اردو
Sunday 13th of June 2021
215
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

سوئس قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی کا قبول اسلام

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سوئٹزر لینڈ کی قومی فٹ بال ٹیم اور برطانیہ کے فل ہام کلب (Fulham Football Club) کے کھلاڑی فلپ سلوائن سینڈرس (Philippe Sylvain Senderos) نے طویل عرصے سے مختلف ادیان و مذاہب کے بارے میں گہرا مطالعہ کرنے کے بعد مانچسٹر کے اسلامی مرکز میں حاضر ہوکر خالص محمدی (ص) اسلام قبول کیا ہے۔ 

سینڈرس اس سے پہلے برطانیہ کے ایورٹن فٹ بال کلب (Everton Football Club) اور آرسنل فٹ بال کلب (Arsenal Football Club ) نیز اطالوی اے سی میلان فٹ بال کلب (A.C Milan Football Club) میں کھیلتے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی تعلیم ادیان و مذاہب میں مکمل کی ہے اور مختلف مذاہب کےبارے میں وسیع مطالعہ کرچکے ہیں۔

ینگ جرنسلٹس کلب کی رپورٹ کےمطابق سینڈرس کا دینی مطالعات سے شوق اس قدر شدید ہے کہ انھوں نے کچھ عرصہ قبل آرسنل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر فٹ بالر نہ ہوتے تو کسی گرجاگھر میں جاکر پادری کے فرائض انجام دینے کو ترجیح دیتے اور گرجا گھر میں ہی اپنی زندگی بسر کرتے۔ 

فلپ عیسائیت سے نفرت نہيں کرتے تھے اور اس دین کے بارے میں بھی وسیع مطالعہ رکھتے ہیں لیکن انھوں نے عیسائیت کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی اسلام کا مطالعہ کیا ہے اور اسلام کی حقانیت ان کے لئے عیاں ہوچکی ہے چنانچہ انھوں نے اسلام کی حقانیت اور جامعیت کے پیش نظر مذہب تشیع کو زندہ ترین عالمی مکتب اور کامل ترین اسلام کی حیثیت سے گلے لگایا اور مانچسٹر کے اسلامی مرکز میں حاضری دے کر ایک شیعہ عالم دین کے سامنے شہادتین زبان پر جاری کردیں "اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ" اللہم صل علی محمد و آل محمد۔

شبستان نیوز ایجنسی نے فلپ کے قبول اسلام کے موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: اس سے قبل بھی کئی نامی گرامی فٹ بالر دین اسلام آغوش میں پناہ لے چکے ہیں لیکن فلپ کا قبول اسلام اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ وہ اس وقت مغربی لندن کے فلہام فٹ بال کلب کے کھلاڑی ہیں اور یہ کلب ایک مصری سرمایہ دار کی ملکیت ہے اور ان کے کلب کے قریب کئی دوسرے مراکز بھی ہیں لیکن وہ شہادتین کو شیعہ طرز پر زبان پر لانے کی غرض سے 100 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے مانچسٹر کے اسلامی مرکز میں حاضر ہوئے۔

واضح رہے کہ امریکہ، یورپ اور عالمی صہیونیت کی ہزار سازشوں اور اسلامو فوبیا تحریک کے باوجود دنیا کی سطح پر اسلام کی طرف رجحان بہت شدید اور وسیع ہے اور اس سے پہلے فرانک ریبیری (Franck Ribery)، تیری ہینری (Thierry Henry)، رابین وان پرسی (Robin Van Persie)، عمر ڈف (Umar Duff)، ایبل لوئس سلوا ڈي کوسٹا خاوئر (Abel Luís da Silva Costa Xavier)، جو فیصل خاوئر کہلائے، ڈیویڈ ٹریزیگٹ (David Trezeguet) اور نیکولا آنلکا (Nicolas Anelka) نے بھی اسلام قبول کیا ہے۔


source : http://www.abna.ir/
215
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

سوئس قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی کا قبول اسلام
معاشرہ كيا ہے؟
مسلمان ایک جسم کی مانند
صحابہ قرآن میں
جوانوں کی فکری تشویش
يورپي معاشرے ميں عورت کے متعلق راۓ
تکبر باعث نفرت ہے
اخلاق اور مکارمِ اخلاق
اہل سنت اور واقعہ غدیر
عظیم مسلمان سا‏ئنسدان " ابو علی سینا "

 
user comment