اردو
Wednesday 10th of August 2022
0
نفر 0

کردارِ شیعہ

ہمارا شیعہ وہ ہے جو نیک کام کو مقدم رکھے اور برے کاموں سے پرہیز کرے اور اللہ کی رحمت کے شوق میں بڑے کام سرانجام دے۔ ایسا شخص ہم سے ہے اور ہماری طرف ہے اور ہم جہاں ہوں گے وہ ہمارے ساتھ ہوگا۔

اوصافِ شیعہ

اصبغ بن نباتہ راوی ہیں کہ ایک دن امیرالمومنین علیہ السلام گھر سے باہر تشریف لائے جب کہ ہم ایک جگہ اکٹھے ہو کر بیٹھے تھے۔

آپ  نے فرمایا: تم کون ہو اور یہ تمہارا اجتماع کیسا ہے؟

ہم نے کہا: امیرالمومنین ! ہم آپ  کے شیعوں کی ایک جماعت ہیں۔

آپ  نے فرمایا: پھر کیا وجہ ہے مجھے تم میں شیعوں کی علامات کیوں دکھائی نہیں دیتیں؟

ہم نے کہا: شیعوں کی علامات کیا ہیں؟

آپ  نے فرمایا: نمازِ شب کی وجہ سے ان کے چہرے زرد ہوتے ہیں۔ خوفِ خدا سے ان کی آنکھیں اشک ریز ہوتی ہیں۔ روزوں کی وجہ سے ان کے لب خشک ہوتے ہیں اور ان پر عاجزی کرنے والوں کا غبار ہوتا ہے۔

شیعوں کا چال چلن

ابوبصیر کا بیان ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ مولا! میری جان آپ پر قربان ہو‘ ہمارے لیے اپنے شیعوں کے اوصاف بیان فرمائیں؟

امام  نے فرمایا: ہمارا شیعہ وہ ہے کہ جس کی صدا اس کے کان تک نہ پہنچے اور اس کے بدن کی دشمنی کسی دوسرے تک تجاوز نہ کرے‘ بارش کو کسی اور کے دوش پر نہ گرائے‘ بھوک سے مر جائے لیکن اپنے برادرِ دینی کے علاوہ کسی کے سامنے دست دراز نہ کرے۔ ہمارا شیعہ کتے کی طرح حفاظت نہیں کرتا اور کوے کی طرح طمع و لالچ نہیں کرتا۔ ہمارا شیعہ سادہ اور عامیانہ زندگی بسر کرتا ہے اور وہ خانہ نشینی کی زندگی گزارتا ے۔ ہمارے شیعہ اپنے اموال سے دوسروں کا حق ادا کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے مواسات کرتے ہیں اور موت کے وقت جزع فزع نہیں کرتے اور ایک دوسرے کی قبروں کی زیارت کرتے ہیں۔

ابوبصیر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت اقدس میں عرض کیا: میری جان آپ  پر قربان ہو‘ ایسے افراد کہاں ڈھونڈیں؟

امام علیہ السلام نے فرمایا:

زمین کے اطراف و اکناف‘ بازاروں کے درمیان‘ جس طرح کہ پروردگار عالم نے اپنی کتاب مجید میں ارشاد فرمایا:

اَذِلَّةِ عَلٰی الْمُؤمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلٰی الْکَافِرِیْنِ

مومنین کے مقابل میں فروتر ہیں اور کافروں کے مقابل میں عزت دار ہیں۔

عبدالرحمن بن کثیر کا بیان ہے کہ چھٹے لالِ ولایت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کیا کہ آپ  نے فرمایا:

امیرالمومنین علیہ السلام کا ایک عظیم عبادت گزار ہمام نامی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا:

اے امیرالمومنین ! میرے لیے متقی و پرہیزگار لوگوں کے اوصاف اس طرح بیان کریں گویاکہ میں ان کو دیکھ سکوں؟

علی علیہ السلام نے اس کے جواب میں تعقل کیا اور پھر فرمایا:

اے ہمام! تیرے اوپر افسوس ہے ‘ خدا سے ڈر‘ اور نیکوکار بن جا‘ کیونکہ خدا ایسے لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی اور نیکوکار ہیں۔

مومن غضب و رضا میں بھی حداعتدال میں رہتا ہے

صفوان بن مہران کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

مومن تو بس وہ ہے کہ جب اسے غصہ آئے تو اس کا غصہ اسے حق کی حدود سے باہر نہ نکالے اور جب وہ راضی ہو تو اس کی رضا اس کو باطل میں نہ لے جائے اور جب اسے قدرت حاصل ہو تو اپنے حق سے زیادہ مال نہ لے۔

تقویٰ کا دارومدار رونے پر ہی نہیں ہے

علی بن عبدالعزیز راوی ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

علی بن عبدالعزیز! جو لوگ بظاہر دین دار ہیں ان کا رونا کہیں تمہیں فریب میں نہ ڈال دے۔ یاد رکھو تقویٰ وہ ہے جو دل میں ہو۔

اسرارِ آل محمد  کے افشا کرنے سے ممانعت

عبداللہ بن سنان راوی ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے سنا:

بندگانِ خدا! میں تمہیں پروردگار کے تقویٰ کی سفارش کرتا ہوں اور (اسرار آل محمد فاش کرکے) لوگوں کو اپنی گردنوں پر سوار نہ کرو ورنہ ذلیل ہوجاؤ گے۔

اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرما رہا ہے: ”لوگوں سے اچھی گفتگو کرو“۔

