اردو
Wednesday 21st of April 2021
331
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

اہل بیت علیہم السلام کی دعائوں میں حبّ خدا

اﷲ سے لو لگا نا

(قُلْ اِنْ کَانَ آبَائُ کُمْ وَاَبْنَاؤُکُمْ  وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَال اقْتَرَفْتُمُوْھَاوَتِجَارَةً تَخْشَوْنَ کَسٰادَھٰاوَمَسٰاکِنَ تَرْضَوْنَھٰااَحَبُّ اِلَیْکُمْ مِنَ اﷲِ وَرَسُوْلِہِ وجِھٰادٍ فِیْ سَبِیْلِہِ فَتَرَبَّصُوْاحَتّیٰ یَأتِیَ اﷲُ بِأَمْرِہِ وَاﷲُلاٰیَھْدِی الْقَوْمَ    الْفَاسِقِیْنَ)(١)

''پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ دادا ،اولاد ،برادرن ،ازواج ،عشیرہ وقبیلہ اور وہ اموال حنھیں تم نے جمع کیا ہے اور وہ تجارت جس کے خسارہ کی طرف سے فکر مند رہتے ہو اور وہ مکانات جنھیں پسند کرتے ہو تمہاری نگا ہ میں اللہ ،اس کے رسول اور راہ خدا میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو وقت کا انتظار کرو یہاں تک کہ امر الٰہی آجا ئے اور اللہ فاسق قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے ''

صحیح صورت میںخداوندعالم سے ایک دوسرے سے ہما ہنگ اور تمام سازگار عناصر کے ذریعہ ہی لولگا ئی جاسکتی ہے اوریہی چند چیزیں مجمو عی طور پر اﷲ سے لولگا نے کے صحیح طریقہ معین کرتی ہیں ۔

اسلامی روایات میں ایک ہی عنصر جیسے خوف یا رجاء (امید )یا محبت یا خشوع کی بنیاد پر اﷲ سے لولگا نے کو منع کیا گیا ہے ۔جو عناصر خداوندعالم سے مجموعی اور وسیعی طور پر رابطہ کو تشکیل دیتے ہیں

(١)سورئہ توبہ آیت ٢٤۔

ان کا آیات، روایات اور دعائوں میں تفصیلی طور پر ذکر کیا گیا ہے جیسے امید، خوف، تضرع، خشوع، تذلل، ترس،محبت، شوق، اُنس، انا بہ، ایک دوسرے سے کنارہ کشی، استغفار، استعاذ ہ، استرحام، انقطاع، تمجید، حمد، رغبت رھبت، طاعت ،عبودیت، ذکر،فقراور اعتصام ہیں ۔

حضرت امام زین العا بدین بن حسین علیہ السلام سے دعا میں وارد ہو اہے :

(اللّھم ان اسالک انْ تملا قلبی حباًوخشیةمنک وتصدیقاًلک وایمانابک وفرقاًمنک وشوقاً الیک)(١)

''پرور دگارا ! میں تیری بارگاہ میں دست بہ دعا ہوں کہ میرے دل کو اپنی محبت سے لبریز     فر مادے ،میں تجھ سے خوف کھا ئوں ،تیری تصدیق کروں ،تجھ پر ایمان رکھوں اور تجھ سے فرق کروں اور تیری طرف شوق سے رغبت کروں ''

ان تمام عناصرکے ذریعہ خداوندعالم سے خاص طریقہ سے لو لگا ئی جاتی ہے اور ان عنصروں میں سے ہر عنصر اﷲکی رحمت اور معرفت کے ابواب میں سے ہر باب کیلئے ایک کنجی ہے ۔

استر حام اﷲکی رحمت کی کنجی ہے اور استغفار مغفرت کی کنجی ہے ۔

ان عنصروں میں سے ہر عنصر بذات خود اﷲسے لولگا نے کا ایک طریقہ ہے شوق محبت اور انسیت اﷲتک پہنچنے کا ایک طریقہ ہے ،خوف اور رھبت اﷲتک پہنچنے کا دوسرا طریقہ ہے خشوع اﷲتک پہنچنے کاتیسرا طریقہ ہے ۔دعا اور تمنا اﷲتک رسائی کا ایک اورطریقہ ہے ۔

انسان کیلئے اﷲتک رسائی کی خاطر مختلف طریقوں سے حرکت کرنا ضروری ہے اس کو ایک ہی طریقہ پر اکتفا ء نہیں کرنا چاہئے کیو نکہ ہر طریقہ کا ایک خاص ذوق کمال اور ثمر ہوتا ہے جو دوسرے طریقہ میں نہیں پایاجاتاہے (١)بحا رالانوار جلد ٩٨ صفحہ ٩٢۔

اس بنیاد پر اسلام اﷲتک رسائی کے متعدد طریقوں کو بیان کرتاہے یہ ایک وسیع بحث ہے جس کو ہم اِس وقت بیان کر نے سے قاصر ہیں ۔

اﷲ کی محبت

اﷲتعالیٰ کی محبت ان تمام عناصر سے افضل اور قوی ترہے ،یہ انسان کو اﷲسے لولگا نے کیلئے آمادہ کرتی ہے اور اﷲسے اس کے رابطہ کو محکم ومضبوط کرتی ہے ۔

محبت کے علاوہ کسی اور طریقہ میں اتنا محکم اور بلیغ رابطہ خدا اور بندے کے درمیان نہیں پایا جاتا ہے خدا وند عالم سے یہ رابطہ اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے جن میں سے ہم بعض روایات کا تذکرہ کررہے ہیں :

روایات میں آیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت دائو دکی طرف وحی کی :

(یاداود ذکر للذاکرین وجنت للمطیعین وحب للمشتاقین وانا خاصة للمحبین)(١)

''اے داؤد ذاکرین کیلئے میرا ذکر کرو ،میری جنت اطاعت کرنے والوں کیلئے ہے اور میری محبت مشتاقین کیلئے ہے اور میں محبت کرنے والوں کیلئے مخصوص ہوں ''

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

(الحبّ افضل من الخوف )

''محبت ،خوف سے افضل ہے ''(٢)

محمد بن یعقوب کلینی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے :

(العبّاد ثلا ثة:قوم عبدوا اللّٰہ عزّوجلّ خوفاًفتلک عبادة العبید،وقوم  

(١)بحا الانوار جلد ٩٨ صفحہ ٢٢٦۔            

(٢)بحار الا نوار جلد ٧٨ ۔صفحہ ٢٢٦۔

عبدوا اللّٰہ تبارک وتعالیٰ طلب الثواب،فتلک عبادة التجار،وقوم عبدوا اللّٰہ عزّوجلّ حبّاً،فتلک عبادةالاحرار،وھ افضل عبادة)(١)

''عبادت تین طرح سے کی جاتی ہے یا عبادت کرنے والے تین طریقہ سے عبادت    کر تے ہیںایک قوم نے اﷲکے خوف سے عبادت کی جس کو غلاموں کی عبادت کہاجاتا ہے ،ایک قوم نے اﷲتبارک وتعا لیٰ کی طلب ثواب کی خاطر عبادت کی جس کو تاجروں کی عبادت کہاجاتا ہے اور ایک قوم نے اﷲعزوجل سے محبت کی خاطر عبادت کی جس کو احرار(آزاد لوگوں) کی عبادت کہاجاتاہے اور یہی سب سے افضل عبادت ہے''۔

جناب کلینی نے رسول اسلام  ۖسے نقل کیا ہے :

(افضل الناس مَن عشق العبادة،فعانقھا،واحبّھابقلبہ،وباشرھابجسدہ، وتفرّغ لھا،فھولایبال علیٰ مااصبح من الدنیا علی عسرأم یسر )(٢)

''لوگوں میں سب سے افضل شخص وہ ہے جس نے عبادت سے عشق کر تے ہوئے اس سے معانقہ کیا ،اس کو اپنے دل سے دوست رکھااور اپنے اعضاء و جوارح سے اس سے وابستہ رہے ، اس کو پرواہ نہیں رہتی کہ اس کا اگلا دن خوشی سے گزرے گا یا غم کے ساتھ گذرے گا ''

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے :

''نجویٰ العارفین تدورعلیٰ ثلاثة اصول:الخوف،والرجاء والحبّ۔فالخوف فرع العلم،والرجاء فرع الیقین،والحبّ فرع المعرفة۔فدلیل الخوف الھرب،ودلیل الرجاء الطلب،ودلیل الحبّ ایثارالمحبوب،علیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)اصول کافی جلد ٢ صفحہ ٨٤۔

(٢) اصول کافی جلد ٢صفحہ ٢٨٣۔

ماسواہ۔فاذا تحقق العلم فی الصدرخاف،واذاصحّ الخوف ہرب،واذاھرب نجاواذا اشرق نورالیقین فی القلب شاھد الفضل واذاتمکن من رؤیة الفضل رجا، واذا وجد حلاوة الرجاء طلب،واذاوُفّق للطلب وجد۔واذا تجلّیٰ ضیاء المعرفة فی الفؤاد۔ھاج ریح المحبة،واذاھاج ریح المحبة استأنس ظلال المحبوب،وآثرالمحبوب علیٰ ماسواہ،وباشر اوامرہ۔ومثال ھذہ الاصول الثلاثة کالحرم والمسجدوالکعبة،فمن دخل الحرم أمن من الخلق،ومن دخل المسجد أمنت جوارحہ أن یستعملھافالمعصیة،ومَن دخل الکعبة أمن قلبہ من أن یشغلہ بغیرذکراللّٰہ ''(١)

''عارفوں کی مناجات تین اصول پر گردش کرتی ہے :خوف ،امید اور محبت ۔خوف علم کی شاخ ہے ،امید یقین کی شاخ ہے اور محبت معرفت کی شاخ ہے خوف کی دلیل ہر ب (فرار اختیار کرنا) ہے ،امید کی دلیل طلب ہے اور محبت کی دلیل محبوب کو دوسروں پر تر جیح دینا ہے ،جب سینہ میں علم متحقق ہوجاتا ہے تو خوف ہوتا ہے اور جب صحیح طریقہ سے خوف پیداہوتاہے توفراروجود میںآتاہے اورجب فراروجودمیںآجاتاہے توانسان نجات پا جاتا ہے ،جب دل میں یقین کا نور چمک اٹھتا ہے تو عارف انسان فضل کا مشا ہدہ کرتا ہے اور جب فضل دیکھ لیتا ہے تو امید وار ہو جاتا ہے ،جب امید کی شرینی محسوس کر لیتا ہے تو طلب کرنے لگتا ہے اور جب طلب کی تو فیق ہو جا تی ہے تو اس کو حا صل کرلیتا ہے ،جب دل میں معرفت کی ضیاء روشن ہو جا تی ہے تو محبت کی ہوا چل جا تی ہے اور جب محبت کی ہوا چل جا تی ہے تو محبوب کے سا یہ میں ہی سکون محسوس ہوتا ہے اور محبوب کے علاوہ انسان ہر چیز سے    لا پرواہ ہو جاتاہے اور براہ راست اپنے محبوب کا تابع فرمان ہو جاتا ہے ۔ان تین اصول کی مثال حرم  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)مصباح الشریعہ صفحہ ٢۔٣۔

مسجداور کعبہ جیسی ہے جو حرم میں داخل ہو جاتا ہے وہ مخلوق سے محفوظ ہو جاتا ہے ،جو مسجد میں داخل ہوتا ہے اس کے اعضاء و جوارح معصیت میں استعمال ہو نے سے محفوظ ہو جا تے ہیں جو کعبہ میں داخل  ہو جاتا ہے اس کا دل یاد خدا کے علا وہ کسی اور چیز میں مشغول ہونے سے محفوظ ہو جاتا ہے ''

حضرت رسول خدا  ۖسے مروی ہے''بکی شعیب من حبّ اﷲعزّوجلّ حتّیٰ عم۔۔۔أوحیٰ اﷲالیہ: یاشعیب،ان یکن ھذاخوفاًمن النار،فقدأجرتک،وان یکن شوقاالی الجنة فقد ابحتک۔ فقال:الھ وسید،انت تعلم انی مابکیت خوفامن نارک،ولاشوقاالی جنتک،ولکن عقدحبک علی قلبی،فلست اصبرا واراک،فاوحی اﷲجلّ جلالہ الیہ:امااذاکان ھذاھکذافمن اجل ھذاساخدمک کلیم موسی بن عمران''(١)

'' اﷲسے محبت کی وجہ سے گریہ کرتے کرتے حضرت شعیب علیہ السلام کی آنکھوں سے نور چلا گیا ۔تو اﷲنے حضرت شعیب علیہ السلام پر وحی کی :اے شعیب اگر یہ گریہ وزار ی دوزخ کے خوف سے ہے تو میں نے تم کو اجردیا اور اگر جنت کے شوق کی وجہ سے ہے تو میں نے تمہارے لئے جنت کو مباح کیا ۔

جناب شعیب علیہ السلام نے عرض کیا :اے میرے اﷲاور اے میرے سید وسردار تو جانتا ہے کہ میں نہ تو دوزخ کے خوف سے گریہ کررہاہوں اور نہ جنت کے شوق ولالچ میں لیکن میرے دل میں تیری محبت ہے اﷲنے وحی کی اے شعیب! اگر ایسا ہے تو میں عنقریب تمہاری خدمت کیلئے اپنے کلیم موسیٰ بن عمران کو بھیجو ں گا ''

حضرت ادریس علیہ السلام کے صحیفہ میں آیا ہے :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحارالانوار جلد ١٢صفحہ ٣٨٠۔

(طوبیٰ لقوم عبدون حبّاً،واتخذون الٰھاًوربّاً،سھروااللیل،ودأبواالنھار طلباًلوجھ من غیررھبة ولارغبة،ولالنار،ولاجنّة،بل للمحبّة الصحیحة،والارادة الصریحة والانقطاع عن الکل الَّ)(١)

''اس قوم کیلئے بشارت ہے جس نے میر ی محبت میں میر ی عبادت کی ہے ،وہ راتوں کو    جا گتے ہیں اور دن میں بغیر کسی رغبت اور خوف کے ، نہ ان کو دوزخ کا خوف ہے اور نہ جنت کا لالچ ہے بلکہ صحیح محبت اور پاک وصاف اراد ہ اور ہر چیز سے بے نیاز ہو کر مجھ سے لولگا تے ہیں ۔

اور دعا کے سلسلہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں :

(عمیت عین لاتراک علیھارقیباًوخسرت صفقةعبدلم تجعل لہ من حبّک نصیباً )(٢)

''وہ آنکھ اندھی ہے جوخود پر تجھ کونگران نہ سمجھے ،اور اس انسان کا معاملہ گھاٹے میں ہے جس کیلئے تو اپنی محبت کا حصہ نہ قرار دے ''

ایمان اور محبت

اسلامی روایات میں وارد ہوا ہے بیشک ایمان محبت ہے ۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے :

(الایمان حبّ وبغض )''ایمان محبت اور بغض ہے ''(٣)

فضیل بن یسار سے مروی ہے :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحار الا نوار جلد ٩٥ صفحہ ٤٦٧۔

(٢)بحار الا نوار جلد ٩٨ صفحہ ٢٢٦۔

(٣)بحار الانو ار جلد ٧٨ صفحہ ١٧٥۔

(سألت اباعبد اللّٰہ علیہ السلام عن الحبّ والبغض،أَمن الایمان ھو؟ فقال :(وھل الایمان الّاالحبّ والبغض ؟)(١)

''میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے محبت اور بغض کے بارے میں سوال کیا کہ کیا دونوں ایمان میں سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا :کیا محبت اور بعض کے علاوہ ایمان ہو سکتا ہے ؟        حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے :(ھل الدین الّاالحبّ؟انّ اللّٰہ عزّوجلّ یقول :

(قل ان کنتم تحبّون اﷲفاتبعون یحببکم اﷲ(٢))(٣)

''کیا دین محبت کے علاوہ ہے ؟بیشک خداوندعالم فرماتا ہے :

(قل ان کنتم تحبّون اﷲفاتبعون یحببکم اﷲ

''اے پیغمبر کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو خدا بھی تم سے محبت کرے گا ''

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے:

(الدین ھوالحبّ والحبّ ھوالدین) (٤)

''دین محبت ہے اور محبت دین ہے''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)اصول کافی جلد ٢ صفحہ ١٢٥۔

(٢)سورئہ آل عمرا ن آیت٣١۔

(٣)بحارالانوار جلد ٦٩ صفحہ  ٢٣٧

(٤)نور اثقلین جلد ٥ صفحہ ٢٨٥ ۔

محبت کی لذت

عبادت اگرچہ محبت ،شوق اور حسرت ودردکے ذریعہ ہو تی ہے اور اس سے بڑھکر کو ئی لذت وحلاوت نہیں ہے ۔

حضرت امام زین العابد ین علیہ السلام جنھوں نے اﷲکی محبت اور اس کے ذائقہ اور حلاوت کا مزہ چکھا ہے وہ فرماتے ہیں :

(الھ مااطیب طعم حبّک ومااعذب شرب قُربک )(١)

''پروردگار تیری محبت کے ذائقہ سے اچھا کو ئی ذائقہ نہیں ہے اور تیری قُربت سے گوارا  کو ئی چیز گوارا نہیں ہے ''

یہ حلاوت اور لذت، اولیا ء اﷲکے دلوں میں پائی جاتی ہے یہ عارضی لذت نہیں ہے جو ایک وقت میں ہو اور دوسرے وقت میں ختم ہوجائے بلکہ یہ دائمی لذت ہے جب کسی بندہ کے دل میں اﷲسے محبت کی لذت مستقر ہو جاتی ہے تو اس کا دل اﷲکی محبت سے زندہ ہو جاتا ہے اور جو دل اﷲکی محبت سے زندہ ہوجائے خداوند وعالم اس پرعذاب نازل نہیں کرتا اور اﷲکی محبت اس کے دل میں گھرکر جاتی ہے ۔

حضرت امیر المو منین علیہ السلام فرما تے ہیں :

(الھ وعزّتک وجلالک لقد أحببتک محبةاستقرّت حلاوتھاف قلب وماتنعقدضمائرموحّدیک علیٰ انک تبغضُ محبیک )(٢)

''خدایا! تجھ کو تیرے عزت و جلال کی قسم تیری محبت کی مٹھاس میرے دل میں گھر کر گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحار الانو ار جلد ٩٨ صفحہ  ٢٦۔

(٢)مناجات اھل البیت صفحہ ٩٦۔ ٩٧ ۔

اور تیرے مو حدین کے ذہن میں یہ خیال بھی نہیں گذرتا کہ تو ان سے نفرت کرتا ہے ''

اﷲکی محبت کی اسی مستقر اور ثابت حالت کے بارے میں حضرت امام علی بن الحسین فرماتے ہیں :

(فوعزّتک یاسید لوانتھرتن مابرحت من بابک ولاکففت عن تملّقک لماانتھیٰ ال من المعرفةبجودک وکرمک )(١)

'' تیری عزت کی قسم! اے میرے مالک اگر مجھ کو اپنی بارگاہ سے نکال دے گا تو میں اس دروازے سے نہ جا ؤنگا اور نہ تیری خوشامد سے باز رہونگا اس لئے تیرے جود و کرم کو مکمل طور پر پہچان لیا ہے ''

محبت کے گہر ے اور دل میں مستقر ہو نے کی سب سے بلیغ تعبیر یہی ہے کہ وہ محبت دائمی ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر مولا اپنے غلام کو ذبح بھی کردے تو بھی وہ محبت اس کے دل سے زائل نہیں ہو سکتی اور جس غلام کے دل میں اس کے مو لا کی محبت ثابت اور مستقر ہوگئی وہ اپنے غلام کو کبھی قتل نہیں کر سکتا ہے ۔

جب انسان اﷲسے محبت کے ذائقہ اور اس سے انسیت کی قوت سے آشنا ہوجاتا ہے تو اس پر کوئی اور چیز اثر نہیں کر سکتی حضرت امام زین العا بدین، امام المحبین علیہ السلام فرما تے ہیں :

(مَن ذاالذ ذاق حلاوة محبّتک فرام عنک بدلا؟ومن ذاالذ انس بقربک فابتغیٰ عنک حولا)(٢)

''وہ کو ن شخص ہے جس نے تیری محبت کی مٹھاس کو چکھا ہو اور تیرے بدل کا خواہش مند ہو اور وہ کون شخص ہے جس نے تیری قربت کا انس پایا ہو اور ایک لمحہ کے لئے بھی تجھ سے رو گردانی کرے ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحا رالانوارجلد ٩٨ صفحہ ٨٥۔

(٢)بحا رالانوار جلد ٩٤صفحہ ١٤٨۔

لوگوں کا مسالک اور مذاہب میں تقسیم ہونا اﷲسے محبت کی لذت سے محروم ہونا ہے جو لوگ اپنی زندگی میں اﷲسے محبت کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں وہ اس کے بعد اپنی زندگی میں کسی دوسری چیز کی جستجو نہیں کر تے ہیں ۔

حضرت امام حسین بن علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

(ماذاوجد من فقدک؟وماالذ فقدمن وجدک ؟)

'' جس نے تجھ کو کھو دیا اس نے کیا پایا ؟اور جس نے تجھ کو پالیا اس نے کیا کھو یا''(١)

حضرت علی بن الحسین زین العا بدین علیہ السلام اﷲسے محبت کی لذت کے علاوہ محبت سے استغفار کرتے ہیں ،اﷲکے علاوہ کسی دوسرے ذکر میں مشغول ہو نے سے استغفار کرتے ہیں اور اﷲکی قربت کے علاوہ کسی دوسری خوشی سے استغفار کرتے ہیں ،اس اعتبار سے نہیں کہ خداوندعالم نے اس کو اپنے بندوں پر حرام قرار دیاہے بلکہ اس لئے کہ وہ محبت دل کو اﷲ سے منصرف کر دیتی ہے اور انسان اﷲکے علاوہ کسی دوسرے سے لو لگا نے لگتا ہے اگر چہ بہت کم مدت کیلئے ہی کیوں نہ ہو لیکن جس دل کو اﷲسے محبت کی معرفت ہو گئی ہے وہ دل اﷲسے منصرف نہیں ہو تا ہے ۔

اولیا ئے خدا کی زند گی میں ہر چیز اور ہر کوشش اﷲسے دائمی محبت، اﷲکا ذکر اور اس کی اطاعت کے ذریعہ ہی آتی ہے اس کے علاوہ ہر چیز اﷲکی یاد سے منصرف کرتی ہے اور ہم اﷲسے استغفار کر تے ہیں ۔

امام علیہ السلام فر ما تے ہیں :

(واستغفرک من کل لذة بغیرذکرک ومِن کلّ راحة بغیراُنسک،ومن کل سرور بغیرقربک،ومن کلّ شغلٍ بغیرطاعتک )(٢)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحار الانوار جلد ٩٨ صفحہ ٢٢٦۔

(٢)بحار الانوار جلد ٩٤ صفحہ ١٥١۔

''اور میں تیری یاد سے خالی ہر لذت ،تیرے انس سے خالی ہر آرام ،تیرے قرب سے خالی ہر خو شی ،اور تیری اطاعت سے خالی ہر مشغولیت سے استغفار کرتا ہوں ''

محبت کے ذریعہ عمل کی تلافی

محبت عمل سے جدا نہیں ہے محبت انسان کے عمل ،حر کت اور جد و جہد کی علا مت ہے لیکن محبت ،عمل کا جبران کر تی ہے اور جس شخص نے عمل کرنے میں کو ئی کو تا ہی کی ہے اس کی شفاعت کر تی ہے وہ اﷲ کے نز دیک شفیع ومشفع ہے ۔

حضرت امام علی بن الحسین علیہ السلام ماہ رمضان میں سحری کی ایک دعا میں جو ابو حمزہ ثما لی سے مر وی ہے اور بڑی عظیم دعا میں شما ر ہو تی ہے فرما تے ہیں :

(معرفت یامولا دلیل علیک وحب لک شفیع الیک وانا واثق من دلیل بدلالتک ومن شفیع الیٰ شفاعتک )(١)

''اے میرے آقا میری معرفت نے میری،تیری جانب راہنما ئی کی ہے اور تجھ سے میری محبت تیری بارگاہ میں میرے لئے شفیع قرار پا ئیگی اور میں اپنے رہنما پر بھروسہ کئے ہوئے ہوں نیز مجھے اپنے شفیع پر اعتماد ہے ''

معرفت اور محبت بہترین رہنما اور شفیع ہیں لہٰذا وہ انسان ضائع نہیں ہوسکتا جس کی اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والی ذات اسکی معرفت ہے اور وہ بندہ مقصد تک پہنچنے میں پیچھے نہیں رہ سکتا جس کی خداوند عالم کے سامنے شفاعت کرنے والی ذات محبت ہے ۔

حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام فر ما تے ہیں :

(الٰہ انّک تعلم انّ وان لم تدم الطاعة منّ فعلاجزما فقددامت محبّة ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحا ر الانوار جلد ٩٨ صفحہ ٨٢۔

وعزما)

''خدایا تو جانتا ہے کہ میں اگرچہ تیری مسلسل اطاعت نہ کرسکا پھر بھی تجھ سے مسلسل محبت کرتا ہوں ''

یہ امام علیہ السلام کے کلا م میں سے ایک لطیف و دقیق مطلب کی طرف اشارہ ہے بیشک کبھی کبھی اطاعت انسان کو قصور وار ٹھہرا تی ہے اور وہ اﷲ کی اطاعت پر اعتماد کر نے پر متمکن نہیں ہو تا ہے لیکن اﷲ سے محبت کر نے والے انسانوں کے یقین و جزم میں شک کی کو ئی راہ نہیں ہے اور جس بندے کے دل میں اﷲ کی محبت گھر کر جا تی ہے اس میں شک آہی نہیں سکتا ۔بندہ بذات خود ہی اطاعت میں کو تا ہی کر تا ہے اور وہ ان چیزوں کا مرتکب ہو تا ہے جن کو خدا وند عالم پسند نہیں کر تا اور نہ ہی اپنی معصیت کرنے کو دو ست رکھتا ہے لیکن اس کیلئے یہ امکان نہیں ہے کہ (بندہ اطاعت میں کو تا ہی کرے اور معصیت کا ارتکاب کرے )اطاعت کو نا پسند کرے اور معصیت کو دوست رکھے ۔

بیشک کبھی اعضا و جوارح معصیت کی طرف پھسل جاتے ہیں ،ان میں شیطان اور       خو ا ہشات نفسانی داخل ہو جا تے ہیں اور اعضاء و جوارح اﷲ کی اطاعت کرنے میں کو تا ہی کر نے لگتے ہیں لیکن اﷲ کے نیک و صالح بندوں کے دلوں میں اﷲ کی محبت ،اس کی اطاعت سے محبت اور اس کی معصیت کے نا پسند ہو نے کے علا وہ اور کچھ داخل ہی نہیں ہو سکتا ہے ۔

ایک دعا میں آیا ہے :

(الٰہ احبّ طاعتک وانْ قصرت عنھاواکرہ معصیتک وانْ رکبتھا فتفضل علّ بالجنّة )(١)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحا رالانوار جلد ٩٤صفحہ ١٠١۔

''خدایا! میں تیری اطاعت کرنا چا ہتا ہوں اگر چہ میں نے اس سلسلہ میں کو تا ہی کی ہے اور مجھے تیری معصیت کرنا نا گوار ہے اگر چہ میں تیری معصیت کاارتکاب کر چکا ہوں لہٰذا مجھ کو بہشت کرامت فرما ''

جوارح اور جوانح کے درمیان یہی فرق ہے بیشک جوارح کبھی جوانح سے ملحق ہو نے سے  کوتاہی کر تے ہیں اور کبھی جوانح اپنے پروردگار کی محبت میں مکمل طور پر خاضع وخاشع ہو جا تے ہیں اور جوارح ایسا کرنے سے کوتاہی کر تے ہیں لیکن جب دل پاک وپاکیزہ اور خالص ہو جاتاہے تو جوارح اسکی اطاعت کرنے کیلئے نا چار ہوتے ہیں اور ہمارے لئے جوارح اور جوانح کی مطلوب چیز کا نافذکرنا ضروری ہے اور ہم جوارح اور جوانح کے درمیان کے اس فا صلہ کو اخلاص قلب کے ذریعہ ختم کر سکتے ہیں

محبت انسان کو عذاب سے بچاتی ہے

جب انسان گناہوں کے ذریعہ اﷲکی نظروں سے گرجاتا ہے اور انسان کو اﷲکے عذاب اور عقاب کیلئے پیش کیا جاتا ہے تو محبت ا نسان کو اﷲکے عذاب اور عقاب سے نجات دلاتی ہے ۔

حضرت علی بن الحسین زین العا بدین علیہ السلام منا جات میں فرماتے ہیں :

(الھ انّ ذنوب قداخافتن ومحبّن لک قد اجارتن)(١)

''خدایا! میرے گناہوں نے مجھے ڈرادیا ہے اور تجھ سے میری محبت نے مجھے پناہ دے رکھی ہے ''

محبت کے درجات اور اسکے طریقے

بندوں کے دلو ں میں محبت کے درجے اور مراحل ہوتے ہیں :

یعنی دل میں اتنی کم محبت ہو تی ہے کہ محبت کر نے والے کو اصلا اس محبت کا احساس ہی نہیں ہوتا ہے۔

(١)بحار الانو ار جلد ٩٥ صفحہ ٩٩۔

ایک محبت ایسی ہو تی ہے جس سے بند ے کا دل اس طرح پُر ہو جاتا ہے کہ ا نسان کے دل میں کوئی ایسی جگہ باقی نہیں رہ جاتی جس سے انسان لہوولعب میں مشغول ہو اور اﷲکا ذکر نہ کرے ۔اور ایک محبت ایسی ہوتی ہے کہ انسان اﷲ کے ذکر ،اس سے مناجات کر نے اور اس کی بارگاہ میں کھڑے ہونے میں مہنمک ہو جاتا ہے اور وہ ذکر ،دعا ،نماز اور فی سبیل اﷲ عمل کر نے اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے سیراب نہیں ہوتا ہے۔

ایک دعا میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرما تے ہیں :

(سیّدی انامن حبّک جائع لااشبع ،وانامن حبک ظماٰن لااُرویٰ واشوقاہ الیٰ مَن یران ولاأراہ)

''میرے آقا و سردار میں تیری محبت کا بھو کا ہوں کہ سیر نہیں ہوسکتا ،اور تیری محبت کا اتنا پیاسا ہوں کہ سیراب نہیں ہو سکتااور میں کسی ذات کے دیدار کا مشتاق ہوںلیکن وہ مجھے اپنا دیدار نہیں کراتا ''

حضر ت امام علی بن الحسین زین العابدین مناجات میں فرماتے ہیں :

(وغُلتی لایبردھاالاّوصلُک ولوعتی لایطفئوھاالَّالقائُ ک وشوقی الیک لایُبُلُّہُ الاالنَّظَرُاِلَیْکَ )(١)

''اور میری حرارت اشتیاق کو تیرے وصال کے علاوہ کو ئی اور چیزٹھنڈا نہیں کرسکتی اور میرے شعلہ ٔ شوق کو تیری ملاقات کے علاوہ کو ئی اور چیز بجھا نہیں سکتی اور میرے شوق کو تر نہیں کر سکتا ہے مگر تیری طرف نظر کرنا ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحارالانوار جلد ٩٤ صفحہ ١٤٩۔

اﷲکی محبت میںوالہانہ پن بھی ہے ،زیارت امین میں آیا ہے :

(اللھم انّ قلوب المخبتین الیک والھة)(١)

'' تیرے سامنے تواضع کرنے والوں کے دل مشتاق ہیں ''

حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام سے دعا میں مروی ہے :

(الھی بک ھامت القلوب الوالھة ۔۔۔فلا تطمئنّ القلوب الابذکراک ولا تسکن النفوس الاعند رؤیاک )(٢)

''خدایا !محبت بھرے دل تجھ ہی سے وابستہ ہیں ۔۔۔ دل تیرے ذکر کے بغیر مطمئن نہیں    ہو تے اور نفسوں کو تیرے دیدار کے بغیر سکون نہیں ملتا ''

ان والھہ اور ہائمہ قلوب کی یہ خاصیت ہے کہ ان کو اﷲکے ذکر کے بغیر سکون و اطمینان نہیں ہو تا۔

ہم کو محبت کی آخری حد کا سبق امیرالمو منین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی اس دعا کے کلمات میں ملتا ہے جس کی آپ نے کمیل بن زیادہ نخعی کو تعلیم دی تھی جو دعاء کمیل کے نام سے مشہور ہے:

(فھبن یاسیّد ومولا ورب صبرت علیٰ عذابک فکیف اصبرعلیٰ فراقک ،وھبن صبرت علی حرنارک فکیف اصبرعن النظر الیٰ کرامتک ام کیف اسکن فی النار ورجائ عفوک؟!)(٣)

''تو اے میرے خدا!میرے پروردگار !میرے آقا!میرے سردار! پھر یہ بھی طے ہے کہ اگر میں تیرے عذاب پر صبر بھی کر لوں تو تیرے فراق پر صبر نہیںکر سکتا۔اگر آتش جہنم کی گرمی برداشت بھی کر لوں تو تیری کرامت نہ دیکھنے کو برداشت نہیں کر سکتا ۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تیری معافی کی امیدرکھوںاورپھرمیںآتش جہنم میںجلادیاجاؤں ''

(١)مفاتیح الجنان دعا ء ابو حمزہ ثمالی۔

(٢)بحار ا لا نو ار جلد صفحہ ١٥١ ۔

(٣)مفا تیح الجنان دعائے کمیل ۔

یہ بندہ کی توجہ کو مبذول کر نے کے بہت ہی پاک وپاکیز ہ اور سچے نمونے ہیں یعنی بندہ اپنے مولا وآقا کی طرف سے جہنم کے عذاب پر تو صبر کر سکتا ہے لیکن وہ اسکی جدائی اور غضب پر کیسے صبر کرسکتا ہے ؟!

