اردو
Monday 15th of August 2022
0
نفر 0

امام مہدی مستشرقین کی نظر میں

منجی عالم ،مسیحای زمان اورنجات بخش انسانیت ،ایسی اصطلاحات ہیں جو بشر کے ذھن میں ہردور میں ایک حقیقت کی شکل میں موجود رہی ہیں اس کا تعلق کسی مذہبی طبقے سے مخصوص نہیں بلکہ کائنات کو ظلم وجور سے نجات دلاکر عدل وانصاف 

سے بھردینے کا تصور 

تاریخی حقائق سے آگاہ اورباشعور لوگ اس کے بارے میں مختلف انداز سے ذہنوں میں رکھتےہیں کچھ لوگ اس شخصیت کو مسیحیا کے نام سے جانتے ہیں تو اسلام میں اس مجنی عالم کو المہدی المنتظر کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے جو کہ متعدد قرآنی آیات اور روایات نبوی کی روشنی میں امت اسلام کے بارہویں امام ہیں (الامام المہدی امل الشعوب،حسن موسی الصفار چاپ بیروت ص۳۱) 

مغربی دانشوروں نے بھی مسلمانوں کی طرح اس موضوع پر کم وبیش مطالعہ اور تحقیق کی ہے فرق اتنا ہے کہ مسلمانوں کے ہاں ایک اسلامی عقیدے کے طورپر قرآن اوراحادیث کی روشنی میں بحث اورگفتگو کی جاتی ہے اور طبیعی ہے کہ اسی انداز سے تحقیقات اورلکھی گئی کتابوں کا نتیجہ بھی مغربی دانشوروں کی تحقیقات سے مختلف ہوگا خود مستشرقین دانشوروں میں مہدویت کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتےہیں کہ جن میں سے بعض درج ذیل ہیں 

بعض اس عقیدہ کو شیعوں کے ساتھ مخصوص عقیدے کے طور پر مانتے ہیں جیسے 

مایکل مالرب: کہتا ہے کہ شیعوں کے نزدیک امامت کا سلسلہ بارہویں امام پر ختم ہوتا ہے اس نے نویں صدی میں غیبت اختیار کی اوروفات نہیں پائی (بلکہ زندہ ہے )اورلوگوں کی نظروں سے غائب ہے ۔۔۔۔شیعہ اس کو امام مہدی عج کے نام سے یاد کرتےہیں اوراس کی آمد کے منتظر ہیں جس طرح یہودی (مسیحیا )کے آنے کے منتظر ہیں 

جان بایرناس : 

John Boyernoss 

کہتا ہے کہ امامت کا سلسلہ اور راہنماوں کی الہی وراثت جاری رہی یہاں تک کہ بارہویں امام پر ختم ہوئی کیونکہ وہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں اور المہدی المنتظر کے لقب سے جانے جاتے ہیں اورعنقریب دوبارہ مسیحیا کی طرح قیامت سے پہلے ظہورکرکے پوری کائنات پر اپنی حکومت قائم کریں گے ۔(تاریخ ادیان ،جان ناس بایر ،ترجمہ ،علی اصغر حکمت ) 

(۳)ھیار 

J.G.J Ler Haar 

کہتا ہے :شیعوں کا رسمی اوراساسی عقیدہ یہ ہےکہ گیارہویں امام نے اپنا جانشین اپنے بعد منتخب کیا ہے اوروہی ان کا نائب ہے اوراکثر منابع کا اس سلسلے میں اتفاق ہے کہ وہ ۱۵ شعبان کو پیدا ہوئے ہیں (تصورامامان شیعہ در دائرۃ المعارف الاسلامیہ ص۴۵۱) 

(۴)ریچارڈ بوش : 

بھی ان افراد میں سےہے جو اس عقیدہ کو شیعوں کے ساتھ مخصوص سمجھتا ہے اورکہتا ہے کہ وہ (امام مہدی )شیعوں کے آخری امام ہیں اورمہدی کے نام سے مشہور ہیں جو کہ شیعوں کے عقیدے کے مطابق پردہ غیب میں ہیں یعنی ایسی حالت میں انہیں مادی آنکھوں سے دیکھا نہیں جاسکتا (جہان مذہبی ،ریچارڈ بوش ،ترجمہ عبدالرحیم گواہی ص۸۹۱) 

مذکورہ بالا اقوال میں انہوں نے اس عقیدے کو شیعوں کی طرف نسبت دیتے ہوئے ایسی کوئی بات نہیں کہی جو ان کے عقیدے کو بیان کرسکے 

(ب) کچھ مستشرقین اس عقیدہ مہدویت کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ گویا اسلام کا اس سے تعلق نہیں اور شیعوں کے ہاں یہودیوں اور عیسائیوں کی تقلید کرتےہوئے اس عقیدے کو اپنایا گیا ہے 

رابرٹ ھیوم : کہتا ہے کہ شیعہ مسلمانوں کے ہاں رائج عقیدہ یہ ہے کہ بارہویں امام ان کی نظروں سے غائب ہیں اورایک دن دوبارہ ظاہرہوں گے یہ اعتقاد یہودیوں اورعیسائیوں کا حضرت عیسی کی رجعت کے بارے میں عقیدہ سے مختلف نہیں ہے (ادیان زندہ جہان ،رابرٹ ھیوم ،ص۳۷۰) 

