اردو
Friday 12th of August 2022
0
نفر 0

قرآن اور عترت کو ثقلین کہے جانے کی وجہ تسمیہ:

اس کی وجہ تسمیہ میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں:

لغت کے اعتبار سے ”ثَقْلْ“ ثاء پر زیر اور قاف پر سکون کے ساتھ، اکثر اوزان میں سنگین چیز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، قرآن مجید اور اہل بیت پیغمبر  ﷺ کو اس اعتبار ے ثقلین کہا جاتا ہے چونکہ ان کا عمل سنگین ہے۔

لیکن ”ثَقَلْ“ دونوں (ثاء اور قاف) پر زبر کے ساتھ گراں قدر چیز اور عمدہ سامان کے معنی میں ہے قرآن اور عترت کو ”ثَقَلَیْن“ اس اعتبار سے کہا جاتا ہے چونکہ ان کی جلالت و منزلت عظیم اور گراں قدر ہے۔

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: جب پیغمبر اکرم   نے خود کو جوار رحمت پروردگار کی طرف انتقال ہونے کے قریب پایا جیسے ایک مسافر ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف منتقل ہوتا ہے، تو کتاب خدا (قرآن) اور عترت کو اپنی متاعِ حیات اور جاہ و حشم کی جگہ قرار دیا اس لیے کہ وہ آنحضرت   کی مخصوص ترین اشیاء تھیں اسی لیے امت کو ان کی سفارش اور وصیت کی۔

صاحب منھاج البراعة کہتے ہیں: اظہر یہ ہے کہ ”ثقل“ عمدہ سامان کا معنی کیا جائے کیونکہ جلالت و منزلت کے لحاظ سے عظیم اور گراں قدر ہے۔

یہاں مناسب یہ ہے کہ نہج البلاغہ کے خطبات میں سے ایک خطبہ کی طرف اشارہ کیا جائے وہ خطبہ جس کا آغاز اس عبارت سے ہوتا ہے:

۲۱۔ ”عِبٰادَ اللّٰہِ اِنَّ مِنْ اَحَبِّ عِبٰادَ اللّٰہِ اِلَیْہِ عَبْدٌ اَعٰانہَ ُاللّٰہُ عَلٰی نَفْسِہِ ․․․“ ”بندگان خدا ! اللہ کی نگاہ میں سب سے محبوب بندہ وہ ہے جس کی خدا نے اس کے نفس کے خلاف مدد کی ہے ․․․“ خطبہ کے آخری حصے میں رسول اکرم   کے قول پر عمل کرنے کی لوگوں کو یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا:

”اِنَّہُ یَمْوتُ مَنْ مٰاتَ مِنّا وَلَیْسَ بِمَیِّتٍ (۱) وَیَبلٰی مَنْ بَلِیَ مِنّا وَلَیْسَ بِبٰالٍ “

”فَلاٰ تَقُولُوا بِمٰا لاٰ تَعْرِفُونَ ، فَاِنَّ اَکْثَرَ الْحَقِّ فیِمٰا تُنْکِرُونَ وَاَعْذِرُوا مَنَ لاٰ حُجَّةَ لَکُمْ عَلَیْہِ وَاَنَا ھُوَ“․

”اٴَلَمْ اَعْمَلْ فیکُمْ بِالثَّقَلِ الْاکْبَرِ وَاٴَتْرُکْ فیِکُمُ الثَّقَلَ الْاَصْغَرِ ، قَدْ رَکَزْتُ فیِکُمْ رٰایَةَ الاِیمٰانِ وَوَقَفْتُکُمْ عَلٰی حُدُودِ الْحَلاٰلِ وَالْحَرٰامِ “․ (۲)

یعنی ”اے لوگو! پیغمبر خاتم النبین کے اس قول کو ان کی اولاد طاہرین کے بارے میں قبول کرو، کیا گمان کرتے ہو کہ ہمارا مرنے والا میت ہوتا ہے حالانکہ ہم میں سے کوئی مرور زمانہ سے مردہ نہیں ہوتا اور اس طرح کیا خیال کرتے ہو کہ ہم میں سے جانے والا بوسیدہ ہوجاتا ہے حالانکہ ہم میں سے کوئی بھی مرور زمانہ سے بوسیدہ نہیں ہوتا“۔

”اے لوگو! جو تم نہیں جانتے ہو وہ نہ کہو، اس لیے کہ بسا اوقات حق اسی میں ہوتا ہے جسے تم نہیں پہچانتے ہو اور جس کے خلاف تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، لہٰذا اس کے عذر کو قبول کرلو اور اس کی مذمت نہ کرو جس کے بارے میں تمہیں کوئی دلیل نہ ملی ہو۔ اور وہ میں ہوں، میں نے تمہیں راہ راست

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ آیہٴ کریمہ<وَلاَتَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتًا بَلْ اٴَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ >کی طرف اشارہ ہے۔ ”اور خبردار راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پارہے ہیں۔ آل عمران، ۱۶۹

