اردو
Wednesday 22nd of September 2021
800
1
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

اگر مہدویت نہ ہو تو انبیاء (ع) کی تمامتر کوششیں رائگاں جائیں گی!

 

رہبر مع‍ظم نے فرمایا: اگر مہدویت نہ ہو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ انبیاء (ع) کی تمام کوششیں، تمام دعوتیں، تمام بعثتیں، جان و روح کو تھکادینے والی زحمتیں، یہ سب بے سود ہوں اور رائگاں جائیں، اور بے اثر رہیں۔ چنانچہ مہدویت کا مسئلہ ایک اصلی اور بنیادی مسئلہ ہے؛ اصلی ترین الہی معارف میں سے ایک ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے کل تہران ملاقات کے لئے آنے والے مہدویت کے ماہرین، اساتذہ، محققین اور مولفین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: انبیاء (ع) اسی کے لئے آئے۔ ہم نے بار بار عرض کیا ہے کہ وہ تمام قدم جو بنی نوع انسان نے کئی صدیوں کے دوران انبیاء (ع) کی تعلیمات کے سائے میں اٹھائے ہیں اس عریض اور چوڑی اور پکی شاہراہ کی طرف جارہے ہیں جو حضرت مہدی عَجّل اللَّہ تعالى فَرَجَہ الشَّریف کے دور میں بلند اہداف کی طرف تعمیر کی گئی ہے جس پر بنی نوع انسان گامزن ہوگا۔

اس اہم خطاب کا مکمل اردو متن قارئین و صارفین کے پیش خدمت ہے:

بسم‌اللَّہ‌الرّحمن‌الرّحيم‌

سب سے پہلے تو میں شکریہ ادا کرتا ہوں تمام بھائیوں اور بہنوں کا جو مختلف اور ضروری شعبوں میں مصروف کار ہیں اور محنت کررہے ہیں، خواہ نماز کی ترویج کے شعبے میں، خواہ زکاة، تفسیر اور مہدویت (مہدی شناسی) کے شعبوں میں، خواہ ان دیگر شعبوں میں جو جناب محسن قرائتی نے بیان کئے اور حق و انصاف یہی ہے کہ ان شعبوں میں ایک حقیقی انفاق و خیرات اور اللہ کی بارگاہ میں صدقۂ مقبولہ ہے انشاء اللہ۔ ہم سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں تاہم جناب قرائتی کا شکریہ ادا کرنا لازمی ہے، شکریہ تو ہم ادا نہیں کرسکتے کیونکہ یہ کام خدا کا کام ہے خدا کے لئے ہے ان شاءاللہ کہ خداوند متعال ہی ان کا اور ان کے رفقائے کار کا شکریہ ادا کریں؛ لیکن ہمیں قدردانی کرنی چاہئے۔

میں یہ چند جملے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی خدمت میں عرض کرتا چلوں:

جناب قرائتی ایک بہت ہی اچھا اور سبق آموز نمونہ ہیں بذات خود۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جن کاموں کی ذمہ داری انھوں نے سنبھالی اور انہیں سرانجام دیا وہ سب ایسے کام تھے جن کی جگہ خالی تھی اور انہیں انجام پانا چاہئے تھا اور انھوں نے یہ خالی جگہیں پر کردیں؛ ان کے ان کاموں کی قدر و قیمت بہت زیادہ ہے۔

