اردو
Wednesday 22nd of September 2021
940
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

آئمہ کی زندگی میں سخاوت اور جود وکرم!

اخلاقی اصولوں میں سے ایک ائمہ علیھم اسلام کی حیات مبارک مین بڑی کثرت سے نظر آتا ہے۔ انکی سخاوت اور جود وبخشش ہے۔ اپنی زندگیوں میں انکا ہاتھ بڑا کھلا تھا اور وہ بیوؤں اور ضرورتمندوں اور محتاجوں کو دل کھول کر امداد کرتے اور اپنی اسی کرم نوازی سے انہوں نے بہت سے لوگوں کی زندگی کو سرو سامان بخشا۔

اپنے مطلب کو واضع کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے ہم اس اہم اخلاقی اصول کے معنی واضع کریں،پھر قرآن اور روایات کی روشنی میں اسکا جائزہ لیں اور آخر میں ہم ائمہ کی زندگیوں میں اس اعلی اخلاقی خصلت کے چند روشن نمونوں کا ذکر کریں گے۔

سخاوت کے معنی

سخاوت یا جود وکرم بخل اور کنجوسی کا متضاد ہے۔ سخاوت کے معنی یہ ہیں کہ مناسب موقعوں پر انسان اپنا ہاتھ اور دل کھلا کر رکھے اور وہ مادی اور معنوی وسائل اور امکانات جو اس کے اختیار مین ہین انہیں صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھے بلکہ اپنے جود وبخشش سے دوسروں کو فقر اور بیچارگی سے نکالے اور بینواؤں کے کاندھوں کا بوجھ ہلکا کرے۔مشکلات کو حل کرے دکھوں کو بر طرف کرے اور دوسروں کو ان نعمتوں سے جو خدا نے اسے عطا کی ہیں،خواہ مادی ہو یا معنوی مانند علم ودانش،فائیدہ پہنچائے۔

لفظ سخاوت دراصل''سخا''سے نکلا ہے اور سخا الٹا کرو یسخوھا'' کے معنی ہیں آگ اپنے اردگرد کو روشن کرتی ہے۔گھر کے محیط کو گرمی اور حرارت بخشی ہے اور دیگ کے نیچے کھانا پکا کر تیار بھی کردیتی ہے۔سخاوت بھی جو اسی سے نکلتی ہے۔ضرورت  مندوں گھرانوں کیلئے روشنی اور حرارت وگرمی پہنچانے کا باعث بنتی ہے لہذا امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''سخی کریم شخص وہ ہے جو اپنے مال کو صحیح اور بر حق جگہ خرچ کرے(بحار الانوار،ج٧١ص،٣٥٣)

یہ امر قابل توجہ ہے کہ سخاوت اور اسراف(فضول خرچی) کے درمیان حد بہت باریک فرق ہے۔ممکن ہے بعض لوگ اسراف اور ضائع کرنے کوجو گناہان کبیرہ میںسے ہے سکاوت کا نام دیں۔

لہذا خوب توجہ رکھنی ضروری ہیکہ سخاوت،حق وعدالت کو ملحوظ رکھتے ہعئے ایک حد تک جود وبخشش کا نام ہے ۔اسی بنا پر امام حسن عسکری نے فرمایا:''بے شک سکاوت ایک انداز تک ہے کہ اگر اس اندازہ سے بڑھ جائے تو اسراف ہے''(بحار الانوار،ج٦٩ص٤٠٧)

اور قرآن مجید میں سورہ اسراء کی انتیسویں آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا ئے متعال اپنے پیغمبر ۖ سے فرماتا ہے: اپنے ہاتھوں کو اپنی گردن سے آویزان نہ کر لو(جود وبخشش ترک نہ کرو) اور نہ  ہی اپنے ہاتھ کو حد سے کھول دو کہ تمہاری سرزنش کی جائے اور اپنے کام سے رہ جاؤ۔

