اردو
Saturday 15th of May 2021
273
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

فدک ، ذوالفقار فاطمہ (سلام اللہ علیہا)

''وما اَفائَ اللّٰہُ علیٰ رسولہ منھم فما اَوجَفتم علیہ من خَیلٍ ولا رکابٍ و لکنّ اللّٰہ یُسلّطُ رُسُلَہ علیٰ من یشائُ و اللّٰہ علیٰ کلّ شیئٍ قدیر ''  ١

''خداوند عالم نے جو مال ان (یہودیوں)کی طرف سے اپنے رسول کو دلوایا ہے وہ چیز ہے کہ جس کو حاصل کرنے کے لئے تم نے نہ کوئی زحمت کی، نہ کوئی گھوڑے دوڑائے اور نہ کوئی اونٹ ،لیکن خداوند عالم جس پر چاہتا ہے اپنے رسولوں کو غلبہ عنایت کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے ۔''

علمائے جغرافیہ ،محدثین اور اخبار آل محمد کے راویوں کی تحقیق کی بناء پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ فدک خیبر کی سرزمین پر ایک قریہ ہے اور بہت زر خیز سرزمین ہے اور فدک کو فدک اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کی سب سے زیادہ پیداوارروئی تھی اور لغت میںفدک کے معنی روئی کا پراکندہ ہونا ہے ۔

تحقیق کے مطابق اس سرزمین پر کھجور کے درخت بہت زیادہ تھے اورعباسی خلفاء کے دور تک یہ سرزمین آباد تھی اور بعد میں کسی علت کی بناء پر ویران ہوگئی۔  ٢

یہ سرزمین   ٧   ھ میں رسول خدا  ۖکے تصرف میں آئی اور اس زرخیز زمین کی دوری مدینہ تک ١٦٠کیلو میٹر ہے چنانچہ اسلامی تاریخ اور روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جب باغ فدک اور اس کی سرزمین رسول خد ا  ۖکے اختیار میں آئی تو درخت سرسبز و شاداب اور پھلوں سے بھرے ہوئے تھے اور ان درختوں کی تعداد شہر کوفہ کے تمام درختوں کے برابر تھی۔ ٣

جنگ خیبر مولائے کائنات علی ابن ابی طالب ـکے ہاتھوں فتح ہوئی جس کے نتیجہ میں دشمنوں کے دل میں ایک عجیب و غریب خوف و ہراس طاری ہوا،فدک کے لوگ جو خیبر والوں سے بہت قریب تھے انھیں بہت زیادہ وحشت تھی اوروہ بہت ڈرے ہوئے تھے اسی وجہ سے ایک شخص کو پیغمبر اسلام  ۖکی خدمت میں روانہ کیا اور یہ پیشکش کی کہ ہم سالانہ پیداوار کا آدھا حصہ آپ کو دینے کے لئے تیار ہیں اور اس کے مقابلہ میں لشکر اسلام سے ہماری جان ،مال اور ناموس کی حفاظت ہو ،پیغمبر اسلام  ۖجو ہمیشہ صلح و آشتی کے قائل تھے اس پیشکش کو قبول کیا اور صلح نامہ لکھا گیا ،اس تاریخ سے پیداوارکا آدھا حصہ پیغمبر  ۖسے مخصوص ہوگیا اور ان کی ملکیت میں آگیا۔

سورۂ حشر آیت نمبر ٦ کے مطابق وہ سرزمین جو بغیر جنگ کے سپاہ اسلام کے تصرف میں آئی ہے اسے فَے کہا جاتا ہے اور اس طرح کے اموال پیغمبر  ۖسے مخصوص ہیںاور انھیں پورا اختیار ہے وہ جیسے چاہیںاور جہاں چاہیں تصرف کرسکتے ہیں ،رسول خدا  ۖفدک کی درآمد کو سورۂ روم آیت نمبر ٧کے مطابق فقراء ،مساکین اور تمام ضرورت مند افراد منجملہ اپنے قرابتداروں پر خر چ کرتے تھے ،لیکن ابن عباس اور تمام مفسرین کی نقل کے مطابق جب سورۂ روم کی ٣٨ویں آیت نازل ہوئی ٤  تو پروردگار عالم نے پیغمبر  ۖکو حکم دیا کہ فدک حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)کو عطا کردیں ،پیغمبرۖ نے اس حکم کی تعمیل کی اور فدک حضرت فاطمہ(سلام اللہ علیہا) کوعطا کر دیا٥،اس تاریخ سے حضرت فاطمۂ زہرا(سلام اللہ علیہا)نے فدک کے امور خود اپنے ہاتھ میں لے لئے اور ان کی ملکیت میں آگئی۔  ٦

