اردو
Monday 10th of May 2021
2906
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

کیا ابوطالب ایمان کے ساتھ اس دنیا سے گئے ہیں کہ آپ ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں؟

جواب:حضرت علی ۔ کے والد ماجد، رسول کے چچا جناب ابوطالب بن عبدالمطلب شیعوں کے عقیدے کے مطابق نبی اکرم کی رسالت پر مکمل ایمان رکھتے تھے اور وہ صدر اسلام کی تمام سختیوں اور مشکلات میں آنحضرت کے سب سے بڑے حامی و ناصر تھے.

خاندان جناب ابوطالب 

جناب ابوطالب  نے ایسے گھر میں آنکھ کھولی جس کی سرپرستی پیغمبراکرم کے جد امجد دین ابراہیمی کے پیرو جناب عبدالمطلب کے ہاتھوں میں تھی جزیرۂ عرب کی تاریخ میں معمولی غور و فکر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جناب عبدالمطلب اپنی زندگی کے سخت ترین حالات اور پر خطر مراحل کے دوران بھی خدا پرستی اور آئین توحید کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئے تھے.

جس وقت ابرہہ کا لشکر ہاتھیوں پر بیٹھ کر خانہ کعبہ کو ویران کرنے کے قصد سے مکہ کی طرف آرہا تھا تو اس نے راستے میں جناب عبدالمطلب کے اونٹوں کو پکڑلیا 

تھا اور جس وقت جناب عبدالمطلب اپنے اونٹوں کے مطالبے کے لئے ابرھہ کے پاس پہنچے تو اس نے بڑے ہی تعجب کے ساتھ ان سے پوچھا کہ آپ نے مجھ سے اپنے اونٹوں کا مطالبہ تو کیا لیکن مجھ سے یہاں سے واپس جانے اور خانہ کعبہ کو ویران نہ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا ؟ اس وقت جناب عبدالمطلب نے اپنے ایمان و اعتقاد پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے یہ جواب دیا تھا :

أنا ربّ الاِبل وللبیت ربّ یمنعہ (یحمیہ).(۱)

میں اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر (خانہ کعبہ) کا بھی مالک موجود ہے جو خود اس کی حفاظت و حمایت کرے گا .

اس کے بعدجناب عبدالمطلب مکہ کی طرف روانہ ہوگئے . پھر مکہ میں خانہ کعبہ کے دروازے کی کنڈی پکڑ کر یوں کہا :

یا ربّ لاأرجو لھم سواکا یاربّ فامنع منھم حماکا

اِن عدوالبیت مَن عاداکا امنعھم أن یُخرّبوا فناکا(۲)

(۱)کامل ابن اثیر جلد ۱ ص ۲۶۱ طبع مصر ، ۱۳۴۸ھ.

(۲) گذشتہ حوالہ.

اے پروردگارمیں تیرے سوا کسی سے امید نہیں رکھتا . پروردگارا!تو خود ان دشمنوں کے مقابلے میں اپنے حرم کی حفاظت فرما.

اس گھرکے دشمن تجھ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں انہیں روک دے تاکہ تیرے گھر کو ویران نہ کرسکیں . 

اس قسم کے بلند پایہ اشعار جناب عبدالمطلب کے مومن اور خدا پرست ہونے کے واضح گواہ ہیں اسی وجہ سے یعقوبی نے اپنی تاریخ کی کتاب میں جناب عبدالمطلب کے متعلق یوں تحریر کیا ہے:

رفض عبادۃ الأصنام و وحّد اللّہ عزّ وجلّ.(۱)

عبدالمطلب نے بتوں کی پوجا سے انکار کیا تھا اور آپ خدا کے موحد بندے تھے .

آئیے اب یہ دیکھا جائے کہ اس مومن اور خدا پرست شخصیت کی نگاہ میں ان کے بیٹے ابوطالب کی کیا منزلت تھی؟

عبدالمطلب کی نگاہ میں ابوطالب 

تاریخ شاہد ہے کہ بعض روشن ضمیر نجومیوں نے جناب عبدالمطلب کو پیغمبراکرمکے روشن مستقبل اور ان کی نبوت سے باخبر کردیا تھا جس وقت ’’سیف بن ذی یزان‘‘ 

(۱)تاریخ یعقوبی جلد۲ ص ۷ طبع مصر.

نے حکومت حبشہ کی باگ ڈور سنبھالی تو جناب عبدالمطلب ایک وفد کے ہمراہ حبشہ تشریف لے گئے اس وقت ’’سیف بن ذی یزان‘‘ نے ایک اہم خطاب کے بعد جناب عبدالمطلب کو یہ خوشخبری دی ’’آپ کے خاندان میں ایک عظیم القدر نبی تشریف لاچکے ہیں‘‘ اس کے بعد اس نے پیغمبراکرم کے خصوصیات یوں بیان کئے:

اسمہ محمد [ص]یموت أبوہ و أمہ و یکفلہ جدّہ و عمّہ.(۱)

انکا نام محمد ہے انکے ماں باپ کا (جلد ہی) انتقال ہوجائے گااور ان کی سرپرستی ان کے دادا اور چچا کریں گے .

اس وقت اس نے پیغمبراکرم کے صفات بیان کرتے ہوئے یہ جملے بھی کہے تھے :

یعبد الرّحمٰن و یدحض الشیطان و یخمدالنیران و یُکسّر الأوثان قولہ فصل و حکمہ عدل و یأمر بالمعروف و یفعلہ و ینھیٰ عن المنکر و یبطلہ.(۲)

وہ خدائے رحمن کی عبادت کریں گے، شیطان کے دام میں نہیں آئیں گے، جہنم کی آگ کو بجھائیں گے اور بتوں کو توڑیں 

(۱)سیرہ حلبی جلد۱طبع مصر ص ۱۳۶، ۱۳۷ ،اور طبع بیروت ص ۱۱۴۔۱۱۵.

