اردو
Wednesday 8th of December 2021
360
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

اذان میں «حَیَّ عَلٰی خَیرِالعَمَل» کی دلیل

اذان میں «حَیَّ عَلٰی خَیرِالعَمَل» کی دلیل

اذان میں «حَیَّ عَلٰی خَیرِالعَمَل» كہنے پر شیعوں كی كیا دلیل ہے؟ اور اہل سنت نے یہ جملہ اذان سے کیوں خارج كیا؟

اذان میں «حَیَّ عَلٰی خَیرِالعَمَل» کی دلیل

اذان میں حی علی خیر العمل پر شیعہ كن دلائل سے استدلال كرتے ہیں؟
مسلمان اذان اوراقامت میں"حی علی الفلاح"كے بعد"حی علی خیر العمل" كہنے كے بارے میں اختلاف نظر ركھتے ہیں، چنانچہ اہل سنت اس بات كے قائل ہیں كہ اذان و اقامت میں اس جملہ كا كہنا جائز نہیں ہے، البتہ بعض اہل سنت اس كو مكروہ جانتے ہیں، لیكن اہل بیت عصمت و طہارت (ع) اور آپ كے شیعہ اس بات كے قائل ہیں كہ یہ فصل (جملہ) اذان و اقامت كا جزء ہے،اوربغیر اس كے اذان باطل ہے، لہٰذا اس با ت پر نظر ركھتے ہوئے كہ اذان و اقامت ان مسائل میں سے ہے جن سے مسلمانوں كو روزانہ متعددمرتبہ سرو كار رہتا ہے، ضرورت اس بات كی ہے كہ اس موضوع كو مكمل طورپر محل بحث قرار دیكر تحقیق كی جائے تاكہ اصل حقیقت سامنے آسكے:
شیعہ علماء كے فتاوی
شیعہ علماء ان دلیلوں كی اتباع میں جو رسول اسلام (ص) اور اہل بیت (ع) كے ذریعہ پہونچی ہیں اس بات پر متفق ہیں كہ "حی علی خیر العمل" اذان و اقامت كا جزء ہے، اور اس كے بغیر اذان اور اقامت باطل ہے ۔
1۔ سید مرتضی (رح) اپنی كتاب" الا نتصار " میں كہتے ہیں: " وہ امور جو امامیہ مذہب كو دیگر مذاہب سے ممتاز كرتے ہیں ان میں سے اذان اور اقامت میں"حی علی الفلاح" كے بعد" حی علی خیر العمل" كاكہنا ہے، اور اس كی علت؛ تمام امامیہ علماء كا اجماع اور اتفاق ہے، البتہ اہل سنت كا كہنا ہے كہ عصر رسالت میں ایك زمانے تك یہ جملہ جزء اذان و اقامت تھا، لیكن یہ حكم بعد میں منسوخ ہو گیا، لہٰذا جو شخص اس كے نسخ ہونے كا قائل ہے اس كو اپنے اس دعوی پر دلیل پیش كرنا چاہیئے، لیكن ان كے پاس ایسی كوئی دلیل نہیں ہے " 1
2۔ علامہ حلی (رح) كہتے ہیں: " اہل سنت لوگوں كو" حی علی خیر العمل" كہنے سے منع كرتے ہیں، لیكن شیعہ امامیہ اپنے ائمہ (ع) سے متواتر روایات نقل ہو نے كی بناپر اس كے مستحب ہو نے پر اتفاق نظر ركھتے ہیں" 2
3۔ صاحب جواہر شیخ محمد حسن نجفی كہتے ہیں: قول اشہركی بنا پر (البتہ شہرت روائی اس قدر نہیں پائی جاتی كہ جس كی بناپر اجماع كا دعوی كیا جا سكے) ہمارے نزدیك فتوے كے لحاظ سے "حی علی خیر العمل" جزء اذان و اقامت ہے، بلكہ كتاب"المدارك" میں نقل ہوا ہے كہ یہ فصل جملہ، مذہب امامیہ كے نزدیك جزء اذان ہے اور اس بارے میں كوئی اختلاف نہیں ہے، اسی طرح كی نسبت كتاب "تذكرة "او نہایۃ الاحكام " میں علمائے امامیہ كی طرف دی گئی ہے،اور كتاب" ذكریٰ "میں اس كی نسبت تمام اصحاب امامیہ كی طرف دی گئی ہے، اور كتاب "المسالك "میں آیا ہے كہ اس بارے میں فرقہٴ امامیہ اور ان كے علماء كے نزدیك كوئی اختلاف نہیں ہے، اسی طرح كتاب" غنیہ "كی اس عبارت سے ظاہر ہوتا ہے:
"ہمارے تمام اصحاب (علماء) كا اجماع ہے كہ اذان 18 فصول پر مشتمل ہے، نہ اس سے زیادہ اورنہ ا س سے كم، چنانچہ چار مرتبہ تكبیر، اور توحید كی شہادت، رسالت كی شہادت، اس كے بعد "حی علی الصلاة"اس كے بعد" حی علی الفلاح" پھر" حی علی خیر العمل" كہے، اس كے بعد تكبیر اور لاالٰہ الا الله كہے گا، اوران میں سے ہر ایك كو دو دو مرتبہ كہے گا "۔ 3