 

ہارون رشید نے ساتویں امام سے کہا:'' حُدَّ (خُذ) فدکاًاَرُدُّھاالیک '' یعنی فدک کی حد معین کیجئے میں فدک آپ کو واپس کردوں گا امام نے منفی جواب دیا اور لینے سے نکار کردیا ،ہارون نے بہت اصرار کیا تو امام نے فرمایا :اگر تم دینے پر تیار ہو تو سنو باغ فدک کو اس کے تمام حدود کے ساتھ واپس کرنا ہوگاجو اس کے واقعی اور حقیقی حدود ہیں ہارون نے کہا: واقعی اور حقیقی حدود کیا ہیں ؟امام نے فرمایا:اگر میں اس کے واقعی حدود بیان کردوں تو تم موافقت نہیں کرو گے اور واپس کرنے سے انکار کردوگے ہارون نے کہا:آپ کے جد کے حق کی قسم اس کے حدود بیان کیجئے:

امام نے فرمایا:اس کی پہلی حد سرزمین عدن ہے ،جب ہارون نے یہ سنا تو اس کا چہرہ دگرگوں ہوگیا اور کہا عجب !عجب!

اس کے بعدامام نے فرمایا:اس کی دوسری حد سمرقند ہے یہ سن کر اس کے چہرے پر ناراضگی کے آثار نمایاں ہوگئے  اوراس کا چہرہ لال پیلا ہونے لگا۔

پھر امام نے فرمایا:اس کی تیسری حد افریقہ ہے ،غصہ سے ہارون کا چہرہ سیاہ ہوگیا اور کہا :عجب!!!

پھر امام نے فرمایا:اس کی چوتھی حد دریائے خزر اور ارمنستان کے سواحل ہیں،غصہ میں آکرہارون نے کہا: پس میرے پاس تو کچھ نہیں بچے گا اب آپ یہاںسے اٹھیئے اور میری جگہ بیٹھ کر لوگوں پر حکومت کیجئے ۔

امام نے فرمایا:میں نے پہلے ہی تم سے کہا تھا کہ اگر میں اس کے حدود بیان کردوں گا تو تم ہرگز مجھے واپس نہیں کرو گے ٧  ۔ یہی وہ باتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے ہارون ،امام کو شہید کرنے کے درپے ہوگیا۔  

فدک حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا)کا ہدیہ

کئی روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر  ۖ نے فدک حضرت فاطمۂ زہراسلام اللہ علیہاکو ہدیہ کردیا ہے ،اہلسنت کی تفسیر اور حدیث کی کتابوں میں اس کے بارے میں مختلف روایتیں نقل ہوئی ہیں ،وہ بیان کرتے ہیں کہ پیغمبرۖ نے فدک حضرت فاطمۂ زہراسلام اللہ علیہاکو عطا کردیا۔

اہلسنت کی کتابوں میںسے ایک کتاب شواہد التنزیل ہے کہ جس میں اہلبیت علیہم السلام کی شان میں نازل شدہ آیتوں کی تحقیق کی گئی ہے کہ آیۂ ''وأتِ ذاالقربیٰ حقّہ''کے ذیل میں سات واسطوں سے ثابت کیا ہے کہ رسول خداۖنے فدک حضرت فاطمۂ زہراسلام اللہ علیہاکو عطا کیا ہے۔

