اردو
Sunday 20th of June 2021
563
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

امام سجاد (ع) کا خطبہ اور یزید کی پشیمانی کا افسانہ

امام سجاد (ع) کا خطبہ اور یزید کی پشیمانی کا افسانہ

امام سجاد علیہ السلام نے اپنا تعارف کرایا اور امامت و رسالت کا شجرہ نامہ بیان کیا اور اس قدر اپنا تعارف کرانے میں بلاغت کے جوہر جگادیئے کہ حاضرین بآواز بلند رونے لگے۔ یزید خوفزدہ ہوا کہ کہيں عوام اس کے خلاف انقلاب نہ کردیں چنانچہ اس نے مؤذن کو اذان کا حکم دیا اور وہ ہوا جو بیان ہوا اور امام (ع) نے خوابیدہ ذہنوں کو جگا دیا۔

امام سجاد (ع) کا خطبہ اور یزید کی پشیمانی کا افسانہ

کربلا کے پیامبر حضرت امام سجاد علیہ السلام کی حیات طیبہ کے درخشان ترین صفحات میں سے ایک، وہ خطبہ ہے جو آپ (ع) مسجد اموی میں دیا۔
امام سجاد علیہ السلام بظاہر اسیر تھے لیکن قید و بند سے رہا مدعی بھی جہاد کے وہ مدارج طے کرنے کا تصور نہيں کرسکتے جو آپ (ص) نے غل و زنجیر میں طے کئے اور اسی جہاد کا ایک اور مرحلہ طے کیا جو سیدالشہداء علیہ السلام نے کربلا میں اپنی اور اپنے اصحاب و اولاد کی قربانی دے کر شروع کیا تھا۔ آپ (ع) نے اس دن شام کی سلطنت میں وہ حیرت انگیز انقلاب بپا کیا جس کا نہ اہل شام تصور کرسکتے تھے اور نہ ہی اہل کوفہ و حجاز؛ 40 برسوں سے جہل و نادانی کے بھنور میں گرفتار شامیوں کو آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا اور چالیس سالہ اموی مکر و فریب کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا۔ روایت کچھ یوں ہے:
{روي أن يزيد لعنه الله أمر بمنبر وخطيب ليخبر الناس بمساوي الحسين وعلي عليهما السلام وما فعلا، فصعد الخطيب المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم أكثر الوقيعة في علي والحسين، وأطنب في تقريظ معاوية ويزيد لعنهما الله فذكر هما بكل جميل، قال: فصاح به علي بن الحسين: ويلك أيها الخاطب اشتريت مرضاة المخلوق بسخط الخالق، فتبو أمقعدك من النار ثم قال علي بن الحسين عليه السلام: يا يزيد ائذن لي حتى أصعد هذه الاعواد فأتكلم بكلمات لله فيهن رضا، ولهؤلاء الجلساء فيهن أجر وثواب، قال: فأبى يزيد عليه ذلك فقال الناس: يا أمير المؤمنين ائذن له فليصعد المنبر فلعلنا نسمع منه شيئا فقال: إنه إن صعد لم ينزل إلا بفضيحتي وبفضيحة آل أبي سفيان فقيل له: يا أمير المؤمنين وما قدر ما يحسن هذا ؟ فقال: إنه من أهل بيت قد زقوا العلم زقا قال: فلم يزالوا به حتى أذن له فصعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم خطب خطبة أبكى منها العيون، وأوجل منها القلوب، ثم قال: أيها الناس اعطينا ستا وفضلنا بسبع: اعطينا العلم، والحلم، والسماحة، والفصاحة، والشجاعة، والمحبة في قلوب المؤمنين، وفضلنا بأن منا النبي المختار محمدا، ومنا الصديق، ومنا الطيار، ومنا أسد الله وأسد رسوله، ومنا سبطا هذه الامة، من عرفني فقد عرفني ومن لم يعرفني أنبأته بحسبي ونسبي أيها الناس أنا ابن مكة ومنى، أنا ابن زمزم والصفا، أنا ابن من حمل الركن بأطراف الردا، أنا ابن خير من ائتزر وارتدى، أنا ابن خير من انتعل واحتفى، أنا ابن خير من طاف وسعى، أنا ابن خير من حج ولبى، أنا ابن من حمل على البراق في الهوا، أنا ابن من اسري به من المسجد الحرام إلى المسجد الاقصى، أنا ابن من بلغ به جبرئيل إلى سدرة المنتهى، أنا ابن من دنا فتدلى فكان قاب قوسين أو أدنى، أنا ابن من صلى بملائكة السماء، أنا ابن من أوحى إليه الجليل ما أوحى، أنا ابن محمد المصطفى، أنا ابن علي المرتضى، أنا