بعض کام اچھے ہوتے ہیں لیکن دوبارہ سہ بارہ انجام دیئے جاتے ہیں (تکراری اور Repetitive) ہیں اگر کوئی ضروریات کو پہچانے اور خلاؤں کو ڈھونڈ نکالے اور ہمت و اہتمام کرکے ان خلاؤں اور خالی جگہوں کو پر کرے، تو اس کی اہمیت دو گنا ہوتی ہے۔ جناب قرائتی نے اس طرح عمل کیا ہے؛ نماز کے قضیئے میں بھی ـ نماز اتنی عظمت کے باوجود، اتنی اہمیت کے باوجود، رکن دین، انسان کے تمام اعمال کی قبولیت کا سبب و بنیاد، اگر معاشرے میں اس کو اہمیت نہ دی جائے، اور اس کو ضرورت کے مطابق توجہ نہ دی جائے۔ یہ ایک بہت بڑا خلا ہے ـ انھوں نے اس خلا کو توجہ دے، زکاة کا مسئلہ بھی، جو حقیقتاً ہمارے معاشرے میں بے اعتنائی کا شکار تھا، اور یہی معاشرتی بے اعتنائی ایک کمزور نقطہ تھا، ایک نقص تھا، انھوں نے ہمت کی، میدان عمل میں اترے؛ ہرجگہ حاضر ہوئے ہر مقام پر بات کی، سب سے اصرار کیا، تھکاوٹ قبول نہیں کی، تا کہ یہ مسئلہ سب کے لئے حل ہوجائے۔ تفسیر کا قضیہ بھی ایسا ہے، مہدویت کا مسئلہ بھی اور دیگر قضایا بھی ایسے ہی ہیں جن کو جناب قرائتی نے سنبھالا ہے۔ یہ ایک نکتہ ہے ہمارے عزیز اور محترم آقائے قرائتی کے کاموں میں۔

دوسرا نکتہ جس کی اہمیت پہلے نکتے سے کہیں بڑھ کر ہے، ان خلوص ہے۔ یہی صفا و خلوص بھی ان کی کامیابیوں کا سبب ہے۔ خدائے متعال خالص نیتوں کا ساتھ دیتا ہے؛ خلوص نیت ان کاموں کی پیشرفت میں عجیب اثر رکھتا ہے جو اس نیت سے شروع ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک نکتہ ہے؛ بہت اہم ہے۔

میں نے یہ اس لئے عرض نہیں کیا کہ اب ہم کسی کی تجلیل کریں اور کسی کو خراج تحسین پیش کریں اور کسی کو بڑا بنا کر پیش کریں۔ ان چیزوں کی نہ تو آقائے قرائتی کو ضرورت ہے اور نہ ہی وہ ان چیزوں کی توقع رکھتے ہیں اور نہ ہی ہم ان چیزوں کے درپے ہوتے ہیں؛ ہم چاہتے ہیں کہ کام کی یہ کیفیت ہمارے لئے، ہم سب کے لئے، خاص طور پر ہم طلبہ کے لئے ـ نمونہ عمل قرار پائے؛ یعنی ہم اسی طرح عمل کریں؛ نہ یہ کہ ہم بھی یہی کام کریں؛ بلکہ اس طرح کام کریں کہ خلاؤں اور خالی جگہوں کا سراغ لگائیں، ایسی چیزوں کو ڈھونڈیں جن کی ہمیں ضرورت ہے انہیں پا لیں۔ ہر کسی کا اپنا ذوق ہے، ہر کسی کا اپنا استعداد ہے، ظرفیت و صلاحیت ہے، ان ظرفیتوں سے استفادہ ہو، یہ پہلی بات۔

دوسری بات یہ ہے کہ کام کو استمرار بخشیں اور اس کا پیچھا نہ چھوڑیں۔ کہ میں یہیں جناب قرائتی اور ان کے رفقائے کار سے چاہتا ہوں کہ جو کام انھوں نے شروع کئے ہیں انہیں مطلقاً ترک نہ کریں؛ ان کاموں کو جاری رکھنا چاہئے، ان کی پیروی ہونی چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم کوئی کام شروع کریں اور جب بھی اس کی برکتیں اور ثمرات ظاہر ہونا شروع ہوجائیں، خوشیاں منائیں، خوشنود ہوجائیں، خدا کا شکر بھی کریں، لیکن ساتھ بے نیازی اور عدم ضرورت اور سیری بھی محسوس ہو؛ نہیں، اس کام کو جاری رکھنا چاہئے۔ ہمیں امید کہ انشاء اللہ خداوند ان کی اور آپ سب بہنوں اور بھائیوں کی مدد فرمائے، طول عمر عنایت فرمائے، سلامتی عنایت فرمائے تا کہ اپنے کاموں کو انجام تک پہنچا سکیں؛ یہ اہم ہیں۔

 