(۲) گذشتہ حوالہ.

گے .ان کا قول حق و باطل میں جدائی کا میزان ہوگا وہ دوسروں کو نیکی کا حکم دیں گے اور خود بھی اس پر عمل پیرا ہوں گے وہ دوسروں کو برائی سے روکیں گے اور اسے باطل قرار دیں گے .

اور پھر اس نے جناب عبدالمطلب سے کہا :

اِنک لجدہ یا عبدالمطلب غیر کذب(۱)

اے عبدالمطلب اس میں کوئی جھوٹ نہیں کہ آپ ان کے دادا ہیں .

جناب عبدالمطلب نے جب یہ خوشخبری سنی تو سجدہ شکر بجالائے اور پھر اس بابرکت مولود کے احوال کو یوں بیان کیا:

اِنّہ کان لي ابن و کنت بہ معجبًا وعلیہ رقیقاً و إِنّي زوجتہ کریمۃ من کرائم قومي آمنۃ بنت وھب بن عبدمناف ابن زھرہ فجاء ت بغلام فسمّیتہ محمدًا مات أبوہ و أمہ و کفلتہ أنا و عمّہ (یعنی أباطالب).(۲)

میرا ایک بیٹا تھا جس سے مجھے بہت زیادہ محبت تھی میں نے اس کی شادی اپنے شرافتمند رشتہ داروں میں سے ایک نیک سیرت خاتون ’’آمنہ‘‘ بنت وہب بن عبدمناف سے کی تھی اس 

(۱)گذشتہ حوالہ.

(۲)سیرہ حلبی جلد۱ ص ۱۳۷ طبع مصر.

خاتون کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا ہے میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے اس کے ماں اور باپ دونوں کا انتقال ہوچکا ہے اس کی سرپرستی میں نے اور اس کے چچا ابوطالب نے اپنی ذمہ لی ہے .

جناب عبدالمطلب کے اس کلام سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اس یتیم بچے 

کے روشن مستقبل سے اچھی طرح باخبر تھے اس لئے انہوں نے اس بچے کو اپنے سب سے عزیز بیٹے جناب ابوطالب کی سرپرستی میں دیا تھا اور اس عظیم سعادت کو کسی اور کے نصیب میں نہیں آنے دیا تھا اس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ جناب ابوطالب اپنے مومن اور موحد والد کی نگاہ میں ایمان کے اس درجہ پر فائز تھے کہ صرف وہی پیغمبراکرمؐ کی سرپرستی کی لیاقت رکھتے تھے.(۱)

اب ہم مزید وضاحت کے لئے جناب ابوطالب کے ایمان پر چند واضح دلیلیں پیش کرتے ہیں:

(۱)زیادہ وضاحت کے لئے ان کتابوں ’’سیرہ حلبی‘‘ جلد۱ ص ۱۳۴ طبع مصر اور ’’سیرہ ابن ہشام‘‘جلد۱ ص۱۸۹ ،طبع بیروت اور ’’ابوطالب مومن قریش‘‘ ص ۱۰۹ طبع بیروت اور’’ طبقات کبریٰ‘‘جلد ۱ ص۱۱۷ طبع بیروت کا مطالعہ مفید ہوگا.

جناب ابوطالب کے مومن ہونے کی دلیلیں

۱۔جناب ابوطالب کے علمی اور ادبی آثار 

مسلمان مورخین اور علماء نے جناب ابوطالب کے بہت سے بلیغ قصیدے اور متعدد قسم کے علمی و ادبی آثار نقل کئے ہیں جو ان کے محکم ایمان کی دلیل ہیںیہاں ہم ان کثیر آثار میں سے بعض کا تذکرہ کرتے ہیں:

لیعلم خیار الناس أن محمدًا

نبي کموسیٰ والمسیح ابن مریم

اتانا بھديٍ مثل ما أتیا بہ

فکل بأمر اللّہ یھدي و یعصم(۱)

شریف لوگ یہ جان لیں کہ موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم کی طرح محمد بھی نبی خدا ہیں وہ ہمارے لئے اسی طرح کا پیغام ہدایت لائے ہیں جیسا کہ یہ دو نبی لائے تھے پس سارے نبی ، خدا کے حکم سے ہدایت کرتے ہیں اور گناہوں سے روکتے ہیں .

ألم تعلموا أنّا وجدنا محمداً 

رسولاً کموسیٰ خط في أول الکتب

و أن علیہ في العباد محبۃ 

ولا حیف فیمن خصہ اللّہ بالحب(۲)

(۱)’’کتاب الحجۃ‘‘ص ۵۷ اور اسی کے مثل مستدرک جلد ۲ ص ۶۲۳طبع بیروت میں بھی موجود ہے.

(۲)تاریخ ابن کثیر جلد ۱ ص ۴۲ ،اور شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) جلد۱۴ ص۷۲ (طبع دوم)

کیا تم نہیں جانتے کہ ہم نے موسیٰ کی طرح محمد(ص) کو بھی رسول پایا ہے جن کا ذکر پہلی (آسمانی) کتابوں میں بھی آیا ہے ؟ لوگ ان سے محبت کرتے ہیں اور جس شخص کے دل کو خداوندعالم نے انکی محبت کیلئے چن لیا ہے اس پر افسوس نہ کیا جائے

لقد أکرم اللّہ النبيّ محمّداً

فأکرم خلق اللّہ في الناس أحمد

و شقّ لہ من اسمہ لیجلہ 

فذوالعرش محمود وھذا محمد (۱)

خداوندعالم نے اپنے نبی محمد [ص] کو مکرم قرار دیا ہے اس اعتبار سے وہ مخلوقات خدا میں سب سے زیادہ مکرم ہیں پروردگار نے ان کے نام کو اپنے نام سے مشتق کیا ہے پس صاحب عرش محمود ہے اور یہ محمد ہیں.