(۲)۔ نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۸۷۔

کی طرف ہدایت کی اور میں نے تمہارے لیے عذر کی کوئی راہ نہیں چھوڑی لیکن تم نے میری پیروی نہیں کی۔ کیا میں نے تمہارے درمیان ثقل اکبر (قرآن مجید) پر عمل نہیں کیا ہے اور کیا ثقل اصغر اپنے اہل بیت کو تمہارے درمیان نہیں رکھا ہے، میں نے تمہارے درمیان ایمان کے پرچم کو نصب کردیا ہے اور تمہیں حلال و حرام کے حدود سے آگاہ کردیا ہے “۔

شیعہ امامیہ کے اعتقاد کے مطابق عترت قرآن سے افضل ہے، اور وہ لوگ قرآن کے محافظ و سرپرست ہیں لیکن قرآن کا اکبر ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن اصل ہے اور تمام لوگ اس کی پیروی اور اقتدا کرتے ہیں ۔ (۱)

علامہ خوئی رحمة اللہ علیہ شارح نہج البلاغہ رقم طراز ہیں: ”عترت بھی اصل ہے اور اس کی تمام لوگ پیروی اور اقتدا کرتے ہیں“۔

اور یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ قرآن کا اکبر سے متصف ہونا اس جہت سے ہے کہ معجزہ رسالت اور رسالت و ولایت کی سند شرع مبین اور دین اسلام کی اصل و اساس ہے اگر قرآن نہ ہوتا تو نہ رسالت ہوتی نہ ہی شریعت اور ولایت، نہ ہی امن و ایمان ثابت ہوتا لہٰذا بڑے ہونے سے قرآن توصیف کیا گیا ہے۔

ممکن ہے کہ عظیم صحابی (ابو سعید خدری) کی روایت سے بھی اس بات کا استظہار کیا جائے وہ بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم  نے فرمایا:

۲۲۔ ” اِنِّي تٰارکٌ فیکُمُ الثَّقَلَیْن اَحَدُھُمٰا اَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ کِتٰابَ اللّٰہِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمٰآءِ اِلَی الْاَرْضِ وَعِتْرَتی اَھْلَ بَیْتی ، لَنْ یَفْتَرِقٰا حَتّیٰ یَرِدٰا عَلَیَّ الْحَوْضَ“: (۲)

”یقینا میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ان میں سے ایک، دوسر ی سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ شرح نہج البلاغہ ابن میثم، ج۲، ص ۳۰۳۔

(۲)۔ ینابیع المودة، ج۱، ص ۴۶۰، غایة المرام، ج۲، ص ۳۱۴۔

بڑی ہے، (جو بڑی ہے) وہ کتاب خدا قرآن مجید ہے جو ایسی رسی ہے کہ زمین سے آسمان تک کھنچی ہوئی ہے (اور جو چھوٹی ہے) میری عترت جو میرے اہل بیت ہیں۔ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں گے“۔

اس سے زیادہ واضح امام محمد باقر   - کی روایت ہے جسے جابر ابن عبد اللہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا:

۲۳۔ ”یٰا اَیُّھَا النّٰاسُ اِنّی تٰارِکٌ فیکُمُ الثَّقَلَیْنِ ، الثَّقَلُ اَلْاَکْبَر وَالثَّقَلُ الْاَصْغَر، اِنْ تَمسَّکْتُمْ بِھِمٰا لَنْ تَضِلُّوا وَلَنْ تُبَدِّلوُا ، فَاِنّی سَاٴَلْتُ اللّٰہَ اللَّطیفَ الْخَبیرَ لاٰ یَفْتَرِقٰانِ حَتّیٰ یَرِدٰا عَلَیَّ الْحَوْضَ فَاُعْطیتُ “

”فَقیلَ : فَمَا الثَّقَلُ الْاکْبَرُ وَمَا الثَّقَلُ الْاٴصَغَرُ ؟ فَقٰالَ: اَلثَّقَلُ الْاَکْبَرُ کِتٰابُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ، سَبَبٌ طَرَفُہُ بِیَدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَطَرَفٌ بِاَیْدیٖکُمْ وَالثَّقَلُ الْاٴصْغَرُ عِتْرَتي اَھْلُ بَیْتي “ : (۱)

”اے لوگو! یقینا میں تمہارے درمیان دو گراں قدر امانتیں چھوڑ رہا ہوں، جب بھی ان سے متمسک رہو گے اور مضبوطی سے پکڑے رہو گے، گمراہ نہ ہوگے اور ان کو دوسری چیز سے تبدیل نہ کرو لہٰذا میں نے مہربان خدائے لطیف و خیبر سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں ، پس خداوند متعال نے مجھے عطا فرمایا“۔

