہوجائے؛ اور ان کے دلوں میں شہوت کی آگ ٹھنڈی پڑ جائے اور کبر و نخوت ان سے دور ہوجائے.

۴۱. قال الامام علي بن موسى الرضا عليه السلام: حدثنا أبي موسى بن جعفر، عن أبيه عن آبائه علي بن أبي طالب عليه السلام، قال قال رسول الله (ص): رجب شهر الله الاصم يصب الله فيه الرحمة على عباده، وشهر شعبان تنشعب فيه الخيرات، وفي أول ليلة من شهر رمضان تغل المردة من الشياطين ويغفر في كل ليلة سبعين ألفا، فإذا كان في ليلة القدر غفر الله بمثل ما غفر في رجب وشعبان وشهر رمضان إلى ذلك اليوم إلا رجل بينه وبين أخيه شحناء فيقول الله عز وجل انظروا هؤلاء حتى يصطلحوا.

عيون اخبار الرضا (ع) ج1 ص 77

امام رضا عليه السلام اپنے آباء طاہرین اور اجداد طیبین علیہم السلام سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:رجب خدا کا «اَصَمّ»(1) مہینہ ہے جس میں خداوند متعال اپنی باران رحمت اپنے بندوں پر برساتا ہے؛ اور ماہ شعبان میں نیکیاں بٹتی ہیں ماہ رمضان کی پہلی شب کو ہی شیطان کی شرارتوں کو غلّ و زنجیر میں جکڑ دیا جاتا ہے اور ہر شب ستر ہزار افراد کو بخش دیا جاتا ہے؛ پس جب قدر کی رات‌ ہوجاتی ہے تو خداوند متعال رجب اور شعبان سمیت اس رات (لیلة القدر) تک بخشے جانے والوں کے برابر افراد کو بخش دیتا ہے مگر وہ شخص جس کے دل میں اپنے بھائی کے ساتھ کینہ اور منافرت ہے پس خداوند متعال فرماتا ہے کہ ان افراد کو روکے رکھو حتی کہ آپس میں صلح کرلیں.

-----

(1)اصم سے مراد وہ حرام مہینہ ہے جس میں جنگ کے لئے اٹھنے والی صدائیں اور ہتھیاروں کی آوازیں نہیں سنی جاتیں)۔

۴۲. قال ابوالحسن علي بن موسى الرضا عليه السلام قال: الحسنات في شهر رمضان مقبولة، والسيئات فيه مغفورة، من قرأ في شهر رمضان آية من كتاب الله عزوجل كان كمن ختم القرآن في غيره من الشهور ومن ضحك فيه في وجه أخيه المؤمن لم يلقه يوم القيامة إلا ضحك في وجهه، وبشره بالجنة ومن أعان فيه مؤمنا أعانه الله تعالى على الجواز على الصراط، يوم تزل فيه الاقدام ومن كف فيه غضبه كف الله عنه غضبه يوم القيامة، ومن أغاث فيه ملهوفا آمنه الله من الفزع الاكبر يوم القيامة، ومن نصر فيه مظلوما نصره الله على كل من عاداه في الدنيا، ونصره يوم القيامة عند الحساب والميزان. شهر رمضان شهر البركة، وشهر الرحمة، وشهر المغفرة، وشهر التوبة وشهر الانابة، من لم يغفر له في شهر رمضان ففي أي شهر يغفر له ؟ فسلوا الله أن يتقبل منكم فيه الصيام، ولا يجعله آخر العهد منكم، وأن يوفقكم فيه لطاعته ويعصمكم من معصيته، إنه خير مسؤول.

بحارالانوار ج 93 ص 341.

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

ـ ماہ رمضان میں حسنات اور نیکیاں مقبول ہیں؛

ـ اور اس میں گناہ بخش دیئے جاتے ہیں؛

ـ جس نے ماہ مبارک رمضان میں کتاب اللہ کی ایک آیت کی تلاوت کی دیگر مہینوں میں پورے قرآن کی تلاوت کرنے والے کی مانند ہے؛

ـ اور جو اس مہینے میں مؤمن بھائی کے ساتھ مسکرا کر پیش آئے خداوند متعال روز قیامت مسکرا کر اس کا استقبال کرے گا اور اس کو جنت کی بشارت دے گا؛

