اردو
Sunday 27th of November 2022
0
نفر 0

جاہل کون ہے ؟

کاش کہ سب بڑے چھوٹے، عالم جاہل اس مہم اور حیاتی امر میں صحیح فکر رکھتے اور اُن حجابوں کو ہٹادیتے کہ جو قدر ومنزلت کے پہچاننے میں مانع ہوتے ہیں، اس طرح اپنی اور دسروں کی سعادت کو اس راہ میں فراہم کرتے ۔

۱۔ جاہل وہ ہے جو اپنی قدر ومنزلت نہ پہچانے!

کتنی زیادہ مشکلات ہیں جو بلند پروازی اور چادر سے زیادہ پاوٴں پھیلانے اور ایسے مقام کی تمنا کرنے سے وجود میں آتی ہیں جن کا انسان مستحق نہیں ہوتا ہے یا ان کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے؛ اور ان تمام مشکلات کا سرچشمہ یہ ہے کہ انسان اپنی قدر ومنزلت کو تشخیص دینے میں غلطی اور اشتباہ میں گرفتار ہوتا ہے اور یہ اشتباہات وغلطیاں حُبِّ ذات اور نقاط ضعف کو بڑا سمجھنے اور نقاط قوة کو چھوٹا سمجھنے سے حاصل ہوتی ہیں ۔

اپنی قدر منزلت کو کھودینا اور بلاوجہ کی بلند پروازیاں اور ان سے وجود میں آئیں بے جا توقعات ایسی بلائیں ہیں کہ جن میں ہمیشہ بشری معاشرہ گرفتار رہا ہے، یہ نہ فقط معاشرے کے لئے نقصاندہ ہیں بلکہ انسان کو بھی زحمت، بدبختی اور ناکامی کے گھاٹ اُتار دیتی ہیں اور اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک منصب اور مقام پر اپنے وظیفہ کو بخوبی انجام دے سکتا ہے اور معاشرہ کے لئے خیر وبرکت کا سبب بن سکتا ہے، لیکن اپنی قدر ومنزلت کو نہ پہچاننے کی وجہ سے ایسے مقام کی تمنا کرنے لگتا ہے کہ جس کی اس کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے اور اپنی طاقت اور لیاقت کو برباد کردیتا ہے اور دوسروں کو بھی زحمت اور نقصان میں ڈال دیتا ہے ۔

کاش کہ سب بڑے چھوٹے، عالم جاہل اس مہم اور حیاتی امر میں صحیح فکر رکھتے اور اُن حجابوں کو ہٹادیتے کہ جو قدر ومنزلت کے پہچاننے میں مانع ہوتے ہیں، اس طرح اپنی اور دسروں کی سعادت کو اس راہ میں فراہم کرتے ۔

اسی لئے نہج البلاغہ نے مکرر اس مسئلہ پر زور دیا ہے، منجملہ خطبہ نمبر۱۰۳ میں ہے: ”اَلْعَالِمُ مَن عَرَفَ قَدْرَہُ وَکَفیٰ بِالْمَرْءِ جَھْلاً اٴنْ لَایَعْرِفَ قَدْرَہُ؛حقیقی عالم وہ ہے جو اپنی قدر ومنزلت کو پہچانے اور انسان کی جہالت کے لئے اتنا ہی کاف ہے کہ وہ اپنی قدر کو نہ پہچانے!“۔

نہج البلاغہ کے ۳۱ویںخط میں بہت زیادہ پُر مغز اور حکمتوں سے لبریز نصیحتوں کے ضمن میں جو مولیٰ نے اپنے فرزند ارجمند امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے نام تحریر فرمایا تھا، اس طرح فرماتے ہیں: ”وَمَنِ اقْتَصَرَ عَلیٰ قَدْرِہِ کَانَ اٴَبْقیٰ لَہُ؛ جو کوئی اپنی قدر ومنزلت پر قانع رہتا ہے، یہ اس کے (نفع) کے لئے زیادہ دیرپا ہے!“۔

کلمات قصار کے۱۴۹ ویں کلمہ میں فرماتے ہیں: ”ھَلَکَ امْرُءٌ لَم یَعْرِفْ قَدْرَہُ؛ جس نے اپنی قدر ومنزلت کو نہ پہچانا ہلاک ہوگیا!“۔

حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے عرض کیا: میں بازار سے گزر رہا رہا تھا دیکھا کہ ایک شخص آواز لگار رہا ہے کہ میں آل محمد کے خالص شیعوں میں سے ہوں حالانکہ وہ اس وقت کپڑوں کو نیلام کررہا تھا اور زیادہ سے زیادہ قیمت کا طلبگار تھا، امام موسی بن جعفر علیہما السلام نے فرمایا: ”مَا جَھِلَ وَلَاضَاعَ اٴمْرُءٌ عَرَفَ قَدْرَ نَفْسِہِ؛جو اپنی قدر کو پہچان لے جاہل نہیں اور نہ ہی وہ ضائع ہوگا“! آپ(علیه السلام) نے مزید فرمایا: معلوم ہے یہ شخص کس کے مانند ہے؟ یہ شخص اس کی طرح ہے جو اپنے آپ کو سلمان، ابوذراور عمّار کی مانند کہتا ہے لیکن خزید وفروش میں کمی کرتا اور اپنی چیز کے عیبوں کو چھپاتا ہے․․․․ کیا ایسا آدمی سلمان، ابوذر اور عمار کے جیسا ہوسکتا ہے؟ کبھی بھی نہیں!․․․․․ کیا حرج ہے کہ کہے محمد وآل محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا دوست ہوں ۔(۱)

۱۔ بحارالانوار، ج۶۵، ص۱۵۷ (کچھ تلخیص کے ساتھ) ۔

مذکورہ بالا جملہ میں یہ احتمال بھی دیا جاسکتا ہے کہ اپنے آپ کو نہ پہچاننے سے مراد یہ ہو کہ انسان کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بس یہ ہی جسم اور یہ ہی مادی دنیا ہے اور اپنے آپ کو بے قیمت یا کم قیمت مادّی چیزوں کے بدلے بیچ ڈالے حالانکہ اس میں ایسا گران قیمت گوہر ہے کہ جو اُسے عالم بالا سے عطا ہوا ہے؛ اور روی زمین پر خدا کا نمائندہ اور ”خلیفة فی ارضہ“ کا مصداق ہے، وہ باغ ملکوت کا طائر ہے نہ کہ خاکی عالم کا، اگرچہ چند روز کے لئے کسب کمال کی خاطر فقس عنصری کی قید میں ہے، لہٰذا حقیقی عالم اور واقعی دانشور وہ ہے جو اس قدر ومنزلت کو پہچانے اور ”لَقَدْ کَرَّمْنَا“ کے اس لباس کا احترام کرے جو خداوندعالم نے اسے ہبہ فرمایا ہے اور جو اس بلند مقام سے لاپرواہی برتے گا تو شہوتوں اور ہوائے نفس کی گھاٹی میں سقوط کرجائے، لیکن ”مَنِ اقْتَصَرَ عَلیٰ قَدْرِہِ کَانَ اٴَبقیٰ لَہُ“ کے جملے اور ایسے ہی دانشمندوں کی زبان پر اس جملہ ”اَلْعَالِمُ مَنْ عَرَفَ قَدْرَہُ وَلَمْ یَتَجَاوَزْ حَدَّہُ؛ عالم یا عاقل وہ ہے جو اپنی قدر کو پہچانے اور اپنی حد سے تجاوز نہ کرے، جو انھیں حدیثوں سے اقتباس ہے، پر توجہ رکھتے ہوئے پہلے معنی زیادہ مناسب نظر آتے ہیں ۔

خطبے کا مضمون بھی جو طلجہ وزبیر کے جیسوں کے واقعات اور ان کی بے جا توقعات پر ناظر ہے اسی تفسیر کی تائید کرتا ہے ۔

۲۔ اعتدال اور میانہ روی، الٰہی صراط مستقیم ہے

جہان خلقت پر ایک نظر کرنا واضح کردیتا ہے کہ توانائیوں کے درمیان اعتدال وتعادل کا مسئلہ اس دنیا کی بقاء کی بنیادی اصل ہے ۔

