اردو
Sunday 17th of October 2021
851
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

حضرت علي ٴ کي مشکلات‘ہمارے ليے عبرتيں

تاريخ قوموں کے ليے اظہارِ افتخار کا باعث بھي ہوتي ہے اور اظہارِ ندامت کا سبب بھي۔ شيعہ ائمہٴ اور پيشواؤں کي تاريخ نہ صرف مکتبِ تشيع سے تعلق رکھنے والوںبلکہ پوري امتِ اسلاميہ کے ليے باعثِ افتخار ہے۔ يہ تاريخ اعليٰ اقدار سے وابستگي اور ان کي پاسداري کے ليے عظيم قربانيوں کي مثالوں سے پُر ہے۔ ہم اس تاريخ کا تذکرہ انتہائي فخر اور انبساط کے ساتھ کرتے ہيں‘ ليکن اکثر اس سے سبق موزي اور عبرت اندوزي کي طرف سے غافل ہوتے ہيں۔ جبکہ کم از کم اپني تاريخ سے واقفيت اور اس سے عبرت کا حصول قوم کي اپنے ملي نصب العين سے واقفيت‘ اس سے وابستگي اور مستقبل کي راہوں کو بغير کج روي اور نقصان کے طے کرنے کا موجب اور عروج کي راہوں پر گامزن ہونے کا ذريعہ بنتا ہے۔

يوں تو امير المومنين حضرت عليٴ ابن ابيطالبٴ کي پوري زندگي سبق موز اور قابلِ تقليد ہے‘ کيونکہ پٴ کي حيات ِ مبارک کا ہر ہر پل رضائے الٰہي کے حصول ميں بسر ہوا‘ ليکن في الحال ہم پٴ کے دورِ خلافت ميں پٴ کو درپيش مشکلات کا جائزہ لے کر اپني انفرادي کردار سازي اور قومي و اجتماعي کردار کي تعمير ميں اس سے استفادہ کرنا چاہتے ہيں۔

امام عليٴ نے اپنے حق خلافت کي بازيابي اوراپنے مسلمہ حق کے حصول کے ليے کسي بھي ممکنہ اقدام سے گريز نہيں کيا۔ ليکن حضرت عثمان کے قتل کے بعد لوگوں کے انتہائي اصرار اور رائے عامہ کے شديد دباؤ کے باوجود ابتدائي مرحلے ميں خلافت قبول کرنے سے انکار کيا۔ لہٰذا جب حضرت عثمان کے قتل کے بعد لوگوں نے پٴ کے ہاتھ پر بيعت کا ارادہ کيا‘ تو پٴ نے ان سے فرمايا:

’’مجھے چھوڑ دو‘ اور (اس خلافت کے ليے) ميرے علاوہ کسي اور کو ڈھونڈ لو‘ ہمارے سامنے ايک ايسا معاملہ ہے جس کے کئي رخ اور کئي رنگ ہيں‘ جسے نہ دل برداشت کر سکتے ہيں اور نہ عقليں اسے مان سکتي ہيں۔ ديکھو افقِ عالم پر گھٹائيں چھائي ہوئي ہيں اور راستہ پہچاننے ميں نہيں تا۔ تمہيں معلوم ہونا چاہيے کہ اگر ميں تمہاري اس خواہش کو مان لوں تو تمہيں اس راستے پر لے کر چلوں گا جو ميرے علم ميں ہے اور اس کے متعلق کسي کہنے والے کي بات اور کسي ملامت کرنے والے کي سرزنش پر کان نہ دھروں گا۔‘‘ (نہج البلاغہ۔ خطبہ٩٢)

جيسا کہ اس خطبے کے الفاظ سے بھي ظاہر ہے‘ پٴ کے اس انکار کا سبب معاشرے کي بگڑي ہوئي صورتحال تھي‘ جس ميں عوام اور خواص ہر سطح پر اقدار تہہ و بالا ہوچکي تھيں اور ايسے بگڑے ہوئے معاشرے کو راہِ راست پر لانا ايک دشوار عمل تھا‘ کيونکہ امامٴ کي نظر ميں حکومت کا مقصد اسلامي احکام کا نفاذ اور عدل و انصاف کا قيام تھا۔ جيسے کہ پٴ کا ارشاد ہے :