کبھی محب اپنے مولا کے عقاب کو برداشت کرتاہے لیکن اس کے غضب کو برداشت نہیں کرتا کبھی وہ سب سے سخت عذاب دوزخ کو تو برداشت کر لیتا ہے لیکن مولا وآقا کے فراق کو برداشت نہیں کرپا تا ہے ۔

جہنم کی آگ بندہ کا ٹھکانا کیسے ہو سکتی ہے حا لانکہ بندہ اپنے مولا وآقا سے مہربانی وعطوفت اور جہنم سے نجات دینے کی امیدر کھتا ہے ؟

محبت اور رجاء وامید یہ دونو ں چیزیں بند ے کے دل سے جدُا نہیں ہوسکتی ہیں (حالا نکہ اس کو اﷲکے غضب کی وجہ سے جہنم کی بھٹی میں جھو نک دیا جاتا ہے )اس عظیم وجلیل دعا کی یہ پاک و    پا کیزہ صورتیں ہیں ۔

کبھی بندہ اپنے مولا سے محبت کر تا ہے اور اس کا مولا و آقا اس کو اپنی نعمت اور فضل سے نوازتا ہے یہ محبت کی تاکید کا ہی اثر ہے لیکن وہ محبت جس کو بندے کے دل سے جدا کر نے اور جدا نہ کرنے سے اس کی محبت میں کو ئی اضافہ نہ ہوتاہو تواس کو بندے کے مولا وآقا کے عذاب جہنم میں جھونک دیاجا ئیگا ۔

امام زین العا بدین نے جس دعا ء سحر کی ابو حمزہ ثمالی کو تعلیم دی تھی اس میں فرماتے ہیں :

(فوعزّتک لوانتھرتن مابرحت من بابک ولاکففت عن تملّقک لما اُلھم قلب من المعرفة بکرمک وسعة رحمتک الی مَن یذھب العبد الاّ الی مولاہ؟ والی مَن یلتجی المخلوق الاّالی خالقہ ؟!الھ لوقرنتن بالاصفاد،ومنعتن سیبک من بین الاشھاد،ودللت علیٰ فضائح عیون العباد،وامرت ب الی النار وحلت بین وبین الابرارماقطعتُ رجائ منک،وماصرفتُ تأمیل للعفوعنک، ولاخرج حبّک من قلب) (١)

''تیری عزت کی قسم !اگرتو مجھ کو جھڑک بھی دے گا تو ہم تیرے دروازے سے کہیں جا ئیں گے نہیں اور تجھ سے آس نہیں توڑیں گے ہمارے دل کو تیرے کرم کا یقین ہے اور ہمیشہ تیری وسیع رحمت پر اعتماد ہے میرے مالک بندہ اپنے مالک کوچھوڑکرکدھر جا ئے اور مخلوق خالق کے ماسوا کس کی پناہ لے!میرے معبود اگر تو مجھ کو زنجیر وں میںجکڑ بھی دے گا اور مجمع عام میں عطا سے انکاربھی کر دیگا اور لوگوں کو ہمارے عیوب سے آگاہ بھی کردیگا اور ہم کو جہنم کا حکم بھی دیدیگا اور اپنے نیک بندوں سے الگ بھی کر دیگا تو بھی میں امید کوتجھ سے منقطع نہیں کرونگا اور جو تیری معافی سے آس نہیں توڑونگا اور  تیری محبت کو دل سے نہ نکالونگا ''

یہ بات ذہن نشین کرلیجئے کہ یہی محبت سچی محبت ،امید،آرزو ،اور پاک صاف محبت ہے یہ بندہ کے دل سے کبھی نکل نہیں سکتی چاہے مولا اس کو زنجیروں میں ہی کیوں نہ جکڑ دے اور اس کولوگوں کے سامنے رسوا ہی کیوں نہ کرے ۔

ہم محبت اور رجاء کی ان بہترین صورتوں کو قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جن کو مولائے کائنات نے جلیل القدر دعا کمیل میں بیان فرمایاہے :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)دعا ابو حمزہ ثمالی ۔

(فَبِعِزَّتِکَ یَاسَیِّدْ وَمَوْلَا اُقْسِمُ صَادِقاً لَانْ تَرَکْتَنِْ نَاطِقاً لَاَضِجَّنَّ اَلَیْکَ بَیْنَ اَھْلِھَاضَجِیْجَ الْآمِلِیْنَ وَلأصْرُخَنَّ صُرَاخَ الْمُسْتَصْرِخِیْنَ وَلَأبْکِیَنَّ عَلَیْکَ بُکَائَ الْفَاقِدِیْنَ وَلَاُنَادِیَنَّکَ اَیْنَ کُنْتَ یَاوَلَِّ الْمُؤْمِنِیْنَ یَاغَایَةَ آمَالِ الْعَارِفِیْنَ  یَاغَیَاثَ الْمُثستَغِیْثِیْنَ یَاحَبِیْبَ قُلُوْبِ الصَّادِقِیْنَ وَ یَااِلٰہَ الْعَا لَمِیْنَ)

اَفَتُرَاکَ سُبْحَانَکَ یَااِلٰھِْ وَبِحَمْدِکَ تَسْمَعُ فِیْھَاصَوْتَ عَبْدٍمُسْلِمٍ سُجِنَ فِیْھَابِمُخَالَفَتِہِ وَذَاقَ طَعْمَ عَذَاِبھاَبِمَعْصِیَتِہِ وَحُبِسَ بَیْنَ اَطْبَاقِھَابِجُرْمِہِ وَجَرِیْرَتِہِ وَھُوَیَضِجُّ اِلَیْکَ َ ضجٍیجَ  مُُؤمِّلٍ ِلرَحْمَتِکَ وَیْنٰادیکَ بِلِسٰانِ أَھْلِ تَوْحیدِکَ وَیَتَوَسَّلُ ُاِلَیْکَ بِرُبُوبِیَّتِکَ ٰیامَوْلاَ فَکَیْفَ یَبْقٰی فِی اْلعَذٰابِ وَھُوَ یَرْجُومٰاسَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ اَمْ کَیْفَ تُؤلِمُہُ النّٰارُوَھُوَیَاْمُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ َامْ کَیْفَ یُحْرِقُہُ ُلَھیبُھٰاوَاَنْتَ تَسْمَعُ صَوْتَہ ُوَتَریٰ مَکٰانَہُ اَمْ کَیْفَ یَشْتَمِل ُعَلَیْہِ زَفیرُھٰا وَاَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَہُ ُاَمْ کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ اَطْبٰاٰقِھٰاوَاَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَہُ اَمْ کَیْفَ تَزْجُرُہُ زبٰانِیَتُھٰاوَھُوَیُنٰادیکَ یاٰرَبَّہُ اَمْ کَیْفَ یَرْجُو فَضْلَکَ فی عِتْقِہِ مِنْھٰا فَتَتْرُکُہُ فیھٰاھَیْھٰاتَ مٰاذٰالِکَ الظَّنُّ بِکَ وَلَاالْمَعْروُفُ مِنْ فَضْلِکَ وَلٰامُشْبِہ لِمٰاعٰامَلْتَ بِہِ الْمُوَحِّدینَ مِنْ بِرِّکَ وَاِحْسٰانِکَ )(١)

''تیری عزت و عظمت کی قسم اے آقاو مولا! اگر تونے میری گویائی کو باقی رکھا تو میں اہل جہنم کے درمیان بھی امیدواروں کی طرح فریاد کروں گااور فریادیوں کی طرح نالہ و شیون کروں گااور ''عزیز گم کردہ ''کی طرح تیری دوری پر آہ وبکا کروں گا اور تو جہاں بھی ہوگا تجھے آوازدوں گا کہ تو مومنین کا سرپرست، عارفین کا مرکز امید،فریادیوں کا فریادرس ،صادقین کا محبوب اور عالمین کا معبودہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)مفاتیح الجنان دعاء کمیل۔

اے میرے پاکیزہ صفات ،قابل حمد وثنا پروردگار کیا یہ ممکن ہے کہ تواپنے بندۂ مسلمان کو اس کی مخالفت کی بنا پر جہنم میں گرفتار اور معصیت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکھنے والااور جرم و خطا کی بنا پر جہنم کے طبقات کے درمیان کروٹیں بدلنے والا بنادے اور پھر یہ دیکھے کہ وہ امید وار ِرحمت کی طرح فریاد کناں اور اہل توحید کی طرح پکارنے والا ،ربوبیت کے وسیلہ سے التماس کرنے والا ہے اور تو اس کی آواز نہیں سنتا ہے۔

خدایا تیرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب میں رہے گا اور تیرے فضل وکرم سے امیدیں وابستہ کرنے والا کس طرح جہنم کے الم ورنج کا شکار ہوگا۔جہنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تواس کی آواز کو سن رہا ہو اور اس کی منزل کو دیکھ رہا ہو،جہنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپیٹ میں لیں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکھ رہا ہوگا۔وہ جہنم کے طبقات میں کس طرح کروٹیں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ہے ۔ جہنم کے فرشتے اسے کس طرح جھڑکیں گے جبکہ وہ تجھے آواز دے رہا ہوگا اور تو اسے جہنم میں کس طرح چھوڑ دے گا جب کہ وہ تیرے فضل و کرم کا امیدوار ہوگا ،ہر گز تیرے بارے میں یہ خیال اور تیرے احسانات کا یہ انداز نہیں ہے تونے جس طرح اہل توحید کے ساتھ نیک برتاؤ کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔میں تویقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ تونے اپنے منکروں کے حق میں عذاب کا فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور اپنے دشمنوں کوہمیشہ جہنم میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا تو ساری آتش جہنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس میں کسی کا ٹھکانا اور مقام نہ ہوتا''

ہمارے ایک دوست نے ہم سے کہا :شجاعت حضرت علی علیہ السلام کی اصلی خصلت ہے اور یہ خصلت ان سے جدا نہیں ہوسکتی یہاں تک کہ آپ رب العالمین کی بارگاہ میںاس شہامت کے ساتھ دعا کرتے ہیں۔آپ نے جناب کمیل کوجو دعا تعلیم فرمائی تھی اس میں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ جب گناہکار بندہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ آگ کے جنگل میں پھنس گیا ہے اور چاروں طرف سے اسکو آگ نے گھیر لیاہے تو وہ اس وقت نہ توخاموش رہ سکتا ہے نہ کسی جگہ پر اسکو سکون ملتا ہے اور نہ ہی عذاب اور عقوبت کے لئے تسلیم ہوسکتا ہے اور یہی حال اس شخص کا ہے جس پر عذاب کا ہورہاہو اور آگ کے شعلے اس کو ڈرا رہے ہوں تو وہ روتا ہے چلاتا ہے افسوس کرتا ہے اور آواز بلند کرتا ہے ۔

قارئین! کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ اس حالت کی دعامیں کس طرح تعبیر کی گئی ہے؟

(فَبِعِزَّتِکَ یَاسَیِّدْ وَمَوْلَا اُقْسِمُ صَادِقاً لَانْ تَرَکْتَنْ نَاطِقاً لَاَضِجَّنَّ اَلَیْکَ بَیْنَ اَھْلِھَاضَجِیْجَ الْآمِلِیْنَ وَلأصْرُخَنَّ صُرَاخَ الْمُصْتَسْرِخِیْنَ وَلَأبْکِیَنَّ عَلَیْکَ بُکَائَ الْفَاقِدِیْنَ وَلَاُنَادِیَنَّکَ اَیْنَ کُنْتَ یَاوَلِیَّ الْمُؤْمِنِیْن)

ہم نے عرض کیا :تم نے مولائے کائنات کے کلام کو صحیح طور پر نہیں سمجھا ۔اگر مولائے کائنات یہ بیان فرماتے جوتم نے خیا ل کیا ہے تو اس خطاب کے مقدمہ میں ( لوتَرَکْتَنِیْ نَاطِقاً )        نہ فرماتے لیکن میں اس مقام پر حضرت علی علیہ السلام کی فطری حالت کا احساس کررہا ہوں جو آپ نے ان کلمات میں اﷲ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر فرمایا ہے کہ انسان اﷲ کی بارگاہ میں اس شیر خوار بچہ کے مانند ہے جو دنیا میں اپنی ماں کی عطوفت ،مہربانی ،رحمت اور محبت کے علاوہ کوئی پناہگاہ نہیں رکھتا ہے جب بھی اسکوکوئی امرلاحق ہوتا ہے یاکوئی نقصان پہنچتا ہے تو وہ دوڑکر اپنی ماں کی آغوش میں چلاجاتا ہے اسی سے فریاد کرتا ہے اور جب وہ کسی مخالفت کا مرتکب ہوتا ہے اور اسکی ماں اسکو کوئی سزادینا چاہتی ہے اور وہ اپنی ماں کی سزا سے بچ کر کسی اور پناہگاہ میں جانا چاہتا ہے تو اسکے پاس اسکی ماں کے علاوہ کوئی اور پناہگاہ ہوتی ہی نہیں ہے لہٰذا اسکے لئے اسی سے فریاد کرناضروری ہو تا ہے اسی طرح اگر کوئی دوسرا شخص اسکو اذیت و تکلیف دیتا ہے تو اسکے پاس اسکی ماں کے علاوہ کوئی اور پناہگاہ نہیں ہوتی ہے۔

یہی حال مولائے کائنات کا اس دعا میں ہے آپ نے اپنے عظیم قلب سے اس دعا کی تعلیم فرمائی :اﷲ سے پناہ مانگو ،اس سے فریاد کرو اور اسکے علاوہ کسی اور کو اپنا ملجاوماوی نہ بنائو۔

فقط خداوند تبارک وتعالی یکتا اسکا ملجاوماوی ہے جس کے علا وہ وہ کسی کو پہچانتا ہی نہیں ہے جب بندہ یہ خیال کرتا ہے کہ خداوند عالم کا عذاب اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے (١)

کیا خداوند تبارک وتعالیٰ اسکا ملجاوماویٰ نہیں ہے؟تو پھر کیوں اس خدا سے استغاثہ کرنے میں تردد کرتا ہے؟

امام زین العابدین علیہ السلام مناجات میں اسی معنی کی عکاسی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

(فان طردتنی مِن بابک فبمن الوذ؟وان ردّدتنی عن جنابک فبمن اعوذ؟الھ ھل یرجع العبدالابق الَّاالٰی مولاہ؟ام ھل یجیرہ من سخطہ احد سواہ)(٢)

''پس اگر تو مجھ کو اپنے در وازے سے ہٹا دے گا تو میں کس کی پناہ لونگا اور اگر تو نے مجھ کو اپنی درگاہ سے لو ٹا دیا تو کس کی پناہ میں رہونگا کیا فراری (بھا گا ہوا)غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے پاس پلٹتا ہے یا اس کو آقا کی ناراضگی سے خود آقا کے علاوہ کوئی اور بچاتا ہے ''

اور آپ نے ابوحمزہ ثمالی کو جو دعا کی تعلیم فرمائی تھی اس میں آ پ فرماتے ہیں : (وانایاسید عائذ بفضلک ھارب منک الیک )(٣)

''اور میں تیرے فضل کی پناہ چا ہنے والا ہوں اور تجھ سے بھاگ کر تیری طرف آنے والا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)یہاں ہم خود مو لا علی کے کلمات سے مذکورہ مطالب کو اخذ کر رہے ہیں اگر مو لائے کا ئنات سے یہ کلمات صادر نہ ہوئے ہوتے تو اس طرح مو لائے کا ئنات اور خداوند عالم کے درمیان رابطہ کے سلسلہ میں گفتگو کی ہم جرأت نہیں  کر سکتے ہیں ۔

(٢)بحاالانوار جلد٩٤ص٤٢ا۔

(٣)بحار الانوار جلد٩٨ص٨٤۔

اسی دعا میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فر ما تے ہیں :

(الیٰ مَن یذ ھب العبد ِلا ِلیٰ مولاہ والی مَن یذھب المخلوق الاا لیٰ خالقہ) (١)

''کیاغلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے پاس جا سکتا ہے اور کیا مخلوق اپنے خالق کے علاوہ کسی اور کے پاس جا تی ہے ''

بندہ کے خدا وند عالم سے لو لگا نے کے سلسلہ میں بندہ کا اللہ سے اللہ کی طرف بھاگ کر جانا یہ بہت دقیق معانی اوربلند افکار ہیں حضرت علی علیہ السلام نے بندہ کے اللہ سے لو لگا نے کی جومنظر کشی فر ما ئی ہے یہ محبت اور رجا و امید کے سب سے زیادہ دقیق اورلطیف مشاعر ہیں اور محبت کرنے والوں کے دلوں میں سچے دل سے گھر کرتی ہیں ۔

حضرت علی علیہ السلام نے دعا کے اس فقرے میں استغاثہ کر تے وقت شعراء کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا ہے بلکہ دعا کے اس مرحلہ کو پوار کیا ہے آپ خدا کی بار گاہ میں اپنے احساس اور شعور کی تعبیر کرنے میں بالکل سچے ہیں ۔

یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہمارے، اﷲ کی رحمت اور اسکے فضل کی معرفت رکھتے ہوئے بھی خدا اپنے بندہ سے رجا اور محبت میں سچے اور پاک وصاف احساس کواس بندہ کی محبت اور اسکی امید کو رد  فرما دے ۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

(َ فَکَیْفَ یَبْقٰی فِی اْلعَذٰابِ وَھُوَیَرْجُومٰاسَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ اَمْ کَیْفَ تُؤلِمُہُ النّٰارُوَھُوَیَاْمُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ َامْ کَیْفَ یُحْرِقُہُ ُلَھیبُھٰاوَاَنْتَ تَسْمَعُ صَوْتَہ ُوَتَریٰ 

(١) بحاالانوار جلد٩٨ صفحہ ٨٨ ۔

مَکٰانَہُ اَمْ کَیْفَ یَشْتَمِل ُعَلَیْہِ زَفیرُھٰاوَاَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَہُ ُاَمْ کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ اَطْبٰاٰقِھٰاوَاَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَہُ اَمْ کَیْفَ تَزْجُرُہُ زبٰانِیَتُھٰاوَھُوَیُنٰادیکَ یاٰرَبَّہُ )

''خدایا تیرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب میں رہے گا اور تیرے فضل وکرم سے امیدیں وابستہ کرنے والا کس طرح جہنم کے الم ورنج کا شکار ہوگا۔جہنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تواس کی آواز کو سن رہا ہو اور اس کی منزل کو دیکھ رہا ہو،جہنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپیٹ میں لیں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکھ رہا ہوگا۔وہ جہنم کے طبقات میں کس طرح کروٹیں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ہے ۔ جہنم کے فرشتے اسے کس طرح جھڑکیں گے جبکہ وہ تجھے آواز دے رہا ہوگا ''

کیا یہ ممکن ہے کہ خداوند عالم بندہ کی گردن میںآگ کا طوق ڈالدے ،اسکو اس میں جلائے حالانکہ وہ خدا کو پکاررہا ہوا پنے کئے پر پچھتا رہاہو اور اپنی زبان سے اس کی  وحدانیت کا اقرار کررہاہو ؟

ہما ری زندگی میں جو کچھ اس کا حلم و فضل گذر چکا ہم اس کی مطلق اور قطعی و یقینی طور پر نفی کرتے ہیں لیکن حضرت علی علیہ السلام خدا وند عالم کے حلم و فضل پر اس کے فضل سے اسطرح استدلال فر ماتے ہیں :( وَھُوَیَرْجُومٰاسَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ)امام علیہ السلام قضیہ کے دو نوں طرف یعنی خدا وند عالم کے بندہ سے رابطہ برقرار رکھنے اور بندہ کے خداوند عالم سے لو لگا نے میں قاطع اور صاف صاف طور پر بیان فر ما تے ہیں۔

جس طرح اس کو یقین ہے کہ اگر بندہ کو جہنم میں بھی ڈالدیاجائیگا تو اس کی محبت اور امید اس سے جدا نہیں ہوسکتی ہے اور ہرگز خداوندعالم کے علاوہ اس کا کوئی ملجاوماویٰ نہیں ہوسکتا ہے اسی طرح اس کو بھی یقین ہے کہ خداوندعالم سچی محبت اور امید کو بندے کے دل سے ختم نہیں کرتا ہے ۔

اس جزم ،قاطعیت اور صاف گوئی کے متعلق مولائے کائنات کے کلام میں غور فرمائیں :

(ھیھات ماذلک الظّنُ بکَ وَلَاالْمَعْرُوْفُ مِنْ فَضْلِکَ وَلَامُشْبِہلِّمَا عَامَلْتَ بِہِ الْمُوَحِّدِیْنَ مِنْ بِرِّکَ وَاِحْسَانِکَ فَبِالْیَقِیْنِ اَقْطَعُ لَوْلَامَاحَکَمْتَ بِہِ مِنْ  تَعْذِیْبِ جَاحِدِیْکَ وَقَضَیْتَ بِہِ مِنْ اِخْلَادِ مُعَانِدِیْکَ لَجَعَلْتَ النَّارَکُلَّھَا بَرْداً وَسَلَاماًوَمَاکَانَ لِاَحَدٍ فِیْھَامَقَرّاًوَلَامُقَاماً )(ا)

''ہر گز تیرے بارے میں یہ خیال اور تیرے احسانات کا یہ انداز نہیں ہے ۔تونے جس طرح اہل توحید کے ساتھ نیک برتاؤ کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔میں تویقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ تونے اپنے منکروں کے حق میں عذاب کا فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور اپنے دشمنوں کوہمیشہ جہنم میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا تو ساری آتش جہنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس میں کسی کا ٹھکانا اور مقام نہ ہوتا''

یہ جزم ویقین جو بندہ خداوندعالم سے لولگانے میں رکھتا ہے یہ بلند مرتبہ ہے اور مو لا کا اپنے بند ے سے تعلق رکھنا یہ مرتبہ پائین ہے ۔ہم ان دونوں باتوں کا مو لائے کا ئنات کے دو سرے کلام میںمشاہدہ کرتے ہیں جہاں پر آپ نے اپنی مشہور مناجات میں خداوند عالم کو مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :

(الھ وعزّتک وجلالک لقداحببتک محبّة استقرّت حلاوتھا ف قلب،وماتنعقدضمائرموحّدیک علیٰ انک تبغض محبیک) (٢)

''خدایا !تجھ کو تیرے عزت و جلال کی قسم تیری محبت کی مٹھاس میرے دل میں گھر کر گئی ہے اور تیرے مو حدین کے ذہن میں یہ خیال بھی نہیں گذرتا کہ تو ان سے نفرت کرتا ہے ''

حضرت امام علی بن الحسین علیہ السلام کی مناجات میں آیا ہے :

(الھ نفس اعززتھابتوحیدک کیف تذ لّھابمھانة ھجرانک وضمیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)مفاتیح الجنان دعائے کمیل ۔

(٢)مناجات اہل البیت صفحہ ٦٨۔٦٩۔

انعقد علیٰ مودّتک کیف تحرقہ بحرارة نیرانک )(١)

''اے خدا جس نفس کو تونے اپنی توحید سے عزت دی ہے اسے کیسے اپنے فراق کی ذلت سے ذلیل کرے گا اور جس نے عشق و محبت کی گرہ با ندھی ہے اس کو اپنی آگ کی حرارت سے کیسے   جلا ئے گا ''

حضرت سجاد علیہ السلام ابو حمزہ ثمالی کو تعلیم دینے والی دعا میں فرماتے ہیں :

(افتراک یاربّ تخلف ظنوننااوتخیّب آمالنا؟کلّا یاکریم ،فلیس ھٰذا ظننابک،ولاھٰذاطمعنافیک یاربّ اِنَّ لَنَافِیْکَ اَمَلاًطَوِیْلاً کَثِیْراً،اِنَّ لَنَافِیْکَ رَجَائً عَظِیْماً۔۔۔) (٢)

''اور تو یقیناہمارے یقین کوجھوٹا نہیں کرے گااور ہماری امید کو ناامیدنہیں کرے گا ؟ہر گز نہیں کریم تیرے بارے میں یہ بد گمانی نہیں ہے ہم تجھ سے بہت امید رکھتے ہیںاور بہت کچھ امید لگائے بیٹھے ہیں ''

محبت میں انسیت اور شوق کی حالت

محبت کا اظہار دو طرح سے ہوتا ہے ۔کبھی محبت شوق کی صورت میں ظا ہر ہو تی ہے اور کبھی محبت کسی سے انسیت کی صورت میں ظاہر ہو تی ہے اور ان دونوں حا لتوں کو محبت سے تعبیر کیا جا تا ہے مگر دونوں میں یہ فرق ہے کہ بندے کے اندر شوق کی حالت اس وقت زور پکڑ تی ہے جب وہ اپنے محب سے دور ہو تا ہے اور انس کی حالت اس وقت زور پکڑتی ہے جب وہ اپنے حبیب کے پا س موجود

ہوتاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحار الانوار جلد ٩٤ صفحہ ١٤٣۔

(٢)مفا تیح الجنان دعائے ابو حمزہ ثما لی ۔

یہ دونوں حالتیں بندے کے قلب پر اس وقت طاری ہو تی ہیں جب وہ اﷲ سے لو لگاتا ہے بیشک خدا وند عالم کبھی بندے پر دور سے تجلی کرتا ہے اور کبھی نزدیک سے تجلی کرتا ہے:

(اَلَّذِیْ بَعُدَ فَلَایُریٰ وَقَرُبَ فَشَھَدَ النَّجْویٰ)(١)

''جو اتنا دور ہے کہ دکھائی نہیں دیتا ہے اور اتنا قریب ہے کہ ہر راز کا گواہ ہے ''

جب وہ بندے پر دور سے تجلی کرتا ہے تو بندے میں شوق کی حالت پیدا ہو تی ہے اور جب وہ بندے پر قریب سے تجلی کرتا ہے اور بندہ اپنے مو لا کی بارگاہ میں حا ضر ہو نے کا احساس کرتا ہے :

(وَھُوَمَعَکُمْ اَیْنَ مَاکُنْتُمْ )(٢)

''وہ تمہا رے ساتھ ہے تم جہاں بھی رہو ''

(وَنَحْنُ اَقْرَبُ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ)(٣)

''اور ہم اس کی رگ گردن سے زیادہ قریب ہیں ''

(وَاِذَاسَألَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْب )(٤)

''اور اے پیغمبر اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں ان سے قریب ہوں ''تو بندہ میں انسیت کی حالت پیدا ہو تی ہے ۔

دعا ئے افتتاح میں ان دو نوں حالتوں کی امام حجت المہدی عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف سے دقیق طور پر عکا سی کی گئی ہے :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١) مفا تیح الجنان دعائے ابو حمزہ ثمالی ۔

(٢)سورئہ حدید آیت ٤۔

(٣)سورئہ ق آیت ٦ا۔

(٤)سورئہ بقرہ آیت ٨٦ا۔

(اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَایُھْتَکُ حِجَابُہُ وَلَایُغْلَقُ بَابُہُ )(١)

''ساری حمداس خدا کے لئے جس کا حجاب نور اٹھایا نہیں جاسکتا ہے اور اس کا دروازہ کرم بند نہیںہوسکتا ہے ''

حجاب کی بھی دو قسمیں ہیں :حجاب ظلمت اور حجاب نور ۔کبھی انسان گھپ اندھیرے کی وجہ سے کچھ دیکھ نہیں پاتا یعنی گھٹا ٹوپ اندھیرا اس کے دیکھنے میں مانع ہو تا ہے اس کو حجاب ظلمت اور  تاریکی کہا جاتا ہے ۔

کبھی انسان انتہا ئی رو شنی اور نورکی وجہ سے کچھ دیکھ نہیں پاتا ہے جس طرح انسان وسط میںکسی رکا وٹ  و حائل ہو نے والی چیز کے بغیر سورج کی طرف نہیں دیکھ سکتا ہے یہ سورج کی انتہا ئی روشنی کی وجہ سے ہے اسی کو حجاب نور کہا جا تا ہے ۔

''دنیا سے محبت ''،برائیوں کی مقار نت اور ''مَا یُرین القلب ''انسان کے اﷲ سے لو لگا نے میں حجاب ظلمت شمار ہو تے ہیں ۔

انسان کے اﷲ سے لو لگا نے کیلئے حجاب نور دو سری چیز ہے، حجاب نور وہ حجاب ہے جو کبھی نہیں چھٹتا ہے ۔جیسا کہ حضرت مہدی عجل اﷲ تعا لیٰ فر جہ الشریف نے اس دعا میں فر مایا ہے ۔

یہ وہ حجاب ہے جو بندوں کے دلوں میں شوق و اشتیاق زیادہ کرتا ہے حضرت امام زین    العا بدین اپنی منا جات میں اﷲ سے لو لگا نے کے شوق و اشتیاق کو یوں بیان فر ما تے ہیں :

(وَغُلَّتِْ لَایُبَرِّدُھَااِلَّاوَصْلُکَ وَلَوْعَتْ لَایُطْفِیْھَا اِلَّالِقَاؤُکَ وَشَوْقِْ اِلَیْکَ لَایَبُلُّہُ اِلَّاالنَّظَرُ اِلیٰ وَجْھِکَ وَقَرَارِْ لَایُقِرُّدُوْنَ دُنُوِّْ مِنْکَ وَلَھْفَتِْ لَایَرُدُّھَا اِلَّارَوْحُکَ وَسُقْمِْ لَایَشْفِیْہِ اِلَّاطِبُّکَ وَغَمِّْ لَایُزِیْلُہُ اِلَّاقُرْبُکَ وَجُرحِْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)مفا تیح الجنان دعا ئے افتتاح ۔

لَایُبْرِئُہُ اِلَّاصَفْحُکَ وَریْنَ قَلْبِیْ لَایَجْلُوْہُ اِلَّاعَفْوُکَ۔۔۔فَیَامُنْتَھیٰ اَمَلِ الآمِلِیْنَ، وَیَاغَایَةَ سُؤْلِ السَّائِلِیْنَ وَیَااَقْصیٰ طَلَبَةِ الطَّالِبِیْنَ وَیَااَعْلیٰ رَغْبَة الرَّاغِبِیْنَ وَیَاوَلِیَّ الصَّالِحِیْنَ وَیَااَمَانَ الْخَائِفِیْنَ،وَیَامُجِیْبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّیْنَ وَیَاذُخْرَالْمُعْدِمِیْنَ وَیَاکَنْزَالْبَائِسِیْنَ )(١)

''اور میرے اشتیاق کی حرارت کو تیرے وصال کے علا وہ کو ئی اورچیزٹھنڈا نہیں کر سکتی اور میرے شعلہ ٔ شوق کو تیری ملاقات کے علاوہ کو ئی چیز بجھا نہیں سکتی اور میرے شوق کو تر نہیں کرسکتا ہے مگر تیری طرف نظر کر نا میرا دل تیرے قرب کے علا وہ قرار نہیں پاتا ہے اور میری حسرت کو تیری رحمت کے سوا کو ئی زائل نہیں کر تا اور میرے درد کو تیرے علا ج کے سوا کو ئی شفا نہیں دیتا ہے اور میرے غم کو تیرے قرب کے سوا کو ئی زا ئل نہیں کرتا اور میرے زخم کو تیری چشم پو شی کے علا وہ کو ئی ٹھیک نہیں کرتا اور میرے دل کے زنگ کو تیری معا فی کی علا وہ کو ئی جِلا نہیں دیتا ۔۔۔اے امید واروں کی امید کی انتہا اے سوال کرنے والوں کے منتہاء مقصود ،اے طلب کرنے والوں کے بلند ترین مطلوب اے رغبت رکھنے والوں کی بلند ترین آرزو ،اے نیکوں کے ولی اے خوف رکھنے والوں کے امان دینے والے اور اے مضطر کی دعا قبول کرنے والے اور اے بینواؤں کے ہمنوا اور اے بیچا روں کے لئے امیدکا خزانہ ''

