اردو
Tuesday 26th of October 2021
691
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

حضرت امام مہدی (عج) کی صفات اور نشانیاں

تمام مخلوقات بعض ذاتی، عرضی، یا اعتباری صفات کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ مشترکہ یا منفرد صفات کی بھی حامل ہوتی ہیں جن سے وہ دیگراجناس و انواع میں شامل ہوسکتی ہیں یا پھر ان سے ممتاز ہوجاتی ہیں۔ یہ نظام امتیاز جو مخلوقات کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے نظام خلقت کی عظیم حکمت اور بقای عالم کی بنیاد ہے۔ 

مابہ الاشتراک یا قدر مشترک ایسی چیز ہے فرد یا افراد اس میں شریک ہیں اور اس کی صحت کا معیار کثیر افراد پر ایک لفظ عام یا مفہوم کلی کا صادق آنا ہے جیسے انسان، ناطق، مسلمان، ضاحک وغیرہ۔ 

مابہ الافتراق و الامتیاز حقیقی، عرضی، اور اعتباری صفات کو کہتے ہیں جن کے لحاظ سے افراد ایک دوسرے سے الگ اورامتیاز حاصل کرتے ہیں اور مستقل ہوجاتے ہیں۔ 

بدیہی ہے کہ کسی فرد کی صفات بہت زیادہ اور قابل احصاء نہ ہوں لیکن شناخت کے موقع پر کسی فرد یا نوع کی ایسی صفات بیان کرنی چاہیں جن سے وہ دوسروں سے صاف الگ دکھائی دے مثال کے طور پر اگر گھر کا پتہ لکھنا ہے تو صوبہ شہر ضلع اور محلے کانام لکھنا ضروری ہے۔ 

اگرآپ کسی کی شکل و شمایل پہچنوانا چاہتے ہیں تو آپ کو مورد نظر فرد کی صورت کے صفات، رنگ، آنکھوں، ابرو، قدوقامت اور دیگر صفات کا ذکر کرنا ہوگا اسی طرح اگر آپ کسی کا حسب و نسب بیان کررہے ہیں تو باپ، ماں، اجداد، وجدات کے نام ذکر کرنے ہونگے اور اگر آپ عملی صفات معلوم کرنا چاہتے ہیں تو اصلاحی اقدامات، جنگوں، عزوات، معاھدے، کام کاج، تاریخی مواقف، سلوک و معاشرتی زندگی وغیرہ پر روشنی ڈالنی ہوگی اسی طرح آپ اگر علمی صفات معلوم کرنا چاہتےہیں تو علمی وفکری روش، ایمان و عقیدہ اور سماجی و سیاسی نطریات سے آگہی حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر آپ اخلاقی اوصاف کا علم حاصل کرنا چاہتےہیں تو آپ کو اپنے مطلوبہ فرد کے، شجاعت سخاوت عفو وبخشش، تواصع، صبر و شکیبائی، عدل وانصاف کے ساتھ ساتھ دیگراخلاقی صفات کایعنی فضائل و رذائل کا جائزہ لینا پڑے گا۔ 

آپ جس قدر ان صفات کو واضح طور پر بیان کریں گے آپ کا مورد نظر شخص اتنی ہی اچھی طرح سے پہچاناجاے گا۔ 

حضرت مہدی موعود علیہ السلام کے صفات و نشانیوں کو پہچاننے کے بارے میں یہ کہنا ضروری ہے کہ آپ کو پہچاننا دولحاظ سے ضروری ہے، ایک شرعی فریضے کے لحاظ سے کیونکہ اپنے زمانے کے امام کو پہچاننا سب پر واجب ہے کیونکہ روایت میں آیا ہےکہ من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میۃ الجاھلیہ۔ جو اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مرجاے وہ گویا جاھلیت کی موت مرا ہے۔ 

دوسراامر یہ ہے کہ انسان کے لئے حق و باطل کو پہچاننا اور ان میں فرق کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کو بھی پہچاننا ضروری ہےجو مہدویت کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں، کیونکہ ان جھوٹے افراد کو پہچان کر یہ یقین کیا جاسکتا ہےکہ وہ مہدی موعود کی صفات کے حامل نہیں ہیں۔ 

