اردو
Wednesday 25th of November 2020
  70
  0
  0

اولیاء اللہ علیہم السلام سے توسل - 2

مادی اور روحانی مشکلات کے خاتمے کی غرض سے بارگاہ بارگاہ اولیاء اللہ سے توسل کا مسئلہ وہابیوں اور دنیا کے دوسرے مسلمانوں کے درمیان سب سے زیادہ اہم اختلافی مسئلہ ہے۔ وہابیوں کا عقیدہ ہے کہ نیک اعمال کے ذریعے خدا سے توسل میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اولیاء اللہ سے توسل جائز نہیں ہے۔

بقلم آیت اللہ مکارم شیرازی؛ تر

اولیاء اللہ علیہم السلام سے توسل - 2

گذشتہ سے پیوستہ

2۔ حضرت ابوطالب علیہ السلام کا کمسن بھتیجے سے توسل

دوسری حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بچپن کےایام سے متعلق ہے، جب حضرت ابوطالب علیہ السلام نے آپ (ص) سے توسل کیا۔ کچھ یوں ہے کہ ابن عساکر فتح الباری میں روایت کرتے ہیں:

مکہ میں خشکسالی پڑی تو قریش حضرت ابوطالب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: دشت و صحرا سوکھ گئے ہیں، قحط نے سب کچھ تہہ و بالا کردیا ہے، ہمارے ساتھ آئیں تاکہ مل کر بارگاہ خداوندی سے بارش کی دعا کریں:

ابوطالب علیہ السلام روانہ ہوئے جبکہ ایک بچہ بھی آپ (ع) کے ساتھ تھا (بچے سے مراد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات بابرکات ہے، جو ابھی طفل تھے) اس طفل کا چہرہ آفتاب کی مانند دمک رہا تھا؛ ابوطالب علیہ السلام نے آپ (ص) کو آغوش میں لیا ہوا تھا اور اسی حال میں اپنی پیٹھ دیوار کعبہ سے لگا لی اور اسی طفل سے توسل کیا ـ جبکہ آسمان پر بادلوں کا نام و نشان تک نہ تھا ـ یکایک آسان پر ہر طرف سے بادل امڈ آئے اور ایک دوسرے سے متصل ہوئے اور ایسی بارش برسی کہ دشت و صحرا سرسبز و شاداب ہوئے؛ اور ابوطالب علیہ السلام نے اسی مناسبت سے ایک قصیدہ کہا جس کا ایک شعر یہ تھا:

و أبيض يستسقي الغمام بوجهه ٭٭٭ ثمال اليتامى عصمة للأرامل (10)

ترجمہ: پروردگار عالم سے اس درخشندہ چہرے والے آبرومند کے رخ زیبا کے واسطے بارش طلب کی جاتی ہے۔ اور جو يتيموں كى پناہگاہ اور بيواؤں كا والى و وارث ہے۔

٭٭٭

3۔ نابینا مرد کا رسول اللہ (ص) سے توسل

ایک نابینا مرد جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دور رسالت میں آپ (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (ص) سے توسل کیا اور شفایاب ہوکر ایک بار پھر بصارت و بینائی کی نعمت سے بہرہ مند ہوا۔ یہ روایت صحیح ترمذی، سنن ابن ماجہ قزوینی، مسند احمد بن حنبل اور دیگر کتب میں نقل ہوئی ہے۔ (11) چنانچہ یہ حدیث سند کے لحاظ سے اہم ہے۔

حدیث کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

ایک اندھا مرد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے رسول خدا (ص)! خدا کی بارگاہ میں دعا فرمائیں کہ مجھے شفا دے اور مجھے میری آنکھیں لوٹا دے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا کرتا ہوں اور اگر چاہو تو صبر کرو (کہ شاید تمہاری مصلحت اسی میں ہو) لیکن مگر بوڑھے شخص نے اپنی درخواست پر اصرار کیا۔

آنحضرت (ص) نے اس شخص کو حکم دیا کہ جاکر مکمل وضو کرے اور دو رکعت نماز ادا کرے اور نماز کے بعد یہ دعا کرے:

"اَللّهم إنّي اسئَلُكَ و أتوجّه إليك بنبيك محمّد نبي الرحمة يا محمّد إنّي أتوجّه بك إلى ربّي في حاجتي لتُقضى، اللهم شَفِّعه فيَّ"۔

