اردو
Wednesday 26th of January 2022
603
0
نفر 0

حضرت علی کی نظر میں اختلا ف کے برے اثرات

١۔فکری انحراف کا باعث

حضرت علی علیہ ا لسلام معتقدتھے   ٫٫الخلاف یھدم الرأ ی ،،

اختلاف رائے کو نابود کردیتاهے۔(نہج البلاغہ ،حکمت٢١٥.)

 یہ ایک حقیقت هے کہ انسان پرسکون ماحول میں درست نظریہ بیان کر سکتا هے جبکہ اختلافات کی فضا میں انحراف واشتباہ سے دوچار هو جاتا هے ۔

٢۔باطن کے نجس هونے کی علامت

علی علیہ السلام اختلاف کی نجاست کو بیان کرتے هوئے فرماتے ہیں 

٫٫انما انتم اخوان علی دین اللہ ،ما فرّق بینکم الّا خُبث السّرائر وسوء الضّمائر،،(نہج البلاغہ ،خطبہ ١١٣.)

 ترجمہ

٣۔ فتنہ کا باعث

حضرت علی علیہ السلام بخوبی جانتے تھے کہ شیطان اختلاف ایجادکر کے فتنہ کی آگ بھڑکانا چاہتا هے لہذافرمایا

٫٫انّ الشیطان یسنی لکم طرقہ ، ویریدأن یحلّ دینکم عقدة عقدة، ویعطیکم بالجماعة الفرقة ، وبالفرقة الفتنة ،،(نہج البلاغہ ، خطبہ ١٢١ )

ترجمہ یقینا شیطان تمہارے لئے اپنی راہیں آسان بنا دینا چاہتا هے کہ ایک ایک کر کے تمہاری ساری گرہیں کھول دے وہ تمہیں اجتماع کے بجائے افتراق دے کر فتنوں میں مبتلا کرنا چاہتا هے

 ٤۔شیطان کے غلبہ کا باعث

حضرت علی علیہ السلام نے یہ سمجھانے کے لئے کہ اختلاف شیطان کو اپنے اوپر مسلط کرنے کے سوا کچھ اور نہیں هے فرمایا 

٫٫وألزموا السّواد الأعظم فانّ یداللہ مع الجماعة ،وایّاکم والفرقة فانّ الشاذ من النّاس للشّیطان ، کما أنّ الشّاذ من الغنم للذئب ،،()(نہج البلاغہ ،خطبہ ١٢٧.)

ترجمہ اور سواد اعظم کے ساتھ رهو کہ خدا کا ہاتھ اسی جماعت کے ساتھ هے اور خبردار تفرقہ کی کوشش نہ کرنا کہ جو ایمانی جماعت سے کٹ جا تا هے وہ اسی طرح شیطان کا شکار هو جاتا هے جس  طرح ریوڑ سے الگ هوجانے والی بھیڑ بھیڑیئے کی نذرهو جاتی هے ۔

٥۔ دوگروہ میں سے ایک کے یقینا باطل هونے کی علامت

امیرالمومنین علیہ السلام کے نزدیک اختلاف سے دوچار هونا وہی باطل کی پیروی کرنا هے لہذا فرمایا

  ٫٫  مااختلف دعوتان الاّ کانت احداھما ضلالة ،،

ترجمہ  جب بھی دو نظریوںمیں اختلاف هو تو ان میں سے ایک یقینی طور پر باطل پر هے ۔(نہج البلاغہ ، حکمت ١٨٣.)

یعنی ہمیشہ حق باطل کے مقابل میں هے اور یہ دونوں کبھی جمع نہیںهو سکتے ۔

٦۔ اختلاف ایجا د کرنے والے کی نابودی واجب هے

امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں

٫٫الا من دعا الی ھذاالشعار فاقتلوہ،ولوکا ن تحت  عمامتی ھذہ  ،،

ترجمہآگاہ هو جائو جو بھی اختلاف کا نعر ہ لگائے اسے قتل کر دوچاهے میرے ہی عمامہ کے نیچے کیوں نہ هو ۔( نہج البلاغہ ،خطبہ ١٢٧.)

