اردو
Sunday 24th of January 2021
811
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

امام حسین (ع) کا انقلاب اور شہادت

حسینی انقلاب کا یہ افتخار ہے کہ آج ہر مکتب خیال کے افراد اس کے ہم آواز ہیں یا کم از کم ہم آواز ہونے کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ یہ انقلاب ایک خالص الہی انسانی انقلاب ہے قومی ، مذہبی یا نسلی اور لسانی تنگ نظری کے ہاتھ اس انقلاب کے دامن کو نہین چھوسکے ہیں جب مقصد للّہیت اور راہ انسانیت ہو تو انقلاب خود بخود عالمگیریت حاصل کرلیتا ہے ۔اسلام کو آفاقیت دلانے میں " حسینی پلیٹ فارم " نے نمایاں ترین کردار ادا کیا ہے حسینیت نے اسلام کی وسیع النظری عام کرنے اور انسانی فطرت کو بیدار کرکے تمام انسانوں کو اسلام کا ہمدم و دمساز بنانے میں بڑی مدد کی ہے جس طرح خدا سب کا ہے ۔رسول (ص) سب کے ہیں علی (ع) سب کے ہیں حسین (ع) بھی سب کے ہیں کیونکہ کسی نہ کسی شکل میں ان کے فیوضات سے سبھی فائدہ اٹھاتے ہیں اب اگر کوئی محسوس نہ کرسکے تو خدا و رسول (ص) کا بھی انکار کردیتا ہے سورج کے طلوع و غروب سے بھی بے خبر ہوجاتا ہے لہذا اگر کوئی حسین (ع) اور حسینیت کی مخالفت کرے تو یہ سمجھنا چاہئے اسے  نواسۂ رسول (ص)امام حسین (ع) کا عرفان نہیں ہے وہ بینائی سے محروم یا بے خبری کا شکار ہے علی (ع) و بتول (ع) کے فرزند امام حسین (ع) انسان پر حیوانوں بلکہ انسانوں کی بھی حکمرانی کے مخالف تھے اور ظلم و زیادتی برداشت کرنا انسانیت کی ذلت و توہین سمجھتے تھے ۔امام حسین (ع) اسلام کے نقاب میں چھپے اموی ملوکیت اور ظلم و ناانصافی پر استوار لامذہبیت کا چہرہ بر ملا کردینا چاہتے تھے ۔امام حسین (ع) کی اسی اصول پسندی نے انہیں تمام ملک و قوم میں عالم اسلام کے محبوب امام و رہنما کے ساتھ ہی ساتھ عالم بشریت کا مثالی " ہیرو" بھی بنادیا ہے چنانچہ جس وقت ہندوستان غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا مہاتما گاندھی نے کہا تھا : " حسینی اصول پر عمل کرکے انسان نجات حاصل کرسکتا ہے " اور پنڈت نہرو نے اقرار کیا تھا کہ " امام حسین (ع) کی شہادت میں ایک عالمگیر پیغام ہے ۔" " ہیروز ورشپ " کے مصنف کارلائل کا کہنا ہے "   " شہادت حسین (ع) کے واقعہ پر جس قدر غور و فکر کیاجائے گا اسی قدر اس کے اعلیٰ مطالب روشنی میں آتے جائیں گے ۔" نویں محرم الحرام کی شب نزدیک تھی ، پسر سعد کو ابن زیاد کے آخری فیصلے کا انتظار تھا ، شمر چارہزار کے لشکر کے ساتھ ،ابن زياد کا پیغام لایا کہ اگر حسین (ع) یزید کی بیعت نہ کریں تو ان کو قتل کردو اور اگر تم یہ کام نہ کرسکو تو لشکر کی کمان شمر کے حوالے کردو ، پسر سعد نے ابن زیاد کا فرمان پڑھ کر حملے کا حکم دے دیا شمر نے کہا پہلے حسین (ع) سے آخری جواب تو لے لو مگر پسر سعد نے کہا : " خدا کی قسم حسین یزید کی بیعت نہیں کریں گے ان کے پہلو میں ان کے باپ کا دل ہے " بہرحال حملہ ہوا تو امام حسین (ع) نے جناب عباس (ع) کو بھیج کر عبادت کے لئے ایک شب کی مہلت مانگ لی کہ یزیدی لشکر کو ایک رات اور یہ سوچنے کاموقع مل جائے کہ وہ جس سے جنگ کرنا چاہتے ہیں وہ رسول (ص) کا نواسہ خدا کا عبادت گزار بندہ ہے ۔امام حسین (ع) نے اہل حرم کے خیموں کی پشت پر خندق کھودنے کا حکم دیا اور جب خندق تیار ہوگئی تو اس میں آگ جلوادی تا کہ دشمن کا لشکر پیچھے سے خیموں پر حملہ نہ کرسکے اور پھر پشت خیمہ سے مطمئن ہوکر ایک خیمے میں تمام اصحاب و اعزہ کو جمع کیا اور اپنی بیعت اٹھا کر سب کو اپنا ساتھ چھوڑدینے کی اجازت دے دی حتی شمع بھی خاموش کردی کہ جانے میں شرم مانع نہ ہو مگر تمام اعزہ و اصحاب نے اپنی وفاداری اور جان نثاری کا یقین دلایا اور کوئی ایک بچہ بھی آپ کا ساتھ چھوڑنے پر تیار نہ ہوا. 