ترجمہ: بار الہا! میں تجھ سے التجا کرتا ہوں اور تیری طرف رخ کرتا ہوں تیرے نبی (ص) کے واسطے، جو پیغمبر رحمت ہیں، اے محمد (ص)، میں آپ کے واسطے سے اپنی حاجت میں، اپنے پروردگار کی جانب متوجہ ہوتا ہوں، تا کہ میری حاجت برآئے۔ خداوندا! تو محمد (ص) کو میرا شفیع قرار دے۔

نابینا مرد امر رسالت کی تعمیل کے لئے چلا گیا کہ وضو کرے، نماز پڑھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا سکھایا ہوا عمل انجام دے۔

اس حدیث کے راوی "عثمان بن عمیر" کہتے ہیں:

ہم اسی مجلس میں بیٹھے تھے اور آپس میں گفتگو کررہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ نابینا مرد ہماری مجلس میں داخل ہوا جبکہ اس کی آنکھوں میں نابینائی کا اثر تک دکھائی نہیں دے رہا تھا؛ اور اس کی آنکھیں روشن ہوچکی تھیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بہت سے اکابرین اہل سنت نے تأکید کی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے؛ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے؛ ابن ماجہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے؛ رفاعی نے کہا ہے کہ اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہيں ہے کہ یہ حدیث صحیح اور مشہور ہے۔ (12)

4۔ رسول اللہ (ص) سے توسل آپ (ص) کے وصال کے بعد

الدارمی نے اپی مشہور کتاب "سنن الدارمی" کے ایک مستقل باب "باب ما حكم الله تعالى نبيه (صلى الله عليه و آله) بعد موته" (یہ باب ان کرامات و احترامات کے بارے میں ہے جو اللہ تعالی نے رسول اللہ (ص) کے وصال کے بعد آپ (ص) کے حق میں روا رکھے ہیں)۔ میں کہتے ہیں:

مدینہ میں قحط پڑا اور لوگوں کی ایک جماعت ام المؤمنین عائشہ کے گھر پر حاضر ہوئی اور چارہ جوئی کی درخواست کی۔

عائشہ نے کہا: جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبر شریف کے اوپر چھت میں سوراخ کردو (())، یہاں تک کہ نیچے سے آسمان دکھائی دے اور نتیجے کا انتظار کرو۔

لوگوں نے جاکر چھت میں ایک سوراخ بنایا جس سے آسمان نظر آرہا تھا، اس کے بعد موسلادھار بارشیں ہوئیں، دشت و دمن سرسبز و شاداب ہوئے اور اونٹ موٹے تازہ ہوگئے۔ (13)

٭٭٭

5۔ رسول اللہ (ص) کے چچا عباس سے توسل

بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ ایک دفہ مدینہ میں قحط پڑا تو عمر بن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا عباس سے توسل کرک اللہ تعالی سے بارش کی التجا کی؛ دعا کی عبارت کچھ یوں تھی:

"اللّهم إنّا كنّا نتوسّل إليك بنبيّنا وتسقينا و إنّا نتوسّل إليك بعمّ نبيّنا فاسقنا"۔

ترجمہ: ہم تیری بارگاہ میں تیرے نبی (ص) کو وسیلہ قرار دیتے اور آپ (ص) سے توسل کیا کرتے تھے اور تو ہمارے لئے بارش برساتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا سے توسل کرتے ہیں، پس تو ہمارے لئے بارش برسا۔

راوی کہتا ہے کہ اس دعا کے بعد خوب خوب بارش ہوئی۔ (14)

٭٭٭

6۔ امام شافعی کا اہل بیت علیہم السلام سے توسل

ابن حجر مکی نے "صواعق المحرقہ" میں اہل سنت کے مشہور امام محمد بن ادریس شافعی سے روایت کی ہے کہ وہ اہل بیت علیہم السلام سے توسل کیا کرتے تھے اور پھر ان کے ان اشعار سے استناد کرتے ہیں:

آل النبى ذريعتى ٭٭٭ و هم اليه وسيلتى

ارجوا بهم اعطى غداً ٭٭٭ بيد اليمين صحيفتى

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خاندان میرا ذریعہ ہے

اور وہی اللہ تعالی سے میرے تقرب کا وسیلہ اور سبب ہے

ان ہی کے صدقے مجھے امید ہے کہ کل "قیامت کے دن"