سوال کیا گیا: وہ بڑی امانت کون سی ہے اور چھوٹی امانت کیا ہے؟ فرمایا: ”بڑی امانت کتاب خدا قرآن مجید ہے جو ایسا وسیلہ ہے کہ اس کا ایک سرا خداوند متعال کے دست قدرت میں ہے اور دوسرا سرا تم لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور چھوٹی امانت میری عترت اور میرے اہل بیت ہیں“۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔مختصر البصائر، ص ۹۰، غایة المرام، ج۲، ص ۳۳۹۔

۲۴۔ جو کچھ تفسیر علی ابن ابراہیم قمی میں انہوں نے اپنے باپ سے، صفوا ن ابن یحییٰ سے، ابی جارود سے، عمران ابن میثم سے، مالک ابن حمزہ سے انہوں نے ابوذر سے روایت کی ہے، وہ جابر کی روایت کی مزید وضاحت بیان کرتی ہے۔ ابوذر کہتے ہیں: جب آیت <یَوْمَ تَبیَضُّ وُجُوہٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوہٌ>(۱) ”قیامت کے دن جب بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے“ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم   نے فرمایا:

” تَرِدُ عَلَیَّ اُمَّتي یَوْمَ الْقِیٰامَةِ عَلیٰ خَمْسِ رٰایٰاتٍ :

فَرٰایَةٌ مَعَ عِجْلِ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ فَاَسْاٴْلُھُم مٰا فَعَلْتُم بِالثَّقَلَیْنِ مِنْ بَعْدِی ؟ فَیَقُولُونَ اَمّا الْاکْبَرُ فَحَرَّفْنٰاہُ وَ نَبَذْنٰاہُ وَرٰآء ظُھُورِنٰا ، وَاَمَّا الْاَصْغَرُ فَعٰادَیْنٰاہُ وَاَبْغَضْنٰاہُ وَظَلَمْنٰاہُ ، فَاَقُولُ: رُدُّوا اِلَی النّٰارِ ضَمْآءَ مُضِمِئیٖنَ مُسْوَدَّةً وُجُوھُکُمْ ․

ثّمَُ تَرِدُ عَلَیَّ رٰایَةٌ مَعَ فِرْعَوْنِ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ فَاَقُولُ لَھُمْ : مٰا فَعَلْتُمْ  بِالثَّقَلَیْنِ ، مِنْ بعْدی؟

فَیَقُولُونَ : اَمَّا الْاکْبَرُ فَحرَّفْنٰاہُ وَمَزَّقْنٰا ہُ وَخٰالَفْنٰاہُ، وَاَمَّا الْاَصْغَرُ فَعٰادَیْنٰاہُ وَقٰاتَلْنٰاہُ ، فَاَقُولُ رُدُّوا اِلَی النّٰار ضَمْآءَ مُضْمِئینَ مُسْوَدَّةً وُجُوھُکُمْ ․

ثُمَّ تَرِدُ عَلَیَّ رٰایَةٌ مَعَ سٰامِرِیِّ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ فَاَقُولُ لَھُمْ : مٰا فَعَلْتُمْ بِالثَّقَلَیْنِ مِنْ بَعْدِي ؟

فَیَقُولُونَ : اَمَّا الْاکْبَرُ فَعَصَیْنٰاہُ وَ تَرَکْنٰاہُ وَاَمَّا الٴَاصْغَرُ فَخَذَلْنٰاہُ وَضَیَّعْنٰاہُ فَاَقُولُ رُدُّوا اِلَی النَّارِ ضَمْآءَ مُضْمِئینَ مُسْوَدَّةً وُجُوھُکُمْ ․

ثُمَّ تَرِدُ عَلَیَّ رٰایَةٌ ذِی الثَّدیَةِ مَعَ اَوَّلَ الْخَوٰارِجِ وَآخِرِھِمْ وَاَسْئَلُھُمْ مٰا فَعَلْتُمْ بِالثَّقَلَیْنِ مِنْ بَعْدی فَیَقُولُونَ اَمَّا الْاکْبَرْ فَمَزَقْنٰاہُ وَ بَرِئْنٰا مِنْہُ وَاَمَّا الاٴَصْغَرُ فَقٰاتَلْنٰاہُ وَ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔سورہ آل عمران، آیت ۱۰۶۔

قَتَلْنٰاہُ فَاَقْولُ رُدُّوا اِلَی النّٰارِ ضَمْآءَ مُضْمِئینَ مُسْوَدَّةً وُجُوھُکُمْ ․

ثُمَّ تَرِدُ عَلَیَّ رٰایَةٌ مَعَ اِمٰامِ الْمُتَّقینَ وَ سَیِّدِ الْمُسْلِمینَ وَ قٰائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلینَ وَوَصِیِّ رَسُولِ رَبِّ الْعٰالَمینَ ، فَاَقُولُ لَھُمْ مٰا فَعَلْتُمْ بِالثَّقَلَیْنِ مِنْ بَعْدِی ؟