ابن من ضرب خراطيم الخلق حتى قالوا: لاإله إلا الله أنا ابن من ضرب بين يدي رسول الله بسيفين، وطعن برمحين، وهاجر الهجرتين، وبايع البيعتين، وقاتل ببدر وحنين، ولم يكفر بالله طرفة عين، أنا ابن صالح المؤمنين، ووارث النبيين، وقامع الملحدين، ويعسوب المسلمين، ونور المجاهدين وزين العابدين، وتاج البكائين، وأصبر الصابرين، وأفضل القائمين من آل ياسين رسول رب العالمين، أنا ابن المؤيد بجبرئيل، المنصور بميكائيل، أنا ابن المحامي عن حرم المسلمين، وقاتل المارقين والناكثين والقاسطين، والمجاهد أعداءه الناصبين وأفخر من مشى من قريش أجمعين، وأول من أجاب واستجاب لله ولرسوله من المؤمنين، وأول السابقين، وقاصم المعتدين، ومبيد المشركين، وسهم من مرامي الله على المنافقين، ولسان حكمة العابدين، وناصردين الله، وولي أمر الله، وبستان حكمة الله، وعيبة علمه سمح، سخي، بهي، بهلول، زكي، أبطحي، رضي، مقدام، همام صابر، صوام، مهذب، قوام، قاطع الاصلاب، ومفرق الاحزاب، أربطهم عنانا، وأثبتهم جنانا، وأمضاهم عزيمة، وأشدهم شكيمة، أسد باسل، يطحنهم في الحروب إذا ازدلفت الاسنة، وقربت الاعنة، طحن الرحا ويذروهم فيها ذرو الريح الهشيم، ليث الحجاز، وكبش العراق، مكي مدني خيفي عقبي بدري احدي شجري مهاجري، من العرب سيدها، ومن الوغى ليثها، وارث المشعرين وأبو السبطين: الحسن والحسين، ذاك جدي علي بن أبيطالب ثم قال: أنا ابن فاطمة الزهراء، أنا ابن سيدة النساء، فلم يزل يقول: أنا أنا، حتى ضج الناس بالبكاء والنحيب، وخشي يزيد لعنه الله أن يكون فتنة فأمر المؤذن فقطع عليه الكلام فلما قال المؤذن الله أكبر الله أكبر قال علي: لا شئ أكبر من الله، فلما قال: أشهد أن لاإله إلا الله، قال علي بن الحسين: شهد بها شعري وبشري ولحمي ودمي، فلما قال المؤذن أشهد أن محمدا رسول الله التفت من فوق المنبر إلى يزيد فقال: محمد هذا جدي أم جدك يا يزيد ؟ فان زعمت أنه جدك فقد كذبت وكفرت، وإن زعمت أنه جدي فلم قتلت عترته ؟ قال: وفرغ المؤذن من الاذان والاقامة وتقدم يزيد فصلى صلاة الظهر قال: وروي أنه كان في مجلس يزيد هذا حبر من أحبار اليهود فقال: من هذا الغلام يا أمير المؤمنين ؟ قال: هو علي بن الحسين، قال: فمن الحسين ؟ قال: ابن علي بن أبي طالب، قال: فمن امه ؟ قال: امه فاطمة بنت محمد، فقال الحبر: يا سبحان الله ! فهذا ابن بنت نبيكم قتلتموه في هذه السرعة ؟ بئسما خلفتموه في ذريته والله لو ترك فينا موسى بن عمران سبطا من صلبه لظننا أنا كنا نعبده من دون ربنا وأنتم إنما فارقكم نبيكم بالامس، فوثبتم على ابنه فقتلتموه ؟ سوأة لكم من امة قال: فأمر به يزيد لعنه الله فوجئ في حلقه ثلاثا فقام الحبر وهو يقول: إن شئتم فاضربوني، وإن شئتم فاقتلوني أو فذروني فاني أجد في التوراة أن من قتل ذرية نبي لا يزال ملعونا أبدا ما بقي، فإذا مات يصليه الله نار جهنم}۔ (1)
مروی ہے کہ یزید نے منبر سجانے کا حکم دیا اور خطیب سے کہا کہ حسین اور علی علیہ السلام کی بدگوئی اور ان کے اعمال میں عیب جوئی کرے پس خطیب منبر پر بیٹھ گیا پس خدا کی حمد و ثناء کے بعد علی اور حسین علیہما السلام کی بدگوئی کی اور معاویہ اور یزید معاویہ اور یزید کی مداحی میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیئے اور تمام خوبیوں کو معاویہ اور یزید سے منسوب کیا۔ امام سجاد علیہ السلام نے چلا کر فرمایا: وائے ہو تم پر اے خطیب! تو نے خلق کی خوشنودی کے لئے اللہ کا غضب کمایا اور اپنی نشیمن گاہ دوزخ کی آگ میں قرار دی۔ اور پھر فرمایا: اے یزید! ا مقام دوزخ کی آگ میں قرار دی!