میرا نامۂ اعمال میرے داہنے ہاتھ میں تھما دیا جائے۔

یہ روایت الرفاعی نے اپنی کتاب "التوصل الی حقیقة التوسل" میں نقل کی ہے۔ (15)

یہی مؤلف ـ جو توسل کے حوالے سے سخت گیر سمجھے جاتے ہیں ـ اہل سنت کے مختلف منابع سے 26 حدیثیں نقل کرتے ہیں؛ گو کہ ان کا اصرار ہے کہ ان میں سے بعض حدیثیں مخدوش اور ناقابل اعتماد ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری حدیثیں یا تو متواتر ہیں یا تواتر کے قریب ہیں اور اہل سنت کی معتبر اور مشہور کتابوں میں نقل ہوئی ہیں اور ایسی حدیثیں نہیں ہیں جن پر اعتراض جاسکے۔ ہم نے یہاں صرف بعض حدیثوں کا حوالہ دیا ورہ اس سلسلے میں احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

چند یادآوریاں (())

متعصب وہابی گروہ اپنے مقصود ـ یعنی صالحین سے توسل کرنے والے مسلمانوں کی تکفیر و تفسیق کے اثبات کے لئے، توسل کی مختلف شکلوں کی اجازت دینے والی مذکورہ بالا آیات و روایات کے مقابلے میں بہانہ تراشی کرتے ہیں، حقیقتاً بچوں جیسی بہانہ تراشی (()) کے مشابہ ہے۔

کبھی کہتے ہیں کہ ان بزرگوں اور صالحین کی ذات سے توسل منع ہے اور کے مقام و منزلت اور دعا اور شفاعت سے توسل جائز ہے۔ یہ جائز ہے مگر ان کی ذات سے توسل نہيں ہونا چاہئے۔

کبھی کہتے ہيں کہ ان بزرگوں سے توسل صرف ان کے ایام حیات کے دوران جائز ہے چنانچہ جب وہ دنیا سے منتقل ہوجاتے ہیں تو ان کا رابطہ ہم سے ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

" إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى'۔ (16) (یقینا آپ مردوں کو آواز نہیں سنا سکتے۔ (یا ان کو بات نہیں پہنچا سکتے))۔ آپ کا رابطہ مردوں سے منقطع ہوا ہے۔

لیکن اس قسم کی بہانہ تراشی واقعی شرمناک ہے؛ کیونکہ:

اولاً: قرآن مجید کا حکم عام ہے اور اس کے عموم یا اطلاق کا تقاضا ہے کہ ہم توسل کی وہ تمام قسمیں ـ جو توحید فی العبادہ (عبادت و بندگی میں توحید) اور توحید فی الافعال (افعال میں توحید) کے منافی نہ ہوں ـ جائز سمجھیں۔ قرآن مجید کا فرمان ہے: "وابتغوا اليه الوسيلة" ، اور ہم نے کہا کہ وسیلہ خدا کے تقرب کا سبب اور واسطہ ہے۔

جی ہاں! ہر اس چیز اور ہر اس امر کا انتخاب کرو جو خدا کے تقرب کا وسیلہ ہو، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعا، آپ (ص) کی شفاعت، منزلت اور مرتبت اور آپ (ص) کی ذات با برکات ـ جو اطاعت و بندگی اور صفات عالیہ کے بموجب بارگاہ الہی ميں مقرب ہے ـ کے ذریعے سے قربت الہی حاصل کرو؛ لہذا "وسیلے" کو انسان کے اپنے عمل تک محدود کرنا، جیسا کہ وہابیوں کے دعؤوں اور عقائد میں آیا ہے ـ کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

کیونکہ نہ تو "عبادت میں توحید" مخدوش ہوئی ہے ـ کیونکہ ہم صرف خدا کی پرستش کرتے ہیں، پیغمبر (ص) کی نہیں ـ، اور نہ ہی "توحید افعالی" کو کوئی دھچکا لگا ہے ـ کیونکہ ہمارا اعتقاد ہے کہ جو سود و زیاں کا منشأ صرف خدا کی ذات ہے اور ـ جس شخص کے پاس جو کچھ بھی ہے، خدا کی جانب سے ہے، اور اسی کے وسیلے سے ہے۔

قرآنی آیات میں موجودہ عموم و اطلاق کو مد نظر رکھتے ہوئے، ہمیں کیا توقعات ہوسکتی ہیں؟ یہ بالکل اسی طرح ہے جو قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:

"فَاقْرَؤُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ"۔ (17)