واللّہ لن یصلوا اِلیک بجمعھم

حتی أوسد في التراب دفینا

فاصدع بأمرک ما علیک غضاضۃ

وابشر بذلک و قر منک عیونا

و دعوتني و علمت أنک ناصحي

ولقد دعوت وکنت ثم أمینا

ولقد علمت بأنّ دین محمد 

من خیر أدیان البریّۃ دینا(۲)

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد۱۴ ص ۷۸ طبع دوم، تاریخ ابن عساکر جلد ۱ ص ۲۷۵،تاریخ ابن کثیر جلد ۱ صفحہ ۲۶۶، تاریخ الخمیس جلد۱ ص ۲۵۴.

(۲)خزانہ الادب بغدادی جلد۱ ص ۲۶۱ اور تاریخ ابن کثیر جلد ۳ ص ۴۲ ، اور شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) جلد ۱۴ ص ۵۵ (طبع دوم) اور فتح الباری جلد۷ ص ۱۵۳ .۱۵۵. اور الاصابہ جلد۴ ص ۱۱۶ (طبع مصر) ۱۳۵۸ ھ. اور دیوان ابی طالب ص ۱۲.

( اے رسول خدا)خدا کی قسم ہرگز آپ کے دشمن آپ تک نہ پہنچ پائیں گے یہاں تک کہ میں خاک تلے دفن ہوجاؤں پس آپ کو جس چیز کا حکم ملا ہے بے خوف و خطر اس کا اظہار کریں اور بشارت دے کر آنکھوں کو ٹھنڈک عطا فرمائیں آپ نے مجھے اپنے دین کی طرف دعوت دی ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ میرے خیر خواہ ہیں بے شک آپ اپنی دعوت میں امانت دار ہیں میں نے یہ جان لیا ہے کہ محمد کا دین دنیا کے سارے دینوں سے بہتر ہے.

یا شاھد اللّہ عليّ فاشھد اِنّي علیٰ دین النبيّ أحمد

من ضل في الدین فإنّي مھتدي(۱)

اے خدا کے مجھ پر گواہ آپ گواہی دیجئے کہ میں احمد، رسول خدا کے دین پر ہوں کوئی اپنے دین میں گمراہ ہو تو ہو ،میں تو ہدایت یافتہ ہوں .

و:جناب ابوطالب نے اپنی بابرکت زندگی کے آخری ایام میں قریش کے سرداروں کو جمع کر کے ان اشعار کے ذریعہ انہیں پیغمبر اکرم  کی مکمل طور پر حمایت کرنے کی دعوت دی تھی:

أوصي بنصر الخیر أربعۃ

ابني علیًا و شیخ القوم عباسا

و حمزۃ الأسد الحامي حقیقہ

وجعفر أن تذودوا دونہ الناسا

کونوا فداءً لکم أمي وماولدت

في نصر أحمد دوني الناس اتراسا

(۱)شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) جلد ۱۴ ص۷۸ اور دیوان ابوطالب ص ۷۵.

میں چار لوگوں کوسب سے افضل نبی کی مدد کرنے کی تاکید کرتا ہوں . اپنے بیٹے علی  ، اپنے قبیلے کے بزرگ عباس ، شیر خدا اور مدافع پیغمبر حمزہ اور( اپنے بیٹے )جعفر کو نصیحت کرتا ہوں کہ آنحضرت کے ہمیشہ ناصر و مددگار رہیں اور تم لوگ (میری ماں اور ان کی تمام اولادیں تم سب پر قربان ہوں) احمد کی مدد کے لئے لوگوں کے سامنے سپر بن جانا.(۱)

ہر روشن ضمیر اور انصاف پسند شخص ان بلیغ ادبی آثار( جو صراحت کے ساتھ جناب ابوطالب کے خدا اور رسول پر ایمان کامل کی گواہی دے رہے ہیں ) کو دیکھ کر شیعوں کے جناب ابوطالب کے ایمان کے سلسلے میں نظرئیے کو صحیح مان لے گا اور چند سیاسی اہداف کی خاطر بعض مصنفین کی طرف سے مومن قریش ، عم پیغمبر  اور صدر اسلام کے سخت حالات میں شریعت کے محافظ جناب ابوطالب پر لگائی جانے والی تہمتوں پر افسوس کرے گا.

۲۔جناب ابوطالبکا پیغمبراکرمکے ساتھ نیک سلوک ان کے ایمان کی علامت ہے.

تمام مشہورمسلمان مورخین نے جناب ابوطالب کی پیغمبراسلام کے سلسلے میں

(۱)متشابہات القرآن ، (ابن شہر آشوب) سورہ حج کی اس آیت (ولینصرن اللہ من ینصرہ)کی تفسیر سے ماخوذ.