فَیَقُولُونَ: اَمَّا الْاکْبَرُ فَاتَّبَعْنٰاہُ وَاَطَعْنٰاہُ ، وَاَمَّا الْاَصْغَرُ فَاَحْبَبْنٰاہُ و وٰالَیْنٰاہُ وَزُرْنٰاہُ وَ نَصَرْنٰاہُ حَتّیٰ اُھْریقَتْ فیھِمْ دِمٰائُنا ، فَاَقُولُ رُدُّوا اِلَی الْجَنَّةِ رَوّٰآءَ مَرْوِیّینَ مُبْیَضَّةً وُجُوھَکُمْ ․

ثُمَّ تَلیٰ رَسُولُ اللّٰہِ <یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ فَاٴَمَّا الَّذِینَ اسْوَدَّتْ وُجُوہُہُمْ اٴَکَفَرْتُمْ بَعْدَ إِیمَانِکُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ  وَاٴَمَّا الَّذِینَ ابْیَضَّتْ وُجُوہُہُمْ فَفِی رَحْمَةِ اللهِ ہُمْ فِیہَا خَالِدُونَ >“ ․ (

جب سورئہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۰۶ نازل ہوئی تو حضرت رسول اکرم  نے فرمایا:

میری امت بروز محشر پانچ علم لے کر میرے پاس پہنچے گی:

۱) پہلا عَلم میری اس امت کے گوسالہ (بچھڑے) کا ہوگا ان سے دو گراں قدر امانتوں کے بارے میں سوال کروں گا؟ تو وہ کہیں گے: لیکن جوان میں سے بڑی امانت کتاب خدا تھی اس کی ہم نے تحریف کی تھی اور اس کو پس پشت ڈال دیا تھا (اس پر عمل نہیں کیا) لیکن جو چھوٹی امانت عترت تھی اس کو اپنی دشمنی اور بغض و حسد کا نشانہ بنایا اور اس پر ظلم و ستم کیا تھا، لہٰذا میں کہوں گا : روسیاہ اور پیاسے ہوکر جہنم کی طرف چلے جاؤ۔

۲) پھر میرے پاس میری اس امت کے فرعون کا دوسرا علم وارد ہوگا، پھر ان سے دو گراں قدر امانت کے بارے میں سوال کروں گا کہ تم نے میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ تو وہ کہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔تفسیر قمی، ج۱، ص ۱۰۹، تفسیر برہان، ج۱، ص ۴۷۴، غایة المرام، ج۲، ص ۳۴۶۔

گے: لیکن جو ان میں سے بڑی امانت کتاب خدا تھی اسے ہم نے بدل ڈالا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس کے برخلاف عمل کیا، لیکن جو چھوٹی امانت عترت تھی اس سے لڑائی اور دشمنی کی تھی، تو میں ان سے کہوں گا: روسیاہ اور نہایت تشنگی کے عالم میں جہنم کی طرف چلے جاؤ۔

۳) اس کے بعد میرے پاس میری اس امت کے سامری کا تیسرا علم وارد ہوگا، پھر میں ان سے سوال کروں گا کہ تم نے ان دونوں گراں قدر امانتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ وہ لوگ کہیں گے: لیکن جوان میں سے بڑی امانت (قرآن) تھی اس کی نافرمانی کی تھی اسے پس پشت ڈال دیا تھا اسے چھوڑ دیا تھا اور جو چھوٹی امانت (عترت) تھی اس کو ذلیل و رسوا کیا تھا اسے ضایع کردیا تھا پھر انہیں بھی روسیاہ اور تشنگی کے عالم میں جہنم کی طرف بھیجوں گا۔

۴) اس کے بعد میرے پاس اس امت کا چوتھا علم تمام خوارج کی ہمراہی میں وارد ہوگا ان میں اول سے آخر تک کی ہر ایک فرد سے دریافت کروں گا: تم نے میرے بعد ان دو گراں قدر امانتوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ وہ کہیں گے: لیکن جو ان میں سے بڑی امانت کتاب خدا تھی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اس سے بیزار ہوگئے تھے کنارہ کشی کی تھی لیکن ان میں سے جو چھوٹی امانت (عترت) تھی ان سے لڑے اور ان سب کو قتل کیا تھا پھر انہیں بھی روسیاہی اور تشنگی کے عالم میں جہنم کی طرف بھیجوں گا۔

۵) پھر (سب سے آخر میں) امام المتقین، سید الوصیین قائد غرّ المحجلین حضرت علی ابن ابی طالب- کا پرچم وارد ہوگا، پھر ان سے بھی سوال کروں گا کہ میرے بعد ان دونوں گراں قدر امانتوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ وہ کہیں گے: لیکن جو ان میں سے بڑی امانت کتاب خدا تھی اس کی پیروی کی اور اس کے احکام پر عمل کیا اس کی اطاعت کی تھی لیکن جو ان میں سے چھوٹی امانت (عترت) تھی ان سے محبت کرتے تھے ان کو اپنا سرپرست قرار دیا، ان کی زیارت کی ان کی نصرت و مدد کی یہاں تک کہ ہم نے اپنے خون کا آخری قطرہ ان کی نصرت میں قربان کردیا تھا، پھر میں ان سے کہوں گا:حوض کوثر سے سیراب ہوکر نورانی اور سفید چہروں  کے ساتھ جنت میں چلے جاؤ۔