اس تجلی کے با لمقابل تجلی کا ایک اور طریقہ ہے اور وہ اپنے اور بندوں کے درمیان دروازہ بند کئے ہو ئے بغیر تجلی کرنا ہے وہ ان کی مناجات کو سنتا ہے ،وہ ان کی شہ رگ گردن سے بھی زیادہ ان سے قریب ہے ، یحول بین المرء و قلبہ ، اس سے بندوں کے دلوں میں آنے والی کو ئی بھی چیز مخفی نہیں ہے ،بندہ خود کو اپنے آقا کی بارگاہ میں حاضر پاتا ہے وہ اپنے آقا کی کو ئی بھی مخالفت اور معصیت کرنے سے ڈر تا ہے ،اس کے ذکر و یاد سے مانوس ہو تا ہے ،اپنی مناجات اور دعا میں ثابت  قدم رہتا ہے ،منا جات کوطول دیتا ہے ،خدا کا ذکر اور اس کو یاد کرتا ہے اور اس کے سامنے ٹھہر تا ہے ۔

(١)بحا رالانوار جلد ٩٤ صفحہ ٥٠ا۔

حدیث قد سی میں آیا ہے کہ پر ور دگار عالم رات کی تاریکی میں اپنی بارگاہ میں اپنے بعض انبیا ء کور کو ع وسجو د سے متصف کرتا ہے جبکہ لوگ گہری نیند میں سوئے ہو ئے ہوتے ہیں :

(ولوتراھم وھم یقیمون ل ف الدجیٰ ،وقد مثلت نفسی بین اعنیھم یخاطبون،وقد جللت عن المشاھدة ویکلّمون وقد عززت عن الحضور )(١)   ''اگر تم ان کو رات کی تاریکی میں دیکھو گے تو وہ حالت قیام میں ہونگے وہ میرے وجود کا مشاہدہ کرتے ہیں اور مجھ سے مخاطب ہوتے ہیں اور گفتگو کر تے ہیں درحالیکہ میں ان سے غائب ہوں' '

بندہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو نے سے نہیں اکتا تا اور نہ ہی وقت گذرنے کا احساس کرتا ہے ۔کیاآپ نے یہ مشاہدہ نہیں کیا کہ جب انسان اپنے کسی ایسے دوست کے پاس جاتا ہے جس سے اس کو بہت زیادہ محبت ہو تی ہے تو وہ نہ اس کے پاس جانے سے اکتاتا ہے اور نہ ہی اس کو اپنے وقت گذرنے کا احساس ہوتا ہے ؟

تو پھر انسان، اﷲ کی بارگاہ میں حاضر ہو نے سے کیسے اکتا ئے گا ؟ جبکہ پر وردگار عالم اس کی بات سنتا ہے ،اس کو دیکھتا ہے اس کے خطاب اور کلام کو سنتا ہے اور وہ اس کے ساتھ ہے۔

(وَھُوَمَعَکُمْ اَیْنَ مَاکُنْتُمْ )(٢)''تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے ''

اﷲ کے ذکر سے اس کو اطمینان وسکون حاصل ہو تا ہے :

(الابذکراﷲ تطمئنُّ القلوبُ )(٣)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١) لقا ء اللہ صفحہ ١٠١۔

(٢)سورئہ حدید آیت ٤۔

(٣)سورہ رعدآیت ٢٨۔

''اور آگاہ ہو جا ئو کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے ''

امام مہدی عجل اﷲ تعا لیٰ فر جہ الشریف مشہو رو معروف دعا ئے افتتاح میں فر ما تے ہیں :

فصرت ادعوک آمناواسألک مستانساً،لاخائفاًولاوجلا،مدّلاعلیک فیماقصدت فیہ الیک )(١)

''تو اب میںبڑے اطمینان کے ساتھ تجھے پکاررہاہوں اوربڑے انس کے ساتھ تجھ سے سوال کررہا ہوںنہ خوفزدہ ہوں نہ لرزاں ہوںاپنے ارادوں میںتجھ سے اصرارکررہاہوں ''

بیشک یہ حالت اﷲ سے اُنس اور اس سے اطمینان کی وجہ سے پیداہوتی ہے، اﷲ سے مدد اور امن کا احساس ایسی کیفیت ہے جو اﷲ کی بارگاہ میں حاضری ،اس کی قُربت اور معیت سے وجودمیں آتی ہے اوریہ بندہ کی اﷲ سے لولگا نے کی سب سے افضل حالت ہے لیکن ہر چیز کی اﷲسے لولگا نے کی مثال نہیں دی جاسکتی ہے بلکہ اس سے حالت شوق کا ملاہوا ہونا ضرور ی ہے یہاں تک کہ اس حالت کوکامل متوازن اور منظم ہونا چاہئے ۔

اولیاء اﷲ اور اس کے نیک بندوں کی عبادت اور ان کے اﷲ سے لو لگا نے کے سلسلہ میں یہ دو اہم حالتیں ہیں کبھی ان کی عبادت اور اﷲسے لو لگا نے میں شوق اور ہم و غم غالب رہتا ہے اور کبھی ان کی عبادت اور اﷲسے لولگا نے میں اُنس ،سکون واطمینان غالب رہتا ہے کبھی ایسا ہوتا ہے اور کبھی ویسا ہوتا ہے یہی سب سے افضل حالتیں ہیں اور اﷲ سے لولگا نے میں نظم وانس کی حالت سے بہت قریب ہیں ۔

حما دبن حبیب عطار کوفی سے مروی ہے :ہم حا جیوں کا قافلہ اپنا رخت سفر باندھ کر نکلا تو ہم رات کے وقت ''زبالہ ''(عراق سے حا جیوں کے راستہ میں آنے والا مقام)نامی جگہ پر پہنچے تو کا لی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)مفا تیح الجنان دعاء افتتاح ۔

آندھیآئی اور میں قافلہ سے بچھڑگیا اور بقیہ رات اسی جنگل و بیابان میں گذری جب میں ایک چٹیل میدان پر پہنچا جب رات آئی تو میں نے ایک درخت کے نیچے قیام کیا اور جب گھپ اندھیرا چھا گیا تو میرے پاس ایک نوجوان آیا جو سفید لباس پہنے ہوئے تھا ، اس کے منھ سے مسک کی خو شبو آرہی تھی میں نے سوچا:یہ کو ئی اللہ کا ولی ہے ۔

میںکچھ ڈرا کہ یہ شخص کیا چا ہتا ہے ،وہ ایک جگہ پر پہنچا اور نماز کیلئے تیاری کرنے لگا ،پھر جب وہ نماز کیلئے کھڑا ہو نے لگا تو اس کی زبان پر یہ کلمات جا ری تھے :

یامَن احازکل شئٍ ملکوتاوقھرکل شئٍ جبروتا،اولِج قلب فرح الاقبال علیک والحقن بمیدان المطیعین لک )

''اے وہ کہ جو ہر چیز پر محیط ہے اور غالب ہے میرے دل میں ہر مناجات کی خوشی ڈالدے اور اپنے اطاعت گذار بندوں میں شمار فرما ''

اس کے بعد وہ نماز میں مشغول ہوگیا  ۔۔۔

جب اندھیرا چھٹ گیا تو اس کی زبان پر یہ کلمات جا ری تھے :

(یامَن قصد ہ الطالبون فاصابوہ مرشدا،وامّہ الخائفون فوجودہ متفضّلا و لجأالیہ العابدون فوجدوہ نوالا متیٰ وجد راحة مَن نصب لغیرک بدنہ ومتیٰ فرح  مَن قصد سواک بنیتہ الھ قد تقشع الظلام ولم اقض من خد متک وطراً، ولامن حاضّ مناجاتک مدراً،صلِّ اللہ علیٰ محمّد وآلہ،وافعل ب اولی الامرین بک یاارحم الراحمین )

''اے وہ ذات جس کا حقیقت کے طالبوں نے قصد کیا تو اس کو رہنما پایا اور خائفین نے اس کو اپنا پیشوا قرار دیا تو اس کو سخی پایا ،عابدین نے اس کو اپنی پناہ گاہ قرار دیا تو اس کو آسان پناہ گاہ پایا وہ شخص کیسے آرام پاسکتا ہے جو تیرے علاوہ کسی اور کیلئے خود کو خستہ کرے اوروہ کب خوش ہو سکتا ہے جو اپنے باطن میں تیرے علا وہ کسی اور کا قصد کرے۔ خدایا! تا ریکیاں چھٹ گئیں لیکن میں تیری ذرہ برابر خدمت نہ کر سکا اور نہ ذرہ برابر تجھ سے مناجات کرسکا ،محمد وآل محمد پر درور بھیج اور دو سروں کے ساتھ وہ سلوک کر جو تیرے لئے زیادہ سزاوار ہے اے ارحم الراحمین ''

میں نے خیال کیا کہ کہیں یہ شخص دنیا سے نہ گذر جا ئے اور اس کا اثر مجھ تک پہنچے تو میں نے اس سے کہا :آپ سے رنج و تعب کیسے دور ہوا اور آپ کو ایسا شوق شدید اور لذت و رغبت کس نے عطا کی ہے ۔۔۔آپ کون ہیں ؟تو انھوں نے مجھ سے فرمایا :میں علی بن الحسین بن علی بن ابو طالب  ہوں ۔(ا)

اصمعی سے مروی ہے :میں رات میں خانۂ کعبہ کا طواف کر رہا تھا تو میں نے دیکھا ایک خوبصورت جوان کعبہ کے پر دے کو ہا تھوں میں تھا مے ہوئے کہہ رہا ہے :

(نامت العیون وعلت النجوم وانت الملک الح القیوم،غلّقت الملوک ابوابھا،واقامت علیھاحرّاسھا،وبابک مفتوح للسائلین ،جئتک لتنظر الَّ برحمتک یاارحم الراحمینَ )

''آنکھیں محو خواب ہیں ستارے نکل آئے ہیں اور تو حی و قیوم بادشاہ ہے ،بادشاہوں کے دروازے بند ہیں اور ان پر پہرے دار کھڑے ہیں جبکہ حاجتمندوں کیلئے تیرا دروازہ کھلا ہوا ہے میں تیرے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نظر رحمت ڈال دے ''

پھر اس کے بعد زبان پر یہ اشعارجاری کئے :

(یامَن یُجیب دعاالمضطرّف الظلم   یاکاشف الضرّوالبلویٰ مع السقم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحار الانوار جلد ٤٦ صفحہ ٧٧۔٧٨ ۔

''اے وہ ہستی جو تاریکیوں میں مجبور شخص کی دعا قبول کرتی ہے اے وہ ہستی جو ہماری پریشانی

اور بلا کو دور کرنے والی ہے ''

قد نام وفدک حول البیت قاطبة               وانت وحد ک یاقیوم لم تنم

''خا نہ ٔ کعبہ کے ارد گرد تیری تمام مخلوق سو گئی جبکہ اے قیوم !تو نہیں سویا''

ادعوک ربّ دعائً قد امرت بھا             فارحم بکائ بحقِّ البیت والحرم

''پرور دگارا !تیرے حکم کے مطابق میں تجھے پکاررہا ہوں لہٰذا خا نہ ٔ کعبہ اور حرم کے واسطے میرے گریہ پر لطف نازل فرما ''

ان کان عفوک لایرجوہ ذوسرف             فمن یجودعلی العاصین بالنعم

''اگر چہ زیادہ روی کرنے والا تیری معافی کا امیدوار نہ ہو تو گنا ہگاروں پر نعمتوں کی بارش کون کرے گا ''

جب میں نے تحقیقات کی تو، معلوم ہوا کہ آپ امام زین العا بدین علیہ السلام ہیں ۔(١)

طائوو س فقیہ سے مروی ہے :

''رأیتہ یطوف من العشاء الیٰ السحرویتعبّدفلمالم یرأحداًرمق السماء بطرفہ وقال:الھ غارت نجوم سماواتک ،وھجعت عیون انامک،وابوابک مفتحات للسائلین،جئتک لتغفرل وترحمن وترین وجہ جدی محمّد  ۖفی عرصات القیامة''

''میں نے آپ کو عشاء کے وقت سے لیکر سحر تک خانہ کعبہ کا طواف اور عبادت کر تے دیکھا

(١)بحارالانوار جلد ٤٦صفحہ ٨٠۔٨١۔

جب وہاں پر کوئی دکھا ئی نہ دیا تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا:

ثم بکیٰ وقالوعزّتک وجلالک مااردت بمعصیت مخالفتک، وما عصیتک اذ عصیتک وانا بک شاک ولابنکالک جاھل،ولالعقوبتک متعرض،ولکن سوّلت ل نفس واعانن علیٰ ذالک سترک المرخیٰ بہ علیَّ،فالآن من عذابک من یستنقذن ؟وبحبل من اعتصم ان قطعت حبلک عن؟فواسواتاہ غداًمن الوقوف بین یدیک ،اذاقیل للمخفّیْنَ جُوزوا،وللمثقلین حطّوا،أمع المخفین،أجوز ؟أم مع المثقلین احط؟ویل کلما طال عمر کثرت خطایا ولم اتب،أماآن لی ان استحی من ربّ''؟

ثم بکیٰ وانشأیقول:

اتحرقن بالناریاغایة المنیٰ      فأین رجا ئ ثم این محبّت

اتیت بأعمال قباح رزیّة                     وماف الوریٰ خلق جنیٰ کجنایت

ثم بکیٰ وقال:

سبحانک تُعص کانّک لاتریٰ،وتحلم کأنّک لم تُعصَ۔تتودّدالیٰ خلقک بحسن الصنیع کأَنّ بک الحاجة الیھم،وانت یاسید الغنی عنھم۔

ثمَّ خرَّالی الأرض ساجداً۔قال:فدنوت منہ وشِلت برأسہ ووضعتہ علیٰ رکبت وبکیت حتّیٰ جرت دموع علیٰ خدِّہ،فاستویٰ جالساًوقال:من الّذ أشغلن عن ذکرربّی؟فقلت:أناطاووس یابن رسول اﷲماھذاالجزع والفزع؟ونحن یلزمناأن نفعل مثل ھذاونحن عاصون جانون۔أبوک الحسین بن علّ وأُمّک فاطمةالزھرائ،وجدُّک رسول اﷲ  ۖ۔قال:فالتقت الَّ و

قال:ھیھات ھیھات یاطاووس دع عنّی حدیث أب واُمّ وجدِّ خلق اﷲ الجنّة لمن أطاعہ وأحسن،ولوکان عبداًحبشیّاً،وخلق النارلمن عصاہ ولوکان ولداً قرشیّاً۔أماسمعت قولہ تعالیٰ:(فّاِذٰانُفِخَ فِی الصُّورِفّلاٰأَنْسٰابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍوَلاٰ    یَتَسٰائَ لُونَ)(١)واﷲلاینفعک غداًالّاتَقْدِمَةتقدِّمھامن عمل صالح''(٢)

''معبود تیرے آسمان کے ستارے غروب کرچکے ہیں تیری مخلوق کی آنکھیں بند ہیں جبکہ  حا جتمندوں کیلئے تیرے دروازے کھلے ہیں میں تجھ سے رحمت اور مغفرت کا خواہاں اور عر صہ ٔ قیامت میں اپنے جد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی آرزو لیکر آیا ہوں ''

پھر آپ    نے گریہ کرتے ہوئے فر مایا :

''تجھ کو اپنی عزت و جلال کی قسم، میں نے گناہ کے ذریعہ تیری مخالفت کا ارادہ نہیں کیا اور میں نے جو تیری مخالفت کی ہے وہ اس حالت میں مخالفت نہیں کی ہے کہ مجھ کو تیری ذات میں شک رہا ہو اور میں تیرے عذاب سے نا واقف رہا ہوں نیز تیری سزا کی طرف بڑھنے والا ہوں بلکہ میرے نفس نے میرے لئے امور کو مزین کردیا اور سونے پر سہاگا یہ ہوا کہ تو نے میری پردہ پوشی کی تو اب مجھ کو تیرے عذاب سے کون بچا ئے گا ؟نیز اگر تو مجھ سے اپنی ریسمان کو تو ڑلے تو میں کس کی رسی کو مضبوطی سے پکڑوں ؟کل تیرے سامنے کھڑاہونا میرے لئے کتنا رسوا ئی کا سبب ہوگا جب ہلکے بوجھ والوں سے آگے بڑھ جا نے کیلئے کہا جائیگا اور زیادہ بوجھ والوں سے کہا جائیگا کہ اتر جا ئو ؟کیا میں ہلکے بوجھ والوں کے ساتھ گذر جا ئونگا یا زیادہ بوجھ والوں کے ساتھ گر جا ئونگا ؟کتنا افسوس ہے کہ جتنی میری عمر بڑھ رہی ہے مجھ سے غلطیاں زیادہ سرزدہو رہی ہیںجبکہ میں نے ابھی تو بہ بھی نہیں کی ہے ؟کیا ابھی تک وہ وقت نہیں آیا کہ میں اپنے پروردگار سے تو بہ کروں؟

پھر آپ نے روکر اس مفہوم کے یہ اشعار کہنا شروع کئے :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ آل عمران آیت ١٩٠۔

(٢)بحارالانوار جلد ٤٦ صفحہ ا٨ ۔٨٢ ۔

اتحرقنی بالناریاغایة المنیٰ     فأین رجا ئی ثم این محبتی

''اے آرزئووں کی انتہا کیا تو مجھ کو آگ میں جلا ئیگا تومیری امید اور محبت کہاں گئی ؟

اتیت بأعمال قباح رزیّة         ومافی الوریٰ خلق جنیٰ کجنایتی

''میں برے کام کرکے آیا ہوں اور میری طرح کسی نے جرم نہیں کیا ہے ''

پھر آپ نے روکر فرمایا :

تو پاک و منزہ ہے تیری نا فرمانی کی جا تی ہے گویا تو نہیں دیکھتا اور تو برداشت کرتا ہے گو یا تیری نا فرما نی نہیں کی گئی ہے ،تو اپنی مخلوقات سے اچھے کام کے ذریعہ محبت کرتا ہے گویا تجھ کو ان کی ضرورت ہے جبکہ اے میرے آقا تو اس سے بے نیاز ہے ۔

پھر آپ سجدے میں گر پڑے ۔طائوس فقیہ کا کہنا ہے کہ میں ان کے نزدیک گیا اور ان کا سر اٹھا کر اپنے زانوپر رکھا اور اتنا رویا کہ میرے آنسو ان کے رخسار پر بہنے لگے ۔امام علیہ السلام اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا :کس نے مجھ کو میرے رب کی یاد سے روک دیا ؟میں نے عرض کیا اے فرزند رسول  ۖ میں طائوس ہوں یہ بیتابی کس لئے ہے ؟ایسا تو ہمیں کر نا چا ہئے درانحالیکہ ہم گنا ہگار اور مجرم ہیں۔آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں ،مادر گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں جد بزرگوار پیغمبر خدا  ۖ ہیں ۔طائوس کہتے ہیں کہ پھر میری طرف متوجہ ہوتے ہو ئے فرمایا: اے طائوس ہر گز ہر گز مجھ سے میرے والدین اور جد بزرگوار کی گفتگو مت کرو خدا وند عالم نے بہشت اطاعت گذار اور نیک افراد کیلئے خلق کی ہے چا ہے وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ،اور دوزخ گناہگار کیلئے خلق کی ہے چا ہے وہ قریشی ہی کیوں نہ ہو ؟کیا تم نے خداوند عالم کا یہ فرمان نہیں سنا ہے :

(فَاِذَانُفِخَ فِی الصُّوْرِفَلَااَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍوَلَایَتَسَائَ لُوْنَ )(١)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ مؤمنون آیت١٠١۔

''پھر جب صور پھونکا جائیگا تو نہ رشتہ داریاں ہوں گی اور نہ آپس میں کو ئی ایک دو سرے کے حالات پو چھے گا ''

خدا کی قسم کل تمھیں وہی نیک عمل فا ئدہ پہنچا ئے گاجس کو تم پہلے سے بجالا چکے ہوگے ''

حبہّ عرنی سے مروی ہے :

''بیناأناو''نوف''نائمین فی رحبةالقصر،اذنحن بأمرالمؤمنین فی بقیةمن اللیل،واضعاًیدہ علیٰ الحائط شبہ الوالہ،وھویقول:(اِنَّ فی خَلْقِ السَّمٰاوٰاتِ وَ الْأَرضِ۔۔۔)ثم جعل یقرأھذہ الآیات،ویمرشبہ الطائرعقلہ فقال:أراقد یاحبةأم رامق؟

قلت:رامق،ھذاأنت تعمل ھذاالعمل فکیف نحن؟!

فأرخیٰ عینہ فبکی،ثم قال ل:یاحبةانّ ﷲموقفاًولنابین یدیہ موقف،فلا یخفیٰ علیہ شیء من أعمالنا،یاحبةانّ اﷲأقرب الیک والَّ من حبل الورید،یاحبة انّہ لن یحجبن ولاایاک عن اﷲشیء ثم قال:أراقدأنت یانوف؟

قال:لایاأمیرالمؤمنین ماأنابراقد،ولقدأطلت بکائی ھذہ اللیلة۔۔۔ثم وعظھماوذکرھما،وقال ف أواخرہ:فکونوامن اﷲعلیٰ حذرفقدأنذرتکماثم جعل یمرّوھویقول:

(لیت شعر ف غفلاتی أمعرض أنت عن أم ناظرالَّ ولیت شعری فی طول منام وقلةشکر ف نعمک علّ ماحال؟

قال:فواﷲمازال فی ھذہ الحالةحتّیٰ طلع الفجر''(ا)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)فلاح السائل لابن طائوس صفحہ ٢٦٦ ۔

میں اور نوف قصر کی کشادہ زمین پر سورہے تھے کہ اتنے میں مو لا ئے کا ئنات رات کے آخری حصہ میں حیران شخص کی طرح دیوار پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہے تھے :

(اِ نَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰا وٰاتِ وَالْاَرْضِ۔۔۔)

''بیشک زمین و آسمان کی خلقت ۔۔۔''اور ایک حیران و پریشان پرندہ کی طرح چلے جارہے تھے ؟پھر آپ نے فرمایا :اے نوف سو رہے ہو یا جاگ رہے ہو ؟

میں نے عرض کیا :جاگ رہا ہوں ۔جب آپ ایسا کہہ رہے ہیں تو ہمارا کیا حال ہو گا ؟!

پھر آپ نے آنکھیں نیچی کرکے گریہ فرمایا اس کے بعد مجھ سے فرمایا :بیشک خدا کاایک     مو قف ہے اور ہمارا ایک مو قف ہے لہٰذا ہمارا اس پر کو ئی عمل مخفی نہیں رہتا ۔اے حبہ! خداوند عالم ہم سے اور تم سے شہ رگ گردن سے بھی زیادہ قریب ہے ۔اے حبہ مجھ کواور تم کو خداوند عالم سے کو ئی چیز نہیں    رو ک سکتی ہے ۔پھر آپ نے فرمایا :اے نوف سو رہے ہو ؟

میں نے عرض کیا :نہیں امیر المو منین میں بیدار ہوں ،کیونکہ اس شب میں آپ نے بہت زیادہ گریہ فر مایا ۔پھر آپ نے نوف اور حبہ کو نصیحت فر مائی اور یاد دہانی کرائی ،اور آخر میں فرمایا :خدا سے ڈرتے رہو میں نے تم کو ڈرادیا ۔پھر آپ یہ کہہ کر گذرنے لگے :

''کاش مجھ کو اپنی غفلتوں کی حالتوں میں معلوم ہوتا کہ اے خدا تو مجھ سے بے تو جہی کر رہا ہے یا میری طرف نظر کرم کئے ہوئے ہے ،کاش مجھ کو اپنی طولا نی نیند کی حالت میں نیز نعمتوں کے سلسلہ میں کم شکری کے وقت معلوم ہوتا کہ میری کیا حالت ہے ۔

خدا کی قسم آپ طلوع فجر تک اسی حالت میں رہے ''

اہل بیت علیہم السلام سے وارد ہو نے والی دعا ئیں اور مناجات میں خاص طور سے وہ پندرہ مناجات جن کو علامہ مجلسی نے بحارالا نوار میں حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام سے نقل فرمایا ہے اُنس اور شوق کی حامل ہیں ۔

ہمارے لئے اہل بیت علیہم السلام کی میراث (دعائوں )میںان صورتوںاور معانی کا لازوال خزانہ موجود ہے جبکہ اہل بیت علیہم السلام کے علاوہ کسی اور کے پاس اس طرح کا ذخیرہ بہت کم پایا جاتا ہے ہم اس محبت کو ختم کرنے سے پہلے بعض صورتوں کو ذیل میں بیان کر رہے ہیں :

(الٰہ من ذاالذ ذاق حلاوة محبتک فرام منک بدلاومن ذالذ انس

بقربک فا بتغیٰ عنک حولا ؟

الہ فاجعلناممن اصطفیتہ لقربک وولایتک واخلصتہ لودک و محبّتک،وشوقتہ الیٰ لقائک،ورضّیتہ بقضائک،ومنحتہ النظرالیٰ وجھک،و حبوتہ برضاک،واعذ تہ من حُجرک وقلا ک،وبوّاتہ مقعد الصدق ف جوارک،وخصصتہ بمعرفتک،واھّلتہ لعبادتک،وھیّمت قلبہ لارادتک واجتبیتہ لمشاھدتک،واخلیت وجھہ لک،وفرّغت فئوادہ لحبک،ورغّبتہ فیما عندک،والھمتہ ذکرک،واوزعتہ شکرک،وشغلتہ بطاعتک،وصیّرتہ من صالحی بریتک،واخترتہ لمناجاتک،وقطعت عنہ کل شئی یقطعہ عنک۔

اللھم اجعلناممّن دابھم الارتیاح الیک والحنین ودھرھم الزفرة والانین،جباھھم ساجدة لعظمتک،وعیونھم ساھرة لخدمتک،ودموعھم سائلة من خشیتک وقلوبھم متعلقة بمحبتک،وافئدتھم منخلعة من مھابتک یامن انوارقد سہ لابصارمحبیہ رائقة وسبحات وجھہ لقلوب عارفیہ شائقة،ویامنیٰ قلوب المشتاقین،ویاغایة آمال المحبّین اسألک حبّک وحبّ من یحبّک،وحبّ کلّ  عمل یوصلن الی قربک،وان تجعلک احبّ الیَّّّ مماسواک وان تجعل حبی ایاّک قائداًالی رضوانک وشوق الیک ذائداًعن عصیانک،وامنن بالنظرالیک علّ وانظربعین الودوالعطف الََّ،ولاتصرف عن وجھک ) (ا)

''خدایا! وہ کون ہے جس کو تیری محبت کا مزہ مل گیاہے ہو اوراس کے بعدبھی تیرا بدل تلاش کر رہا ہے اور وہ کون ہے جو تیرے انس سے مانوس ہوگیا اور اس کے بعد تجھ سے ہٹناچاہتاہے ؟

خدایا !ہمیں ان لوگوں میں قراردے جن کو قرب اوراپنی محبت کیلئے منتخب کیا ہے اور دوستی  کیلئے خالص قراردیا ہے اپنی ملاقات کا مشتاق بنایا ہے اپنے فیصلہ سے راضی کیا ہے اور اپنی طرف نظرکرنے کی توفیق عنایت کی ہے اپنی رضاکاتحفہ دیا ہے اپنے فراق اور ناراضگی سے بچایاہے اور اپنے

ہمسایہ میں بہترین جگہ عنایت کی ہے اپنی معرفت سے مخصوص کیا ہے اور اپنی عبادت کا اہل بنایا ہے اپنی چاہت کے لئے ان کے دلوں کو گرویدہ کر لیاہے اور اپنے مشاہدہ کیلئے انھیںچُن لیا ہے اپنی طرف توجہ کی یکسوئی عنایت کی ہے اور اپنی محبت کیلئے ان کے دلوںکو خالی کر لیا ہے اپنے ثواب کے لئے راغب بنایا ہے اور اپنے ذکر کا الہام کیا ہے اپنے شکر کی توفیق دی ہے اور اپنی اطاعت کے لئے مشغول کیا ہے  اپنے نیک بندوں میں قرار دیا ہے اور اپنی منا جات کیلئے چُن لیا ہے اور ہراس چیز سے الگ کر دیا ہے جو بندے کو تجھ سے الگ کرسکے۔

خدا یا !مجھے ان لوگوں میں قرار دے جن کا طریقہ تیری طرف توجہ اور اشتیاق ہے اور ان کی زندگی عاشقانہ نا لہ ٔ وآہ سے پُر ہیں اور پیشانیاں تیرے سجدہ میںجھکی ہوئی ہیں اور آنکھیں تیری خدمت میں بیدار ہیں ان کے آنسو تیرے خوف سے رواں ہیںاوران کے دل تیری محبت سے وابستہ ہیں۔ ان کے قلوب تیرے خوف سے دنیا سے الگ ہوگئے ہیں اے وہ کہ جس کے انوار قدسیہ چاہنے والوں کی نگاہوں کیلئے روشن ہیں اور اس کی ذات کی تجلّیاں عارفین کے دلوں کیلئے نمایاں ہیں اے مشتاقین کے دلوں کی آرزو اوراے چاہنے والوں کی آرزو کی انتہا میں تجھ سے تیری اورتیرے چاہنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحارالانوار جلد ٦٤ صفحہ ٤٨ا ۔

والوںکی،اور ہر نیک عمل کی محبت چاہتا ہوں جو مجھ کو تیرے قرب تک پہونچادے اور تجھے ساری کائنات سے محبوب بنادے اور اس کے بعد تواسی رضا کو اپنی رضا تک پہنچانے کا ذریعہ ہے اور اسی شوق کو اپنی معصیت سے بچنے کاوسیلہ بنا دینا، مجھ پریہ احسان کر کہ میری نگاہ تیری طرف رہے اور توخودمجھے عطوفت کی نگاہ سے دیکھتارہے اور اپنے منھ کو مجھ سے موڑنہ لینا''

دعا ء کے یہ فقرے محبت ، شوق اور اُنس کا بیکراں خزانہ ہیںہم دعاکے ان فقروں پر کو ئی حاشیہ نہیں لگانا چا ہتے اور ہر گز ہمارے اندر اتنی استطاعت بھی نہیں ہے جوان دعائوں کے فقروں کو اور خوبصورت بناکر بیان کریں اور ہم اتنی صلاحیت واستعداد کے مالک بھی نہیں ہیں کہ اﷲ سے دعا محبت اور ادب پر کو ئی حاشیہ لگا سکیں ۔

سب سے پہلے ہماری نظر دعا کے ان فقروں پر مرکوز ہو جاتی ہے جن کے ذریعہ امام  نے اپنے رب کو پکارا ہے :

(یامنیٰ قلوب المشتاقین ویاغایة آمال المحبّین۔۔۔ )۔( یامن انوارقدسہ  لابصارمحبیہ رائقة وسبحات وجھہ لقلوب عارفیہ شائقة)'' اے وہ کہ جس کے انوار قدسیہ چاہنے والوں کی نگاہوں کیلئے روشن ہیں اور اس کی ذات کی تجلّیاں عارفین کے دلوں کیلئے نمایاں ہیں اے مشتاقین کے دلوں کی آرزو ''

اس دعا میں امام علیہ السلام نے تین باتیں بیان فرمائی ہیں اور بندہ اپنے پروردگار سے ان ہی تین عظیم چیزوں کو طلب کرتا ہے ۔

ا۔آپ نے سب سے پہلے اﷲ سے دعا فرمائی کہ وہ ان نفس کا انتخاب فرمائے اُن کے نفس (قلب )کو اپنی محبت کیلئے خالص کردے ،جن چیزوں کا وہ مالک ہے ان کی طرف رغبت دلائے ،ان کے دل کو اپنی محبت میں مشغول کردے ،جو چیزیں اس نے خود سے منقطع کی ہیں اُن سے بھی منقطع کردے اور جو چیزیں خود سے دور کی ہیں ان سے بھی دورفرما دے ۔

