اردو
Monday 2nd of August 2021
418
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

انتظار احادیث كی روشنی میں

میری امت كا برترین اور بالاترین عمل خدا كی جانب سے فَرَج و فراخی كا انتظار ہے۔

1.انتظارِ فَرَج (گشایش ).

1. قال رسول اللّه (ص): انتظارالفَرَج بالصبرعبادة (الدعوات للراوندى: 41 / 101).

صبر و استقامت كے ساتھ فَرَج و فراخی كا انتظار، عبادت ہے.

2. قال الامام علي (ع): انتظروا الفَرَج ولا تياسوا من روح اللّه، فان احب الاعمال الى اللّه عزوجل انتظار الفَرَج. (البحار: 52 / 1243 / 7.).

فَرَج اور فراخی كے منتظر رہو اور خدا كی رحمت سے ناامید مت ہوجاؤ كیونكہ خداوند عزّ و جلّ كے نزدیك محبوبترین اور پسندیدہ ترین عمل انتظارِ فَرَج ہے.

3. قال الامام زين العابدين (ع): انتظار الفَرَج من اعظم الفَرَج (البحار: ص 122 / 4).

فَرَج و فراخی كا انتظار خود عظیم ترین فراخی ہے.

4. قال الامام الصادق (ع): من دين الائمة الورع والعفة والصلاح... وانتظار الفَرَج بالصبر (البحار: 52 / 122 / 1).

پارسائى، پاكدامنى، درستكاری اور صبر كے ساته فَرَج اور فراخی كا انتظار ائمہ كے دین كا حصہ ہیں.

5. الامام الكاظم (ع): انتظار الفَرَج من الفَرَج (الغيبة للطوسى: 459 / 471)

فَرَج و فراخی كا انتظار فراخی كی علامت ہے.

انتظار فَرَج برترین عبادت ہے.

6. قال رسول اللّه (ص): افضل اعمال امتي انتظارفَرَج اللّه عزوجل (البحار: 52 / 122 / 2).

میری امت كا برترین اور بالاترین عمل خدا كی جانب سے فَرَج و فراخی كا انتظار ہے.

7. قال رسول اللّه (ص): افضل اعمال امتي انتظارالفَرَج من اللّه عزوجل (البحار: ص 128 / 21).

میری امت كا بالاترین عمل یہ ہے كہ خدا كی جانب سے فَرَج و فراخی كا انتظار كرے.

انتظار فَرَج بہترین عبادت ہے

8. قال رسول اللّه (ص): افضل العبادة انتظار الفَرَج (البحار:ص 125 / 11).

بہترین عبادت انتظارِ فَرَج ہے.

9. قال الامام علي (ع): افضل عبادة المؤمن انتظار فَرَج اللّه (المحاسن: 1 / 453 / 1044).

مؤمن كی بہترین عبادت، خدا كی جانب سے فراخی كا انتظار ہے.

منتظرین كی منزلت

10. قال الامام الصادق (ع): المنتظر للثاني عشركالشاهر سيفه بين يدي رسول اللّه (ص) يذب عنه (البحار: 52 / 129 / 24).

جو شخص بارہویں امام (عج) كا چشم براہ اور منتظر ہوگا وہ اس شخص كی مانند ہے جس نے تلوار سونت كر رسول اللہ (ص) كی ركاب میں جہاد كرتے ہوئے آپ (ص) كی ذات بابركات كا دفاع كیا ہو.

11. قال الامام الصادق (ع): من مات منتظرا لهذا الامر كان كمن كان مع القائم في فسطاطه، لا بل كان بمنزلة الضارب بين يدي رسول اللّه (ص) بالسيف (. البحار: ص 146 / 69).

جو شخص اس امر (ظہور امام مہدی (عج) كا انتظار كرتا ہوا مرجائے، وہ اس شخص كی مانند ہے جو حضرت قائم (عج) كے ساتھ آپ (عج) كے خیمے میں حاضر ہو؛ نہیں بلكہ [اس سے بھی بالاتر] وہ اس شخص كی مانند ہے جو رسول اللہ (ص) كی ركاب میں فریضۂ جہاد انجام دیتا ہے.

 

 

 


source : http://www.shiastudies.net
418
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

قرآن کا سیاسی نظام
حضر ت علی(ع) کی خلافت اور آپ کا طریقہٴ کار
عشق کربلائي
نور علی نور ، قرآن اورنماز کا باہمی رابطہ
اسلامی اتحاد غدیر کی روشنی میں
حکمیت، آخری امید
اکثر بڑے انقلابات صاحبان علم کی فکروں کا نتیجہ
حج کی مادی اور دنیاوی برکتیں
مغربی دنیا میں شیعیت اور شیعہ تعلیمات كے فروغ كا ذریعہ
بعثت انبیا کا حقیقی ھدف اور غرض وغایت

 
user comment