’’اگر ميرے پيش نظر حق کا قيام اور باطل کي نابودي نہ ہو تو تم لوگوں پر حکومت کرنے سے يہ جوتا مجھے کہيں زيادہ عزيز ہے۔‘‘ (نہج البلاغہ۔ خطبہ ٣٣)

اب ہم اُن گروہوں کا عليحدہ عليحدہ جائزہ ليں گے‘ جن کي طرف سے حضرتٴ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

قريش:

حضرت عثمان کے قتل کے بعد اور لوگوں کي حضرت عليٴ کے ہاتھ پر بيعت کے موقع پر بہت سے قريشيوں نے حضرتٴ کي بيعت نہيں کي‘ اور اگر کسي سياسي محرک کي بنا پر بيعت پر مجبور ہوئے بھي‘ تو باطن ميں پٴ کے دشمن رہے اور دل ميں پٴ سے بغض رکھا‘ پٴ سے تعاون نہ کيا اور مسلسل پٴ کو نقصان پہنچانے کے لئے موقع کي تاک ميں رہے۔

امام عليٴ قريش کے کينے کي وجہ بيان کرتے ہوئے فرماتے ہيں:

’’قريش کے ہم سے کينے اور دشمني کي وجہ يہ ہے کہ خدا نے ہم کو ان کي قيادت و رہبري کے ليے منتخب کيا ہے اور ہم نے انہيں اپنے زير فرمان ليا ہے۔‘‘(کتاب الارشاد ۔ ج ١۔ ص ٢٩٣)

اسي بارے ميں پٴ نے ايک اور مقام پر فرمايا:

’’ميرا قريش سے کيا تعلق ہے‘ ميں نے کل ان کے کفر کي وجہ سے ان سے جہاد کيا تھا‘ اور ج فتنہ اور گمراہي کي بنا پر جہاد کروں گا۔ ميں ان کا پرانا مدمقابل ہوں اور ج بھي ان کے مقابلے پر تيار ہوں۔ خدا کي قسم! قريش کو ہم سے کوئي عداوت نہيں ہے سوائے يہ کہ پروردگار نے ہميں منتخب قرار ديا ہے اور ہم نے ان کو اپني جماعت ميں داخل کرنا چاہا تو وہ ان اشعار کے مصداق ہوگئے:

ہماري جاں کي قسم يہ شرابِ نابِ صباح

يہ چرب چرب غذائيں ہمارا صدقہ ہيں

ہم ہي نے تم کو يہ ساري بلندياں دي ہيں

وگرنہ تيغ و سناں بس ہمارا حصہ ہيں

(نہج البلاغہ۔خطبہ٣٣)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قريش کا جذبہ حسد تھا جو انہيں امام عليٴ کي حکومت قبول نہ کرنے اور پٴ کے خلاف ريشہ دوانيوں پر ابھارتا تھا‘ کيونکہ ايسے لوگ جو کسي وجہ سے اپنے پ کو دوسروں سے کمتر محسوس کرتے ہيں اگر وہ کمزور ايمان بھي ہوں‘ تو ان ميں اپنے سے برتر لوگوں کے خلاف حسد کے جذبات پيدا ہو جاتے ہيں‘ اور اگر حسد کرنے والے اور جن افراد سے حسد کيا جارہا ہے وہ ممتاز اجتماعي اور سياسي مقام کے حامل ہوں تو يہ صفت پورے معاشرے کو فساد کي لپيٹ ميں لے ليتي ہے۔ حضرت علي عليہ السلام کے بقول: ’’جب حسد کي بارش برستي ہے‘ تو فساد اور تباہي کي نشوونما کرتي ہے۔‘‘ (غرر الحکم ۔ش٥٢٤٢)

شارح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد نے امام عليٴ سے قريش کے بغض و عداوت کے موضوع پر ايک عمدہ گفتگو کي ہے‘ وہ کہتا ہے:

’’تجربے نے ثابت کيا ہے کہ زمانے کا گزرنا بغض و عداوت کے خاتمے اور تش حسد کے ٹھنڈا ہو جانے کا موجب ہوتا ہے ۔۔۔۔ ليکن خلافِ توقع حضرت عليٴ کے مخالفوں کا مزاج اور نفسيات ربع صدي گزرنے کے بعد بھي نہ بدلا‘ اور وہ لوگ زمانہ رسول۰ ميں عليٴ کے ساتھ جيسا بغض و عداوت رکھتے تھے‘ اس ميںکوئي کمي واقع نہ ہوئي۔ حتيٰ کہ قريش کے بچے اور ان کے بھي بچے جنہوں نے اسلام کے خونيں معرکوں کا مشاہدہ نہ کيا تھا اور بدر و احد کي جنگوں ميں قريش کے خلاف حضرت عليٴ کي شمشير زني کے مظاہرے نہ ديکھے تھے، وہ بھي اپنے اجداد کي طرح عليٴ سے شديد عداوت رکھتے تھے‘ اور اپنے دل ميں ان کے خلاف کينے کو پروان چڑھاتے تھے۔‘‘ (شرح نہج البلاغہ۔ ج١١۔ ص ١١٤۔ خطبہ ٢١١ کے ذيل ميں )

اصحابِ جمل (ناکثين):

امامٴ نے درجِ ذيل کلام ميں اصحابِ جمل‘ يعني جنگِ جمل کي گ بھڑکانے والوں کي مشکل کي جانب اشارہ فرمايا ہے:

’’۔۔۔ سچ ہے زمانے نے رلانے کے بعد مجھے ہنسايا ہے (اور انتہائي تعجب کے ساتھ ہنسايا ہے) مجھے تعجب نہيں‘ اور خدا کي قسم يہ لوگ ميري طرف سے نرمي سے مايوس ہو گئے (اور جانتے ہيں کہ ميں دين اور عدالت کے نفاذ ميں نرمي اور سہل انگاري کرنے والا انسان نہيں ہوں) اور وہ مجھ سے (معاويہ کي طرح) خدا اور اس کے دين کے بارے ميں دھوکے و فريب اور منافقت کا مظاہرہ چاہتے ہيں اور يہ عمل مجھ سے کس قدر بعيد ہے (يعني ميں دھوکے باز‘ مداہنت کرنے والا اور سازشي نہيں ہوں)۔ (کتاب الارشاد ۔ ج١۔ ص ٢٩٣)

جنگ جمل کي گ بھڑکانے والوں (ناکثين) کا مقصد حکومت و رياست کا حصول تھا۔

عيسائي مصنف جارج جرداق اپني شہرہ فاق تاليف ’’علي صدائے عدالتِ انساني‘‘ ميں کہتا ہے:

’’طلحہ اور زبير کاشمار حضرت عليٴ کے سخت ترين مخالفين ميں ہوتا تھا۔ وہ حکومت کے تمنائي اور حکومت و رياست اور مال و مقام کے حصول کے ليے شديد کوششيں کرنے والے لوگ تھے۔‘‘ (عليٴ صدائے عدالت انساني۔ ص ٢٣٤)

طلحہ اور زبير ميں سے ہر ايک اپنے پ کو حضرت عليٴ سے زيادہ خلافت کا حقدار سمجھتا تھا۔ اور ان کے دلوں ميں اس کے حصول کي رزو مچلتي رہتي تھي۔

تاريخي شواہد اور قرائن نيز نہج البلاغہ ميں حضرت عليٴ کے کلمات موجود ہيں‘ جو اس بات کي نشاندہي کرتے ہيں کہ طلحہ اور زبير نے جب يہ ديکھا کہ اپنا اوّلين مقصد (حکومت اور خلافت) حاصل نہ کر سکيں گے‘ تو اس مقصد سے دستبردار ہو گئے اور چاہا کہ امام عليٴ کي حکومت ہي ميں کسي علاقے کي گورنري حاصل کرليں اور اس مقصد کے حصول کے ليے امامٴ کي بيعت کي۔ ان لوگوں نے اس خواہش کو بيعت کي شرط کے طور پر امامٴ کي خدمت ميں پيش کيا:

’’جب طلحہ اور زبير نے حضرتٴ سے کہا کہ ہم اس شرط پر پ کي بيعت کرتے ہيں کہ اس حکومت ميں پ کے شريک رہيں گے‘ تو پ نے فرمايا: نہيں‘ بلکہ تم مجھے تقويت پہنچانے اور ہاتھ بٹانے ميں شريک اور ناتواني اور مشکلات کے موقع پر مددگار ہوگے۔‘‘ (نہج البلاغہ۔ کلمات ِقصار ٢٠٢)

