اردو
Friday 6th of August 2021
392
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

سورۂ رعد کي آيت نمبر 13-11 کي تفسير

سورۂ رعد کي آيت  نمبر  13-11 کي تفسير


لہ معقّبات مّن بين يديہ و من خلفہ يحفظونہ من امراللہ انّ اللہ لايغيّر ما بقوم حتّي يغيّروا ما بانفسہم و اذا اراد اللہ بقوم سوء فلا مردّ لہ و ما لہم مّن دونہ من وّال "ہر شخص کے لئے اس کے پہرے دار( فرشتے) اس کے آگے پيچھے مقرر ہيں جو اللہ کے حکم سے اس کي نگہباني کرتے ہيں، اس ميں کوئي شک نہيں اللہ کسي بھي قوم کي حالت ( اس وقت تک ) تبديل نہيں کرتا کہ جب تک وہ خود اپني حالت ميں تبديلي نہ لائيں اور جب اللہ تعالي کسي قوم کو سزا دينے کا فيصلہ کرليتا ہے تو اس کو بدلا نہيں جا سکتا اور اس کے سوا کوئي ان کا حامي و پشتپناہ نہيں ہے -
اس بات کي طرف متوجہ کرنے کے بعد کہ خدا اپني مخلوقات کے تمام ظاہر و باطن سے آگاہ ہے اور روز و شب کھل کر يا چھپ کر جو کچھ بھي انسان کہتا ، سنتا اور کرتا ہے خدا سے کچھ بھي مخفي نہيں ہے اب اس آيت ميں اللہ نے اپنے بندوں کو اس بات کي طرف بھي متوجہ کيا ہے کہ ہر شخص کے آگے پيچھے اللہ نے اپنے محافظ و نگہبان معين کررکھے ہيں جو خدا کے حکم کے مطابق انسان کي حفاظت و نگہباني کرتے ہيں کيونکہ انسان جو جسم و روح سے مرکب ہے اپنے جسم و روح اور اس کے متعلقات کو گرد و پيش بکھري ہوئي موت و حيات ، فوائد و نقصانات ، ظواہر و غائبات اور حادثات و اتفاقات سے خود ذاتي طور پر مامون و محفوظ رکھنے کي قوت و صلاحيت نہيں رکھتا - خداوند عالم کي ذات والا صفات ہے جو اس کے تمام حاضر و غائب آثار کي حفاظت کرتا ہے شوري کي چھٹي آيت ميں " اللہ حفيظ عليہم----" کہ اللہ ان کي حفاظت کرتا ہے اور سباء کي اکيسويں آيت ميں " و ربّک علي کلّ شيء حفيظ----" کہ تمہارا پروردگار ہэيز کا محافظ و نگہبان ہے يا سورۂ انفطار کي دسويں آيت ميں " و انّ عليکم لحافظين " کہ يقينا" تم پر نگراں مقرر ہيں - اسي بات کي طرف تاکيد کي گئي ہے - ملائکہ بھي خدا کے حکم سے نگراني کرتے ہيں -اب اس کے بعد خدا فرماتا ہے کہ قوموں کے حالات جب تک کہ وہ خود اپنے نفساني حالات ميں تبديلي نہ لائيں اللہ نہيں بدلتا مطلب يہ ہے اللہ نے اگэہ ہر شخص کے لئے نگراں اور محافظ معين کئے ہيں کہ وہ ان کو ہلاکت سے بچائيں اور جب وہ خود کو دگرگوں کرنا چاہيں تو ان کي حفاظت کريں ليکن اللہ کي سنت يہ ہے کہ وہ کسي بھي قوم کي موجودہ حالت ميں اس وقت تک تبديلي پيدا نہيں کرتا کہ جب تک وہ خود اپني نفساني حالت کو نہ بدليں لہذا حالات کي تبديلي کے لئے لوگوں کو خود اپنے آپ کو بدلنا ہوگا مثلا شکرگزاري سے کفران نعمت پر اتر آئيں ، اطاعت سے بغاوت پر کمربستہ ہوجائيں، ايمان سے شرک کي طرف مائل ہوجائيں تو