فداکاریوں کو نقل کیا ہے اور یہ چیز جناب ابوطالب کے محکم ایمان کی واضح دلیل ہے کہ جناب ابوطالب نے اسلام کی حمایت اور پیغمبر خدا کی حفاظت کے لئے آنحضرتؐ کے ساتھ تین سال تک اپنا گھر چھوڑ کر ’’شعب ابی طالب‘‘ میں زندگی گزاری تھی اور انہوں نے اپنی اس زندگی کو قبیلہ قریش کی سرداری پر ترجیح دی تھی اور مسلمانوں کی اقتصادی پابندی کے خاتمے تک انتہائی سخت حالات ہونے کے باوجود آنحضرتکے ہمراہ رہ کر تمام مشکلات کو برداشت کیاتھا.(۱)

اس سے بڑھ کر یہ کہ جناب ابوطالب نے اپنے عزیز ترین فرزند حضرت علی ۔ کو بھی حضوراکرم کی نصرت کرنے اور صدر اسلام کی مشکلات میں آنحضرت کا ساتھ نہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا .

ابن ابی الحدید معتزلی نے نہج البلاغہ کی شرح میں جناب ابوطالب کے ان جملوں کو نقل کیا ہے جو انہوں نے حضرت علی ۔ سے کہے تھے ملاحظہ ہو:

’’پیغمبرخداتمہیں صرف نیکی کی طرف دعوت دیتے ہیں لہذا کبھی ان کا ساتھ نہ چھوڑنا‘‘(۲)

(۱)اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ فرمائیں: ۱۔ سیرہ حلبی جلد ۱ ص ۱۳۴ (طبع دوم مصر) ۲۔تاریخ الخمیس جلد ۱ ص ۲۵۳ اور ۲۵۴ (طبع ۳ بیروت) ۳۔سیرہ ابن ہشام جلد۱ ص ۱۸۹ طبع بیروت.۴۔ (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۴ ص ۵۲ طبع دوم) ۵۔ (تاریخ یعقوبی اول جلد۲ طبع نجف) ۶۔(الاصابہ جلد۴ ص ۱۱۵ طبع مصر) ۷۔طبقات کبریٰ جلد۱ ص۱۱۹طبع بیروت ۱۳۸۰ ھ.

(۲)شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) جلد۱۴ ص ۵۳طبع دوم.

اس اعتبار سے جناب ابوطالب کی وہ خدمات جو آپ نے پیغمبرخداکے سلسلے میں انجام دی ہیں اور آپ کی اسلام کے دفاع میں بے لوث فداکاریاں آپ کے ایمان کی واضح گواہ ہیں.

اسی بنیاد پر عالم اسلام کے بزرگ دانشور (ابن ابی الحدید) نے پیغمبرخداکی حفاظت اور دین اسلام کی خدمت کے سلسلے میں جناب ابوطالب کے زندہ کردار سے متعلق یہ اشعار کہے ہیں:

ولولا أبوطالب و ابنہ 

لما مثّل الدین شخصًا فقاما

فذاک بمکۃ آویٰ و حامي

وھذا بیثرب جسّ الحماما

وما ضرّمجد أبي طالب

جھول لغي أو بصیر تعامیٰ(۱)

اگر ابوطالب اور ان کے بیٹے( حضرت علی  )نہ ہوتے تو ہرگز دین اسلام کو استحکام حاصل نہ ہوتا اابوطالب نے مکہ میں پیغمبراکرم کو پناہ دی تھی اور ان کی حمایت کی تھی اور ان کے بیٹے نے یثرب میں (پیغمبراسلام کی نصرت کے لئے)اپنی جان کی بازیاں لگائی تھیں. 

۳۔ابوطالب کی وصیت ان کے ایمان کی گواہ ہے

عالم اسلام کے مشہور مورخین جیسے ’’حلبی شافعی‘‘نے اپنی کتاب سیرۂ حلبی میں اور 

(۱)شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید)جلد۱۴ ص ۸۴ طبع ۳.

’’محمد دیار بکری‘‘نے اپنی کتاب تاریخ الخمیس میں لکھا ہے کہ جناب ابوطالب نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے قبیلے سے پیغمبراسلام کی نصرت کے سلسلے میں یہ وصیت کی تھی:

یا معشر قریش کونوا لہ ولاۃ، ولحزبہ حماۃ ، واللّہ

لایسلک أحد منکم سبیلہ اِلاّ رشد،ولا یأخذ أحد

بھدیہ اِلاّ سعد، ولوکان لنفسي مدۃ ولأجلي تأخر لکففت

عنہ الھزائز، ولدفعت عنہ الدواھي، ثم ھلک۔ (۱)

اے قبیلہ قریش!تم سب مصطفی کے محب اور ان کے ماننے والوں کے حامی و ناصر بن جاؤ خدا کی قسم تم میں سے جو شخص بھی ان کے نقش قدم پر چلے گا وہ ضرور ہدایت پائے گا اور جو کوئی ان سے ہدایت حاصل کرے گا وہ کامیاب ہوجائے گا اگر میری زندگی باقی رہتی اور موت نے مجھے مہلت دی ہوتی تو میں یقیناًفتنوں اور سختیوں سے آنحضرتؐ کی محافظت کرتا اور پھر یہ آخری کلمات کہتے کہتے جناب ابوطالب نے داعی اجل کو لبیک کہا تھا.

۴۔پیغمبر

خدا کی اببوطالب سے محبت ان کے ایمان کی دلیل ہے

پیغمبرخدا نے مختلف موقعوں پر اپنے چچا ابوطالب کا احترام و اکرام کیا ہے اور ان 

(۱)تاریخ الخمیس جلد۱ ص ۳۰۰ اور ۳۰۱، طبع بیروت اور سیرہ حلبی جلد۱ص ۳۹۱(طبع مصر)

سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا ہے یہاں ہم ان میں سے صرف دو کا تذکرہ کرتے ہیں :

الف:بعض مورخین نے اپنی کتابوں میں پیغمبراسلام کی درج ذیل روایت نقل کی ہے جس میں آپ نے جناب عقیل بن ابی طالب سے مخاطب ہوکر یوں فرمایا ہے:

إني احبک حبّین حبًّا لقرابتک منيّ و حبًّا لما کنت أعلم من حبّ عمي اِیّاک(۱)

میں تم سے دوہری محبت کرتا ہوں ایک تمہاری مجھ سے قریبی رشتے داری کی وجہ سے ہے اور دوسری محبت اس وجہ سے ہے کہ میں جانتا ہوں ابوطالب تم سے بہت محبت کرتے تھے .