امام علیہ السلام نے اس کے بعد یزید سے کہا: مجھے بھی لکڑی کے اس چوپائے پر بیٹھنے دو تا کہ میں ایسے اللہ کے کلمات بیان کروں جن میں اللہ کی خوشنودی اور حاضرین کے لئے اجر و ثواب ہے۔
راوی کہتے ہيں کہ معاویہ بن یزید نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین (!؟) انہیں منبر پر بیٹھنے دو شاید ہم ان سے کوئی بات سن لیں۔
یزید نے کہا کہ اگر وہ منبر پر بیٹھیں تو منبر سے اترنے سے پہلے ہی مجھے اور خاندان ابوسفیان کو ذلیل و رسوا کریں گے۔ لیکن عوام نے اصرار کیا اور کہا کہ یہ نوجوان ہیں کر ہی کیا سکتے ہيں؟
يزید نے کہا: یہ ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کے افراد کو علم و دانش کی گھٹی دی جاتی ہے۔
شامیوں کے اصرار پر یزید کو بھی ماننا پڑا اور امام سجاد علیہ السلام کو منبر پر جانے کی اجازت دی اور
ایسا خطبہ دیا کہ کہ تمام آنکھیں اشکبار ہوئیں اور تمام دل بے چین ہوگئے۔
فرمایا: اے لوگو! خداوند متعال نے ہم خاندان رسول (ص) کو چھ امتیازات سے نوازا ہے اور سات فضیلتوں سے ہمیں دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی ہے؛ ہمارے چھ امتیازات علم، حلم، بخشش و سخاوت، فصاحت، شجاعت، اور مؤمنین کے دل میں ودیعت کردہ محبت سے عبارت ہیں۔ ہماری ساتھ فضیلتیں یہ ہیں:
1۔ خدا کے برگزیدہ پیغمبر حضرت محمد (ص) ہم سے ہیں۔
2۔ صدیق (امیرالمؤمنین علی) (ع) ہم سے ہیں۔
3۔ جعفر طیار ہم سے ہیں۔
4۔ شیر خدا اور شیر رسول خدا حضرت حمزہ سیدالشہداء ہم سے ہیں۔
5۔ اس امت کے دو سبط حسن و حسین (ع) ہم سے ہیں۔
6۔ زہرائے بتول سلام اللہ ہم سے ہیں اور
7۔ مہدی امت ہم سے ہیں۔
لوگو! [اس مختصر تعارف کے بعد] جو مجھے جانتا ہے سو جانتا ہے اور جو مجھے نہیں جانتا میں اپنے خاندان اور آباء و اجداد کو متعارف کرواکر اپنا تعارف کراتا ہوں۔
لوگو! میں مکہ و مِنٰی کا بیٹا ہوں، میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں، میں اس بزرگ کا بیٹا ہوں جس نے حجرالاسود کو اپنی عبا کے پلو سے اٹھاکر اپنے مقام پر نصب کیا، میں بہترینِ عالم کا بیٹا ہوں، میں اس عظیم ہستی کا بیٹا ہوں جس نے احرام باندھا اور طواف کیا اور سعی بجا لائے، میں بہترین طواف کرنے والوں اور بہترین لبیک کہنے والوں کا بیٹا ہوں؛ میں اس بزرگ کا بیٹا ہوں جو براق پر سوار ہوئے، میں ان کا بیٹا ہوں بیٹا جنہوں نے معراج کی شب مسجدالحرام سے مسجدالاقصٰی کی طرف سیر کی میں اس ہستی کا بیٹا ہوں جن کو جیرائیل سدرۃالمنتہی تک لے گئے میں ان کا بیٹا ہوں جو زیادہ قریب ہوئے اور زیادہ قریب ہوئے تو وہ تھے دو کمان یا اس سے کم تر کے فاصلے پر [اور وہ پروردگار کے مقام قرب پر فائز ہوئے] میں ہوں اس والا صفات کا بیٹا جنہوں نے آسمان کے فرشتوں کے ہمراہ نماز ادا کی؛ میں ہوں بیٹا اس رسول کا جس کو خدائے بزرگ و برتر نے وحی بھیجی؛ میں محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور علی مرتضی (علیہ السلام) کا بیٹا ہوں۔
میں اس شخصیت کا بیٹا ہوں جس نے مشرکین اور اللہ کے نافرمانوں کی ناک خاک میں رگڑ لی حتی کہ کفار و مشرکین نے کلمہ توحید کا اقرار کیا؛ میں اس عظیم مجاہد کا بیٹا ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سامنے اور آپ (ص) کے رکاب میں دو تلواروں اور دو نیزوں سے جہاد کیا اور دوبار ہجرت کی اور دوبار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ہاتھ پر بیعت کی؛
