اردو
Saturday 17th of April 2021
302
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

امام رضا (ع) کی حدیث سلسلۃ الذہب کا مختصر تعارف

مشہور ہے کہ جب آپ شہر نیشابور پہنچے تو طلاب علم و محدثین نے آپ کے اطراف حلقہ کر لیا جبکہ آپ اونٹ پر سوار تھے اور آپ سے درخواست کی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرمائیں ۔

آنحضرت (ع) نے اپنے آباء و اجداد کے حوالے سے رسول خدا(ص) سے جنہوں نے جبرئیل کے ذریعہ خداوند عالم کا یہ قول نقل فرمایا " کلمۃ لا الٰہ الا اللہ حصنی و من دخل حصنی امن من عذابی " یعنی کلمہ لا الٰہ الا اللہ ایک قلعہ ہے جو اس میں داخل ہو جائے گا وہ عذاب الٰہی سے نجات پا جائے گا ۔ 

چونکہ اس حدیث کے سارے سلسلے معصوم ہیں اس لئے یہ حدیث سلسلۃ الذہب کے نام سے مشہور ہوئی اور اس حدیث کو اس شہر میں نقل کرنے کی وجہ بھی یہ تھی کہ مسلمانوں کو توحید اور وحدت کی جانب دعوت دیں تاکہ اس کلمے کے ذریعے تمام مسلمان اختلاف سے بچیں اور ہر طرح کی تشویش و عذاب سے محفوظ رہیں۔

اس حدیث قدسی میں حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کا مقصد تین نکات بیان کرنا تھے:

1۔ آپ (ع) نے یہ حدیث قدسی (1) اپنے آباء و اجداد سے نقل کی جنہوں نے یہ حدیث ایک دوسرے سے نقل کی تھی حتی کہ یہ سلسلہ رسول اللہ (ص) تک پہنچا اور رسول اللہ (ص) نے یہ حدیث جبرائیل (ع) سے اور جبرائیل (ع) نے اللہ عز و جل سے نقل کی ہے۔ 

آپ (ع) نے اس طرح اپنے آباء و اجداد کا ذکر کیا جو سب امام اور اوصیائے رسول اللہ (ص) تھے، آپ (ع) نے اس مقام پر اکٹھے ہونے والے تمام راویوں اور کاتبین کو اس حقیقت کی یادآوری فرمائی کہ آپ اور آپ (ع) کے آباء و اجداد اوصیاء اور ائمہ ہیں۔ 

2۔ آپ (ع) نے لوگوں کو یگانہ پرستی اور خدا پرستی کی ضرورت یاد دلائی جو کہ تمام اعتقادات کی بنیاد ہے، آپ (ع) نے توحید کی یادآوری کراتے ہوئے یہ بات بھی یاد دلائی کہ زمانے کے طاغوتوں اور طاغوت صفت حکمرانوں کے دھوکے میں نہ آئیں۔

3۔ حقیقی اور شرک اور ریا سے خالی، یکتاپرستی کا لازمہ ولایت اہل بیت (ع) ہے اور جب تک مسلمانوں کے معاشروں میں عادلانہ قیادت و رہبری قائم نہ ہوگی بت اور بتوں کی صفات کے حامل انسان اور طاغوت توحید اور یکتاپرستی کو اپنے صحیح راستے پر گامزن نہ ہونے دیں گے۔  

تاریخ میں ہے کہ اس حدیث کو لکھنے کے لئے 24 ہزار افراد نے قلمدان اٹھا رکھے تھے اور فرزند رسول اللہ (ص) امام رضا علیہ السلام کے گوہر بار کلمات لکھنے کے لئے آئے تھے۔ (2)

سوال: کیا حدیث حدیث سلسلة الذهب(کلمه لا اله الا الله حصنی) ایک متواتر حدیث ہے؟ اس حدیث کے منابع و مصادر کیا ہیں؟

جواب: حدیث سلسلة الذهب ایک مشہور و معروف حدیث ہے جو ایک ساتھ بیس ہزار افراد نے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے نقل کی ہے اور امام علیہ السلام نے اپنے آبائے طاہرین علیہم السلام اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اور جبرائیل علیہ السلام سے روایت کی ہے اور جبرائیل نے خدائے بزرگ و برتر سے نقل کی ہے نہايت نامی گرامی سند سے نقل ہوئی ہے اور اسی وجہ سے سلسلۃ الذہب (سونے کی زنجیر) کے نام سے مشہور ہوئی۔ 

حنبلی مذہب کے امام احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی نے کہا ہے کہ اگر یہ روایت ان افراد کی جلالت کی بنا پر ـ جن کا نام اس کی سند میں مذکور ہے ـ کسی جن زدہ فرد پر پڑھ لی جائے تو تو وہ ہوش میں آتا ہے۔