«حی علی خیر العمل» كے جزء اذان ہونے پر شیعوں كی جانب سے چند دلائل
اذان میں اس جملہ كی جزئیت پر چند دلیلوں كے ذریعہ استدلال كیا گیا ہے:
پہلی دلیل: اس كی مشروعیت پر تمام مسلمانوں كا اتفاق و اجماع ہے۔
اس میں كوئی شك نہیں كہ یہ جملہ رسول خدا (ص) كے زمانہ میں جزء اذان تھا، اس لئے كہ جس طرح فرقۂ امامیہ، زیدیہ، اور اسماعیلیہ نے اس بات كی طرف اشارہ كیا ہے اسی طرح اہل سنت نے اس كو متعدد طرق سے نقل كیا ہے، نیز متعدد صحابہ سے نقل كیا گیا ہے كہ زمانۂ رسالت میں لو گ اس جملہ كو اذان میں كہتے تھے، اگرچہ بعض اہل سنت اس بات كے قائل ہوئے ہیں كہ رسول خدا (ص) نے جناب بلال سے كہا كہ اس كو اذان سے حذف كردیا جائے، اور اس كی جگہ "الصلاة خیر من النوم"كہا جائے ! یعنی ان لوگوں كے نزدیك یہ جملہ نسخ ہوگیا تھا اور اس كی جگہ دوسرا جملہ بڑھا دیا گیا تھا۔یہ لوگ پھر اس كے ناسخ كے بارے میں اختلاف ركھتے ہیں:
بعض لوگ كہتے ہیں كہ رسول اسلام (ص) نے جناب بلال سے كہا تھا كہ اس كو حذف كركے اس كی جگہ"الصلاة خیر من النوم"بڑھا دو،اور بعض نے اس كے ناسخ كے بارے میں سكو ت اختیار كیا ہے، اور بعض كہتے ہیں كہ رسول خدا (ص) نے خود بلال سے كہا كہ"حی علی خیر العمل" اذان میں كہو، چنانچہ بلال رسول كے حكم پر عمل كرتے ہوئے آنحضرت كی وفات تك یہ جملے اذان میں كہتے رہے ۔ 4
عدم جزئیت اور اہل سنت كی دلیلوں كی جانچ پڑتال
جملہ ٴ (حی علی خیر العمل) اذان كا جزء نہیں ہے، اس بارے میں اہل سنت كی دلیلوں كا خلاصہ درج ذیل تین باتوں میں ہوتا ہے:
1۔ معتبر احادیث كے ذریعہ ثابت نہیں ہوتا كہ" حی علی خیر العمل" اذان كی فصل ہے، اور جن مصادر میں اس كا ذكر آیا ہے جیسے سنن الكبری؛ للبیہقی اور المصنف؛ لابی شیبہ، تو ان كی دوسرے درجہ كی حیثیت ہے۔
2۔ جن روایات سے اس جملہ كاجزء اذان ہونا ثابت ہوتا ہے وہ سب روایات ضعیف ہیں، لہٰذا یہ روایتیں درجۂ اعتبار سے ساقط ہیں ۔
3۔ اگرچہ بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے كہ صحابۂ كرام اپنے زمانہ میں اس فصل كو اذان میں كہتے تھے، لیكن ہمارے لئے رسول خدا (ص) كا قول وفعل حجت ہے صحابہ كا نہیں ۔
مذكورہ ادلہ كی تحقیق
اہل سنت كی پہلی دلیل كے بارے میں ہمارا یہ كہنا ہے كہ:

اولاً: روایات كاصحیحین (صحیح بخاری اور صحیح مسلم) میں نقل نہ ہونا دلیل نہیں ہوسكتا كہ یہ روایات صحیح نہیں ہیں؛ كیونكہ رسول الله (ص) كی تمام سنت؛ صحیحین میں نقل نہیں ہوئی ہے، چنانچہ بہت سی صحیح السند روایات ایسی پائی جاتی ہیں جوصحیحین میں موجود نہیں لیكن دوسری كتب میں موجود ہیں،جن كو اہل سنت تسلیم كرتے ہیں اور ان كے مطابق فتوے بھی دیتے ہیں ۔
ثانیاً: اگر یہ فقرہ اذان سے نسخ ہو گیاتھا تو پھر حضرت علی علیہ السلام اور آپ كی اولاد پر كیونكر پوشیدہ رہا جبكہ حدیث ثقلین كی رو سے آپ كی اقتداء كرنا واجب ہے،اور اگر ان سے روگردانی كی تو صحیح ہدایت نہیں مل سكتی یا حدیث سفینہ میں آیا ہے كہ یہ (اہل بیت) ضلالت اور گمراہی سے كشتیٔ نجات ہیں؟ پس اگر حكم"حی علی خیر العمل" اذان سے منسوخ ہوا ہوتا تو یقیناً حضرت علی (ع) اور آپ كی پاك اولاد كو معلوم ہوا ہوتا جن سے حدیث ثقلین اور حدیث سفینہ كے مطابق تمسك كرنا واجب ہے۔