امام علیہ السلام نے خداوندعالم سے جو کچھ طلب فرمایاہے اس پر گا مزن ہو نے کیلئے سب سے پہلے اس چیز کا ہونا ضروری ہے اور اس کے آغاز وابتداء کے بغیر انسان اﷲ سے ملاقات کر نے کیلئے اس مشکل راستہ پر گامزن نہیں ہوسکتا اور وجہ اﷲکاہر بنی اور صدیق  بآسانی مشاہدہ کر سکتا ہے ۔

اگر چہ وجہ اﷲ پر نظر کر نا رزق ہے اور اﷲاپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے یہ رزق عطا کرنے کیلئے منتخب کر لیتا ہے لہٰذا بندے کیلئے اﷲکے رزق کو حاصل کر کے اس کی کنجیاں حاصل کرنا ضروری ہے جب خداوندعالم اپنے بندہ کو رزق عطا کر تا ہے تو اس کو اس رزق کے درواز ے اور کنجیاں بھی عطاکر دیتا ہے اور اس کے اسباب مہیا کر دیتا ہے ۔

کچھ لوگ اﷲتعالیٰ سے بغیر درواز ے اور کنجیوں کے رزق طلب کرتے ہیں وہ اﷲکواس کی ان سنتوں اور قوانین کے خلاف پکارتے ہیں جن کو اس نے اپنے بندوں کو عطا کیا ہے۔

انسان کو جن دروازوں سے خداوندعالم سے ملاقات اور وجہہ کریم کا مشاہد ہ کرنے کیلئے اقدام کرنا چاہئے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

ا۔دل کو ہر طرح کے گناہ رنج وغم اور دنیا سے لولگا نے سے پرہیز کرنا چاہئے جس کو علما ء تخلیہ کہتے ہیں (یعنی دل کو ہر طرح کے رنج وغم اور اﷲ کے علاوہ کسی اور سے لولگا نے سے خالی ہونا چاہئے )

امام علیہ السلام فرما تے ہیں :

(واجعلناممن اخلصتہ لودّک ومحبّتک،واخلیت وجھہ لک، وفرّغت فؤادہ لحبّک،وقطعت عنہ کل ش ئٍ یقطعہ عنک)

''خدایا! ہم کوان لوگوں میں سے قرار دے جن کو اپنی محبت اور مودت کیلئے خالص کیا ہے اور اپنی طرف توجہ کی یکسوئی عطاکی ہے اور اپنی محبت کیلئے ان کے دلوںکوخالی کر لیا ہے اور ہر اس چیز سے الگ کر دیا ہے جو بندہ کو تجھ سے الگ کرسکے ''

منفی پہلو کے اعتبار سے ابتداء میںیہ پہلا مرحلہ ہے۔

علماء کے قول کے مطابق ابتداء میں دوسرا مرحلہ (التحلیہ ۔التخلیہ )کے بالمقا بل ہے یہ وہ ایجابی مطلب ہے جس کو امام علیہ السلام نے مندرجہ ذیل فقروں میں خداوندعالم سے طلب فرمایا ہے :

(رضّیتہ بقضائک،وحبوتہ برضاک وخصصتہ بمعرفتک،واھّلتہ لعبادتک،ورغّبتہ فیما عندک ،والھمتہ ذکرک،واوزعتہ شکرک،وشغلتہ بطاعتک،وصیّرتہ من صالح بریتک،واخترتہ لمناجاتک)

واجعلناجباھھم ساجدة لعظمتک،وعیونھم ساھرة فی خدمتک،و     دموعھم سائلة من خشیتک،وافئدتھم منخلعة من رھبتک  )

''اپنے فیصلہ سے راضی کیا ہے اور اپنی طرف نظرکرنے کی توفیق عنایت کی ہے اپنی رضاکاتحفہ دیا ہے اپنے فراق اور ناراضگی سے بچایاہے اور اپنے ہمسایہ میں بہترین جگہ عنایت کی ہے اپنی معرفت سے مخصوص کیا ہے اور اپنی عبادت کا اہل بنایا ہے اپنی چاہت کے لئے ان کے دلوں کو گرویدہ کر لیاہے اور اپنے مشاہدہ کیلئے انھیںچُن لیا ہے''

''اور پیشانیاں تیرے سجدہ میںجھکی ہوئی ہیں اور آنکھیں تیری خدمت میں بیدار ہیں ان کے آنسو تیرے خوف سے رواں ہیںاوران کے دل تیری محبت سے وابستہ ہیں''

ان دونوں باتوں سے گفتگو کا آغاز اﷲ سے لو لگا نے کی کنجی ہے یہ وہ راستہ ہے جس پر انسان کے گا مزن رہنے کی غرض اﷲ سے ملاقات ،اس کے وجہہ کریم اور جمال و جلال کا مشا ہدہ کرنا ہے ۔

٢۔دوسرا مرحلہ بھی پہلے مرحلہ پر مترتب ہے اور یہ اﷲ سے ملاقات کر نے کا درمیانی راستہ ہے ۔اور اسکے بغیر انسان اﷲ تک نہیں پہنچ سکتا اور اسکے قرب و جوار تک نہیں پہونچ سکتا ہے۔

(فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَمَلِیْکٍ مُقْتَدِرِ )(١)

''اس پاکیزہ مقام پر جو صاحب اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے ''

انسان کو اس مقصد تک پہنچا نے والی سواری جس کی ہر نبی ،ولی ،صدیق اور شہید نے تمنّا کی ہے وہ محبت اﷲ سے انس اور اﷲسے شوق ملاقات ہے محبت شوق اور انس کے بغیر انسان اﷲ کے    بتا ئے ہوئے اس بلندمرتبہ تک ترقی کرنا ممکن نہیں ہے ۔

محبت شوق اور اُنس، اﷲکے رزق ہیں بیشک اللہ اپنا رزق بندوں میں سے جس بندہ کا چاہے انتخاب کرکے عطاکر سکتاہے لیکن جن مقدمات کو امام نے ذکر کیا ہے ہم ان مقدمات کو اس مناجات کے فقروں میں الگ الگ مشاہدہ کر تے ہیں ۔

امام علیہ السلام بڑے ہی اصرار کے ساتھ ان چیزوں کو خدا سے طلب کرتے ہیں اور مختلف وسیلوں اور تعبیروں سے خداسے متوسّل ہوتے ہیں آپ عمدہ جملوں سے خداوند عالم کو پکا رتے ہیں :    (یا منیٰ قلوب المشتا قین ویاغایة آمال المحبین)

'' اے مشتاقین کے دلوں کی آرزو اوراے چاہنے والوں کی آرزو کی انتہا ''

پھر آپ اﷲ کی محبت ،خدا جس کو دوست رکھتا ہے اس کی محبت اور ہر اس عمل کی محبت مانگتے ہیں جو بندہ کو اﷲ کے قرب و جوار تک پہنچا تا ہے ۔

ہم براہ راست امام علیہ السلام کے کلمات میں غور و فکر کرتے ہیں اس لئے کہ حاشیہ پردازی

ہما رے براہ راست آفاق میںمحبت کے سلسلہ میں غور و فکر کرنے کے لمحات واوقات کو تباہ و برباد کردے گی جس محبت کو امام علیہ السلام نے ہما رے لئے اس دعا میں پیش کیا ہے :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ قمر آیت ٥٥

(أسْأ لُکَ حبّکَ وَحبَ مَن یحبّکَ،وحبّ کل عمل یوصلن الیٰ قربک،وان تجعلک احبّ الَّ مماسواک،وان تجعل حب ایاک قائِداً الیٰ رضوانکَ،وشوق الیک ذائدا عن عصیانک وامنن بالنظرالیک علَّ وانظر بعین الود والعطف الولا تصرف عنِّ وجھک ''

اور آپ نے فرمایا :(واجعلناممن شوّقتہ الیٰ لقائک ،واعذتہ من ھجرک وقلاک وھیمت قلبہ لارادتک )

اس کے بعد آپ نے فرمایا :

( اللھم اجعلناممّن دابھم الارتیاج الیک والحنین ،ودھرھہم الزفرة والانین ۔۔۔قلوبھم متعلقة بمحبّتک،و افئد تھم منخلعة من مھابتکَ)

ان جملوں کو مندرجہ ذیل چار چیزوں میں اختصار کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے :

ا۔ہم اس کے ہجر و فراق سے پناہ چاہتے ہیں ۔

٢۔ہم کو اپنی محبت اور مودّت کا رزق عطا کر۔

٣۔ہم کو اپنے سے مانوس ہو نے کا رزق عطا کر۔

٤۔ہم کو اپنی ملا قات کا شوق عطا کر۔

امام علیہ السلام نے ''ا نس اور شوق ''کو اس مختصر سے جملہ میں سمو دیا ہے :

(واجعلنا ممن دابھم الارتیاح الیک والحنین )

اﷲ سے خوش ہو نا اس کی طرف راغب ہو نے کے علا وہ ہے اور ان دو نوں چیزوں کو امام علیہ السلام نے اﷲ سے طلب کیا ہے ۔ارتیاح (خو ش ہو نا )وہ انسیت ہے جو ملا قات سے پیدا ہو تی ہے اور رغبت وہ شوق ہے جو انسان کو اﷲ سے ملاقات کر نے کیلئے اُکساتا ہے ۔

٣۔اس عظیم و بزرگ دعا میں اﷲ سے لو لگانے کے لئے سواری، سب سے عظیم آخری مقصد جس کو انبیاء علیہم السلام اور صدیقین نے بھی طلب فرمایا ہے وہ خدا وند عالم کے وجہ کا دیدار کرنا ہے ،اس مقصد تک وہی افراد پہنچ سکتے ہیں جن کو خدا وندذ عالم نے اپنے قرب و جوا ر کیلئے منتخب فرمایا ہے ۔

امام علیہ السلام فر ما تے ہیں :

(وَاجْعَلْنَامِمَّنْ مَنْحَتَہُ النَّظَرَاِلیٰ وَجْہِکَ وَبَوَّأتَہُ مَقْعَدَالصِّدْقَ فِ            جَوَا رِکَ وَاجْتَبَیْتَہُ لِمُشَاھَدَتِکَ۔۔۔وَامْنُنْ بِالنَّظَرِ اِلَیْکَ عَلَّ)

''اور ہم کو ان لوگوں میں قرار دے جن کواپنی طرف نظر کرنے کی توفیق عنایت کی ہے اور اپنے ہمسایہ میں بہترین جگہ عنایت کی ہے اور اپنے مشاہدہ کے لئے انھیں چُن لیاہے ۔۔۔اور مجھ پر یہ احسان کرکہ میری نگاہ تیری طرف رہے ''

انسان اپنے پروردگار کے وجہ کا دیدار اور اس کے جلا ل و جمال کا قریب سے مشا ہدہ کرنے کی آرزو رکھتا ہے ،اس کے قرب و جوار میں بیٹھنے کی خو اہش و تمنا رکھتا ہے اور اپنے پروردگار سے   شراباً طہورا سے سیراب ہو نا چا ہتا ہے ۔

دوسری صورت

حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام کی دعا ئو ں میں شوق اور انس و محبت کی دوسری صورت پریوں روشنی ڈالی گئی ہے :

(اِلٰہی فَاسْلُکْ بِنَاسُبُلُ الْوَصُوْلِ اِلَیْکَ وَسَیِّرْنَافِیْ اَقْرَبِ الطُّرُقِ لِلْوَفُوْد ِعَلَیْکَ قَرِّبْ عَلَیْنَا الْبَعِیْدَ وَسَھِّلْ عَلَیْنَاالْعَسِیْرَالشَّدِیْدَ وَاَلْحِقْنَابِعِبَادِکَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِا لْبِدَارِاِلَیْکَ یُسَارِعُوْنَ وَبَابَکَ علَی الدَّوَامِ یَطْرُقُوْنَ وَ اِیَّاکَ فِیْ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِیَعْبُدُوْنَ وَھُمْ مِنْ ھَیْبَتِکَ مُشْفِقُوْنَ الَّذِیْنَ صَفَّیْتَ لَھُمُْ الْمَشَارِبَ وَبَلَّغْتَھُمُ الرَّغَائِبَ وَاَنْجَحْتَ لَھُمُ الْمَطَالِبَ وَقَضَیْتَ لَھُمْ مِنْ فَضْلِکَ الْمَآرِبَ وَمَلَأَتْ لَھُمْ ضَمَائِرَھُمْ مِنْ حُبِّکَ وَرَوَّیْتَھُمْ مِنْ صَافِْ شِرْبِکَ فَبِکَ اِلیٰ لَذِیْذِ مُنَاجَاتِکَ وَصَلُوْاوَمِنْکَ اَقْصیٰ مَقَاصِدِھِمْ حَصَّلُوْافَیَامَنْ ھُوَعَلیٰ الْمُقْبِلِیْنَ عَلَیْہِ مُقْبِل وَبِالْعَطْفِ عَلَیْھِمْ عَائِد مُفْضِل وَبِالْغَا فِلِیْنَ عَنْ ذِکْرِہِ رَحِیْم رَؤُف وَبِجَذْبِھِمْ الیٰ بَابِہِ وَدُوْدعَطُوْف اَسْئَلُکَ اَنْ تَجْعَلَنِْ مِنْ اَوْفَرِھِمْ مِنْکَ حَظّاًوَ اَعْلَاھُمْ عِنْدَکَ مَنْزِلاً وَاَجْزَلِھِمْ مِنْ وُدِّکَ قِسْماًوَاَفْضَلِھِمْ فِیْ مَعْرَفَتِکَ نَصِیْباً فَقَدْ اِنْقَطَعَتْ اِلَیْکَ ھِمَّتِ وَانْصَرَفَتْ نَحْوَکَ رَغْبَتِ فَاَنْتَ لَاغَیْرُکَ مُرَادِْ وَلَکَ لَاسِوَاکَ سَھْرِْ وَ سُھَادِْ وَلِقَاؤُکَ قُرَّةَ عَیْنِْ وَوَصْلُکَ مُنیٰ نَفْسْ وَاِلَیْکَ شَوْقِْ وَفِْ مَحَبَّتِکَ وَلَھِْ وَاِلیٰ ھَوَاکَ صَبَابَتْ وَرِضَاکَ بُغْیَتِْ وَ رُئْیَتُکَ حَاجَتِْ وَجَوَارُکَ طَلَبِْ وَ قُرْبُکَ غَایَةُ سُؤْلِْ وَفِ مُنَاجَاتِکَ رَوْحِوَرَاحَتْ وَعِنْدَکَ دَوَائُ عِلَّتِْ وَشِفَائُ غُلَّتِْ وَبَرْدُلَوْعَتْ وَکَشْفُ کُرْبَتِْ فَکُنْ اَنِیْسِْ فِیْ وَحْشَتْ وَمُقِیْلَ عَثْرَتِْ وَغَافِر َزَلَّتِْ وَقَابِلَ تَوْبَتِوَمُجِیْبَ دَعْوَتِْ وَوَلَِّ عِصْمَت وَمُغْنَِ فَاقَتِْ وَلَاتَقْطَعْنِْ عَنْکَ وَلَاتُبْعِدْ نِْ مِنْکَ یَانَعِیْمِْ وَجَنَّتِْ وَیَا دُنْیَاَ وَآخِرَتِْ )(١)

''خدا یا!ہم کو اپنی طرف پہنچنے کے راستوں کی ہدایت فرما دے اور ہمیں اپنی بارگاہ میں حاضری کے قریب ترین راستہ پر چلادے ،ہر دور کو قریب ، ہرسخت اور مشکل کو آسان بنا دے اور ہمیں  ان بندوں سے ملا دے جو تیزی کے ساتھ تیری طرف بڑھنے والے ہیں اورہمیشہ تیرے درکرم کو  کھٹکھٹانے والے ہیں اور دن رات تیری ہی عبادت کر تے ہیں اور تیری ہی ہیبت سے خوفزدہ رہتے  ہیںجن کے لئے تو نے چشمے صاف کردئے ہیں اور ان کو امیدوں تک پہنچا دیاہے اور ان کے مطالب کو پورا کردیاہے اور اپنے فضل سے ان کی حا جتوں کو مکمل کردیاہے اپنی محبت سے ان کے دلوں کو بھر دیاہے اور اپنے صاف چشمہ سے انھیں سیراب کردیاہے وہ تیرے ہی ذریعہ تیری لذیذ مناجات تک پہنچے ہیں اور تیرے ہی ذریعہ انھوں نے اپنے بلندترین مقاصد کو حا صل کیا ہے اے وہ خدا جو اپنی  طرف آنے والوں کااستقبال کرتا ہے اور ان پرمسلسل مہر بانی کرتاہے اپنی یاد سے غافل رہنے والوں پربھی مہربان رہتا ہے اور انھیںمحبت کے ساتھ اپنے در وازے کی طرف کھینچ لیتا ہے خدایا میرا سوال یہ ہے کہ میرے اپنی بہترین نعمت کاسب سے زیادہ حصہ قرار دے اور بہترین منزل کا مالک بنا دے اور اپنی محبت کاعظیم ترین حصہ عطا فرمادے اور اپنی معرفت کا بلند ترین مرتبہ دیدے چونکہ میری ہمت تیری ہی طرف ہے فقط تو میری مراد ہے اور تیرے ہی لئے میں راتوں کو جاگتاہوں کسی اور کیلئے نہیں تیری ملاقات میری آنکھوںکی ٹھنڈک ہے اور تیرا وصال میرے نفس کی امید ہے اور تیری جانب میرا شوق ہے اور تیری ہی محبت میں میری بے قراری ہے تیری ہی خواہش کی طرف میری توجہ ہے اور تیری ہی رضا میری آرزوہے تیری ہی ملاقات میری حا جت ہے اور تیرا ہی ہمسایہ میرا مطلوب ہے تیرا قرب میرے سوالات کی انتہا ہے اور تیری منا جات میں میری راحت ا ور سکون ہے تیرے پاس میرے مرض کی دواہے اورمیری تشنگی کا علاج ہے ،غم کی بیقراری کی ٹھنڈک، رنج و غم کی دوری تیرے ہی ذمہ ہے ، تو میری وحشت میںمیرا انیس لغزشوںمیں کا سنبھالنے والا اور خطائوں کومعاف کرنے والا اور میری تو بہ کو قبول کرنے والا اورمیری دعاکا قبول کرنے والا ،میری حفاظت کا ذمہ دار فاقہ میں غنی بنانے والاہے مجھے اپنے سے الگ نہ کرنا اپنی بارگاہ سے دور نہ کرنا اے میری نعمت، اے میری جنت اے میری دنیا و آخرت ''

یہ منا جات کا نہا یت ہی بزرگ ٹکڑا ہے اور دعا کے آداب میں سے بہت ہی عمدہ طریقہ ہے ، اہل بیت علیہم السلام کے عمدہ و بہترین کلمات میں سے ایک بہترین کلمہ ہے :دعا ،تضرع اور محبت کے سلسلہ میں ،اور یہ بہت زیادہ غور و فکر کا مستحق ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحا رالانوار جلد ٩٤ صفحہ ٤٨ا۔

ہم اس مناجات میں بیان کی گئی حب الٰہی کی بعض صورتوں اور افکار پر صرصری نظر ڈالتے ہیں :

حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام مناجات کے آغاز میں پروردگار عالم سے سہارے کی تمنا کرتے ہیں کہ اے خدا ہم کو اپنی طرف پہنچنے والے راستوں پر چلا دے ۔اس پوری دعا کا خلاصہ یہی جملے ہیں اور دعا کے سب سے اہم مطالب ہیں اس دعا میں حضرت امام زین العابدین  خدا  سے دنیا اور آخرت کی دعا نہیں ما نگتے ہیں بلکہ آپ خدا سے اپنے سے شر عی محبت کا مطالبہ فر ما تے ہیں ، اس کا قرب ،اس تک رسائی اور اس کا جوار طلب کرتے ہیں اور اپنا ٹھکانا انبیاء علیہم السلام ،شہدا ء اور صدیقین کے ساتھ طلب کرتے ہیں ۔

امام علیہ السلام فر ما تے ہیں :(اِلٰہی فَاسْلُکْ بِنَاسُبُلُ الْوَصُوْلِ اِلَیْکَ)،آپ   نے واحد صیغہ''سبیل الْوَصُوْل الَیْکَ ''نہیں فر ما یاہے بلکہ آپ نے ''سُبُلُ الْوَصُوْل''جمع کا صیغہ استعمال فر ما یا ہے چو نکہ خدا وند عالم تک رسائی کا راستہ ایک ہی ہے متعدد راستے نہیں ہیںاور قرآن کریم نے بھی واحد ''صراط ''راستہ کا تذکرہ کیا ہے :

(اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِیْنَ )(١)

''ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا رہ جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے نعمتیں نازل کی ہیں ان کا راستہ نہیں جن پر عضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہیں ''

آیت:(وَاﷲُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَائُ اِلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ )(٢)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ فا تحہ آیت ٦۔٧۔

(٢)سورئہ بقرہ آیت ٣ا٢۔

'' اور اللہ جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دے دیتا ہے ''

اور آیت: (وَیَھْدِیْھِمْ اِلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ)(١)

''اور انھیں صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے ''

اور آیت:

(وَاجْتَبَیْنَاھُمْ وَھَدَیْنَاھُمْ اِلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ )(٢)

''انھیں بھی منتخب کیا اور سب کو سیدھے راستے کی ہدایت کردی''

لیکن ''سبیل ''جمع کے صیغہ کے ساتھ قرآن کریم میں حق اور باطل کے سلسلہ میں بہت زیادہ استعمال ہوا ہے خداوند عالم کا ارشاد ہے :

(یَھْدِیْ بِہِ اﷲ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلَامِ)(٣)

''جس کے ذریعہ خدا اپنی خشنودی کا اتباع کرنے والوں کو سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے ''

آیت:(لَاتَتَّبِعُوْاالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہِ )(٤)

''اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ جا ئو کہ راہ خدا سے الگ ہو جا ئو گے ''

آیت:(وَمَالَنَااَلَّانَتَوَکَّلَ علیٰ اﷲِ وَقَدْھَدَانَاسُبُلَنَا)(٥)

''اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ اسی نے ہمیں ہمارے راستوں کی ہدایت دی ہے ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ ما ئدہ آیت ٦ا۔

(٢)سورئہ انعام آیت ٨٧۔

(٣)سورئہ ما ئدہ آیت ٦ا۔

(٤)سورئہ انعام آیت ٥٣ا۔

(٥)سورئہ ابرا ہیم آیت ٢ا۔

آیت:(وَالَّذِیْنَ جَاھِدُوْافِیْنَالَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَاوَاِنَّ اﷲَ لَمََعَ الْمُحْسِنِیْنَ )(١)

''اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا اللہ حسن عمل والوں کے ساتھ ہے ''

اﷲ نے انسانوں کے چلنے کیلئے متعدد را ستے بنا ئے ہیں جن پر وہ اﷲ تک رسائی کیلئے گا مزن ہو تے ہیں اور علما ء کے درمیان یہ مشہور ہے :

(اِنَّ الطّرق الیٰ اﷲ بعددانفاس الخلا ئق )

''خدا وند عالم کی طرف جانے والے راستے اتنے ہی ہیں جتنی مخلوقات کے سانس کی تعداد ہے ''

یہ تمام راستے اﷲ تک پہنچنے والے صراط مستقیم کے ما تحت جا ری ہو تے ہیں لیکن خداوند عالم نے ہر انسان کیلئے ایک طریقہ قرار دیا ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے رب کی معرفت حا صل کرتا ہے اور خدا تک پہنچنے کیلئے اس پر گا مزن ہو تا ہے ۔

کچھ لوگ علم اور عقل کے راستہ کے ذریعہ خدا تک رسا ئی حا صل کر تے ہیں ،کچھ لوگ اور دل کے ذریعہ خدا تک پہنچتے ہیں اور کچھ لوگ اﷲ کے ساتھ معاملات اور تجا رت کے ذریعہ اس کی معرفت حا صل کر سکتے ہیں اور سب سے افضل و بہتر طریقہ یہی ہے کہ انسان براہ راست خدا وند عالم سے   معا ملہ کرے اور اس کی عطا و بخشش اخذ کرے ۔اس سلسلہ میں خدا وند عالم کا ارشاد ہے :

(یَاَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْاھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلیٰ تِجَارَةٍ تُنْجِیْکُمْ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ )(٢)

''ایمان والو کیا تمھیں ایسی تجارت کی طرف رہنما ئی کروں جو تمھیں درد ناک عذاب سے بچا لے ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ عنکبوت آیت ٦٩۔

(٢)سورئہ صف آیت ٠ا۔

اور خدا وند عالم کا یہ فر مان ہے :

(وَمِنْ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَائَ مَرْضَاتِ اﷲِ وَاﷲُ رَؤُف بِالْعِبَادِ)(٢)

''اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مر ضی ٔ پروردگار کیلئے بیچ ڈالتے ہیں اور اﷲ اپنے بندوں پر بڑا مہر بان ہے ''

حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام خدا وند عالم سے اس تک پہنچنے کے متعدد راستے طلب کر تے ہیں ۔جب انسان خدا وند عالم تک رسا ئی کی خا طر متعددراستے طے کرے گا تو اس کا خدا  کے قرب و جوار تک پہنچنا زیادہ قوی و بلیغ ہو گا ۔

اس کے بعد حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام پروردگار عالم سے اُس کے اُن صالحین بندوں سے ملحق ہو نے کی خو ا ہش کرتے ہیں جو اﷲ سے لو لگا نے میں دو سروں سے سبقت کرتے ہیں اور رات دن اﷲ کی عبادت اور اطاعت میں مشغول رہتے ہیں ۔

اﷲ تک رسا ئی کا راستہ بہت دشوار ہے اس طریقہ کی قرآن کریم نے ''ذات الشو کة ''کے نام سے تعبیر کی ہے ۔بہت سے لوگ ہیں جو اس طریقہ کی بڑے عزم و صدق و صفا سے سیر کا آغاز کرتے ہیں لیکن وہ آدھا راستہ طے کرنے کے بعد ڈنوا ڈول (بہک )ہو جا تے ہیں ۔

اس کے بعد حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام خدا سے یوں سوال کرتے ہیں کہ اے خدا مجھ کو اپنی قربت عطا کر ، اس مشکل سفر میں میرے راستہ کو آسان کر ،مجھے گذشتہ صا لحین سے ملحق فر ما چونکہ اولیاء اورخار دار راستہ کو طے کرنے کیلئے صالحین کی معیت اور مصاحبت سب کے دلوں کو محکم کر دیتی ہے اور راستہ تک پہچانے کیلئے ان کے عزم و ارادہ میں اضافہ کر تی ہے ۔

بیشک اﷲ تک رسا ئی بہت مشکل ہے جب کچھ صالحین بندے اس راستہ کو طے کرتے ہیں تو  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(٢)سورئہ بقرہ آیت٢٠٧۔

وہ ایک دو سرے سے تمسک اختیار کرتے ہیں ،حق اور صبر کی وصیت کرتے ہیں ۔اسی طرح ان کے لئے ''ذات الشوکہ ''راستہ طے کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔

حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام اس مشکل اور طویل راستہ کو طے کر نے اور صالحین کے تقرب اور ان سے ملحق ہو نے کیلئے فر ما تے ہیں :

(وَسَیَّرْنَافِیْ اَقْرَبِ الطُّرُقِ لِلْوَفُوْدِعَلَیْکَ قَرِّبْ عَلَیْنَاالْبَعِیْدوَسَھِّلْ عَلَیْنَا الْعَسِیْرالشَّدِیْد،وَاَلْحَقْنَابِعِبَادِکَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِالْبَدَارِاِلَیْکَ یُسَارِعُوْنَ وَبَابُکَ علیٰ الدَّوَامِ یَطرُقُوْنَ وَاِیَّاکَ بِاللَّیْلِ وَالنَّھَارِیَعْبُدُوْنَ )

''خدا یا ہمیں اپنی بارگاہ میں حاضری کے قریب ترین راستہ پر چلادے ،ہر دور کو قریب ، ہرسخت اور مشکل کو آسان بنا دے اور ہمیں  ان بندوں سے ملا دے جو تیزی کے ساتھ تیری طرف بڑھنے والے ہیں اورہمیشہ تیرے درکرم کو کھٹکھٹانے والے ہیں اور دن رات تیری ہی عبادت کر تے ہیں ''

دلوںمیں پیدا ہونے والے شکوک

حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام صالحین کی صفات بیان فر ما تے ہیں جن سے آپ ملحق ہو نے کیلئے اﷲ سے سوال کرتے ہیں اور ان کو ایسی عظیم صفت سے متصف کرتے ہیں جس کے بارے میں بہت زیادہ تفکر اور غور و فکر کی ضرورت ہے :

( صَفَّیْتَ لَھُمُْ الْمَشَارِبَ وَبَلَّغْتَھُمُ الرَّغَائِبَ ۔۔۔ وَمَلَأَتْ لَھُمْ ضَمَائِرَھُمْ مِنْ حُبِّکَ وَرَوَّیْتَھُمْ مِنْ صَافِیْ شِرْبِک)

''جن کے لئے تو نے چشمے صاف کردئے ہیں اور ان کو امیدوں تک پہنچا دیاہے۔۔۔ اپنی محبت سے ان کے دلوں کو بھر دیاہے اور اپنے صاف چشمہ سے انھیں سیراب کردیاہے ''

یہ کونسی صاف ،شفاف ا ورپاکیزہ شراب ہے جس سے ان کا پروردگار انھیں دنیا میں سیراب کریگا ؟اور وہ کونساظرف ہے جن کو اﷲ نے اپنی محبت سے پُر کردیا ہے ؟

بیشک وہ پاک وپاکیزہ اور صاف وشفّاف شراب ،محبت ،یقین ،اخلاص اور معرفت ہے اور ظرف دل ہے ۔

خداوندعالم نے انسان کو معرفت ،یقین اور محبت کیلئے بہت سے ظروف کا رزق عطا کیا ہے لیکن ۔قلب ۔دل ۔ان سب میں اعظم ہے ۔

جب خداوندعالم کسی بندہ کو منتخب کر لیتا ہے تو اس کے دل کو پاک وپاکیزہ اور صاف وشفاف شراب سے سیراب کردیتاہے تو اس کا عمل رفتار وگفتار اور اس کی عطا وبخشش بھی اس شراب کے مثل پاک وپاکیزہ اور صاف وشفاف ہوگی ۔

بیشک دل کی واردات اور صادرات میں مشا بہت اور سخنیت پائی جاتی ہے جب دل کی واردات پاک صاف خالص اور گوارا ہیں تو دل کی صادرات بھی اسی کے مشابہ ہونگی تو پھر بندہ کا فعل گفتار ،نظریات اخلاق موقف اور اس کی عطا وبخشش صاف اور گوارا ہوگی جب دل کی واردا ت گندی یا کثافت سے مخلوط ہوگی جن کو شیاطین اپنے دوستوں کو بتایا کر تے ہیں تو لامحالہ دل کی صادرات کذب ونفاق ،خبث نفس اور اﷲورسول سے روگردانی کے مشابہ ہو گی ۔

رسول اسلام  ۖ سے مروی ہے کہ :

(انّ ف القلب لمّتین :لمّة من الملک،وایعادبالخیروتصدیق بالحق،ولمّة من العدو:ایعادبالشرّوتکذیب للحق ۔فمن وجد ذالک فلیعلم انہ من اللّٰہ،ومن وجد الآخرفلیتعوّذ باللّٰہ من الشیطان )ثمَّ قرأ(اَلشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَوَیَامُرُکُمْ بِالْفَحْشَائِ وَاﷲُ یَعِدُکُمْ مَغْفِرَةً مِنْہُ وَفَضْلاً )(١)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١) سورئہ بقرہ آیت٢٦٨

اور حق کی تصدیق کے لئے ہو تی ہے جبکہ دو سری حالت دشمن کی جانب سے ہو تی ہے جو برا ئی کے وعدے اور حق کی تکذیب کی شکل میں ظاہر ہو تی ہے جس کو پہلی حالت مل جائے اس کو معلوم ہو نا     چا ہئے کہ یہ خداوند عالم کی جانب سے ہے اور جس کو دوسری حالت ملے اس کو شیطان سے اﷲ کی پناہ مانگنا چاہئے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی :

(اَلشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَوَیَامُرُکُمْ بِالْفَحْشَائِ وَاﷲُ یَعِدُکُمْ مَغْفِرَةً مِنْہُ وَفَضْلاً)(١)