اس کے بعد حضرت رسول اکرم  نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی: ”قیامت کے دن بعض چہرے سفید اور نورانی ہوں گے“۔

ان روایات سے نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ :ریسمان الٰہی سے متمسک رہنا خواہ وہ قرآن مجید ہو یا اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام ہوں اختلافات رفع کرنے کے لیے بہت قوی عامل ہیں جو دنیا میں ملتوں کے درمیان اور امتوں کے مابین مادی، معنوی، اعتقادی، اخلاقی دنیا اور آخرت کے متعلق رونما ہوتے ہیں۔ اب اس سلسلے میں چند آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱) <وَمَا اٴَنزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ إِلاَّ لِتُبَیِّنَ لَہُمْ الَّذِی اخْتَلَفُوا فِیہِ وَہُدًی وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ >: (۱)

”اور ہم نے آپ پر کتاب (قرآن کریم) صرف اس لیے نازل کی ہے کہ آپ ان مسائل کی وضاحت کردیں جن میں یہ اختلاف کیے ہوئے ہیں (وہ امور جو مبداٴ و معاد، حلال و حرام سے مربوط ہیں) اور یہ کتاب صاحبان ایمان کے لیے مجسمہ ہدایت اور رحمت ہے“۔

۲) <وَکَیْفَ تَکْفُرُونَ وَاٴَنْتُمْ تُتْلَی عَلَیْکُمْ آیَاتُ اللهِ وَفِیکُمْ رَسُولُہُ وَمَنْ یَعْتَصِمْ بِاللهِ فَقَدْ ہُدِیَ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ>: (۲)

”اور تم لوگ کس طرح کافر ہوجاؤ گے جب کہ تمہارے سامنے آیات الٰہیہ کی تلاوت ہورہی ہے اور تمہارے درمیان رسول (پیغمبر اکرم  ﷺ) موجود ہے اور جو خدا سے وابستہ ہوجائے سمجھو کہ اسے سیدھے راستہ کی ہدایت کردی گئی“۔

انکار اور اظہار تعجب ان کے کفر کی وجہ سے ہے حالانکہ ان کے لیے تمام مقتضی ایمان کے اسباب اور کفر کے مواقع جمع ہوگئے تھے۔ خداوند متعال کی آیات اور نشانیاں اللہ کی معرفت کے لیے قوی ترین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔سورہ نحل، آیت ۶۴۔

(۲)۔سورہ آل عمران، آیت ۱۰۱۔

عامل ہے، اس کے علاوہ پیغمبر اکرم   کا مقدس وجود جو تمام کا تمام نور اور ہدایت کا حامل ہے ان کے درمیان موجود تھا، اس بنا پر جو شخص ان کے دین سے متمسک ہو اور تمام امور میں ان سے التجا کرے تو یقینا وہ راہ راست کی طرف ہدایت پاگیا ہے۔

جملہٴ <وَاٴَنْتُمْ تُتْلَی عَلَیْکُمْ آیَاتُ اللهِ وَفِیکُمْ رَسُولُہُ>اس بات کو گوش گزار کر رہا ہے کہ تمہیں کتاب الٰہی کی تلاوت اور اس میں تدبر و تفکر کی طاقت موجود تھی اور ان امور میں جو تم پر مخفی تھے رسول خدا  کی طرف رجوع کرنے یا ان امور میں بھی جو یہودی لوگ تمہیں یاد دلاتے تھے،

اور <صراط مستقیم>سے مراد: وہی راستہ ہے کہ جس میں اختلاف نہیں ہے اور نہ ہی اختلاف ہوسکتا ہے اور اس وادی پر چلنے والے افراد کبھی بھی گمراہ نہیں ہوں گے۔ (۱)

۳) <وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِیہِ وَلَوْلاَکَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ وَإِنَّہُمْ لَفِی شَکٍّ مِنْہُ مُرِیبٍ >(۲)

”اور یقینا ہم نے موسی کو کتاب دی تو اس میں بھی اختلاف پیدا کردیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے بات نہ ہوگئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور یہ لوگ اس عذاب کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں“۔

جملہ <ولقد آتینا موسی الکتاب>:

یعنی: جس وقت ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب (توریت) دی تو ان کی قوم کے درمیان اختلاف ہوگیا تھا، بعض ایمان لائے اور بعض نے کفر اختیار کیا، جس طرح ان لوگوں نے قرآن میں بھی اختلاف ایجاد کیا۔

۲۵۔ روضہ کافی میں امام محمد باقر سے روایت ہوئی ہے کہ حضرت نے فرمایا:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔تفسیر المیزان، ج۳، ص ۳۶۵۔

