اردو
Sunday 17th of October 2021
447
3
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

مسلکی تشدد اور امت مسلمہ کی ملی ذمہ داری

خود کش دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہونے والا اجتماعی قتل عام دو اسلامی ممالک کا معمول بنتا جارہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ مرنے والا اور مارنے والا دونوں ایک ہی خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک ہی رسول کے امتی ہونے کے دعویٰ دار ہیں اور ایک ہی قبلہ کی جانب رُخ کرکے خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ ایک ہی کتاب کے بارے یہ یکسان عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہی دستورِ زندگی کا واحد الہٰی ماخذ و منبع ہے۔

گاہے بگاہے قاتل و مقتول ایک ہی صف میں شانہ بہ شانہ قبلہ رو ہو کر کچھ اس انداز سے بارگاہِ خداوندی میں کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ان کی آپسی دشمنی کا کسی کو گمان بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ لیکن چند ہی منٹوں میں یہ بھرم انسانی اعضاء کے ساتھ ہوا میں بکھر کر تحلیل ہو جاتا ہے، جب ایک نمازی خود کو بارود سے اڑا کر اپنے ساتھ بہت سارے نمازیوں کو بھی لے اڑاتا ہے۔ 

یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ جو مساجد امن و سکون کی علامت ہوا کرتی ہیں۔ ان میں بھی بارود کا خوف منڈلا رہا ہے۔جہاں عبادت گاہیں بھی غارت گروں کے زد پر ہوں وہاں پھر کون سی جگہ محفوظ ہیں۔ جہاں داتا گنج بخش جیسے عظیم بزرگ کی درگاہ کا غسل مسلمانوں کے خون سے کیا جائے وہاں کے بازار اور عوامی مقامات پر موت کا سایہ ہر وقت منڈلاتے رہے تو کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے۔ 

سفاکی کا عالم یہ ہے کہ قتل کرنے کے بعد بھی قاتلوں کا جی نہیں بھرتا اور وہ جنازے میں بھی اجتماعی ہلاکت کی غرض سے شامل ہو جاتے ہیں اور اپنے ساتھ مزید چالیس پچاس آدمیوں کے جنازوں کی سبیل نکال لیتے ہیں۔ 

یہی صورتِ حال عراق میں بھی ہے۔ وہاں بھی اسی طرح کے دھماکوں کا سلسلہ ہے جو تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ آئے دن کہیں نہ کہیں اس قسم کا کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آہی جاتاہے۔ ایک طرف استعماری حملہ آوروں نے عراق کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ اور دوسری طرف دہشت گردوں نے سفاکانہ کارروائیوں سے رہی سہی کسر بھی نکال لی۔ پرہجوم بازار، عوامی مقامات، زیارت گاہیں، حتیٰ کہ کاظمین، نجف، اور کربلا جیسے مقدس ترین مقامات پر بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے۔

گزشتہ ماہ عراق کے ایک صوبے الانبار میں بائیس(۲۲) زائرین کو بے دردی کے ساتھ مارا گیا اور اس واقعے کے چند روز بعد ہی کوئٹہ پاکستان میں انتیس(29) زائرین کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ بی،بی، سی اردو سروس سے وابستہ صحافی محمد حنیف کے مطابق ہلاکت شدگان کی ابھی تدفین نہیں ہو پائی تھی کہ لشکرِ جھنگوی سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد علی شیر حیدری نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی۔ دوسری جانب عراق کے”رتبہ“علاقے میں وہابی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے چند شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے القاعدہ سے وابستگی کے ساتھ ساتھ مذکورہ واقعے کی ذمہ داری قبول کی۔

واضع رہے دونوں شدت پسند گروہ مذہبی، مسلکی، نظریاتی اور حکمت عملی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔ 

پاکستان اور عراق میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں یہ مماثلت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ہونہ ہو دونوں ممالک میں ان کارروائیوں کے پیچھے ایک ہی ہاتھ کارفرما ہے۔ یہ مماثلت نہ صرف حکمت عملی کے اعتبار سے بلکہ نظریاتی سطح پر بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کیونکہ حکمت عملی تو بہر حال فکری اور نظریاتی بنیادوں پر ہی استوار ہوتی ہے۔ نفرت اور بغض و عناد کا یہ بدترین مظاہرہ اصل میں تکفیری مفتیوں کی ایک ایسی دین ہے۔ جو عالمِ اسلام کو بالخصوص اور دیگر عالمی اقوام کو بالعموم بھگتنا پڑرہی ہے۔ 

عدم تحمل پر مبنی اور مذہبی رواداری کے برخلاف یہ روش چند صدیاں قبل برطانوی سامراج کی ایک گہری سازش کے ذریعے عالم اسلام میں در آئی ہے تاکہ دشمنانِ اسلام علی الخصوص عالمی سامراج مسلکی نظریات پر مرنے مارنے والے چھوٹے بڑے ملاؤوں کی لگائی گئی آگ پر ہی وقتاً فوقتاً اپنے مفادات کے پکوان پکاتے رہیں۔ ارتداد اور تکفیری فتووں کے علاوہ منافرت پر مبنی تقاریر اور لٹریچر جلتی پر تیل کا کام کررہا ہے۔ ان تقاریر، لٹریچراور دیگر وسائل کے ذریعے یہی باور کرایا جاتا ہے کہ مخالف مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد دائرہ انسانیت سے خارج ہیں۔ اور ان کا خون بہانا حتیٰ کہ ان کی عزت و عفت پر ہاتھ ڈالنا مباح ہے۔ 

دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہِ راست ملوث اشخاص تو مجرم ہے ہی، وہ فتوی باز اور منافرت و حسد کے سوداگر بھی اس جرم سے بر ی الذمہ نہیں ہوسکتے ہیں بلکہ یہی تو اس گیم پلان کے بنیادی ماسٹر مائنڈ ہیں۔ اس شجر ملعونہ کی جڑیں۔ اس فتنے کے اصل محرک ہیں۔ ان میں سے کوئی ڈالر و دینار کی خاطر فتوے بیچ رہا ہے تو کوئی محض اپنے مخصوص مسلکی نظریات کو دوسرں پر تھونپنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیارہے۔ 

یہ فتویٰ ساز مفتی باضابطہ طور چند ایک ممالک کے وظیفہ خوار ہے اور ایک منظم پلان کے تحت اپنے آقاووں کے اشاروں پر کام کررہے ہیں۔ ان کے آقا بھی صہیونیوں اور سامراجیوں کے ادنیٰ غلام ہیں۔ جو سامراجی مشن کو اسلامی رنگ دے کر آگے لے جارہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن کے شعوری یا غیر شعوری طور ایجنٹ بنے ہوئے ہیں تو پھر ان کو ایک عام مسلمان نفرت کی نگاہ سے کیوں نہیں دیکھتا؟ مسلمانوں کی اکثریت اسرائیلی صہیونیت اور امریکی سامراجیت کے تئیں زبردست مخالفانہ جذبات رکھتی ہے۔ اس کے نزدیک یہ دونوں ابلیسیت کی حقیقی شکلیں ہیں۔ لہٰذا امریکہ و اسرائیل مخالف جذبات ان کی ملی نفسیات میں شامل ہوگئے ہیں۔ کوئی امریکہ مخالف نعرہ اس نفسیات کو ضرور بہ ضرور مرتعش کردیتا ہے۔ اور ہرا یک مسلمان کی حتیٰ الوسع کوشش رہتی ہے کہ ان نعروں کاحتیٰ ا لمقدورجواب دے۔

یہی وجہ ہے اکثر مقرر اور بیشتر مبلغ حضرات اس نفسیات کے پیش نظر زبانی ہی سہی امریکہ و اسرائیل کی خبر ضرور لیتے ہیں۔ انہی طاغوت مخالف جذبات کو ملحوظِ رکھ کر یہ طاغوتی غلام (ملا و مفتی) اپنے جو ش خطابت کو دو آتشہ کرنے کیلئے یہ ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ وہ طاغوت اور طاغوت کے حامیوں کی نابودی کے خواہاں ہے۔ حالانکہ ان کی کرتوت ان کے زبان و بیان کے سو فیصدی برعکس ہیں۔ 

یہ صہیونیت کو زبانی جمع خرچ کے ذریعے خبر لیتے ہیں مگر دوسری جانب ان کے ہاتھ یہودیوں کے ہی ایجنڈے کو ہی فروغ دے رہے ہیں۔ امریکہ و اسرائیل کو بھی اس بات میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ گاہے بہ گاہے عام اور سادہ لوح مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے انہیں اپنے آقاوں کے خلاف بھی زبان درازی کرنا پڑے ۔

یہ شعلہ بیان مقررین زبان سے لاکھ چاہیں اپنے آپ کو عالمی استکبار کے دشمن شمارکریں لیکن ان کے ہاتھ بہر حال اسلام کی بیخ کنی کرنے اور امت واحدہ کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف ہیں۔ بحیثیت مجموعی امتِ مسلمہ ان کے کردار و گفتار میں موازنہ کرنے اور ان کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی ہے۔ 

بدقسمتی سے افرادِ ملت ہر اس شخص کو قابلِ اعتبار سمجھتے ہیں جس کے حلق سے امریکہ مردہ باد اسرائیل مردہ باد کا نعرہ نکلے۔ نتیجتاً جذباتیت سے مغلوب ملی مزاج امتِ مسلمہ میں پروان چڑھ رہی ہے۔ جو معروضیت، معقولیت اور واقعیت جیسے عناصر سے کوئی بھی علاقہ نہیں رکھتی ہے۔ جس کا فائدہ یہی آستین کے سانپ اٹھارہے ہیں۔ شیطان بزرگ امریکہ بھی مسلمانوں کے اس اجتماعی مزاج سے بخوبی واقف ہے اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ان کا جذباتی استحصال کرکے اپنے مفادات کی تکمیل کرتا آیا ہے۔ 