ڈھکو اور شیعہ اتحاد پر کاری ضرب 

 اس میں شک نہیں هے کہ ہم ایک ایسے زمانہ میں زندگی بسر کر رهے ہیں جہاں دشمنان اسلام، اسلام اور خاص طور پر تشیع کی نابودی کے لئے آپس میں معاہدہ کر چکے ہیں اور اپنے تمام تر سیاسی واقتصادی امکانات تشیع کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے بروئے کار لا رهے ہیں ، جیسا کہ امریکی سی آئی اے کا نمائندہ ڈاکٹر مائیکل برانٹ اپنی کتاب (مکاتب الہی کو جدا کرنے کا منصوبہA plan to divis and desnoylte theology  )میں لکھتا هے

کتنی صدیوں سے عالم اسلام پر مغربی ممالک حکومت کرتے چلے آرهے ہیں اگرچہ اس آخری صدی میں اکثر اسلامی ممالک آزاد هو چکے ہیں لیکن پھر بھی ان کی آزادی ، سیاست ، تعلیم اور ثقافت پر مغرب کا قبضہ رہا هے خاص طور پر ان ممالک کا سیاسی اور اقتصادی نظام ہمارے کنٹرول میں رہا هے ۔

١٩٧٩ء میں ایران کے اسلامی انقلاب نے ہماری سیاست کوبہت نقصان پہنچایا ، ابتداء میں تو ہم نے یہ گمان کیا کہ یہ شاہ ایران کے ظلم و تشدد اور غلط سیاست کا نتیجہ هے جس سے مذہبی عناصر فائدہ اٹھا رهے ہیں ، شاہ ایران کے معزول هونے کے بعد دوبارہ ہم اپنی مرضی کے لوگ لاسکیں گے لیکن پہلے ہی دو تین سالوں میں جب امریکہ کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پھر اسلام کی بیداری اور مغرب کے خلاف نفرت نے زور پکڑا،نیز انقلاب کا اثر شیعہ ممالک لبنان ، عراق ، بحرین ، کویت اور پاکستان تک پہنچ گیا تو اس وقت سی آئی اے کے سینئر افسروں کا اجلاس بلایا گیا جس میں برطانوی انٹیلی جنس کے شہرت یافتہ نمائندہ mixنے بھی شرکت کی ،اس اجلاس میں اس نتیجہ پر پہنچے کہ انقلاب اسلامی ایران کے باطن میں کچھ اور بھی عوامل پوشیدہ ہیں کہ جن میں سے مہم ترین عوامل شیعوں کی مرجعیت اورپیغمبر اسلامۖ کے نواسے حسین کی چودہ سو سال پہلے هونے والی شہادت هے جسے شیعہ حضرات انتہائی جوش و خروش سے مناتے ہیں یہی دو چیزیں ہیں جن کے باعث شیعہ دوسرے مسلمانوں سے زیادہ متحرک دکھائی دیتے ہیں ۔

ا س اجلاس میں یہ طے پایا کہ شیعوں کے خلاف سازش کے لئے ایک الگ شعبہ تشکیل دیا جائے جس کے لئے پہلے ہی مرحلہ میں چالیس ملین ڈالر مختص کیا گیا ۔

اس نے مزید لکھا  هے کہ اس کام کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا گیا

١۔ خبروں کا اکٹھا کرنا ۔

٢۔ شیعوں کے خلاف تبلیغات اور شیعہ و سنی کے درمیان فتنہ و فسادایجاد کرنا۔

٣۔ شیعوں کا مکمل خاتمہ۔

 پہلے مرحلہ کی تکمیل کے لئے ایک تحقیقی ٹیم کو پاکستان سمیت کئی ایک ممالک میں بھیجا گیا ان کی لائی گئی رپورٹوں پرتحقیق کرنے کے بعد تمام دنیا کے شیعوں کے درمیان چند ایک مشترک امور سامنے آئے ہیں 

ان کے مذہب کی قدرت کا اصلی سرچشمہ ان کے مجتہد ہیںجنهوں نے تشیع کی اس طولانی تاریخ میں کبھی بھی غیر شرعی حاکم کی بیعت نہیں کی ، یہاں تک کہ ایک مجتہد وقت (( آیت اللہ العظمی شیرازی )) کے ایک فتویٰ کی وجہ سے برطانیہ ایران میں اپنی کارکردگی نہ دکھا سکا ۔اسی طرح عراق جو شیعوں کا بہت بڑا علمی مرکز تھا صدام اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اسے نہ خرید سکا اور بالآخر اسے بند کرنے پر مجبور هو گیا جبکہ قم نے شاہ ایران کا تختہ الٹ دیا اور آمریکہ سے جنگ کی ، لبنان میں آیت اللہ موسیٰ صدر کی تحریک نے برطانیہ ، فرانس اور اسرائیل کو فرار هونے پر مجبور کر دیا اور اسرائیل کے مقابلہ میں ایک بہت بڑی طاقت حزب اللہ کو تشکیل دیا ۔

 اس بناء پر ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیںکہ

١۔ شیعوں سے ڈائریکٹ مقابلہ کرنے کی صورت میں کامیابی کا امکان بہت کم هے لہذا پس پردہ رہ کر ان کے خلاف کام کیا جائے ۔

