اردو
Wednesday 8th of December 2021
976
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

لیبیا میں جدید آئین کا سرچشمہ دین اسلام ہو گا

بین الا قوامی: لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ملک میں جدید آئین اسلامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق لیبیائی مظاہرین نے گذشتہ" التحریر" چوک پر جمع ہوکر پر زور مطالبہ کیا کہ لیبیا جدید آئین شریعت اسلام کے مطابق ہونا چاہیے۔ شہر بن غازی کی ایک مسجد کے پیش نماز"احمد المغربی" نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارا ملک مسلمان ملک ہے اور ہمارے ملک کا آئین ہمارے عقائد کے مطابق ہونا چاہیے۔

نیوز چینل العالم کی رپورٹ کے مطابق اس مظاہرے کا اہتمام کرنے والوں میں سے "صبری علی احمد" نامی ایک شخص نے کہا قذافی کے دور حکومت میں ملک میں اسلامی قوانین نافذ نہیں تھے۔

یادرہے کہ لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ" مصطفی عبدالجلیل" نے بھی قذافی کے قتل کے بعد کہا تھا اس ملک میں جدید آئین کا منبع اور سرچشمہ دین اسلام ہوگا۔


source : http://www.shabestan.net
976
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

اسلامی تعاون تنظيم كی طرف سے عيسائيوں كے مقدس ...
امریکی مسلمان خاتون تفریح سے محروم ہے
ہمارے جوان ایسا دن دیکھیں گے جب متکبر طاقتیں ان ...
اٹلی کے شہر سیسیل میں جامع مسجد کی تعمیر
علامہ ناصر عباس کی دربار شاہ شمس تبریز پر حاضری
شیعه کے ہاتھ کا ذبیحہ کهانا حرام اور عیسائیوں کا ...
داعش نے امام موسی کاظم (ع) کے بیٹے کا مزار مسمار کر ...
روس میں كتاب "اسلامی تہذيب كے اصول" كی تدريس
كويت كے علمی انسٹیٹيوٹز میں شعبہ اسلامی ثقافت كے ...
اسلام،جرمنی کے شہر ہمبرگ کا دوسرا بڑا دین

 
user comment