اس صورت ميں خدا بھي اپني نعمت کو عذاب و عقوبت ميں بدل ديتا اور گمراہي و ضلالت کي راہ پر لگا ديتا ہے ليکن جس وقت تک قوم اپني فطرت پر باقي رہ کر ايمان ميں استقامت دکھاتي ارو عمل صالح انجام ديتي ہے، اللہ اس کے حق ميں اپني نعمتوں کي فراواني کرتا رہتا اور اس کي دنيا و آخرت کو سنوارتا رہتا ہے گويا تمام اچھے برے حالات خدا کے قبضۂ قدرت ميں ہيں اور حکم خدا سے کوئي بھي قوم مفر اختيار نہيں کرسکتي، البتہ اللہ کسي بھي قوم کي حالت ميں اسي وقت تبديلي لاتا ہے جب وہ اپني نفساني حالت ميں خود تبديلياں لاتي ہيں اور جب تبديلي لاتا ہے تو کوئي بھي اللہ کے ارادہ اور فيصلے ميں رکاوٹ نہيں ڈال سکتا -سورۂ ابراہيم(ع) کي ساتويں آيت ميں اسي بات کي طرف اشارہ ہے :
"لئن شکرتم لازيدنّکم و لئن کفرتم انّ عذابي لشديد" يعني اگر تم نے شکر سے کام ليا تو ہم يقينا" تمہاري نعمتوں ميں اضافہ کرديں گے اور اگر کفر سے کام ليا تو ہمارا عذاب بھي بہت سخت ہوگا چنانچہ انسانوں کي سرنوشت ميں تبديلي خود انسانوں کے ہاتھ ميں ہے اگر کسي معاشرے ميں برائياں پھيلي ہوئي ہيں اور ظلم و ستم حکمراں ہے تو قوم کو اس صورت حال سے نجات اسي وقت ملے گي جب قوم خود اس حالت سے نجات کے لئے کوشش و تلاش کرے، الہي معجزے کے انتظار ميں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بيٹھے رہنے سے قوم کے حالات نہيں بدل سکتے -
اور اب سورۂ رعد کي آيات 12 اور 13 "ہو الّذي يريکم البرق خوفا وّ طمعا وّ ينشيء السّحاب الثّقال و يسبّح الرّعد بحمدہ و الملائکۃ من خيفتہ و يرسل الصّواعق فيصيب بہا من يّشاء و ہم يجادلون في اللہ و ہو شديد المحال"وہي تو وہ ( اللہ) ہے جو ( آسمان سے چمکنے والي ) بجلي کي چمک ، تم کو ڈرانے اور للچانے يا اميدوار بنانے کے لئے دکھاتا ہے اور گہرے بادلوں کو وجود عطا کرتا ہے ( بادلوں کي ) گرج اسي کي حمد و تسبيح کرتي ہے اور فرشتے (بھي) اسي کے خوف سے ( تسبيح) کرتے ہيں وہي بجلياں گراتا ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اس کو بھسم کردے جبکہ يہ ( کفار) اللہ کے سلسلے ميں جھگڑتے ہيں اور بحث کرتے ہيں يقينا" وہ بڑي ہي عظيم قوت والا ہے -رعد و برق کي گرج اور چمک اور بادلوں کي حرکت اور برف و باران يہ سب کچھ خداوند سبحان کي قوت و قدرت کي جلوہ گري ہے جو صاحبان عقل و بصيرت کو اپنے خالق و پروردگار کي عظمت و جلالت کي طرف متوجہ کرنے کا ايک وسيلہ ہے بادلوں کي گرج اور تڑک اور بجليوں کي چمک اور دمک انسان کو ايک طرف ڈراتي اور خوف زدہ کرتي ہے تو دوسري طرف ايک نئي حيات کي پيغامبر کے عنوان سے اپنے اللہ کي حمد و ستائش پر ابھارتي اور مستقبل کي طرف سے اميدوار بناتي ہے اور بے ساختہ طور پر" ويسبّح الرّعد بحمدہ " کے الفاظ زبان پر جاري