یہ بیان کرنا بھی لازم ہے کہ عام طور  سخاوت سے مراد عطا وبخشش کے موقع پر کھلے دل کا مظاہرہ ہے لیکن بعض روایت کے مطابق دوسروں کے مال سے بے اعتنائی اور رغبت نہ رکھنے کے معنی میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ علی بن ابی طالب فرماتے ہیں۔

''لوگوں کے مال سے نفس کی بے اعتنائی اور سخاوت وبذل وبخشش کی سخاوت سے بہتر ہے۔''(میزان الحکمة ،ج١ص ٣٧)

سخاوت قرآن کی نظر میں:

 قرآن میں کلمہ سخاوت استعمال نہیں ہوا لیکن یہ معنی دوسری مختلف تعبیرات مثلا بخل کی مذمت،انفاق اور دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی تعریف وغیرہ کہ ذریعہ زیر بحثث اایا ہے۔سورہ فرقان کی بیسویں آیت میں عباد الرحمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:'' اور وہ لوگ کہ جو جب راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ ہاتھ کھینچ لیتے ہیں اور وہ ان دونوں کے میاں(راہ میانہ پر) قائم ہیں''

سورہ آل عمران کی آیت ١٨٠ میں ہم پڑھتے ہیں۔ خیال نہ کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں ان میں سے جو اپنے فضل سے انہیں عطا کیا،کہ یہ(بخل) انکے فائدہ مند ہے بلکہ یہ انکے لئے شر ہے۔جلدی ہی قیامت کے دن وہ مال جس کیلئے انہوں نے بخل کیا طوق کے مانند انکے گردنوں میں آویزان کیا جائے گا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سخاوت کا نہ ہونا اور ترک جانا واجب مالی انفاق کے ترک ہونیاور مال دنیا کے انبار جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ پھر قیامت میں تجسم اعمال ۔۔۔کے تحت مال دنیا کے یہ انبار ایک بھاری طوق کی طرح۔۔شخص کی گردن میں ڈالے جائین گے۔

مندرجہ بالا آیت میں''جو کچھ خدا نے اپنے فضل سے انہیں۔۔۔ہے''کا جملہ یہ بتارہا ہے کہ مالک حقیقی خدا ہے اموال میں۔۔کچھ کسی کو نصیب ہوا ہے اسکی فضل وکرم کی وجہ سے ہے سزاوار نہیں کہ انسان مالک حقیقی کی راہ میں جود و بخشش سے کرتے ہوئے بخل کا راستہ اختیار کرے۔

سخاوت ائمہ کی روایت میں:

 پیغمبر اکرمۖ اور ائمہ اپنی گفتار میں اور اپنی عملی اور کردار میں سخاوت اور راہ حق میں جود وبخشش کو بے پناہ۔۔دیتے۔اور اپنے ماننے والوں کومختلف عبادتوں میں اس سے خصوصیت کو اپنانے کی دعوت دیتے۔مثلا پیغمبر اکرمۖ نے فرمایا:سخی انسان خدا،لوگوں  اور بہشت سے قریب ہوتا۔۔۔ (بحار الانوار،ج٧٣ص٣٠٨)

آنحضرتۖ نے حاتم طائی کے بیٹے عدی سے کہا( جسکا باپ حالت کفر پر مرا لیکن سخی شخص تھا)۔تمہارے باپ پر سے شدید عذاب اسکی سخاوت کی وجہ سے بر طرف کردیا گیا۔(بحارالانوار،ج٧١ ص٣٥٤)۔

 امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: گناہکار لیکن سخی نوجوان خدائے عزوجل کے نزدیک عبادت گزار لیکن کنجوس بوڑھے سے زیادہ محبوبہے۔(بحارالانوار،ج٧٣ص٣٠٧)

حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: سخی شخص دوسرے کے غذا میں شریک ہوتا ہے تاکہ وہ بھی اسکی غذا میں سے بھی کھائیں لیکنکنجوس شخس دوسروں کے غذا میں نہیں کھاتا تاکہ وی بھی اسکے کھانے میں سے نہ کھائیں۔ (بحارالانوار،ج٧١ص٢٥٤)