ترجمہ: تو پڑھو قرآن میں سے جتنا کہ میسر اور آسانی کے ساتھ ممکن ہے۔

اگر ہم بہانہ تراشی کی راہ اپنائیں اور کہہ دیں: کیا حالت قیام میں قرآن کی تلاوت جائز ہے یا نہيں؟ لیٹ کر تلاوت قرآن کا کیا حکم ہے؟

اب عمومِ آیت (اور اس کے اطلاق) کا تقاضا یہ ہے کہ تلاوت کی تمام قسمیں اور تمام حالتیں جائز ہیں: حضر میں، سفر میں، وضو کے ساتھ، بغیر وضو کے، (کھڑے ہوکر، بیٹھ کر یا لیٹ کر) قرآن کی تلاوت کی جاسکتی ہے، سوائے اس صورت میں کہ کوئی حکم، اس عموم (یا عمومیت) کے خلاف وارد ہوجائے۔

قرآن کے تمام عمومات اور اطلاقات (18) قابل قبول ہیں جب تک کہ انہیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ توسل کی آیات بھی عام ہیں اور آیات قرآنی کا عموم قبول عام ہے اور جب تک مانع (تخصیص یا استثنی نہ ہو، ہم ان کے مطابق عمل کرتے رہیں گے اور بہانہ تراشیاں درست نہیں ہیں۔

ثانیاً: توسل کے بارے مین وارد ہونے والی روایات ـ جن میں سے بعض روایات پچھلے صفحات پر نقل ہوئیں ـ اتنی متنوع اور گوناگوں ہیں کہ ہر قسم کے توسل کی اجازت دے رہی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات سے توسل ـ جیسا کہ نابینا شخص کے قصے میں بیان ہوا ـ آپ کی قبر شریف سے توسل ـ جیسا کہ روایات میں مذکور ہے۔ (19)؛ آپ (ص) کی دعا اور شفاعت سے توسل ـ جیسا کہ دوسری روایات میں نقل ہوا ہے ـ ان متنوع، گوناگوں اور مختلف روایات اور توسل کی مختلف اشکال کے ہوتے ہوئے ان بہانہ تراشیوں کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

ثالثاً: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات بابرکات سے توسل درحقیقت کیا ہے؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہماری نظر میں قابل احترام کیوں ہیں اور ہم آپ (ص) کو بارگاہ خداوندی میں شفیع کیوں قرار دیتے ہیں؟

سبب یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بڑی وسیع طاعات و عبادات اور عمیق بندگی اور خالصانہ عبادت کے اعلی مراتب فائز ہیں۔ پس آپ (ص) سے ہمارا توسل، آپ (ص) کی طاعتوں، عبادات اور اعمال و افعال سے توسل ہے؛ اور یہ وہی چیز ہے جو متعصب وہابی کہتے ہیں کہ "اعمال و طاعات سے توسل پر کوئی قدغن نہیں ہے"، پس یہ ایک لفظی جھگڑا ہے (ورنہ توسل درست ہے)۔

حیرت و تعجب کا سبب یہ نکتہ ہے کہ بعض وہابی آنحضرت (ص) کی "برزخی حیات" تک کا انکار کرتے ہیں اور آپ کے وصال کو (معاذاللہ) کفار کی موت کے برابر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید شہداء کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

"بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (20) (بلکہ وہ زندہ ہیں اور خدا کی بارگاہ میں رزق پاتے ہیں)؛ اور ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا رتبہ شہداء سے کمتر ہے؟ (20) اور پھر تم سب اپنی نمازوں میں رسول اللہ کو سلام کرتے ہو، چنانچہ اگر (تمہارا دعوی درست ہے اور) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم متوسلین کا توسل وصول نہیں کرسکتے، تو پھر تمہارا سلام بھی مہمل و بےمعنی ہے! (خدا کی پناہ! اندھے، بہرے تعصب سے، کہ انسان کو کن کن وادیوں میں بھٹکا دیتا ہے)۔

البتہ خوشی کی بات ہے کہ ان میں سے بعض لوگ آپ (ص) کی برزخی حیات کے قائل ہیں، اور ان لوگوں کو اپنے اس عقیدے کی بنا پر اپنا اعتراض واپس لینا چاہئے۔