آسمان کے عظیم منظومہ کو قوہٴ جاذبہ اور دافعہ محفوظ رکھتا ہے اس طرح کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے پر غالب آجائے تو دنیا اس طرح ختم اور ایک دوسرے سے دور ہوجائے گی کہ ذرّہ برابر بھی اس کا اثر باقی نہ رہے گایہ قانون جو عالم کبیر میں صادق ہے عالم صغیر یعنی ایک انسان کے وجود میں بھی صادق آتا ہے اور جسم وروح کی توانائیوں کے درمیان تعادل انسان کی حیات اور بقاء و سلامتی کا راز ہے ۔

خون کی مختلف ترکیبات، اعصاب ”سمپاٹک“ اور ”پیراسمپاٹک“ حرکتوں کا اعتدال، دل کی دھڑکنوں کا میزان، بدن کا وزن، خون کے دباوٴ کی مقدار، خون کی غلظت، سانس کی مشینری کا تعادل اور آخرکار ہر چیز کی حرکت کے تعدال کا صحیح خط پر ہونا، ہماری سلامتی کے بنیادی ستون کو تشکیل دیتا ہے اور اگر ہمارے وجود کے ذرّات میں سے ایک ذرّہ بھی حدّاعتدال سے افراط وتفریط کی طرف منحرف ہوجائے، تو ہمارے جسم وروح میں اس کا ردّعمل ظاہر ہوجاتا ہے ۔

قران مجید نے امّت مسلمہ کو امّت وسط سے تعبیر کیا ہے اسی وجہ سے اُسے دنیا کے تمام لوگوں پر حجّتقرار دیا ہے تاکہ اپنے آپ کو اسی معیار پر پرکھتے ہوئے اپنی کمیوں وزیادتیوں کو تشخیص دیں اور ان کی اصلاح کریں ۔

امام علیہ السلام کے پُرنور کلام میں بھی اس مسئلہ پر تاکید ہوئی ہے اور اصلی شاہراہ کو وہی طریق وسطیٰ بتایا گیا ہے کہ آیات قران اور آثار نبوت کو اسی راہ پر ڈھونڈا جاسکتا ہے اور معصومین علیہم السلام کی سنّت میں داخل ہونے کی راہ اور نجات کا راستہ بھی اسی کو سمجھا گیا ہے ۔

اس سیدھی راہ سے انحراف انسانی معاشرہ میں کس قدر بدبختیوں کا سبب ہوتا ہے اور پے درپے وہ بدبختیاں آتی رہتی ہیں، کبھی تفریط کا سرچشمہ افراط ہوتا ہے اور کبھی اس کے برعکس۔

ایک دن تو دنیا میں شخصی مالکیت کے مسئلہ میں ایسے افراط کرتے ہیں کہ ساری دولت کو کچھ افراد کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں اور قوموں کا ایک بڑا حصّہ اس سے محروم ہوجاتا ہے ۔ دوسرے روز محرومین اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور شخصی مالکیت یہاں تک کہ اس کی معتدل شکل کی بھی نفی کردیتے ہیں اور ایسے مکتب اور آئین کو بروئے کار لاتے ہیں کہ ستر(۷۰) سال کی تلاش و کوشش کے باوجود فقر وبدبختی اور عقب افتادگی کے علاوہ کوئی ثمرہ نصیب نہیں ہوتا اور اس دوران بے حساب خون بہایا جاتا ہے ۔

دوسرے مسائل (چاہے وہ عقیدتی ہوں یا اخلاقی، اجتماعی ہوں یا سیاسی) میں بھی یہی افراط وتفریط شکستوں، ناکامیوں اور اندھیروں کا اصلی سبب ہوتا ہے ۔

 

 

 


source : http://www.taqrib.info
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

اگر كوئی شخص تنگدستی كی بناء پر شادی كرنا نہیں ...
امام حسین علیہ السلام کون ہیں؟
کیوں شیعہ ظہرين ومغربين ملا کر پڑھتےہیں ؟
عرش و کرسی کیا ھے؟
ہم نے مذہبی قصوں میں حضرت موسی (ع) کی پیدائش کے ...
غدیر کے با شکوہ اجتماع کا مقصد ؟
کیا آزر حضرت ابرہیم (علیه السلام) کا باپ تھا
قرآن مجید کی نظر میں مجسّمہ سازی اور نقاشی کے ھنر ...
کیا انبیاء اور اولیاء (علیہم السلام) کی قبروں کی ...
شیطان کی قید، ماہِ رمضان المبارک میں کیا حقیقت ...

 
user comment