مہدویت کا مسئلہ

مہدویت کا مسئلہ ـ ان دنوں جو نصف شعبان اور عظیم اسلامی بلکہ انسانی عید کی آمد آمد ہے ـ ان ایام سے زیادہ تناسب رکھتا ہے۔ اتنا ہی عرض کروں کہ مہدویت کا مسئلہ اعلی دینی معارف کے حلقے اور دورانئے میں چند اہم بنیادی مسائل میں سے ایک ہے؛ مثلاً مسئلہ نبوت کی طرح، مسئلہ مہدویت کی اہمیت کو اسی حد میں قرار دینا چاہئے؛ کیوں؟ کیونکہ وہ چیز جس کی بشارت مہدویت سے ملتی ہے، وہی چیز ہے جس کی خاطر تمام بعثتیں انجام پائیں اور تمام انبیائے الہی (ع) آئے اور وہ بشارت ایک توحیدی دنیا کا قیام ہے جو عدل کی بنیادوں پر استوار ہو اور اس میں ان تمام صلاحیتوں اور ظرفیتوں کو بروئے کار لانا ممکن ہو جو خداوند متعال نے انسان کے وجود میں ودیعت رکھی ہیں؛ ایک ایسا زمانہ ہے حضرت مہدی سلام اللَّہ عليہ و عَجّل اللَّہ تعالى فَرَجَہ کا زمانہ۔ توحیدی معاشرے کا زمانہ ہے، توحید کی حاکمیت کا زمانہ ہے، انسانوں کی زندگی کے تمام شعبوں پر معنویت اور دین کی حقیقی حاکمیت کا زمانہ ہے اور عدل کے قیام کا زمانہ ہے بمعنی کامل و جامع معانی میں۔

انبیاء (ع) اسی کے لئے آئے۔ ہم نے بار بار عرض کیا ہے کہ وہ تمام قدم جو بنی نوع انسان نے کئی صدیوں کے دوران انبیاء (ع) کی تعلیمات کے سائے میں اٹھائے ہیں اس عریض اور چوڑی اور پکی شاہراہ کی طرف جارہے ہیں جو حضرت مہدی عَجّل اللَّہ تعالى فَرَجَہ الشَّریف کے دور میں بلند اہداف کی طرف تعمیر کی گئی ہے جس پر بنی نوع انسان گامزن ہوگا۔ جس طرح کہ انسانوں کی ایک جماعت پہاڑیوں اور گھاٹیوں، دشوار گزار راستوں اور دلدلوں سے بھری وادیوں اور کانٹے دار راستوں سے بعض افراد کی راہنمائی میں چل رہے ہیں اور مرکزی شاہراہ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ جب وہ مرکزی شاہراہ تک پہنچتے ہیں، تو مزید راستہ کھلا ہے؛ صراط مستقیم واضح اور روشن ہے؛ اس پر چلنا آسان ہے، آسانی سے اس راستے پر قدم اٹھاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جب وہ مرکزی سڑک تک پہنچیں تو وہیں ٹہر جائیں گے؛ اس کے بعد در حقیقت بلند الہی اہداف کی طرف حرکت کا آغاز ہوتا ہے؛ کیونکہ انسان کی قابلیتیں لامتناہی اور نہ ختم ہونے والی ہیں۔ گذشتہ تمام صدیوں کے دوران انسان ٹیڑھے راستوں، بھول بھلیوں، دشوار، مشکل اور سخت راستوں سے گذرتے ہوئے مختلف النوع رکاوٹوں سے ٹکرا ٹکرا کر رنجور جسم، مجروح اور زخم آلود پیروں سے ان راستوں کے بیچ قدم اٹھاتا رہا ہے تاکہ مرکزی شاہراہ تک پہنچ سکے۔ یہ مرکزی شاہراہ زمانہ ظہور ہی ہے کہ اصولی طور پر ایک لحاظ سے بنی نوع انسان کی حرکت وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

