اردو
Wednesday 18th of May 2022
1201
0
نفر 0

حضرت عباس کربلا میں شجاعت کا نمونہ

حضرت ابو الفضل العباس  نے اپنے پدر بزرگوار حضرت امیر المومنین  ـ سے ہاشمی شجاعت اور اپنی مادر گرامی ام البنین کی طرف سے کلابی شجاعت پائی تھی آپ کی تربیت اس وجہ سے ہوئی تھی کہ کربلا کے عظیم شجاع ،بہادر ،دلیر اور مجاہد ہوں۔

حضرت امیر المومنین  ـ نے ایک بہادر اور شجاع خاتون کا انتخاب کیا تا کہ اس سے ایک ایسا بہادر فرزند پیدا ہو جو حضرت امام حسین  ـ کا ذخیرہ اور بازو ہو جیسا کہ ہارون اپنے بھائی موسیٰ  ـکے لئے اور خود حضرت امیر المومنین  ـ اپنے چچا زاد بھائی رسول خدا  ۖ کے لئے پشت پناہ اور بازو تھے جناب عباس  اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ جنگوں میں شرکت اور عرب کے بڑے بڑے بہادروں سے جنگ کرتے تھے اور شیرِ غضبناک کی طرح حملہ کرکے انھیں ہلاک کرتے تھے ۔

جناب بیرجندی لکھتے ہیں کہ جنگ صفین میں اپنے بھائی کی نصرت کی اور حضرت امام حسین  ـ کے لئے پشت پناہ اور بازو تھے یہاں تک کہ لشکر معاویہ کو فرات سے فرار کرنا پڑا اور اس پر قبضہ کرکے حضرت امیر المومنین  ـ کے تصرف واختیار میں دے دیا  ١۔

شب عاشور حضرت امام حسین  ـ کے بہت سے اصحاب عبادت میں مصروف تھے ،کوئی قیام میں تھا ،کوئی رکوع میں تو کوئی سجدے میں تھا لیکن جناب طریحی مرحوم نقل کرتے ہیں کہ قمر بنی ہاشم حضرت ابو الفضل العباس  شمشیر حمائل کرکے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر خیموں کا طلایہ پھر رہے تھے اور خیموں کی نگرانی کررہے تھے  ٢۔

شاعر عرب ،عالم جلیل القدر اُزری حضرت امام حسین  ـ کی زبانی کہتے ہیں :

''الیوم نامت اعین بک لم تنم      وتسھّدت اخریٰ فعزّ منامھا''

آج وہ آنکھیں سوئیں گی جوتمھارے خوف سے بیدار رہتی تھیں اور جو آنکھیںسویا کرتی تھیں ان کے لئے سونا دشوار ہوگیا  ٣  ۔

روز عاشورہ چار ہزار اور دوسری روایت کے مطابق دس ہزار لشکر کا پہرا فرات پرلگا دیا گیا تھا تا کہ کوئی شخص فرات پر وارد ہوکر پانی نہ لے جاسکے ،شیعہ وسنّی کے تمام مؤرخین نے لکھا ہے کہ جناب عباس  تن تنہا وارد فرات ہوئے اور عرب کے کئی ہزار پہلوانوں کو فرات سے بھگایا جبکہ لشکر نے چھ مرتبہ حملہ کیا تا کہ جناب عباس  وارد فرات نہ ہوسکیں ۔

اس وقت دشمن کو احساس ہوا کہ جب تک جناب عباس  لشکر حسین  ـ میں ہیں کامیاب ہونا ممکن نہیں ہے اس لئے جناب عباس  کے پاس امان نامہ لیکر آئے جس کو آپ نے رد کردیا ۔

کسی کو جرأت نہیں ہوتی تھی کہ وہ جناب عباس  سے جنگ کرنے کے لئے میدان میں آئے اور کوئی شخص انھیں شہید کرنے کا احتمال بھی نہیں دے سکتا تھا اس لئے آپ کو فریب دے کر شہید کیا،درختوں کے پیچھے چھپ کر پہلے داہنے ہاتھ کو اس کے بعد بائیں ہاتھ کو قلم کیا اس کے بعد فرق مبارک پر گرز مارا اور آپ کو شہید کردیا ۔

حضرت امام حسین  ـ نے اپنے بھائی حضرت ابو الفضل العباس  کو میدان میں جانے کی اجازت نہیں دی ورنہ دشمن کے لشکر میں کوئی باقی نہ رہتایا تو قتل ہوجاتے یا فرار کرجاتے ،بلکہ حضرت امام حسین  ـ نے فرمایا:بچوں کے لئے پانی کا انتظام کردو ۔

یہ سب باتیں نشاندہی کرتی ہیں کہ جناب عباس  حیدر کرار،اسد اللہ الغالب اور علوی شجاعت کے مظہر تھے اور باپ کی یہ صفت آپ میں متجلی تھی ۔

''کامل التواریخ ''کی روایت کے مطابق جناب عباس  نے صبح عاشورہ دیکھا کہ اطراف خیمہ انصار سے خالی ہے جب نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ بیس اصحاب ،لشکر عمر سعد کے محاصرہ میں ہیں ،جناب عباس  نے شیر غضبناک کی طرح حملہ کیا اور اصحاب کو دشمنوں سے نجات دی ۔

دوسری روایت میں بھی آیا ہے کہ عبد اللہ بن جعفر بن عقیل کے پاس زہیر آئے اور کہا :