اس روایت کی سند کو ابی سعید خدری پر ختم کرتے ہیں،سوائے ایک مورد کے کہ حضرت امیرالمومنین  ـسے نقل کیا ہے ، ٨ لیکن وہ روایات کہ جس کو سات طریقوں سے نقل کیا ہے وہ یہ ہے 

لمّا نزلت''وأت ذاالقربیٰ حقّہ٩ ''دعا رسول اللّٰہۖ فاطمة فاعطاھافدکاً۔١٠

جب آیۂ''وأت ذاالقربیٰ حقّہ''نازل ہوئی تو رسول خداۖنے فاطمہ سلام اللہ علیہاکو بلایا اور انھیں فدک عطاکردیا۔

حافظ ہیثمی اسی آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں :

''دعا رسول اللّٰہۖ فاطمة فاعطاھافدکاً''١١

درمنثور میں سیوطی نے اس روایت کی سند کو دو افراد پر ختم کیا ہے ،ایک ابی سعید پر اور دوسرے ابن عباس پر۔١٢ 

ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر  ۖنے حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا)کو بلایا اور فدک الگ کرکے انھیں عطا کردیا۔

ٰلیکن علمائے شیعہ کے نزدیک واضح ہے کہ رسول خدا  ۖنے حکم الٰہی سے حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)کو فدک عطافرمایا،مگر ہم ایک روایت پر اکتفاء کرتے ہیں جو مختلف کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

جب آیۂ ''وأت ذاالقربیٰ حقّہ'' ١٣  نازل ہوئی تو پیغمبرۖ نے جبرئیل سے پوچھا کہ یہ ذاالقربی کون ہیں؟ پروردگار عالم کی طرف سے جبرئیل نے وحی نازل کی کہ فدک حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)کو ہدیہ کردو ،رسول خداۖ نے حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)کو بلایا اور فرمایاخدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو فدک عطا کردوں ،حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)نے اس ہدیہ کو قبول کیا اور جب تک پیغمبرۖ باحیات تھے حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)کے نمائندے کام کرتے رہے۔

بعض مورخین نے لکھا ہے  ١٤  کہ حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)نے ابتداء میں عرض کیا کہ آپ مجھ سے بہتر ہیں جب تک آپ موجود ہیں میں اس میں تصرف نہیں کروں گی ،پیغمبر  ۖنے فرمایا مجھے گوارہ نہیں ہے کہ لوگ میرے بعد تمھارے لئے مشکل ایجاد کریں اور فدک تم سے چھین لیں ،حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)نے عرض کیا :آپ جو حکم فرمائیں ۔

رسول خدا  ۖنے اپنی بیٹی کے گھر لوگوں کو جمع کیا اور ان کے درمیان اعلان فرمایا:فدک فاطمہ کی ملکیت ہے اور پیغمبرۖ یہ اعلان ہر سال لوگوں کے سامنے فرماتے تھے ۔

جب رسول خداۖ رحلت فرماگئے تو سقیفہ ٔ بنی ساعدہ میں ایک گروہ نے اجتماع کیا اور سابقہ نقشہ کے مطابق ابو بکر کو تخت خلافت پر بٹھادیا ،تخت خلافت پر بیٹھنے کے بعد اس نے فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)کے نمائندوں کو فدک سے باہر نکال دیا اور اسے غصب کرلیااور ابن ابی الحدید کی نقل کے مطابق اس نے فدک کو رسول خداۖ کی رحلت کے دس دن بعد غصب کیا تھا ۔١٥ 

فدک کے متعلق فاطمہ (سلام اللہ علیہا)کا مطالبہ

یہ واقعہ ضروریات تاریخ میں سے ہے جیسا کہ شیعہ اور سنی کی روایتوں میں آیا ہے اس موضوع کے متعلق کسی کو کوئی شک و شبہہ نہیں ہے اور سب نے نقل کیا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)نے فدک کا مطالبہ کیا اور بڑی سختی سے مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دو نوں کے متعلق فرمایا :میں تم دونوں سے بات نہیںکروں گی ،علمائے شیعہ اور اہل سنت کے بہت سے لوگوں نے لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ(سلام اللہ علیہا) دنیا سے چلی گئیں اس حال میں کہ ان دونوں سے بہت زیادہ ناراض تھیں ۔