(۲)۔ سورئہ ہود، آیت ۱۱۰۔

”اِخْتَلَفُوا کَمَا اخْتَلَفَ ھٰذِہِ الْاُمَّةُ فی الْکِتٰابِ وَسَیَخْتَلِفُونَ فی الْکِتٰابِ الَّذی مَع الْقٰائِمِ علیہ لسلام  الَّذی یَاٴتیھِمْ  بِہِ حَتّیٰ یُنْکِرُہُ  نٰاسٌ مِنْھُمْ  فَیُقَدِّمُھُمْ  فَیَضْرِبُ اَعْنٰاقَھُمْ “ :

” ( یہودیوں نے)اختلاف کیا جس طرح اس امت نے کتاب ”قرآن“ میں اختلاف کیا اور عنقریب اس قرآن میں بھی اختلاف کریں گے جب حضرت قائم آل محمد  - اسے لے کر آئیں گے، یہاں تک کہ اس کا بعض لوگ انکار کریں گے پھر حضرت (اتمام حجّت کے بعد) ان کی گردنوں کو کاٹ دیں گے“۔

آیہٴ کریمہ کے اس فقرہ میں موسی  - کے بعد توریت میں یہودیوں کے اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

 

قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوگوں کے دنیوی امور میں اختلاف کو متعدد مرتبہ ذکر کیا ہے جو ایک فطری امر ہے لیکن ان کا اختلاف جو ظلم اور تجاوز کے علاوہ ہے وہ بھی علم و یقین کی وجہ سے تھا اس کا کوئی منشا نہیں پایا جاتا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: <وَمَا کَانَ النَّاسُ إِلاَّ اٴُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا>(۱) (سارے انسان فطرتاً ایک امت تھے پھر سب آپس میں الگ الگ ہوگئے)۔ فرماتا ہے: <وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ إِلاَّ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَہُمْ >(۲) (اور اہل کتاب نے علم آنے کے بعد ہی جھگڑا شروع کیا ہے صرف آپس کی شرارتوں کی بنا پر) فرماتا ہے: <کَانَ النَّاسُ اٴُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللهُ النَّبِیِّینَ مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ وَاٴَنزَلَ مَعَہُمُ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیمَا اخْتَلَفُوا فِیہِ وَمَا اخْتَلَفَ فِیہِ إِلاَّ الَّذِینَ اٴُوتُوہُ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَتْہُمْ الْبَیِّنَاتُ بَغْیًا بَیْنَہُم>(۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ یونس، آیت ۱۹۔

(۲)۔ سورئہ آل عمران، آیت ۱۹۔                                                        

  (۳)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۲۱۳۔

(فطری اعتبار سے) (سارے انسان ایک قوم تھے پھر اللہ نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے انبیاء بھیجے اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کریں اور اصل اختلاف انہیں لوگوں نے کیا ہے جنہیں کتاب مل گئی ہے اور ان پر آیات واضح ہوگئیں صرف بغاوت اور تعدی و تجاوز کی بنا پر)۔

مذکورہ آیات سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ : جنہوں نے اختلاف ایجاد کیا باوجودیکہ انبیائے الٰہی نے ان کے لیے دین کو واضح و روشن طور پر بیان فرما دیا ہے، جان بوجھ کر تعدی اور ظلم و ستم کی وجہ سے اختلاف کیا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا مقدر فرمایا ہے کہ ہر وہ عمل جو لوگ انجام دیتے ہیں اس کا انہیں اجر و ثواب عطا کرے اور یہی تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اسی اختلاف میں حکم اور فیصلہ کرے لیکن حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بھی روئے زمین پر لطف اندوز ہوں تاکہ قیامت اور ان کی دنیا آباد ہو اور اپنے لیے زاد آخرت مہیا کریں، جیسا کہ فرمایا: <وَلَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَی حِینٍ>(۱) ”زمین میں تمہارے لیے ایک مدت تک ٹھکانا اور سامان زندگانی ہے“۔

ان دونوں قضاو قدر کا تقاضا یہ ہے کہ جن لوگوں نے دین الٰہی اور کتاب خدا (قرآن) میں تعدی اور ظلم و ستم کی وجہ سے اختلاف ایجاد کیا ہے ان کا عذاب قیامت کے دن تک ملتوی کردیا جائے۔ (۲)

۴) <فَلاَوَرَبِّکَ لاَیُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لایَجِدُوا فِی اٴَنفُسِہِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیمًا>(۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ اعراف، آیت ۲۴۔

(۲)۔ المیزان، ج۱، ص ۴۵۔

(۳)۔ سورئہ نساء، آیت ۶۵۔

”پس آپ کے پروردگار کی قسم! کہ یہ ہرگز صاحبِ ایمان نہ بن سکیں گے جب تک آپ کو اپنے اختلافات میں حَکَم نہ بنائیں اور پھر جب آپ فیصلہ کردیں تو اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی کا احساس نہ کریں اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم ہوجائیں “۔