بدر و حنین میں کفار کے خلاف شجاعانہ جہاد کیا اور لمحہ بھر کفر نہیں برتا؛ میں اس پیشوا کا بیٹا ہوں جو مؤمنین میں سب سے زيادہ نیک و صالح، انبیاء علیہم السلام کے وارث، ملحدین کا قلع قمع کرنے والے، مسلمانوں کے امیر، مجاہدوں کے روشن چراغ، عبادت کرنے والوں کی زینت، خوف خدا سے گریہ و بکاء کرنے والوں کے تاج، اور سب سے زیادہ صبر و استقامت کرنے والے اور آل یسین (یعنی آل محمد (ص)) میں سب زیادہ قیام و عبادت کرنے والے والے ہیں۔ میرے داد (امیرالمؤمنین (ع)) وہ ہيں جن کو جبرائیل (ع) کی تائید و حمایت اور میکائیل (ع) کی مدد و نصرت حاصل ہے، میں مسلمانوں کی ناموس کے محافظ و پاسدار کا بیٹا ہوں؛ وہی جو مارقین (جنگ نہروان میں دین سے خارج ہونے والے خوارج)، ناکثین (پیمان شکنوں اور اہل جمل) اور قاسطین (صفین میں امیرالمؤمنین (ع) کے خلاف صف آرا ہونے والے اہل ستم) کو ہلاک کرنے والے ہیں، جنہوں نے اپنے ناصبی دشمنوں کے خلاف جہاد کیا۔ میں تمام قریشیوں کی سب سے افضل اور برترو قابل فخر شخصیت کا بیٹا ہوں اور اولین مؤمن کا بیٹا ہوں جنہوں نے خدا اور رسول (ص) کی دعوت پر لبیک کہا اور سابقین میں سب سے اول، متجاوزین اور جارحین کو توڑ کر رکھنے والے اور مشرکین کو نیست و نابود کرنے والے تھے۔ میں اس شخصیت کا فرزند ہوں جو منافقین کے لئے اللہ کے پھینکے ہوئے تیر کی مانند، عبادت گذاروں کی زبان حکمت ، دین خدا کے حامی و یار و یاور، اللہ کے ولی امر(صاحب ولایت و خلافت)، حکمت الہیہ کا بوستان اور علوم الہیہ کے حامل تھے؛ وہ جوانمرد، سخی، حسین چہرے کے مالک، تمام نیکیوں اور اچھائیوں کے جامع، سید و سرور، پاک و طاہر، بزرگوار، ابطحی، اللہ کی مشیت پر بہت زیادہ راضی، دشواریوں میں پیش قدم، والا ہمت اور ارادہ کرکے ہدف کو بہرصورت حاصل کرنے والے، ہمیشہ روزہ رکھنے والے، ہر آلودگی سے پاک، بہت زیادہ نمازگزار اور بہت زیادہ قیام کرنے والے تھے؛ انھوں نے دشمنان اسلام کی کمر توڑ دی، اور کفر کی جماعتوں کا شیرازہ بکھیر دیا؛ سب سے زیادہ صاحب جرأت، سب سے زیادہ صاحب قوت و شجاعت ہیبت، کفار کے مقابلے میں خلل ناپذیر، شیر دلاور، جب جنگ کے دوران نیزے آپس میں ٹکراتے اور جب فریقین کی اگلیں صفیں قریب ہوجاتی تھیں وہ کفار کو چکی کی مانند پیس دیتے تھے اور آندھی کی مانند منتشر کردیتے تھے۔
وہ حجاز کے شیر اور عراق کے سید و آقا ہیں جو مکی و مدنی و خیفی و عقبی، بدری و احدی و شجر؛ اور مہاجری (2) ہیں جو تمام میدانوں میں حاضر رہے اور وہ سیدالعرب ہیں، میدان جنگ کے شیر دلاور، اور دو مشعروں کے وارث (3) (اس امت کے دو) سبطین "حسن و حسین (ع)" کے والد ہیں؛ ہاں! یہ میرے دادا علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔
امام سجاد علیہ السلام نے مزید فرمایا: میں فاطمہ زہرا (س) کا بیٹا ہوں میں عالمین کی تمام خواتین کی سیدہ کا بیٹا ہوں۔
پس امام سجاد (ع) نے اپنا تعارف کراتے ہوئے اس قدر "انا انا" فرمایا کہ حاضرین دھاڑیں مار مار اور فریادیں کرتے ہوئے رونے لگے اور یزید شدید خوف و ہراس کا شکار ہوا کہ کہیں لوگ اس کے خلاف بغاوت نہ کریں پس اس نے مؤذن کو حکم دیا کہ اذان دے اور اس طرح اس نے امام (ع) کا کلام قطع کردیا۔
مؤذن نے کہا:
الله أكبر الله أكبر
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: خدا سب سے بڑا ہے اور کوئی چیز بھی اس سے بڑی نہیں ہے۔
مؤذن نے کہا:
أشهد أن لاإله إلا الله
امام علي بن الحسین علیہ السلام نے فرمایا: میرے بال، میری جلد، میرا گوشت اور میرا خون سب اللہ کی وحدانیت پر گواہی دیتے ہیں۔
مؤذن نے کہا:
أشهد أن محمدا رسول الله
امام علیہ السلام نے سر سے عمامہ اتارا اور مؤذن سے مخاطب ہوکر فرمایا: اے مؤذن! تمہیں اسی محمد (ص) کا واسطہ، یہیں رک جاؤ لمحہ بھر، تا کہ میں ایک بات کہہ دوں؛ اور پھر منبر کے اوپر سے یزید بن معاویہ بن ابی سفیان سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اے یزید! کیا محمد (ص) میرے نانا ہیں یا تمہمارے؟ اگر کہوگے کہ تمہارے نانا ہیں تو جھوٹ بولوگے اور کافر ہوجاؤگے اور اگر سمجھتے ہو کہ آپ (ص) میرے نانا ہیں تو بتائ کہ تم نے ان کی عترت اور خاندان کو قتل کیوں کیا اور تم نے میرے والد کو قتل کیا اور ان کے اور میرے خاندان کو اسیر کیوں کیا؟