ب:حلبی نے اپنی کتاب سیرت میں پیغمبرخدا کی یہ روایت نقل کی ہے جس میں آپ نے جناب ابوطالب کی تعریف فرمائی ہے :

مانالت قریش منيّ شیءًا أکرہہ (أي أشد الکراہۃ)حتی مات أبوطالب.(۲)

جب تک ابوطالب زندہ رہے مجھے قریش کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں پہنچا سکے۔

رسول خدا کا ابوطالب سے محبت کرنا اور ان کی خدمات کو سرابنا جناب  ابوطالب

(۱)تاریخ الخمیس جلد۱ ص ۱۶۳(طبع بیروت) الاستیعاب جلد۲ ص۵۰۹

(۲)سیرہ حلبی جلد۱ ص ۳۹۱(طبع مصر).

کے محکم ایمان کی واضح دلیل ہے کیونکہ پیغمبرخدا صرف مومنین ہی سے محبت رکھتے تھے اور مشرکین و کفار سے سخت گیری کرتے تھے جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے:

( مُحَمَّدٌ رَسُولُ اﷲِ وَالَّذِینَ مَعَہُ أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ...)(۱)

محمد [ص]اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ہیں اور آپس میں انتہائی مہربان ہیں.

ایک اورجگہ فرماتا ہے :

(لاَتَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُونَ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اﷲَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاءَہُمْ أَوْ أَبْنَاءَہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیرَتَہُمْ أُوْلٰءِککَتَبَ فِي قُلُوبِہِمْ الْإِیمَانَ... )(۲)

آپ کو کبھی ایسے افراد نہیں ملیں گے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے (بھی) ہوں لیکن اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے محبت رکھتے ہوں چاہے وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے.

(۱)سورہ فتح آیت:۲۹.

(۲)سورہ مجادلہ آیت: ۲۲.

ان آیات کا جب پیغمبراکرم کی ابوطالب سے محبت اور مختلف موقعوں پران کی ستائش سے موازنہ کیا جائے تو اس بات میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا کہ جناب ابوطالب ایمان کے اعلی ترین درجہ پر فائز تھے .

۵۔حضرت علی ۔ اور اصحاب رسولکی گواہی

حضرت امیرالمومنین ۔ اوراصحاب پیغمبر نے جناب ابوطالب کے محکم ایمان کی گواہی دی ہے ملاحظہ ہو:

الف:جس وقت حضرت امیرالمومنین علی ۔ کی خدمت میں ایک شخص نے جناب ابوطالب پر ایک ناروا تہمت لگائی تو حضرت علی ۔ کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں ہوگئے اور آپ نے فرمایا:

مَہ ، فضّ اللّہ فاک والذي بعث محمّدًا بالحقّ نبیًّا لو شفع أبي في کل مذنب علیٰ وجہ الأرض لشفعہ اللّہ.(۱)

چپ رہ! اللہ تیرے منہ کو توڑ دے مجھے قسم ہے اس خدا کی جس نے محمد کو برحق نبی قرار دیا ہے اگر میرے والد (ابوطالب)روئے زمین کے سارے گناہ گاروں کی شفاعت کرنا چاہیں تو بھی پروردگار ان کی شفاعت کو قبول کرے گا .

(۱)الحجۃ ص ۲۴.

ایک اورجگہ فرماتے ہیں :

کان واللہ ابوطالب عبدمناف بن عبدالمطلب مؤمنًا مسلمًا یکتم اِیمانہ مخافۃ علیٰ بني ہاشم أن تنابذھا قریش.(۱)

خدا کی قسم ابوطالب عبدمناف بن عبدالمطلب مومن اور مسلمان تھے اور اپنے ایمان کوقریش کے کفار سے مخفی رکھتے تھے تاکہ وہ بنی ہاشم کو ستا نہ سکیں.

حضرت علی ۔کے یہ ارشادات نہ صرف جناب ابوطالب کے ایمان کی تائید کرتے ہیں بلکہ ان کو ایسے اولیائے خدا کی صف میں کھڑا کردیتے ہیں جو پروردگار عالم کے اذن سے شفاعت کا حق رکھتے ہیں .

ب: جناب ابوذر غفاری  نے جناب ابوطالب کے بارے میں کہا ہے:

واللّہ الذي لااِلہ اِلا ھو ما مات ابوطالبٍ حتیٰ أسلم.(۲)

قسم ہے اس خد اکی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ابوطالب اسلام لانے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں.

(۱)الحجۃ ص ۲۴.

(۲)شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) جلد۱۴ ص۷۱(طبع دوم).

ج:عباس بن عبدالمطلب اور ابوبکر بن ابی قحافہ سے بھی بہت سی سندوں کے ساتھ یہ روایت نقل ہوئی ہے :

اِنّ أباطالب مامات حتیٰ قال: لاالہ الا اللّہ محمد رسول اللّہ.(۱)

بے شک ابوطالب ’’لاالہ الا اللّہ محمد رسول اللّہ‘‘کہنے کے بعد دنیا سے رخصت ہوئے ہیں.