''شیطان تم سے فقیری کا وعدہ کرتا ہے اور تمھیں برائیوں کا حکم دیتا ہے اور خدا مغفرت اور فضل و احسان کا وعدہ کر تا ہے''

فرشتہ والی حالت یہ دل کی طرف ربّانی واردات ہے اور شیطان کی حالت یہ دل کی طرف شیطانی واردات ہے۔

کیا تم نے شہدکی مکھی کا مشاہدہ نہیں کیا جو پھولوں سے رس چُوستی ہے لوگوں کیلئے میٹھا شہد مہیا کرتی ہے اس میں لوگوں کیلئے شفاء ہے لہٰذاجب وہ کثیف جگہوں سے اپنی غذا مہیا کرے گی  تواس کا بھی ویسا ہی اثر ہوگا ۔

خداوندعالم اپنے خلیل ابراہیم اسحاق اور یعقوب علیم السلام سے فرما تا ہے:

(وَاذکُرْعِبَادَنَااِبْرَاہِیْمَ وَاِسْحَاقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الاَیْدِیْ وَ ا لْاَبْصَارِ اِنَّااَخْلَصْنَاھُمْ بِخَالِصَةٍ ذِکْرَی الدَّارِوَاِنَّھُمْ عِنْدَنَالِمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ) (٢)

''اوراے پیغمبر ہمارے بندے ابراہیم اسحاق اور یعقوب کا ذکر کیجئے جو صاحبان قوت اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)تفسیر المیزان جلد ٢صفحہ ٤٠٤ ۔

(٢)سورئہ ص آیت ٤٥۔٤٧۔

صاحبان بصیرت تھے ہم نے ان کو آخرت کی یا د کی صفت سے ممتاز قرار دیا تھا اور وہ ہما رے نزدیک منتخب اور نیک بندوں میں سے تھے ''

یہ عظیم صفت جو اﷲ نے ان جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کو عطا کی ہے وہ قوت اور بصیرت ہے ایدی اور ابصار یہ اس خالص شراب کا نتیجہ ہے جو اﷲ نے ان کو عطا کی ہے :

(اِنَّااَخْلَصْنَاھُمْ بِخَالِصَةٍ ذِکْرَی الدَّارِ)(١)

''ہم نے ان کو آخرت کی یا د کی صفت سے ممتاز قرار دیا تھا ''

اگر خداوندعالم نے ان کو اس خالص ذکری الدار سے مزیّن نہ فرمایا ہوتا تو وہ ان کیلئے نہ قوت ہوتی اور نہ بصیرت ۔(٢)

اگر انسان پاک و صاف اور اچھے اعمال انجام دیتا ہے تو اس کیلئے پاک و شفاف غذا نوش کرنا ضروری ہے اور انسان کا دل وہی واپس کرتا ہے جو کچھ وہ اخذ کرتا ہے ۔

اصل اختیار

ہم قلب و دل کی واردات اور صادرات اور ان کے ما بین مشا بہت اور سنخیت کو بیان کرنے کے بعد یہ بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں :یہ گفتار اصل اختیار سے کو ئی منا فات نہیں رکھتی ہے جو متعدد قرآنی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ ص آیت٤٦۔

(٢)اس مقام پر قلب کی واردات اور صادرات کے ما بین جدلی تعلق ہے اگر دل کی واردات اچھی ہو ںگی اس کے بر عکس بھی صحیح ہے یعنی جب انسان نیک اعمال انجام دیتا ہے تو خدا وند عالم اس کو منتخب کر لیتا ہے اور جب انسان برے کام انجام دیتا ہے تو خدا وند عالم اس سے پاک و صاف خالص شراب سے پردہ کر لیتا ہے اور اس کو خود اسی کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اسی طرح کھاتاپیتا ہے جس طرح شیطان اور خو اہشات نفسانی اس کی رہنما ئی کرتے ہیں اور لوگ شیطان اور خو اہشات نفسانی کے دسترخوان سے غذا نوش کرتے ہیں ۔

مفا ہیم اور افکار کی بنیاد ہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دل ایک خا لی ظرف ہے جو کچھ خیر وشر اس میں ڈالا جاتا ہے اسی کو واپس کرتاہے بلکہ دل ایسا ظرف ہے جو کچھ اس میں ڈالا جاتا ہے اس کو اخذ کرلیتا ہے اور حق کو باطل اور خیر کو شر سے جدا کرتا ہے ۔

افکار اسلامی اصولوں میں سے یہ ایک اصل ہے اس اصل کی بنیاد ''وعا القلب '' ہے اور اسی ''اختیار '' پر اسلام کے متعدد مسا ئل ،اصول اور قضایا مو قوف ہیں ۔

اسلامی روایات میں وارد ہوا ہے کہ انسانی حیات میں دل کے کردار کی بہت زیادہ تا کید کی گئی ہے کہ وہ حق و باطل کو جدا کرنے پر قادر ہے۔

روایت میں آیا ہے کہ حضرت دا ؤ د  نے اپنے پروردگار سے یوں منا جات کی ہے :

''الٰہ لکل ملک خزانة،فأین خزائنک؟فقال جلّ جلالہ:لی خزانة أعظم  من العرش،واوسع من الکرس،واطیب مِن الجنّة،وأزین من الملکوت، أرضھاالمعرفة،وسماء وھاالایمان،وشمسھاالشوق،وقمرھاالمحیة ،و نجومھاالخواطر،وسحابھاالعقل،ومطرھاالرحمة،وشجرھاالطاعة،وثمرھا الحکمة،ولھااربعة ارکان:التوکّل والتفکیر،والاُنسُ والذکرولھااربعة ابواب: العلم والحکمة والصبروالرضا۔۔الاوھ القلب )(١)

''اے میرے پروردگار ہر ملک کا خزانہ ہو تا ہے تو تیرا خزانہ کہا ں ہے ؟پروردگار عالم نے فرمایا : میرا خزانہ عرش اعظم ہے ،کر سی سے وسیع ہے ،جنت سے زیادہ پاکیزہ ہے ،ملکوت سے زیادہ مزین ہے زمین اس کی معرفت ہے ،آسمان اس کا ایمان ہے ،سورج اس کا شوق ہے، قمر اس کی محبت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحارالانوارجلد ١٥صفحہ٣٩۔

ہے، ستا رے اس کے خیالات ہیں ،عقل اس کے بادل ہیں با رش اس کی رحمت ہے ،طاقت اس کا درخت ہے ،حکمت اس کا پھل ہے ،اسکے چار رکن ہیں :توکل، تفکر ،انس اور ذکر ۔اس کے چار دروازے ہیں :علم ، حکمت ،صبر اور رضا ۔۔۔آگاہ  ہو جائو وہی دل ہے ''

روایت (جیسا کہ آپ کو معلوم ہو چکا ہے )سوال اور جواب کی صورت میں رمزی طور پر گفتگو کرتی ہے اور اسلامی روایات میں یہ مشہور و معروف لغت ہے ۔روایت میں ہے کہ خدانے حضرت مو سیٰ سے فر مایا :

''یاموسیٰ جرّد قلبک لحبّ،فان جعلت قلبک میدان حب،وبسطت ف قلبک ارضاً من معرفت،وبنیت ف قلبک شمساًمن شوق،وامضیت ف قلبک قمراًمن محبت،وجعلت ف قلبک عیناًمن التفکّروادرت ف قلبک ریحاًمن توفیق، وامطرت ف قلبک مطراًمن تفضّل،وزرعت ف قلبک زرعاًمن صدق،وانبت ف قلبک اشجاراًمن طاعت،ووضعت ف قلبک جبالاًمن یقین ) (١)

''اے مو سیٰ اپنے دل کو میری محبت کے لئے خالی کر دو ،کیونکہ میں نے تمہارے دل کو اپنی محبت کا میدان قرار دیا ہے، اور تمہارے دل میں اپنی معرفت کی کچھ زمین ایجاد کی ہے ،اور تمہارے   دل میں اپنے شوق کاسورج تعمیر کیا ہے تمہارے دل میں اپنی محبت کا چاند بنایا ہے ،تمہارے دل میں فکر کی آنکھ بنا ئی ہے تمہارے دل میں اپنی تو فیق کی ہوا چلا ئی ہے تمہارے دل میں اپنے فضل کی بارش کی ہے تمہارے دل میں اپنی سچا ئی کی کھیتی کی ہے تمہارے دل میں اپنی اطاعت کے درخت اُگا ئے ہیں تمہارے دل میں اپنے یقین کے پہاڑ رکھے ہیں ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحارالانوارجلد ١٥صفحہ٣٩۔

اس روایت میں بھی راز دارانہ گفتگو کی گئی ہے اور دونوں روایات دل کیلئے حق کو باطل اور ہدایت کو ضلالت و گمرا ہی سے جدا کرنے کیلئے واعی کی شرح کر رہی ہیں ۔

ہم پھر مناجات کا رخ کرتے ہیں

اس کے بعد امام علیہ السلام خدا وند عالم کو اس لطیف و رقیق انداز میں پکا رتے ہیں :

(فَیَامَنْ ھُوَعَلیٰ الْمُقْبِلِیْنَ عَلَیْہِ مُقْبِل،وَ بِالْعَطْفِ عَلَیْھِمْ عَائِد مُفْضِل،وَبِا الْغَافِلِیْنَ عَنْ ذِکْرِہِ رَحِیْم رَئُ وف،وَبِجَذْبِھِمْ اِلیٰ بَابِہِ وَدُوْدعَطُوْف )

'' اے وہ خدا جو اپنی طرف آنے والوں کااستقبال کرتا ہے اور ان پرمسلسل مہر بانی کرتاہے اپنی یاد سے غافل رہنے والوں پربھی مہربان رہتا ہے اور انھیںمحبت کے ساتھ اپنے در وازے کی طرف کھینچ لیتا ہے ''

اس مناجات میں دو باتیں شامل ہیں :

بیشک پروردگار عالم اس بندے کا استقبال کرتا ہے جو اس کی خدا ئی کا اقرار کرتا ہے اور اس پر اپنا فضل و کرم کرتا ہے ۔

خدا وند عالم اپنے سے غفلت کرنے والے بندوں پرمہربانی و عطوفت کرتا ہے اور ربانی جذبات کے ذریعہ ان سے غفلت دور کردیتا ہے ۔

اس کے بعد امام علیہ السلام اﷲ سے اس طرح منا جات کرتے ہیں :

( اَسْئَلُکَ اَنْ تَجْعَلَنْ مِنْ اَوْفَرِھِمْ مِنْکَ حَظّاًوَاَعْلَاھُمْ عِنْدَکَ مَنْزِلاً وَاَجْزَلِھِمْ مِنْ وُدِّکَ قِسْماًوَاَفْضَلِھِمْ فِْ مَعْرَفَتِکَ نَصِیْباً)

'' خدایا میرا سوال یہ ہے کہ میرے لئے اپنی بہترین نعمت کاسب سے زیادہ حصہ قرار دے اور بہترین منزل کا مالک بنا دے اور اپنی محبت کاعظیم ترین حصہ عطا فرمادے اور اپنی معرفت کا بلند ترین مرتبہ دیدے ''

دعا کے اس فقرہ سے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے :اس جملہ سے پہلے توامام علیہ السلام  خدا وند عالم سے یہ درخواست کر رہے تھے کہ مجھ کو ان سے ملحق کردے اور اب یہ تمنا و آرزو کر رہے ہیں کہ اپنے پاس سے میرے زیادہ فضل اور بلند ترین مقام و منزلت قرار دے ،اب اس سوال کو پہلے سوال سے کیسے ملایا جا سکتا ہے ؟

دعا میں اور دعا کرتے وقت امام علیہ السلام کے نفس میں کو نسی چیز مو جزن ہو رہی تھی کہ امام علیہ السلام نے صالحین سے ملحق ہو نے کی دعا کرنے سے پہلے ان پر اپنی سبقت اور امامت کی دعا    فر ما ئی ؟

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے اس سوال کی تشریح ضروری ہے اور یہ دعا کے اسرار میں سے ایک راز ہے ۔خداوند عالم نے ہم کو یہ تعلیم دی ہے کہ ہم اس سے دعا کرنے سے فرار اختیار نہ کریں ،دعا کرنے میں بخل سے کام نہ لیں ،جب ہمار ا مو لا کریم ہے ،جب مسئول (جس سے سوال کیا جا رہا ہے )کریم ہے تو اس سے سوال کرنے میں بخل سے کام لینا بہت بری بات ہے ،جس کی رحمت کے خزانوں کی کو ئی انتہا نہیں ہے ،جو ختم ہو نے والے نہیں ہیں اور اس کی کثرت عطا سے صرف اس کا جود و کرم ہی زیادہ ہو تا ہے ۔(ا)

خدا وند عالم نے ہم کو ''عباد الر حمن ''کے آداب و اخلاق میں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم خدا وند عالم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)دعا ئے افتتاح میں آیا ہے :

''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الْفَا شِیْ فِیْ الْخَلْقِ اَمْرُہُ وَحَمْدُ ہُ الظَّاھِرِ بِالْکَرَمِ مَجْدُہُ الْبَاسِطِ بِالْجُوْدِ یَدَہُ اَلَّذِیْ لَاتَنْقُصُ خَزَائِنُہُ وَلَاتَزِیْدُہُ کَثْرَةُ الْعَطَائِ اِلَّاجُوْداًوَکَرَماًاِنَّہُ ھُوَالْعَزِیْزُالْوَھَّابُ)

''ساری حمد اس خدا کیلئے ہے جس کا امر اوراس کی حمد مخلوقات میں نمایاں ہے اور جس کی بزرگی اس کے کرم کے ذریعہ نمایاں ہے،اور اس کے دونوں ہاتھ بخشش کیلئے کھلے ہوئے ہیں ،اس کے خزانوں میں کمی نہیںہے ،اور کثرت عطا اس کے یہاں سوائے جود و کرم کے کسی بات کااضافہ نہیں ہو تا ہے''

سے یہ سوال کریں کہ وہ ہم کو متقین کا امام قرار دے:

(وَاجْعَلْنَالِلْمُتَّقِیْنَ اِمَاماً )(١)

''اور ہم کو متقین کا امام قرار دے ''

ہم معصوم علیہم السلام سے وارد ہو نے والی دعا ئوں میں یہ او لو االعزمی والا جملہ بہت زیادہ پڑھا کر تے ہیں :

(آثَرنِیْ وَلَاتُؤثِّرْعَلَیَّ اَحَداً )''مجھ کو ترجیح دے اور مجھ پر کسی کو ترجیح نہ دے ''

دعائے قاع اور قمہ

دعائوں کی دو قسمیں ہیں ایک میں بندہ کے مقام اور ان برا ئیوںاور گناہوں کو مجسم کیاجا تا ہے جن سے انسان مرکب ہے جس کو عربی میں قاع کے نام سے یاد کیا گیاہے دوسری قسم میںخداوند عالم کے سلسلہ میں انسان کے شوق اور رجحان کو مجسم کیاجاتاہے اور خدا وند عالم کے جود و کرم وسخاوت اور اس کی رحمت کے خزا نوں کی کو ئی حدنہیں ہے اس کوعربی میں قمہ کہا جاتاہے ۔

حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام دعائے اسحا ر میں دونوںکے ما بین اسی نفسی فا صلہ کو بیان فر ما تے ہیں :

(اِذَارَأَیْتُ مَوْلَ ذُنُوْبْ فَزَعْتُ،وَاِذَارَأَیْتَ کَرَمَکَ طَمَعْتُ )

''جب میں اپنے گنا ہوں کو دیکھتا ہوں تو ڈرجاتا ہوں اور جب میں تیرے کرم کو دیکھتا ہوں تو پُرامیدہوجاتا ہوں ''

اور اسی دعا میں آپ    فر ما تے ہیں :(عَظُمَ یَاسَیَّدِْ اَمَلِ وَسَائَ عَمَلِ فَاَعْطِنِْ مِنْ عَفْوِکَ بِمِقْدَارِعَمَلِْ وَلَاتُؤاخِذْنِْ بِأَسْوَئِ عَمَلْ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ فر قان آیت٧٤

''اے میرے مالک میری امیدیں عظیم ہیں اور میرے اعمال بدترین ہیں مجھے اپنے عفوکرم سے بقدرامید دیدے اور میرے بد ترین اعمال کا محاسبہ نہ فرما ''

حضرت امیر المو منین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے جو دعا کمیل بن زیاد نخعی کو تعلیم فر ما ئی تھی اس میں آپ نے قاع سے ہی آغاز فر ما یا ہے :

(اَللَّھُمَّ اغْفِرْ لَِ الذُّنُوْبَ الَّتِْ تَھْتَکُ الْعِصَمَ اَللَّھُمَّ اغْفِرْلَِ الذُّنُوْبَ الَّتِ تُنْزِلُ النِّقَمَ اَللَّھُمَّ اغْفِرْلَِ الذُّنُوْبَ الَّتِ تُغَیِّرُالنِّعَمَ اَللَّھُمَّ اغْفِرْلَِ الذُّنُوْبَ الَّتِ تَحْبِسُ الدُّعَائَ اَللَّھُمَّ اغْفِرْلَِ الذُّنُوْبَ الَّتِ تُنْزِلُ الْبَلَائَ اَللَّھُمَّ اغْفِرْلِْ کُلَّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہُ وَکُلَّ خَطِیْئَةٍ اَخْطَاتُھَااَللَّھُم اِنِّْ اَتَقَرَّبُ اِلَیْکَ بِذکْرِکَ وَاَسْتَشْفِعُ بِکَ اِلیٰ نَفْسِکَ وَاَسْئَلُکَ بِجُوْدِکَ اَنْ تُدْنِیَنِْ مِنْ قُرْبِکَ وَاَنْ تُوْزِعَنْ شُکْرَکَ وَاَنْ تُلْھِمَنِ ذِکْرَکَ اَللَّھُم اِنِّْ أَسْئَلُکَ سُئوَالَ خَاضِعٍ مُتَذَ لِّلٍ خَا شِعٍ اَنْ تُسَامِحَنِْ وَتَرْحَمَنِ وَتَجْعَلَنِْ بِقِسْمِکَ رَاضِیاًقَانِعاًوَفِیْ جَمِیْعِ الْاَحْوَالِ مُتَوَاضِعاًاَللَّھُم وَاَسْئَلکَ سُئَوالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فَاَقَتُہُ وَاَنْزَلَ بِکَ عِنْدَ الشَّدَائِدِحَاجَتَہُ وَعَظُمَ فِیْمَاعِنْدَکَ رَغْبَتُہُ اَللَّھُمَّ عَظُمَ سُلْطَانُکَ وَعَلَامَکَانُکَ وَخَفِیَ مَکْرُکَ وَظَھَرَاَمْرُکَ وَغَلَبَ قَھْرُکَ وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ وَلَایُمْکِنُ الْفِرَارُمِنْ حُکُوْمَتِکَ اَللَّھُم لَا اَجِدُلِذُنُوْبِ غَافِراًوَلَالِقَبَائِحِْ سَاتِراًوَلَالِشئٍ مِنْ عَمَلِ الْقَبِیْحِ بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَیْرَکَ لَااِلٰہَ اِلَّااَنْتَ سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ ظَلَمْتُ نَفْسِْ وَتَجَرّأْتُ بِجَھْلِ وَسَکَنْتُ اِلٰی قَدِیْمِ ذِکْرِکَ لِْ وَمَنِّکَ عَلَیَّ اَللَّھُم مَوْلَاَ کَمْ مِنْ قَبِیْحٍ سَتَرْتَہوَکَمْ مِنْ فَادِحٍ مِنَ الْبَلَائِ اَقَلْتَہُ َ وَکَمْ مِن عِثَارِوَقَیْتَہُ وَکَمْ مِنْ مَکْرُوْہٍ دَفَعْتَہ وَکَمْ مِنْ ثَنَائٍ جَمِیْلٍ لَسْتُ اَھْلاً لَہُ نّشَرْتَہُ اَللَّھُمَّ عَظُمَ بَلَائِْ وَاَفْرَطَ بِْ سُوْئُ حَالِْ وَقَصُرَتْ بِْ اَعْمَالِْ وَقَعَدَتْ بِ اَغْلَالِْ وَحَبَسَنِ عَنْ نَفْعِْ بُعْدُ اَمَلِْ وَخَدَعَتْنِْ الدُّنْیَابِغُرُوْرِھَاوَنَفْسِ بِجِنَایَتِھَاوَمِطَالِْ یَاسَیِّدِ فَأسْئَلُکَ بِعِزَّتِکَ اَنْ لَایَحْجُبَ عَنْکَ دُعَائِْ سُوْئُ عَمَلِْ وَفِعَالِْ وَلَاتَفْضَحَنْ بِخَفِِّ مَااطَّلَعْتَ عَلَیْہِ مِنْ سِرِّ )

''خدایا میرے گناہوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹہ لگادیتے ہیں۔ان گناہوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ہوتے ہیں،ا ن گناہوں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغیر کر دیا کرتے ہیں ،ان گناہوں کو بخش دے جو دعاؤں کو تیری بارگاہ تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں،خدایا میرے ان گناہوں کو بخش دے جن سے بلا ئیں نازل ہوتی ہیںخدایا میرے تمام گناہوں اور میری تمام خطائوں کو بخش دے خدایا میں تیری یاد کے ذریعہ تجھ سے قریب ہو رہا ہوںاور تیری ذات کو تیری بارگاہ میں شفیع بنا رہا ہوںتیرے کرم کے سہارے میرا یہ سوال ہے کہ مجھے اپنے سے قریب بنا لے اور اپنے شکر کی توفیق عطا فرمااور اپنے ذکر کا الہام کرا مت فر ما خدایا! میں نہایت درجہ خشوع خضوع اور ذلت کے ساتھ یہ سوال کر رہا ہوں کہ میرے ساتھ مہربانی فرما مجھ پر رحم کر اور جو کچھ مقدر میں ہے مجھے اسی پر قانع بنا دے ، مجھے ہر حال میں تواضع اور فروتنی کی توفیق عطا فرما،خدایا ! میرا سوال اس بے نوا جیسا ہے جس کے فاقے شدید ہوںاور جس نے اپنی حا جتیں تیرے سا منے رکھ دی ہوںاور جس کی رغبت تیری بارگاہ میں عظیم ہو ،خدایا! تیری سلطنت عظیم،تیری منزلت بلند،تیری تدبیر مخفی،تیرا امی ظاہر،تیرا قہر غالب ، اور تیری قدرت نافذ ہے اور تیری حکومت سے فرار نا ممکن ہے ۔۔۔خدایا میرے گناہوں کے لئے بخشنے والا۔میرے عیوب کے لئے پردہ پوشی کرنے والا ، میرے قبیح اعمال کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والا تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے۔۔خدایا میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے،اپنی جہالت سے جسارت کی ہے اور اس بات پر مطمئن بیٹھا ہوں کہ تونے مجھے ہمیشہ یا د رکھا ہے اور ہمیشہ احسان فرمایا ہے ۔۔۔خدایا میری مصیبت عظیم ہے ۔میری بدحالی حد سے آگے بڑھی ہوئی ہے ۔میرے اعمال میں کوتاہی ہے ۔ مجھے کمزوریوں کی زنجیروں نے جکڑکر بٹھا دیا ہے اور مجھے دور دراز امیدوں نے فوائد سے روک دیا ہے، دنیا نے دھوکہ میں مبتلا رکھا ہے اور نفس نے خیانت اور ٹال مٹول میں مبتلا رکھا ہے ۔۔۔میرے آقا و مولا!تجھے تیری عزت کا واسطہ ۔میری دعاؤں کو میری بد اعمالیاں روکنے نہ پائیں اور میں اپنے مخفی عیوب کی بنا پر بر سر عام رسوانہ ہونے پاؤں ''

یہ قاع عبودیت اور اس پر محیط برائیوں کا مخزن ہے۔ پھر دعا کے آخر میں ہم محبت کی اس بلندی تک پہونچتے ہیں جو بندہ کی آرزو اور اﷲ کی وسیع رحمت کے سایہ میں اس کی عظیم آرزو کومجسم کرتی ہے :

وَھَبْ لِیَ الْجِدَّ فِیْ خَشْیَتِکَ وَالدَّوَامَ فِیْ الاِتِّصَالِ بِخِدْمَتِکَ حَتّیٰ اَسْرَحَ اِلَیْکَ فِیْ مَیَادِیْنِ السَّابِقِیْنَ وَاُسْرِعَ اِلَیْکَ فِیْ الْبَارِزِیْنَ وأَشْتَاقَ اِلیٰ قُرْبِکَ فِیْ الْمُشْتَاقِیْنَ وَادْنُوَمِنْکَ دُنُوَّالْمُخْلِصِیْنَ ۔۔۔وَاَخَافَکَ مَخَافَةَ الْمُوْقِنِیْنَ وَاجْتَمِعَ فِیْ جَوَارِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَللَّھُمَّ وَمَنْ اَرَادَنِیْ بِسُؤئٍ فَاَرِدْہُ وَمَنْ کَادَنِیْ فَکِدْہُ وَاجْعَلْنِیْ مِنْ اَحْسَنِ عَبِیْدِکَ نَصِیْباًعِنْدَکَ وَاَقْرَبِھِمْ مَنْزِلَةً مِنْکَ وَاَخَصِّھِمْ زُلْفَةً لَدَیْکَ فَاِنَّہُ لَایُنَالُ ذَلِکَ اِلَّابِفَظْلِکَ )(١)

''اپنا خوف پیدا کرنے کی کوشش اور اپنی مسلسل خدمت کرنے کا جذبہ عطا فرما تاکہ تیری طرف سابقین کے ساتھ آگے بڑھوں اور تیز رفتار افراد کے ساتھ قدم ملا کر چلوں ۔مشتاقین کے درمیان تیرے قرب کا مشتاق شمار ہوں اور مخلصین کی طرح تیری قربت اختیار کروں ۔۔۔خدایا جو بھی  کوئی میرے لئے برائی چاہے یا میرے ساتھ کوئی چال چلے تو اسے ویساہی بدلہ دینا اور مجھے بہترین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)دعا ئے کمیل

حصہ پانے والا ،قریب ترین منزلت رکھنے والا اور مخصوص ترین قربت کا حامل بندہ قرار دینا کہ یہ کا م تیرے جود وکرم کے بغیر نہیں ہو سکتا ''

ہم ابو حمزہ ثما لی سے حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام سے مروی ماہ رمضان المبارک کی دعائے اسحار میں ''قاع ''اور ''قمّہ ''کے مابین بہت زیادہ فا صلہ کا مشا ہدہ کرتے ہیں اس دعا میں امام  علیہ السلام ''قاع '' سے شروع فر ماتے ہیں :

(وَمَااَنَایَارَبِّ وَمَاخَطَرِیْ ھَبْنِیْ بِفَضْلِکَ وَتَصَدَّقَ عَلَیَّ بِعَفْوِکَ اَیْ رَبِّ جَلِّلْنِیْ بِسِتْرِکَ وَاعْفُ عَنْ تَوْبِیْخِیْ بِکَرَمِ وَجْھِکَ )

''اے میرے خدا میں کیا اور میری اوقات کیا ؟ تومجھ کو اپنے فضل وکرم و مغفرت سے بخش  دے اے میرے خدا اپنی پردہ پوشی سے مجھے عزت دے اوراپنے کرم سے میری تنبیہ کونظرانداز گنا ہ فرمادے ''

(فَلَاتُحْرِقْنِْ بِالنَّارِوَاَنْتَ مَوْضِعُ اَمَلِْ وَلَاتُسْکِنِّْ الْھَاوِیَةَ فَاِنَّکَ قُرَّةُ عَینِْ۔۔۔ اِرْحَمْ فِْ ھٰذِہِ الدُّنْیَاغُرْبَتِْ وَعِنْدَ الْمَوْتَ کُرْبَتِْ وَفِْ الْقَبْرِوَحْدَتِْ وَفِ اللَّحْدِوَحْشَتِْ وَاِذَانُشِرَتْ فِْ الْحِسَابِ بَیْنَ یَدَیْکَ ذُلَّ مَوْقِفِْ وَاغْفِرْلِْ مَاخَفَِ عَلیٰ الْأٰدَمِیِّیْنَ مِنْ عَمَلِْ وَاَدِمْ لِیْ مَابِہِ سَتَرْتَنِْ وَارْحَمْن صَرِیْعاًعَلیٰ الْفِرَاشِ تُقَلِّبُنِ  اَیْدِْ اَحِبَّتِْ وَتُفَضَّلْ عَلََّ مَمْدُوْداًعَلیٰ الْمُغْتَسَلِ یُقَلِّبُنِْ صَالِحُ جِیْرَتِْ وَتَحَنَّنْ عَلَیَّ مَحْمُوْلاًقَدْ تَنَاوُلَ الْاَقْرِبَائُ اَطْرَا فَ جَنَازَتِْ وَجُدْ عَلََّ مَنْقُوْلاًقَدْنَزَلْتُ بِکَ وَحِیْداً فِیْ حُفْرَتِ)

''تو مجھ کو ایسے حالات میں جہنم میں جلانہ د ینا اورقعر جہنم میںڈال نہ دینا کیونکہ تو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔۔۔ اس دنیا میں میری غربت اور موت کے وقت میرے کرب ،قبرمیںمیری تنہائی اور لحد میںمیری وحشت اور وقت حساب میری ذلت پر رحم کرنا ،اور میرے تمام گناہوں کو معاف کر دینا جن کی لوگوں کواطلاع بھی نہیں ہے اور اس پردہ داری کو برقراررکھنا۔ پروردگار!اس وقت میرے حال پر رحم کرنا جب میںبستر مرگ پر ہوں اور احباب کروٹیںبدلوارہے ہوں اس وقت رحم کرنا جب میں تختہ غسل پرہوں اور ہمسایہ کے نیک افراد مجھ کو غسل دے رہے ہوں اس وقت رحم کرنا جب تابوت میں اقرباء کے کاندھوںپرسوار ہوں اس وقت مہربانی کرنا جب میں تنہا قبر میں وارد ہوں ''

اس کے بعد امام علیہ السلام مر حلۂ او لواالعزمی اور قمۂ دعا کے سلسلہ میں فر ما تے ہیں :

(اَللَّھُمَّ اِنِّْ اَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِمَاسَألَکَ مِنْہُ عِبَادُکَ الصَّالِحُوْنَ یَاخَیْرَمَنْ سُئِلَ وَاَجْوَدَمَنْ اَعْطیٰ اَعْطِنِْ سُؤْلِْ فِْ نَفْسِْ وَاَھْلِْ وَوَلَدِْ،وَارْغَدْعَیْشِْ، وَاَظْھِرْمُرُوَّتِْ،وَاَصْلِحْ جَمِیْعَ اَحْوَالِْ،وَاجْعَلْنِْ اَطَلْتَ عُمْرُہُ وَحَسَّنْتَ عَمَلَہُ وَاَتْمَمْتَ عَلَیْہِ نِعْمَتَکَ وَرَضِیْتَ عَنْہُ وَاَحْیَیْتَہُ حَیٰوةً طَیِّبَةً ۔۔۔اللَّھُمَّ خَصَّنِْ بِخَاصَّةِ ذِکْرِکَ ۔۔۔وَاجْعَلْنِْ مِنْ اَوْفَرِعِبَادَکَ نَصِیْباًعِنْدَکَ فِْ کُلِّ خَیْرٍاَنْزَلْتَہُ وَتُنْزِلُہُ )

''اے خدا میں تجھ سے وہ سب کچھ مانگ رہا ہوں جو بندگان صالحین نے مانگا ہے کہ تو بہترین مسئول اور سخی ترین عطا کرنے والا ہے میری د عا کو میرے نفس، میرے اہل و عیال ،میرے والدین ،میری اولاد،متعلقین اور برا دران سب کے با رے میں قبول فرما، میری زندگی کو خو شگوار بنا  مروت کو واضح فرماکر میرے تمام حالات کی اصلاح فرما مجھے طولا نی عمر،نیک عمل،کامل نعمت اور پسندیدہ بندوں کی مصاحبت عطا فرما ۔۔۔خدا یا! مجھے اپنے ذکر خاص سے مخصوص کردے ۔۔اور میرے لئے اپنے بندوں میں ہر نیکی میں جس کو تو نے نا زل کیا ہے اور جس کو تو نا زل کرتا ہے سب سے زیادہ حصہ قرار دے '

اس ''قاع  ''سے ''قمہ ''تک کے سفر کو انسان کے اﷲ تک سفر کی تعبیر سے یاد کیا گیا ہے یہ سواری آرزو ، امید اور اولواالعزمی ہے جب انسان کی آرزو ،رجاء (امید)اور او لواالعزمی اﷲ سے ہو تو اس سفر کی کو ئی حد نہیں ہے ۔