بعض اوقات واشنگٹن کسی غیر مؤثر گروہ، جہاں بینی [Worldview] سے معذور تنظیم اور متعصب مکتب فکر کو اپنے آپ ہی اپنے دشمن کے طور منتخب کرلیتا ہے تاکہ مسلمانوں کی سیاسی، اخلاقی اور جذباتی حمایت امریکہ کے حقیقی دشمن کے بجائے فرضی دشمن کے کھاتے میں چلی جائے اور پھر ان فرضی دشمنوں کا ریموٹ کنٹرول اس کے اپنے ہی ہاتھوں میں ہے جب چاہیں جہاں چاہیں ان کی خدمات استعمال میں لاسکتے ہیں۔ جس کی زندہ مثال عراق اور پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی پر مبنی موجودہ صورت حال ہے۔

اسرائیل، امریکہ اور ان کے حواریوں نے مل کر دنیائے اسلام کو مندمل نہ ہونے والے جو گہرے زخم دیئے ہیں اس کے قدرتی رد عمل کے طور امریکہ مخالف رجحان قابل فہم ہے ۔لیکن کوئی بھی ایرا غیرا حتیٰ کہ امریکی ایجنٹ اس ر جحان کا ناجائز فائدہ اٹھائے اس سے تکلیف دہ بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ ایک حق پرست کو عصری آگہی کا ملکہ حاصل ہو، تاکہ کسی بھی صورت حق کی نقاب اوڑھے باطل کی سحر گری سے مسحور نہ ہو جائے۔

اﷲ سے کرے دور، تو تعلیم بھی فتنہ

املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ

ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

(علامہ اقبال)

عراق اور پاکستان میں مسلکی بنیادوں پر ہورہی ظلم و زیادتی کو خالصتاً انسانی المیہ کے عنوان سے دیکھا جائے تو اقوام عالم کا کردار بھی ایک گونگے بہرے انسان جیسا دکھائی دیتا ہے جو اپنی آنکھوں سے انسانیت کے ساتھ ہورہی اس ناانصافی کو دیکھ تو سکتا ہے لیکن اس کی مذمت میں ایک بھی لفظ اپنی زبان پر لانے سے قاصر ہے۔ 

جہاں ایک ملک میں آئے روز ستر اسی افراد خودکش بم دھماکوں میں مارے جائیں کیا وہاں اقوام متحدہ کو خاموشی زیب دیتی ہے؟ حقوقِ انسانی کی دعوے دار تنظیموں نے یہ تک گوارہ نہیں کیا کہ مقتولین کا (برائے ریکارڈ ہی سہی) شمار رکھیں۔ عکس العمل اس کے سوڈان میں عیسائیوں کی طرف کوئی ترچھی آنکھ سے بھی دیکھے تو یہی تنظیمیں اپنے تمام ذرایع کے ساتھ حرکت میں آجاتی ہیں۔ جہاں کہیں عیسائیوں کے جان و مال کو مذہبی بنیادوں پر خطرہ لاحق ہوا۔ وہاں پر فساد کو فرو کرنے کیلئے یورپی مشینری کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اقوام متحدہ بھی اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ میدان میں کود پڑتی ہے۔ سالہا سال سے مذکورہ دو ممالک میں تشدد کا دائرہ اثر اور اس کے نتیجے میں ہورہے انسانی جانوں کا بے حد و حساب زیاں کیا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا ہے کہ یو،این،او کی جنرل اسمبلی میں اس کا ذیلی اور ضمنی عنوان کے تحت ہی تذکرہ ہوجاتا؟ ہلاکتوں کے اس نہ تھمنے والے سلسلے کی جانب عالمی برادری نظرِ التفات سے کب دیکھے گی؟ 

کب بغداد، بصرہ، کراچی اور کوئٹہ میں مارے جانے والوں کو بھی واشنگٹن میں گیارہ ستمبر کے مہلوکین کی طرح انسان سمجھا جائے گا؟ 

گیارہ ستمبر کے اصل سیاسی محرکات و عوامل سے قطع نظر اگر صرف امریکیوں کے سالانہ تعزیتی تقاریب پر ہی غور کیا جائے تو انسانی جان کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ ایک الگ سوال ہے اور اس کے ساتھ اس وقت کوئی سروکار نہیں ہے کہ اس حادثے کے پیچے کون تھا اور اس کے کیا مقاصد تھے؟جس عنوان سے امریکی عوام نے اس حادثے کو سنجیدگی سے لیا اس کو دیکھ کر گیارہ ستمبر کے ماسٹر مائنڈ کو بھی اپنے اس فعل قبیح پر ندامت ہونی چاہیے۔ لیکن اسلامی ممالک کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ 

یہاں پر قتل عام اور ٹارگٹ کلنگ (Target Killing) تو ایک مصیبت ہے ہی مگر مصیبت بالائے مصیبت یہ ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ مذہبی اور سیاسی لیڈر بھی معمولاتِ روزانہ سمجھ کر اس طرح کے واقعات کو طاق نسیاں کی نذر کر دیتے ہیں۔ اور بڑی معصومیت سے جانے پہچانے بدنام قاتلوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانے کے عینی فرض سے دامن بچاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس گروہ کا کوئی سرغنہ ڈنکے کی چوٹ پر اپنے جرائم کو گلی گلی کوچہ کوچہ بیان کرتا پھر رہا ہوتا ہے۔ کسی کو بھی اتنی غیرت و حمیت نہیں ہوتی کہ اس قاتل کا گریبان پکڑلے۔ حکومتی اداروں اور ملکی سیاست دانوں سے کوئی کیا گلہ کرے۔ ان کی نظر میں ایک اقتدار کی کرسی ہی ہے جو لائق پرستش ہے۔ 

