اردو
Saturday 18th of September 2021
1551
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

زبان پر کنٹرول اور بیہودہ کاموں سے اجتناب

'' یَا َبَاذَرٍ ! دَعْ مَالَسْتَ مِنْہُ فِیْ شیٍٔ وَلَا تَنْطِقْ فِیْمَا لَا یَعْنِیْکَ وَ اخْزَنْ لِسَانَکَ کَمَا تَخْزَنُ وَ رِقَکَ '' ١

اے ابو ذر ! جس کام میںتمھارافائد نہ ہو اسے چھوڑ دو اور جس کلام میں تمھاراکوئی فائدہ نہ ہو اس کیلئے لب کشائی نہ کرو اور اپنی زبان کو زر و جواہر کے مانند کہ جس کی حفاظت کی تم کوشش کرتے ہو محفوظ رکھو ۔

حدیث کے اس حصہ میں جو مطلب بیان ہوا ہے وہ انسان کو گناہ سے دور رکھنے کیلئے گزشتہ بیانات کا تکملہ ہے جو اپنے آپ کوگناہوں سے بچانا چاہتا ہے اسے اپنے لئے ایک حد مقرر کرنی ہوگی چنانچہ کہا گیا ہے : '' وَ من حام حول الحمی اوشک ان یقی فیہ '' جو کسی چٹان کی چوٹی پر چل رہا ہو اسے ڈرنا چاہیے کہ کہیں نیچے نہ گرجائے ، جو گناہ سے بچنا چاہے اسے اس کے مقدمات سے دوری اختیار کرنی چاہیے اور بعض مباح کاموں کو ترک کرنا چاہیے تاکہ گناہ میں گرفتار نہ ہوجائے ۔ 

مثال کے طور پر اگر حرام نظر اور نا محرم پر نگاہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے بعض محارم پر نگاہ نہیں ڈالنی چاہیے ،اگر حرام موسیقی کو سننا نہیں چاہتا ہے تو اسے بعض جائز موسیقیوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے، اگر چاہتا ہو کہ جھوٹ اور غیبت کا مرتکب نہ ہو تو اسے ایسی گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے جس میں جھوٹ اور غیبت کا احتمال ہے لیکن انسان کیلئے یہ مشکل ہے کہ ان تمام مباحات سے پرہیز کرے جو اسے گناہ میں مبتلا کرنے کا امکان فراہم کرتے ہیںخاص کر اس کیلئے زیادہ مشکل ہے جوابتدائی مرحلہ میں ہے ، لیکن جو لوگ تکامل نفس کے مراحل میں ہیں ، انہیں خواہ نخواہ اس مرحلہ کو طے کرنا چاہیے۔ 

پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم جناب ابوذر سے نصیحت کرتے ہیں کہ لغو اور بیہودہ کاموں سے اجتناب کرو، چنانچہ قرآن مجید فلاح و کامیابی کو لغو سے دوری اختیار کرنے میں مضمر جانتا ہے:

(قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ ھُمْ فِی صَلَاتِھِمْ خَاشِعُونَ وَ الَّذِین ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ) (مومنون ١۔٣)

یقینا صاحبان ایمان کامیاب ہوگئے ، جو اپنی نمازوں میں گڑ گڑا نے والے ہیں اور لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں ''

جو انسان فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہتا ہے ، اسے ایسے کام سے اجتناب کرنا چاہیے جو اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے جس بات میں فائدہ نہ ہو اسے زبان سے نہ کہے حتیٰ ، اگر چہ وہ مباح بھی ہو اور اپنی طاقت کو مفید اور ثمر بخش امور میں صرف کرے ۔

جناب ابوذر کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری سفارش یہ ہے کہ اس گفتگو سے اجتناب کرے جس میں اس کیلئے کوئی فائدہ نہ ہو ۔

انسان کو اپنی زبان کے بارے میں ہوشیا رہنا چاہیے ، حتیٰ مباح گفتگو کرنے سے بھی دوری اختیار کرے کیونکہ کبھی زبان سے ایک ایسا لفظ بھی نکل جاتا ہے جس کے دنیا اور آخرت میں برے نتائج نکلتے ہیں ۔ یہ جو روایتوں میں زیادہ سے زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ اپنی زبان کو کنٹرول کرے جو بات ضروری نہیں ہے یا تم سے مربوط نہیں ہے اسے زبان پر جاری نہ کرے ، یہ اس لئے ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی زبان پر کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے جھوٹ ، غیبت ،دوسروں کا مذاق اڑانے اور اسی طرح کی دوسری آفتوں میں مبتلا ہوجاتاہے اسی لئے بعض بزرگان حتی الامکان کوشش کرتے تھے کہ خاموش رہیں ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : جس طرح تم پیسوںا ور سونے کے سکوں کی حفاظت کرتے ہو، اسی طرح اپنی زبان کے تحفظ کی بھی کوشش کرو ، اپنے پیسوں کو تم کیسے محافظت کرتے ہو، انہیں صندوق میں تالا لگاکر بند کرتے ہو اورا سے ایک محفوظ جگہ پر رکھتے ہو ، اسی طرح اپنی زبان جو پیسے سے زیادہ قیمتی ہے کی بھی حفاظت کرو ، خداوند عالم نے تمھاری زبان کیلئے حفاظتی دیوار عطا کی ہے ، اس کیلئے دانت اور اس کے سامنے ہونٹ قرار دیئے تا کہ تم اپنی زبان کو ان دیواروں کے درمیان محفوظ رکھو ،پس انسان کو سعی و کوشش کرنی چاہیے تا کہ یہ زبان آزادنہ رہے حتی ایسی مباح گفتگو کرنے سے بھی پرہیز کرے کہ جس میںاس کے لئے کوئی فائدہ نہ ہو اگر تم نے اپنی طاقت کو بیہودہ طورپر خرچ کیا ہے تو ممکن ہے رفتہ رفتہ مشتبہ اور مکروہ اور آخر کا ر محرمات اور گناہان کبیر ہ میں مبتلاہوجاؤ : دوسروں کے بارے میں گفتگو کرنے اور اس کی غیبت کرنے میں کتنا فاصلہ ہے ؟ مباح گفتگو اور غیبت کے درمیان کہ جو ایسا گناہ کبیرہ ہے کہ اپنے محارم سے خانہ کعبہ میں ستر بار زنا کرنے سے بد تر ہے کوئی فاصلہ نہیںہے اور ہم اس فاصلہ کو رفتہ رفتہ ختم کررہے ہیں اور اس خطرنا ک گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں ۔

١۔جو روپیہ یا پیسہ گزشتہ زمانے میں رائج تھا وہ سونے اور چاندی کا بنا ہوتا تھا ۔ 


source : http://www.alhassanain.com
1551
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

حسین میرا حسین تیرا(آخری حصّہ)
محل ولادت اور کرامات جلی حضرت امیر المومنین علیہ ...
نیکی اور بدی کی تعریف
پہلی مجلس (امام زمانہ)
قرآن مجید اور اخلاقی تربیت
دعا کی تعریف (دعا کسے کہتے ہیں)
حضرت زینب(سلام اللہ علیہا)، شکوہ صبر و اقتدار
حضرت ابو طالب علیہ السلام حامی رسالت
قمہ زني کيا ہے؟
رمضان ، توبہ ومغفرت کا مہینہ

 
user comment