اردو
Wednesday 27th of October 2021
631
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

شيطان کي دوسري غلطي ( خدا کي حکمت پر نکتہ چيني )

شيطان کي  پہلي غلطي  ( غرور ، تکبر اور شيطان کے منحرف ہونے کي ابتداء )

 شيطان کي تين مہلک غلطياں

 شيطان نے اپني نافرماني اور سرکشي کي حالت ميں خدا تعالي کے علم و حکمت کو کم  وقعت ليا اپنے علم اور  دانش کو حکمت خدا سے برتر جانا - شيطان نے خود سے کہا !  خدا کيسے مجھے فرمان سجدہ دے رہا ہے جبکہ جانتا ہے کہ ميري تخليق آگ سے ہے اور انسان کي تخليق بے  ارزش مٹي سے ہے -

قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَاْ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ (اعراف12)

 فرمايا: تجھے کس چيز نے سجدہ کرنے سے باز رکھا جب کہ ميں نے تجھے حکم دياتھا؟ بولا: ميں اس سے بہتر ہوں، مجھے تو نے آگ سے پيدا کيا ہے اور اسے تو نے مٹي سے پيدا کيا ہے-

ہمارے معاشرے ميں بہت سے لوگ باطل پر اصرار کرتے ہيں اور  يہ جانتے ہوۓ بھي کہ ہم غلطي پر ہيں اپني غلطي پر ڈٹ جاتے ہيں -  اس کے پيچھے صرف دشمني کا عنصر شامل ہوتا ہے  اور انہيں يہ بھي معلوم ہوتا ہے کہ ان کي يہ غلطي ان کے ليۓ  بہت برا انجام سامنے لاۓ گي -

ہم خود پر نظر ڈاليں اور اپنے اعمال کا محاسبہ کريں -  بعض اوقات ہم خدا کے ذمہ کام لگاتے ہيں اور اپنے مقدر پر شکايت کرتے ہيں ، حاجات اور خواہشيں رکھتے ہيں اور  يہ سب ہمارے ليۓ بہتر نہيں ہوتي ہيں  ليکن اس قدر نالہ کرتے ہيں کہ بالاخر شکايت تک جا پہنچتے ہيں - کيا آپ جانتے ہيں کہ ہمارے اس کام کا کيا مطلب ہے ؟

 يعني يہ کہ اے خدا ميں تجھ سے بہتر جانتا ہوں -  ميں اپنے کام کي بہتري کے متعلق جانتا ہوں اور تو نہيں جانتا - ميرے پاس علم ہے اور تيرے پاس علم نہيں ہے - اور  مختصر يہ کہ بندگي کرنے کي بجاۓ ہم خدائي کرنے لگ جاتے ہيں  اور  اس سے بھي خوبصورت يہ کہ خدا ہماري ان سب نافرمانيوں ، کوتاہيوں ، جہالت ، نادانيوں  کو ديکھتا ہے مگر اس کے باوجود ہم پراپني رحمت کي بارشيں برساتا ہے -  ہمارے سروں پر دست نوازش کرتا ہے اور ہمارے گناہوں کا معاف کرتا ہے اور عذاب اور بلاۆں کو ٹال ديتا ہے  اور  پھر ہماري روزي کو ہميشہ کي نسبت زيادہ ہم تک پہنچاتا ہے -

 شيطان نے اس عظيم غلطي کي بناء  پر خود کو درگاہ خدا ميں رسوا  کيا اور  وہاں سے وہ خارج  ہو گيا -

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ(اعراف /13)

فرمايا: يہاں سے اتر جا! تجھے حق نہيںکہ يہاں تکبر کرے، پس نکل جا! تيرا شمار ذليلوں ميں ہے -

اس غرور اور تعصب نے اس کے ذہن و فکر پر غلبہ حاصل کر ليا جس کي وجہ سے  وہ حقائق کو نہ ديکھ سکا - حقيقت يہ ہے کہ مٹي تمام برکات و فوائد کا منبع ہے اور خدا نے مٹي کو برکت کا سرمايہ قرار ديا ہے -


source : http://www.tebyan.net
631
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

دماغ کي حيرت انگيز خلقت
زمانه رسول (ص) میں حضرتعلی علیه السلام کی زندگی
حدیث نجوم پر عقلی اور نقلی نقد
حسین میراحسین تیراحسین رب کاحسین سب کا(حصہ اول)
تذکرہ موت پيغمبر کے فرمان ميں
ھم کس طرح عدم کی طرف لوٹیں گے۔؟
ولادت باسعادت امام حسن عسکری (ع) مبارک ہو
نیکی اور بدی کی تعریف
دين اسلام کے دائرے ميں محض ايک خارجي اور ظاہري ڈھانچہ ...
خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ(ع) کے اوصاف

 
user comment