2۔ غلاة اور انتہا پسند

ہم افراط و تفریط کے قائل دو گروہوں کے وسط میں قرار پائے ہیں۔ ایک طرف سے وہ لوگ ہیں جو توسل کے سلسلے میں تقصیر و تفریط کی راہ پر گامزن ہوکر (اور مقصر بن کر) بہانوں کا سہارا لیتے ہیں اور جس توسل کو قرآن و سنت جائز قرار دیا ہے، اس کو جائز نہيں سمجھتے اور ان کا وہم و گماں ہے کہ گویا توسل سے ان کا انکار، یکتا پرستی اور عقیدہ توحید میں ان کے اعلی مراتب و مدارج کی دلیل ہے حالانکہ یہ لوگ خطا و اشتباہ میں مبتلا ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اطاعت، عبادت، اعمال اور بارگاہ الہی میں تقرب کی بنا پر اولیاء اللہ سے توسل، درحقیقت توحید اور یکتا پرستی پر تاکید ہے اور اس حقیقت کی دلیل ہے کہ اولیاء اللہ سے توسل کرنے والے در حقیقت سب کچھ اللہ سے مانگنے کے قائل ہیں۔

دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو افراط اور زیادہ روی کی راہ پر گامزن ہیں۔ بے شک ان غالیوں کا خطرہ اول الذکر گروہ کے خطرے سے کسی وجہ سے بھی، کم نہيں ہے۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو "افعالی توحید" سے سازگار نہیں ہیں؛ حالانکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ:

"لا مؤثرَ في الوجود الا الله"

ترجمہ: کوئی بھی چیز (یا شخص) عالم وجود میں مؤثر نہیں ہے سوائے اللہ کے۔

عالم وجود میں حقیقی مؤثر اللہ تعالی کی ذات ہے اور جس کے پاس جو بھی ہے اللہ کی جانب سے ہے۔ چنانچہ ہمیں رہ صرف "صحیح توسل" کے مخالفین کا مقابلہ کرنا یا راہنمائی کرکے انہیں خطاؤں سے روکنا چاہئے بلکہ غالیوں کے گروہوں کی راہنمائی کرکے انہیں بھی صحیح راستے پر لوٹا چاہئے۔

درحقیقت، کہا جاسکتا ہے کہ توسل کے منکرین کے ظہور کی ایک وجہ توسل کے بعض حامیوں کی زیادہ روی اور غُلُوّْ ہے۔ جب یہ لوگ افراط کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں تو ان کے مقابلے میں تفریطیوں اور منکرین و مقصرین کا ظہور ایک فطری امر ہے؛ یہ تمام اعتقادی، سیاسی اور سماجی مسائل میں ایک قانون کی حیثیت رکھتا ہے کہ یہ دو منحرف جماعتیں ایک دوسرے کے لازم و ملزوم تھے، ہیں اور ہونگے اور یہ دونوں جماعتیں خطاکار ہیں۔

٭٭٭

3۔ صرف توسل ہی کافی نہیں ہے

ہمیں لوگوں کو یہ بات سمجھانی پڑے گی کہ محض اولیاء اللہ اور صالحین سے توسل پر ہی قناعت نہ کریں۔ اصولی طور پر توسل ہمارے لئے درس ہے۔ ہم کیوں ان سے توسل کرتے ہیں؟ کیونکہ بارگاہ خداوندی میں عزیز اور صاحب آبرو ہیں؛ وہ کیوں آبرومند ہیں؟ اعمال صالحہ کی وجہ سے۔ پس ہمیں (خود بھی) اعمال صالحہ کی جانب قدم بڑھانا چاہئے۔ توسل ہمیں درس دیتا ہے کہ اللہ کی قربت صرف اعمال صالحہ کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور اولیاء اللہ سے توسل کا بنیادی سبب ان کے نیک اور صالح اعمال ہیں۔ وہ خدا کی بارگا میں مقرب ہوئے اور ہم ان سے درخواست کرتے ہيں کہ بارگاہ پروردگار میں ہماری شفاعت کریں۔ پس ہمیں بھی کوشش کرنی چاہئے کہ اسی راستے پر گامزن ہوں جو انھوں نے طے کیا ہے۔

توسل کو ایک انسان ساز مکتب اور انسانوں کی تربیت کے لئے ایک اہم اور مؤثر درسگاہ میں تبدیل ہونا چاہئے؛ ایسا ہرگز نہيں ہونا چاہئے کہ ہم توسل میں ہی متوقف ہوجائیں اور توسل کے اعلی اہداف و مقاصد کو فراموش کر بیٹھیں۔ یہ نہایت اہم نکتہ ہے اور ہم سب کو اس کی جانب متوجہ رہنا چاہئے۔