۲۶) کافی میں حضرت امام محمد باقر   - سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا: یقینا خداوند متعال نے امیر المومنین  - کو اپنی کتاب کی اس آیت میں مورد خطاب قرار دیا <وَلَوْاٴَنَّھُمْ اِذْ ظَلَمُوا․․․ فیِمٰا شَجَرَ بَیْنَھُمْ >قٰالَ : فیمٰا تَعٰاقدُوا عَلَیْہِ لَئِنْ اٴَمٰاتَ اللّٰہُ مُحَمَّداً  لاٰ یَرُدُّوا ھٰذَا الْاَمْرَ فی بنی ہاشمٍ ثُمَّ لاٰ یَجِدُوا فی اَنْفُسِھِمْ حَرَجاً فیمٰا قَضَیْتُ عَلَیْھِمْ مِنَ الْقَتْلِ اَوِ الْعَفْوِ وَیُسِلِّمُو ا تَسْلیماً “(۱)

”فرمایا: جو کچھ اس کے بارے میں عہد و پیمان کیا تھا یہ تھا اگر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو مار دے تو اس امر (رسالت و امامت کو بنی ہاشم میں نہ آنے دیں گے پھر اس سے اپنے نفسوں میں کوئی تنگی نہ پائیں گے اس امر میں کہ جو تو نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا ہے قتل یا عفو کرنے کا اور یہ کہ تیرے حکم کو مکمل طور پر تسلیم کریں“۔

و قولہ تعالیٰ :<یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیْءٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللهِ وَالرَّسُولِ إِنْ کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ذَلِکَ خَیْرٌ وَاٴَحْسَنُ تَاٴْوِیلًا >․ (۲)

”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تمہیں میں سے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹادو اگر تم اللہ اور روز آخرت (قیامت) پر ایمان رکھنے والے ہو یہی تمہارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔اصول کافی، ج۱، ص ۳۹۱، تفسیر برہان، ج۲، ص ۱۵۸۔

(۲)۔ سورئہ نساء، آیت ۵۹۔

بات ہے“۔

یہ آیہٴ کریمہ اور چند بعد والی دوسری آیات ایک اہم ترین اسلامی مسائل میں سے یعنی مسئلہ قیامت اور واقعی اماموں کی راہ کو مختلف دینی اور سماجی مسائل کے بارے میں معین کرتی ہے۔

سب سے پہلے جو لوگ ایمان لائے انہیں حکم دیتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت کریں یہ ظاہر ہے کہ ایک باایمان فرد کے لیے تمام اطاعتیں اطاعت پروردگار تک اختتام پذیر ہوں اور ہر قسم کی رہبری اور قیادت اس کی ذات پاک سے نشاٴة پاتی ہو اور اسی کے تابع فرماں ہو چونکہ جہان ہستی کا حاکم اور تکوینی (تخلیقی) مالک خداوند سبحان ہے اور ہر طرح کی حاکمیت اور مالکیت بھی اسی کے حکم سے ہونی چاہیے: <یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا الله>․ (۱)

بعد والے مرحلے میں پیغمبر اکرم کی پیروی کا حکم دیتا ہے وہ پیغمبر  جو معصوم ہے اور کبھی بھی ہوا و ہوس کی بنا پر کلام نہیں کرتا۔ ایسا پیغمبر جو لوگوں کے درمیان خدا کا نمائندہ ہے اور اس کا قول خدا کا قول ہے : <وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوَی  إِنْ ہُوَ إِلاَّ وَحْیٌ یُوحَی>․ (۲) اس موقعیت اور منصب کو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا ہے اس بنا پر خداوند متعال کی اطاعت اس کی خالقیت اور حاکمیت کی ذات کے تقاضے کے مطابق ہے، لیکن پیغمبر اکرم  کی اطاعت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔ دوسری تعبیر میں یوں کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ واجب الاطاعت بالذات ہے پیغمبر واجب الاطاعت بالغیر ہیں اور شاید اس آیت میں ”اطیعوا“ کی تکرار اسی موضوع کی طرف اشارہ ہو کہ فرمایا:<و اطیعوا الرسول>․

تیسرے مرحلے میں اولو الامر کی اطاعت کا حکم دیتا ہے جو اسلامی معاشرہ کے درمیان سے نکلا اور لوگوں کے دین و دنیاکا محافظ ہے۔ (۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ نساء، آیت ۵۹۔

(۲)۔سورئہ نجم، آیت ۵۔                                                            

(۳)۔ تفسیر نمونہ، ج۳، ص ۴۳۵۔

اس سلسلے میں کہ اولو الامر کون لوگ ہیں؟ مفسرین کے درمیان بہت سے مختلف نظریات پائے جاتے ہیں، ان سب کی وضاحت کو اگر مدّنظر رکھا جائے تو اس کتاب کے دائرہ سے خارج ہے، ہم اولو الامر کو معادن وحی و قرآن سے ذکر ہونے والی آیات و روایات جو سب کے لیے تسکین بخش اور مومنین کے قلوب کو نورانی بنانے والی ہے۔