ابن حنبل کی روایت کچھ یوں ہے:

حدثنا أبو اسحاق ابراهیم بن عبدالله بن اسحاق المعدل ثنا أبو علی احمد بن علی الأنصاری بنیسابور ثنا أبو الصلت عبدالسلام بن صالح الهروی ثنا علی بن موسى الرضا حدثنی أبی موسى بن جعفر حدثنی أبی جعفر بن محمد حدثنی أبی محمد بن علی حدثنی أبی علی بن الحسین بن علی حدثنی أبی علی ابن أبی طالب رضی الله تعالى عنهم حدثنا رسول الله صلى الله علیه وسلم عن جبریل علیه السلام قال قال الله عز وجل إنی أنا الله لا إله إلا أنا فاعبدونی من جاءنی منكم بشهادة أن لا إله الا الله بالاخلاص دخل فی حصنی ومن دخل فی حصنی أمن من عذابی هذا حدیث ثابت مشهور بهذاالإسناد من روایة الطاهرین عن آبائهم الطیبین وكان بعض سلفنا من المحدثین اذا روى هذا الاسناد قال لو قرىء هذا الاسناد على مجنون لأفاق۔ (3)

حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا کا امام صادق نے فرمایا: میرے والد امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کے والد امام علی زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کے والد امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ خداوند متعال نے ارشاد فرمایا کہ: میں اللہ ہوں اور میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے پس میری عبادت اور بندگی کرو۔ تم میں سے جو بھی میرے پاس آئے گا اور اخلاص کے ساتھ گواہی دے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہ میرے قلعے میں داخل ہوجاتا ہے اور جو بھی میرے قلعے میں داخل ہوجائے میرے عذااب سے محفوظ ہوگا یہ حدیث مشہور اور ثابت ہے اسی اسناد سے جو امام رضا علیہ السلام نے اپنے طیب و طاہر آباء و اجداد سے روایت کی ہے اور محدثین میں سے ہمارے بعض اسلاف میں سے بعض نے کہا ہے کہ اس سند کو اگر کسی جن زدہ اور آسیب زدہ انسان پر پڑھ لیا جائے تو وہ ہوش میں آئے گا۔

وقال أبو علی قال لی أحمد بن حنبل إن قرأت هذا الإسناد على مجنون برئ من جنونه وما عیب هذا الحدیث إلا جودة إسناده۔ (4)

ابوعلی نے کہا کہ احمد بن حنبل نے مجھ سے کہا کہ اگر یہ سند ہم کسی آسیب زدہ شخص پر پڑھ لیں تو وہ صحتیاب ہوجائے گا اور اس سند میں ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ یہ بہت اچھی ہے مگر نایاب ہے۔

البتہ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ چونکہ سامانی سلسلے کے ایک امیر نے یہ حدیث سونے کے پانی سے لکھوائی اور اس کے لئے بے انتہا احترام کا قائل تھا چنانچہ اس نے مرتے وقت وصیت کی کہ "یہ حدیث لکھ کر میرے ساتھ دفن کریں" اور جب ان کا انتقال ہوا تو یہ حدیث لکھ کر ان کے ساتھ دفنا دی گئی۔ انتقال و تدفین کے بعد بعض موثق افراد نے انہیں خواب میں دیکھا اور انھوں نے کہا: "خداوند متعال نے مجھے بخش دیا کیونکہ میں نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا اور اس کے پیغمبر (ص) کی تصدیق کردی اور یہ کہ میں نے یہ حدیث تعظیم و احترام سے لکھوا دی۔ 

وبما حكاه الأستاذ الأعظم عن كشف الغمة " أن بعض الأمراء السامانیة كتب الحدیث الذی رواه الرضا ( علیه السلام ) لأهل نیشابور بسنده عن آبائه ( علیهم السلام ) إلى الرب تعالى بالذهب ، وأمر بأن یدفن معه ، فلما مات رئی فی المنام فقال غفر الله لی بتلفظی بلا إله إلا الله ، وتصدیقی بمحمد ( صلى الله علیه وآله ) وإنی كتبت هذا الحدیث تعظیما واحتراماً. (5)

اور اب اصل روایت شیعہ کتب میں

شیخ صدوق نے اپنی کتب میں یہ روایت نقل کی اور اس کے لئے کئی سندیں بھی ذکر ہیں۔ انھوں نے صرف "کتاب التوحید" میں یہ روایت تین اسناد سے نقل کی ہے اور ہم صرف ایک سند اپنے قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:

حدثنا محمد بن موسى بن المتوكل رضی الله عنه ، قال : حدثنا أبو الحسین محمد بن جعفر الأسدی ، قال : حدثنا محمد بن الحسین الصوفی ، قال : حدثنا یوسف ابن عقیل ، عن إسحاق بن راهویه ، قال : لما وافى أبو الحسن الرضا علیه السلام بنیسابور وأراد أن یخرج منها إلى المأمون اجتمع إلیه أصحاب الحدیث فقالوا له : یا ابن رسول الله ترحل عنا ولا تحدثنا بحدیث فنستفیده منك ؟ وكان قد قعد فی العماریة ، فأطلع رأسه وقال : سمعت أبی موسى بن جعفر یقول : سمعت أبی جعفر بن محمد یقول : سمعت أبی محمد بن علی یقول : سمعت أبی علی بن الحسین یقول : سمعت أبی الحسین ابن علی بن أبی طالب یقول : سمعت أبی أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب یقول : سمعت رسول الله صلى الله علیه وآله وسلم یقول : سمعت جبرئیل یقول : سمعت الله جل جلاله یقول : لا إله إلا الله حصنی فمن دخل أمن من عذابی . قال : فلما مرت الراحلة نادانا . بشروطها وأنا من شروطها .

قال مصنف هذا الكتاب : من شروطها الاقرار للرضا علیه السلام بأنه إمام من قبل الله عز وجل على العباد ، مفترض الطاعة علیهم. (6)

جب امام رضا علیہ السلام نیشابور پہنچے اور وہاں سے مامون کی طرف جانے لگے تو نیشابور کے محدثین آپ (ع) کے گرد اکٹھے ہوئے اور عرض کیا: اے فرزند رسول خدا (ص) آپ یہاں سے جا رہے ہیں اور ہمیں ایک حدیث بھی نہیں سنائیں گے تا کہ ہم آپ کی برکت سے اس حدیث سے استفادہ کریں؟ 

حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام اونٹ کے ہودج میں تشریف فرما تھے چنانچہ آپ (ع) نے سر کجاوے سے باہر نکال کر فرمایا: میں نے اپنے والد موسی بن جعفر (ع) کو فرماتے ہوئے سنا کہ: میں نے اپنے والد جعفر بن محمد (ع) سے سنا جو فرما رہے تھے کہ: میں نے اپنے والد محمد بن علی (ع) سے سنا جو فرما رہے تھے کہ: میں نے اپنے والد علی بن الحسین (ع) سے سنا جو فرما رہے تھے کہ: میں نے اپنے والد حسین بن علی (ع) سے سنا جو فرما رہے تھے: میرے والد امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا کہ: میں نے  جبرائیل سے سنا جو کہہ رہے تھے کہ انھوں نے خداوند جلّ جلالہ سے سنا کہ ارشاد فرما رہا تھا: "لا اله الا الله" کا کلمہ میرا مستحکم قلعہ ہے پس جو بھی اس قلعے میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا۔ 

پس جب قافلہ روانہ ہوگیا تو امام (ع) نے ہم سے مخاطب ہوکر فرمایا: البتہ (یہ بات اور عذاب الہی سے بچاؤ)  کی اپنی شرطیں ہیں "اور میں اس کی شرطوں میں سے ہوں"۔ 

شیخ صدوق رقم کرتے ہیں: عذاب سے بچاؤ کی شرطوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اقرار کرے کہ "امام رضا علیہ السلام اللہ کی جانب سے اس کے بندوں کے امام ہیں اور آپ (ع) کی اطاعت اس کے تمام بندوں پر فرض اور واجب و لازم ہے۔ 

حوالہ جات:

۱- حديث قدسی وہ حدیث ہے جو پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قلب مقدس پر اتری ہو۔ 

۲- حاج شيخ عباس قمى ، (( منتهى الامال )) ص 40 (بخش حالات حضرت رضا عليه السلام ).

3۔ (حلیة الأولیاء ج3/ص191)

4۔ (تاریخ أصبهان فاضل مالکی ج1/ص174)

5۔ (البحار - ج 12)

6۔ التوحید - الشیخ الصدوق - ص 25)

 


source : http://www.abna.ir
302
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

اقوال حضرت امام زین العابدین علیہ السلام
ائمہ معصومین علیہم السلام نے ایسے دورحکومت -2
اقوال حضرت امام علی النقی علیہ السلام
امام حسین اپنے والد بزرگوار کے ساتھ
بعثت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے خطوط بادشاہوں اور ...
سیدالشہداء کے لئے گریہ و بکاء کے آثار و برکات
پیغمبر (ص) امامت کو الٰہی منصب سمجھتے ہیں
باغ فدک کے تعجبات
نبوّت عامہ اور امامت

 
user comment