نقد : اولا یہ منجی عالم بشریت کا عقیدہ صرف شیعوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ھندو ،زردشت اوررومیوں کے نزدیک بھی اپنے اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق کائنات کو عدل وانصاف سے بھر دینے والی شخصیات کے بارے میں عقیدے رکھتے ہیں 

ثانیا : شیعوں کے ساتھ مخصوص عقیدے کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے اورمسلمان امام مہدی عج کے ظہو رپر عقیدہ رکھنے کو واجب قرار دیتے ہیں اگرچہ بعض جزئیات میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن اصل ثابت ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے 

ثالثا : مسلمان بھی حضرت عیسی کے زندہ ہونے کا اقرار کرتےہیں لیکن جو منجی عالم بشریت ہے وہ حضرت امام مہدی عج ہیں کہ جن کے پیچھے حضرت عیسی زمین پر آکر نماز پڑھیں گے اور ان کی مدد کریں گے یہ دو ہستیاں جدا جدا ہیں اورسینکڑوں روایات اس بارے میں واردہوئی ہیں جو شیعہ اوراہل سنت کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں 

اگناز گلدزیہر: 

متعصب مستشرق ہے جس نے جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا ہے اسلام اورمسلمانوں پر تنقید کیے بغیر اس کو سکون نہیں آیا قرآن کے بارے میں اس کی کتاب ہو یا سنت کے بارے میں اس کا نظریہ اس نے تنقید کے بغیر نہیں چھوڑا وہ امام مہدی کے بارے میں شیعوں کے عقیدے کو کبھی قضا وقدر سے جوڑ دیتا ہے تو کبھی اس کو یہودیوں اورعیسائیوں کی تقلید سمجھتا ہے اس کا اصل قول یہ ہے : 

(مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ،خداوندمتعال نے جس چیز میں رای کے اظہار کی اجازت نہیں دی اس میں ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اوران کو اعتراض کا حق حاصل نہیں ہے اسی لیے انسان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس پر امید رکھے رہے کہ خداوندمتعال ظلم سے بھری دنیا کے بارے میں کیا حکم کرتا ہے اسی عقیدے کی وجہ سے مہدی کے بارے عقیدہ پیدا ہوا ہے )العقیدہ والشریعۃ فی الاسلام ،اگنازگلدزیہر ،ترجمہ ،یوسف موسی ص۷۴) 

اولا :اسلام میں اللہ اورا س کے بھیجے ہوئے انبیاء کی پیروی انسانیت کی فلاح اورایمان کی نشانی سمجھی گئی ہے ۔ 

ثانیا :اسلام میں کسی طریقے سے ظلم وستم برداشت کرنے کی کوئی سفارش نہیں کی گئی بلکہ ظالم کے خلاف آواز اٹھانے کو بھی جہاد سمجھا گیا ہے اورامام مہدی کی حکومت کا ایک مقصد بھی یہی ہے اورقرآن کے مطابق ایسا حتمی ہوگا جیسے قرآن کی یہ آیت (وعداللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا ۔۔۔۔۔۔۔۔سورہ نور آیت ۵۵) 

اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان اورعمل صالح کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے اوران کے لیے اس دین کو غالب بنائے گا جسے ان کےلیے پسندیدہ قراردیا ہے اوران کے خوف کو امن سے تبدیل کردے گا ۔۔۔ 

ثالثا :خود عیسائیوں میں یہ رسم ہے کہ مردے کو تلقین کے وقت ان کے جملے یہ ہوتے ہیں کہ خدا تمہیں مسیحیا کے ساتھ دوبارہ زندہ کرے تو یہاں کیا کہا جائے گا 

رابعا :یہ عقیدہ بھی دوسری اسلامی تعلیمات کی طرح خود رسول اکرم ص نے امت اسلامی کو یہ خوشخبری دی ہے 

خامسا :اسلام ایک ابدی اورآخری دین ہے اس کی تعلیمات بھی جاودانی ہیں اورقیامت تک یہ تعلیمات انسان کی فلاح کے لیے موجود ہیں انہیں میں سے ایک عادل امام کا ظہور ہے جو قیامت سے پہلے ظہور کریں گے ۔ 

گلدزیہر ایک اورجگہ پر کہتا ہے کہ :جب سے مذہب شیعہ کی ابتداء ہوئی ہے امام غائب اوران کے دوبارہ ظہو رکے بارے میں عقیدہ بھی مضبوط ہوتا رہا ہے اورجن لوگوں نے علی اور اس کی ذریت پر امیدیں قائم کی ہیں یہ عقیدہ ان کے ہاں زیادہ مضبوط ہے بلکہ یہ عقیدہ شروع سے چلاآرہا ہے عبداللہ بن سبا نے حضرت علی کے بارے میں کہا کہ امام علی ایک دن واپس لوٹ کرآئیں گے اوررجعت کے بارے میں خیال اورفکر ذاتی طورپر شیعوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہودیوں اورعیسائیوں کے اثرات کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوا ہے جیسے ایلیا نبی وغیرہ ۔۔۔ 

