اردو
Thursday 30th of June 2022
534
0
نفر 0

حضرت آیة اللہ العظمی حاج شیخ محمدتقی بہجت

حضرت آیة اللہ العظمی حاج شیخ محمدتقی بہجت سن ۱۳۳۴ ہجری قمری میں فومن نامی شہرمیں پیداہوئے ۔ آپ کے والدکربلائی محمودبہجت اپنے علاقہ کی ایک مورد اعتماد شخصیت تھے۔

آیة اللہ بہجت نے  اپنی ابتدائی تعلیم فومن کے مکتب خانہ میں حاصل کی اور ادبیات قمری پڑھنے کے بعد وہ قم آئے اور یہاں پر تھوڑا عرصہ رکنے کے بعد کربلائے معلی تشریف لے گئے ۔ وہاں پر انہوں نے آیة اللہ العظمی ابوالقاسم خوئی سے کسب فیض کیا۔

سن ۱۳۵۲ ہجری قمری میں اپنی تعلیم کو پورا کرنے کے ہدف سے انہوں نے نجف کا سفر اختیار کیا اور وہاں پر آخوند خراسانی کے ایک شاگرد سے علم حاصل کرتے ہوئے آیة اللہ آقا ضیاء عراقی اورآیة اللہ نائینی کے درس میں شریک ہو نے لگے ۔ اس کے بعدانہوں نے آیة اللہ حاج شیخ محمدغروی اصفہانی سے بھی استفادہ کیا۔

انہوں نے آیة اللہ العظمی حاج سیدابوالحسن اصفہانی اورحاج شیخ محمدکاظم شیرازی سے بھی علم حاصل کیا ۔ ا نہوں نے علم فقہ واصول کے علاوہ ابن سیناکی کتاب اشارات اورملاصدراکی کتاب اسفارکومرحوم سیدحسین بادکوئی سے پڑھا۔

سن ۱۳۶۴ ہجری قمری میں ایران واپس آکرقم میں آیة اللہ بروجردی اورآیة اللہ کوہ کمری سے فقہ واصول میں استفادہ کیا۔

وہ   تقریبا ۵۰ سال کے ہیںاور اپنے گھر پر ہی فقہ واصول کادرس خارج کہ تے ہیں ۔وہ اس وقت قم کے عظیم علماء میں  گنے جاتے ہیں اوراپنے زہدو عرفان کے لئے مشہورہیں۔


source : http://www.tebyan.net
534
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:
لینک کوتاه

latest article

قبلہ اول کے خلاف سنگین صہیونی اقدامات
پڑوسى کے حقوق
فرقہ واریت اور قوم پرستی کے خاتمے کیلئے ہمیشہ ...
اہل سنت اور واقعہ غدیر
عاشورا اور عصر حاضر میں اسلامی معاشرہ کی ترقی میں ...
تربیت کی اہمیت
صہیونیت، فسطائیت کا دوسرا رخ
میاں بیوی کے باہمی حقوق
فرقۂ سلفیہ پر ایك نظر
تشہیری اور برقی دورمیں مسلمان اور اسلامی تہذیب

 
user comment