اردو
Sunday 17th of October 2021
215
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے آخری الفاظ

میں سکون خاطر، مطمئن دل ، خوش و خرم روح اور پرامید ضمیر کے ساتھ بہ فضل و کرم الٰہی بہنوں اور بھائیوں کی خدمت سے اجازت لے کر اپنے ابدی مقام کی طرف روانہ ہو رہا ہوں ۔ مجھے آپ کی نیک دعاؤں کی سخت ضرورت ہے اور خدائے رحمان و رحیم سے میری دعا ہے کہ وہ خدمت میں کوتاہی پر میرے قصور اور غلطیون کو معاف کرے ، قوم سے بھی مجھے امید ہے کہ وہ میری طرف سے کی جانےوالی اور ہونے والی کوتاہیوں سے درگذر کرے گی اور پوری طاقت ، ہمّت اور عزم مصمم کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی۔"

یہ بانی انقلاب اسلامی ایران ، بت شکن دوران ، موسی زمان ، حضرت امام خمینی (رح) کے الہٰی و سیاسی وصیت نامے کے آخری جملے تھے ۔ یہ اس قائد کی زندگی کے آخری تاثرات ہیں جس نے اپنی قوم کو ظلم و ستم کی چکی میں پسنے سے نجات دلائی اور اس کو فحاشی اور برائی کے بھنور میں غرق ہونے سے بچا لیا ۔ اور اب دس سال تک نوبنیاد اسلامی جمہوریۂ ایران کی حکومت کی قیادت و رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے بعد خالق حقیقی سے وصال کی تیاری کرچکا تھا ۔ امام خمینی (رح) نے حیرت انگیز طور پراپنی رحلت کی تاریخ سے متعلق کئی سال قبل ایک شعر میں فرمایا تھا :

سالہا می گذرد حادثہ ھا می آید

انتظار فرج از نیمۂ خرداد کشم

اس شعر کا ترجمہ کسی شاعر نے یوں کیا ہے : 

حادثوں ہی سے عبارت ہوگئی ہے زندگی

انتظار دوست میں ہوں نیمۂ خرداد سے


source : http://www.aqrazavi.org
215
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

اجتماعی روابط کی اصلاح میں ایمان کا کردار
مکتب اہل بیت میں بچے کی تربیت
قانون گزاری کے لئے انبیاء کی ضرورت
عصر حاضر کے تناظر میں مسلمانوں کا مستقبل-3
اسلام میں بچی کا مقام
اہل سنت اور واقعہ غدیر
مسلکی تشدد اور امت مسلمہ کی ملی ذمہ داری
مثالی معاشرے کے بنیادی ارکان۔
اسلام، دوستی اور مهربانی کا مظهر
تشیع کے اندر مختلف فرقے

 
user comment