پھر آپ  نے فرمایا:

تم لوگوں کے مریضوں کی عیادت کرو اور ان کے جنازوں میں شمولیت اختیار کرو اور ان کے فائدہ اور نقصان کے لیے گواہیاں دو اور ان کی مساجد میں ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھو اور ان کے حقوق ادا کرو۔

یاد رکھو کسی بھی قوم کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا سخت مصیبت ہو سکتی ہے کہ وہ گمان کریں کہ وہ ایک گروہ کی پیروی کر رہے ہیں اور وہ ان کے فرمان کو قبول کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود وہ اپنے رہبروں کے امرونہی کی پیروی نہ کریں اور ان کی رازدارانہ گفتگو کو دشمنوں کے سامنے نقل کریں۔ پھر ان کے دشمن ان کی باتیں سن کر ہمارے پاس آئیں اور کہیں کہ لوگ اس طرح کی روایات ک رہے ہیں اور اس کے جواب میں ہم یہ کہیں ہم ایسی بات کرنے والے سے بیزار ہیں اور یوں وہ ہماری طرف سے بیزاری کے حق دار بن جائیں۔

شیعوں سے امام  کی توقعات

عبداللہ بن زیاد راوی ہیں کہ ہم نے امام جعفر صادق علیہ السلام پر سلام کیا اور ان سے عرض کیا:

”فرزند رسول ! ہم خانہ بدوش لوگ ہیں اور آپ کے پاس ٹک کر نہیں رہ سکتے لہٰذا آپ  ہمیں دین کی ضروری باتوں کی نصیحت کریں۔

آپ  نے فرمایا: میں تمہیں پروردگار کے تقویٰ‘ راست گوئی‘ ادائیگی امانت‘ اپنے ہم نشینوں سے حسنِ سلوک‘ سلام عام کرنے‘ ضرورت مندوں کو کھانا کھلانے کی وصیت کرتا ہوں اور میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اپنے مخالفین کی مساجد میں نماز پڑھو اور ان کے بیماروں کی عیادت کرو اور ان کے جنازوں کی مشایعت کرو۔

میرے والد علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا تھا کہ ہمارے شیعہ اپنے دور کے بہترین افراد ہوا کرتے تھے ۔ اگر کوئی فقیہ ہوتا تھا تو اس کا تعلق ہمارے شیعوں سے ہوتا تھا اوراگر کوئی موٴذن یا کوئی امام یا کوئی امین ہوتا تھا تو ان سب کا تعلق ہمارے شیعوں سے ہوا کرتا تھا۔ تم بھی انہی شیعوں جیسے شیعہ بنو‘ اپنے عمل و کردار سے لوگوں کے دلوں میں ہماری محبت پیدا کرو اور اپنی بدکرداری سے ہمیں قابلِ نفرت نہ بناؤ۔

اوصافِ شیعہ

حمران بن اعین راوی ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

ایک دن امام سجاد علیہ السلام اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک گروہ نے ان کے دروازے پر دستک دی۔ آپ نے کنیز سے فرمایا کہ باہر جاکر دیکھو کون آیاہے؟

دستک دینے والوں نے کنیز سے کہا کہ آپ مولا سے عرض کریں کہ دروازے پر آپ کے شیعوں کا گروہ آیا ہے۔ لفظ شیعہ سن کر امام سجاد بڑی تیزی سے دروازے پر آئے اور تیزی کی وجہ سے آپ کے گرنے کا بھی خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ جب آپ  نے دروازہ کھول کر انہیں دیکھا تو آپ  فوراً واپس آگئے اور فرمایا:

انہوں نے جھوٹ کہا۔ ان کے چہروں پر شیعہ ہونے کی علامات ہی کہاں ہے؟ آثار عبادت کہاں ہیں؟ سجدہ کی علامات کہاں ہیں؟ ہماریشیعوں کی تو پہچان عبادتِ الٰہی اور بالوں کی پراگندگی ہے۔ عبادت یعنی طویل سجدوں کی وجہ سے ان کے ناک زخمی ہوتے ہیں اور عبادت کی کثرت سے ان کی پیشانیوں اور سجدے کے مقامات پر گٹے پڑے ہوتے ہیں۔ روزوں کی وجہ سے ان کے شکم پشت سے لگے ہوتے ہیں اور ان کے ہونٹ خشک ہوتے ہیں۔ عبادت کی وجہ سے ان کے چہرے متورم ہوتے ہیں اور شب بیداری اور روزوں کی وجہ سے ان کے اجسام کمزور ہوتے ہیں۔ جب لوگ خاموش ہوتے ہیں تو وہ تسبیح میں مصروف ہوتے ہیں اور جب لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں تو وہ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اور جب لوگ خوشیوں میں مصروف ہوتے ہیں تو وہ غمگین ہوتے ہیں اور دنیا سے بے رغبتی میں مصروف ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو رحمت و شفقت پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ حصول جنت میں مشغول رہتے ہیں۔


source : http://www.rizvia.net
273
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:
لینک کوتاه

latest article

اخلاق کی لغوی اور اصطلاحی تعریف
مثالی معاشرے کی ضرورت و اہمیت:
پردہ کا فلسفہ
امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی منزلت اور شرائط
فرانس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا طوفان
سیرت رسول اور سیرت عمر میں اختلاف
مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق
اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں
مذہبی سوچ اور اخلاقیات کا جنازہ
کربلا اور اصلاح معاشرہ

 
user comment