اگر مہدویت نہ ہو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ انبیاء (ع) کی تمام کوششیں، تمام دعوتیں، تمام بعثتیں، جان و روح کو تھکادینے والی زحمتیں، یہ سب بے سود ہوں اور رائگاں جائیں، اور بے اثر رہیں۔ چنانچہ مہدویت کا مسئلہ ایک اصلی اور بنیادی مسئلہ ہے؛ اصلی ترین الہی معارف میں سے ایک ہے۔ لہذا تقریباً تمام الہی ادیان میں بھی ـ جہاں تک ہمیں معلوم ہے ـ ایک چیز موجود ہے جس کا حقیقی مفہوم مہدویت ہی ہے؛ تاہم ان ادیان میں یہ مفہوم تحریف کا شکار ہوا ہے، اس کی شکلیں مبہم ہیں، جو صحیح طور پر روشن نہیں ہیں اور معلوم نہیں ہے کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں۔

مسئلہ مہدویت اسلام میں بھی مُسَلَّمات میں سے ہے؛ یعنی یہ مسئلہ شیعہ کے لئے مخصوص نہیں ہے؛ تمام اسلامی مذاہب اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ دنیا کی انتہا پر حضرت مہدی عَجّل اللَّہ تعالى فَرَجَہ الشَّریف کے ہاتھوں حق و عدل کی حکومت قائم ہوگی۔ مختلف ذرائع اور طُرُق سے متعدد معتبر روایات مختلف مذاہب کے منابع و مآخذ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ہیں لہذا اس میں کوئی شک و تردد کی گنجائش نہیں ہے۔ تاہم شیعہ مذہب کا امتیاز اس حقیقت میں ہے کہ یہاں مہدویت کا مسئلہ ایک مبہم مسئلہ نہیں ہے؛ ایک پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے جو بنی نوع انسان کے لئے ناقابل فہم ہو؛ ایک واضح اور روشن مسئلہ ہے، اس کا واضح مصداق موجود ہے اور ہم آپ (عج) کو پہچانتے ہیں، ان کی خصوصیات سے واقف ہیں، ان کے آباء و اجداد کو پہچانتے ہیں، ان کے خاندان کو جانتے ہیں، ان کی ولادت کو جانتے ہیں، اور ان کی ولادت کی تفصیلات سے باخبر ہیں۔ اس تعارف میں بھی صرف شیعہ روایات میدان میں نہیں آتیں بلکہ غیر شیعہ منابع سے بھی روایات موجود ہیں اور یہی روایات اس تعارف کو ہمارے لئے آسان اور روشن کردیتی ہیں اور دوسرے مذاہب کے علماء اور پیروکاروں کو بھی توجہ دینی چاہئے اور غور کرنا چاہئے تا کہ اس روشن حقیقت کا ادراک کرسکیں۔ لہذا اس مسئلے کی اہمیت کی سطح اتنی بلند ہے اور ہم پر دوسروں سے کہیں زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس مسئلے کی طرف توجہ دیں اور اس پر بحث کریں اور اس مسئلے پر دقیق، غائرانہ اور مضبوط و مدلل کام انجام دیا جائے۔

 

انتظار کا مسئلہ بھی تو مہدویت کا جداناپذیر جزء ہے، فہمِ دین اور اسلام کے اعلی اہداف کی جانب اسلامی امت کی بنیادی، سماجی اور عمومی تحریک کی شناخت و ادراک کی کلیدی اصطلاحات (Keywords) میں سے ہے؛ انتظار یعنی خواہش و رجحان یعنی تاک میں رہنا ایسی حقیقت کے جو قطعی اور حتمی ہے؛ یہ انتظار کے معنی ہیں۔ انتظار یعنی ایک قطعی اور حتمی مستقبل؛ بالخصوص ایک حیّ و حاضر موجود کا انتظار؛ یہ بہت اہم مسئلہ ہے۔ 

ایسا نہیں ہے کہ کوئی کہہ دے "کہ کسی کی ولادت ہوگی، کوئی معرض وجود میں آئے گا" نہیں، ایک ایسے امام ہیں جو موجود ہیں، حاضر ہیں، لوگوں کے بیچ رہتے ہیں۔ روایت میں ہے کہ لوگ امام زمانہ (ع) کو دیکھتے ہیں لیکن انہیں نہیں پہچانتے۔ بعض روایت میں آپ (عج) کو حضرت یوسف سے تشبیہ دی گئی ہے کہ بھائی انہیں دیکھ رہے تھے وہ بھائیوں کے درمیان تھے، ان کے ساتھ تھے، ان ہی کے فرش پر چلتے تھے، لیکن وہ انہیں پہچان نہیں رہے تھے۔ ایک ایسی روشن حقیقت جو واضح بھی ہے اور محرک بھی ہی انتظار کی مدد کرتی ہے۔ 