بعض مورخين نے بھي لکھا ہے کہ زبير کا خيال تھا کہ امامٴ عراق کي گورنري ان کے سپرد کر ديں گے اور طلحہ کے ذہن ميں بھي يمن کي حکمراني کا خيال تھا۔ زبير نے مدينہ سے فرار ہونے سے پہلے قريش کے ايک اجلاسِ عمومي ميں يوں اظہار کيا تھا:

’’کيا يہ ہے ہماري سزا؟ ہم نے عثمان کے خلاف تحريک اٹھائي‘ ان کے قتل کے ليے زمين ہموار کي‘ جبکہ عليٴ گھر ميں بيٹھے ہوئے تھے۔ جب انہوں نے زمامِ امور ہاتھ ميں تھامي تو مختلف علاقوں کے امور کي ذمہ داري دوسروں کے سپرد کر دي۔ ‘‘ (الامامۃ و السياسۃ ابن قتيبہ۔ ص ٧٠۔٧١)

يہاں اصحابِ جمل کي خودخواہي اور عہدے و مقام سے محبت‘ اس بات کا سبب بني کہ عالمِ اسلام ايک شديد فتنے ميں مبتلا ہوا‘ جس کي چنگارياں اب تک محسوس کي جاتي ہيں۔ لہٰذا اجتماعي اور سماجي امور ميں متحرک افراد کے ليے اس ميں عبرت اور سبق کے پہلو موجود ہيں‘ کہ اگر اس جدوجہد کے دوران ان کا مقصد مقدس اہداف کو اوليت دينے کي بجائے عہدے و مقام کے حصول کو اہميت دينا ہو جائے‘ تو اس سے بجائے اصلاح اور بہتري کے معاشرے ميں فتنہ وفساد کي گ بھڑکتي ہے۔

اصحابِ صفين (قاسطين):

معاويہ جو قاسطين کے سرخيل اور ان کے مرکزي رہنما تھے‘ انہيں کسي صورت حضرت علي عليہ السلام کي حکومت گوارا نہ تھي‘ کيونکہ ايک طرف تو وہ امامٴ سے ديرينہ عداوت رکھتے تھے‘ اور دوسري طرف ان کا طرزِ حکمراني اور جن اقدار و روايات کے وہ پابند ہوگئے تھے‘ انہيں پتا تھا کہ عليٴ کسي صورت انہيں اس پر قائم رہنے کي اجازت نہ ديں گے۔ لہٰذا انہوں نے پہلے ہي دن سے امامٴ کي حکومت کو قبول نہ کيا اور پٴ کے خلاف ريشہ دوانيوں ميں مصروف ہوگئے۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت عليٴ اپني حکومت کي بنياد عدل و انصاف کے قيام پر رکھيں گے‘ جبکہ وہ کسي صورت عدل کے سامنے تسليم ہونے پر تيار نہ تھے‘ اسي ليے جنابِ اميرٴ نے انہيں ’’قاسطين‘‘ يعني ظالم ستم کار گروہ قرار ديا۔

اس گروہ کي خصوصيات بيان کرتے ہوئے استاد شہيد مرتضيٰ مطہري۲ فرماتے ہيں:

’’ قاسطين‘ طبيعتاً فريبي اور منافق تھے‘ وہ زمامِ حکومت اپنے ہاتھ ميں لينے اور حضرت عليٴ کي حکومت اور اقتدار کے خاتمے کے ليے کوشاں تھے ۔‘‘ (جاذبہ و دافعہ عليٴ۔ ص٩٨)

نہج البلاغہ ميں جہاں کہيں ايک عادلانہ حکومت کي تاسيس اور مخالفين کے ساتھ جنگ کي بات ئي ہے‘ وہاں اسي گروہ کي جانب اشارہ ہے۔

جنگ ِجمل کے خاتمے کے بعد حضرت عليٴ کي راہ ميں سب سے بڑي رکاوٹ معاويہ نامي ايک خطرناک عنصر تھا۔ انہوں نے حضرت عليٴ کي حکومت کو ناجائز قرار ديتے ہوئے پٴ کے خلاف پوري مملکتِ اسلاميہ ميں ايک وسيع پروپيگنڈے کا غاز کيا اور سادہ لوح افراد کي ايک کثير تعداد کو فريب دينے ميں کامياب ہو گئے ۔

مصري مصنف ڈاکٹر طہ حسين اس بارے ميں لکھتے ہيں:

’’معاويہ کي ايک سياسي روش يہ تھي کہ اپني فياضيوں اور بخششوں کے ذريعے لوگوں کے دل اپني جانب مائل کرنے کي کوشش کيا کرتے تھے۔ انہوں نے ان بخششوں کو صرف اہلِ شام ہي کے ليے مخصوص نہيں رکھا تھا‘ بلکہ ايسے افراد جو اب تک عليٴ کي اطاعت پر باقي تھے، ان پر بھي اپني نوازشيں کيا کرتے تھے۔ ان کے پاس عراق ميں جاسوس اور کارندے تھے جو لوگوں کو ان کي طرف راغب کرتے تھے‘ يا ان سے ڈراتے تھے اور خفيہ طريقے سے انہيں مال و دولت پہنچاتے تھے۔‘‘ (عليٴ و فرزندانش۔ ص ٧٤)

حضرت علي عليہ السلام معاويہ کي سرکشي اور اشتعال انگيزيوں کے خلاف ہر قسم کي سستي اور کوتاہي کو ايک گناہِ عظيم سمجھتے تھے۔ لہٰذا پٴ نے اسے تسليم کروانے يا اس کا قلع قمع کرنے کي غرض سے ايک جنگ کا غاز کيا جس نے خرکار جنگِ ’’صفين‘‘ کي صورت اختيار کي۔

جنگِ صفين کا انجام اپنے دامن ميںبہت سے سبق اور عبرتيں ليے ہوئے ہے۔ اس ميں ايک سبق يہ ہے کہ کسي قوم کا اپنے رہبر و رہنما پر غير متزلزل اعتماد اسے کاميابي کي منزل سے قريب کر ديتا ہے‘ اور عبرت يہ ہے کہ کس طرح جاہل‘ کم عقل اور سطحي سوچ رکھنے والے افراد ايک جيتي ہوئي جنگ کو شکست ميں بدل سکتے ہيں ۔

خوارج (مارقين):

حضرت عليٴ کے ليے شديد مشکلات کا سبب بننے والے اس تيسرے گروہ کے بارے ميں استاد شہيد مرتضيٰ مطہري کہتے ہيں:

’’تيسرا گروہ مارقين (خوارج) کا ہے‘ ان کي طبيعت ميں ناروا تعصب‘ خشک تقدس اور خطرناک جہالت رچي بسي تھي۔‘‘ (جاذبہ و دافعہ عليٴ۔ ص٩٨)

خوارج صفين کي جنگ ميںامير المومنينٴ کے لشکر کا حصہ تھے۔ ليکن اپنے جہل‘ جمود اور سطحي اندازِ فکر کي بنا پر عمرو عاص اور معاويہ کے فريب کا شکار ہو گئے‘ اور انہوں نے حضرت عليٴ کي مخالفت کرتے ہوئے‘ پٴ کو حکميت قبول کرنے پر مجبور کيا۔

امامٴ نے متعدد مواقع پر خوارج کے جہل‘ جمود اور ان کي کج فکري کي جانب اشارہ کيا ہے۔ ايک مقام پر پٴ فرماتے ہيں:

’’ميں تمہيں اس تحکيم سے منع کر رہا تھا‘ ليکن تم نے عہد شکن دشمنوں کي طرح ميري مخالفت کي‘ يہاں تک کہ ميں نے اپني رائے کو چھوڑ کر مجبوراً تمہاري بات کو تسليم کر ليا۔ مگر تم دماغ کے ہلکے اور عقل کے احمق نکلے۔ خدا تمہارا برا کرے ‘ميں نے تو تمہيں کسي مصيبت ميں نہيں ڈالا ہے اور تمہارے ليے کوئي نقصان نہيں چاہا ہے۔‘‘ (نہج البلاغہ ۔ خطبہ ٣٦)

امامٴ کا خوارج کو سبک سر قرار دينا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ خوارج کم عقل اور معمولي معمولي بات پر اپني رائے بدل لينے والے لوگ تھے۔ ايک موقع پر وہ حکميت کے ايسے شديد طرفدار تھے کہ اسے قبول نہ کرنے پر حضرت عليٴ کو قتل کي دھمکي دے رہے تھے اور دوسرے موقع پر اسکے ايسے مخالف ہو ئے کہ حضرتٴ سے اس عمل پر توبہ کرنے کا مطالبہ کرنے لگے اور پٴ کي جانب سے انکار پر (نعوذ با) پٴ کو کافر قرار دينے لگے ۔