امیر المؤمنین علی  نے فرمایا:'' سخاوت محبتوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے اور اخلاق کو زینت بخشتی ہے''

  پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین  کی سخاوت کے چند برجستہ نمونے:

پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین اپنی حیات مبارک میں غیر معمولی سخی واقع ہوئے ہیں اور انکے تمام زندگی سراسربذل وبخشش سے بھری  ہے۔ یہاں تک کہ جب کوئی کتاب ان ہستیوں کے متعلق لکھی گئی ہین تو اسکا ایک حصہ انکے جود وبخشش کیلئے ضرور مخصوص کیا گیا۔۔

 یہاں ہم آپ کی توجہ ایسے ہی چند برجستہ نمونوں کی طرف مبذول کرائیں گے۔

پہلا نمونہ:

 پیغمبر اکرمۖ طواف کعبہ میں مشغول تھے آپ نے دیکھا کہ ایک شخص غلاف کعبہ کو تھام کے کہہ رہا ہے:''پروردگارا! اس گھر کی حرمت کا واسطہ مجھے بخش  دے''آپۖ نے پوچھا:''تیرا گناہ کیا ہے؟

اس نے جواب دیا: میں ایک مالدار شخص ہوں،جب بھی کوئی ضرورتمند میرے پاس آکر مجھ سے سوال کرتا ہے،تو گویا آگ کا شعلہ میری طرف رخ کرلیتا ہے۔

پیغمبر اکرمۖ نے اس سے فرمایا:'' مجھ سے دور ہوجاؤ اور مجھے اپنی آگ میں نہ جلاؤ۔''پھر فرمایا: اگر تو رکن ومقام کے درمیان(کعبہ کے ساتھ)دوہزاررکعت پڑھے اور اس قدر اشک بہائے کہ تیرے آنسو ؤں سے ایک نہر جاری ہوجائے لیکن بخل اور کنجوسی کی صفت لئے مرجائے تو اہل دوذخ میں سے ہوگا۔(جامع السعادت،ج٢ص١٥٤)

دوسرا نمونہ:

ایک مرتبہ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب  علیہ السلام نے پانچ مرتبہ ایک شخص کیلئے کھجوریں بھیجیں۔دوسرے شخص نے آپ پر اعتراض کیا اورکہا؛ اس نے تو آپ سے کچھ نہیں مانگا ایسے میں تو اسکے لئے ایک مرتبہ ہی کافی تھا۔ امیرالمؤمنین نے غصہ سے فرمایا:

''خدا مؤمنین میں تجھ جیسوں کو نہ بڑھائے۔ میں بخش رہا ہوں اور تو بخل کررہا ہے (وسائل الشیعہ،ج٦ص٣١٨)

تیسرا نمونہ:

محفن بن ابی محفن نامی شخص معاویہ کے پاس آیا اور انعام واکرام  کے لالچ میں علی کی تحقیر کرنے کی یوں کوشش کی۔

'' میں عرب کے بخل ترین شخص(علی) کے پاس سے تیری طرف آرہا ہوں'' معاویہ اسکے باوجودیکہ اسکے کہ علی کا سخت ترین دشمن ہے لیکن اس گٹھیا الزام تراشی کو برداشت نہ کرسکا اور اسے بولا:علی کس طرح عرب کا بخیل طرین فرد ہوسکتا ہے؟خدا کی قسم  اگر علی کے پاس دو کمریمہوں ایک سونے سے بھرا ہوا ہے اور دوسرے بھوسے سے تو اسکا سونے سے بھرا ہو کمرہ بھوسے والے کمرے سے پہلے خالی ہوجائے گا(اللہ کی راہ مین خرچ کرکے) (بحارالانوار،ج٣٣ص ٢٥٤)

چوتھا نمونہ:

 امام سجاد مراسم غج کی ادائگی کیلئے مکہ روانہ ہونے کا قصہ رکھتے تھے۔آپ مدینہ سے روانہ ہوئے ابھی آپ تقریبا دو کلو میٹر دور حشرہ نامی مقام پر پہنچے تھے کہ آپکی بہن کا قاصد پہنچا اور دو ہزار درہم امام کی خدمت مین پیش کئے اور عرض کی ،آپ کی بہن نے یہ رقم بھجوائی ہے کہ آپ سفر کے خرچ کیلئے استعمال کیجئے''۔

امام سجاد نے وہ رقم لے لی اور کچھ ہی فاصلہ طے کرنے تک تمام رقم ضرورت مندوں میں تقسیم کردی(فصول المہمہ ص١٨٩)۔

پانچواں نمونہ:

 ایک حاجت مند امام صادق علیہ السلام کی خدمت میںآیا ۔آپ نے اسے ٤٠٠ درہ عطا کئے ۔اس نے شکر یہ ادا کیا اور رخصت ہوگیا ۔امام نے کسی کو اس کے پیچھے بھیج کر اسے بلوایا جب وہ آیا تو امام نے ایک نگینہ اسے دے کر فرمایا :اس کی قمیت دس ہزار درھم ہے۔ جب ضرورت پڑے تو اسے اسی قیمت میں فروخت کرنا''اس نے عرض کی:یہ دونوں  چیزیں آپ نے ایک ساتھ ہی کیوں نہ دے دیں اور مجھے دوسرے مرتبہ کیوں بلوایا؟امام صادق نے قول رسول اکرم  ۖ نقل کرتے ہوئے فرمایا: 

''بہترین صدقہ وہ ہے جو ضرورت مند کو بے نیاز کردے''(بحار ج٤٧ص٦١)

چھٹا نمونہ:

 امام صادق کے اصحاب میں سے ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں امام  کی خدمت میںتھا ایک محتاج آیا اور مدد چاہی آپ نے کثیر مقدار اسے عطا فرمائی۔پھر تیسرا آیا امام  نے اس کو بھی اسی طرح عطا کیا اس کے جانے کے بعد چوتھا شخص آیا ۔امام  نے اس کی مدد نہ فرمائی اورفرمایا:خدا تمھیں وسعت (رزق میں)عطا کرے''پھر فرمایا:ااگر کسی کسی کے پاس ٣٠ یا ٤٠ ہزار درھم ھوں اور وہ تمام نیک کاموں میں خرچ کر دے لیکن اپنے لئے کچھ نہ بچائے تو وہ ان میں سے ہے جن کی دعا قبول نہیں ہوتی۔(وسائک،ج٦ ص٢٩٣)

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سخاوت کا اثر رشتداروں اور اہل خانہ پربھی ہونا چاہیے بلکہ روایت کے مطابق اسکا درجہ دوسروں کیلئے انفاق سے  پہلے ہے۔

ساتواں نمونہ:

 دوسرے عباسی طاغوتی خلیفہ ،منصور دوانقی ایک سال عید نوراز کے موقعہ پر امام کاظم کو مجبور کیا کہ دربار میں جشن کیلئے  شرکت فرمائیں اور آنے والوں کے ہدایا اور تحائف کو قبول کریں۔امام اس میں شریک ہوئے اس موقع پر بہت سے تحائف لائے گئے،امام نے غلاموں  میں سے ایک سے فرمایا: کہ ان تحائف کی لیسٹ بنالے آخر میں ایک نیک طینت بوڑھا شخص امام  کی خدمت میں آیا اور مبارکباد پیش کی اور عرض کیا:مال دنیا میرے پوس نہیں لہذا آپکے لئے کوئی تحفہ نہ لا سکا لیکن اسکی بجائے میں آپکی خدمت میں تین شعر ہدیہ کرنا چاہتا ہوں جو میرے جد نے آپکے جد بزگوار(حضرت  امام حسین) کے مرثیہ میں کہے ہیں۔پھر اس نے یوں اشعار پڑھے۔(ترجمہ:حیرت زدہ ہوں ان تلواروں کی تیزی پر جنکی کاٹ روز عاشور اتیرے غبار آلود پیکر پر وارد ہوئی۔