 بقول شاعر : 

 حسین (ع) ابن علی (ع) نے فطرتیں بدلی ہیں اک شب میں   

بجھی ہے شمع اور محفل سے پروانے نہیں جاتے

شاعر نے صحیح کہاہے :

 اعجاز مجسم ہیں اصحاب شہ والا         ہم دیکھیں تو شمعیں ہیں شہ دیکھیں تو پروانے

جان نثار ، اپنی جانیں ہتھیلی پر لئے کھڑے تھے اور حقیقی معنی میں کل ایمان کل کفر و نفاق سے جنگ و مقابلے کے لئے تیار تھا ۔ادھر سپیدی سحر نمودار ہوئی ادھر حر ابن یزید ریاحی نے اپنے بھائي بیٹے اور غلام کے ساتھ لشکر کفر و نفاق سے نکل کر لشکر حق میں شمولیت اختیار کرلی ۔در حقیقت یہ مقدرات ہیں بھائي بیٹے غلام ، سب میں ہے حریت            کوئی ایک شب میں یوں مثل حر نہ تو بن سکا نہ بنا سکا شبیہ پیغمبر (ص) حضرت علی اکبر (ع) نے صبح کی اذان دی ، لشکر اسلام و قرآن نے امام حسین (ع) کی امامت میں نماز فجر ادا کی ابھی سر سجدوں سے بلند نہیں ہوئے تھے کہ کمانیں کڑکیں اور نماز کےلئے ایستادہ بیسیوں مجاہدین راہ حق تیروں کی پہلی بوچھار میں ہی شہید ہوگئے اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا امام سے اجازت لے کر غازیان اسلام میدان میں جاتے اور شہید ہوتے رہے پہلے اصحاب کام آئے اور پھر اعزہ کی باری آئی اٹھارہ سالہ شبیہ پیغمبر (ص) ، نو ، دس سال کے عون و محمد (ص) تیرہ سالہ قاسم (ع) سال کے بھائي عباس علمدار حتی چھ ماہے علی اصغر (ع) کو بھی راہ اسلام میں حسین (ع) نے قربان کردیا اور پھر: 

 ننھی سی قبر کھودکے اصغر (ع) کو گاڑ کے       شبیر (ع) اٹھ کھڑے ہوئے دامن کو جھاڑکے

  اب حسین تشنہ کام ، زخموں سے چور ، شدت پیاس سے زبان چباتے ہوئے کہتے ہیں : انابن صاحب الکوثر ، میں تو ساقی کوثر کا بیٹا ہوں ، میں تو شافع محشر کا بیٹا ہوں ۔پھر اک عزم کے ساتھ اٹھے اور در خیمہ پر آکر آواز دی اے زینب و ام کلثوم اے رقیہ و سکینہ حسین کا آخری سلام قبول کرو ۔سب سے رخصت لی اور دامن سے لپٹی پارۂ دل کو بھی سینے سے لگاکر بہن کے حوالے کردیا اور میدان میں آکر ایسی جنگ کی کہ یزیدی لشکر کوفے کی دیواروں سے ٹکراتا نظر آيا ۔نہر علقمہ پر پہنچے اوربھائی کو آواز دی : کاش تم ہوتے اور تین دن کے پیاسے حسین (ع) کی جنگ کا منظر دیکھتے اور جب نہر سے پلٹے تو آواز سنائي دی :اے نفس مطمئنہ اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آ اس حال میں کہ میں تجھ سے راضی اور تو مجھ سے راضی ہے ۔امام نے تلوار نیام میں رکھ لی تیروں ، نیزوں شمشیروں کی بارش ہونے لگی جن کے پاس کچھ نہ تھا وہ پتھر ماررہے تھے ۔حسین گھوڑے سے گرے ،بارگاہ معبود میں شکر کا سجدہ ادا کیا شمر بے حیا نے پشت گردن سے سر تن سے جدا کردیا نواسۂ رسول (ص) میدان کربلا میں شہید کردیا گیا ۔آسمان سے خون کی بارش ہوئی ، زمین کا سینہ شق ہوگیا۔لیکن امام کی صدا کے استغاثہ آج بھی بشریت کے کانوں میں گونج رہی ہے " کیا کوئی ہے جو میری مدد کرے ، کیا کوئی ہے جو میری نصرت کرے "میں پیاسا ہوں ، پیاسا شہید کیا گیا ہوں ، میری پیاس بجھاؤ ، روئے زمین پر حق و انصاف اور اسلام و قرآن کی حکمرانی قائم کرو، جس دن ظالموں کا خاتمہ ہوگا میری پیاس بجھ جائے گي۔   


source : http://urdu.irib.ir
811
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

ماہ رجب کی پہلی تاریخ؛ یوم ولادت با سعادت حضرت امام ...
اونٹوں کي تقسيم اور حضرت علي عليہ السلام
امام حسین علیہ السلام صفات الہیہ کا مظہر
امام محمد باقر (ع) کی ولادت اور بچپن كا زمانہ
حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے بعض کرامات
قرآن اور علي (ع)
امام حسین (ع)کی زیارت عرش پر اللہ کی زیارت ہے
امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ھیں
میراث اہل بیت
امام سجاد(ع) واقعہ کربلا ميں

 
user comment