امام ٴ کے اصحاب اور اقربائ:

عام طور پرحضرت عليٴ کے ليے دشوارياں ايجاد کرنے والوں کے طور پر پٴ کے کھلے دشمنوں کے تذکرے پر ہي اکتفائ کيا جاتا ہے۔ جبکہ پٴ کي عادلانہ روش پٴ کے کچھ اقربائ اور پٴ کے بعض ديرينہ ساتھيوں کے ليے بھي ناقابلِ برداشت تھي‘ جو پٴ کے ليے مشکلات ميں اضافے کا موجب بني۔

امامٴ نے خلافت قبول کرنے کے بعد بيت المال کي تقسيم کے بارے ميں اپني پاليسي بيان کرتے ہوئے فرمايا:

’’ تم ا کے بندے ہو اور مال بھي ا کا مال ہے‘ جو تمہارے درميان برابر تقسيم ہوگا‘ اور کسي کو کسي پر فوقيت حاصل نہيں ہوگي۔ پرہيزگاروں کے ليے خدا کے يہاں بہترين اجر موجود ہے۔‘‘

اگلے دن پٴ نے عبدا بن ابي رافع کو حکم ديا کہ ہر نے والے کو تين دينار دينا۔ اس موقع پر سہل بن حنيف نے کہا کہ: يہ شخص ميرا غلام تھا‘ جسے ميں نے کل ہي زاد کيا ہے۔ امامٴ نے فرمايا: سب کو تين دينار مليں گے اور ہم کسي کو کسي پر ترجيح نہيں ديں گے۔ (ائمہ اہلِ بيتٴ فکري وسياسي زندگي۔ص٧٤)

ابن عباس نے امام حسنٴ کے نام ايک خط ميں لکھا کہ لوگ اس ليے پ کے والد کو چھوڑ کر معاويہ کي طرف چلے گئے کہ پ کے والد مال کو لوگوں کے درميان برابر تقسيم کيا کرتے تھے اور لوگوں کو (پ کے والد کي) يہ بات برداشت نہ تھي۔ (ائمہ اہلِ بيتٴ فکري وسياسي زندگي۔ص٧٥)

دو عورتيں امامٴ کي خدمت ميں حاضر ہوئيں اور اپنے فقر و ناداري کا اظہار کيا۔ امامٴ نے کہا کہ اگر تمہاري بات سچ ہے تو تمہاري مدد کرنا ہم پر فرض ہے۔ پھر پٴ نے ايک شخص کو بازار بھيجا کہ ان کے ليے لباس اور خوراک خريدے اوران ميں سے ہر ايک کو دو سو درہم دے۔ ان ميں سے ايک عورت نے اعتراض کيا اور کہا: ميں عرب ہوں‘ جبکہ وہ دوسري عورت موالي ہے۔ ہمارے ساتھ ايک سا سلوک کيوں کيا جا رہا ہے؟! امامٴ نے جواب ديا: ميں نے قرن پڑھا اور اس ميں خوب غور و فکر کيا ہے‘ وہاں مجھے کہيں نظر نہيں يا کہ اولادِ اسماعيلٴ کو اولادِ اسحاقٴ پر مچھر کے برابر بھي برتري دي گئي ہو۔

ايک مرتبہ حضرت عليٴ کي بہن امِ ہاني عطايا ميں سے اپنا حصہ لينے کے ليے ئيں۔ امامٴ نے انہيں بيس درہم ديئے۔ امِ ہاني کي عجمي کنيز بھي امامٴ کے پاس ئي‘ اسے بھي پٴ نے بيس درہم ديئے۔ جب امِ ہاني کو يہ بات پتا چلي تو وہ سخت ناراض ہوئيں اور امامٴ کے پاس کر اعتراض کيا۔ امامٴ نے انہيں بھي يہي جواب ديا کہ ميں نے قرآن ميں عجم پر عرب کي برتري کا ذکر نہيں ديکھا ہے۔

امامٴ کے سست اور بزدل اصحاب :

امامٴ کو درپيش دشواريوں ميں سے ايک دشواري‘ بلکہ پ کو خون کے نسو رلانے والے عناصر ميں پ کے سست‘ بے عمل اور بزدل اصحاب بھي شامل تھے۔