اس معاشرے پر ضرور عقل سلیم ضرور ماتم کرے گی۔ جس میں اس قسم کی انسان نما درندے بغیر کسی کھٹک کے دندناتے پھرتے ہوں۔ 

پاکستان ہی کی بات کریں تو دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کے سرغنے ملک اسحاق نامی خونخوار دہشت گرد قومی بے حسی کی بنیاد پر عدالت سے بھی رہا ہو گیا واضع رہے مذکورہ دہشت گرد درجنوں اجتماعی قتلوں میں ملوث ہونے کے ساتھ فدا حسین نامی ایک شخص کے بارہ (۲۱) افراد خانہ کی ہلاکت کا ذمہ دار بتایا جاتا ہے، علاوہ ازیں اس کے ہاتھوں چند ایک حنفی مسلمان بھی مارے جاچکے ہیں۔

اس قسم کے دہشت گرد گروہ مقامی ، وفاقی اور خفیہ اداروں میں اپنا اثرورسوخ قایم کیے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یا تو یہ مجرم عدالت تک پہنچنے سے قبل ہی جیل کی دیواریں پھاندکر پھر سے دہشت گردانہ کاروائیوں میں سر گرم ہو جاتے ہیں یا عدالت سے ملت پاکستان کی خاموشی کے صدقے با عزت بری ہو جاتے ہیں۔

عثمان سیف اللہ اور شفیق الرحمان رند نامی دو دہشت گرد ۲۰۰۳ میں گرفتار ہوئے اور۲۰۰۸ میں جیل سے سانٹھ گانٹھ کی بنیاد پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے کوئٹہ بلوچستان میں حالیہ اجتما عی قتل میں ان ہی دو دہشت گردوں کو ماسٹر ماینڈ بتایا جاتا ہے۔ 

زخموں پر نمک پاشی کا حکومتی سطع پر اعلیٰ انتظام دیکھئے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان مسٹر اسلم نے اس بہیمیت پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: "بلوچستان کی آبادی کروڑوں نفوس پر مشتمل ہے اگر کروڑوں لوگوں میں سے چالیس پچاس آدمی مارے بھی جائیں تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑتی ہے"، وزیر اعلیٰ موصوف کے بیان سے قاتلوں کے ساتھ ساتھ ان کے پشت بانوں کا پول بھی کھل جاتا ہے بہر حال خون ناحق کی یہ ایک خاصیت ہے کہ وہ بالآخر اپنے خفیہ اور آشکار قاتل سے کسی نہ کسی صورت میں اقرار جرم کروا ہی دیتا ہے۔

بقول ساحر لدھیانوی

لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمین گاہوں میں

خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

سازشیں لاکھ اڑھاتی رہیں ظلمت کے نقاب

لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پر چراغ

جہاں ہر فرد کی سوچ اس قدر پست ہو کہ وہ دھماکے کے بعد اپنے جسمانی اعضاءکی نمبر شماری کرنے کے بعد اطمنان کی سانس لے کہ اس کے اپنے تمام اعضاء صحیح سلامت ہیں۔ جہاں فقط  النفسی النفسی کی رسم عروج پر ہو ، جہاں انساں دوستی، ظلم و ظالم سے نفرت، مظلوم سے ہمدردی جیسے اقدار قصہ پارینہ بن جائیں وہاں یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ سماجی میکانزم (Social Mechanism) حرکت میں آکر اپنے آپ ہی اس ماردھاڑ کو روک دے۔ اور ساتھ ہی مجرموں کو یہ احساس ہوجائے کہ ان کا معاشرہ انہیں خونریزی کی روش پر مزید گامزن رہنے کی اجازت نہیں دے گا۔ بدقسمتی سے پاکستان کی معاشرتی صورتِ حال مجرمانہ ذہنیت کو پروان چڑھانے میں دن بدن سازگار ہوتی جارہی ہے۔ صالح اور حساس سماج میں اس طرح کے واقعات کی وقوع پذیری معاشرتی ردِ عمل کا طوفان پیدا کردیتی ہے۔ مگر پاکستانی معاشرہ اس حوالے سے غیر حساس اور جامد نظر آرہا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں بے لوث لیڈر شپ کا کہیں پر سراغ بھی نہیں ملتا ہے۔ اور عوامی سطع پر مسلکی منافرت کا زہر عامیانہ ذہنیت کو مسموم کر رہی ہے۔ ایسے میں مسلم امہ کی ذمہ داری دوچند ہوجاتی ہے۔ اس انسانی المیئے پر غور و خوض اور اس کے لئے راہِ حل کی تلاش عالمِ اسلام کے عالمی فورم کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

۲۰۰۲ء سے اب تک پاکستان کی مختلف علاقوں میں خانقاہوں، جلسہ جلوسوں، مساجد ، امام بارگاہوں پر ساٹھ سے زائد خودکش حملے ہوئے جن کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے۔ ٹارگٹ کلنگ (Target Killing) میں متعدد ڈاکٹروں، انجینیروں، سرکرہ تاجروں، علما اور دانشوروں اور سیاسی لیڈروں کو مارا گیا اور یوں پاکستان کو بحیثیت مجموعی انسانی وسائل کے حوالے سے ایک ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ 