4۔ تکوینی(22) امور میں توسل

ایک نکتہ یہ ہے کہ عالم اسباب میں توسل، تشریعی امور میں بھی ہوتا ہے اور تشریعی امور میں بھی اور توسل کی یہ دونوں قسمیں توحید اور یکتاپرستی کے لئے رکاوٹ نہيں ہیں۔ ہم جب مطلوبہ نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اپنی طبیعی زندگی میں اسباب کا سہارا لیتے ہیں، زمین میں ہل چلاتے ہیں، بیج بوتے ہیں، آب پاشی کرتے ہیں، کیڑے مکوڑے ختم کرنے کے لئے دوائیں استعمال کرتے ہیں، (مختلف کھادوں کا استعمال کرتے ہیں)، موقع پر فصل کی کٹائی کا اہتمام کرتے ہیں اور حاصل ہونے والے اناج پر گذر بسر کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنے سارے اسباب سے توسل ہمیں اللہ کی یاد سے غافل کردیتا ہے؟ کیا یہ عقیدہ ـ کہ زمین پودوں کے بیج کو کو اگاتی ہے، یا سورج کی روشنی اور حرارت اور بارش کے حیات بخش قطرے بیج، پودوں، بھولوں اور پھلوں کی پرورش کرتے ہیں؛ اور اس عالم اسباب کا یقین کرنا ـ "توحید افعالی" (افعال میں یکتا پرستی کے عقیدے) سے متصادم ہے؟ یقیناً یہ عقیدہ توحید افعالی کے منافی نہيں ہے؛ کیونکہ ہم عالم اسباب کی طرف ضرور جاتے ہیں (ان کو وسیلہ قرار دیتے اور ان سے توسل کرتے اور ان پر یقین رکھتے ہیں) تاہم ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ صرف اللہ کی ذات "مسبب الاسباب" ہے۔

چنانچہ جس طرح کہ طبیعی اسباب سے توسل اصول توحید کے منافی نہیں ہیں اور "اين همه آوازها از شه بود"، (یہ سب آوازیں شاہ کی ہی ہیں)، عالم تشریع میں بھی انبیاء و اولیاء اور معصومین سے توسل، اور ان سے بارگاہ خداوندی میں شفاعت کی درخواست، اصول توحید کے منافی نہيں ہیں۔

البتہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایک انتہا پسند گروہ ظہور پذیر ہوا ہے جو عالم اسباب کا بھی انکار کردیتا ہے۔ اس گروہ کا وہم ہے کہ گویا عالم اسباب پر یقین، "توحید افعالی" کے منافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "یہ آگ نہيں ہے جو جلاتی ہے بلکہ جب آگ کسی چیز کے قریب پہنچتی تو خدا خود ہی اس چیز کو جلا دیتا ہے؛ یا پانی آگ کو نہیں بجھاتا بلکہ پانی آگ پر پھینکتے ہیں اللہ خود ہی آگ کو بجھا دیتا ہے؛ اور اس طرح یہ لوگ علت و معلول (اور سبب اور مُسَبَّب) کے درمیان رابطے کا انکار کردیتے ہیں؛ جبکہ علت و معلول کا تعلق عالم خلقت میں بدیہیات اور مسلمات میں سے ہے۔

حالانکہ قرآن مجید صراحت کے ساتھ عالم اسباب کو تسلیم کرتے ہوئے فرماتا ہے:

ہم بادل بھیجتے ہیں، یہ بادل پیاسی زمینوں کو سیراب کردیتے ہیں اور ان کے توسط سے مری ہوئی زمینیں زندہ ہوجاتی ہیں؛

"فَيُحْيي به الاَْرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا"۔ (23)

ترجمہ: تو اس سے زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد۔

"يُحْيي به" یعنی بارش کے ان قطروں کے ذریعے (اور ان کے وسیلے سے) زمین کو حیات اور زندگی بخشتا ہے۔

عالم اسباب کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں نازل ہونے والی آیات کی تعداد زیادہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کی اپنی کوئی حیثیت نہيں ہے اور ان کے پاس اپنی ذاتی طاقت اور ذاتی اختیار نہیں ہے بلکہ ان کے پاس جو کچھ بھی ہے اللہ تعالی کی جانب سے ہے۔ خدا نے ان اسباب کو یہ آثار عطا کئے ہیں۔