۶۔ابوطالب اہل بیت  کی نگاہ میں

ائمہ معصومین [ع] نے جناب ابوطالب کے ایمان کو صاف لفظوں میں بیان فرمایا ہے اور مختلف موقعوں پر پیغمبراسلام کے اس فداکار کا دفاع کیا ہے یہاں پر ہم ان میں سے صرف دو نمونوں کا تذکرہ کرتے ہیں:

الف:امام محمد باقر ۔ فرماتے ہیں:

لووضع اِیمان أبي طالبٍ في کفۃ میزان و اِیمان ھذا الخلق في الکفۃ الأخری لرجح اِیمانہ.(۲)

اگر ابوطالب کے ایمان کو ترازو کے ایک پلڑے میں اور تمام مخلوقات کے ایمان کو اس کے دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے 

(۱)الغدیر ، جلد ۷ ص۳۹۸ تفسیر وکیع سے نقل کرتے ہوئے (طبع۳ بیروت ۱۳۷۸ھ).

(۲)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۴ ص ۶۸ (طبع دوم ) الحجۃ ص۱۸.

تو ایمان ابوطالب ان کے ایمان سے بھاری ہوگا.

ب:امام جعفرصادق ۔ رسول اکرمسے نقل فرماتے ہیں :

اِنّ أصحاب الکہف أسرّوا الایمان و أظہروا الکفر فآتاھم اللّہ أجرھم مرّتین و اِنّ أباطالب أسرّ الایمان و أظہر الشرک فآتاہ اللّہ أجرہ مرتین.(۱)

اصحاب کہف (چند مصلحتوں کی وجہ سے) اپنے ایمان کو چھپا کر کفر کا اظہار کرتے تھے تو پروردگار عالم نے انہیں دہرا اجر عطا فرمایا تھا. ابوطالب نے بھی اپنے ایمان کو چھپا کر (کسی مصلحت کی وجہ سے) شرک کا اظہار کیا تو انہیں بھی پروردگارعالم نے دوہرا اجر دیا ہے .

گزشتہ دلیلوں کی روشنی میں آفتاب کی طرح واضح و روشن ہوجاتا ہے کہ 

جناب ابوطالب درج ذیل بلند مقامات پر فائز تھے:

۱۔خدا و رسول پر محکم ایمان.

۲۔پیغمبرخدا کے بے لوث حامی و ناصر اور راہ اسلام کے فداکار.

۳۔پیغمبراکرم  کے بے نظیر محبوب.

۴۔خداوند عالم کے نزدیک عہدۂ شفاعت کے مالک.

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۴ ص ۷۰ (طبع دوم )الحجۃ ص۱۱۵.

اس اعتبار سے ثابت ہوجاتا ہے کہ جناب ابوطالب پر لگائی گئی نسبتیں باطل اور بے بنیاد ہیں.جو کچھ بیان ہوچکا ہے اس سے دو حقیقتیں آشکار ہوجاتی ہیں:

۱۔پیغمبراکرم، جناب امیرالمومنین  ، ائمہ معصومین[ع] اور اصحاب پیغمبر [ص] کی نگاہ میں جناب ابوطالب ایک باایمان شخص تھے.

۲۔جناب ابوطالب پر کفر کا الزام باطل اور بے بنیاد ہے اور ان پر یہ تہمت بنی امیہ اور بنی عباس (جو ہمیشہ سے اہل بیت[ع] اور جناب ابوطالب کی اولاد سے جنگ کرتے آئے ہیں) کے اشاروں پر بعض سیاسی مفادات کے تحت لگائی گئی تھی .

اب ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس حدیث کا جائزہ لیں جو ’’حدیث ضحضاح‘‘کے نام سے مشہور ہے اور جسے بعض لوگوں نے سند قرار دیتے ہوئے جناب ابوطالب کی شخصیت کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے ہم یہاں قرآنی آیات ، سنت نبوی اور عقل کی روشنی میں اس حدیث کے باطل اور بے بنیاد ہونے کے دلائل پیش کریں گے:

حدیث ضحضاح کا تحقیقی جائزہ

بعض مصنفین جیسے بخاری اور مسلم نے ’’سفیان بن سعید ثوری‘‘ ’’عبدالملک بن عمیر‘‘ ’’عبداللہ العزیز بن محمددراوردی‘‘ ’’لیث بن سعد‘‘ جیسے راویوں سے نقل کرتے ہوئے ان دو اقوال کو پیغمبراکرم سے منسوب کیا ہے:

الف:’’وجدتہ في غمراتٍ من النار فأخرجتہ الی ضحضاح‘‘.

میں نے انہیں آگ کے انبار میں پایا تو انہیں ضحضاح(۱) کی طرف منتقل کردیا۔

ب:’’لعلہ تنفعہ شفاعتي یوم القیامۃ فیجعل في ضحضاح من النار یبلغ کعبیہ یغلي منہ دماغہ ‘‘

قیامت کے دن شاید میری شفاعت ابوطالب کے کام آجائے تاکہ انہیں ضحضاح میں ڈال دیا جائے جس کی گہرائی پاؤں کے ٹخنوں تک ہوگی اور جس میں ان کا (معاذاللہ) دماغ کھولے گا (۲)

اگرچہ جناب ابوطالب کے ایمان سے متعلق گزشتہ روایات اور دلائل کی روشنی میں اس حدیث ضحضحاح کا باطل اور بے بنیاد ہونا اچھی طرح ثابت ہوجاتا ہے لیکن پھر بھی اس مسئلے کی وضاحت کیلئے حدیث ضحضاح سے متعلق دو چیزوں کی تحقیق ضروری ہے :

۱۔اس حدیث کے سلسلہ سند کا باطل ہونا .