تین وسیلے

حضرت علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام تین چیزوں کوخداوند عالم تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیتے ہیں اور اﷲ نے ہم کو اس تک پہنچنے کیلئے وسیلے تلاش کرنے کا حکم دیاہے ارشادخداوندعالم ہے :

(یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْااتَّقُوْااﷲَ وَابْتَغُوْااِلَیْہِ الْوَسِیْلَة)(١)

''اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو ''

(اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَةَ)(٢)

''یہ جن کو خدا سمجھ کر پکارتے ہیں وہ خود ہی اپنے پروردگار کے لئے وسیلہ تلاش کر رہے ہیں ''

جن وسائل سے امام علیہ السلام اس سفر میں متوسل ہوئے ہیں وہ حاجت سوال اور محبت ہیں امام علیہ السلام کا کیا کہنا آپ دعا کی کتنی بہترین تعلیم دینے والے ہیں ۔

وہ یہ جانتے ہیں کہ اُنھیں اﷲسے کیاطلب کرنا چاہئے ،اور کیسے طلب کرنا چاہئے اور اﷲکی رحمت کے مواقع کہاں ہیں :

پہلا وسیلہ :حاجت

حاجت بذات خوداﷲ کی رحمت کی ایک منزل ہے بیشک خداوندعالم کریم ہے وہ اپنی مخلوق یہاں تک کہ حیوان اور نباتات پر ان کی ضرورت کے مطابق بغیر کسی سوال کے اپنی رحمت نازل کر تا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خداسے طلب اور سوال نہیں کرنا چاہئے اس لئے کہ حاجت کے پہلومیں سوال اور طلب اﷲکی رحمت کے دروازوں میں سے ایک دوسرا دروازہ ہے ۔جب لوگ پیاس کا احساس کر تے ہیں تو خداوندعالم ان کو سیراب کرتا ہے جب ان کو بھوک لگتی ہے تو خداوندعالم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ مائدہ آیت ٣٥ ۔

(٢)سورئہ اسراء آیت ٥٧۔

انکو کھا نا دیتا ہے اور جب وہ برہنہ ہو تے ہیں تو خداوندعالم ان کو کپڑا عطا کر تا ہے :

(وَاِذَامَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْنِ )(١)

''اور جب بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی شفا بھی دیتا ہے ''

یہاں تک کہ اگر ان کو خداکی معرفت نہ ہو وہ یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ کیسے اﷲسے دعا کرنا چاہئے اور اس سے کیا طلب کرنا چاہئے :

(یامَن یُعط من سئالہ یامن یعط من لم یسألہ ومَن لم یعرفہ تحنُّنامنہ  ورحمة )(٢)

''اے وہ خدا جو اپنے تمام سائلوںکودیتا ہے اے وہ خدا جو اسے بھی دیتا ہے جو سوال نہیں کرتاہے بلکہ اسے پہچا نتابھی نہیں ہے ''

ہم حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب کی مناجات میں اﷲکی رحمت نازل کرنے کے لئے اس عمدہ اور رباّنی نکتہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں :

(مولاَ یامولا انت المولیٰ واناالعبد،وھل یرحم العبدالاالمولیٰ۔     مولاَ یامولا انت المالک واناالمملوک،وھل یرحم المملوک الاالمالک۔ مولایَ یامولایَ انت العزیزواناالذلیل وھل یرحم الذلیل الاالعزیزمولاَ یامولا انت الخالق واناالمخلوق،وھل یرحم المخلوق الاالخالق۔مولاَ یامولاَ انت العظیم واناالحقیر،وھل یرحم الحقیرالاالعظیم،مولاَ یامولاَ انت القو واناالضعیف،وھل یرحم الضعیف الاالقوی۔مولاَ یامولاَ انت الغنّ واناالفقیر،وھل یرحم الفقیرالاالغنّ۔مولاَ یامولاانت المعط واناالسائل، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)شعراء آیت ٨٠۔             (٢)رجب کے مہینہ کی دعائیں ۔

وھل یرحم السائل الاالمعط،مولاَ یامولا انت الح واناالمیت،وھل یرحم المیت الاالح۔مولاَ یامولاَ انت الباق واناالفان،وھل یرحم الفان الاالباق مولاَ یامولاَ انت الدائم واناالزائل،وھل یرحم الزائل الاالدائم۔مولاَ یامولا انت الرازق واناالمرزوق،وھل یرحم المرزوق الاالرازق۔مولاَ یامولاَ انت الجوادواناالبخیل وھل یرحم البخیل الاالجواد۔مولاَ یامولا انت المعاف واناالمتلیٰ،وھل یرحم المبتلیٰ الاالمعاف۔مولاَ یامولاَ انت الکبیر واناالصغیر،وھل یرحم الصغیرالّاالکبیر۔مولاَ یامولاانت الھادی وانا الضال،وھل یرحم الضال الاالھادی۔مولاَ یامولاَ انت الغفوروانا المذنب،وھل یرحم المذنب الاالغفور۔مولاَ یامولاَ انت الغالب واناالمغلوب، وھل یرحم المغلوب الاالغالب۔مولاَ یامولاَ انت الرب واناالمربوب،وھل یرحم المربوب الاالرب۔مولاَ یامولاَ انت المتکبرواناالخاشع،وھل یرحم الخاشع الاالمتکبر۔مولاَ یامولا ارحمنی برحمتک،وارض عنی بجودک و کرمک وفضلک۔یاذاالجودوالاحسان،والطول والامتنان)(ا)

''اے میرے مو لا تو مو لا ہے اور میںتیرا بندہ۔ اب بندہ پر مو لا کے علا وہ کون رحم کرے گا۔ اے میرے مو لا اے میرے مالک تومالک ہے اور میں مملوک اور مملوک پرمالک کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ میرے مو لا اے میرے مولا توعزیزہے ا ور میں ذلیل ہوں اور ذلیل پر عزیز کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ میرے مو لا اے میرے مو لا توخالق ہے اور میں مخلوق ہوں اور مخلوق پر خالق کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔ میرے مو لا اے میرے مو لا توعظیم ہے اور میں حقیر ہوں اور حقیر پر عظیم کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)مفاتح الجنان اعمال مسجد کوفہ مناجت امیرالمو منین علیہ السلام ۔

کون رحم کرے گا ۔ میرے مو لا اے میرے مو لا توقوی ہے اور میں کمزور ہوں اور کمزور پر طاقتور کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔میرے مو لا اے میرے مو لا توغنی ہے اور میں فقیر ہوں اور فقیر پر غنی کے  علاوہ کون رحم کرے گا ۔ میرے مو لا اے میرے مو لا تومعطی ہے اور میں سائل ہوں اور سائل پر معطی  کے علاوہ کون رحم کرے گا۔اے میرے مو لا میرے مو لا تو زندہ ہے اور میں مرنے والا ہوں اور مر نے والے پر زندہ کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ میرے مو لا میرے مو لا تو باقی ہے اور میں فانی ہوں اور فانی پر باقی کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔ اے میرے مو لا میرے مو لا توہمیشہ رہنے والا ہے اور میں مٹنے والا ہوں اور مٹنے والے پر رہنے والے کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔میرے مو لا میرے مو لا تورازق ہے اور میں محتاج رزق ہوں اور محتاج پر رازق کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔میرے مو لا اے میرے مو لا توجواد ہے اور میں بخیل ہوں اور بخیل پر جواد کے علاوہ کون رحم کرے گا ؟میرے مو لااے میرے مو لا توعافیت دینے والا ہے اور میں مبتلا ہوں اور درد بتلاپر عافیت دینے والے کے علاوہ کون رحم کرسکتاہے۔ میرے مو لا اے میرے مو لا توکبیر ہے اور میں صغیرہوں اور صغیر پر کبیرکے علاوہ کون رحم کرے گا ۔میرے مو لا اے میرے مو لا توہادی ہے اور میں گمرا ہ ہوں اور گمراہ پر ہادی کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔میرے مو لا اے میرے مو لا تورحمن ہے اور میں قابل رحم ہوں اور قابل رحم پر رحمان کے علاوہ کون رحم کرے گا۔ میرے مو لا اے میرے مو لا توبادشاہ ہے اور میں منزل امتحان میں ہوںاور ایسے بندئہ امتحان پر بادشاہ کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔میرے مو لا اے میرے مو لا توراہنما ہے اور میں سر گرداںہوں اور کیا سر گرداں پر راہنما کے علاوہ اور کو ن رحم کرے گا ۔میرے مو لا اے میرے  مو لا توبخشنے والا ہے اور میں گناہگار ہوں اور گنا ہگار پر بخشنے والے کے علاوہ کون رحم کرے گا ۔میرے مو لا اے میرے مو لا توغالب ہے اور میں مغلوب ہوں اور مغلوب پر غالب کے علاوہ اور کو ن رحم کرے گا ۔میرے مو لا اے میرے مو لا تورب ہے اور میں مربوب ہوں اور پرورش پانے والے رب

کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔میرے مو لا اے میرے مو لا توصاحب کبریا ئی ہے اور میںبندئہ ذلیل ہوں اوربندئہ ذلیل پرخدائے کبیر کے علا وہ کون رحم کرے گا ۔میرے مو لا اے میرے مو لاتو اپنی رحمت سے مجھ پر رحم فرما اور اپنے جود و کرم و فضل سے مجھ سے راضی ہو جا اے صاحب جود و احسان اور اے صاحب کرم و امتنان ''

حضرت امیرالمو منین علیہ السلام اس بہترین مناجات کے ان جملوں میں اﷲتبارک وتعالیٰ سے اپنی حاجت اور فقرکیلئے متوسل ہوتے ہیں اور بندہ کی حاجت اور اس کے فقرکو اﷲکی رحمت نازل ہونے کا موردقرار دیتے ہیں ۔

بیشک مخلوق اﷲکی رحمت نازل کرانا چاہتی ہے حقیر عظیم کی رحمت نازل کرانا چاہتا ہے ضعیف قوی کی فقیر غنی کی مرزوق رازق کی،مبتلامعافی کی، گمراہ ہادی کی ،گنا ہگار غفورکی ،حیران وسرگردان، دلیل اور مغلوب غالب کی رحمت کی رحمت نازل ہونے کے خواستگارہیں۔

یہ اﷲکی تکوینی سنتیں ہیں اور اﷲکی سنتوں میں ہرگز تبدیلی نہیں آسکتی جب حاجت اور فقر  ہو گا تو ان موقفوں کیلئے اﷲکی رحمت اور فضل ہوگا جس طرح پا نی نیچی جگہ پر گرتا ہے اﷲکی رحمت حاجت وضرورت کے مقام پر نازل ہوتی ہے اﷲکریم وجوادہے اور کریم حاجت وضرورت کے مقامات کی رعایت کرتاہے اور اپنی رحمت اس سے مخصوص کردیتا ہے ۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام دعائے سحرمیں جس کو آپ نے ابو حمزہ ثمالی کو تعلیم فرمایا تھا میں فرما تے ہیں :(اعطن فقر،وارحمن لضعف)

یعنی آپ نے فقر اور ضعف کو وسیلہ قرار دیا ہے اور انھیں کے ذریعہ آپ اﷲ کی رحمت سے متوسّل ہو تے ہیں ۔

یہ فطری بات ہے کہ اس کلا م کو مطلق قرار دینا ممکن نہیں ہے اور ایک ہی طریقہ میں منحصر نہیں کیا جا سکتا ہے بیشک اﷲکی رحمت نازل ہونے کے دوسرے اسباب بھی ہیں اور دوسرے موانع و رکاوٹیں بھی ہیں جن سے اﷲ کی رحمت نازل نہیں ہوتی اور اﷲکی سنتوںمیںمبتلاہونے کا سبب بھی ہیں ۔

ہمارا یہ کہنا ہے :بیشک حاجت اور فقر کی وجہ سے اﷲکی رحمت نازل ہوتی ہے تو ہمارے لئے اس گفتار کو اس الٰہی نظام کے مطابق اور اس کے دائرہ میںرہنا چاہئے اور یہ معرفت کا وسیع باب ہے جس کو ہم اس وقت چھیڑنا نہیں چاہتے ہیںعنقریب ہم توفیق پروردگار کے ذریعہ اس حقیقت کی  مناسب یا ضروری تشریح کریں گے ۔

ہم قرآن کریم میں بہت سے ایسے نمونے دیکھتے ہیں جن میں حاجت اور فقر کو پیش کیا گیا ہے اور ان کے ذریعہ اﷲکی رحمت نازل ہوئی ہے اور اﷲنے ان کو قبولیت کے درجہ تک پہنچایا ہے حاجت بھی اُسی طرح قبول ہوتی ہے جس طرح سے دعا اور سوال قبول ہوتے ہیں بیشک خداوندعالم کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرنا بھی دعا کی ایک قسم ہے ان نمو نوں کو قرآن کریم نے اﷲ کے صالحین بندوں کی زبانی نقل کیا ہے ۔

ا۔ عبد صالح حضرت ایوب علیہ السلام کا خداوندعالم کی بارگاہ میں سختیوں اور مشکلات کے وقت اپنی حاجت پیش کرنا ۔

(وَاَیُّوبَ اِذْنَادیٰ رَبَّہُ اَنِّی مَسَنِّیَ الضُُّرُّوَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ فَاسْتَجَبْنَا لَہُ فَکَشَفْنَامَابِہِ مِنْ ضُرٍّوَآتَیْنَاہُ اَھْلَہُ وَمِثْلَھُمْ مَعَھُمْ رَحْمَةًمِنْ عِنْدِنَاوَذِکْریٰ لِلْعَابدِیْنَ)(ا)

''اور ایوب کو یاد کرو جب انھوں نے اپنے پروردگار کو پکاراکہ مجھے بیماری نے چھولیا ہے اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کی بیماری کو دور کردیا اور انھیں ان کے اہل وعیال دیدئے اور ویسے ہی اور بھی دیدئے کہ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی اور یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ انبیاء آیت ٨٣ ۔٨٤ ۔

عبادت گذار بندوں کے لئے ایک یاد دہانی ہے ''

قرآن کریم اس فقرہ میں کوئی بھی دعا نہیں کی گئی ہے جس کی قرآن کریم نے اس امتحان دینے والے صالح بندہ کی زبانی نقل کیا ہے لیکن خداوندعالم نے فرمایا ہے :

(فاستجبنالہ فکشفنامابہ ضُرّ)(١)

'' تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کی بیماری کو دور کردیا ''

گویا حاجت اور فقر کا خدا کی بارگاہ میں پیش کرنا دعا کی ایک قسم ہے ۔

٢۔عبد صالح ذوالنون نے اپنے فقر وحاجت اور اپنے نفس پر ظلم کرنے کو خدا کی بارگاہ میں پیش کیا جب آپ سمندرمیں شکم ماہی کے گھپ اندھیرے میں تھے :

(وَذَاالنُّوْنِ اِذْذَھَبَ مُغَاضِباًفَظَنَّ اَنْ لَنْ نَّقْدِرَعَلَیْہِ فَنَادٰی فِیْ الظُّلُمٰاتِ اَنْ لَااِلٰہَ اِلَّااَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ فَاسْتَجَبْنَالَہُ وَنَجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ وَ کَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ )(٢)

'' اور یونس کو یاد کرو کہ جب وہ غصہ میں آکرچلے اور یہ خیال کیا کہ ہم ان پر روزی تنگ نہ کریں گے اور پھر تاریکیوں میں جاکر آوازدی کہ پروردگار تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک وبے نیاز ہے اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے تھاتو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیااور انھیں غم سے نجات دلادی کہ ہم اسی طرح صاحبان ایمان کو نجات دلاتے رہتے ہیں ''

اس طرح کی استجابت طلب کیلئے نہیں ہے یہ حاجت اور فقر کیلئے ہے عبد صالح ذوالنون نے اس کلمہ :(سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ )(٣)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ انبیاء آیت ٨٤۔

(٢)سورئہ انبیاء آیت ٨٧ ۔٨٨۔

(٣)سورئہ انبیاء آیت ٨٨۔

'' اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے تھا''کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا خدوندعالم نے اس کو قبول کیا اور ان کو غم سے نجات دی :(فَاسْتَجَبْنَالَہُ وَنَجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ)(١)

''تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیااور انھیں غم سے نجات دلادی ''

٣۔ ہم کوقرآن کریم میں اﷲ،موسیٰ بن عمران اور ان کے بھائی ہارون کا یہ کلمہ بھی ملتا ہے جب انھوں نے فرعون تک اپنی رسالت کا پیغام پہنچا نے کیلئے اﷲسے دعاکی :

(اِذْھَبَااِلیٰ فِرْعَوْنَ اِنَّہُ طَغیٰ فَقُوْلَالَہُ قَوْلًالَیِّناًلَعَلَّہُ یَتَذَکَّرُاَوْیَخْشٰی قَالَارَبَّنَااِنَّنَانَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَااَوْاَنْ یَّطْغٰی )(٢)

''تم دونوں فر عون کی طرف جا ئو کہ وہ سر کش ہو گیا ہے ،اس سے نر می سے بات کر نا شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا خو فزدہ ہو جا ئے ،ان دونوں نے کہا کہ پر ور دگار ہمیں یہ خوف ہے کہ کہیں وہہم پر زیا دتی نہ کرے یا اور سر کش نہ ہو جا ئے ''

ان دونوں نے اﷲسے فرعون اور اس کی بادشاہت کے مقابلہ میں خداسے اپنی حمایت اور مدد کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی اپنی ضرورت کیلئے امن وامان کی درخواست کی ہے بلکہ انھوں نے اپنی کمزوری، فرعون کی عوام الناس پر گرفت ،فرعون کی طاقت اور اس کی سرکشی کا تذکرہ کیا:

(اِنَّنَانَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَااَوْاَنْ یَّطْغٰیٰ )

''ان دونوں نے کہا کہ پر ور دگار ہمیں یہ خوف ہے کہ کہیں وہ ہم پر زیا دتی نہ کرے یاوہ   سر کش نہ ہو جا ئے ''

اﷲنے ان کی اس درخواست کو مستجاب کرتے ہوئے ان کی حمایت اور تائید میں فرمایا :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ انبیاء آیت٨٧۔

(٢)سورئہ طہ آیت٤٣۔٤٥۔

(قَالَ لَاتَخَافَااِنَّنِیْ مَعَکُمَااَسْمَعُ وَاَریٰ)(١)

''ارشاد ہوا تم ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سب کچھ سن بھی رہا ہوں اور دیکھ بھی رہا ہوں''

٤۔چوتھا نمونہ عبد صالح حضرت نوح علیہ السلام کا وہ کلمہ ہے جو آپ نے اپنے بیٹے کوطوفان میں غرق ہونے سے بچانے کی خاطر اﷲکی بارگاہ میں پیش کیاتھا :

(وَنَادَیٰ نُوْحُ رَبَّہُ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَھْلِیْ وَ اِنَّ وَعَدَ کَ الْحَقُّ وَاَنْتَ اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْنَ )(٢)

''اور نوح نے اپنے پروردگارکو پکاراکہ پروردگارمیرا فرزندمیرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ اہل کو بچانے کا برحق ہے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ''

بہر حال حاجت اور فقرکے وقت بھی اﷲکی رحمت نازل ہوتی ہے یہاں تک کہ حیوانات اورنباتات کی ضرورتوں اور فقر کیلئے بھی اﷲکی رحمت نازل ہوتی ہے ۔

جب پیاس لگتی ہے تواﷲ ان کو سیراب کرتا ہے اور جب بھوک لگتی ہے تو اﷲان کو سیرکرتا ہے اور کھانا کھلاتا ہے یہ معرفت کا بہت وسیع وعریض باب ہے اور ہم اس کے ایک پہلو کو رحاب القرآن کے سلسلہ کی کتاب (شرح الصدر )میں بیان کر چکے ہیں ۔

دوسرا وسیلہ :دعا

یہ اﷲکی رحمت کی کنجیوں میں سے ایک کنجی ہے

خداوندعالم فرماتا ہے :

(ادعونی استجب لکم)(٣)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ طہ آیت ٤٦ ۔

(٢)سورئہ ہودآیت٤٥۔

(٣)سورئہ غافر آیت ٦٠ ۔

''مجھ سے دعا کرو میں قبول کرونگا''

اور خدا کا فرمان ہے:(قُلْ مَایَعْبَؤُابِکُمْ رَبِّْ لَوْلَادُعَاؤُکُمْ )(١)

''پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعا ئیں نہ ہو تیں تو پرور دگار تمہاری پروا ہ بھی نہ کرتا ''

تیسرا وسیلہ :محبت

بیشک بندہ محبت کے ذریعہ اﷲکی رحمت نازل کراتاہے جو کسی دوسرے امرکے ذریعہ نازل نہیں ہوتی ہے

اب ہم ان تینوں وسیلوں کے سلسلہ میں تفکر کرتے ہیں جن کو امام نے خداوندعالم تک رسائی کیلئے اپنا وسیلہ قراردیا ہے ۔

(رِضَاکَ بُغْیَتِْ وَرُؤْ یَتِکَ حَاجَتْ ۔۔۔وَعِنْدَکَ دَوَائُ عِلَّتِْ وَشِفَائُ غُلَّتِ وَبَرْدُلَوْعَتِْ وَکَشْفُ کُرْبَتِْ)(٢)

''تیری ہی رضا میرا آرزو ہے اور تیراہی دیدار میری حا جت ہے اور تیرا ہی ہمسایہ میرا مظلوب ہے تیرے پاس میرے مرض کی دواہے اور میری تشنگی کا علاج ہے غم کی بے قراری کی ٹھنڈک، رنج و غم کی دوری تیرے ہی ذمہ ہے ''یہ وسیلہ ٔ حاجت وفقر ہے ۔

(جوارک طلب وقربک غایة سؤ ل۔۔۔ فکن انیس ف وحشت ومقیل عثرت وغافرزلّت وقابل توبت،ومجیب دعوت ،وول عصمت ومغن فاقت )

'' اور تیرا ہی ہمسایہ میرا مظلوب ہے اور تیرا قرب میرے سوالات کی انتہا ہے ۔۔۔پس تو میری وحشت میں میرا انیس، ہوجا لغزشوںمیں سنبھالنے والا خطائوںکو معاف کرنے والا اور میری  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ فرقان آیت ٧٧۔

(٢)مناجات مریدین

توبہ کوقبول کرنے والا ،میری دعا کاقبول کرنے والا ،میری حفاظت کا ذمہ داراور فاقہ میں غنی بنانے والاہے ''یہ وسیلہ دعا ہے ۔

(فانت لاغیرک مراد،ولک لالسواک سھر وسھاد،ولقاء ک قرّة عین ووصلک منیٰ نفس والیک شوق ،وفی محبّتک ولھ والی ھواک صبابت)

''فقط تو میری مراد ہے اور تیرے ہی لئے میں راتوں کو جاگتاہوں کسی اور کے لئے نہیں ۔ اور تیری ملاقات میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور تیرا وصال میرے نفس کی امید ہے اورتیری جانب میرا شوق ہے اور تیری ہی محبت میں میری بیقراری ہے تیری ہی خواہش کی طرف میری توجہ ہے ''یہ وسیلہ محبت ہے۔

اب ہم امام کے کلام کے اس فقرہ کے بارے میں غوروفکر کرتے ہیں اور یہ دعا کا عمدہ جملہ ہے بیشک فن اور ادب کے مانند دعا کے عمد ہ وبہترین درجہ ہیں امام علیہ السلام فرماتے ہیں:

(فقدانقطعت الیک ھمت وانصرفت نحوک رغبت،فانت لاغیرک مرادی،ولک لاسواک سھری وسھا دی ولقا ء ک قرہ عینی)

''اس لئے کہ میری ہمت تیری ہی طرف ہے اور میری رغبت تیری ہی بارگاہ کی طرف ہے فقط تو میری مراد ہے اور تیرے ہی لئے میں راتوں کو جاگتا ہوںکسی اور کے لئے نہیںتیری ملاقات میری آنکھوں کی ٹنھڈک ہے ''

جو چیز''انقطاع ''میں ہے وہ ''تعلق''میں نہیں ہے امام علیہ السلام نے فرمایا ہے:

(فقدتعلقت بک ھمت)نہیں فرمایا ہے بیشک اﷲ سے لولگانا دوسروں سے لولگانے کو منع نہیں کرتا ہے ۔جب بندہ خدا سے لولگانے میں صادق ہے اور یہ کہتا ہے :

(فقدانقطعت الیک ھمت)بیشک ''انقطاع''ایجابی اور سلبی دونوں معنی کا متضمن ہے ۔ پس انقطاع''من الخلق الی اﷲ''،انقطاع''الی اﷲ''اس جملہ کے ایجابی معنی ہیں جن کاامام نے قصد فرمایا ہے۔

بیشک محبت میں اخلاص فصل اور وصل ہے فصل یعنی اﷲ کے علاوہ دوسروں سے فاصلہ و دوری اختیار کرنا ،اﷲ اورا ﷲ نے جن کی محبت کا حکم دیا ہے ان سے وصل (ملنا)ہے اور یہ دونوں ایک قضیہ کے دو رخ ہیں۔

جب محبت خالص اور پاک وصاف ہوتی ہے تو وہ دو باتوں کی متضمن ہوتی ہے:محبت و برائت ،اور وصل وفصل وانقطاع من الخلق ''الی اﷲ''ہے۔

یہی معنی دوسرے جملے ''وانصرفت الیک رغبتی''کے بھی ہیں۔

انصراف الی اﷲ سے ''اعراض ''اور ''اقبال''دونوں مراد ہیں ۔اعراض یعنی اﷲ کے علاوہ دوسروں سے روگردانی کرنا اور ''اقبال ''سے مراد اﷲ ا ور اﷲ نے جس سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے ان کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ۔

پھراس حقیقت کیلئے تیسری تاکید جو ان سب میں بلیغ ہے ،اس میں محبت اور انصراف الی اﷲ کے معنی کو شامل ہے اور خدا کے علاوہ دوسروں سے منقطع ہونا ہے:

(فانت لاغیرک مراد ولک لالسواک سھو وسھاد)

''سھو''اور'' سھاد ''نیند کے برعکس ہیں سہر یعنی محبت کی وجہ سے رات میں نماز یںپڑھنا ۔ سھاد:بیداری کی ایک قسم ہے اور یہ حالت انسان کو اپنے کسی اہم کام میں مشغول ہونے کے وقت  پیش آتی ہے جس سے اس کی نیند اڑجاتی ہے اور انسان اﷲ سے لولگانے کا مشتاق ہوتا ہے۔

یہ دونوں محبت کی حالتیں ایک دوسرے کے مثل ہیں :انس اور شوق ۔بندہ کا اﷲ کے ذکر سے مانوس ہونا ،اور اﷲ کا بندہ کے پاس اس طرح حاضر ہونا کہ بندہ اپنی دعا،ذکر، مناجات اور نماز میں خدا کے حاضر ہونے کا احساس کرتا ہے اور اﷲ سے ملاقات کا مشتاق ہوتا ہے۔

محب اﷲ کی بارگاہ میںان دونوں باتوں کو سمجھ کر حاضر ہوتا ہے تو یہ دونوں حالتیں اسکی نینداڑادیتی ہیںاس کوبیدار کر دیتی ہیں جب لوگ گہری نیند میں سوجاتے ہیں اور نیند کی وجہ سے اپنے احساس بیداری اور شعور کو کھو بیٹھتے ہیں ۔

بیشک نیند ایک ضرورت ہے تمام لوگ اس سے اپنا حصہ اخذ کرتے ہیں جس طرح وہ کھانے پینے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں چاہے وہ لوگ صالح و نیک ہوں یا برے ہوں ۔یہاں تک کہ انبیاء اور صدیقین بھی سوتے تھے۔

لیکن ایک شخص جوضرورت بھر سوتا ہے جس طرح وہ کھانے پینے سے اپنی ضرورت پوری کرتا ہے اور جو شخص نیند کے سامنے سر تسلیم خم کردیتا ہے اور نیند اس پر غالب آجاتی ہے ان دونوں آدمیوں کے درمیان فرق ہے۔

اولیاء اﷲ نیند کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے ہیںبیشک نیند ان کی ضرورت ہے اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس سے اپنا حصہ اخذ کرتے ہیں ۔رسول اﷲ  ۖبھی خداوند عالم کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے بعد ہی سوتے تھے اور آپ کا فرمان تھا کہ میرے سر کے پاس وضو کاپانی رکھ دیناتاکہ میں خدا کی بارگاہ میں حاضری دے سکوں۔

جب آپ کیلئے نرم اور آرام وہ بستر بچھایا جاتا تھا تو آپ اسکو اٹھانے کا حکم دیدتے تھے اس لئے کہ کہیں ان پر نیندغالب نہ آجائے ۔

آپ سخت چٹائی پر آرام فرماتے تھے یہاں تا کہ چٹائی ان کے پہلوپر اثر انداز ہو اور آپ پر نیند غالب نہ آجائے۔

خداوند عالم نے رات میں مناجات ،ذکر اور اپنے تقرب کے وہ خزانے قرار دئے ہیں جو دن میں نہیں قرار دئے ہیں۔ان کی طرح رات کے لئے بھی افراد ہیں جو رات میں نماز یں پڑھتے ہیں جب لوگ سوجاتے ہیں ،جب لوگ سستی میں پڑے رہتے ہیں تو یہ ہشاش بشاش ہو تے ہیں۔ جب لوگ اپنے بستروں پر گہری نیند میں سوئے رہتے ہیں۔تو یہ اﷲ سے ملاقات کرکے عروج پر پہنچتے ہیں ۔

رات کیلئے بھی دولت ہے جس طرح دن کیلئے دولت ہے ،رات میں بھی دن کی طرح خزانے ہیں۔عوام الناس دن کی دولت ،اسکے خزانے کو پہچانتے ہیں لیکن بہت کم لوگ ہیں جو رات کی دولت اور اسکے خزانے کی قیمت سے واقف ہیںاور جب انسان رات اور دن کی دولت سے ایک ساتھ بہرہ مند ہوتا ہے تو اسے انصاف پسند،متوازن اور راشد کہاجاتا ہے ۔

رسول اﷲ ایک ساتھ دونوں سے بہرہ مندہوتے تھے اور بالکل متوازن طورپر دونوں کو اخذ کئے ہوئے تھے ۔آپ نے رات سے محبت،اخلاص اور ذکر اخذ کیااور دن سے طاقت، حکومت اور مال اخذ کیا تاکہ دین کی دعوت اور اسکے محکم ومضبوط ہونے پر متمکن ہوجائیں اور رات میں آپ معین وقت پر عبادت کیلئے اٹھتے تھے اور رسالت جیسے ثقیل وسنگین عہدے کو اٹھانے پر متمکن تھے:

(یَااَیُّھَاالْمُزِّ مِّلْ قُمِ اللَّیْلَ اِلَّاقَلِیْلاً نِصْفَہُ اَوِنْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً اَوْزِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً  اِنَّاسَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلاًثَقِیْلاً اِنَّ نَاشِئَةَ اللَّیْلِ ھِیَ اَشَدُّوَطْاًوَّاَقْوَمُ قِیْلاً اِنَّ لَکَ فِی النَّھَارِ سَبْحاً طَوِیْلاً)(١)

''اے میرے چادر لپیٹنے والے رات کو اٹھو مگر ذرا کم آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کردو یا کچھ زیادہ کرو اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر با قا عدہ پڑھو ہم عنقریب تمہارے اوپر ایک سنگین حکم نا زل کرنے والے ہیں بیشک رات کا اٹھنا نفس کی پامالی کے لئے بہترین ذریعہ اور ذکر کا بہترین وقت ہے یقیناً آپ کے لئے دن میں بہت سے مشغولیات ہیں ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ مزمل آیت ١۔٧۔

اور ہمارے لئے اس مقام پر رات اور اسکے رجال کے سلسلہ میں حدیث قدسی سے ایک روایت کا نقل کرنا بہتر ہے۔

روایت میں آیا ہے کہ خداوند عالم نے بعض صدیقین پر وحی نازل کی ہے:

(انل عبادمن عباد یحبّونی فاحبّھم ویشتاقون الی واشتاق الیھم و یذکرون واذکرھم وینظرون الَّ وانظرالیھم وان حذوت طریقھم احببتُک وان عدلت منھم مقتّک قال:یاربّ وماعلا متھم ؟قال:یراعون الظلال بالنھارکمایراع الراع الشفیق غنمہ،ویحنّون الیٰ غروب الشمس کمایحنّ الطیرالیٰ  وکرہ عند الغروب،فاذاجنّھم اللیل واختلط الظلام ،وفرشت الفرش،ونصبت الا سرة وخلا کلّ حبیب بحبیبہ نصبواالّ اقدامھم وافترشوالّ وجوھھم،وناجونی بکلام،وعلقواالّ بانغام فمن صارخ وباک ٍ،وَمتأوَّہٍ شاکٍ،ومن قائم وقاعد وراکع وساجد بعین مایتحملون من اجل،وبسمع مایشکون من حبّ اول مااعطیھم ثلاث:

١۔أَقذف من نور ف قلوبھم فیخبرون عنّ کمااخبرعنھم۔                    ٢۔والثانیة:لوکانت السماوات والارض فی موازینھم لاستقللتھالھم۔

٣۔والثالثة:اُقبل بوجھ الیھم،افتریٰ من اقبلت بوجھی علیہ یعلم احد  مااریداعطیہ؟)(١)

''میرے کچھ بندے مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میں ان سے محبت کرتا ہوں ،وہ میرے  مشتاق ہیں اور میں ان کا مشتاق ہوں وہ میرا ذکر کرتے ہیں میں ان ذکر کرتا ہوں وہ مجھے دیکھتے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)لقاء اﷲ ص٠٤ا۔

ہیںاور میں ان کو دیکھتا ہوں اگر تم بھی انھیں کا طریقہ اپنائو گے تو میں تم سے بھی محبت کرونگا اور اگر اس سے رو گردانی کروگے تو تم سے ناراض ہو جائونگا ۔سوال کیا گیا پروردگار عالم ان کی پہچان کیا ہے؟ آواز آئی کہ وہ دن میں اپنے سایہ تک کی اس طرح مراعات کرتے ہیں کہ جیسے کو ئی مہربان چوپان اپنے گلّہ کی ،اور وہ غروب شمس کے اسی طرح مشتاق رہتے ہیں جیسے پرندہ غروب کے وقت اپنے آشیانہ میں پہنچنے کے مشتاق رہتے ہیں پس جب رات ہو تی ہے اور ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے بستر بچھ جاتے ہیں پلنگ بچھادئے جا تے ہیں ہر حبیب اپنے محبوب کے پاس خلوت میں چلا جاتا ہے تو وہ اپنے قدم میری طرف بڑھا دیتے ہیں میری طرف اپنے رخ کر لیتے ہیںمیرے کلام کے ذریعہ مجھ سے مناجات کرتے ہیں نیز منظوم کلام کے ذریعہ میری طرف متوجہ ہو جاتے ہیں تو کتنے ہیں جو چیخ چیخ کر روتے ہیں ،کتنے ہیں جو آہ اور شکوہ کرتے ہیں ،کتنے ہیں جو کھڑے رہتے ہیں ،کتنے ہیں جو بیٹھے  رہتے ہیں ،رکوع کرتے رہتے ہیں سجدہ کرتے رہتے ہیں میں دیکھنا چا ہتا ہوں کہ وہ میری خاطر کیا کیا برداشت کرتے رہتے ہیںمیں سنتا رہتا ہوں جو وہ میری میری محبت کی خاطر پیش آنے والی مشکلات کا شکوہ کرتے ہیں میں سب سے پہلے ان کو تین چیزیں عطا کرونگا :

١۔میں ان کے دلوں میں اپنا نور ڈال دونگا تو وہ میرے بارے میں اسی طرح بتائیں گے جیسے میں ان کے با رے میں بتا ئونگا ۔

٢۔اگر آسمان و زمین ان کی ترازئووں میں ہو تو میں ان کے لئے آسمان و زمین کا وزن بھی کم کر دونگا۔

٣۔میں ان کی طرف توجہ کرونگا اور جس کی طرف میں اپنا رخ کرلوں تو کسی کو کیا معلوم میں اسے کیا دیدونگا ''

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے:

(کان ممااوحیٰ اﷲ تعالی الی موسی بن عمران:کذّب مَن زعم انہ یحبّن فاذاجنّہ اللیل نام عنّ،یابن عمران،لورأیت الذین یقومون ل ف الدجیٰ وقد مثلت نفسبین اعینھم،یخاطبون وقدجللت عن المشاھدة،ویکلمون وقد عززت عن الحضور۔یابن عمران،ھب ل من عینک الدموع،ومن قلبک الخشوع،ثم ادعن ف ظلمة اللَّیال تجدن قریبامجیبا)(١)

''خداوند عالم نے حضرت مو سیٰ بن عمران سے کہا کہ :جو شخص رات میں مجھ سے راز و نیاز نہیں کرتا وہ میرا محب نہیں ،فرزند عمران اگر تم ان افراد کو دیکھوگے کہ جو تاریکی ٔ شب میں میری بارگاہ میں آتے ہیں اور میں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوں تووہ مجھ سے مخاطب ہوتے ہیں جبکہ میں نظر نہیں آتا ہوں تو وہ مجھ سے کلام کرتے ہیں حالانکہ میں ان کے سامنے حاضر نہیں ہوتا ،اے فرزند عمران اپنی آنکھوں سے اشک گریاں اور دل سے خشوع مجھے ہدیہ کرو پھر مجھے تا ریکی ٔ شب میں پکارو تو مجھے اپنے قریب اور اپنی دعا کا قبول کرنے والا پائوگے ''

نہج البلاغہ کے خطبہ متقین میں امیر المومنین علی بن ابی طالب رات کی تاریکی میں مناجات کرنے والے اولیاء اﷲ کی پر وردگار عالم کی بارگاہ میں حاضری کے حالات کی اس طرح عکاسی فرماتے ہیں:

(امااللَّیْلُ فَصَافُّوْنَ اَقْدَامَھُمْ،تَالِیْنَ لاجْزَائِ الْقُرْآنِ یُرَتِّلُونَھَاتَرْتِیْلاً،         یُحَزِّنُوْنُ بِہِ اَنْفُسَھُمْ وَیَسْتَثِیْرُوْنَ بِہِ دَوَائَ دَائِھِمْ فَاِذَامَرُّوْابِآیَةٍ فِیْھَاتَشْوِیْق رَکَنُوْااِلَیْھَا طَمَعاًوَتَظَلَّعَتْ نُفُوْسُھُمْ اِلَیْھَاشَوْقاًوَظَنُّوْااَنَّھَانُصُبُ اَعْیُنِھِمْ وَاِذَامَرُّوابِآیَةٍ فِیْھَا تَخْوِیْف اَصْغَوْااِلَیْھَامَسَامِعَ قُلُوْبِھِمْ وَظَنُّوْااَنَّ زَفِیْرَجَھَنَّمَ وَشَھِیْقَھَافِْ اُصُوْلِ اٰذَانِھِمْ فَھُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)لقاء اﷲ صفحہ٠ا۔

حَانُوْنَ عَلیٰ اَوْسَاطِھِمْ مُفْتَرِشُوْنَ لِجِبَاھِھِمْ وَاَکُفِّھِمْ وَرُکَبِھِمْ وَاَطْرَافِ اَقْدَامِھِمْ یَطَلِّبُوْنَ الیٰ اللّٰہِ تَعَالیٰ فِْ فِکَاکِ رِقَابِھِمْ ۔

وَاَمَّاالنَّھَارُفَحُلَمَائُ عُلَمَائُ  قَد بَرَاھُمُ الْخَوْفُ بَرْیَ الْقِدَاحِ ۔۔۔)(١)

''رات ہو تی ہے تو اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر قرآن کی آیتوں کی ٹھہر ٹھہر کر تلا وت کرتے ہیں جس سے اپنے دلوں میں غم و اندوہ تا زہ کرتے ہیں اور اپنے مر ض کا چارہ ڈھونڈھتے ہیں جب کسی ایسی آیت پر ان کی نگاہ پڑتی ہے جس میں جنت کی تر غیب دلا ئی گئی ہو ،تو اس کی طمع میں ادھر جھک پڑتے ہیں اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل بے تابانہ کھینچتے ہیں اور یہ خیال کر تے ہیں کہ وہ (پر کیف )منظر ان کی نظروں کے سامنے ہے اور جب کسی ایسی آیت پر ان کی نظر پڑتی ہے جس میں (جہنم سے )ڈرایا گیا ہو تو اس کی جا نب دل کے کا نوں کو جھکا دیتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دوزخ کے شعلوں کی آواز اور وہاں کی چیخ پکار اُن کے کانوں کے اندر پہنچ رہی ہے ،وہ (رکوع )اپنی کمریںجھکا ئے اور (سجدہ میں )اپنی پیشانیاں ہتھیلیاں گھٹنے اور پیروں کے کنا رے (انگوٹھے) زمین پر بچھا ئے ہو ئے اللہ سے گلو خلا صی کے لئے التجائیں کرتے ہیں ۔

دن ہوتا ہے تو وہ دانشمند عالم ،نیکوکار اور پرہیز گار نظر آتے ہیں ۔۔۔''

اﷲ سے ملاقات کے شوق کی ایک اور حالت

اﷲ سے ملاقات کرنے کے شوق کی ایک اور صورت کا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی مناجات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جس میں آپ فرماتے ہیں:

(اِلٰھْ فَاجْعَلْنَامِنَ الَّذِیْنَ تَرَسَّخَتْ اَشْجَا رُالشَّوْقِ اِلَیْکَ فِْ حَدَائِقِ صُدُوْرِھِمْ وَاَخَذَتْ لَوْعَتُ مُحَبّّتِکَ بِمَجَامِعِ قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ اِلیٰ اَوْکَارِالْاَفْکَارِیَاوُوْنَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)نہج البلاغہ خطبہ٣٠٣۔

وَفِْ رِیَاضِ الْقُرْبِ وَالْمُکَاشَفَةِ یَرْتَعُوْنَ وَمِنْ حَیَاضِ الْمَحَبَّةِ بِکَاسِ الْمُلَاطَفَةِ یَکْرَعُوْنَ وَشَرَایِعَ الْمُصٰافٰاتِ یَرِدُوْنَ قَدْکُشِفَ الْغِطَائُ عَنْ اَبْصَارِھِمْ وَانْجَلَتْ ُظُلْمَتُ الرَّیْبِ عَنْ عَقَائِدِھِمْ وَضَمَائِرِھِمْ وَانْتَفَجَتْ مُخَالَجَةُ الشَّکِّ عَنْ قُلُوْبِھِمْ وَسَرَائِرِھِمْ وَانْشَرَحَتْ بِتَحْقِیْقِ الْمَعْرِفَةِ صُدُوْرُھُمْ وَعَلَتْ لبِسَبْقِ السَّعَادَةِ فِیْ الزّھادة وَھِمَمُھُمْ وَعَذُبَ فِیْ مَعِیْنِ الْمُعَامَلَةِ شِرْبُھُمْ وَطَابَ فِْ مَجْلِسِ الْاُنْسِ سِرُّھُمْ وَاَمِنَ فِْ  مَوَاطِنِ الْمَخَافَةِ سِرْبُھُمْ وَاطْمَأَنَّتْ بِالرُّجُوْعِ اِلیٰ رَبِّ الْاَرْبَابِ اَنْفُسُھُمْ وَتَیَقَّنَتْ بِالْفَوْزِوَالْفَلَاَحِ اَرْوَاحُھُمْ وَقَرَّتْ بِالنَّظَرِاِلیٰ مَحْبُوْبِھِمْ اَعْیُنُھُمْ وَاسْتَقَرَّبِاِدْرَاکِ السَّؤُلِ وَنَیْلِ الْمَامُوْلِ قَرَارُھُمْ وَرَبِحَتْ فِْ بَیْعِ الدُّنْیَابِالْآخِرَةِ تِجَارَتُھُمْ اِلٰھِْ مَااَلَذَّ خَوَاطِرَالْاِلْھَامِ بِذکْرِکَ عَلیٰ الْقُلُوْبِ وَمَااَحْلیٰ الْمَسِیْرَ اِلَیْکَ بِالْاَوْھَامِ فِْ مَسَالِکِ الْغُیُوْبِ وَمَااَطْیَبَ طَعْمُ حُبِّکَ وَمَااَعْذَبَ شِرْبَ قُرْبِکَ فَاَعِذْنَامِنْ طَرْدِکَ وَاِبْعَادِکَ وَاجْعَلْنَامِنْ اَخَصِّ عَارِفِیْکَ وَاَصْلِحْ عِبَادَکَ وَاَصْدَقِ طَائِعِیْکَ وَاَخْلَصِ عُبَّادِک)(١)

''خدا یا !ہم کو ان لوگوں میں قرار دے جن کے دلوں کے باغات میںتیرے شوق کے درخت راسخ ہو گئے ہیں اور تیری محبت کے سوز و گداز نے جن کے دلوں پر قبضہ کر لیا ہے وہ فی الحال  آشیانہ ٔ افکار میں پناہ لئے ہو ئے ہیں اور ریاض قرب اور مکاشفات میں گردش کر رہے ہیںتیری محبت کے حوض سے سیراب ہو رہے ہیں اور تیرے اخلاص کے گھاٹ پر وارد ہو رہے ہیں ان کی نگاہو ں سے  پردے اٹھادئے گئے ہیں اور ان کے دل و ضمیر سے شکوک کی تاریکیاںزائل ہو گئی ہیںان کے عقائد سے شک و شبہ کی تاریکی محو ہو گئی ہے اورتحقیقی معرفت سے ان کے سینے کشادہ ہو گئے ہیںاور سعادت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)مفاتیح الجنان مناجات عارفین۔

حاصل کرنے کے لئے زہد کی راہ میں ان کی ہمتیں بلند ہو گئی ہیںاورا طاعت کے ذریعہ سے ان کا چشمہ شیریںہو گیاہے مجلس انس میں ان کاباطن پاکیزہ ہو گیا ہے اورمحل خوف میں ان کا راستہ محفوظ ہوگیا ہے وہ مطمئن ہیںکہ ان کے دل رب العالمین کی طرف راجع ہیں اور ان کی روحوںکو کامیابی اور فلاح کایقین ہے اور ان کی آنکھوں کومحبوب کے دیدار سے خنکی حاصل ہو گئی ہے اور ان کے دلوں کو اورمدعاکے حصول سے سکون مل گیا ہے دنیا کو آخرت کے عوض بیچنے میں ان کی تجارت کامیاب ہو گئی  ہے خدایا !دلوں کیلئے تیرے ذکر کا الہام کس قدر لذیذ ہے اور تیری بارگاہ کی طرف آنے میںہر خیال کس قدر حلاوت کا احساس کرتا ہے۔ تیری محبت کا ذائقہ کتنا پاکیزہ ہے اور تیرے قُر ب کاچشمہ کس قدرشیریں ہے ہمیں اپنی دوری سے بچالے اور اپنے مخصوص عارفوں اوراپنے صالح بندوں میں سے  سچے اطاعت گذار اور خالص عبادت گذاروں میں قرار دینا ''

ہم اس مقام پراہل بیت علیہم السلام کی دعا اور مناجات توقف نہیں کرناچاہتے لیکن ہم امام علی بن الحسین علیہ السلام کی مناجات کے اس جملہ کے بارے میں کچھ غوروفکر کرنا چاہتے ہیں جس جملہ سے آپ نے مناجات کا آغاز فرمایا ہے:

(اِلٰھِْ فَاجْعَلْنَامِنَ الَّذِیْنَ تَرَسَّخَتْ اَشْجَارُالشَّوْقِ اِلَیْکَ فِیْ حَدَائِقِ صُدُوْرِھِمْ وَاَخَذَتْ لَوْعَتُ مُحَبّّتِکَ بِمَجَامِعِ قُلُوْبِھِم)

''خدا یا! ہم کو ان لوگوں میں قرار دے جن کے دلوں کے باغات میںتیرے شوق کے درخت راسخ ہو گئے ہیں اور تیری محبت کے سوز و گداز نے جن کے دلوں پر قبضہ کر لیا ہے ''

بیشک اولیاء اﷲ کیلئے جیساکہ امام علیہ السلام کے کلام سے ظاہر ہوتاہے خوبصورت باغ،طیب وطاہر ہیں اور عوام الناس سے مختلف طرح کی چیزیں صادر ہوتی ہیں:

کچھ لوگوںکے دلوں سے مکاتب اور علمی مدرسے وجود میں آتے ہیں اور علم خیر اور نور ہے بشرطیکہ اﷲ سے ملاقات کا شوق باقی رہے بعض لوگوں کے سینہ تجارت گاہ ،بینک اور مال و دولت کے مخزن ہوتے ہیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہو تی ہے اور شمارش کے نقشے ہو تے ہیں اور فائدہ و نقصان کے مقام ہو تے ہیںمال اور تجارت اچھے ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ کام اسکے دل کو مشغول نہ کردے اور ایسا رنج وغم نہ ہو جو اس سے جدا نہ ہوسکتا ہوکچھ لوگوں کے دل ایسی زمین ہوتے ہیںجس میںببول کے درخت،جنگل(اندرائن جوکڑواہونے میںضرب المثل ہے ) زہریلے ، کینہ مال پر لڑائی جھگڑا ، بادشاہت اور دوسروں کیلئے کید ومکر ہوا کرتے ہیں،اور کچھ افراد کے صدور (قلوب)کھیلنے کودنے والے افعال پر ہوتے ہیں دنیا وسیع پیمانہ پر ایک گروہ کیلئے لہو ولعب ہے ۔

لوگوں میں سے کچھ لوگوں کا دل دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا ہے:ایک حصہ زہر،کینہ ،مکروکید سے پر ہے اور دوسرا حصہ لہو ولعب سے لبریز ہے۔جب پہلے حصہ کا راحت وآرام چھن جاتا ہے تو وہ دوسرے حصہ سے پناہ مانگتا ہے اور لہو ولعب سے مدد چاہتا ہے تاکہ وہ نفس کو پہلے حصہ کے عذاب سے نجات دلا سکے۔

لیکن اولیاء اﷲ کے سینے اس شوق کے باغ(جیسا کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا ہے)کے سلسلہ میںبارونق اور طیب وطاہر میوے ہوتے ہیں کبھی ان میں شوق کے درخت جڑ پکڑ جاتے ہیں اور اس میں اپنی شاخیں پھیلادیتے ہیں ۔اﷲ سے ملاقات کا شوق ایسا امر نہیں ہے کہ اگر اس پر خواہشات نفسانی غالب آجائے یا دنیااپنے کو زیب وزینت کے ساتھ اسکے سامنے پیش کردے تو وہ شوق ملاقات ختم ہوجائے ،اور جب صاحب دنیا کیلئے دنیا تنگ ہوجاتی ہے اور وہ مشکلوں میں گھرجاتا ہے نہ تو اس شوق میں کوئی کمی آتی ہے اور نہ ہی اس کے اوراق (پتّے )مرجھاتے ہیں۔

بیشک جب اﷲ سے شوق ملاقات کے اشجار ان دلوں میں اپنی جڑ محکم و مضبوط کر لیتے ہیں تو تمام مشکلوں کے باوجود ہمیشہ ہرے بھرے اور پھل دیتے رہتے ہیں۔

اﷲ سے ملاقات کرنے کے شوق کی حالت روح کے ہلکے ہونے کی حالت ہے اور یہ حالت سنگینی اور دنیا پر اعتما د کرنے کی حالت کے برعکس ہے جس کے سلسلہ میں قرآن کریم میںگفتگو کی گئی ہے:

(مَالَکُمْ اِذَاقِیْلَ لَکُمْ انْفِرُوْافِیْ سَبِیْلِ اﷲِ اَثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیَاةِالدُّنْیَامِنَ الآخِرَةِ) (١)

''جب تم سے کہا گیاکہ راہ خدا میں جہاد کیلئے نکلو تو تم زمین سے چپک کر رہ گئے کیا تم آخرت کے بدلے زندگا نی دنیا سے راضی ہو گئے ہو''

بیشک جب انسان دنیا سے لولگاتا ہے ،اسی سے راضی ہوتاہے اور اس پر اعتماد وبھروسہ کرلیتا

ہے تو اسکا نفس بھاری اور ڈھیلا ہوجاتا ہے اور جب اسکا نفس (٢)دنیا سے آزاد ہوجاتا ہے تو ہلکا ہوجاتا ہے اور اﷲ کی محبت اور اس سے شوق ملاقات کو جذب کرتا ہے۔

ہم اہل بیت سے ماثورہ دعائوں کے بارے میں روایات کی روشنی میں محبت ،شوق اور انس کی بحث کا اختتام کرتے ہیںاور اب ''محبت خدا ''کی بحث کا آغاز کرتے ہیں ۔

اﷲ کیلئے خالص محبت

یہ مقولہ توحید حب کے مقولہ سے بلند ہے بیشک توحید حب اﷲ کی محبت کے علاوہ دوسری محبتوں کی نفی نہیں کرتی ہے لیکن اﷲ کی محبت کو دوسری محبتوں پر غلبہ دیتی ہے پس اﷲ کی محبت حاکم اور غالب ہے :

(وَالَّذِیْنَ آمَنُوْااَشَدُّحُبًّاﷲِ)(٣)

''ایمان والوں کی تمام تر محبت خدا سے ہو تی ہے ''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ توبہ آیت ٣٨۔

(٢)دنیا سے آزاد ہونے کا مطلب اس کو ترک کردینا نہیں ہے رسول خدا   ۖ بھی دنیا سے آزاد تھے لیکن پھر بھی اپنی دعوت کے سلسلہ میں دنیا کا سہارالیتے تھے ''

(٣)سورئہ بقرہ آیت ٦٥ا۔

یہ ایمان کی شرطوں میں سے ایک شرط اور توحید کی شقوں میں سے ایک شق ہے۔

لیکن اﷲ سے خالص محبت،اﷲ کے علاوہ دوسروں سے کی جانے والی محبت کی نفی کرتی ہے لیکن اگر محبت خدا(الحب ﷲ،البغض ﷲ)کے ساتھ باقی رہے ۔یہ ایمان اور توحید کی شان میں سے نہیں ہے ،لیکن صدیقین اور ان کے مقامات کی شان ہے۔

بیشک خداوند عالم اپنے اولیاء اور نیک بندوں کے دلوں کو اپنی محبت کے علاوہ دوسروں کی    محبت سے خالی کرنے پر متمکن کردیتا ہے ۔

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے مروی ہے :

(القلب حرم اللّٰہ فلا تسکن حرم اللّٰہ غیراللّٰہ )(١)

''دل اﷲ کا حرم ہے اور اﷲ کے حرم میں اﷲ کے علاوہ کوئی اور نہیں رہ سکتا ہے''

یہ دل کی مخصوص صفت ہے چونکہ اعضاء وجوارح انسان کی زندگی میں مختلف قسم کے کام انجام دیتے ہیں جن کو خداوند عالم نے اس کیلئے مباح قرار دیا ہے اور ان کو بجالانے کی اجازت دی ہے لیکن دل اﷲ کا حرم ہے اور اس میں اﷲ کے علاوہ دوسرے کی محبت کا حلول کرنا سزاوار نہیں ہے۔

روایت میں دل کی حرم سے تعبیر کرنے کے متعلق نہایت ہی دقیق نکتہ ہے بیشک حرم کا علاقہ امن وامان کاعلاقہ ہے اور اسکا دروازہ ہراجنبی آدمی کیلئے بند رہتا ہے اور اس میں رہنے والوں کو کوئی ڈروخوف نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میںکوئی اجنبی داخل ہوسکتا ہے اسی طرح دل اﷲ کا امن وامان والا علاقہ ہے اس میں اﷲ کی محبت کے علاوہ کسی اورکی محبت داخل نہیں ہوسکتی اور اس میں اﷲ کی محبت کو کوئی برائی یا خوف پیش نہیں آسکتا ہے۔

صدیقین اور اولیاء اﷲ سے خالص محبت کرنے والے بندے ہیں اﷲ کی محبت اور دوسروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١) بحار الانوار جلد ٧٠صفحہ٢٥۔

کی محبت کو ایک ساتھ جمع نہیں کیا جاسکتا ہاںاﷲ کی محبت کے زیر سایہ تو دوسروں کی محبت ہوسکتی ہے ۔

ہم مندرجہ ذیل حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی مناجات میں محبت کی سوزش اور محبت میں صدق اخلاص دیکھتے ہیں :

(سَیَّدِْ اِلَیْکَ رَغْبَتِیْ،وَاِلَیْکَ رَھْبَتِیْ،وَاِلْیَکَ تَأمِیْلِْ وَقَدْ سَاقَنِْ اِلَیْک اَمَلِْ وَعَلَیْکَ یَاوَاحِدِْ عَکَفَتْ ھِمَّتِْ وَفِیْمَاعِنْدَکَ انْبَسَطَتْ رَغْبَتِْ وَلَکَ خَالِص   رَجَائِْ وَخَوْفِْ وَبِکَ اَنِسَتْ مَحَبَّتْ وَاِلَیْکَ اَلْقَیْتُ بِیَدْ وَبِحَبْلِ طَاعَتِکَ مَدَدْتُ رَھْبَتِْ یَامَوْلَاَ بِذِکْرِکَ عَاشَ قَلْبِْ وَبِمُنَاجَاتِکَ بَرَّدْتُ اَمَلَ الْخَوْفِ عَنِّْ۔۔۔)(١)

''میرے مالک میری تیری ہی طرف رغبت ہے اور تجھی سے خوف تجھی سے امید رکھتا ہے،اور تیری ہی طرف امید کھینچ کر لے جاتی ہے ، میری ہمت تیری ہی جناب میںٹھہرگئی ہے اور تیری نعمتوں کی طرف میری رغبت پھیل گئی ہے خالص امیداورخوف تیری ہی ذات سے وابستہ ہے محبت تجھی سے مانوس ہے اور ہاتھ تیری ہی طرف بڑھایا ہے اور اپنے خوف کوتیری ہی ریسمان ہدایت سے ملا دیا ہے خدایامیرادل تیری ذات سے زندہ ہے اور میرادرد خوف تیری مناجات سے ٹھہراہے ''

امام علیہ السلام مناجات کے اس ٹکڑے میں اپنی رغبت ،رھبت ،اور آرزو تمام چیزوں کو اﷲ سے مربوط کرتے ہیں اور خدا کی عطا کردہ ہمت کے ذریعہ ان سب کے پابند تھے آپ خالص طورپر خدا سے امید رکھتے تھے اور اسی سے خوف کھاتے تھے۔

رسول خدا  ۖسے مروی ہے :

(احبّوااﷲ من کلّ قلوبکم)(٢)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١) دعائے ابو حمزہ ثمالی ۔

(٢)کنز العمال جلد٧٤صفحہ٤٤۔

''تم اللہ سے اپنے پورے دلوں کے ساتھ دو ستی کرو ''

اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے مروی دعا میں آیا ہے:

(اللھم انّ أَسأَلک ان تملاقلب حبّالک وخشیة منک،وتصدیقالک وایمانابک وفرقاًمنک وشوقاالیک)(١)

''بار الٰہا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے دل کو اپنی محبت ،خوف ،تصدیق ایمان اور اپنے شوق سے لبریز فر ما دے ''

اگر اﷲ سے محبت اور اس سے شوق ملاقات سے بندہ کا دل لبریز ہوجائے تو پھر اس میں اﷲ سے محبت کے علا وہ کسی دوسرے سے محبت کی کو ئی خالی جگہ ہی باقی نہیں رہ جاتی مگر یہ کہ محبت اس خدا کی محبت کے طول میں اور اسی کی محبت کے نتیجہ پرکہ محبت بھی درحقیقت اﷲ کی محبت ہے اور اسی شوق کا نتیجہ ہے۔

ماہ رمضان کے آجانے پر حضرت امام صادق علیہ السلام کی دعاکا ایک حصہ یہ ہے :

(صلّ علیٰ مُحَمَّدٍوَآل مُحَمَّدٍوَاشْغَلْ قَلْبِیْ بِعَظِیْمِ شَانِکَ،وَاَرْسَلَ مُحَبَّتَکَ اِلَیْہِ حَتّیٰ اَلْقَاکَ وَاَوْدَاجِْ تَشْخَبُ دَماً)(٢)

''خدایا! محمد وآل محمد پر درود بھیج اپنی شان کی عظمت کے صدقہ میں میرے دل کو اپنی یاد میں مصروف رکھ میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے تاکہ میں تجھ سے خون میں غلطاں حالت میں ملاقات کروں ''

اس کا مطلب خداوند عالم کیلئے خالص محبت کرنا ہے چونکہ خدا کی محبت دل کو مصروف کرنے

والا کام ہے اور اس سے جدا نہ ہو نے والا امر ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحارالانوار جلد ٩٨صفحہ٨٩۔

(٢)بحا ر الانوار جلد ٩٧صفحہ ٣٣٤۔

بندہ سے متعلق خداوند عالم کی حمیت

بیشک اﷲ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے اور محبت کی ایک خصوصیت غیرت ہے وہ غیور بندوں کے دلوں میں ہوتی ہے بندے اﷲسے خالص محبت کریں اور اس کے علاوہ کسی دوسرے سے محبت نہ کریں اور بندوں کو اپنے دل میں دوسروں کی محبت داخل کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔                  روایت میں آیا ہے کہ موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے اپنے رب سے وادی مقدس میں مناجات کرتے ہوئے عرض کیا اے پروردگار :

(ان اخلصت لک المحبّة منّ وغسلت قلب ممّن سواک )(ا)

''میں صرف تیرا مخلص ہوں اور تیرے علاوہ کسی اور سے محبت نہیں کرتا''اور مجھے اپنے اہل وعیال سے شدید محبت ہے خداوندعالم نے فرمایا ۔اگر تم مجھ سے خالص محبت کرتے ہوتو اپنے اہل وعیال کی محبت اپنے دل سے الگ کردو ''

اﷲکی اپنے بندے پر یہ مہربانی ہے کہ وہ اپنے بندے کے دل سے غیرکی محبت کو زائل کر دیتا ہے اور جب خداوند عالم اپنے بندے کو اپنے علاوہ کسی اور سے محبت کرتے ہوئے پاتاہے تو اس کی محبت کو بندے سے سلب کردیتا ہے یہاں تک کہ بندہ کا دل اس کی محبت کیلئے خالص ہوجاتاہے اور حضرت امام حسین علیہ السلام سے مروی دعا میں آیاہے :

(انت الذ ازلت الاغیارعن قلوب احبّّائک حتیٰ لم یحبّواسواک ماذا وجد مَن فقدک وماالذی فقد مَن وجدک لقدخاب من رض دونک بدلا''(٢)

''تونے اپنے محبوں کے دلوں سے غیروں کی محبت کو اس حد تک دور کردیا کہ وہ تیرے علاوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحارالانوار جلد ٨٣ صفحہ ٢٣٦ ۔

(٢)بحارا لانوارجلد ٩٨ صفحہ ٢٢٦۔

کسی سے محبت ہی نہیں کرتے ۔جس نے تجھے کھو دیا اس نے کیا پایا ؟اور جس نے تجھے پالیا اس نے کیا کھویا ؟جو شخص تیرے علاوہ کسی اور سے راضی ہوا وہ نا مراد رہا ''

ہمارے لئے اس سلسلہ میں اس تربیت کرنے والی خاتون کا واقعہ نقل کرنابہتر ہے جس کو شیخ حسن البنانے اپنی کتاب ''مذاکرات الدعوة والداعیة ''میں نقل کیا ہے۔ حسن البنّاکہتے ہیں :شیخ سلبی (مصرکے علم عرفان اور اخلاق کی بڑی شخصیت)کو خداوندعالم نے ان کی آخری عمرمیں ایک بیٹی عطاکی شیخ اس سے بہت زیادہ محبت کر تے تھے یہاں تک کہ آپ اس سے جدا نہیں ہوتے تھے وہ جوں جوں جوان اور بڑی ہو رہی تھی شیخ کی اس سے محبت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا شیخ بنّا نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ ایک شب پیغمبر اکرم کی شب ولا دت شیخ شلبی کے گھر کے نزدیک ایک خوشی کی محفل سے لوٹنے کے بعد شیخ شلبی سے ملا قات کی جب وہ چلنے لگے تو شیخ نے مسکرا کر کہا :انشاء اللہ کل تم مجھ سے اس حال میں ملاقات کروگے کہ جب ہم روحیہ کو دفن کرینگے ۔

روحیہ ان کی وہی اکلو تی بیٹی تھی جو شادی کے گیارہ سال بعد خداوند عالم نے ان کو عطا کی تھی اور جس سے آپ کام کرتے وقت بھی جدا نہیں ہوتے تھے اب وہ جوان ہو چکی تھی اس کا نام روحیہ اس لئے رکھا تھا کیونکہ وہ ان کیلئے روح کی طرح تھی ۔