جس طرح کہ طبیعی اور فطری اسباب کے منکرین غفلت زدہ اور خطاکار ہیں عالم تشریع میں بھی اسباب کا انکار کرنے والے لوگ، خطاکار ہیں۔

ہمیں امید ہے کہ اس کتاب میں مندرجہ حقائق کو مدنظر رکھ کر یہ لوگ تعصبات کو ترک کردیں اور صحیح راستے کا انتخاب کریں اور اس طرح تکفیر و تفسیق کا سلسلہ بند کریں تا کہ دنیا کے مسلمان متحد ہوسکیں اور متحد ہوکر ان دشمنوں کے مد مقابل صف آرا ہوجائیں جنہوں نے اسلام، قرآن اور اللہ کو اپنی یلغار کا نشانہ بنایا ہوا ہے؛ اور سب مل کر اسلامی تعلیمات کو ہر قسم کے شرک، ہر قسم کی زیادہ روی اور غلو اور ہر قسم کی کوتاہی اور کمی و نقصان سے خالص کرکے دنیا میں بسنے والے انسانوں کے سامنے رکھیں۔

اختتام

ناصر مکارم شیرازی

شعبان المعظم 1426 ہجری قمری ـ

شہریور 1384 ہجری شمسی ـ

بمطابق ستمبر 2005۔

کتاب کا اردو ترجمہ 2006 کے ابتدائی مہینوں میں مشہد مقدس میں انجام پایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات و توضیحات:

10۔ فتح البارى، جلد 2، صفحه 494 و همچنين سيره حلبى، جلد 1، صفحه 116۔ حضرت ابوطالب علیہ السلام جانتے تھے کہ آپ (ع) کے بھتیجے آخر الزمان کے پیغمبر ہیں اور ان کہ شعر بھی اسی بات کی غمازی کرتا ہے کہ دُرِّ یتیم کے یہ سرپرست اور امت کے یہ محسن مؤمن قریش نیک خصال مرد، صاحب کرامات تھے اور تاریخ نے دیکھا کہ آنحضرت واقعی یتیموں کا ملجأ تھے اور پیواؤں کے محافط۔/مترجم

11۔ صحيح ترمذى، صفحه 119، حديث 3578 و در سنن ابن ماجه، جلد 1، صفحه 441، حديث 1385، مسند احمد، جلد 4، صفحه 138۔

12۔ مزید تفصیل کے لئے "مجموعۃالوسائل و المسائل" مطبوعہ بیروت جلد 1 صفحہ 18 سے رجوع کریں۔ اس کتاب میں ابن تیمیہ کی عبارت کچھ یوں ہے: "ان النسائى و الترمذى روياً حديثاً صحيحاً أنّ النبى(صلى الله عليه وآله) علّم رجلا ان يدعو فيسأل الله ثم يخاطب النبى فيوسّل به ثم يسأل الله قبول شفاعته"، نسائی اور ترمذی نے ایک صحیح روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے ایک مرد کو دعا کی تعلیم دی پس اس نے خدا کی بارگاہ میں التجا کی اور پھر نبی (ص) کو مخاطَب قرار دے کر آپ (ص) کے واسطے سے خدا سے التجا کی اور پھر اللہ تعالی سے رسول اللہ (ص) کی شفاعت کی قبولیت کی التجا کی۔

13۔ سنن دارمی ـ عبداللہ بن بہرام الدارمی ـ جلد 1 صفحه 43۔

14۔ صحيح بخارى، جلد 2، صفحه 16، باب صلاة الاستسقاء۔

15۔ التوصل الی حقیقة التوسل ـ الرفاعي - صفحه 329۔

16۔ سورہ نمل آیت 80 ... حقیقت یہ ہے کہ آس آیت میں مُردوں سے مراد وہ کفار و مشرکین وغیرہ ہیں جو صدائے ہدایت سننے کے لئے تیار نہیں تھے: "مجمع الملك فهد بطباعة المصحف الشريف" کی جانب سے (1417 هجري میں) طبع شدہ قرآن مجید کا اردو ترجمہ و تفسیر (بقلم مولانا محمد جونا گڑھی) میں اس آیت کی تفسیر کچھ یوں بیان ہوئی ہے: یہ ان کافروں کے پروا نہ کرنے اور صرف اللہ پربھروسا رکھنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ مردہ ہیں جو کسی کی بات سن کر فائدہ نہيں اٹھا سکتے یا پہرے ہیں جو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اور نہ راہیاب ہونے والے ہیں؛ گویا اللہ نے کافرون کو مردوں سے تشبیہ دی ہے جن میں حس ہوتی ہے نہ عقل... (تفسیر محمد جونا گڑھی قرآن کا صفحہ 1064)۔/ مترجم

