اردو
Sunday 17th of October 2021
244
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

اہل بیت (ع) کی محبت نماز اور روزے کی مانند واجب ہے/ بحرین میں غیر منصفانہ جنگ لڑی جا رہی ہے

 اہل بیت (ع) کی محبت نماز اور روزے کی مانند واجب ہے/ بحرین میں غیر منصفانہ جنگ لڑی جا رہی ہے

میں مصر سے آیا ہوں وہی ملک جو رأس الحسین (ع) کا میزبان ہے؛ وہی سرزمین جو حسنین کریمین علیہماالسلام کی ہمشیرہ سیدہ زینب (س) کا ملک ہے/ امام حسین علیہ السلام اسلام کی سب سے بڑی انقلابی شخصیت ہیں اور دوران معاصر کی سب سے بڑی انقلابی شخصیت امام خمینی (رح) ہیں / جن لوگوں نے بحرین کے عوام پر غیر منصفانہ جنگ مسلط کی ہے وہ شدت کے ساتھ اپنے فرقہ وارانہ اور عربیت پر مبنی اعتقادات میں ڈوبے ہوئے ہیں اور وہ اس جنگ کو فرقہ وارانہ اور مذہبی قرار دے کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اہل بیت (ع) کی محبت نماز اور روزے کی مانند واجب ہے/ بحرین میں غیر منصفانہ جنگ لڑی جا رہی ہے

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کے مفتی اعظم کے مشیر، جامعة الازہر کے پروفیسر اور مصر کے اصول دین کالج کے سابق سربراہ ڈاکٹر شیخ علوی امین، جو عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی دعوت پر ایک مصری وفد کی سرکردگی میں ایران آئے تھے، روز جمعہ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر میں حاضر ہوئے اور نماز جمعہ میں شریک ہوئے اور نماز جمعہ سے قبل نمازگزاروں سے سے خطاب کیا.
یادرہے کہ شیخ علوی امین انجمن محبان اہل بیت (ع) کے سربراہ اور قاہرہ کی مسجد امام حسین (ع) کے امام جماعت ہیں۔
مصری مؤرخین کے مطابق امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کو قاہرہ میں دفن کیا گیا ہے اور جس وقت مصر پر فاطمی سلاطین کی حکومت تھی امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک دمشق سے قاہرہ منتقل کرکے وہیں دفن کیا گیا تھا۔ اس وقت قاہرہ میں مسجد رأس الحسین (ع) لاکھوں شیعہ اور سنی مصریوں کی زیارتگاہ ہے اور مصر کے اہل سنت اس مقام سے دلی عقیدت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر شیخ علوی امین کے خطاب کا متن:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