بنی نوع انسان کو اس انتظار کی ضرورت ہی، امت اسلامی کو اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ یہ انتظار انسان پر فرائض عائد کرتا ہے۔ جب انسان کو یقین ہو کہ ایسا مستقبل سامنی ہی؛ جس طرح کہ قرآن مجید کی آیات میں بھی ہی کہ "وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُہا عِبَادِيَ الصَّالِحُوں * إِنَّ فِي هذا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ۔ »(1) – جو لوگ خدا کی بندگی کرنے والے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں تیاری کرلینی چاہئے، انہیں منتظر رہنا چاہئے اور تاک میں رہنا چاہئے۔ 

انتظار کا لازمہ "خود کو تیار اور آمادہ رکھنا" ہے۔ سمجھ لیں کہ ایک بڑا واقعہ رونما ہونے والا ہے اور ہمیشہ کے لئے منتظر رہیں۔ 

کبھی بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اب تو کئی سال یا کئی مہینے اس واقعے کے رونما ہونے میں باقی ہیں" اور کبھی بھی نہیں کہا جاسکتا کہ "یہ واقعہ نزدیک ہے اور عنقریب رونما ہونے والا ہے"۔

انتظار کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ایسی شکل و صورت اور ایسا اخلاق اپنائے جو اس زمانے سے تناسب رکھتا ہو جس کا انتظار ہورہا ہے اس زمانے کے لوگوں سے ایسی ہی شکل و صورت و ہیئت اور اخلاق کی توقع رکھی جاتی ہے۔ یہ انتظار کا لازمہ ہے۔ 

جب طی یہی ہے کہ جس زمانے کا انتظار ہورہا ہے اس میں عدل ہو، حق ہو، توحید و یکتا پرستی ہو، اخلاص ہو، عبودیت و بندگی ہو ـ طے یہ ہے کہ وہ زمانہ کچھ ایسا زمانہ ہوگا ـ تو ہم ـ جو منتظر ہیں ـ کو ان امور سے قریب تر ہونے کی کوشش کرنی چاہئے، اپنے آپ کو عدل سے متعارف کرانا چاہئے، اپنے آپ کو عدل کے قیام کے لئے تیار کرنا چاہئے، ہمیں حق و حقیقت کی پذیرائی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ انتظار ایسی حالت پیدا کردیتا ہے۔ 

انتظار کی حقیقت میں ایک خصوصیت رکھی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی آج کی صورت حال پر اور اپنی آج کی ترقی اور پیشرفت ہی پر قناعت نہیں کرنی چاہئے، ہر روز نئی پیشرفت کا متلاشی ہونا چاہئے، اپنی ذات میں اور معاشرے میں ان حقائق کو زیادہ سے زیادہ عملی جامہ پہنانا چاہئے اور معنوی اور الہی خصلتوں کو پروان چڑھانا چاہئے۔ یہ انتظار کی ضروریات و ولوازم میں سے ہے۔ 

اچھا، آج بحمداللہ بعض لوگ انتظار کی مسئلی میں عالمانہ کاوشوں میں مصروف ہیں، جیسا کہ ہم نے جناب قرائتی کی رپورت میں سنا اور میں نے اس سے قبل بھی اس رپورت کا مطالعہ کیا تھا اور اب انھوں نے بھی اشارہ کیا اور واضح کیا۔