کئی ایک سرکردہ شخصیات کودہشت گردوں نے اس جرم میں قتل کردیا کہ وہ بین المسلمین اتحاد کے لئے کوشاں تھیں۔ دوسری جانب عراق میں صدام حسین کی ظالمانہ ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ ہو اہی تھا کہ عالمی استکبار لاو لشکر سمیت براجمان ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کا ایک انسانیت کش نیٹ ورک بھی وہاں پر قائم ہوا۔ 

صدام کے خوف و دہشت پر مبنی تیس سالہ دورِ حکومت میں عراقیوں نے گھٹ گھٹ کے زندگی گزاری۔ امریکی یورش سے طاغوتی بربریت کے زہریلے گھونٹ پینا پڑے۔ اور اس پر مستزاد یہ ہے القاعدہ سے وابستہ خودکش دہشت گردوں نے رہی سہی کسر نکالی۔ 

برطانوی جریدے دی لسنٹ کی اس حوالے ایک تحقیقی رپورٹ واقعاً چشم کشا ہے جس کے مطابق 2003 سے 2010 تک عراق میں عام لوگوں کے خلاف ایک ہزار تین سو خودکش حملے ہوئے جن میں بارہ ہزار دو سوچوراسی بے گناہ افراد مارے گئے۔ 

قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان تیرہ سو خودکش بمباروں میں سے ایک بھی یہودی، امریکی یا غیر مسلم ملوث نہیں تھا بلکہ سب کے مخصوص نظریہ کے قائل مسلمان تھے۔ یہی وجہ ہے ماسوائے چند،کسی مفتی، کسی امام یا کسی مولوی حتیٰ کہ اپنے آپ کو مسلکی حدبندیوں سے ماوراء جتانے والے مسلم رہنماؤوں نے اس ظلم کے خلاف لب کشائی تک نہیں کی۔ 

اس میں دورائے نہیں کہ مذکورہ حملے القائدہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کا کام ہے کیونکہ القاعدہ کے موجودہ رہنما ایمن الظواہری اپنے ایک بیان میں عام عراقیوں کے خلاف باضابطہ طور اعلان جنگ کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسند لیڈر الزرقاوی کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ ان انسانیت سوز کارروائیوں میں اس نے اہم رول ادا کیا۔ واضح رہے یہ شدت پسند مارا جاچکا ہے ۔ 

اجتماعی قتل کے متعدد واقعات میں ملوث اس شخص نے ہمارے بہت سے دانشوروں اور قلمکار حضرات سے خراج تحسین بھی پائی ہے۔ ایک قوم کیلئے اس سے بڑھکر زوال آمادگی کی علامت اور کیا ہوسکتی ہے کہ قاتل و مقتول کی مذمت اور حمایت نظریاتی بنیاد پر کی جائے، مظلوم کے حق میں اظہار ہمدردی کرنے سے قبل اپنے تمائلات، رجحانات اور نظریات کی لیبارٹری میں کشتہ ظلم کے خون کا ٹیسٹ کرائے ۔کہ اس کے خون سے کون سے عقائدکی بو آرہی ہے۔ حالانکہ اسی امت کو عالمی عدل و انصاف کا ضامن قرار دیا گیا ہے۔ 

قرآنِ کریم میں ملتِ اسلامیہ کو ”خیرامت“ اور ”امت وسط“ جیسے فخریہ اعزاز سے نوازا گیا۔ کیا ان قرآنی اصطلاحات کے پیشِ نظر امت کا بس یہی وظیفہ ہے کہ وہ اقوام عالم میں اپنی برتری پر نازاں رہے؟کیا یہ اصطلاحات ایک عظیم مسئولیت اور ذمہ داری کی حامل نہیں ہیں؟۔ مولانا سید اعلیٰ مودودی کی ”امت وسطہ“ کی شرح اسی مسولیت کی جانب متوجہ کرتی ہے۔ مودودی صاحب امتِ وسطہ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”امت وسطہ سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے جو عدل و انصاف اور توسط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیاں صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں طور پر حق اور راستی کا تعلق ہو اور ناحق، ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔ (تفہیم القران ا،جلد ا۔۱۔ص ۹۱۱)