ہوجاتے ہيں اور يہ حمد و ستائش صرف انسان سے مخصوص نہيں ہے بلکہ فرشتے بھي زبان حال سے خدا کي حمد و تسبيح کرتے ہيں کہ انہيں اللہ نے جن کاموں پر لگايا ہے " بحمداللہ" ان ميں کہيں کوئي خلل اور مشکل ايجاد نہيں ہوئي اور الہي خوف و خشيت انہيں بھي خدا کي تسبيح پر مجبور کرديتا ہے چنانچہ خدا کي جانب سے بھي يقين دہاني کرائي گئي ہے کہ يہ بجلياں صرف ان ہي کو اپنا نشانہ بناتي ہيں کہ جن کے بارے ميں اللہ نے قہر و غضب کا فيصلہ کرليا ہے اللہ کي اجازت کے بغير بجلياں اور گہرے بادل کسي کو اپنا نشانہ نہيں بناتے پھر بھي کيا کفار و مشرکين کي عقل ماري گئي ہے کہ وہ اللہ کے بارے ميں بحث و جدل سے کام ليتے ہيں ؟ کيا وہ قدرت الہي کي گونج اور درخشندگي کو زمين و آسمان کے ساکنوں کے لئے مايۂ حيات نہيں سمجھتے؟ اور کيا يہ گرج اور تڑک ايک حکيم مطلق کے وجود کي نشاني نہيں ہے ؟ کيا وہ قدرت کے اس عمل کو بھي محض نيچر کي کارستاني سمجھتے يا اس قدرت نمائي ميں بھي کسي کو اللہ کا شريک و سہيم قرار ديتے ہيں ؟! اور اب زير بحث آيات سے جو سبق ملتے ہيں ان کا ايک خلاصہ: عالم فطرت ميں رونما ہونے والے بعض خطرات سے حفاظت و پاسباني کے لئے اللہ نے خود اپني طرف سے انتظام کئے ہيں خود اللہ اور اس کے فرشتے انسان کوقدرتي بلاؤں سے محفوظ رکھتے ہيں حتي اگر موت حتمي نہ ہو تو الہي انتظامات ( دعاؤ مناجات، دواؤ علاج اور صدقہ ؤ خيرات) کے تحت موت سے بھي انسان کو نجات مل سکتي ہے - کسي بھي قوم اور معاشرے کے مقدرات جب تک خود قوم تلاش و کوشش نہ کرے خدا تبديل نہيں کرتا نيکوکار معاشرے الہي لطف و رحمت اور بدکار معاشرے الہي قہر و غضب کا شکار بنتے ہيں يہ ايک الہي سنت ہے -اس کو بدلا نہيں جا سکتا عالم تخليق ميں قدرتي اسباب و علل کي شناخت ايمان و معرفت ميں اضافے کا باعث بنتي ہے لہذا جديد سائنسي علوم، مذہب کے مخالف نہيں ہيں بلکہ مذہبي عقائد ميں اور زيادہ قوت و استحکام کا باعث بنتے ہيں - صرف انسان ہي نہيں پورا عالم ہستي خدا کي حمد و تسبيح ميں مشغول ہے مگر کبھي کبھي نافرماني اور ناشکري کے تحت آدمي اپنا يہ رشتہ عالم فطرت سے توڑليتا ہے - رعدو برق ، سэشمہ رحمت ہے مگر ممکن ہے کسي کے لئے باعث عذاب بن جائے -
بشکريہ آئي آر آئي بي


source : www.tebyan.net
392
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

تلاوت قرآن کی کیفیت
روزہ کا فلسفہ اہلبيت (ع) کي نگاہ ميں
تذکرہ موت قرآن ميں
ایمان ابو طالب: مخالفین کے دلائل کا تجزیہ
امام مہدی (عج) قرآن و حدیث کی روشنی میں
قرآن مجید اور ازدواج
دعا،اُمید اور عمل
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت
مصائب امام حسین بیان کرنے کا ثواب
امامت کے بارے میں دو مشخص نظریے ہیں

 
user comment