اردو
Tuesday 18th of May 2021
1387
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

بعثت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)

ستائیس رجب کو چالیس سال کی عمر میں کوہ حرا ء میں سید کائنات حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ) مبعوث بہ رسالت ہوئے ۔

جبرئیل نازل ہوئے اور عرض کیا: اقرا باسم ربک الذی خلق، خلق الانسان من علق، سورہ اقراء کی پانچ آیتوں تک۔ پھر وحی الہی پہنچائی۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ)جب کوہ حراء سے باہر آئے تو انوار جلالت نے آپ کو احاطہ میں لے رکھا تھا، جب آپ گھر پہنچے تو آپ کا سارا گھر منور ہوگیا، حضرت خدیجہ (علیہا السلام) نے پوچھا : یا محمد یہ کیسا نور ہے جس نے تمہارا احاطہ کررکھا ہے ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: نبوت کا نور ہے، لہذا کہو : لا الہ الا اللہ ، محمد رسول اللہ، حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا) نے کہااورپیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر ایمان لے آئیں، پھر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: مجھے سردی کا احساس ہو رہا ہے لہذا مجھے ایک کپڑا اڑھاؤ، حضرت خدیجہ نے آپ کو کپڑا اڑھا دیا آپ سو گئے۔ خداوند عالم کی طرف سے ندا آئی، یا ایھا المدثر، قم فانذر ، و ربک فکبر۔اے میرے کپڑا اوڑھنے والے، اٹھو اور لوگوں کو ڈراؤ، اور اپنے رب کی بزرگی کا اعلان کرو ۔

فریقین کے مطابق سب سے پہلے مردحضرت علی بن ابی طالب (علیہ السلام)ہیں جنہوں نے دس یا گیارہ سال کی عمر میں ایمان ظاہر کیا ۔

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے تین سال تک چھپ کر لوگوں کو خدا کی دعوت دی، اس مدت میں بہت کم افراد ایمان لائے ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے تین سال مخفی طور پر تبلیغ کرنے کے بعد ایک مجلس تشکیل دی اور اپنے قبیلہ کے بزرگ افراد کو دین اسلام کی دعوت دی، آپ نے اس مجلس میں خطبہ دیا اور اپنی رسالت کا اظہار کیا ، حاضرین نے اپنے سر نیچے کو جھکا لئے اور خاموش رہے ۔ امیر المومنین علی (علیہ السلام)حاضرین کے سکوت سے ناراض ہوئے اور غصہ کی حالت میں کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ میں آپ کی مدد اور حمایت کروںگااور آخری سانس تک آپ کی مدد کرتا رہوں گا ۔ حاضرین استہزاء کرتے ہوئے مجلس سے اٹھ کر چلے گئے ۔ خداوند عالم نے فرمایا: فاصدع بما تومر و اعرض عن المشرکین انا کفیناک المستھزئین۔

اپنی تبلیغ کو کھلے عام انجام دو اور مشرکین سے پرہیز کرو، ہم استہزا کرنے والوں کے شر سے تمہیں محفوظ رکھیں گے ۔

آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ)بازار میں فصیح زبان میںفرماتے تھے: قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا ۔ اے لوگو! اس کلمہ کو کہو تاکہ کامیاب ہوجاؤ۔

پیغمبر اکرم کا چچا ابولہب آپ کے پیچھے پیچھے چلتا تھا اورکہتا تھا کہ س کی بات نہ سنو یہ جھوٹا ہے ۔ پیغمبر اکرم کے پتھر مارتا تھا ، آپ کو زخمی کردیتا تھا ، عرب کے اکثر بزرگ افراد ابولہب کی بات سے متفق تھے ۔

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو بہت زیادہ اذیت پہنچائی لیکن آپ نے بہت ہی استقامت سے کام لیا ،لہذاآپ فرماتے ہیں: ما اوذی نبی مثل ما اوذیت۔ کسی بھی پیغمبر نے اپنی امت سے اس طرح کی اذیتیں برداشت نہیں کی ہیں(۱) ۔

۱۔ حوادث الایام، ص ۱۵۸۔


source : http://www.taqrib.info
1387
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

نبوّت عامہ اور امامت
نمازِ وتر کی قنوت میں امام رضا علیہ السلام کی دعا
حضرت علی (ع) کی شخصیت نہج البلاغہ کی نظر میں
امام زین العابدین (‏ع) کے اخلاق وکمالات
نمازِ جمعہ کی قنوت میں امام رضا علیہ السلام کی دعا
مقام و منزلت ائمہ معصومین علیہم السلام در زیارت جامعہ ...
امام زمانہ (عج) کے ظہور اور تعجیلِ فَرَج کے لئے 40 روز ...
امام جواد علیہ السلام کا مختصر تعارف
منزلت امامت، امام رضاعلیہ السلام کی نظر میں
وصایای اہلبیت (ع)

 
user comment