اس معیار کی کسوٹی پر موجودہ ملتِ اسلامیہ کو پرکھا جائے تو ہر گز کھری نہیں اُتر سکتی۔ بینِ اقوام تو دور کی بات اس میں بین المسالک مساوات اور عدل گستری کا احساس روز بروز ماند پڑتا جارہا ہے۔ اسی امت کے شاندار اور عدل پروری سے مملو ماضی سے واقف افراد جانتے ہیں کہ اگر جنگی حالات میں مفتوح غیر مسلم علاقوں میں کسی فرد کے ساتھ معمولی قسم کی بھی زیادتی ہوا کرتی تھی تو وہ اُس امید کے ساتھ اپنی شکایات مسلمان حکمران کے حضور پیش کرتا تھا کہ اس کے ساتھ لامحالہ انصاف ہوگا۔ اور آج اُسی قوم کی حالت یہ ہے کہ مسلکی تشدد کے شکارایک کلمہ گوکے حوالے سے دوسرے کلمہ گو کی خاموشی کے پیچھے یہی سوچ کارفرماہوتی ہے” آنکہ کشتہ جور شد از قبیل ما نیست“ [وہ جو مارا گیا ہمارے قبیلے سے نہیں ہے] یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے میں زبانیں گنگ ہوجاتیں ہیں۔ لب ہلتے ہیں نہ قلم متحرک ہوجاتے ہیں۔ شعلہ بیان مقرر بڑی خوبصورتی کے ساتھ ان واقعات سے پہلو بچاتے ہیں۔ اتحاد کے داعی لیڈرانِ قوم پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے۔ 

تکلیف دہ امر یہ ہے کہ کسی لیڈر کو مجبوراً بیان دینا بھی پڑے تو اس کے پیچھے صہیونی اور سامراجی کارستانی کا روایتی انداز میں انکشاف کیا جاتا ہے حالانکہ یہ رٹا رٹا یا بیان داغتے وقت قاتلوں کی تصویریں اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتی ہیں۔ اس تلخ حقیقت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ایبٹ آباد میں امریکہ نے جو ڈراما رچایا۔ اس کے عوامل و محرکات اور حقائق کو جانے بغیر ہی، قلم کاروں کی ایک فوج میدان صحافت میں آگئی اور اس کے تبصرے پر الفاظ کا ایک بڑا ذخیرہ خرچ کردیا۔ امریکی حکمرانوں کی مذمت ہوئی۔ پاکستانی حکمرانوں کی بے غیرتی پر اظہار تاسف کیا گیا۔ اس طرح کا ردِ عمل دیکھ کر کون رشک نہ کرے کہ جس پر تشکیک کی دھول ابھی صاف نہیں ہوپائی تھی اس واقع پربھی ایک مستعد قوم نے فوری ردِ عمل کا اظہار کیا؟ 

دوسری جانب ستمبر کے مہینے میں ایک ہی طرز پر ایک ہی لابی سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ہاتھوں دو المناک وارداتیں پیش آئیں۔ عراق کے الانبار صوبے اور مستنوگ کوئٹہ پاکستان میں بالترتیب ۲۲ اور  29 زائرین کو مسلح دہشت گردوں نے بے دردی سے مار ڈالا اس بہیمیت پر کسی کی رگِ ہمدردی نہیں پھڑکی ۔کوئی قلم چلا نہ زبان ہلی۔ کیا اس طرح کی مصلحت آمیز خاموشی لائق عذر ہے؟ 

قوموں کی امامت کے تناظر میں ملتِ اسلامیہ کے خاص و عام میں وسعت ظرف کا ہونا لازمی ہے ظلم جہاں کہیں بھی ہو۔ ظالم چاہے کسی بھی مسلک، کسی بھی خطہ ارض سے تعلق رکھتا ہو ظالم تو آخر ظالم ہی ہوتا ہے۔ جب تک دہشت گردوں کو مسلکی نظریات کی پناہ گاہ میسر ہے، انہیں امت مسلمہ سے الگ تھلگ ہونے کا احساس کیونکر ہوگا۔ لہذا اس امت کے ہر فرد کے دل میں بغیر استثنا اس طرح کی کالی بھیڑوں کے خلاف ایک قومی جذبہ ابھرنا چاہیئے۔ 

واقعاً ”امت وسطہ“ اور ”خیرامت“ جیسے الفاظ باعث افتخار ہیں۔ بشرطیکہ اجتماعی انصاف کے تئیں افرادِ ملت میں ایک نظریاتی اور مسلکی حدبندیوں سے ماورا سوچ و فکر فروغ پائے۔ بصورتِ دیگر بقول مولانا مودودی ”یہی امامت کا فخر ہمیں وہاں (آخرت میں) لے ڈوبے گا۔ ہماری امامت کے دور میں ہماری واقعی کوتاہیوں کے سبب سے خیال اور عمل کی جتنی گمراہیاں دنیا میں پھیلی ہیں اور جتنے فساد اور فتنے خدا کی زمین میں برپا ہوئے ہیں۔ اُن سب کیلئے ائمہ شر اور شیاطین انس و جن کے ساتھ ساتھ ہم بھی ماخود ہوں گے ہم سے پوچھا جائے گاکہ جب دنیا میں معصیت، ظلم اور گمراہی کا یہ طوفان برپا تھا تم کہاں مرگئے تھے“۔

امت واحدہ کو حدیث نبوی میں ایک جسم کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ جسم کا ایک عضو اگر مبتلائے تکلیف ہو اور باقی اعضاء بے حس و حرکت ہوں تو جان لینا چاہیئے کہ جسم کے نظام ِ پیغام رسانی میں خلل واقع ہوا ہے ۔ جس کے نتیجے میں ایک اعصابی بیماری نے اسے آگھیرا ہے۔ ایک عضو کا تکلیف میں ہونا اصل میں دیگر اعضاء کی آزمائش اور امتحان کا مرحلہ ہوتا ہے کہ ان اعضاءکا ردِ عمل کیا ہوگا؟ 

