اردو
Saturday 15th of May 2021
1197
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

اصلاح امت ،امام حسین -کامقصد ِ سفر

٢٨ رجب حضرت امام حسین - نے مدینے سے اپنے سفر کا آغا زکیا۔یہ سفر جو ٢٨ رجب ٦٠ہجری کو شروع ہوا۔
یہ عالم اسلام کی تاریخ بدلنے کے سفر کا آغاز ہے ۔
یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سفر کا آغاز تھا۔
یہ اصلاح امت کا سفر تھا۔
یہ ذمہ داریوں اور وظیفے کی ادائیگی کا سفر تھا۔
یہ ایثار فدا کاری کا سفر تھا۔

ہجرت رسول اکرم سے ہجرت کا آغاز ہوا لیکن امام حسین -کی حرکت و سفر سے اسلام کی اصلاح و رتبدیلی کے ایک نئے باب اور تاریخ کا آغاز ہوا ہے۔

امام حسین کے اس سفر کا مقصد امت ِمحمدی کی اصلاح تھا۔ آپ محمد ابن حنفیہ کو اپنی وصیت تحریری طور پر لکھ کر دیتے ہیں تاکہ رہتی دنیا میں حسین ابن علی کی یہ وصیت باقی رہ جائے اور من مانی کرنے والے ،کربلا کے من گھڑت مقاصد بیان کرنے والے اور خواہشات نفسانی کی پیرو ی کرنے والے افراد کو منہ توڑ جواب دیا جائے کہ حسین ابن علی نے کس وجہ سے سفر کیا تھا:

''انماخرجت لطلب الاصلاح فی امۃ جدی،ارید ان آمر بالمعروف و انہی عن المنکر''

''میں تو صرف اس لےے نکل رہا ہو ں کہ اپنے نانا محمد رسول اللہ کی امت کی اصلاح کیلئے کوئی قد م اٹھاسکوں ،میں اپنے سفر سے چاہتا ہوں کہ لوگوں کو اچھائی اور نیکیوں کا حکم دوں اور بری باتوں سے روکوں۔''

امام حسین -کے اس جملے سے جو تربیتی نکات ملتے ہیںوہ مندرجہ ذیل ہیں:

معصوم امام بھی اپنی شرعی ذمہ داری کی ادائیگی کیلئے عمل انجام دیتا ہے اورعملی اقدامات کرتا ہے۔

معصوم امام کا مقصد صرف اور صرف اصلاح امت تھا۔

''اصلاح'' کا عمل کسی بھی زمانے میں واجب ہو سکتا ہے اور اس کیلئے امام جیسی ہستی کو بھی اپنا گھر بار اور وطن چھوڑنا پڑتا ہے۔

طلب کا لفظ یہ بتا رہا ہے کہ انسان کا کام اپنی ذمہ داری کو انجام دے۔

''لطلب الاصلاح''کا لفظ یہ بتا رہا ہے کہ انسان کا کام اپنی ذمہ داری کی صحیح طو ر پر ادائیگی کیلئے قدم اُٹھانا ہے۔

اچھائی اور نیکی کاحکم دینا سب پر واجب ہے اور برائی اور گناہوں سے روکنا بھی ۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام حسین - کتنا بڑا اور اہم ترین کام انجام دینے کا ارادے کیے ہوئے تھے!

جب معصوم امام کا مقصد'' اصلاح امت'' ہے تو پھر اُن کی عزاداری کو بھی اصلاحی ہو نا چاہےے ۔ایسا نہ ہو کہ امام حسین -کی عزاداری میںا صلاح امت نام کی کوئی چیز نہ ہواورخطبا ،علما او رذاکرین کرام منبر سے اصلاح امت کی باتیں بیان نہ کریں۔

اگر ہماری عزاداری میں اصلاح امت کی بات نہ کی جائے تو یہ امام حسین - کی عزا داری نہیں ہے ،اس لےے کہ اگریہ امام کی عزاداری ہو تی تو اس میں اصلاح امت کا پیغام ہوتا!

عزاداری سے بھی اصلاح امت کا پیغام قوم تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔

اگر عزادار ی میں اصلاح امت کی بات نہیںتو ہمیںاز سر نو جائزہ لینا ہو گا اپنی عزاداری اور اس میں شامل رسومات کا!