''یا اخی ناولنی ارّایة ؛اے میرے بھائی پرچم مجھے دیدو''عبد اللہ نے کہا:کیا آپ پرچم اٹھانے میں میرے اندر ضعف و ناتوانی کا مشاہدہ کررہے ہیں ؟کہا نہیں،لیکن مجھے ضرورت ہے ۔

پرچم لے کرجناب عباس  کے پاس آئے اور عرض کی اے امیر المومنین  ـ کے بیٹھے میں تم سے ایک بات نقل کرناچاہتا ہوں ،جناب عباس  نے فرمایا:اپنی بات کہیئے بہت تاخیر ہورہی ہے ۔

زہیر نے کہا:اے ابو الفضل !جب آپ کے پدر بزرگوار نے آپ کی مادر گرامی سے شادی کرنا چاہی تو بھائی عقیل کو طلب کیا اور فرمایا:میرے لئے بہادر خاندان سے ایک ایسی عورت کا انتخاب کرو تا کہ خداوند عالم مجھے ایسا بہادر بیٹا عطا کرے جو (کربلا میں)میرے بیٹے حسین  ـ کی نصرت کرے اور وہ کربلا میں حسین  ـ پر اپنی جان نثار کردے ،آپ کے پدر بزرگوار نے آپ کو آج ہی کے لئے ذخیرہ کیا ہے لہٰذا اپنے بھائی اور بہنوں کی حفاظت کرنے میں کوتاہی نہ کرنا ۔

اس گفتگو کو سنتے ہی جناب عباس  لرزہ بر اندام ہوئے اور رکاب پر اس طرح پیر مارا کہ تسمہ ٹوٹ گیا اور فرمایا:اے زہیر !

''تشجّعنی فی مثل ھذا الیوم واللّٰہ لاریتک شیئاً ما رأیتہ قطّ ؛کیا تم آج کے دن مجھے جوش شجاعت دلاتے ہو خدا کی قسم میں تم کو وہ چیز دکھاؤں گا کہ جس کو تم نے ہرگز نہیں دیکھا ہوگا ۔ ''

یہ کہہ کر اپنے گھوڑے کو دوڑاتے ہوئے میدان میں آئے اور دس ہزار کے لشکر پر حملہ کیا ۔

رجز خوانی کی یہاں تک کہ ایک سو افراد کو قتل کیا  ٤۔

آپ کی مادر گرامی جناب ام البنین آپ سے خطاب کرکے ایک شعر میں کہتی ہیں:

''لو کان سیفک فی یدیک       لما دنیٰ منہ احد''

''اگر تمھارے ہاتھوں میں تلوار ہوتی تو تمھاری تلوار کے نزدیک جانے کی کسی کو جرأت نہ ہوتی ٥  ۔''

مروی ہے کہ جب لٹے ہوئے اسباب کربلا سے شام یزید کے پاس لے جائے گئے تو ان میں ایک بڑا پرچم بھی تھا،یزید اور موجودہ افراد نے دیکھا کہ پرچم کے تمام مقامات پر سوراخ ہیں لیکن اس کا قبضہ صحیح وسالم ہے ،اس نے پوچھا:اس پرچم کا علمدار کون ہے ؟

جواب دیا گیا:اسے عباس بن علی  ـ اٹھاتے تھے۔یزید کو بہت تعجب ہوا اور اس پرچم کی تجلیل وتکریم میں دو یا تین مرتبہ اٹھا اور بیٹھا اس کے بعد کہا:

''انظروا الیٰ ھٰذا العلم فانّہ لم یسلم من الطّعن والضّرب الاّٰ مقبض الید الّتی تحملہ؛اس پرچم کو دیکھو ،اس کی کوئی جگہ نیزہ وضرب سے خالی نہیں ہے سوائے اس قبضہ کے کہ جس کو علمدار اپنے ہاتھوں سے اٹھاتا تھا۔''

اس کے بعد یزید نے کہا:

''ابیت اللّعن یا عباس،ھٰکذا یکون وفاء الاخ لاخیہ؛اے عباس ،تم سے سبّ وشتم دور ہو (تمھارے لئے سبّ وشتم مناسب نہیں ہے)اپنے بھائی کی نسبت بھائی کی وفاداری کے یہی معنی ہیں۔  ٦''

حوالہ جات:

١۔کبریت احمر ٣٨٥۔

٢۔معالی السبطین :٢٧٠١۔

٣۔نفس المہموم ٣٤٥۔

٤۔کبریت احمر ٣٨٦۔

٥۔فرسان الہیجا ئ،ج ١ ،ص ٢١٠۔

٦۔دین وتمدین ،ج ١ ،ص ٢٨٨۔


source : http://rizvia.net
1201
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:
لینک کوتاه

latest article

اعتدال و میانہ روی اسلامی طرززندگي
دنیاميں ماه مبار ک رمضان کا جلوه
اصلاح امت اور حضرت علی علیه السلام
حضرت عباس کربلا میں شجاعت کا نمونہ
حق و باطل کی وسعت
اخلاقی حالت
قوموں کے زوال کے اسباب(نھج البلاغہ کے آئینہ میں)
قرآن کی نظر میں وحدت کا مفہوم
حضرت عبدالعظیم حسنی (ع) کی حیات پر ایک نگاہ
رمضان کی عظمت اور فضیلت

 
user comment