ثالثاً: "حی علی خیر العمل" سے متعلق جو روایتیں نقل كی گئیں ہیں ان سب سے استفادہ ہوتا ہے كہ یہ فقرہ، عصر رسالت میں جزء اذان تھا، یہاں تك كہ بعض روایات كے مطابق رسول (ص) كی وفات تك یہ جملہ اذان میں كہا جاتا تھا،لہٰذا اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ یہ فقرہ اذان میں شامل تھا، اور اس كا جزء شمار كیا جاتا تھا، لیكن اگر كوئی اس كے نسخ ہونے كے بار ے میں شك كرے تو اسے استصحابِ جزئیت كر كے اس كی بقا كا حكم لگانا ہوگا، كیونكہ كسی حكم كا نسخ ہونا، دلیل ِ قطعی چاہتا ہے جو فی الحال مفقود ہے ۔
اہل سنت كی دوسری دلیل كے بارے میں ہمارا نظریہ
اولاً: سب سے پہلے ہمیں علمائے رجال كی جانب سے ان احادیث كے راویوں كی جرح و تعدیل كس معیار اور ضابطہ كے تحت ہوئی ہے اس پر غور كرنا ہوگا، آیا یہ مخالفت، مذہب كے مخالف ہونے كی وجہ سے ہوئی ہے،یاپھر حقیقت كو مدنظر ركھتے ہوئے ان راویوں كو ضعیف قرار دیا گیا ہے؟ہمیں ان تمام باتوں پر غور كركے فیصلہ كر نا ہوگا۔
ثانیاً: بالفرض اگر ہم تسلیم كرلیں كہ ان روایتوں كے راوی ضعیف ہیں، لیكن ان احادیث كے طرق و اسناد كی كثرت نیز ان كا متعدد ہونا، ان روایتوں كوسرحدا عتبار تك پہنچادیتا ہے، كیونكہ شیعہ اور اہل سنت كی اصطلاحِ حدیث كے مطابق وہ احادیث بھی قابل قبول ہیں جو ایك دوسرے كی تقویت كرتی ہوں ۔ 5
مثلاً نمونہ كے طور پر اہل سنت اس حدیث پر ضعیف ہونے كے باوجود عمل كرتے ہیں:
((علی الید ما اخذت حتی توٴ دیہ)) 6
جبكہ اس حدیث كا راوی صرف سمرہ بن جندب ہے (جو ضعیف ہے) ؟
ثالثاً: شیعہ،اسماعیلیہ اورز یدیہ كے علماء كی ایك بڑی تعداد نے ان روایات كو صحیح اورحسن طرق و اسنادكے ذریعہ نقل كیاہے كہ"حی علی خیر العمل"رسول (ص) كے زمانہ میں جزء اذان تھا، اور یہ رسول (ص) كے زمانہ میں نسخ نہیں ہوا تھا، لہٰذا وہ روایات جو اہل سنت كے یہاں ضعیف طرق كے ساتھ وارد ہوئی ہیں ان كی شیعہ روایات كے ذریعہ تقویت ہوسكتی ہے جو صحیح اور حسن طرق كے ساتھ نقل ہوئی ہیں، یہ مطلب اس وقت اور بھی واضح ہوجاتا ہے كہ جب ہم خلفاء كی سیاست پر غور كریں كیونكہ عالم اسلام اس بات كو یقینا جانتا ہے كہ خلفاء حضرات نے بہت سے احكام میں رد و بدل كیاہے، لہٰذا امكان ہے كہ ُان مقامات میں سے ایك مقام یہ بھی ہو۔
اہل سنت كی تیسری دلیل كے بارے میں ہمارا قول
اولاً: اہل سنت حضرات تو، اصحاب رسول كے عمل پر خاص كر كچھ زیادہ ہی توجہ دیتے ہیں، اور اس كو سو فیصد حجت مانتے ہیں، اور اپنے فتاوے میں اصحاب كے قول وفعل كو مرجع اور مصدر سمجھتے ہیں، لہٰذا انھیں تو اس جملہ "حی علی خیر العمل"كو بدرجۂ اولی اذان میں كہنا چاہیئے البتہ یہ توہم لوگ ہیں كہ جو اصحاب كے قول و فعل كو حجت نہیں مانتے ۔
ثانیاً: ایسا نہیں ہے كہ یہ جملہ صرف رسول (ص) كے بعض صحابہ كہتے تھے بلكہ ہم نے اس سے پہلے اس بات كا اشارہ كیا ہے كہ یہ فقرہ رسول (ص) كے زمانہ میں بھی جزء اذان تھا اور جناب بلال اس كو اذان میں كہتے تھے،یہاں تك كہ رسول (ص) كی وفات تك یہ جملہ دھرایا جاتا رہا،اور نسخ نہیں ہوا لہٰذا اگر شك كیا جائے تو ایسی صورت میں ہم استصحاب كے ذریعہ اس كی بقا كا حكم لگاتے ہوئے اسے شارع كی طرف منسوب كر سكتے ہیں۔
دوسری دلیل: اہل بیت (ع) اور صحابہ كی اذان میں یہ جملہ تھا۔