٢۔ ایسے افراد جو شیعو ں سے اختلاف رائے رکھتے ہیں انھیں شیعوںکے خلاف منظم و مستحکم کر کے شیعوں کے کافر هونے کے نظریہ کو عام کر کے انھیں معاشرے سے جدا کیا جائے ۔

٣۔جاہل اور کم پڑھے افراد کی مدد کرکے انہیں شیعوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا جائے۔

٤۔ مرجعیت کے خلاف کام کیاجائے تاکہ لوگوں کے درمیان مجتہدوں کے بارے میں نفرت ایجاد کی جاسکے ۔

  ڈاکٹر مائیکل برانٹ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے بارے میں لکھتا هے

یہ مجالس اور ان کے سننے والے ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیںاس لئے کہ اسی عزاداری اور مجالس کی وجہ سے شیعوں کے اندر اس قدر جوش و جذبہ پایا جاتا هے لہذا ہم نے اپنے بجٹ کا کچھ حصہ ذاکرین اور سامعین کے لئے معین کیا هے تا کہ شیعوں میں سے جو لوگ دنیا پرست اورضعیف العقیدہ ہیں ان کی شناخت کر کے ان کے ذریعہ سے عزاداری میں رسوخ پیدا کیا جائے اور پھر ان لوگوں سے مندرجہ ذیل امور کا تقاضا کیا جائے

١۔ ایسے ذاکرین تیار کرنا یا ان کی سر پرستی کرنا جو شیعہ عقائد سے آشنائی نہ رکھتے هوں

٢۔ شیعوں میں سے ایسے افراد کی مدد کرنا جو اپنی تحریر کے ذریعے شیعہ عقائد اور ان کے    علمی مراکز پر حملہ کرکے مذہب شیعہ کی بنیادوں کو منہدم کر سکتے هوں ۔

٣۔ عزاداری میں ایسے رسم و رواج کی ترویج کرنا جن کا مذہب شیعہ سے کوئی تعلق نہ هو ۔ لہذا اس کے لئے ضروری هے کہ بڑے بڑے ذاکروں کی حوصلہ افزائی کی جائے تا کہ تشیع ایک منطقی مذہب سے محض درویشی مذہب میں تبدیل اور اندر سے کھوکھلا هو جائے۔

٤۔ مرجعیت کے خلاف کثرت سے مطالب جمع کرکے دولت پرست مولفین کے حوالے کئے جائیں تاکہ وہ انہیں ذاکروں اور عوام کے درمیان پھیلا سکیں ۔

اس نے اس بات کی تاکید کی هے کہ یوں ٢٠١٠ء تک تشیع کامرکز نابود هو جائے گا اور جو لوگ باقی بچ جائیں گے ان کے اور ان کے مخالفین کے درمیان مسلحانہ جنگ ایجاد کر کے انہیں پراکندہ کر دیا جائے گا ۔(آ موزہ ھای شیعہ ١١، تالیف حسین رجبی؛اخبار جمهوری اسلامی ٥۔٣۔١٣٨٣.)

شیعیان پاکستان اپنے تما م تر فکری اختلافات کے باوجود اہل بیت علیھم السلام کے بیان کردہ فرامین سے راہنمائی لیتے هوئے اپنے درمیان اخوت اور بھائی چارے کو باقی رکھے هوئے دشمنان اسلام کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار کے مانند محکم واستوار کھڑے تھے لیکن افسوس کہ ١٩٨٥ء میں محمد حسین ڈھکو نے (اصلاح الرسوم) نامی خرافات پر مشتمل کتاب لکھ کر اس وحدت وہمدلی کو پارہ پارہ کر دیا ، شیعیان علی پر بدعت کی تہمت لگا کر ان کی صفوںپر ایسی کاری ضرب لگائی جس کا جبران ممکن نہیں هے ۔اور پھر علماء ومراجع عظام کے خلاف زبان درازی کر کے اسلام کے دیرینہ دشمنوں کے ہدف کو عملی جامہ پہنادیا ۔

 

 


source : http://quran.al-shia.org
603
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

امام سجاد (ع) کو تسلي دينا
ماہ رجب کی پہلی تاریخ؛ یوم ولادت با سعادت حضرت ...
فاطمہ (س) کی معرفت لیلۃ القدر کی معرفت ہے
حضرت فاطمہ زہراء، اسوہ کامل
ماہ رمضان کی آمد پر رسول خدا (ص) کا خطبہ
سیرت امام علی (ع) سے چند اقتباسات
علی علیہ السّلام۔ دوہری قوت والی شخصیت
پیغمبراسلام (ص) آخری نبی
حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
فاطمہ(س) اور درس حق طلبی

 
user comment