اردو
Saturday 13th of August 2022
0
نفر 0

ادب

ہر ماں باپ کى یہ حتمى خواہش ہوتى ہے کہ ان کے بچے مہذب ہوں، اچھے اور باادب بچے ہر ماں باپ کى سربلندى کا ذریعہ ہوتے ہیں اور وہ ان پر فخر کرتے ہیں جو بچے دوسروں سے ملاقات کے موقع پر سلام کرتے ہیں اور جدا ہونے پر خداحافظ کرتے ہیں مصافحہ کرتے ہیں حال پوچھتے ہیں ،پیار سے انداز سے بات کرتے ہیں، بزرگوں کا احترام کرتے ہیں ، ان کے آنے پر احتراماً کھڑے ہوجاتے ہیں صاحبان علم ، باتقوى اور نیک افراد کا احترام کرتے ہیں محفل میں مؤدب رہتے ہیں شور نہیں کرتے اور اگر کوئی کچھ دے تو اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں کسى کو گالى نہیں دیتے ، دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچاتے ، دوسروں کى بات نہیں کاٹتے، کھانے کے آداب ملحوظ رکھتے ہیں بسم الله کہتے ہیں چھوتے نوالے لیتے ہیں ، آہستہ آہستہ چباتے ہیں، اپنے سامنے سے کھاتے ہیں ، زیادہ نہیں کھاتے ، کھانا زمین پر نہیں پھینکتے ، اپنے ہاتھوں اور لباس کو خراب نہیں کرتے ، صاف ستھرے اور پاکیزہ رہتے ہیں کسى کى توہین نہیں کرتے دوسروں کا لحاظ کرتے ہیں اور صحیح طریقے سے بیٹھتے اور اٹھتے ہیں، صحیح انداز سے چلتے ہیں اطاعت شعار اور فرمان بردار ہوتے ہیں کسى کا تمسخر نہیں اڑاتے اور دوسروں کى بات کان لگاکر سنتے ہیں ایسے بچے باادب ہوتے ہیں نہ صرف والدین بلکہ سب لوگ با ادب بچوں سے پیار کرتے ہیں اور گستاخ اور بے ادب بچوں سے نفرت امیر المؤمین على علیہ السلام فرماتے ہیں:

''ادب انسان کا کما ل ہے'' ( 1

حضرت على علیہ السلام فرماتے ہیں:

'ادب انسان کے لیے خوبصورت لباس کے مانند ہے '' ( 2

لوگوں کو اچھے آداب کى سونے اور چاندى سے زیادہ ضرورت ہے '' ( 3

حضرت على علیہ السلام فرماتے ہیں:

ادب سے بڑھ کے کوئی زینت نہیں '' ( 4

امیر المومنین على علیہ السلام فرماتے ہیں:

باپ کى بہترین وراثت اپنے بچے کے لیے یہ ہے کہ اسے اچھے آداب کى تربیت دے '' ( 5

حضرت على علیہ السلام فرماتے ہیں:

بے ادب شخص میں برائیاں زیادہ ہوں گی'' ( 6

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

سات سال تک اپنے بچے کو کھیلنے کى اجازت دو اور سات سال سے آدا ب زندگى سکھاؤ'' ( 7

رسول اکر م صلى الله علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: ''بچے کے والدین پر تین حق ہیں ،

1اس کے لیے اچھا نام منتخب کریں 

2اسے با ادب بنائیں اور 

3اس کے لیے اچھا شریک حیات انتخاب کریں '' 8 

ہر ماں باپ کى انتہائی آرزو یہ ہوتى ہے کہ ان کى اولادبا ادب ہو لیکن یہ آرزو خود بخود اور بغیر کوشش کےپورى نہیں ہو سکتى اور نہ ہى زیادہ و عظ و نصیحت سے بچوں کو مؤدب بنایا جا سکتا ہے اسمقصد تک

پہنچنے کے لیے بہترین راستہ ان کے لیے اچھا نمونہ عمل مہیا کرنا ہے ماں باپ کو خود مؤدب ہونا چاہیے تا کہ وہ اپنى اولاد کو عملى سبق دے سکیں 

حضرت على علیہ السلام فرماتے ہیں:

''بہترین ادب یہ ہے کہ اپنے آپ سے آغاز کرو'' 9

امیر المومنین حضرت على علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اپنے کردار کو مؤدب بنائیں پھر دوسروں کو وعظ و نصیحت کریں'' 10