اگركوئی كتب تاریخ وسیر وحدیث كا مطالعہ كرے تووہ دیكھے گا كہ بہت سے صحابہٴ كرام، تابعین، تبع تابعین اور اہل بیت رسول (ص)، اپنی اذانوں میں "حی علی خیر العمل" كہتے تھے، البتہ بعض روایتوں سے صرف اتنا استفادہ ہوتا ہے كہ یہ حضرات نماز صبح میں یہ فقرہ كہتے تھے، لیكن بعض دوسری روایتوں سے پتہ چلتا ہے كہ یہ فقرہ تمام نمازوں میں كہا جاتا تھا، چنانچہ ان میں سے بعض شحصیتوں كے اسماء یہاں ہم نقل كرتے ہیں:
1۔ بلال بن رباح حبشی (ت 20 ھ)
كتاب كنزالعمال میں آیا ہے كہ جناب بلال ہمیشہ نماز صبح میں" حی علی خیر العمل" كہتے تھے۔ 7
حضرت رسول خدا (ص) نے ارشاد فرمایا: تمھارا بہترین عمل نماز صبح ہے، اس وقت آپ نے بلال كو حكم دیا كہ اذان میں" حی علی خیر العمل" كہو ۔ 8
2۔ علی ابن ابی طالب - (ت 40ھ)
امام مؤید با لله زیدی كتاب " شرح تجرید " میں اپنی سند كے ساتھ امام علی (ع) سے نقل كرتے ہیں كہ آپ نے فرمایا:
میں نے رسول خدا (ص) سے سنا كہ آپ نے فرمایا: تمھارا بہترین عمل نماز صبح ہے،اس وقت آپ نے بلال كوحكم دیاكہ اذان میں"حی علی خیر العمل" كہیں۔ 9
3 ۔ ابو رافع
حافظ علوی زیدی اپنی سند كے ساتھ ابی رافع سے نقل كرتے ہیں: جب بھی رسول اسلام (ص) اذان میں"حی علی خیر العمل" پر پہنچتے تھے تو " لا حول ولا قوة الا بالله " كہتے تھے ۔ 10
4۔ عقیل بن ابی طا لب (ع)
حافظ علوی زیدی اپنی سند كے ساتھ عبیدہ سلمانی سے نقل كرتے ہیں: عقیل ابن ابی طالب (ع) جب تك زندہ رہے اس وقت تك " حی علی خیر العمل" كہتے رہے ۔ 11
5 ۔ حسن بن علی بن ابی طالب (ع) -
زیدیہ فرقہ سے تعلق ركھنے والے بزرگ عالم جناب قاسم بن محمد نقل كرتے ہیں: اس بات پر اتفاق ہے كہ ابن عمر،حسن و حسین علیہما السلام،بلال اور صحابہ كی ایك بڑی جماعت اپنی اذانوں میں" حی علی خیر العمل"كہتی تھی ۔ 12
6 ۔ ابو محذورہ (ت 59 ھ)
محمد بن منصور كتاب" الجامع " میں صحیح سند كے ساتھ ابی محذورہ سے جو رسول (ص) كے موٴذنوں میں سے تھے، نقل كرتے ہیں:
رسول خدا (ص) نے مجھے حكم دیا كہ اذان میں"حی علی خیر العمل"كہوں ۔ 13
7 ۔ حسین بن علی ابن ابی طالب (ع) -
قبلا ً آپ كی حدیث كی طرف اشارہ كر چكے ہیں۔ 14
8 ۔ زید بن ارقم
شوكانی،نیل الاوطارمیں اور محب الدین طبری اپنی كتاب" احكام الاحكام" میں نقل كرتے ہیں كہ زید بن ارقم اپنی اذان میں" حی علی خیر العمل" كہتے تھے ۔ 15
9 ۔ عبد الله ابن عباس
حافظ علوی اپنی سند كے ساتھ عبیدہٴ سلمانی سے نقل كرتے ہیں: حضرت علی (ع)، حسن (ع)، حسین (ع)، عقیل ابن ابی طالب (ع)، ابن عباس (رض)، عبد الله بن جعفر (رض) اورمحمد بن حنفیہ (رض) جب تك زندہ رہے اپنی اذان میں" حی علی خیر العمل" كہتے رہے ۔ 16
10 ۔ عبد الله ا بن عمر (ت 73 ھ)
محمد بن سیرین ابن عمر كے بارے میں نقل كرتے ہیں: جب بھی آپ اذان میں"حی علی الفلاح"پر پہنچتے تھے تو " حی علی خیر العمل" كہتے تھے ۔ 17
عبد الرزاق اپنی كتاب" المصنف" میں اپنی سند كے ساتھ نقل كرتے ہیں: جب بھی عبد الله ابن عمراذان میں" حی علی الفلاح" پر پہنچتے تھے تو" حی علی خیر العمل" كہتے تھے ۔ 18
اسی طرح زید بن محمد نافع سے نقل كرتے ہیں: جب بھی عبد الله ابن عمراذان میں" حی علی الفلاح "پر پہنچتے تھے تو " حی علی خیر العمل" ضروركہتے تھے ۔ 19
عبد الله ابن عمر كے بارے میں مختلف طرق سے اہل سنت اور زیدیہ كاكتابوں میں یہ با ت پایۂ ثبوت كو پہونچی ہوئی ہے كہ جب بھی عبدالله ابن عمراذان میں"حی علی الفلاح" پر پہنچتے تھے تو " حی علی خیر العمل" كہتے تھے ۔