۲۔اس حدیث کے متن کا کتاب خدا اور سنت پیغمبربر خلاف ہونا .

(۱)’’ضحضاح ‘‘ایسے گڑھے کو کہتے ہیں جس کی گہرائی آدمی کے قد سے کچھ کم ہو.

(۲)صحیح بخاری جلد۵ ابواب مناقب باب قصہ ابوطالب ص۵۲ اور جلد ۸ کتاب الادب باب کنیۃ المشرک ص ۴۶طبع مصر.

حدیث ضحضاح کے سلسلہ سند کا باطل ہونا

ہم نے بیان کیا تھا کہ اس حدیث کے راوی ’’سفیان بن سعید ثوری‘‘’’عبدالملک بن عمیر‘‘ ’’عبدالعزیز بن محمددراوردی‘‘ اور ’’لیث بن سعد ‘‘ہیں اب ہم ان راویوں کے سلسلے میں اہل سنت کے علمائے رجال کے نظریات کی تحقیق کریں گے:

الف: ’’سفیان بن سعید ثوری‘‘

ابوعبداللہ بن احمد بن عثمان ذھبی کا شمار اہل سنت کے بزرگ مرتبہ علمائے رجا ل میں ہوتا ہے انہوں نے سفیان بن سعید ثوری کے بارے میں یوں کہا ہے: ’’کان یدلس عن الضعفاء.‘‘(۱)

سفیان بن سعید ثوری ضعیف راویوں کی گھڑی ہوئی حدیثیں نقل کرتا تھا.

ذہبی کا یہ کلام اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سفیان ثوری ضعیف اور مجہول الحال قسم کے افراد سے حدیثیں نقل کیا کرتا تھا اس اعتبار سے اس کی نقل کی ہوئی حدیثوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے 

ب:عبدالملک بن عمیر

اس کے بارے میں ذہبی نے بھی کہا ہے :

(۱)میزان الاعتدال (ذہبی) جلد۲ ص۱۶۹طبع ۱ بیروت ۱۳۸۲ ھ.

طال عمرہ وساء حفظہ ، قال أبوحاتم لیس بحافظ تغیّر حفظہ و قال أحمد: ضعیف یخلط و قال ابن معین : مخلط و قال ابن خراش کان شعبۃ لایرضاہ و ذکر الکوسج عن أحمد أنہ ضعفہ جدًا.(۱)

اس کی عمر زیادہ ہوگئی تھی اور اس کا حافظہ کام نہیں کرتا تھا اور اسی طرح ابوحاتم نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ : اس کے اندر حدیثیں حفظ کرنے کی قدرت ختم ہوگئی تھی اور اس کی یاداشت جاتی رہی تھی اسی طرح احمد بن حنبل نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ضعیف تھا صحیح حدیث کو جعلی حدیث سے ملا کر بیان کرتا تھا اور ابن معین نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ وہ صحیح اور غلط حدیثوں کو آپس میں ملا دیا کرتا تھا اورابن خراش نے بھی اس کے بارے میں کہا ہے کہ شعبہ بھی اس سے راضی نہ تھے اور کوسج نے احمد ابن حنبل سے یوں نقل کیا ہے کہ وہ عبدالملک بن عمیر کو نہایت ہی ضعیف قسم کا شخص شمار کرتے تھے.

گذشتہ اقوال کے مجموعے سے معلوم ہوتا ہے ’’عبدالملک بن عمیر‘‘ درج ذیل صفات کا مالک تھا:

(۱)میزان الاعتدال جلد۲ ص۶۶۰(طبع ۱، بیروت)

۱۔اس کا حافظہ ختم ہوگیا تھا اور وہ بھول جاتا تھا .

۲۔علم رجال کی اصطلاح میں وہ ایک ضعیف شخص تھا اور اسکی روایات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا.

۳۔بہت زیادہ غلطیاں کرنے والا شخص تھا.

۴۔صحیح اور غلط کو آپس میں ملا کر بیان کرنے والا شخص تھا۔واضح ہے کہ مذکورہ صفات میں سے صرف ایک صفت بھی عبدالملک بن عمیر کو ضعیف اور ناقابل اعتماد شخص قرار دینے کیلئے کافی تھی جبکہ اسکے اندر تو یہ سارے نقائص جمع تھے.

ج:عبدالعزیز بن محمد دراوردی

اہل سنت کے علمائے رجال نے اسے حافظہ سے بے بہرہ اور بھول جانے والا ایسا شخص قرار دیا ہے کہ جس کی روایات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا. احمد بن حنبل نے عبدالعزیز بن محمد دراوردی کے بارے میں یہ کہا ہے : اِذا حدّث من حفظہ جاء ببواطیل. (۱)

جب بھی وہ اپنے حافظے سے کوئی روایت نقل کرتا ہے تو وہ باطل اور بے ہودہ اقوال سے پر ہوتی ہے .

اسی طرح ابوحاتم نے اس کے بارے میںیہ کہا ہے:’’لایحتج بہ‘‘(۲)اس کی 

(۱) گذشتہ حوالہ ص۶۳۴.

(۲)گذشتہ حوالہ.

حدیث کے ذیعہ استدلال نہیں کیا جاسکتا .اور ابوزارعہ نے اسکے بارے میں ’’سيّء الحفظ‘‘یعنی اس کا حافظہ صحیح نہیں تھا جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں(۱

د:لیث بن سعد

اہل سنت کے علمائے رجال کی کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ وہ راوی جن کے نام ’’لیث‘‘ ہیں وہ سب ایسے مجہول الحال یا ضعیف افراد ہیں جن کی نقل کی ہوئی احادیث پر عمل اور اعتماد نہیں کیا جاسکتا(۲) لیث بن سعد بھی انہی ضعیف اور لاپرواہ افراد میں سے تھا جو احادیث کے سننے اور ان کے راویوں سے لینے میں انتہائی لاپرواہی سے کام لیتے تھے.