جب پ کو مسلسل خبر دي گئي کہ معاويہ کے ساتھيوں نے شہروں پر قبضہ کر ليا ہے اور پ کے دو عاملِ يمن عبيد ا ابن عباس اور سعيد بن نمران‘ بسر بن ارطاۃ کے مظالم سے پريشان ہو کر پٴ کي خدمت ميں گئے‘ تو پٴ اپنے اصحاب کي طرف سے جہاد ميں کوتاہي سے بددل ہوکر منبر پر کھڑے ہوئے اور يہ خطبہ ارشاد فرمايا:

’’اب يہي کوفہ ہے کہ جس کا بست و کشاد ميرے ہاتھ ميں ہے۔ اے کوفہ! اگر تو ايسا ہي رہا‘ اور يونہي تيري ندھياں چلي رہيں‘ تو خدا تيرا برا کرے گا۔

(اسکے بعد شاعر کے اس شعر کي تمثيل بيان فرمائي) اے عمرو! تيرے اچھے باپ کي قسم، مجھے تو اس برتن کي تہہ ميں لگي ہوئي چکنائي ہي ملي ہے۔

اس کے بعد فرمايا: مجھے خبر دي گئي ہے کہ بسر يمن تک گيا ہے اور خدا کي قسم ميرا خيال ہے کہ عنقريب يہ لوگ تم سے اقتدار چھين ليں گے‘ اس ليے کہ يہ اپنے باطل پر متحد ہيں اور تم اپنے حق پر متحد نہيں ہو۔ يہ اپنے پيشوا کي باطل ميں اطاعت کرتے ہيں‘ اور تم اپنے امام کے حق ميں بھي نافرماني کرتے ہو۔ يہ اپنے مالک کي امانت اسکے حوالے کر ديتے ہيں‘ اور تم خيانت کرتے ہو۔ يہ اپنے شہروں ميں امن و امان رکھتے ہيں اور تم اپنے شہر ميں بھي فساد کرتے ہو۔

ميں تو تم ميں سے کسي کو لکڑي کے پيالے کا بھي امين بناؤں تو يہ خوف رہے گا کہ وہ کنڈا لے کر بھاگ جائے گا۔

خدايا! ميں ان سے تنگ گيا ہوں‘ ميں ان سے اکتا گيا ہوں‘ اور يہ مجھ سے اکتا گئے ہيں۔ لہٰذا مجھے ان سے بہتر قوم عنايت کر دے اور انہيں مجھ سے بدتر حاکم ديدے اور ان کے دلوں کو يوں پگھلا دے جس طرح پاني ميں نمک گھولا جاتا ہے ۔

خدا کي قسم! ميں يہ پسند کرتا ہوں کہ ان سب کے بدلے مجھے بني فراس بن غنم کے صرف ايک ہزار سپاہي مل جائيں‘ جن کے بارے ميں ان کے شاعر نے کہا تھا: ’’اس وقت ميں اگر تو انہيں واز دے گا‘ تو ايسے شہسوار سامنے ئيں گے جن کي تيز رفتاري گرميوں کے بادلوں سے زيادہ سريع ہوتي ہے۔‘‘ (نہج البلاغہ۔ خطبہ ٢٥)