11۔ جابر بن عبد الله
حافظ علوی اپنی سند كے ساتھ جابر بن عبد الله سے نقل كرتے ہیں: عصر رسالت میں موٴذن"حی علی الفلاح" كے بعد "حی علی خیر العمل" كہتا تھا، یہاں تك كہ عمر ابن خطاب كا زمانہ آیا تو خلیفہ نے اس سے نہی كردی، تاكہ لوگ جہاد میں سستی نہ كریں ۔ 20
12۔ عبد الله ابن جعفر
حافظ علوی اپنی سند كے ساتھ عبیدۂ سلمانی سے نقل كرتے ہیں: عبد الله ابن جعفر بن ابی طالب جب تك زندہ رہے اذان میں"حی علی خیر العمل" كہتے رہے ۔ 21
13۔ محمد ابن علی بن ابی طالب
حافظ علوی اپنی سند كے ساتھ محمد ابن بشر سے نقل كرتے ہیں: ایك شخص محمد بن حنفیہ كے پاس آیا اور كہنے لگا: مجھے خبر ملی ہے كہ اذان كی تشریع صرف ایك خواب كی بنا پر ہوئی، جسے ایك انصاری مرد نے دیكھا تھااور اس نے اسے جب رسول الله (ص) سے بیان كیا تو آپ نے بلال سے كہا كہ ان فقرات كو اذان میں كہو،محمد بن حنفیہ نے كہا: جو شخص جاہل ہے وہ لوگوں سے ایسی باتیں كرتا ہے، امر اذان اس سے كہیں بلند مقام ركھتا ہے (یاد ركھو یہ جملہ اس وقت سے شروع ہوا كہ) جب رسول خدا (ص) معراج پر تشریف لے گئے،تو وہاں آپ نے سنا كہ ایك فرشتہ ان جملوں كو كہہ رہا ہے: الله اكبر،الله اكبر،یہاں تك كہ اس نے "حی علی خیر العمل" كہا ۔ 22
14 ۔ انس بن مالك
حافظ علوی زیدی اپنی سند كے ساتھ انس بن مالك سے نقل كرتے ہیں كہ رسول اسلام (ص) نے فرمایا: اور جب جبریل بلند ہوئے اور اپنی انگشت شہادت كو اپنے داہنے كان پر ركھا، اور اذان كے كلمات كو دو دو كركے ادا كرنے لگے، ان میں سے ایك فقرہ میں یہ بھی تھا: " حی علی خیر العمل" ۔ 23
15۔ علی بن حسین بن علی علیہ السلام
ابن ابی شیبہ اور بیہقی اپنی سند كے ساتھ مسلم ابن ابی مریم سے نقل كرتے ہیں:
علی ابن الحسین (ع) ہمیشہ اپنی اذان میں"حی علی الفلاح" كے بعدیہ جملہ كہتے تھے: "حی علی خیر العمل" ۔ 24
یہ مضمون متعد د طرق و اسناد كے ساتھ مختلف مدارك و منابع میں پایا جاتا ہے ۔
16 ۔ ابو امامہ بن سہل بن حنیف (ت100 ھ)
محب الدین طبری (جو اپنے زمانہ میں شافعی فرقہ كے امام تھے) كتاب"احكام الاحكام" میں نقل كر تے ہیں:
"ابو امامہ جب بھی اذان كہتے تھے تو جملۂ"حی علی خیر العمل"كو فراموش نہیں كرتے تھے"۔ 25
بیہقی كہتے ہیں: ابوامامہ سے روایت نقل كی گئی ہے كہ وہ اذان میں"حیّ علی خیر العمل" ضرور كہتے تھے ۔ 26
ابن حزم كہتے ہیں: صحیح سند كے ساتھ نقل ہوا ہے كہ ابن ابی عمر و و ابی امامہ بن سہل بن حنیف اذان میں ہمیشہ"حیّ علی خیر العمل" كہتے تھے ۔ 27
17 ۔ محمد ابن علی الباقر علیہ السلام
حافظ علوی اپنی سند كے ساتھ ابی الجارود سے نقل كرتے ہیں: ابی جعفر امام محمدباقر (ع) اذان میں ہمیشہ " حی ّ علی خیر العمل" كہتے تھے۔ 28
نیزامام محمدباقر (ع) سے 22/ طرق كے ساتھ منجملہ جعفر جعفی كے طریق سے نقل ہوا ہے كہ آپ نے فرمایا: میری اورمیرے اجداد: رسول (ص)، علی (ع)، حسن (ع) حسین (ع) اورعلی ابن الحسین (ع) كی اذان میں"حیّ علی خیر العمل" اور"حی ّ علی خیر العمل"ہے۔ 29
18 ۔ زید بن علی (ت 121 ھ)
حافظ علوی طیبہ بن حیا ن كے ذریعہ نقل كرتے ہیں: زید بن علی ہمیشہ موٴذن كو" حی ّ علی خیر العمل " كا حكم دیتے تھے۔ 30
19۔ یحی بن زید بن علی (ت 125 ھ)
