اردو
Thursday 27th of January 2022
559
0
نفر 0

راسخون فی العلم اہلبیت اطہار (ع) ہیں

اما م علی (ع) ! کہاں ہیں وہ لوگ جن کا خیال ہے کہ ہمارے بجائے وہی ” راسخوں فی العلم“ ہیں حالانکہ یہ صریحی جھوٹ ہے اور ہمارے اوپر ظلم ہے کہ خدا نے ہمیں بلند بنایاہے اور انھیں پست قرار دیا ہے، ہمیں علم عنایت فرمایاہے اور انھیں اس علم سے الگ رکھاہے، ہمیں اپنی بارگاہ میں داخل کیا ہے اور انھیں دور رکھاہے، ہمارے ہی ذریعہ ہدایت حاصل کی جاتی ہے، اور تایکیوں میں روشنی تلاش کی جاتی ہے۔(نہج البلاغہ خطبہ 124 مناقب ابن شہر آشوب 1 ص 285 ، غرر الحکم ص 2826)۔

 امام علی (ع) ! پروردگار نے امت پر اولیاء امر کی اطاعت کو واجب قرار دیاہے کہ وہ اسکے دین کے ساتھ قیام کرنے والے ہیں جس طرح کہ اس نے رسول کی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے” اطیعوا للہ و اطیعو الرسول و اولی الامر منکم“ اس کے بعد ان اولیاء امر ، کی منزلت کی وضاحت تاویل قرآن کے ذریعہ کی ہے” و لو ردوہ الی الرسول و الیٰ اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم“( نساء آیت 83) اگر یہ لوگ مسائل کو رسول اور اولی الامر کی طرف پلٹا دیتے تو دیکھتے کہ یہ حضرات تمام امور کے استنباط کی طاقت رکھتے ہیں ۔ اور ان کے علاوہ ہر شخص تاویل قرآن کے علم سے بے خبر ہے، اس لئے کہ یہی راسخون فی العلم“ آل عمران آیت 7 ( بحار 69 ص 79 / 29)۔

یزید بن معاویہ ! میں نے امام محمد باقر (ع) سے آیت کریمہ” و ما یعلم تاویلہ الا اللہ و الراسخون فی العلم“ کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا کہ پورے قرآن کی تاویل کا راز خدا اور راسخون فی العلم کے علاوہ کوئی نہیں جانتاہے۔ رسول اکرم ان تمام افراد میں سب سے افضل ہیں کہ پروردگار نے انھیں تمام تنزیل اور تاویل کا علم عنایت فرمایاہے اور کوئی ایسی شے نازل نہیں کی جس کی تاویل کا علم انھیں نہ دیا اور پھر ان کے اوصیاء کو عنایت فرمایاگیا اور جب جاہلوں نے یہ سوال کیا کہ ہم کیا کریں ؟ تو ارشاد ہوا ” یقولون امنا بہ کل من عند ربنا “ تمھاری شان یہ ہے کہ سب پر ایمان لے آو اور کہو کہ سب پروردگار کی طرف سے ہے۔

دیکھو قرآن میں خاص بھی ہے اور عالم بھی، ناسخ بھی ہے اور منسوخ بھی ، محکم بھی ہے اور متشابہ بھی اور راسخون فی العلم ان تمام امور کو بخوبی جانتے ہیں ۔( تفسیر عیاشی 1 ص 164 / 6، کافی 1 ص 213 / 2 ، تاویل الآیات الظاہرہ ص 107 ، بصائر الدرجات ص 204 /8 ، تفسیر قمی 1 ص 96 ، مجمع البیان 2 ص 701)۔

امام صادق (ع) ! ہم ہی راسخون فی العلم ہیں اور ہمیں تاویل قرآن کے جاننے والے ہیں ۔( کافی 1 ص 213 / 1 ، بصائر الدرجات 5 ص 204۔

تفسیر عیاشی 1 ص 164 /8 تاویل الآیات الظاہرہ ص 106 از ابوبصیر)۔

امام صادق (ع) ! راسخون فی العلم امیر المومنین (ع) ہیں اور انکے بعد کے ائمہ ۔( کافی 1 ص 213 /3 روایت عبدالرحمان بن کثیر )۔


source : http://www.tebyan.net
559
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

باغ فدک کے تعجبات
نہج البلاغہ میں عبادت کی اقسام:
حضرت امام محمد مھدی علیہ السلام
سیرت حضرت امام محمد باقر(ع)
خوبیوں کا سر چشمہ؛ امام عصر (عج)
قرآن میں انبیاء کرام کے معنوی جلوے
محشر اور فاطمہ کی شفاعت
امام جعفر صادق کے ہاں ادب کی تعریف
حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی سیرت کے بعض ...
حضرت زہرا کے فضائل قرآن کی روشنی میں

 
user comment