انتظار اور دوران ظہور کے سلسلے میں غور و تحقیق کے ساتھ عالمانہ کاوشوں سے کبھی بھی غفلت نہیں برتنی چاہئے۔ عامیانہ اور جاہلانہ اقدامات سے مکمل طور پر پرہیز کرنا چاہئے۔ جو چیزیں اس سلسلے میں بڑا خطرہ ہوسکتی ہیں امام زمانہ عَجّل اللَّہ تعالى فَرَجَہ الشَّریف کے بارے میں یہی عامیانہ اور جاہلانہ کام ہیں جو معرفت سے عاری اور سند و ثبوت سے خالی ہیں۔ یہی اقدامات ہیں جو جھوٹے دعویداروں کے ابھرنے کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں۔ غیرعالمانہ، غیر مستند، معتبر منابع کا سہارا لئے بغیر ہونے والے کام جو محض تخیل اور توہم پر مبنی ہیں؛ اس طرح کا کام لوگوں کو انتظار کی حقیقی حالت سے نکال باہر کرتا ہے، جھوٹے مدعیوں اور دجال کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے؛ اس قسم کے کام سے سنجیدگی کے ساتھ دوری کرنی چاہئے اور اجتناب کرنا چاہئے۔ 

تاریخ کے دوران ایسے مدعی ہوگذرے ہیں؛ بعض مدعیوں نے ان ہی چیزوں کا سہارا لیا جن کی طرف اس مجلس میں اشارہ ہوا، ایک علامت کو اپنے اوپر یا کسی اور کے اوپر لاگو کیا؛ یہ سب غلط ہیں۔ ظہور کی علامتوں میں بعض علامتیں قطعی نہیں ہیں؛ ایسی چیزیں ہیں جو قابل استناد روایتوں میں بھی ذکر نہیں ہوئی ہیں؛ یہ روایات بھی ضعیف ہیں ان سے استناد نہیں کیا جاسکتا اور انہیں سند قرار نہیں دیا جاسکتا۔

جو چیزیں قابل استناد ہیں انہیں بھی آسانی سے لاگو نہیں کیا جاسکتا [اور ان کے لئے بھی مصداق نہیں ڈھونڈا جاسکتا]۔ کچھ لوگ شاہ نعمت اللہ ولی کی اشعار کو کئی صدیوں سے  بہت سے مواقع پر مختلف اشخاص پر لاگو کرتے آئے ہیں، جنہیں میں نے دیکھا۔ کہا کہ یہ جو کہتے ہیں کہ "میں نے فلان شخص کو فلان کیفیت میں دیکھا" اس کا مصداق فلان شخص ہے۔ پہر دوسرے دور میں مثلاً ایک سو سال بعد کسی اور کو ڈھونڈ لائے اور کہا کہ یہ شخص وہی ہے! یہ سب غلط ہے۔ یہ سب منحرف کردینے والی باتیں ہیں، لوگوں کو خطا میں ڈالنے والی باتیں ہیں۔ جب انحراف ظاہر ہوتا ہے اور ایک غلط چیز سامنے آتی ہے حقیقت ترک ہوجاتی ہے اور مہجور و تنہا ہو کر رہ جاتی ہے، مشتبہ ہوجاتی ہے، لوگوں کے ذہنوں کی گمراہی کے اسباب فراہم ہوتے ہیں، لہذا غیرشائستہ ناپختہ کام سے اور غیر شائستہ اور غلط افواہوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ عالمانہ، قوی، سند و ثبوت پر مبنی کام ہونا چاہئے تاہم یہ کام ان لوگوں کا ہے جو اس کام کا فن و ہنر رکھتے ہیں، یہ کام ہر کسی کا کام نہیں ہے، یہ کام کرنے والوں کو اہل فن اور ماہر ہونا چاہئے، حدیث میں ماہر ہوں، رجال شناس ہوں، سند شناس ہوں، فلسفی تفکر کے حامل ہوں اور ان تفکرات کو جانتے ہوں، حقائق کو جانتے ہوں؛ ایسی ہی صورت میں وہ اس سلسلے میں میدان عمل میں قدم رکھ سکتے ہیں اور تحقیقی کاوش کرسکتے ہیں۔ 