جب حسین ابن علی -اپنے زمانے کے حالات و واقعات کو دیکھ کر اپنا شرعی وظیفہ سمجھتے ہیں کہ امت کی اصلاح کیلئے وطن کو خیر آباد کہا جائے ،آرام وسکوں کے بستر کو لپیٹ دیا جائے ، حلقہ ئ درس و بزم دوستاں سے نکل کر رسم شبیری کو زندہ ،یادگار اور دائمی بنایا جائے تو اب موجود ہ حالات میں امام حسین - کی عزادار ی سے بھی یہی کام لینے چاہئیں۔عزاداری سے قوم کو خواب غفلت سے بیدا ر کیا جائے اوراخلاقی،عقائدی ،فکر ،نظریاتی ،ثقافتی اور سیاسی انحرافات سے معاشرے کو پاک کیا جائے نیزنوجوان نسل کے ذہن میں پیدا کےے جانے والے شبھات کو دور کیا جائے۔

اگر ہماری عزاداری سے اصلاح امت کا کام لیا جاتا توآج ہماری حالت اتنی نا گفتہ بہ نہ ہوتی!

آج عقائدی دنیا میں علی الاھیت ،نصیریت ،ائمہ طاہرین کو رب کہنے کی یلغار نہ ہوتی۔

اگر ہماری عزاداری سے اُس کا حقیقی کام لیا جاتا توخود ساختہ اور نام نہاد مولوی اور ذاکر خود کو خدائیت کا درجہ دے کر اپنے آپ کوسادھ لوح عوام سے سجدے نہ کراتے!

اگر ہماری عزاداری سے اُس کا حقیقی کام لیا جاتا تو شعرا ء کرام اپنے کلام میں نصیریت اور علی کے خدا ہونے کا پرچار نہ کرتے!

اگر ہماری عزاداری سے اُس کا حقیقی کام لیا جاتا تو اس نصیریت کے خلاف بولنے والے علما ء سے بدکلامی و بد تہذیبی سے پیش نہ آیا جاتا او ر اُنہیںمساجد سے بے دخل نہ کیا جاتا!

اگر ہماری عزاداری سے اُس کا حقیقی کام لیا جاتا تو قومی سطح پر مکتب تشیع کے خلاف میڈیا اپنی یلغارنہ کرتا او ر فلموں میں مکتب تشیع کی تعلیمات کا مذاق نہ اڑتا۔

اگر ہماری عزاداری سے اُس کا حقیقی کام لیا جاتا تو آج قوم متحد ہوتی اورقوم کے خلاف ہونے والی ہر سازش ناکام ہو جاتی ۔

اگر ہماری عزاداری سے اُس کا حقیقی کام لیا جاتا تو قوم کے بے گناہ افراد کا خون یوں نہ بہایا جاتا !

کاش ہماری عزاداری ،حقیقی معنیٰ میں امام حسین -کی عزادار ی ہوتی اور اصلاح کا کام انجام دیتی!

٢٨ رجب سے ١٠ محرم الحرام ٦١ ہجری تک امام کا یہ تاریخی سفر اورآپ کے تاریخی جملے درحقیقت تاریخ کے تمام اپنے پرائے ،دوست نما،نا مرد ،کم ہمت ،بے حوصلہ،کم ظرف، جھوٹے ،بزدل ،کھوکھلے،کوتاہ قد افراد،جھوٹی شان وفضیلت سے تاریخ میں مصنوعی سانس لینے والے ،مال پرست،جاہ طلب،دنیا کے پجاری ،شیطان کے حامی اورنفس پرستوں کیلئے ایک کھلا چیلنج ہیںجو اما م عالی مقام کی سیرت،روش،احادیث اور کربلا میں تحریف کرنے کے درپے ہیں۔

آئیے امام حسین -کے ان تاریخی جملوں سے کسب الہام کرتے ہوئے اپنی ،معاشرتی اور قومی اصلاح کیلئے قدم اُٹھائیںاور عزاداری کو با مقصد طریقے سے برپا کرنے کی کوشش کریں۔ 

 

 


source : http://www.abna.ir
1197
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

سیرت امام علی (ع) میں آداب معاشرت کے چند اصول
نماز عید امام کی امامت اور امام رضا(ع) کی شرط
کم از کم معرفت امام زمان عج
طیبہ،طاہرہ،عابدہ،زاہدہ،بنت خیرالوریٰ،سیدہ فاطمہ۔
حسینیت اور یزیدیت کی شناخت
کیوں تشہد میں علی ولی اللہ پڑھنے کی اجازت نہیں؟
حضرت امام علی علیہ السلام کی شان میں چالیس احادیث
علی جو آئے تو دیوارِ کعبہ بھی مسکرائی تھی یا علی کہہ کر
جشن ولادت امام حسین علیہ السلام
امام مہدی کی ولادت

 
user comment