والصلاة و السلام علی أحب الأحباب النبي(ص) و علی أم احفاد النبي و زوجة الإمام ولي الله علي(ع) من أخا النبي من بین المهاجرین والانصار کأخوة موسی و هارون، و من العجائب أن نسل موسی کان من هارون و نسل محمد کان من علي، وهما الکوکبان الدریان سیدانا الإمام الحسن و الإمام الحسین (ع) سید الشهداء.
سلام و درود ہو محبوب ترین حبیب نبی اکرم (ص) پر اور اولاد نبی (ص) کی والدہ ماجدہ اور زوجۂ امام ولی اللہ علی (ع) پر؛ اس امام کی زوجہ پر جنہیں نبی اکرم (ص) نے مہاجرین و انصار میں سے اپنے لئے بھائی قرار دیا اور ان کی اخوت موسی اور ہارون جیسی ہے۔ اور نسل محمد (ص) نسل علی (ع) سے اور دو درخشان ستاروں امام حسن اور سید الشہداء امام حسین (ع) سے چلی۔
محترم حضرات و خواتین!
میں ملک مصر سے آیا ہوں وہی ملک جو امام حسین (ع) کے سر مبارک کا میزبان ہے اور وہ سرزمین جو امام حسین (ع) کی ہمشیرہ سیدہ زینب (س) کا ملک ہے۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے کہ میں آپ کے لئے مصری عوام کی محبت اہل بیت (ع) کی حدود بیان کروں۔ مصری عوام اس قرآنی آیت کے پپروکار ہیں:
"قل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى" (سورہ شوری آیت 23)
ترجمہ: اے میرے رسول (ص)! ان سے کہہ دیں: "میں تم سے اپنی رسالت کے عوض کوئی اجرت اور پاداش نہیں مانگتا سوائے اس کے تم میرے خاندان سے محبت کرو"۔
اس آیت کے مطابق اہل بیت (ع) کی محبت مسلمانوں پر نماز اور روزے کی مانند واجب ہے۔
یا پھر مصری عوام اس مشہور حدیث نبی (ص) کے پیروکار ہیں جہاں رسول اللہ (ص) نے فرمایا: "إنِّي تارِكٌ فِيكُمْ ما إنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدي، أَحَدُهُما أَعْظَمُ مِنَ الآخَرِ كِتابُ اللهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّماءِ إلَى الأرْضِ، وَعِتْرَتِي أهْلُبَيْتِي، وَلَنْ يَفْتَرِقَا حَتّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُوني فِيهِما".
[زید بن ارقم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے درمیان دو گرانبہا چیز یں چھوڑے جارہا ہوں، میرے بعد جب تک تم انہیں تھامے رہوگے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے: ایک ان میں دوسری سے عظیم ترہے۔ وہ ایک تو اللہ کی کتاب ہے اور اللہ تعالیٰ کی آسمان سے زمین کی طرف پھیلی ہوئی رسی ہے اوردوسری میری اولاد میرے گھر والے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے الگ نہ ہونگے یہاں تک کہ حوض کوثرپر میرے پاس آپہنچیں پس تم لوگ سوچ لو اور دیکھ لو کہ میرے بعد ان سے کیا معاملہ کرتے ہو اور ان کی ساتھ کس طرح پیش آتے ہو (ترمذی (
اہل بیت (ع) سی ہماری محبت امام شہید حسین بن علی علیہ السلام اور آپ (ع) کے وفادار انصار و اصحاب سے محبت کی طرف لوٹتی ہے جن میں سے ہر ایک، ہر مسلمان اور "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (ص)" کا کلمہ زبان پر لانے والے ہر شخص کے لئے نمونۂ کامل اور ابدی مثال ہے۔ کربلا اور اس کے واقعات روئے زمین پر اسلام کا نور ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں موجود ہر فرد بذات خود ایک امت ہے؛ کیونکہ انھوں نے اسلام پر بنو امیہ کے ظلم و جارحیت کو دیکھا اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
ظلم اور ظالم حکومت، ہر انقلاب کے اہم اسباب ہیں۔ امام حسین علیہ السلام اسلام کی سب سے بڑی انقلابی شخصیت ہیں اور دوران معاصر کی سب سے بڑی انقلابی شخصیت امام خمینی (رح) ہیں۔ امام خمینی (رح) حقیقتاً امام حسین علیہ السلام اور فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے فرزند ہیں اور ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اس راستے پر گامزن ہو جو اس مرد عظیم الشأن نے طے کیا؛ جیسا کہ مصر کے انقلابیوں نے ایسا ہی کیا اور امام خمینی (رح) کی اقتدا کی۔
بحرین کی صورت حال کا جائزہ
بحرین کے بارے میں کہنا چاہوں گا کہ جس مسئلے میں بحرین کے مظلوم عوام مبتلا ہیں وہ ایک غیر عادلانہ اور غیر منصفانہ جنگ ہے۔ میرے خیال میں جن لوگوں نے بحرین کے عوام پر یہ غیر منصفانہ جنگ ٹھونس دی ہے وہ شدت کے ساتھ اپنے فرقہ وارانہ افکار اور عربیت کے نام پر نسل پرستی کے دلدل میں ڈوب گئے ہیں۔ وہ اس جنگ کو مذہبی اور فرقہ وارانہ رنگ دے کر اپنے سیاسی مقاصد تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
خلیج فارس کی ریاستوں نے بحرین میں فوجی مداخلت کی ہے اور ان کا واحد مقصد یہ ہے کہ بحرین کو بھی اور پورے خطے کو بھی مغرب کے دامن میں ہی رہنے دیا جائے وہ پورے عربی خطے کو امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں میں ہی رہنے دینا چاہتے ہیں۔ جو کچھ آج بحرین میں ہورہا ہی در حقیقت خلیج فارس کی ریاستوں پر مسلط فوجی حکومتوں کے لئے براہ راست چیلنج ہوسکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ بحرین میں فوجی مداخلت کی جاتی ہے تو یمن میں کیوں فوجی مداخلت کے بارے میں نہیں سوچا جارہا؟ وجہ یہ ہے کہ بحرین تیل سے مالامال ملک ہے اور وہاں امریکہ اور عرب حکمرانوں کی ذاتی اور خاندانی مفادات ہیں جنہیں خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
کیا فیصلہ درست ہے کہ بحرین میں عوام کے پرامن مظاہرون کا قلع قمع کرنے کے لئے ہم کیل کانٹے سے لیس فوج روانہ کریں؟ آل خلیفہ اور آل سعود کی فوجوں نے ہر بحرینی شہری کے سامنے ایک بکتر بند گاڑی تعینات کررکھی ہے تا کہ وہ اس نہتے بحرینی شہری کے سامنے کھڑی ہوجائے اور اس کو خاموش کردے!.
یہ مسئلہ کیوں پیش آیا کہ ان لوگوں پر حملے کئے جارہے ہیں جن کے مطالبات معاشی اور سماجی اصلاحات پر مبنی ہیں اور وہ ملک میں عدل اور انصاف کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں. خطے کے عرب سربراہوں نے ایسے لوگوں پر ہمہ جہت جنگ مسلط کررکھی ہے جن کا گناہ صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ قانونی اور شرعی مطالبات پیش کررہے ہیں جبکہ یہ سب ہر قوم کے ابتدائی ترین حقوق میں شمار ہوتے ہیں۔
آخر میں، ایک بار پھر مصر کے عوام کا درود و سلام آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
اللہ تعالی سے التجا کرتا ہوں کہ وہ آپ کے اسلامی انقلاب کی حمایت فرمائے۔ ان شاء اللہ
والسلام علیکم و رحمة اللہ

 


source : www.sibtayn.com
244
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

نبی شناسی
وہ عقائد جن پر سنت شیعوں کو الزام دیتے ہیں
اسلام وعلوم
اجتھاد اور مرجعیت
تقلید کیا ھے
مبطلاتِ روزہ
جھاد
اجتھاد اور تقلید؛ (1) مصنف: شھید آیت اللہ مرتضی مطھری (رح)
پنجگانہ نمازوں میں سے ہر نماز کی فضیلت کا دقیق وقت کیا ...
اصول فقہ کا مختصر تعارف

 
user comment