ان حیرت زدہ ہوں ان تیروں پر جو حرم کی بیبیوں کی آنکھوں کے سامنے تیرے جسم پر لگے جبکہ وہ بیبیاں تیری جد کو پکا ررہی تھیں اور انکی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں۔ کیونکر وہ تیری تیرے مقدس اور باشکوہ پیکر سے دور نہ ہوگئے اور کسی دوسری جگہ نہ جا لگے۔؟

امام  نے فرمایا:''میں تیرا ہدیہ قبول کرتا ہوں۔یہاں بیٹھ،خدا تجھے برکت عطا کرے:''

پھر امام نے خادم سے فرمایا:بادشاہ(منصور) کے پاس جاؤ اور تمام تحائف جو کائے گئے ہیں انکی لیسٹ اسے دکھا کر پوچھو کہ انکا کیا کرنا ہے،خادم گیا اور واپس آکر کہا: منصور کہتا ہے:وہ سب آپکے ہوئے:اب آپ کو اختیار ہے،''امام نے وہ تمام تحائف اس بوڑھے کو عطا فرمائیے(مناقب آل ابی طالب ،ج٤ص٣١٩)

نواں نمونہ:۔

امام رضا  خراسان تشریف لانے کے تقریبا تین سال بعد شہید کئے گئے آپکے اکلوتے فرزند امام محمد تقی جو اس وقت مدینہ میںتھے اور آبکا سن تقریبا سات سال کا تھا۔ امام رضا کواطلاع ملی کہ غلام اپکے فرزند امام جواد کو خصوصی دروازے سے باہر لاتے ہیں تاکہ ناداروں اور بینواؤں کی آپ تک رسائی نہ ہو۔امام نے اپنے بیٹے امام جواد  سے یوں لکھا:''مجھے خبر ملی کہ جب تم گھر سے باہر آنا چاہتے ہو تو دوست اور غلام تمہیں عام دروازے سے نہیں بلکہ خصوصی دروازے سے باہر لاتے ہیں وہ ایسا اسلئے کرتے ہیں کہ تمہارے ہاتھ سے غریبوں کو خیرات نہ پہنچے۔میں تمہیں اپنے حق کا قسم دیتا ہوں کہ تمہارا آنا جانا بڑے (عام) دروازے سے ہی سے ہوا کرے اور نکلتے  وقت اپنے ساتھ درہم ودینار ہمراہ رکھو جو کوئی مدد چاہے اسے عطا کرو۔اپنے چچاؤں کو ٥٠ دینار اور پھپھیوں کو ٢٥ دینار سے کم نہ دو۔اسے زیادہ جتنا دینار چاہو تمہین اختیار ہے۔میں چاہتا ہوں کہ پروردگا تمہارے مقام کو بلند کرے۔پس اپنا ہاتھ کھلا رکھو اور انفاق کرو اور پروردگاصاحب عرش پر توکل کرو اور تنگدستی اور تھوڑا پڑ جانے کا خوف دل میں نہ آنے دو۔(عیون الاخبار الرضا،ج٢ص٨)


source : http://basharatkmr.com
940
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

انتظارِ امام مہدی (ع) اور تشیع کا سفرِ علم
قرآن کے بارے میں حضرت علی (ع) کی وصیت تفسیر بالرائے
فضائلِ علی علیہ السلام روایات کی نظر میں
امام جواد علیہ السلام کی نماز،زیارت اور حرز
پیامبر رحمت(ص) کی عملی زندگی کے چند نمونے -1
انبیاءکرام اور غم حسین علیہ السلام
حجابِ حضرت فاطمہ زھرا (س) اور عصر حاضر کی خواتین
امام جواد علیہ السلام کے اقوال زریں
امام سجاد(ع) واقعہ کربلا ميں
حضرت علی علیه السلام کے چند منتخب خطبے

 
user comment