یقینا عالمی سطح پر مسلکی انتشار اور قتل و غارت گری امت کیلئے ایک ایسی آزمائش ہے جس میں تساہل سے کام لینا خیر امت کے شایان شان نہیں ہے۔ اس طرح کے طرز عمل سے قلیل افراد پر مشتمل انتشار پسندوں کا گروہ بے خوب ہوکر ایسی کارروائیوں میں مزید اضافہ کردیتا ہے۔ 

بلوچستان کے شہر مستونگ میں جو واقعہ پیش آیا۔ اس کے تئیں ملی سطح پر سرد مہری دیکھ کر دہشت گردوں کے حوصلوں میں مزید اضافہ ہوا۔ انہوں نے ایک اور بس کو روکا، اور اس میں سے چودہ آدمیوں کو نیچے اُتار کر گولیوں سے چھلنی کردیا۔ جبکہ مستونگ کے مقام پر مارے جانے والے زائرین کے قبروں کی مٹی ابھی سوگواروں کے آنسووں سے تر تھی۔

قابل ذکر یہ ہے کہ فی الوقت اگر ان دہشت گردوں کا مرکزی ہدف (Main Target) فرقہ امامیہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیں۔ مگر اسے ہرگز یہ تاثر نہیں لیا جاسکتا ہے کہ باقی ماندہ فرقوں کیلئے یہ لوگ ضرر رسان ثابت نہیں ہوسکتے۔ ان کی نفسیات میں عدم برداشت کا عنصر اپنی حدوں کو پار کرچکا ہے۔ لہٰذا ان سے معمولی سا اختلاف انہیں آمادہ پیکار بناسکتا ہے۔ ان کی نظر میں کسی بھی ایسے شخص کے لئے دنیا میں رہنا جائز نہیں ہے جو ان کے مخصوص، مبہم، اور غیر لچک دار نظریاتی حصار میں رہنے کی زحمت گوارا نہ کرے۔ یہ کچھ بھی کریں ان کے خلاف ایک حرفِ اعتراض تک زبان پر لانا حرف کفر کے برابر ہے۔ جس کی مثال گزشتہ چند سالوں میں بآسانی مل سکتی ہے۔ نہ فقط جلوس عاشورا میں انہوں نے نواسہ رسول کے عزاداروں کے خون سے مختلف شاہراہوں کی لپائی کر دی، بلکہ حنفی مسلمانوں کی طرف سے نکالے گئے جلوس میلاد پر ان ہی دہشت پسندوں نے حملہ آور ہوکر ان متبرک اور پر مسرت لمحات کو سوگواری پر مجبو رکیا۔ 

واضح رہے۲۰۰۲ ءسے اب تک ساٹھ سے زائد بار مساجد پر حملے ہوئے اور سب کی سب مسجد میں شیعہ فرقے سے تعلق نہیں رکھتی تھیں۔ ضلع وزیرستان کے جن متعدد سکولوں کو طالبان سے وابستہ دہشت گردوں نے زمین بوس کیاان اسکولوں کو کم از کم کسی بھی مسلک کے کھاتے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ مسجد دیر بالا مسجدِ عزیز یا اور درہ آدم خیل کی مسجدوں میں نماز کے دوران جو باردو پھٹا اس کے نتیجے میں مارے جانے والے سب کے سب اہل تشیع تو نہیں تھے۔ حضرت داتا گنج کا دربارتومرجع خلائق ہے یہاں مسلمانوں کے فرقے بلکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا بھی تانتا بندھا رہتا ہے۔ سید مختار بخاری جیسے انصاف پرور اور بے باک وکیل کو کس جرم بے گناہی میں مارا گیا؟ مولانا سرفراز نعیمی سنی ا لمسلک تھے اور اہل سنت والجماعت کے عقیدے ہی کے عین مطابق دینی تعلیم پھیلانے میں مصروف تھے کہ اسی قماش کے دہشت گردوں نے انہیں عین اس وقت مار ڈالا جب وہ تعلیم القرآن وحدیث میں مشغول تھے۔ لہٰذا ملت پاکستان بالخصوص ملت اسلامیہ کو ”آں کہ کشتہ جور شد از قبیل ما نیست“ طرز فکر ترک کردینی چاہیے۔ 

خون کا ہر قطرہ جو سرزمین عراق و پاکستان پر گر رہا ہے اصل میں ملتِ اسلامیہ کے جسم سے ہی بہہ نکلتا ہے۔ دہشت گردی کا یہ حملہ بھی پوری ملت پر حملہ۔ جس کے خلاف مشترکہ طور صف آراء ہونے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردانہ کاروائیوں پر اگر ملت یوں ہی خاموش رہی تو یہ آگ اندر ہی اندر سلگتی رہے گی اور ایک روز ایسا بھی ہو گا کہ عالم اسلام سے وابستہ کوئی بھی ملک و مسلک اس کی لپیٹ سے نہیں بچ پائے گا۔ 