نقد 

گلدزیہر کی باتوں سے چند نکتے سمجھ میں آتے ہیں 

پہلا یہ کہ عقیدہ مہدویت کو عبداللہ بن سبا کے ساتھ جوڑدیا ہے 

دوسرا کبھی اس عقیدے کو یہودیوں اورعیسائیوں کی تقلید قراردیتا ہے 

حالانکہ اگر مذہب شیعہ کی تعلیمات کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھتا ہوتا تو جان لیتا کہ شیعوں کے نزدیک عبداللہ بن سبا کی کوئی واقعیت نہیں ہے اور شروع سے لے کر آج تک اس موضوع پر بہت سی اہم کتابیں شیعوں کی طرف سے لکھی گئی ہیں کہ جن میں یہ ثابت کیاگیا ہے کہ عبداللہ بن سبا کو کوئی خارجی وجود نہ تھا اورمذہب شیعہ کی تمام تر تعلیمات پیغمبر اکرم اور ان کے بارہ جانشینوں سے لی گئی ہیں جو اسلام اورشریعت کی حقیقت ہیں اورحقیقی اسلام کا شاخسار ہیں اوریہ امتیاز صرف مذہب شیعہ کو حاصل ہے کہ پیغمبر اکرم جو ایک معصوم انسان تھے ان کے بعد تقریبا ۲۴۰ سال تک شیعوں کے راہنما معصوم انسان تھے یہ امتیاز کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے 

تاریخ سے بھری کتابوں میں ان بارہ ہستیوں کی زندگی ،ان کی زیارت گاہیں اوران کی سیرت اورکردار نہ صرف شیعوں کے نزدیک معتبر ہے بلکہ دوسرے فرقوں کے نزدیک بھی معتبر ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ شیعوں کے چھٹے امام دوسرے فرقوں کے اماموں کے استاد ہیں اوروہ اسی امام کی شاگردی میں رہ کر کچھ حاصل کرسکے ہیں 

ثانیا : یہ جو اکثر مستشرقین کے بیانات میں دیکھا گیا ہے کہ کہتےہیں کہ یہ عقیدہ یہودیوں اورعیسائیوں سے لیا گیا ہے تو عرض ہے کہ 

اگر مسلمانوں کے عقیدے کو صحیح طورپر سمجھا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ قرآن اورروایات کی روشنی میں پانچ اولوالعزم پیغمبر گزرے ہیں کہ جن میں سے ہرایک کے آنے کے بعد پہلے کی شریعت ختم ہوجاتی رسول اکرم آخری اولوالعزم پیغمبر تھے کہ جن کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے اورقیامت تک یہی دین اسلام جاری رہے گا 

ان پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے صحیفوں میں کچھ باتیں مشترک تھیں جن کو تمام امتوں تک پہنچانا ہر نبی کا فرض تھا جن میں سے ایک امام مہدی کا ظہو رہے جیسے کہ قرآن کی یہ آیت ہے ولقد کتبنافی الزبورمن بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون ) اورہم نے ذکرکے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ ہماری زمیں کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے 

علامہ فیض کاشانی کے مطابق اس آیت میں ذکرسے مراد تمام آسمانی کتابیں ہیں 

یعنی تمام آسمانی کتابوں کی طرح زبور میں بھی لکھ دیا گیا ہے پس یہ عدل وانصاف کی حکومت کہ جس کا قیام امام مہدی کریں گے ایسی چیز ہے کہ جس کی تبلیغ اورمومنین کوخوشخبری دینا تمام انبیاء کے ذمہ داریوں میں شامل تھا اسی کی خوشخبری حضرت موسی نے دی اور اسی کی خوشخبری حضرت عیسی نے دی اورپھر آخر میں رسول اکرم ص نے اس کے تمام خدوخال کو واضح کرکے بیان کردیا تو بجائے اس کے یہودی اورعیسائی تنقید کریں اس عقیدے کو مان لیں اورشیعوں کے ساتھ شامل ہوجائیں لیکن جو پیغمبر کی نبوت کہ جس کی بشارت واضح طورپر ان کی کتابوں میں آئی انہوں نے تحریف کرکے اس کی نبوت کو نہیں مانا تو کیسے اس کے بیٹے کی امامت کے قائل ہوجائیں گے اوریہ توقع ان سے نہیں کی جاسکتی ۔ 


source : http://www.alhassanain.com
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:
لینک کوتاه

latest article

حضرت امام محمد تقی(علیہ السلام)کی ولادت
فدک حضرت زہراؑ
حقوق النبی ۖ
شہادتِ حسينيٴ کا عالمگير اثر
7 صفر 127ھ ولادت امام موسیٰ*الکاظم علیہ السلام
حضرت معصومہ (س) کے مختصر حالات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اخلاقی ...
امام حسن مجتبي عليہ السلام کي عمر کے آخري ايام ...
امام حسين(ع) کا ہدف اور اُس کي راہ ميں حائل رکاوٹيں
حضرت امام حسن عسکري عليہ السلام کي شہادت

 
user comment