 

شیعہ و سنی دونوں فرقوں نے لکھا ہے کہ جب فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)نے فدک کا مطالبہ کیا تو ابوبکر نے آپ سے بینہ اور شاہد طلب کیا،لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)کے لئے گواہ کی ضرورت ہے ؟جی نہیں ،لیکن فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)نے مجبور ہوکر اپنی حقانیت کو ثابت کر نے کے لئے بینہ پیش کیا ۔

حضرت امام علی  ـاور ام ایمن دونوں نے گواہی دی کہ فدک حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)کی ملکیت ہے ،لیکن ابو بکر کا جواب یہ تھا کہ ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی کافی نہیں ہے بلکہ دو مرد یا ایک مرد اوردو عورتوں کا ہونا ضروری ہے ...البتہ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)اس مسئلہ کی طرف متوجہ تھیں ،لیکن اس مقام پر قضیہ ٔاختلاف قضاوت کے عنوان سے نہیں تھا کیوں کہ اس مقام پر ابوبکر خود ہی قاضی بھی تھے اور مدعی بھی ،اگر واقعی اور حقیقی قضاوت تھی تو قاضی کو ایک تیسرا شخص ہونا چاہیئے ،اس بناء پر اس مقام پر ایک گواہ کافی تھا جو مدعی کی بات کی تصدیق کرتا اور قصہ تمام ہوجاتا ،اس کے باوجود فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) دوسری مرتبہ علی  ـ،ام ایمن ،اسماء بنت عمیس ،حضرت امام حسن مجبتیٰ اور حضرت امام حسین مظلوم کربلا کو گواہ کے عنوان سے اپنے ہمراہ لے کر آئیں پھر بھی ابوبکر نے قبول نہیں کیااس لئے کہ حضرت علی  ـ فاطمہ (سلام اللہ علیہا)کے شوہر ،حسن اور حسین  ان کے بیٹے ہیں اور فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)کی طرفداری کریں گے اور ان کے نفع میں گواہی دیں گے ،لیکن اسماء بنت عمیس کی گواہی اس وجہ سے قبول نہیں ہوئی کہ جعفر بن ابی طالب کی زوجہ تھیں اور بنی ہاشم کے نفع میں گواہی دیں گی اور ام ایمن کی گواہی بھی قبول نہیں ہوئی اس لئے کہ غیر عرب (عجمی)عورت ہیں اور مطالب کو واضح طور پر بیان نہیں کرسکتیں ہیں ،لیکن یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ فاطمہ(سلام اللہ علیہا)،علی ،حسن اور حسین جو آیۂ تطہیر کی بنیاد پر ہر رجس سے دور اور پاک ہیں کیا ان کی باتیں قابل قبول نہیں ہیں ؟

یہاں پر مناسب ہے کہ ہم اس واقعہ کی طرف متوجہ ہوں کہ جس کو شرح نہج البلاغہ میں ابن ابی الحدید نے بیان کیا ہے ،وہ کہتے ہیں ؛میں نے مدرسۂ بغداد کے مدیر علی بن فارقی سے پوچھا :کیا فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)اپنے دعوے میں سچی تھیں ؟انھوں نے جواب دیا :ہاں،میں نے دوبارہ پوچھا:پس ابوبکر نے انھیں فدک واپس کیوں نہیں کیا ؟جب کہ وہ جانتے تھے کہ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)سچ کہہ رہی ہیں ؟استاد مسکرائے اس کے بعد ایک لطیف اورطنزیہ جملہ کہاجب کہ وہ اس طرح کا مذاق نہیں کرتے تھے انھوں نے کہا :اگر پہلے دن صرف حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)کے دعویٰ کرنے کی بناء پرفدک واپس کردیتے تو کل کے دن حضر ت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)اپنے شوہر علی  ـ کی خلافت کا دعویٰ پیش کرتیں تو ابوبکر کو مقام خلافت چھوڑنا پڑتا اور اس مقام پر ز مامدار خلافت کا عذر قابل قبول نہ تھا اور چونکہ پہلے انھوں نے خود پیغمبرۖ کی بیٹی کی صداقت اور سچائی کا اقرار کرلیا تھا اس لئے اب اس کے بعد جو بھی دعویٰ کرتیں اسے بغیر بینہ اور گواہ کے قبول کرنا ضروری ہوجاتا ۔