حافظ علوی اپنی سند كے ساتھ حسان سے نقل كرتے ہیں: میں نے یحی بن زید كے لئے ایك مرتبہ خراسان میں اذان كہی تو آپ نے مجھے"حی علی خیر العمل"اور" حی علی خیر العمل" كہنے كا حكم دیا۔ 31
20 ۔ محمد بن زید بن علی
حافظ علوی نے اپنی سند كے ساتھ احمد بن مفضل سے نقل كیا ہے: محمد بن زید بن علی اپنی اذان میں" حی علی خیر العمل" كہتے تھے ۔ 32
21 ۔ محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب (ت 135 ھ)
حافظ علوی نے اپنی سند كے ساتھ عبد الله ابن محمد بن عمر بن ابی سے نقل كرتے ہیں: میرے باپ اپنی اذان میں"حی علی خیر العمل"ضرور كہتے تھے ۔ 33
22 ۔ جعفر ابن محمد الصادق علیہ السلام
حافظ علوی اپنی سند كے ساتھ معاویہ بن عمار سے نقل كرتے ہیں: میں نے جعفر ابن محمد (ع) سے سنا كہ آپ اذان میں"حی علی خیر العمل" كہتے ہیں۔ 34
23 ۔ حسین ابن علی صاحب فخ (ت 169 ھ)
حافظ علوی اپنی سند كے ساتھ عنترہ بن حسین عصافی سے نقل كرتے ہیں: حسین ابن علی صاحب فخ،اپنی اذان میں"حی علی خیر العمل" كہتے تھے۔ 35
24 ۔ موسی ابن جعفر الكاظم علیہ السلام
شیخ صدوق (رح) اپنی سند كے ساتھ ابن ابی عمیر سے نقل كرتے ہیں: میں نے امام علی رضاعلیہ السلام سے"حی علی خیر العمل" كے بارے میں اس لئے دریافت كیا كہ اس كو اہل سنت نے حذف كردیا ہے؟ آپ نے فرمایا: آیا تو اس كی ظاہری علت معلوم كرنا چاہتا ہے یا پھر اس كی باطنی علت پوچھنا چاہتا ہے ؟ میں نے كہا دونوں دریافت كرنا چاہتا ہوں، امام نے كہا: اس كی ظاہری علت یہ تھی كہ لوگ نماز پر زیادہ توجہ كی بنا پر جہاد كو ترك نہ كردیں، اور اس كی باطنی علت یہ ہے كہ بہترین عمل ولایت ہے، لہٰذا جس نے اس كے حذف كرنے كا منصوبہ بنایا اس كا مقصدلوگوں كو ولایت سے دور كرنا تھا ۔ 36
25 ۔ علی ابن موسی الرضا علیہ السلام
نیز شیخ صدوق (رح) فضل بن شاذان كے ذریعہ امام علی رضا علیہ السلام سے نقل كرتے ہیں: حضرت نے فرمایا: لفظ "حی علی خیر العمل" اذان كے درمیان اس لئے ركھا گیا ہے كہ یہ جملہ وسط اذان میں دعوت ہے فلاح اور بہترین عمل كے لئے 37
26 ۔ حسن بن یحی بن حسین بن زید بن علی (ت 260 ھ)
حافظ علوی زیدی اپنی سند كے ساتھ حسن بن یحی سے نقل كرتے ہیں: اہل بیت رسول (ص) كا اس بات پر اجماع ہے كہ اذان و اقامت میں"حی علی خیر العمل" كہنا چاہیئے ۔ 38
تیسری دلیل: عترت رسول كا اجماع
فریقین كی تمام روایتوں سے استفادہ ہوتا ہے كہ اہل بیت علیہم السلام كا اجماع اس بات پر تھا كہ" حی علی خیر العمل" اذان و اقامت كا جزء ہے، چنانچہ عالم اہل سنت دسوقی اپنے حاشیہ میں كہتے ہیں: حضرت علی (ع) اذان و اقامت میں"حی علی خیر العمل" كہتے تھے، اور شیعہ مذہب كا عقیدہ ہے كہ یہ جملہ اذان و اقامت كا جزء ہے۔ 39
اسی طرح حافظ علوی كہتے ہیں: علی ابن ابی طالب (ع)، حسن (ع)، حسین (ع)، عقیل ابن ابی طالب (رح)، ابن عباس (رض)، عبد الله ابن جعفر (رض)، اور محمد ابن حنفیہ (رض) جب تك زندہ رہے یہ جملہ اذان میں كہتے رہے، كیونكہ ان كا عقیدہ تھا كہ یہ جملہ اذان میں ہمیشہ سے تھا۔ 40
علامہ صلاح بن احمد بن مہدی كہتے ہیں: "حی علی خیر العمل"پر اہلبیت (ع) كا اجماع ہے كہ یہ جز ء اذان ہے ۔ 41
وفات رسول كے بعد بلال نے اذان دینا كیوں ترك كیا؟