بني فراس بن غنم کون ہيں؟

ابن ابي الحديد اپني شرح نہج البلاغہ ميں ان کے بارے ميں لکھتا ہے: يہ عرب قبائل ميں سے ايک قبيلہ تھا‘ جو اپني شجاعت اور بہادري کي وجہ سے شہرت رکھتا تھا۔ ان کا ايک معروف سردار ’’ربيعۃ بن مکدّم‘‘ تھا‘ جس نے اپني زندگي اور بعد از موت بھي عورتوں اور بچوں کي حفاظت کي۔ کہتے ہيں کہ وہ واحد فرد تھا جس نے اپني موت کے بعد بھي کھڑے رہ کر مظلوموں کا دفاع کيا۔ اس دفاع کي داستان يہ ہے کہ وہ اپنے قبيلے کي عورتوں اور بچوں کے ايک گروہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ بني سليم کے سواروں کے ايک گروہ نے اس مختصر قافلے پر حملہ کر ديا‘ وہ ان کا دفاع کرنے والا واحد مرد تھا‘ اس نے بے جگري سے مقابلہ کيا‘ اس دوران دشمنوں نے اس پر ايک تير پھينکا جو اسکے دل ميں پيوست ہو گيا اور وہ زمين پر گرنے والا تھا ليکن اس نے اپنے نيزے کو زمين پر گاڑ ديا اور اس سے ٹيک لگا کر کچھ وقت تک اپني سواري پر کھڑا رہا اور بچوں اور عورتوں کو اشارہ کيا کہ جتنا جلد ہوسکے وہ اپنے قبيلے ميں پہنچ جائيں۔ بني سليم جو اسکي بہادري سے خوفزدہ تھے‘ وہ يہ سمجھتے ہوئے کہ وہ ابھي زندہ ہے اسکے نزديک نہيں ئے۔ ہستہ ہستہ اسکے ساکت پڑ جانے پر اسکي موت کا خيال ان کے ذہنوں ميں پختہ ہو گيا اور ان ميں سے ايک نے اسکے گھوڑے کي طرف تير پھينکا‘ گھوڑا تير کھا کر گر پڑا‘ تب پتا چلا کہ ربيعہ کافي پہلے فوت ہوچکا تھا۔ ليکن اس وقت تک اسکے قبيلے کي عورتوں اور بچوں نے اپنے پ کو اپنے قبيلے تک پہنچا ليا تھا اور دشمن کے ہاتھوں قيدي ہونے سے بچ گئے تھے۔ (شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد۔ ج١۔ ص ٣٢١)

کتاب’’ بلوغ الادب‘‘ ميں ہے کہ اس قبيلے کا ہر بہادر فرد دوسرے قبيلے کے دس بہادروں کے برابر ہوتا تھا‘ اور وہ عرب کے بہادر ترين قبائل ميں شمار ہوتے تھے۔ (بلوغ الادب۔ ج٢۔ ص ١٢٥)

دلچسپ بات يہ ہے کہ (اس وقت) کوفہ ميں امامٴ کے سپاہيوں کي تعداد دسيوں ہزار سے زائد تھي‘ جبکہ ايک روايت کے مطابق دس ہزار افراد تھي (حوالہ سابق) ليکن امامٴ کي رزو تھي کہ ان سب کے بدلے انہيں قبيلہ بني فراس کے ايک ہزار افراد مل جائيں۔ (پيامِ امام امير المومنينٴ۔ ج١۔ ص ١٠٠‘١٠١)

جب پ کومعاويہ کي فوج کے انبار پر حملے کي اطلاع ملي‘ تو پٴ نے اہلِ کوفہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمايا:

’’تم پر حملہ کيا جا رہا ہے اور تم حملہ نہيں کرتے ہو۔ تم سے جنگ کي جارہي ہے اور تم باہر نہيں نکلتے۔ لوگ خدا کي نافرماني کر رہے ہيں اور تم اس صورتحال سے خوش ہو۔

ميں تمہيں گرمي ميں جہاد کے ليے نکلنے کي دعوت ديتا ہوں‘ تو تم کہتے ہو کہ شديد گرمي ہے‘ تھوڑي مہلت ديجيے کہ گرمي گزر جائے۔ اسکے بعد سردي ميں بلاتا ہوں تو تم کہتے ہو کہ کڑاکے کا جاڑا پڑ رہا ہے ذرا ٹھہر جايئے کہ سردي ختم ہو جائے۔

حالانکہ يہ سب جنگ سے فرار کے بہانے ہيں ‘ورنہ جو قوم سردي اور گرمي سے فرار کرتي ہو‘ وہ تلواروں سے کس قدر فرار کرے گي۔۔۔‘‘ (نہج البلاغہ ۔خطبہ ٢٧ سے اقتباس)

 


source : http://shiastudies.net
851
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

افسوس کہ علی(ع) کو کوئی پہچان نہ سکا
اسلامى تمدن كى تشكيل
پیغمبر کا دفاع کرنے والوں کی شجاعت
حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی چالیس حدیثیں
حضرت پیغمبر اسلام (ص) کا مختصر زندگی نامه
حضرت مھدي عج
فاطمہ زھرا (س) رسالت و عصمت کا نایاب گوہر
پیغمبر اسلام [ص] کے آباء و اجداد کی شان و عظمت
پیغمبر اسلام(ص)کے کلام میں مومن اور منافق کی پہچان کا ...
امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب ع کی مخصوص زیارت

 
user comment