یحیی بن معین نے ا سکے بارے میں کہا ہے : اِنّہ کان یتساہل في الشیوخ والسماع .(۳)

لیث بن سعد، افراد سے حدیث لینے اور سننے میں لاپرواہی کیا کرتا تھا.

’’نباتی ‘‘نے بھی اسے ضعیف افراد میں قرار دیا ہے اور اپنی کتاب ’’التذلیل علی الکامل‘‘ (جسے انہوں نے ضعیف افراد کی پہچان کے لئے لکھا ہے) میں ’’لیث بن سعد‘‘ 

(۱)گذشتہ حوالہ ص ۶۳۴.

(۲)میزان الاعتدال جلد۳ ص ۴۲۰تا ۴۲۳ طبع ۱ ،بیروت.

(۳) گذشتہ حوالہ ص ۴۲۳.

کے نام کا بھی ذکر کیا ہے.(۱)

اس بیان سے معلوم ہوجاتا ہے کہ حدیث’’ ضحضاح‘‘کے سارے راوی انتہائی ضعیف تھے لہذا ان سے منقول احادیث پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا.

حدیث ضحضاح کا مضمون قرآن و سنت کے خلاف ہے اس حدیث میں پیغمبراکرم کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ آپ نے جناب ابوطالب کو(معاذاللہ) آگ کے شعلوں کے انبار سے نکال کر ضحضاح کی طرف منتقل کردیا تھااس اعتبار سے پیغمبراکرم نے ان کے عذاب میں کمی کرادی تھی یا آنحضرت نے قیامت کے دن ان کے حق میں شفاعت کرنے کی آرزو کی تھی جبکہ قرآن مجید اور سنت نبوی کے اعتبار سے آنحضرت  کا عذاب میں کمی کرانے یا شفاعت کرنے کا حق صرف مومنوں اور مسلمانوں سے ہی مخصوص ہے لہذا اگر (معاذاللہ) جناب ابوطالب کافر ہوتے تو ہرگز پیغمبراکرم ان کے عذاب میں کمی یا ان کی شفاعت کی آرزو نہ کرتے . اس اعتبار سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ (حدیث ضحضاح) کا مضمون باطل اور بے بنیاد ہے اب 

ہم قرآن وسنت کی روشنی میں اس مسئلے کی چند واضح دلیلیں پیش کرتے ہیں:

الف: قرآن مجید اس سلسلے میں فرماتا ہے:

( وَالَّذِینَ کَفَرُوا لَہُمْ نَارُ جَہَنَّمَ لاَیُقْضَی عَلَیْہِمْ فَیَمُوتُوا وَلاَیُخَفَّفُ عَنْہُمْ مِنْ عَذَابِہَا کَذٰلِکَ 

(۱)شیخ الابطح ص۷۵ اور میزان الاعتدال جلد۳ ص۴۲۳.

نَجْزِي کُلَّ کَفُورٍ)(۱)

اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ان کیلئے جہنم کی آگ ہے نہ تو ان کی قضا آئے گی کہ مرجائیں اور نہ ہی انکے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائی گی ہم اسی طرح ہر کفر کرنے والے کو سزا دیا کرتے ہیں.

ب:سنت نبیؐ میں بھی کفار کے حق میں شفاعت کی نفی کی گئی ہے: ابوذر غفاری  نے پیغمبراکرم سے یہ روایت نقل کی ہے :

أعطیت الشفاعۃ وھي نائلۃ من أُمتي مَن لایشرک باللّہ شیءًا.

مجھے شفاعت کرنے کا حق دیا گیا ہے اور وہ میری امت کے ایسے افراد کے لئے ہوگی جنہوں نے خداوندعالم کے سلسلے میں شرک نہ کیاہو.

لہذا حدیث ضحضاح کا مضمون باطل ، بے بنیاد اور قرآن و سنت کے اصولوں کے خلاف ہے.

نتیجہ

اس بیان کی روشنی میں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حدیث ضحضاح سند و متن کے اعتبار

(۱)سورہ فاطر آیت : ۳۶.

سے ناقابل عمل روایت ہے. اس طرح جناب ابوطالب کی باایمان شخصیت کو داغدار کرنے والی مہمل روایت باطل ہوجاتی ہے اور پیغمبراکرمکے حامی و ناصر جناب ابوطالب کا ایمان محکم طریقہ سے ثابت ہوجاتا ہے۔

کتاب شیعہ جواب دیتے ہیں

 


source : http://www.ahlulbaytportal.com
2906
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

کیا یا علی مدد کہنا جائز ہے
پیغمبر اکرم(صلی الله علیه و آله)کے ذریعه کس طرح مکه فتح ...
باوجودیکہ دین اسلام تنہا برحق دین ہے، تو قرآن مجید میں ...
شب قدر کے بہترین اعمال کیا ہیں؟
نبی کون ھوتا ھے اور وحی کیا ھے؟
کیا شیعہ قرآن مجید میں تحریف کے قائل ہیں؟
گھر کو کیسے جنت بنائیں؟ پہلا حصہ
انسان خلیفۃ اللہ ہے یا خلیفۂ رب؟
گھر کو کیسے جنت بنائیں؟ دوسرا حصہ
کیا حجر اسود کو بوسہ دینا بھی شرک ہے ؟

 
user comment