تاریخ اسلام سے استفادہ ہوتا ہے كہ جناب بلال نے وفات رسول (ع) كے بعد اہل بیت (ع) كے علاوہ اور كسی كیلئے اذان نہیں كہی، اور اس بناپر كہ غاصب خلافت كہیں ان كو تحریف شدہ اذان كہنے پر مجبور نہ كرے اس لئے آپ مدینہ چھوڑ كر شام چلے گئے، اور آخر عمر تك وہیں قیام پذیر رہے ۔ 42
عالم اہل سنت اوزاعی كہتے ہیں: ایك مرتبہ جناب بلال، عمر ابن الخطاب كے پاس آئے، اور جب نماز كا وقت ہوا تو بلال نے عمر سے كئی مرتبہ كہا: نماز، نماز، عمر نے ان سے كہا: میں نماز كا وقت تم سے بہتر جانتا ہوں، بلال نے ان سے كہا: البتہ میں ہر حال میں تم سے وقت كے بارے میں زیادہ جانتا ہوں، كیونكہ تم تواپنی بیوی كے خچر سے بھی زیادہ گمراہ ہو ! 43
مذكورہ عبارت سے ثابت ہوتا ہے كہ بلال اور عمر و ابوبكر اور ان كے چاہنے والوں كے درمیان سیاسی اختلاف كافی حد تك بڑھ چكا تھا، یعنی بلال كو اس بات پر مجبوركرنے كی كوشش كی جارہی تھی كہ وہ اذان سے"حی علی خیر العمل" نكال دیں، اور اس كی جگہ" الصلاہ خیر من النوم" داخل كردیں ! لیكن بلال نے انكار كردیا، تب ان لوگوں نے ان كو چھوڑ دیا اور ان كی جگہ سعد قرظ اور ابو محذورہ جیسے لوگوں كو اذان كیلئے معین كیا اور بلال كے بارے میں شہرت كردی كہ ان كی آنكھیں ضعیف ہوگئیں ہیں، اور ان كی زبان میں لكنت ہے ! اور دوسری جانب ایك حدیث بھی گڑ ھ دی كہ بلال اذان میں "الصلاہ خیر من النوم" كہتے تھے! مگر بلال اس سیاسی چال كو سمجھ گئے، لہٰذا ان كی ذات سے كہیں غلط بات پر تائید و تصدیق نہ ہو جائے اس لئے آپ نے مدینہ كو ترك كردیا اور شام چلے گئے ۔
قوشچی حنفی شرح تجرید میں كہتے ہیں: حضرت عمر نے اپنے ایك خطبہ میں لوگوں كو مخاطب قرار دیكر كہا: اے لوگو! تین چیزیں عہد رسول میں تھیں لیكن میں ان سے نہی كرتا ہوں، اور ان كوحرام قرار دیتاہوں، جو بھی اب ان كو انجام دے گا میں اس كو سخت سزادوںگا، اور یہ تین چیزین یہ ہیں: متعة النساء، حج تمتع، اور حی علی خیر العمل ۔ 44
علمائے زیدیہ قائل ہیں كہ عمر ابن الخطاب كے علاوہ اور كسی نے"حی علی خیر العمل" اذان میں كہنے سے نہیں روكا۔ 45
حلبی كہتےہیں: صحیح سندكے ذریعہ ثابت ہے كہ"حی علی خیرالعمل" رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے زمانہ میں اذان كا جزء تھا یہاں تك كہ عمر كے زمانے میں اس سے منع كردیا گیا ! 46
تفتازانی اپنے حاشیہ میں جسے انھوں نے شرح عضدی جو كہ شرح مختصر الاصول موٴلفہ ابن حاجب ہے،میں لكھاہے، كہتے ہیں: "حی علی خیر العمل" رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے زمانہ میں اذان كا جزء تھا،یہ عمرتھے جنھوں نے لوگوں كو اس كے كہنے سے باز ركھا،تاكہ لوگ جہاد میں جانے سے نہ كترائیں ۔ 47
شوكانی كہتے ہیں: صحیح طریق كی ساتھ یہ بات پایہٴ ثبوت كو پہنچی ہوئی ہے كہ" حی علی خیر العمل" رسول (ص) كے زمانہ میں اذان كا جزء تھا، یہ عمر تھے جنھوں نے لوگوں كو اس كے كہنے سے باز ركھا ۔ 48
پس مذكورہ تمام تفصیلات سے ثابت ہوتا ہے كہ یہ جملہ رسول الله (ص) كے زمانہ میں جزء اذان تھا لہٰذا اب اگر اس كی جزئیت میں كسی كو شك ہو جائے تو قانون استصحاب كے تحت وہ اس كی جزئیت كا استصحاب كر سكتا ہے ۔
محترم قارئین! وہ علت اوراجتہاد جواذان میں عمركے"حی علی خیر العمل" نہ كہنے كے لئے بیان كیا جاتا ہے وہ یہ ہے:
چونكہ لوگ نماز میں زیادہ مشغول ہونے كی بناپر جہاد كرنے سے باز ہو جائیں گے لہٰذا" حی علی خیر العمل" نماز میں نہ كہا جائے !