ابن ابی الحدید مزید کہتے ہیں کہ یہ بات صحیح ہے اگر چہ استاد نے اسے مذاق اور شوخی کے عنوان سے بیان کیا ہے ۔١٦

سچ مچ یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ وہ علی کہ جس کو پیغمبرۖ ''اقضی الامة'' اور ''صدیق اکبر''جانتے ہیں اور فرماتے ہیں: ''علیّ مع الحق و الحقّ مع علی،یدور معہ حیثما دار''یعنی علی حق کے ساتھ ہیں اورحق علی  کے ساتھ ہے اور حق کبھی بھی علی  سے جدا نہیں ہوگا اور انھیں مومنین کا مولا اور مومنین کے نفس کی نسبت اولیٰ بالتصرف جانتے ہیں ،کیا فدک جیسی ایک ٹکڑا زمین کے متعلق ان کی گواہی قابل قبول نہیں ہے ؟

کیا اس مقام پر وہ ناحق گواہی دے رہے ہیں ؟یقیناً ایسا نہیں ہے ،بلکہ کہنا چاہیئے کہ ابوبکر اور عمر کی پوری کوشش یہ تھی کہ باغ فدک کہ جس کی درآمدبے حدہے علی اور فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)کے اختیار میں نہ جائے اور اس کی درآمد حکومت کو نابود کرنے میں خرچ نہ کرنے پائیںیا یہ کہ بخل اور حسد کی بناء پر تھا جیسا کہ خود حضرت علی  ـ نے اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے :

''بلیٰ کانت فی ایدینا فدک من کلّ ما اضلّتہ السّماء فشحّت علیھا نفوس قوم و شحّت عنھا نفوس آخرین و نعم الحکم اللّٰہ ''١٧

''ہر وہ چیز کہ جس پر آسمان سایہ فگن ہوتا ہے ان میں سے ہمارے ہاتھ میں صرف فدک تھا لیکن اس پر بعض گروہ نے بخل اختیار کیا جب کہ دوسرے گروہ نے سخاوت کے طور پر اس سے نظر انداز کیا اور سب سے اچھا قاضی خدا ہے '' ١٨ 

عمر کے لئے فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)کی بد دعا

شیخ قمی لکھتے ہیں جب فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)نے ابوبکر سے فدک کا نوشتہ لیا اور باہر آئیں تو راستے میں عمر بن خطاب سے ملاقات ہوئی اور اس نے صدیقۂ طاہرہ سے پوچھا :آپ کہاں سے آرہی ہیں اور خلیفہ کے ساتھ آپ کا مسئلۂ نزاع کہاں تک پہونچا ؟سیدة نساء العالمین نے فرمایا:یہ ایک نوشتہ مجھے دیا ہے کہ فدک میرا حق ہے اور کوئی شخص اس میں مداخلت کرنے کا حق نہیں رکھتا عمر پریشان ہوگئے اور وہ نوشتہ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)کے ہاتھ سے چھین کر پھاڑدیا ۔

جب فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)نے عمر کی یہ جسارت اور بے حیائی دیکھی تو رنجیدہ اور غمگین ہوئیں اور اس بے دین کے لئے اپنی زبان پر بد دعا کے الفاظ جاری کئے ،فرمایا:''یابن خطاب مزّقت کتابی مزّق اللّٰہ بطنک ...''''اے خطاب کے بیٹے تو نے میرا نوشتہ پھاڑ دیا خدا تمھارا پیٹ پھاڑے ،جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس مظلومۂ معصومہ کی دعا بعد میں قبول ہوئی اور اس ظالم کا پیٹ پھاڑا گیا اور وہ واصل جہنم ہوا ،دنیا کے تمام ظالموں پر خدا کی لعنت ہو ''۔١٩ 