ـ اور جس نے اس مہینے میں کسی مؤمن کی اعانت کی خداوند متعال روز قیامت اس کو صراط پر سے گذرنے کا جواز دے کر اس کی اعانت فرمائے گا جبکہ اس روز قدم ڈگمگائیں گے؛

ـ اور جس نے اس مہینے میں کسی غمزدہ اور محزون انسان کی مدد کی خداوند متعال قیامت کے دن اس کو فزع اکبر (خوف عظیم) سے محفوظ رکھے گا؛

ـ اور جس نے اس مہینے میں کسی مظلوم کی مدد کی خداوند متعال دنیا میں اسے اس کے تمام دشمنوں کے مقابلے میں مدد پہنچائے گا اور روز قیامت حساب اور میزان میں اس کی مدد فرمائے گا.

ـ ماہ رمضان برکت کا مہینہ ہے؛

ـ اور رحمت کا مہینہ ہے؛

ـ اور مغفرت کا مہینہ ہے؛

ـ اور توبہ کا مہینہ ہے؛

ـ اور انابت اور خدا کی طرف رجوع کرنے کا مہینہ ہے؛

ـ جو شخص اس مہینے میں نہ بخشا جائے وہ پھر کس مہینے میں بخشا جائے گا!؟

پس خداوند متعال سے دعا کرو کہ وہ

ـ اس مہینے میں تمہارے روزے قبول فرمائے؛

ـ اور اس کو تمہاری عمر کا آخری ماہ رمضان قرار نہ دے ؛

ـ اور تمہیں طاعت و بندگی کی توفیق عطا فرمائے ؛

ـ اور تمہیں اپنی معصیت و نافرمانی سے بچائے رکھے.

خدا ہی بہترین "مسئولٌ عنہ" ہے (یعنی خدا ہی وہ بہترین ذات ہے جس کی بارگاہ سے التجا کی جاسکتی ہے).

۴۳. سأل هشام بن الحكم أبا عبد الله عليه السلام " عن علة الصيام فقال: " إنما فرض الله عزوجل الصيام ليستوي به الغني والفقير، وذلك أن الغني لم يكن ليجد مس الجوع فيرحم الفقير لان الغني كلما أراد شيئا قدر عليه فأراد الله عزوجل أن يسوي بين خلقه وأن يذيق الغني مس الجوع والالم ليرق على الضعيف فيرحم الجائع.

وسائل الشيعه، ج 7، ص 3 - و من لا يحضره الفقيه، ج 2، ص 73.

ہشام بن حکم نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ روزے کے وجوب کا فلسفہ کیا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: بے شک خداوند عزّ و جلّ نے روزہ واجب کیا تا کہ اس کے ذریعے دولتمندوں اور غریبوں کے درمیان مساوات قائم کرے اور یہ اس لئے ہے کہ جن ثروتمندوں نے بھوک کی تکلیف کا ادراک نہیں کیا ہے وہ غریبوں پر رحم و شفقت کریں. کیونکہ ثروتمند جب بھی (کھانے یا پینے کا) ارادہ کرتے ہیں (ہر قسم کی مشروبات و مأکولات) ان کے لئے فراہم ہیں؛ پس خداوند متعال نے روزہ فرض کیا تا کہ اس کے فقیر اور غنی بندوں کے درمیان مساوات قائم ہوجائے؛ اور یہ مسلمان سرمایہ دار بھوک کی تکلیف کا ادراک کریں تا کہ ان کو غریبوں پر رقت آئے اور بھوکوں پر رحم کریں.

اور یہ صرف اسلام کی خصوصیت ہے اور اسلام وہ واحد مکتب ہے جس کو بھوک و افلاس کا شکار محرومین کی فکر ہے. بے شک محمد و آل محمد (ص) نے سچ کہا ہے۔

 


source : www.tebyan.net
331
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

حدیث ثقلین سے استدلال
حديث ''وسنتي'' کي تيسري سند
محبوب کی بارگاہ میں
شادی
شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی برسی
اسلامی تربیت ایک تحقیقی مقالہ
علی(ع) نے نواصب کے آباء و اجداد کو قتل کیا صرف اسی وجہ سے ...
روزہ کا ظاھر وباطن
اچھا اخلاق
آداب نشست

 
user comment