عمر كا یہ اجتہاد چند دلیلوں كی بناپر ناقص ہے:
1۔ رسول (ص) كے زمانے میں تو عمر كے زمانے سے زیادہ جہاد اور دفاع كی ضرورت تھی لہٰذا رسول (ص) نے كیوں نہیں اپنے زمانے میں اس كو منع كیا ؟ بلكہ آپ نے منع كرنے كے بجائے اس كو نماز میں پڑھنے كاحكم دیا ۔
2۔ بالفرض مذكورہ علت كی بنا پر عمر نے لوگوں كو اس كے اذان میں كہنے سے روكا تو كیا یہ دائمی اور ہمیشہ كیلئے تھا ؟ بلكہ یہ حكم ایك زمانے كیلئے مخصوص تھا، كیونكہ ہمیشہ جہاد كا موقع اور موسم نہیں ہوتا، لہٰذا اہل سنت سے دریافت كرنا چاہیئے كہ اب كونسا جہاد ہے جس نے تم كواس كے كہنے سے روك ركھا ہے ؟ فی الحال تو حالت صلح ہے، تو پھر كیوں نہیں" حی علی الفلاح" كے بعد اذان میں"حی علی خیر العمل" كہتے ؟
منبع: شیعہ شناسی و پاسخ بہ شبہات؛ علی اصغر رضوانی، جلد 2، ص263 - 375 - مترجم مقاله: محمد منیرخان ہندی لكھیم پوری (گروہ ترجمہ سایٹ صادقین)
--------------------------------------------------------------------------------
1. الانتصار مسئلہ 35۔
2. تذكرة الفقہاء جلد 3، ص42۔
3. جواہر الكلام جلد9، ص 81، 82۔
4. وسائل الشیعہ جلد5، ص 416 ۔ الاذان بحی علی خیر العمل، حافظ علوی، زیدی ص 91۔
5. نصب الرایةجلد1، ص93۔
6. مسند احمد بن حنبل ج 5، ص 8، 12، 13۔
7. كنز العمال جلد 8، ص 342، حدیث نمبر 27174۔ مجمع الزوائد جلد 1، ص 330۔
8. البحرالزخارجلد2،ص191۔الشفاء جلد1،ص260۔
9. جواہر الاخباروا لآثارجلد2، ص191۔ الاعتصام بحبل الله المتین جلد1،ص209۔
10. الاذان بحی علی خیر العمل ص 28 ۔ الاعتصام جلد 1، ص 289۔
11. الاذان بحی علی خیر العمل ص 28 ۔ الاعتصام جلد 1، ص 289۔
12. الاعتصام بحبل الله المتین ص 307۔ الروض النضیر، ج1 ص542۔
13. میزان الاعتدال ج1، ص 139۔ لسان المیزان ج 1، 268۔ البحر الزخار ج2، ص 192۔
14. الاعتصام ص 307 ۔
15. نیل الاوطار جلد 2، ص 44۔
16. الاذان بحی علی خیر العمل ص 54۔
17. بیہقی؛ السنن الكبری جلد1،ص 425۔
18. المصنف ج1، ص260، حدیث نمبر1786۔
19. الاعتصام ج 1، ص 295 ۔
20. الاذان بحی علی خیر العمل ص 30۔ الاعتصام ج1، ص 291۔
21. الاذان بحی علی خیر العمل ص 54۔ الاعتصام ج1، ص 294۔
22. الاذان بحی علی خیر العمل ص 57 ۔ الاعتصام ج1، ص 285 ۔
23. الاذان بحی علی خیر العمل ص 26۔ الاعتصام ج1، ص288،289 ۔
24. المصنف ج1،ص 195 ۔ سنن البیہقی، مسند زید بن علی۔ ج1، ص83۔
25. الاعتصام ج 1 ص 309 ۔ الروض النضیر ج 1، ص 541 ۔
26. سنن بیہقی ج 2، ص 425 ۔
27. المحلی ج 3، ص 160 ۔
28. الاذان بحی علی خیر العمل ص 87، 82۔
29. الاذان ص 54۔
30. الاذان بحی علی خیر العمل ص 37، حدیث نمبر 172، 173۔
31. الاذان بحی علی خیر العملص86، الاعتصام ج1، 381 ۔
32. الاذان بحی علی خیر العمل ص86۔الاعتصام ج1، 381 ۔
33. الاذان بحی علی خیر العملص86۔الاعتصام ج1، 88 ۔
34. الاذان بحی علی خیر العملص86۔ الاعتصام ج1، 84 ۔
35. الاذان بحی علی خیر العمل ص86۔الاعتصام ج1، 85۔
36. علل الشرائع ص 368، حدیث 4، باب 89 ۔
37. من لا یحضرہ الفقیہ ج1 ص 300 حدیث 914 ۔
38. الاذان بحی علی خیر العمل ص 91 ۔
39. حاشیہ دسوقی ج 1، ص 193 ۔
40. الاذان بحی علی خیر العمل ص 109۔ الاعتصام ج 1، ص 294 ۔
41. شرح الہدایہ ص 294 ۔
42. تاریخ مدینة دمشق ج 7،ص 136، نمبر493 ۔ تہذیب الكمال ج 4،ص 289 ۔ اسد الغابةج1،ص 208۔
43. مختصر تاریخ دمشق ج 5، ص 266، 267 ۔
44. شرح تجرید قوشجی ص 374 ۔
45. كتاب الاحكام ج 1، ص 84 ۔الاذان بحی علی خیر العمل ص 78۔
46. السیرة الحلبیہ جلد 2، ص 98۔
47. مبادی الفقہ الاسلامی، ص 38 ۔
48. نیل الاوطار ج 2 ص 23۔

 


source : www.abna.ir
360
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

جھاد
مبطلاتِ روزہ
عدل الہٰي کے دلائل
ہم فروع دین میں تقلید کیوں کریں ؟
روزي کي تقسيم کے فرق ميں پوشيدہ حکمت
فلسفہ خمس
مکتب اہل بیت میںاجماع کی شرعی حیثیت
طلاق در اسلام
نبی شناسی
اصول فقہ میں سنت کی بحث

latest article

جھاد
مبطلاتِ روزہ
عدل الہٰي کے دلائل
ہم فروع دین میں تقلید کیوں کریں ؟
روزي کي تقسيم کے فرق ميں پوشيدہ حکمت
فلسفہ خمس
مکتب اہل بیت میںاجماع کی شرعی حیثیت
طلاق در اسلام
نبی شناسی
اصول فقہ میں سنت کی بحث

 
user comment