اس کے بعد مؤذن نے اذان مکمل کرلی اور یزید آگے کھڑا ہوگیا اور نماز ظہر ادا ہوئی۔ بحار الانوار کی جلد 45 میں روایت کو یوں جاری رکھا گیا ہے:
جب امام سجاد علیہ السلام نے اپنا بلیغ خطبہ مکمل کیا مسجد میں موجود لوگوں کو سخت متاثر کیا اور ان کو بیدار کردیا اور انہیں جرات ملی تو "مسجد اور مجلس یزید میں موجود ایک یہودی عالم" نے یزید سے کہا: اے امیرالمؤمنین (!؟)! یہ نوجوان کون ہے؟
یزید نے کہا: یہ علی بن الحسین ہے۔
یہودی نے کہا: حسین کون ہے؟
یزید نے کہا: وہ علی ابن ابی طالب کا بیٹا ہے۔
یہودی نے پوچھا: اس کی والدہ کون ہیں؟
یزید نے کہا: محمد (ص) کی بیٹی؛
یہودی نے کہا: سبحان اللہ! یہ (امام حسین (ع)) تہمارے پیغمبر کی بیٹی کے فرزند ہیں جن کو تم نے اتنی عجلت سے (رسول اللہ (ص) کے وصال کے صرف 48 برس بعد) قتل کردیا ہے؟! خدا کی قسم! اگر موسی بن عمران ہمارے درمیان کوئی فرزند چھوڑ کر جاتے تو ہم سمجھتے کہ اس کا پرستش کی حد تک احترام کرنا چاہئے اور تمہارے پیغمبر (ص) کل دنیا سے چلے گئے اور تم نے آج ان کے بیٹے کے خلاف بغاوت کردی اور انہیں تہہ تیغ کردیا؟! وائے بحال ہو تم امت کے!!
یزید غضبناک ہوا اور حکم دیا کہ یہودی عالم کو زد و کوب کیا جائے اور یہودی عالم اٹھا اور کہا: چاہو تو مجھے مارو اور چاہو تو مجھے قتل کرو! مجھے کوئی پروا نہیں ہے؛ یا چاہو تو مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں نے تورات میں دیکھا ہے کہ جو کوئی پیغمبر کے فرزند کو قتل کرے گا وہ ہمیشہ کے لئے ملعون رہے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم کی آگ میں ہے۔ (4)
ایک اور روایت میں منقول ہے کہ جب مؤذن نے کہا: اشہد محمداً رسول اللہ (ص) تو امام علیہ السلام نے عمامہ سر سے اٹھایا اور مؤذن سے فرمایا: اے مؤذن! تجھے اسی محمد (ص) کا واسطہ لمحہ بھر رکو اور پھر یزید کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے یزید! یہ پیغمبر میرے نانا ہیں یا تمہارے؟ اگر کہوگے کہ تمہارے نانا ہیں تو سب جانتے ہیں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو اور اگر میرے نانا ہیں تو تم نے کیوں میرے والد کو ظلم و جبر کے ساتھ شہید کیا ان کے مال و اموال کو لوٹ لیا اور ان کے خاندان کو اسیر کردیا؟ یہ جملے فرمانے کے بعد ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالا اور گریباں کو چاک کیا اور روئے اور فرمایا: خدا کی قسم! اس دنیا میں کوئی نہیں ہے جس کے جد امجد رسول اللہ (ص) ہوں اور اگر کوئی ہے تو وہ میں ہی ہوں، پس اس شخص (یزید) نے میرے والد کو کیوں قتل کیا اور ہمیں رومیوں کی طرح اسیر کیا؟ اس کے بعد فرمایا! تم اس عظیم جرم کے مرتکب ہوئے اور پھر کہتے بھی ہو کہ "محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رسول خدا ہیں! اور قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوتے ہو!؟ وائے بحال ہو تمہارے قیامت کے دن کہ میرے والد اور میرے نانا تمہارے دشمن ہیں۔ پس یزید نے مؤذن کو چلا چلا کر حکم دیا کہ اٹھے اور اقامہ اذان کہہ دے، پس لوگوں کے درمیان ہمہمہ شروع ہوچکا تھا بعض نے نماز ادا کی اور بعض دوسرے نماز پڑھے بغیر منتشر ہوئے۔ (3)
ایک اور روایت میں منقول ہے کہ امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا:
{انا ابن الحسين القتيل بكربلا، انا ابن على المرتضى، انا ابن محمد المصطفى، انا ابن فاطمة الزهراء، انا ابن خديجة الكبرى، انا ابن سدرة المنتهى، انا ابن شجرة طوبى، انا ابن المرمل بالدماء، انا ابن من بكى عليه الجن في الظلماء، انا ابن من ناح عليه الطيور في الهواء}۔ (6)