بچہ تو نرا مقلّد ہوتا ہے تقلید کى فطرت اس کے اندر بہت اہم اور طاقتور ہوتى ہے بچہ ماں باپ اور دوسرے لوگوں کے گفتار و کردار کى پیروى کرتا ہے یہ صحیح ہے کہ تلقین بھى تربیتى عوامل میں سے ایک ہے لیکن تقلید انسانى جبلّت میں زیادہ قوى اور طاقت ور ہوتى ہے خصوصاً بچپن میں جن ماں باپ کى خواہشہے کہ ان کے بچے مؤدب ہوں انہیں چاہیے کہ پہلے اپنے طرز عمل کى اصلاح کریں وہ با ادب ماں باپ بنیں انہیں چاہیے کہ ایک دوسرے سے ، اپنے بچوں سے اور تمام لوگوں سے مؤدبانہ طرز عمل اختیار کریں اور آداب زندگى کى پابندى کریں تا کہ بچے ان سے سبق حاصل کریں ان سے درس حیات حاصل کریں اگر ماں باپ آپسمیں ایک دوسرے سے بااب ہوں ، گھر میں آداب واقدار کو ملحوظ رکھتے ہوں بچوں سے بھى با ادب رہتے ہوں لوگوں سے مؤدبانہ طریقہ سے میل ملاقات کرتے ہوں ایسے گھر کے بچے فطرى طور پر مؤدب ہوں گے وہ ماں باپ کا طرز عمل دیکھیں گے اور اسے اپنے لیے نمونہ عمل بنائیں گے اور اس کے لیے ان کو وعظ و نصیحت کى ضرورت نہیں ہوگى جو ماں باپ خود آداب کو محلوظ نہیں رکھتے انہیں بچوں سے بھى ادب کى توقع نہیں کرنى چاہیے اگر چہ سینکڑوں مرتبہ انہیں نصیحت کریں جو ماں باپ ایک دوسرے کے ساتھ بدتمیزى سے پیشآتے ہیں اور خود اپنے بچوں کے ساتھ غیر مودبانہ سلوک کرتے ہیں وہ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ان کے بچے با ادب ہوں ایسے گھر کے بچے زیادہ تر ماں باپ کى طرح یا ان سے بھى زیادہ بے ادب ہوں گے اور انہیں اچھى تلقین اور وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بچے بھى سوچتے ہیں کہ اگر ماں باپ کى بات صحیح ہوتى تو وہ خود عمل نہ کرتے لہذا یہ ہمیں دھوکا دے رہے ہیں البتہ تلقیں بالکل بے اثر نہیں ہوتى لیکن اسکا پورا اثر اس وقت ہوتا ہے کہ جب بچے اس کا نمونہ عمل دیکھیں با ادب ماں باپ بچوں کو اچھے آداب کى نصیحت بھى کر سکتے ہیں لیکن اچھے انداز سے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے ، تندى ، بدتمیزى اور بے ادبى سے نہیں بعض ماں باپ کى عادت ہوتى ہے کہ جب وہ بچوں کا کوئی خلاف ادب کام دیکھتے ہیں تو دوسروں کى موجودگى میں ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں مثلاً کہتے ہیں اوبے ادب تو نے سلام کیوں نہیں کیا خداحافظ کیوں نہیں کیا ؟ گونگے ہو احمق اور بے شعو ربچے تو نے دوسروں کے سامنے پاؤں کیوں پھیلائے ؟ کسى کے ہاں آکر شور کیوں مچا رہے ہو حیوانکہیں کے دوسروں کى باتوں میں بولتے کیوں ہوں یہ نادان ماں باپ اپنے تئیں اس طرح سے اپنے بچوں کى تربیت کررہے ہوتے ہیں جب کہ بے ادبى سے ادب نہیں سکھایا جا سکتا اگر بچے سے کوئی بے ادبى سرزد ہوجائے تو اسے نصیحت کرنى چاہیے لیکن بے ادبى سے نہیں نہ دوسروں کے سامنے بلکہ تنہائی میں اور بھلے انداز سے پیغمبر اکرم صلى الله علیہ و آلہ بچوں کو سلام کرتے تھے اور فرماتے تھے'' میں بچوں کو سلام کرتا ہوں کہ ( سلام کرنا ان کا معمول بن جائے '' 

__________________

1غرر الحکم ، ص 34 

2غرر الحکم ، ص 21 

3غرر الحکم ، ص 242 

4غرر الحکم ، ص 830 

5غرر الحکم ، ص 393 

6غرر الحکم ، ص 634 

7بحار، ج 104 ، ص 95 

8وسائل ، ج 15 ص 123 

9غرر الحکم ، ص 191 

10نہج البلاغہ ، ج 3 ، ص 166

 


source : http://persian.makarem.ir
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:
لینک کوتاه

latest article

معروف اور منکر کے معنی
عالم اسلام کے مسائل امت کے اتحاد کے متقاضی
عظیم مسلمان سا‏ئنسدان " ابو علی سینا "
اجتماعی روابط کی اصلاح میں ایمان کا کردار
معاشرہ کی تربیت کا نبوی (ص) طریقہ کار
بچے کااچھے نام کاحق
ہندو مذہب میں خدا کا تصور و اجتماعی طبقہ بندی
اسلام نے سب سے زیادہ مذمت جس عیب کی ہے وہ جھوٹ ہے۔
تا روں بھري رات
اسلام میں وحدت و یگانگی کا تصور

 
user comment