حوالے:

١۔سورۂ حشر ،آیت نمبر ٦۔

٢۔زندگانی حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)،اقتباس ازکتاب عماد الدین حسین اصفہانی ،ص ٣٥٢۔ 

٣۔''واتِ ذاالقربیٰ حقّہ'' سورۂ روم ،آیت نمبر ٣٨۔

٤۔''اقطع رسول اللّٰہ فاطمة فدکاً''

٥۔تفسیر درّ منثور ،ج ٤ ،ص ١٧٧؛تفسیر مجمع البیان ،ج ٨ ،ص ٣٠٦؛تفسیر نمونہ ، ج ٢٣ ،ص ٥١٠۔

٦۔وسائل الشیعہ ،ج ٦ ،ص ٣٦٦ ؛بحار الانوار ،ج ٤٨ ،ص ١٤٤؛مناقب ابن شہر آشوب ،ج ٤ ،ص ٣٢٠۔

٧۔شواہد التنزیل ٣٢٩١۔

٨۔ اپنے قرابتداروں کا حق ادا کردو ،سورۂ اسراء ،آیت ٢٦ ۔

٩۔ فدک ذوالفقار فاطمہ (سلام اللہ علیہا)،مؤلف سید محمد واحدی ،ص ٢٧۔٢٦۔

١٠۔ مجمع الزوائد و منبع الفوائد ،ص ٤٩٧۔

١١۔ کافی :٦٢٢١؛تہذیب :١٢٩٤؛وسائل الشیعہ :٣٦٦٦۔

١٢۔ کافی ،ج ١،ص ٥٤٣ ۔بحار ،ج ٤٨ ،ص ١٥٦۔المقنعة ،ص ٢٨٨ ۔

١٣۔ مناقب ابن شہر آشوب :١٤٢١ ،باب ماظہر من معجزاتہ بعد وفاتہ،کتاب ذوالفقار فاطمہ (سلام اللہ علیہا)،مؤلف سید محمد واحدی ،ص ٢٧ ۔ 

١٤۔ ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ ،ج ١٦ ،ص ٢٦٣ ۔

١٥۔ اصول کافی ،ج ٨ ،ص ٢٤٥ ؛زیارت عاشورہ و آثار معجزہ آسائے آن ،مؤلف ناصر رستمی لاہیجانی ،٢٠٨ ۔

١٦۔ ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ ،ج ١٦ ،ص ٢٠٨ ؛بحار ،ج ٢٩ ،ص ٣٥٠ ۔

١٧۔ ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ ،ج ١٦ ،ص ٢٠٨ ؛بحار ،ج ٢٩ ،ص ٣٥٠ ۔

١٨۔ کتاب قبر گمشدہ ،مؤلف مرحو م داود الہامی ،ص ١٠٥۔

١٩۔ مراسم عروسی اور معجزات حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا)،ص ١٣٦ ؛٣٦٠ داستان از فضائل و مصائب و کرامات فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)،مؤلف عباس عزیزی ،ص ٢٧٢ و  وفاة الصدیقة الطاھرة ،مرحوم مکرم ،ص ٧٨ و  فاطمة الزہراء بہجة قلب المصطفیٰ،ص ٥٢٧۔


source : http://rizvia.net/
273
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

نماز عید امام کی امامت اور امام رضا(ع) کی شرط
کم از کم معرفت امام زمان عج
طیبہ،طاہرہ،عابدہ،زاہدہ،بنت خیرالوریٰ،سیدہ فاطمہ۔
حسینیت اور یزیدیت کی شناخت
کیوں تشہد میں علی ولی اللہ پڑھنے کی اجازت نہیں؟
حضرت امام علی علیہ السلام کی شان میں چالیس احادیث
علی جو آئے تو دیوارِ کعبہ بھی مسکرائی تھی یا علی کہہ کر
جشن ولادت امام حسین علیہ السلام
امام مہدی کی ولادت
اقوال حضرت امام علی النقی علیہ السلام

 
user comment