بہر حال خدا وند عادل کے حضور ہر چھوٹے بڑے ظلم کی جواب دہی ہے، اور تو اور اسکی عدالت میں مظلوم کی چیخ و پکارسن کر گراں گوشی سے کام لینے والے کا بھی ضرور مواخذہ ہو گا۔ قرآن کریم کے مطابق جس اللہ نے ناقہ صالح کی کوچیں کاٹنے پر ایک غیر مہذب اور بے ر حم قوم کو ہلاکت کے گھاٹ اتار دیا اس کے عدل سے یہ بات کافی بعید ہے کہ وہ اس تہذیب یافتہ دور میں خون انسان کو اس قدر ارزاں سمجھنے والوں کو کھلی چھوٹ دے۔ اور انہیں مکافاتِ عمل کا مزا نہ چکھائے۔ 

ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت اسلامیہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے۔ تاکہ بغض و حسد اور کینہ و نفرت کا جنازہ نکلے، مذہبی عدم برداشت کی بیخ کنی ہو، مسلکی تشدد کا خاتمہ ہو، مزید خون ناحق نہ بہے، خوف و دہشت کا ماحول نہ رہے، ایک کلمہ گو کو دوسرے کلمہ گو بلکہ ایک انسان کو دوسرے انسان کا کوئی کھٹکا نہ لگا رہے، کوئی بھی ماں اس بات کے لئے پریشان نہ ہو کہ اس کا بیٹا مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لئے گیا ہے خدا کرے کہ اب سلامت ہی لوٹ آئے! امید ہے کہ عدل و انصاف کا بول بالا ہو، محبت کا سکہ چلے، احترام آدمیت کا ہر سو راج ہو، انسانیت کے دشمنوں کے قلوب بھی منقلب ہوں۔ ہر شہر مدینہ طیبہ اور مکہ مکرمہ کی مانند بلدِ امین (یعنی امن کا شہر) قرار پائے۔ کراچی میں اگر کوئی بےگناہ ڈاکٹر مارا جائے تو مسلمانانِ عالم اس کا رد عمل یوں پیش کریں گویا کوئی حرم پاک میں تسبیح بدست ذکراللہ میں مشغول مسلمان مارا گیا ہو۔ یہ سب ممکنات میں سے ہے ۔ 

بس اس بیغام حکیم الامت پر کان دھرنے اور عمل کرنے کی دیر ہے:

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو 

اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا

یہ ہندی وہ خراسانی، یہ افغانی وہ تورانی 

تو اے شرمندہ ساحل، اچھل کر بیکراں ہو جا

غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے 

تو اے طائر حرم اڑنے سے پہلے پر فشاں ہو جا

ساحر لدھیانوی

خون پھر خون ہے

ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

خاکِ صحرا پہ جمے یا کفِ قاتل پہ جمے

فرقِ انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے

تیغِ بیداد پہ، یا لاشہ بسمل پہ جمے

خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں

خون خود دیتا ہے جلادوں‌کے مسکن کا سراغ

سازشیں لاکھ اوڑھاتی رہیں ظلمت کا نقاب

لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ

تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا

آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے

کہیں شعلہ، کہیں نعرہ، کہیں پتھر بن کر

خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں‌سے

سر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں‌ سے

ظلم کی بات ہی کیا، ظلم کی اوقات ہی کیا

ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک

خون پھر خون ہے، سو شکل بدل سکتا ہے

ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے

ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے

ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے

 اقبال فرماتے ہیں:

تو راز ِ کُن فکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا

خُودی کا رازداں ہو جا، خدا کا ترجُماں ہو جا

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع ِ انساں کو

اُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا 

یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی 

تو اے شرمندۂ ساحل! اچھل کر بے کراں ہو جا 

غبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے 

تو اے مرغ حرم! اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا 

خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سر زندگانی ہے 

نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا 

مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر 

شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا 

گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے 

گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا 

 

 


source : http://www.abna.ir
447
3
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

ایثار اور قربانی کے بغیر بڑے اور مقدس اہداف کا تحفظ ...
اجتماعی روابط کی اصلاح میں ایمان کا کردار
مکتب اہل بیت میں بچے کی تربیت
قانون گزاری کے لئے انبیاء کی ضرورت
عصر حاضر کے تناظر میں مسلمانوں کا مستقبل-3
اسلام میں بچی کا مقام
اہل سنت اور واقعہ غدیر
مسلکی تشدد اور امت مسلمہ کی ملی ذمہ داری
مثالی معاشرے کے بنیادی ارکان۔
اسلام، دوستی اور مهربانی کا مظهر

 
user comment
مبین احمد اعظمی
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ“ اس شعر کا حوالہ بتائیں۔ مہربانی ہوگی
پاسخ
0     0
12 دى 1391 ساعت 8:08 بعد از ظهر
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ“ اس شعر کا حوالہ بتائیں۔ مہربانی ہوگی
پاسخ
0     0
12 دى 1391 ساعت 8:07 بعد از ظهر
کامران مینر بھوپال
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ ۔۔۔ سر کیا آپ اس شعر کا حوالہ دے سکتے ہیں ۔ اقبال کی کون سی کتاب میں مل سکتا ھے مجھے یہ شعر ؟
پاسخ
0     0
22 آبان 1390 ساعت 00:18 صبح