کام کا یہ حصہ امکان کی حد تک بہت سنجیدہ لینا چاہئے تا کہ انشاء اللہ عوام کے لئے راستہ کھل جائے؛ لوگوں کے دل جس قدر مہدویت کے موضوع سے روشناس ہونگے اور اس موضوع سے مأنوس ہونگے اور ان بزرگوار کا حضور اور موجودگی جس قدر ہمارے لئے ـ ہمارے لئے جو زمانہ غیبت میں جی رہے ہیں ـ زیادہ محسوس ہو، ہم آپ (عج) کى موجودگی کو زیادہ سے زیادہ محسوس کریں، یہ ہماری دنیا ، یہ ہماری دنیا اورہماری ترقی اور اہداف کی طرف ہماری پیشرفت کے لئے بہتر ہوگا۔ 

یہ جو توسلات مختلف زیارات میں پائی جاتی ہیں، جن میں سے بعض کی سندیں بھی بہت اچھی ہیں، یہ بہت قابل قدر ہیں۔ اور توسل، توجہ، اور آپ (عج) سے انس پیدا کرنا اور ہمدم ہونا، کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی دعوی کرے کہ "میں حضرت ولی عصر (عج) سے ملاقاتیں کرتا رہتا ہوں، یا آپ (ع) کی صدا سنا کرتا ہوں ـ؛ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ اس سلسلے میں جتنی باتیں ہوتی ہیں صرف دعوے ہیں جو یا تو بالکل جھوٹے ہیں، یا وہ شخص اگر جھوٹا نہ بھی ہو تو تخیل کرتا ہے، تصور کرتا ہے۔ ہم نے بعض لوگوں کو دیکھا جو جھوٹ نہیں بولتے تھے لیکن ان کا خیال تھا، تخیل و تصور کرتے تھے، اور اپنے تخیل کو ایک حقیقت کے عنوان سے لوگوں کے لئے بیان کیا کرتے تھے! ان کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرنا چاہئے۔ صحیح اور منطقی راستہ یہی توسل ہے دور کے فاصلے سے توسل، وہی توسل ہے جس کو امام (عج) ہم سے سنتے ہیں، انشاء اللہ قبول فرماتے ہیں؛ 

گو کہ ہم اپنے مخاطَب کے ساتھ دور سے بات چیت کررہے ہیں؛ اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ خداوند متعال سلام دینے والوں کا سلام اور پیغام دینے والوں کا پیغام اس بزرگوار تک پہنچادیتا ہے۔ یہ توسلات اور یہ معنوی انس بہت اچھا اور ضروری ہے۔ 

ہمیں امید ہے کہ انشاء اللہ خداوند متعال آنحضرت (عج) کا ظہور قریب تر فرمائے، ہمیں اس بزرگوار کے اعوان و انصار میں قرار دے، اور انشاء اللہ ہمیں اس بزرگوار کے ہمراہ لڑنے والے مجاہدین اور آپ (عج) کے رکاب میں شہید ہونے والوں کے زمرے میں قرار دے۔

والسّلام عليكم و رحمةاللَّہ و بركاتہ‌

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1) سورہ انبياء – آیات 105 اور 106 ۔ 

ترجمہ: اور بلا شبہ ہم نے زبور میں ذکر (نصیحت، بیان یا تورات) کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ (عالمِ آخرت کی) زمیں کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے * بیشک اس (قرآن) میں عبادت گزاروں کے لئے (حصولِ مقصد کی) کفایت و ضمانت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 


source : http://www.ahlebait.in
800
1
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

قرآن کے بارے میں حضرت علی (ع) کی وصیت تفسیر بالرائے
فضائلِ علی علیہ السلام روایات کی نظر میں
امام جواد علیہ السلام کی نماز،زیارت اور حرز
پیامبر رحمت(ص) کی عملی زندگی کے چند نمونے -1
انبیاءکرام اور غم حسین علیہ السلام
حجابِ حضرت فاطمہ زھرا (س) اور عصر حاضر کی خواتین
امام جواد علیہ السلام کے اقوال زریں
امام سجاد(ع) واقعہ کربلا ميں
حضرت علی علیه السلام کے چند منتخب خطبے
پیغمبراسلام(ص) کے منبر سے تبرک(برکت) حاصل کرنا

 
user comment
Hetty
Action requires knowlegde, and now I can act!
پاسخ
0     0
14 مرداد 1390 ساعت 12:04 صبح