بنّا کہتے ہیں کہ : ہم نے اُن سے رو تے ہوئے سوال کیا کہ اس کا انتقال کب ہوا ؟شیخ نے شلبی نے کہا آج مغرب سے کچھ دیر پہلے ۔ہم نے عرض کیا :تو آپ نے ہم کو کیوں نہیں بتایا تا کہ ہم دو سرے گھر سے تشیع کی جماعت کے ساتھ نکلتے ۔؟شیخ نے کہا : کیا ہوا ؟ہمارا رنج و غم کم ہو گیا غم خو شی میں بدل گیا ۔کیا تم کو اس سے بڑی نعمت چا ہئے تھی ؟

گفتگو شیخ کے صوفیانہ درس میں تبدیل ہو گئی اور وہ اپنی بیٹی کی وفات کی وجہ یہ بیان کرنے لگے کہ خداوند عالم ان کے دل پر غیرت سے کام لینا چاہتا تھا کیونکہ خداوند عالم کو اپنے نیک بندوں کے دلوں کے سلسلہ میں اسی بات سے غیرت آتی ہے کہ وہ کسی دو سرے سے وابستہ ہوں یا کسی دوسرے کی طرف متوجہ ہوں ۔انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال پیش کی جن کا دل اسماعیل علیہ السلام میں لگ گیا تھا تو خداوند عالم نے ان کو اسما عیل کو ذبح کرنے کا حکم دیدیا اور حضرت یعقوب علیہ السلام جن کا دل حضرت یوسف علیہ السلام میں لگ گیا تھا تو خداوند عالم نے حضرت یوسف  کو کئی سال تک دور رکھا اس لئے انسان کے دل کو خداوند عالم کے علاوہ کسی اور سے وابستہ نہیں ہو نا چا ہئے ورنہ وہ محبت کے دعوے میں جھوٹا ہوگا ۔

پھر انھوں نے فضیل بن عیاض کا قصہ چھیڑا جب انھوں نے اپنی بیٹی کے ہاتھ کا بوسہ لیا تو بیٹی نے کہا بابا کیا آپ مجھے بہت زیادہ دوست رکھتے ہیں ؟تو فضیل نے کہا : ہاں ۔بیٹی نے کہا : خدا کی قسم میں آج سے پہلے آپ کو جھوٹا نہیں سمجھتی تھی ۔فضیل نے کہا :کیسے اور میں نے کیوں جھوٹ بولا؟بیٹی نے کہا کہ : میں سوچتی تھی کہ آپ خداوند عالم کے ساتھ اپنی اس حالت کی بنا پر خدا کے ساتھ کسی کو دو ست نہیں رکھتے ہوں گے ۔تو فضیل نے رو کر کہا کہ :اے میرے مو لا اور آقا چھوٹے بچوں نے بھی تیرے بندے کی ریا کاری کوظاہر کردیا ۔ایسی باتوں کے ذریعہ شیخ شلبی ہم سے روحیہ کے غم کو دور کرنا چا ہتے تھے اور اس کی مصیبت کے دردو الم سے ہو نے والے غم کوہم سے برطرف کرنا چا ہتے تھے ہم نے ان کو خدا حافظ کہا اور اگلے دن صبح کے وقت روحیہ کو دفن کردیا گیا ہم نے گریہ و زاری کی کو ئی آواز نہ سنی بلکہ صرف صبر و تسلیم و رضا کے مناظرکا مشا ہدہ کیا ۔

اﷲکیلئے اور اﷲکے بارے میں محبت

اب ہم مندرجہ ذیل سوال کا جواب بیان کریں گے اﷲکیلئے خالص محبت کے یہ معنی فطرت انسان کے خلاف ہیں چونکہ اﷲنے انسان کو متعدد چیزوں سے محبت اور متعدد چیزوں سے کراہت کرنے والی فطرت د ے کرخلق کیا ہے اوراس معنی میں اﷲسے خالص محبت کرنے کا مطلب یہ ہے انسان کی اس فطرت کے خلاف محافظت کرے جس فطرت پر اﷲنے اس کو خلق کیا ہے ؟

جواب :اﷲسے خالص محبت کرنے کا مقصد انسانی فطرت کا انکار کر نا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں سے اﷲمحبت کرتاہے اور جن چیزوں کو ناپسند کرتاہے ان کی محبت اور کراہت کی توجیہ کرنا ہے لہٰذا  پر وردگار عالم اپنے بندے اور کلیم حضرت موسیٰ بن عمران سے ان کے اہل کی محبت ان کے دل سے نکلوانا نہیںچاہتا ہے بلکہ خداوندعالم یہ چاہتاہے کہ ان کے اہل وعیال کی محبت خداوندعالم کی محبت کے زیرسایہ ہو اور ہر محبت کیلئے بندے کے دل میں وہی ایک منبع ومصدر ہونا چاہئے دوسرے لفظو ںمیں :بیشک پر وردگار عالم اپنے بندے اور کلیم موسیٰ بن عمران سے یہ چاہتا ہے کہ ہر محبت کو اﷲکی محبت کے منبع اور مصدرسے مر بوط ہونا چاہئے اس وقت بندے کی اپنے اہل وعیال سے محبت تعظیم کیلئے ہوگی یہی اس کا دقیق مطلب ہے اور تربیت کا بہترین اور عمدہ طریقہ ہے اور اسی طریقہ تک صرف اسی کی رسائی ہو سکتی ہے جس کو اﷲنے اپنی محبت کیلئے مخصوص کرلیا ہے اور اس کو منتخب کرلیا ہے بیشک رسول اﷲ  ۖلوگوں میں سب سے زیادہ پاک وپاکیزہ اور طیب وطاہرتھے آپ کا فرمان ہے میں دنیا کی تین چیزوں سے محبت کرتاہوں :عورت خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈ ک نمازہے ۔ (١)

بیشک یہ وہ محبت ہے جو اﷲکی محبت کے زیرسایہ جاری رہتی ہے اور ان تینوں میں رسولۖ خدا سب سے زیادہ نمازسے محبت کر تے تھے اس لئے کہ نمازان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے بیشک نماز سے رسول اﷲ  ۖکی محبت اﷲ کی محبت کے زیرسایہ جاری تھی ۔

پس اﷲ سے محبت کرنے میں انسان کی فطرت میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا ہے جس فطرت پر اﷲ نے انسان کو خلق کیاہے ۔بلکہ جدید معیار و ملاک کے ذریعہ حیات انسانی میں محبت اور عداوت کے نقشہ کو اسی نظام کے تحت کرنا ہے جس کو اسلام نے بیان کیا ہے ۔

انسان کی فطری محبت خود اسکے مقام پر باقی ہے لیکن جدید طریقہ کی وجہ سے اﷲ کی تعظیم وتکریم کرنا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)الخصال صفحہ ١٦٥۔

اس بنیاد پر اﷲ کیلئے محبت اور اﷲ کے سلسلہ میں محبت کی قیمت کیلئے اسلامی روایات میں بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔

حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام سے مروی ہے :

(المحبّةﷲاقرب نسب)(١)

''خدا سے محبت سب سے نزدیکی رشتہ داری ہے ''

اور حضرت علی علیہ السلام کا ہی فرمان ہے :

(المحبّةف اﷲآکد من وشیج الرحم)(٢)

''خدا سے محبت خو نی رشتہ داری سے بھی زیادہ مضبوط ہے ''

یہ تعبیر بہت دقیق ہے اور ایک اہم فکر کی طلبگار ہے ۔بیشک لوگوں کے اپنی زندگی میں بہت گہری رشتہ داری اور تعلقات ہوتے ہیں ۔ان تمام تعلقات میں رشتہ داری کے تعلقات بہت زیادہ معتبر ہیں ،اور اﷲ تعالی کی محبت کی رشتہ داروں کی محبت سے زیادہ محبت کی تاکید کی گئی ہے جب انسان اپنی محبت اور تعلقات رشتہ داری کے ذریعہ قائم کرلے۔اسی محبت سے اور عداوت کی وجہ سے رشتہ داری کا مل اور ناقص ہوگی۔

رشتہ داروں کی محبت پر اس لئے زیادہ زور دیا گیا ہے کہ جب اﷲ کے علاوہ کسی اور سے محبت ہوگی تو اس محبت میں تغیر وتبدل ہوگا اور خلل واقع ہوگا ۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں کے تاثرات دوسرے بعض لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں لیکن جب انسان اپنے بھائی سے اﷲ کیلئے محبت کرے گا تو وہ بہت زیادہ قوی محبت ہوگی اور یہ محبت مختلف اور ایک دوسرے کیلئے متضاد محبت سے کہیں زیادہ مؤثر ہوگی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)میزان الحکمة جلد ٢ص٢٢٣۔

(٢)میزان الحکمةجلد ٢صفحہ٢٣٣۔

اﷲ کیلئے خالص محبت صرف انسان کے فطری تعلقات کی نفی نہیں کرتی بلکہ انسان پر اس بات پر زور دیتی ہے اور اس کے ذہن میں یہ بات راسخ کرتی ہے کہ اس محبت کو ایک بڑے منبع کے تحت منظم کرے جس کو ہر صدیق اور ولی خدانے منظم و مرتب کیا ہے ۔ پس اﷲ کے نزدیک لوگوں میں  وہ شخص زیادہ افضل ہوگا جو اپنے بھائی سے اﷲ کی محبت کے زیر سایہ محبت کرے ۔حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے مروی ہے :

(ماالتقی مؤمنان قط الاکان افضلھمااشدّھماحبّالاخیہ)(١)

''مو من جب بھی آپس میں ملیں گے تو ان میں وہ افضل ہو گا جو اپنے بھائی سے بہت زیادہ محبت کرتا ہو ''

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ہی فرمان ہے :

(انّ المتحابین فی اللّٰہ یوم القیامة علی منابرمن نور،قد اضاء نوراجسادھم ونورمنابرھم کلّ شیٔ حتی یُعرفوابہ،فیُقال:ھؤلاء المتحابّون  فِْ  اللّٰہ )(٢)

''اﷲ کی محبت میں فنا ہوجانے والے قیامت کے دن نور کے منبروں پر ہو ں گے ان کے اجساد اور ان کے منبروں کے نور کی روشنی سے ہر چیزروشن ہو گی یہاں تک کہ ان کا تعارف بھی اسی نور کے ذریعہ ہوگا ۔پس کہا جائیگا :یہ لوگ اﷲ کی محبت میں فناء فی اﷲ ہوگئے ہیں ''

روایت کی گئی ہے کہ پروردگار عالم نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے کہا :

(ھل عملت ل عملاً ؟قال:صلّیت لک وصمت،وتصدّقت وذکرت لک،فقال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ:امّا الصلاة فلک برھان،والصوم جُنّة،والصدقة قدظلّ،والذکرنور،فأ عمل عملت لی؟قال موسیٰ:دلّنی علی العمل الذ ھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحار الانوار جلد ٧٤ص٣٩٨

(٢)بحار الانوار جلد ٧٤ص٣٩٩۔

لک۔قال:یاموسیٰ،ھل والیت ل ولیّاوھل عادیت ل عدوّاًقطّ؟فعلم موسیٰ انّ افضل الاعمال الحبّ فی اللّٰہ والبغض ف اللّٰہ )(١)

''کیا تم نے میرے لئے کوئی عمل انجام دیا ہے ؟حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا :

میںنے تیرے لئے نماز پڑھی ہے، روزہ رکھاہے ،صدقہ دیاہے اور تجھ کو یاد کیا ہے پروردگار عالم نے فرمایا :نماز تمہارے لئے دلیل ہے ،روزہ سپر ہے صدقہ سایہ اور ذکر نور ہے پس تم نے میرے لئے کونسا عمل انجام دیا ہے ؟حضرت موسیٰ نے عرض کیا :ہر وہ چیز جس پر عمل کا اطلاق ہوتا ہے وہ تیرے لئے ہے خداوندعالم نے فرمایا :کیا تم نے کسی کو میرے لئے ولی بنایااور کیا تم نے کسی کو میرا دشمن بنایا ہرگز؟تو موسیٰ کو یہ معلوم ہوگیا کہ سب سے افضل عمل اﷲ کی محبت اور بغض میں فنا ہوجانا ہے''

حدیث بہت دقیق ہے نماز کیلئے امکان ہے کہ انسان اسکو اﷲ کی محبت کے عنوان سے پیش کرے یا ممکن ہے نماز کو اپنے لئے جنت میں دلیل کے عنوان سے پیش کرے ۔روزہ کو ممکن ہے انسان اﷲ کی محبت کیلئے مقدم کرے اور ممکن ہے اسکو اپنے لئے جہنم کی آگ سے سپر قرار دے لیکن اولیاء اﷲ کی محبت اور اﷲ کے دشمنوں سے برائت اﷲ کی محبت کے بغیر نہیں ہوسکتی ہے ۔

محبت کا پہلا سر چشمہ

ہم اﷲ کی محبت کیلئے کہاں سے سیراب ہوں؟ہماری اس بحث میں یہ سوال بہت اہم ہے ۔ جب ہم اﷲ کی محبت کی قیمت سے متعارف ہوگئے تو ہمارے لئے اس چیز سے متعارف ہونا بھی ضروری ہے کہ ہم اس محبت کو کہاں سے اخذ کریں اور اسکا سرچشمہ و منبع کیا ہے ؟

اس سوال کا مجمل جواب یہ ہے کہ اس محبت کا سرچشمہ ابتدا وانتہاء اﷲ تبارک وتعالیٰ ہے۔       اس مجمل جواب کی تفصیل بیان کرنا ضروری ہے اور تفصیل یہ ہے :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١) بحارالانوار جلد ٦٩ص٢٥٣۔

ا۔اﷲ اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہے

بیشک اﷲ اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہے ،ان کو رزق دیتا ہے ،ان کو کپڑا پہناتا ہے ، ان کو بے انتہا مال ودولت عطا کرتا ہے ،ان کو معاف کرتا ہے ،ان کی توبہ قبول کرتا ہے ،ان کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے ،ان کو توفیق عطا کرتا ہے ،ان کو اپنے صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے ،ان کو اپنی رعایاکا ولی بنا تا ہے اور ان پر فضیلت دیتا ہے ،ان سے برائی اور شر کو دور کرتا ہے یہ سب محبت کی نشانیاں ہیں۔

٢۔ان کو اپنی محبت والفت عطا کرتا ہے

اﷲ کی بندوں کیلئے یہ محبت ہے کہ وہ ان (بندوں)سے محبت کرتا ہے اور ان کو اپنی محبت کا رزق عطا کرتا ہے ۔محبت کا یہ حکم بڑا عجیب و غریب ہے بیشک محبت کا دینے والا وہ خداہے جو اپنے بندوں سے محبت سے ملاقات کرتا ہے ان کو جذبہ عطا کرتا ہے پھر اس جذبہ کے ذریعہ ان کو مجذوب کرتا ہے ۔

ہم یہ مشاہدہ کرچکے ہیں کہ ماثورہ روایات اور دعائوں میں اس مطلب کی طرف متعدد مرتبہ ارشارہ کیاگیاہے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بارہویں مناجات میں فرماتے ہیں :

(اِلٰھِ فَاجْعَلْنَامِنَ الَّذِیْنَ تَرَسَّخَتْ اَشْجَا رُالشَّوْقِ اِلَیْکَ فِْ حَدَائِقِ صُدُوْرِھِمْ وَاَخَذَتْ لَوْعَتُ مُحَبّّتِکَ بِمَجَامِعِ قُلُوْبِھِم)

''خدا یا !ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جن کے دلوں کے باغات میںتیرے شوق کے درخت راسخ ہو گئے ہیں اور تیری محبت کے سوز وگدازنے جن کے دلوں پرقبضہ کر لیا ہے ''

ہم اس دعا کی پہلے شرح بیان کرچکے ہیں ۔

چودھویں مناجات میں آیا ہے :(اَسْأَلُکَ اَنْ تَجْعَلَ عَلَیْنَاوَاقِیَةًتُنْجِیْنَا مِنَ الْھَلَکٰاتِ،وَتُجَنِّبُنَامِنَ الْآفٰاتِ،وَ تُکِنُّنَامِنْ دَواھِ الْمُصیبٰاتِ،وَاَنْ تُنْزِلَ عَلَیْنٰامِنْ سَکینَتِکَ،وَاَنْ تُغَشَِّ وُجُوھَنٰابِاَنْوٰارِمَحَبَّتِکَ،وَاَنْ تُؤوِیَنٰااِلٰی شَدیدِرُکْنِکَ،وَاَنْ تَحْوِیَنٰافَ اَکْنٰافِ ِعصْمَتِکَ،بِرَأفَتِکَ وَرَحْمَتِکَ یٰااَرْحَمَ الرّٰاحِمیْنَ)

'' ہمارے لئے وہ تحفظ قراردیدے جو ہمیں ہلاکتوں سے بچا لے اور آفتوں سے محفوظ کرکے مصیبتوں سے اپنی پناہ میںرکھے ۔ ہم پر اپنا سکون نازل کردے اور ہمارے چہر وںپر اپنی محبت کی تابانیوں کا غلبہ کردے۔ ہم کو اپنے مستحکم رکن کی پناہ میں لے لے اور ہم کو اپنی مہربانیوںکی عصمت  کے زیرسایہ محفوظ بنادے''

پندرھویں مناجات (زاہدین )میں آیا ہے :

(اِلٰھِ فَزَھِّد ْنٰافیھٰاوَسَلِّمْنٰافیھٰا،وَ سَلِّمْنٰامِنْھٰابِتَوْفیقِکَ وَ عِصْمَتِکَ،وَاْنزَعْ عَنّٰاجَلاٰبیبَ مُخٰالَفَتِکَ،وَتَولَّ اُمُورَنٰا بِحُسْنِ کِفٰایَتِکَ،وَاَجْمِلْ صِلٰاتِنٰامِنْ فَیْضِ مَوٰاھِبِکَ،وَاَغْرِسْفِْ اَفْئِدَتِنٰااَشْجٰارَمَحَبَّتِکَ وَاَتْمِمْ لَنٰااَنْوٰارَمَعْرِفَتِکَ،وَاَذِقْنٰاحَلٰاوَةَعَفْوِکَ وَلَذَّةَمَغْفِرَتِکَ،وَاَقْرِرْاَعْیُنَنٰایَوْمَ لِقٰائِکَ بِرُؤْیَتِکَ،وَاَخْرِجْ  حُبَّ الدُّنْیٰامِنْ قُلوُبِنٰاکَمٰافَعَلْتَ بِالصّٰالِحینَ مِنْ صَفْوَتِکَ،وَالْاَبْرٰارِمِنْ خٰاصَّتِکَ بِرَحْمَتِکَ یٰااَرْحَمَ الرّٰاحِمینَ)

''خدا یا ہم کو اس دنیامیں زہد عطا فرما اور اس کے شرسے محفوظ فرما اپنی توفیق اور عصمت کے ذریعہ ہم سے اپنی مخالفت کے لباس اتر وادے اور ہمارے امور کا تو ہی ذمہ دار بن کر ان کی بہترین کفایت فرمااپنی وسیع رحمت سے مزید عطافرمااور اپنے بہترین عطایا سے ہمارے ساتھ اچھے اچھے برتأو کرنا اور ہمارے دلوں میں اشجار محبت بٹھا دے اور ہمارے لئے انوار معرفت کو مکمل کردے اور ہمیں اپنی معافی کی حلاوت عطا فرمااور ہمیں مغفرت کی لذت سے آشنابنا دے ہماری آنکھوں کوروز قیامت اپنے دیدار سے ٹھنڈاکر دینا اور ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال دینا جیسے تونے اپنے نیک اور منتخب اورتمام مخلوقات میں نیک کردار لوگوں کے ساتھ سلوک کیا ہے اور اپنی رحمت کے سہارے اے ارحم الراحمین ''

آخر میں ہم اس مطلب کی تکمیل کیلئے سید ابن طاوئوس کی نقل کی ہوئی روز عرفہ پڑھی جانے والی امام حسین علیہ السلام کی دعا نقل کررہے ہیں :

(کیف یستدل علیک بماھو فی وجودہ مفتقر الیک اَیَکُوْنُ لِغَیْرِکَ مِنَ الظُّہُوْرِمَالَیْسَ لَکَ حَتیّٰ یَکُوْنَ ھُوَالْمُظْھِرَلَکَ مَتیٰ غِبْتَ حَتّیٰ تَحْتَاجَ اِلیٰ دَلِیْلٍ یَدُلُّ عَلَیْکَ وَمَتیٰ بَعُدَتْ حَتیّٰ تَکُوْنَ الآثَارُھِیٍ الَّتِیْ تُوْصِلُ اِلَیْکَ عَمِیَتْ عَیْن لَاتَرَاکَ عَلَیْھَارَقِیْباًوَخَسِرَتْ صَفْقَتُہُ عَبْدٍ لَمْ تَجْعَلْ لَّہُ مِنْ حُبِّکَ نَصِیْبا۔۔۔فَاھْدِنِیْ بِنُوْرِکَ اِلَیْکَ،وَاَقِمْنِیْ بِصِدْقِ الْعُبُوْدِیَّةِ بَیْنَ یَدَیْکَ ۔۔۔وَصُنَّیْ بِسِتْرِکَ الْمَصُوْنِ ۔۔۔وَاسْلُکْ بِیْ مَسْلَکَ اَھْلَ الْجَذْبِ،اِلٰھِیْ اَغْنِنِیْ بِتَدْبِیْرِکَ لِیْ عَنْ تَدْبِیْرِیْ،وَبِاِخْتِیَارِکَ عَنْ اِخْتِیَارِیْ وَاَوْقِفْنِیْ عَنْ مَرَاکِزِ اِضْطِرَارِیْ ۔۔۔أَنْتَ الَّذِیْ اَشْرَقَتَ الْاَنْوَارَ فِیْ قُلُوْبِ أَوْلِیَائِکَ حَتّٰی عَرَفُوْکَ وَوَحَّدُوْکَ ۔وَاَنْتَ الَّذِیْ أَزَلْتَ الْاَغْیَارَعَنْ قُلُوْبِ اَحِبَّائِکَ حَتّیٰ لَمْ یُحِبُّواسِوَاکَ وَلَمْ یَلْجَؤُااِلیٰ غَیْرِکَ اَنْتَ الْمُوْنِسُ لَھُمْ حَیْثُ اَوْحَشْتَھُمُ الْعَوَالِمُ وَاَنْتَ الَّذِیْ  ھَدَیْتَھُمْ حَیْثُ اِسْتِبَانَتْ لَھُمُ الْمَعَالِمُ ۔مَاذَاوَجَدَمَنْ فَقَدَکَ ؟وَمَاالَّذِیْ فَقَدَ مَنْ وَجَدَکْ ؟لَقَدْ خَابَ مَنْ رَضِیَ دُوْنَکَ بَدَلاً،وَلَقَدْخَسِرَمَنْ بَغیٰ عَنْکَ مُتَحَوِّلاً کَیْفَ یُرْجیٰ سِوَاکَ وَاَنْتَ مَاقَطَعْتَ الْاِحْسَانَ؟وَکَیْفَ یُطْلَبُ مِنْ غَیْرِکَ وَاَنْتَ مَابَدَّلْتَ عَادَةَ الْاِمْتِنَانِ ؟یَامَنْ اَذَاقَ اَحِبَّائَہُ حَلَاوَةَ الْمُوَانَسَةَ فَقَامُوْابَیْنَ یَدَیْہِ مُتَمَلِّقِیْنَ وَیَامَنْ اَلْبَسَ اَوْلِیَائَہُ مَلَبَسَ ھَیْبَتِہِ فَقَامُوْابَیْنَ یَدَیْہِ مُسْتَغْفِرِیْنَ ۔۔۔اِلٰھِیْ اَطْلُبْنِیْ بِرَحْمَتِکَ حَتّیٰ اَصِلَ اِلَیْکَ،وَاجْذُبْنِیْ بِمَنِّکَ حَتّیٰ اَقْبَلَ عَلَیْکَ )(١)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحارالانوار ج٩٨ص٢٢٦۔

''میںان چیز وںکو کس طرح راہنمابناؤںجو خود ہی اپنے جود میںتیری محتاج ہیں کیا تیرے کسی شی ٔ کوتجھ سے بھی زیادہ ظہورحاصل ہے کہ وہ دلیل بن کر تجھ کو ظاہر کرسکے تو کب ہم سے غائب رہا ہے کہ تیرے لٔے کسی دلیل اور راہنمائی کی ضرورت ہو ،اور کب ہم سے دور رہا ہے کہ آثار تیری بارگاہ تک پہنچا نے کا ذریعہ بنیں وہ آنکھیں اندھی ہیں جو تجھے اپنا نگراں نہیںسمجھ رہی ہیں اور وہ بندہ اپنے معاملات ِحیات میں سخت خسارہ میں ہے جسے تیری محبت کاکوئی حصہ نہیں ملا ۔۔۔تو اپنی طرف اپنے نور سے میری ہدایت فرما، اور مجھ کو اپنی سچی بندگی کے ساتھ اپنی بارگاہ میںحاضری کی سعادت کرامت فرما ۔۔۔اور اپنے محفوظ پردوں سے میری حفاظت فرما ۔۔۔اور جذب و کشش رکھنے والوں کے  مسلک پر چلنے کی توفیق عطا فرما اپنی تدبیر کے ذریعہ مجھے میری تدبیر سے بے نیاز کردے اوراپنے اختیار کے ذریعہ میرے اختیار اورانتخاب سے مستغنی بنا دے اوراضطرارواضطراب کے مواقع کی اطلاع اورآگاہی عطافرما۔۔۔تو ہی وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں میں انوارالوہیت کی روشنی پیدا کر دی تووہ تجھے پہچان گئے اور تیری وحدانیت کا اقرار کرنے لگے اور توہی وہ ہے جس نے اپنے محبوں کے دلوں سے اغیار کو نکال کرباہرکردیا تواب تیرے علا وہ کسی کے چاہنے والے نہیں ہیں، اور کسی کی پناہ نہیںمانگتے  تو نے اس وقت ان کا سمان فراہم کیاجب سارے عالم سبب وحشت بنے  ہو ئے تھے اور تو نے ان کی اس طرح ہدایت کی کہ سارے راستے روشن ہو گئے پروردگارجس نے تجھ کو کھو دیا اس نے کیاپایا؟اور جس نے تجھ کو پالیا اس نے کیا کھویا؟جو تیرے بدل پر راضی ہوگیاوہ نا مراد  ہوگیا،اور جس نے تجھ سے رو گردانی کی وہ گھاٹے میں رہا ،تیرے علاوہ غیرسے امید کیوں کی جائے جبکہ تونے احسان کاسلسلہ روکانہیں اور تیرے علاوہ دوسرے سے مانگا ہی کیوں جا ئے جبکہ تیرے فضل و کرم کی عادت میں فرق نہیںآیا ہے وہ پرور دگارجس نے اپنے دو ستوں کو انس و محبت کی حلاوت کا مزہ چکھا دیاہے تو اس کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوئے ہیںاور اپنے اولیاء کو ہیبت کا لباس پہنا دیاہے تو اس کے سامنے استغفار کرنے کے لئے استادہ ہیں۔۔۔میرے معبود مجھ کو اپنی رحمت سے طلب کر لے تا کہ میں تیری بارگاہ تک پہونچ جا ئوں اور مجھے اپنے احسان کے سہارے اپنی طرف کھینچ لے تا کہ میں تیری طرف متوجہ ہوجائوں ''

٣۔بندوں سے خداوندعالم کا اظہاردوستی

خداوندعالم اپنے بندوں سے دوستی کا اظہار کرتا ہے اور بندوں کو اپنی ذات سے محبت کرانے کیلئے نعمتوں سے مالامال کردیتا ہے بیشک پروردگار عالم دلوں پر نعمت اس لئے نازل کرتاہے کہ خداوندعالم نے جن پر نعمت نازل کی ہے وہ اﷲکو دوست رکھیں ۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے دعائے سحر میں آیا ہے :

(تَتَحَبَّبُ اِلَیْنَابِالنِّعَمِ وَنُعَارِضُکَ بِالذُّنُوْبِ خَیْرُکَ اِلَیْنَانَازِل وَشَرُنَا اِلَیْکَ صَاعِد وَلَمْ یَزَلْ وَلَایَزَالُ مَلَک کَرِیْم یَاْتِیْکَ عَنَّابِعَمَلٍ قَبِیْحٍ فَلَا یَمْنَعُکَ ذٰلِکَ مِنْ اَنْ تَحُوْطَنَابِرَحْمَتِکَ وَتَتَفَضَّلْ عَلَیْنَابِآلَائِکَ فَسُبْحَانَکَ مَااَحْلَمَکَ وَاَعْظَمَکَ وَاَکْرَمَکَ مُبْدِئاًوَمُعِیْد اً)(١)

''تو نعمتیں دے کرہم سے محبت کرتا ہے اور ہم گناہ کر کے اس کا مقابلہ کرتے ہیں تیراخیربرابر ہما ری طرف آرہا ہے اور ہما راشر برابر تیری طرف جارہا ہے فرشتہ برابر تیری بارگاہ میںہماری بد اعمالیوں کادفتر لے کر حاضر ہوتاہے لیکن اس کے باوجود تیری نعمتوں میںکمی نہیںآتی  اورتو برابر فضل و کرم کر رہاہے تو پاک پاکیزہ ہے تو تجھ جیسا حلیم عظیم اور کریم کون ہے ابتدا اور انتہا میں تیرے نام پاکیزہ ہیں ''

اﷲکا اپنے بندے پر نعمت فضل ،بھلائی عفواور ستر (عیب پوشی)نازل کرنے اور بندہ کی طرف سے اﷲ کی طرف سے جوبرائی اور شر صعود کرتا ہے ان دونوںکے درمیان مقائسہ سے اس بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)بحارالانوار جلد ٩٨ صفحہ ٨٥ ۔

کا پتہ چلتا ہے کہ بندہ اپنے مولا سے شرمندہ ہے ،وہ اﷲ کی طرف سے اس محبت اور دوستی کا روگردانی اور دشمنی کے ذریعہ جواب دیتا ہے ۔

انسان کتنا شقی اور بدبخت ہے کہ اﷲ کی محبت اوردوستی کا جواب ردگردانی اور دشمنی سے دیتا ہے ۔

امام زمانہ حضرت حجة علیہ السلام کے دعاء افتتاح میں ان کلمات کے سلسلہ میں غوروفکر کریں

(اِنَّکَ تَدْعُوْنِیْ فَأُوَلِّْ عَنْکَ وَتَتَحَبَّبُ اِلََّ فَاَتَبَغَّضُ اِلَیْکَ،وَتَتَوَدَّدُاِلََّ فَلاَاَقْبَلُ مِنْکَ،کَانَّ لِیَ التَّطَوُّلَ عَلَیْکَ،فَلَمْ یَمْنَعُکَ ذٰلِکَ مِنَ الرَّحْمَةِلِ وَ الاِحْسَانِ اِلََّ وَالتُّفَضُّلِ عَلَّ )(١)

''اے پروردگار بیشک تو نے مجھ کو دعوت دی اور میں نے تجھ سے رو گر دانی کی اور تونے محبت کی اور میں نے تجھ سے بغض و عناد رکھا اور تومیرے ساتھ دو ستی کرتا ہے تو میں اس کو قبول نہیں کرتا ہوں گویا کہ میرا تیرے اوپر حق ہے اور اس کے باوجود اس نے تجھ کو میرے اوپر احسا ن کر نے اور فضل  کر نے سے نہیں رو کا ''

(خیرک الینانازل وشَرُّنَااِلَیْکَ صَاعِد)(٢)

''تیراخیربرابر ہما ری طرف آرہا ہے اور ہما راشر برابر تیری طرف جارہا ہے''

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)مفاتیح الجنان دعائے افتتاح ۔

(٢)بحارالانوار جلد ٨ا صفحہ ٨٥ ۔

 


source : http://www.shianet.in
331
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

امام صادق علیہ السلام کے صفات و خصوصیات
معصوم چھاردھم
نگاہ دہر ہے پھر ابن بوتراب (عج) کی سمت
(خزانہ معرفت کے در بے بہا)امام حسن عسکری علیہ السلام کے ...
حضرت علی (ع) کی وصیت دوست کے انتخاب کے بارے میں
امیرالمومنین (ع) کی وصیتیں اور ہدایات
وصایای اہلبیت (ع)
اہل بیت علیہم السلام کی دعائوں میں حبّ خدا
مهدی(عج) ايک انقلاب ميں دس انقلاب
پیغمبر اسلام کے کلام میں مومن اور منافق کی پہچان کا ...

 
user comment