17۔ سورہ مزمل آیت 20۔

18۔ عموم و اطلاق کی مثال سورہ مزمی کی پہلی اور دوسری آیتوں میں موجود ہیں جہاں فرمایا گیا ہے: "يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ٭ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا۔ اے کپڑوں میں لپیٹ کر لیٹنے والے ٭ رات نماز میں گزاریے مگر کچھ تھوڑا حصہ) اس حکم میں اطلاق یا عموم ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ "پوری رات حالت قیام میں رہو اور عبادت کرو"، مگر پھر ایک مانع آتا ہے جس کو استثنی کہتے ہیں: "الا قلیلاً" (=مگر کچھ تھوڑا حصہ)؛ اب اس کے معنی یوں بنتے ہیں: رات کے بیشتر حصے میں قیام کرو سوائے تھوڑے سے حصے کے؛ اور یوں یہ عموم یا اطلاق استثنی کی وجہ سے عموم یا اطلاق نہ رہا۔/مترجم

19۔ قبر شریف سے توسل کی روایت دارمی نے اپنی سنن کی جلد 1 صفحه 43 میں نقل کی ہے کہ جب قحط پڑا تو عائشہ نے لوگوں سے کہا کہ رسول اللہ (ص) کی قبر شریف کے اوپر چھت میں سوراخ کردیں الی آخر.../ مترجم

20۔ سورہ آل عمران آیت 20۔

21۔ شہداء رسول اللہ (ص) کی اطاعت کی برکت سے مقام شہادت پر فائز ہوتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ (ص) کا رتبہ شہداء کے رتبے سے کمتر ہو؟ حمزہ بن عبدالمطلب آپ کے رکاب میں شہید ہوکر سیدالشہداء قرار پاتے ہیں، جعفر بن ابیطالب آپ (ص) کے رکاب میں شہید ہوکر طیار و ذوالجناحین قرار پاتے ہیں اور امام حسین (ع) آپ (ص) کے دین کے تحفظ میں شہادت پاکر سیدالشہداء قرار پاتے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ آپ (ص) کا رتبہ شہداء سے کمتر ہو؟/مترجم

22ـ عالم تکوینی یعنی انسان سے اختصاص پانے والے کسی بھی قاعدے و قانون کو ملحوظ رکھے بغیر؛ مخلوقات کی دنیا، یعنی یہی عالم جس میں ہم رہتے ہیں "فعل الہی کی دنیا"؛ "عالم تشریعی یعنی دین الہی کے قوانین و ضوابط کی دنیا، جو انسان کے ارتقاء کے لئے اسی تکوین کے ضمن میں، لباس وجود زیب تن کئے ہوئے ہے یعنی ان ہی معلومات کی دنیا اور اسی امر و نہی کی دنیا جو وحی الہی سے فیض حاصل کرتی ہے۔ یعنی وحی کے ذریعے حاصل ہونے والے ـ انسان سے متعلق ـ قوانین و ضوابط و مقررات کی دنیا"۔

23ـ سورہ روم آیت 24۔ مکمل آیت: وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاء مَاء فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ۔ ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ دکھاتا ہے تمہیں بجلی ڈر اور آسرے کے لئے اور آسمان سے پانی برساتا ہے۔ تو اس سے زندہ کرتا ہے۔ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد یقینا <اس میں نشانیاں ہیں ان کے لئے جو عقل سے کام لینے والے ہیں>۔

 


source : www.abna.ir
  70
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

شیطان کی قید، ماہِ رمضان المبارک میں کیا حقیقت ہے؟
صلح امام حسن (ع) کیوں؟ صلح کے ثمرات
حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
کیا یا علی مدد کہنا جائز ہے
اولوالعزم پیغمبر کون ہیں؟
حدیث سفینہ میں اہل بیت سے مراد کون لوگ ہیں؟
خلقت ميں حسن اور قبح ساتھ ساتھ کيوں؟
خاتمیت انسانی تدریجی ترقی کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہے؟
اخلاق کسے کہتے ہیں؟
کیا خدا وند عالم کے وعد و عید حقیقی ھیں ؟

 
user comment