احادیث و روایات میں حضرت مہدی علیہ السلام کی جوصفات ذکر کی گئی ہیں انسان اگر ان پر غور کرے اورانہیں مدنظر رکھے تو حضرت کو پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں کرے گا اورلوگوں کے جھوٹے دعووں سے دھوکہ نہیں کھاے گا۔ اگر ہم یہ مشاھدہ کرتے ہیں کہ کچھ لوگ مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کے ہاتھوں دھوکہ کھاگئے ہیں تو اسکی وجہ صرف یہ ہے یہ لوگ سچے مہدی موعود کی نشانیوں سے آگاہ نہیں ہیں اور غفلت کا شکارہوگئے ہیں۔ یا انہوں نے حضرت کے بعض عام صفات کو خاص صفات سمجھ لیا اور عام و خاص صفات کو پہچاننے میں غلطی کی۔ ایسا بھی ہوتا ہےکہ بعض لوگ مادی اور دنیوی اھداف ومقاصد کے تحت نیز سیاسی محرکات کی بناپر مہدویت کے جھوٹے دعووں کو دیکھتے دانستہ قبول کرلیتے ہیں اور ان کی ترویج کرتے ہیں۔ 

ورنہ جواوصاف و نشانیاں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے لئے بیان کی گئی ہیں آپ کے علاوہ کسی پر صادق نہیں آتیں (یعنی شیعوں کے بارھویں امام، حضرت امام حسن عسکری کے فرزند علیھما السلام کے علاوہ کسی پر صادق نہیں آتیں )اور یہ نشانیاں مثل آفتاب روشن ہیں ان میں کسی کے غلطی کرنے کا امکان نہیں پایا جاتا۔ 

بزرگ علماء اور دانشوروں نے جن کے ثقہ ہونے کے تصدیق علماء علم رجال و تراجم نے کی ہے انہوں نے معتبر ومستند کتابوں میں مہدی موعود کی بے شمار نشانیاں ذکر کی ہیں چونکہ اس مختصر مقالہ میں ان احادیث کا ذکر ممکن ہیں لھذا ہم اپنے احصاء ناقص کے مطابق صرف یہ ذکر کریں گے کہ مہدی موعود کی صفات کے بارے کتنی حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ اس کی تفصیلات آپ کو ہماری کتاب منتخب الاثر میں مل جائیں گی۔ 

1 ۔ مہدی موعود خاندان اور ذریت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہیں۔ اس بارے میں 389 احادیث وارد ہوئی ہیں۔ 

2 ۔ مہدی موعود رسول اللہ کے ہم نام اور ہم کنیت ہیں اس بارے میں 48 احادیث وارد ہوئی ہیں۔ 

3 ۔ آپ کے خدوحال اور صورت کے بارے میں اکیس احادیث آئی ہیں۔ 

4 ۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔ اس بارے میں دوسو چودہ حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ 

5 ۔ مہدی موعود حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی اولاد سے ہیں۔ اس بارے میں ایک سو بانوے حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ 

6 ۔ مہدی موعود حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیھماالسلام کی اولاد سے ہیں۔ اس بارے میں ایک سو سات احادیث وارد ہوئی ہیں۔ 

7 ۔ مہدی موعود حضرت امام حسین علیہ السلام کی نویں پشت سے ہیں۔ اس بارے میں ایک سو اڑتالیس حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ 

8 ۔ امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں ہیں۔ اس بارے میں 185 حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ 

9 ۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی اولاد میں ہیں۔ ایک سو پچاسی حدیثیں۔ حضرت امام باقر علیہ السلام کی ساتویں پشت میں ہیں۔ ایک سو تین حدیثیں۔ 

10 ۔ حضرت امام صادق علیہ السلا م کی چھٹی پشت میں ہیں۔ ننانوے حدیثیں۔ 

11 ۔ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی پانچوین پشت میں ہیں۔ اٹھانوے حدیثیں۔ 

12 ۔ حضرت امام رضاعلیہ السلام کی چوتھی پشت میں ہیں۔ پچانوے حدیثیں.


source : http://www.abna.ir
691
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

عفو اہلبيت (ع)
حضرت امام حسن عسکري عليہ السلام کي شہادت
مقام و منزلت ائمہ معصومین علیہم السلام در زیارت جامعہ ...
حضرت امام حسین (ع) کے ساتھ معاویہ کاسلوک
امام رضا علیہ السلام کی چند نصحتیں اور فرامین
حلم پيغمبر ص کا ايک واقعہ
زیارت امام علی رضا علیہ السلام
حضرت فاطمہ زہرا کا حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ عقد
نگاہ دہر ہے پھر ابن بوتراب (عج) کی سمت
صلح امام حسن (ع) کیوں؟ صلح کے ثمرات

 
user comment