میں حسین شہید کربلا کا بیٹا ہوں، میں علی مرتضی کا بیٹا ہوں، میں محمد مصطفی (ص) کا بیٹا ہوں، میں فاطمہ زہراء کا بیٹا ہوں، میں خدیجۃالکبری کا بیٹا ہوں، میں سدرةالمنتهی کا بیٹا ہوں، میں شجرہ طوبی کا بیٹا ہوں، میں اس سید و سرور کا بیٹا ہوں جو اپنے خون میں نہا گئے اور اس بزرگ کا بیٹا ہوں جن کے سوگ میں پرندوں نے ماتم اور گریہ کیا۔
اس طرح کہ امور سبب ہوئے کہ یزید کا غرور خاک میں مل گیا جائے اور وہ جشن و سرور چھوڑنے پر مجبور ہو گیا؛ اور خوشی منانا اور سیدالشہداء علیہ السلام کے مبارک لبوں کو چھڑی مارنا اور جاہلانہ اشعار پڑھنا ترک کردیا وہ پشیمان نہیں ہوا تھا ڈر گیا تھا کیونکہ جب امام سجاد علیہ السلام نے خطبہ دیا اس وقت بھی یزید نے امام حسین علیہ السلام کا قتل ابن زیاد سے منسوب کیا اور پشیمانی کا اظہار کیا لیکن اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک اپنے محل کے دروازے پر لٹکایا جس سے پشیمانی ظاہر نہ ہورہی تھی اور پھر جب اس کی زوجہ نے چادر پھینک دی اور چیختی اور روتی ہوئی دربار میں پہنچی اور کہا کہ اب تم فرزند رسول (ص) کا سر میرے گھر کے دروازے پر لٹکاؤگے جس پر یزید نے ایک بار پشیمانی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ خدا ابن زیاد پر لعنت کرے میں نے اس کو امام حسین (ع) کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا لیکن امام حسین علیہ السلام کا سر اور اسیر خاندان دربار یزید میں تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پشیمانی ایک افسانہ ہے بات یہ ہے کہ جتنی کہ بغاوت کی فضا وسیع سے وسیع تر ہورہی تھی یزید کے خوف میں بھی اضافہ ہورہا تھا اور جب خوشی منانے اور فخر کرنے کے تمام اسباب و محرکات ناپید ہوگئے یزید نے خاندان رسول (ص) کی رہائی کا حکم دیا۔
سبط بن الجوزى، تذكرة الخواص میں لکھتے ہیں کہ جب امام علیہ السلام کا سر شام لایا گیا تو یزید خوش ہوا اور عبیداللہ بن زیاد بن ابیہ کے اقدام سے خوشنود ہوا اور اس کے لئے تحائف و عطیات بھیجے، لیکن تھوڑے دن گذرنے کے بعد اس نے اس عمل سے عوام کی بیزاری اور غم و غصے کو محسوس کیا اور دیکھا کہ لوگ اس کو گالیاں دے رہے ہیں [خوفزدہ ہوا اور بظاہر] اپنے حکم اور اپنےعمل سے پشیمان ہوا اور کہتا تھا کہ "خداوند ابن مرجانہ پر لعنت کرے جس نے امام حسین علیہ السلام پر اتنی سختی کی کہ انھوں نے موت کو آسان سمجھا اور شہید ہوگئے! اور کہتا تھا کہ میں نے ابن زیاد کا کیا بگاڑا تھا جس نے مجھے لوگوں کے غضب کا نشانہ بنایا اور نیک لوگوں اور مجرموں کے دلوں میں میری دشمنی کا بیج بویا؟۔ (7)
سیوطی کہتے ہیں:
{فسر بقتلهم اولا ثم ندم لما مقته المسلمون على ذلك و ابغضه الناس و حق لهم ان يبغضوه!}۔ (8)
پس یزید ابتداء میں بہت مسرور ہوا اور جب لوگوں نے اس پر لعنت ملامت کی تو اپنے فعل پر "پشیمان" ہوا اور لوگوں نے اس سے بغض و دشمنی کی اور یہ ان کا حق تھا کہ اس سے نفرت کرتے۔
بہر حال تاریخ اسلام کے ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات ہیں جن میں فرمانروا اور بادشاہ جب کوئی کوئی کام کرتے اور عوام کے غصے کے اسباب فراہم ہوتے تو ان کی کوشش ہوتی کہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لئے اپنے بھونڈے فعل کو دوسروں سے نسبت دیں اور اپنے آپ کو بریئ الذمہ قرار دیتے۔ چنانچہ یزید نے بھی بادشاہوں کی اسی عادت کے مطابق عمل کیا اور جب عقیلہ بنی ہاشم سیدہ ثانی زہراء سلام اللہ علیہا اور امام سجاد علیہ السلام نے خطبے دیئے اور یزید رسوا ہوگیا، یزید کی بیوی ہند بنت عبداللہ بن عامر سربرہنہ دربار میں آئی، عیسائیوں اور یہودیوں نے اعتراض کیا، ابوبرزہ اسلمی نے احتجاج کیا، یزید نے اپنی پالیسی فوری طور پر بدل دی اور امام حسین علیہ السلام کے قتل کی ذمہ داری عبیداللہ بن زیاد پر عائد کی۔ کہتا تھا: "لعن الله ابن مرجانة!" ، مرجانہ کے بیٹے پر اللہ کی لعنت ہو، حالانکہ جیسا کہ بیان ہوا یزید نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد ابن زیاد کو انعام و اکرام سے نوازا تھا اور اس کو بڑی رقم انعام کے طور پر بھجوائی اور جب وہ شام آیا تو یزید نے اس کو اپنے برابر میں بٹھایا اور اپنی حرمسرا میں اپنی عورتوں کے درمیان لے گیا جہاں رسول اللہ (ص) کی خلافت کے دعویدار یزید بن معاویہ بن ابی سفیان نے شراب ابن زیاد کے ساتھ مل کر ـ اپنے اس جرم عظیم پر خوشی مناتے ہوئے ـ شرابخواری کی اور یزید نے شراب کے نشے میں مست ہوکر فی البداہہ اشعار کہے:
اسقني شربة تروي مشاشي
ثم مل فاسق مثلها ابن زياد
صاحب السر و الامانة عندي
و لتسديد مغنمي و جهادي
قاتل الخارجي اعني حسينا
و مبيد الاعداء و الاضداد (9)
طبری کہتے ہیں:
{فسر بقتلهم اولا و حسنت بذلك منزلة عبيد الله عنده ثم لم يلبث الا قليلا حتى ندم على قتل الحسين" ، حتی يقول: قال يزيد: "لعن الله ابن مرجانة! فبغضني الى المسلمين و زرع لي في قلوبهم العداوة فبغضني البر والفاجر بما استعظم الناس من قتلي حسينا!}۔ (10)
پس یزید امام حسین علیہ السلام اور آپ (ع) کے افراد خاندان اور اصحاب و انصار کی شہادت پر خوش ہوا اور عبیداللہ بن زیاد کو بڑی منزلت دی لیکن تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ امام حسین (ع) کے قتل سے پشیمان ہوا (!) اور کہنے لگا: "خدا لعنت کرے ابن مرجانہ پر! جس نے مجھے مسلمانوں کے غضب و نفرت کے قابل ٹہرایا اور ان کے دلوں میں میری دشمنی کا بیج بویا اور اب نیک لوگ بھی مجھ سے دشمنی کرتے ہیں اور برے لوگ بھی اس لئے کہ لوگوں نے میرے ہاتھوں امام حسین علیہ السلام کے قتل کا واقعہ بہت ہی عظیم گردانا ہے۔ (11)
شہید حجۃالاسلام والمسلمین سید عبدالکریم ہاشمی نژاد یزید کی پشیمانی کے افسانے کی تردید کے حوالے سے متعدد دلائل اور ثبوت لاتے ہیں جن میں پانچویں دلیل مذکورہ بالا سطور کے مضمون سے مستند ہوئی ہے۔ لکھتے ہیں:
"ابو سفیان کا پوتا ابن مرجانہ کے بیٹے کے فعل سے نہ صرف پشیمان نہ تھا بلکہ وہ اس فعل سے بہت زیادہ خوشنود تھا اور اس نے واقعہ کربلا کے بعد جو رویہ ابن زیاد کے ساتھ روا رکھا وہ اس بات کی دلیل ہے۔ ابن اثیر نے لکھا ہے کہ: "جب امام حسین علیہ السلام کا سر یزید کے سامنے لایا گیا تو وہ بہت زیادہ خوش اور مسرور ہوا اور اس کے عمل سے خوشنود، اور اس کو صلہ اور انعام و اکرام دیا"۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص امام حسین علیہ السلام کا سر وصول کرکے عبیداللہ بن مرجانہ کے فعل سے خوشنود ہوتا ہے اور حتی کہ اس کو "اس خدمت کے صلے میں" انعام اکرام اور بڑی نقد رقوم سے نوازتا ہے، تو یہ بات کیونکر قابل قبول ہوسکتی ہے کہ "خداوند متعال ابن مرجانہ پر لعنت کرے جس نے حسین کو قتل کیا ہے جبکہ میں اس کے اس عمل سے راضی نہ تھا؟!۔
اہل سنت کے ایک دوسرے مؤرخ نے لکھا ہے:
{... انّه استدعی ابن زياداً اليه و اعطاه اموالاً کثيرةً و تحفاً عظيمةً و قرب منزله و ادخله علی نسائه و جعله نديمه و سکر ليلة و قال للمغن غن ثم قال يزيد بديها}۔
کربلا کے واقعے کے بعد یزید نے ابن زیاد کو اپنے پاس بلوایا اور بہت سے اموال اور عطیات اس کو عطا کئے اور اس کو قرب و منزلت سے نوازا اور اس کا رتبہ بڑھایا حتی کہ اس کو اپنا ندیم قرار دیا اور اس کو اپنی عورتوں گھسنے کی اجازت دی اور اپنی حرمسرا میں اس کے ساتھ ایک پوری رات شراب کے نشے میں بسر کی۔ اس رات یزید نے نغمہ سراؤں کو حکم دیا کہ گانے گائیں اور موسیقی بجائیں اور ہمارے لئے غنائی اشعار پڑھین اور پھر خود ہی فی البداہہ یہ اشعار کہے:
{اسقني شربة تروي ...}
ترجمہ:
"اے ساقی مجھے شراب پلاؤ جو میرے دل کو نشاط بخشے اور مجھے سیراب کردے
اور اس کے بعد میرا جام بھر دو اور وہی شراب ابن زیاد کو دے دو جو مجھے پلا رہے ہو
کہ وہ میرا صاحب اسرار (رازدان) اور میرا امین ہے
وہی جس کے ہاتھوں میری جنگ و غنیمت کی مشکل حل ہوگئی
یہ زیاد کا بیٹا جو اس مرد خارجی (!) یعنی حسین کا قاتل ہے
وہی جس نے میرے دشمنوں اور مجھ سے حسد کرنے والوں کے دلوں کو خوف سے بھر دیا"۔ (12)
امام سجاد علیہ السلام نے اپنا تعارف کرایا اور امامت و رسالت کا شجرہ نامہ بیان کیا اور اس قدر اپنا تعارف کرانے میں بلاغت کے جوہر جگادیئے کہ حاضرین بآواز بلند رونے لگے۔ یزید خوفزدہ ہوا کہ کہيں عوام اس کے خلاف انقلاب نہ کردیں چنانچہ اس نے مؤذن کو اذان کا حکم دیا اور وہ ہوا جو بیان ہوا اور امام (ع) نے خوابیدہ ذہنوں کو جگا دیا۔
مسجد میں جمع ہونے والے شامی، جو اموی تشہیری مہم کے نتیجے میں غفلت سے دوچار ہوگئے تھے اور خاندان نبی (ص) کو نہیں جانتے تھے، امام سجاد علیہ السلام کا خطبہ سن کر حقائق سے آگاہ ہوئے چنانچہ یزید نے اذان کے ذریعے امام علیہ السلام کو خطبہ جاری رکھنے سے روک لیا اور ابن زیاد کو قصور وار ٹہرا کر اپنے آپ کے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی تا کہ مسجد میں موجود لوگوں کو باور کراسکے کہ یزید اس مسئلے میں بے قصور تھا لیکن ابھی اسیران اہل بیت شام میں تھے اور امام حسین علیہ السلام اور دوسرے شہداء کے شام میں تھے لہذا یہ ممکن نہ تھا کہ لوگ اس کو بے گناہ سمجھیں۔
...............
1۔ بحارالانوار ج 45 ص 137 تا 140۔
2۔ خیف مِنی میں واقع ہے، عقبی سے مراد ظاہرا یہ ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام عقبہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ پر اہل مدینہ کی دو بیعتوں کے وقت موجود تھے، شجری سے مراد بھی حدیبیہ کے مقام پر شجرہ کے نیچے بیعت ہے جس میں علی علیہ السلام بھی شامل تھے اور قرآن کی سورہ فتح کی آیت 18 میں اس بیعت کا ذکر ہے اور مہاجری یعنی ہجرت کرنے والے ہیں۔
3۔ دو مشعروں سے مراد ممکن ہے کہ دو جنتیں ہوں کیونکہ مشعر اس مقام کا نام ہے جہاں درخت زیادہ ہوں۔ اور یہاں امام سجاد علیہ السلام نے انہیں دوجنتوں کے وارث کے عنوان سے متعارف کرایا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مشعر سے مراد مشعرالحرام اور عرفات ہوں جہاں حجاج کرام قیام کرتے ہیں۔
4۔ بحار الانوار 45/137؛ الاحتجاج 2/132ـ حياة الامام الحسين جلد 3 صفحہ395۔
5۔ شیخ عباس قمی، نفس المهموم .451۔
6۔ وہی ماخذ۔
7۔ قمقام زخار 577۔
8۔ تاريخ الخلفاء 208۔
9۔ تذكرة الخواص سبط بن جوزي صفحه 164۔
10۔ تاريخ طبرى ج 5 ص 255۔
11۔ مأخوذ از: كتاب قصه كربلا، ص 506۔
12۔ درسي که حسين به انسان ها آموخت شهيد عبدالکريم هاشمي نژاد ص 372۔
منبع: ببنا: مقالہ بقلم: ف۔ح۔مہدوی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 


source : www.aban.ir
563
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

کیا دھمکی دینے کی غرض سے خودکشی کا اقدام قضا و قدر الھی ...
علمدار کربلا
حضرت عباسؑ کی زندگی کے نشیب و فراز
ام کلثوم زوجہ حضرت عمر کون تھیں ؟
معصوم دہم پیشوائے ہشتم امام رضا (ع) / مفصل مقالہ
علامہ اقبال کا فلسفہ خودی
مھربانی کرکے امامت کے اثبات اور کی ضرورت کو عقلی دلائل ...
اسلام نے زمانے کو عزت بخشي
وہ احادیث جو حضرت معصومہ(س) سے منقول ہیں
سفیرہ کربلا سیدہ زینب سلام اللہ علیہا

 
user comment