۲۷۔ تفسیر عیاشی میں جابر جعفی سے روایت نقل ہوئی ہے کہ انہوں نے امام محمد باقر   - سے آیہٴ <یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُم>کے متعلق دریافت کیا، تو فرمایا:

”اس سے مراد اوصیاء ہیں“۔ (۱)

۲۸۔ ابن شہر آشوب نے حسن ابن صالح سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق   - سے اس مذکورہ آیت کے بارے میں ، میں نے دریافت کیا تو فرمایا: ”الائِمَّةُ مِنْ اھِل بَیت رسولِ اللّٰہِ  ﷺ “ (۲)  ”اہل بیت رسول خدا کے ائمہ مراد ہیں۔“

شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اس جیسی حدیث ابو بصیر سے امام محمد باقر   - سے نقل کی ہے اور وہاں یہ فقرہ ذکر ہوا ہے کہ حضرت نے فرمایا: ”الاٴئِمَّةُ مِنْ وُلدِ عَلِیٍّ وَفٰاطِمَةَ اِلیٰ اَن تَقُومَ السّاعَةُ“ :

”اس سے روز قیامت تک اولاد علی و فاطمہ علیہما السلام سے ائمہ مراد ہیں“۔ (۳)

۲۹۔ مشہور و معروف اسلامی مفسر ابو حیان اندلسی مغربی (متوفی ۷۵۶ئھ ق) تفسیر بحر المحیط میں رقم طراز ہیں کہ یہ آیت علی  - اور ائمہٴ اہل بیت کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ (۴)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ تفسیر عیاشی، ج۱، ص ۴۰۷ (حدیث ۱۶۹) تفسیر برہان، ج۳، ص ۱۴۵ (حدیث ۱۱۷) بحار ج۲۳، ص ۳۰۰ (حدیث ۵۲) ۔

(۲)۔ مناقب ابن شہر آشوب ج۳، ص ۲۰۔

(۳)۔ کمال الدین، ج۱، ص ۲۲ (حدیث ۸) تفسیر البرہان، ج۳، ص ۱۴۱ (حدیث ۱۰)

(۴)۔تفسیر بحر المحیط۔

۳۰۔ تفسیر برہان میں شیخ صدوق نے اپنے اسناد کے ساتھ جابر ابن عبداللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ جب خداوند متعال نے اپنے پیغمبر حضرت محمد پر آیہٴ <یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ >نازل فرمائی تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! خدا اور اس کے رسول کی معرفت حاصل کرلی، پس اولو الامر کون سے افراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت کو آپ کی اطاعت کے ساتھ قرار دیا ہے؟ تو آنحضرت نے فرمایا:

”ھُمْ خُلفائی یا جابِر وائمَّةُ المسْلمینَ مِن بَعدی : اَوَّلُھُم عَلیُّ بن ابی طالِبٍ ، ثُمَّ الحَسَنُ ، ثُمَّ الْحُسَیْنُ ، ثُمَّ عَلیِّ بنُ الْحُسَیْنُ ، ثُمَّ محمَّدُ بنُ علیٍ المعروُفُ فی التّوراة  بِالباقِر، ستدرکُہُ یا جابِرُ ، فَاِذا لقیٖتَہُ فاقراٴہ مِنّی السَّلامَ ، ثُمَّ الصادقُ جعفرُ بن محمّدٍ ، ثُمَّ موُسیٰ بن جَعفرٍ ، ثُمَّ عَلی بنُ موُسیٰ، ثُمَّ محمَّدٌ بنُ عَلیٍ ، ثُمَّ عَلیٌّ بنُ محمَّدٍ ، ثُمَّ الْحَسَنُ بنُ عَلیٍّ ، ثُمَّ سَمیّیٖ (محمّدٌ) وَکَنِیّیٖ حجة اللّٰہ فی ارضِہِ وَبقیَّتُہُ فی عِبادِہِ ، ابنُ الحَسَن بن عَلیٍ ، ذاکَ الذی یَفتَحُ اللّٰہَ تعالیٰ ذکرُہُ عَلیٰ یَدَیہِ مشارِقَ الارضِ وَمغارِبھا ، ذاکَ الَّذی یَغیبُ عَن شیعتِہِ وَاَولیآئہِ غیبَةً لا یثبتُ فیہِ عَلَی القولِ بامامَتِہِ الا مَن اِمتحَنَ اللّٰہ قَلبہُ للایمانِ “․

قال جابر: فَقُلتُ لَہُ یا رَسُولَ اللّٰہِ فَھَل یَقَعُ لِشیعتِہِ الِانتِفاع بِہِ فی غیبتِہِ ؟فَقالَ ”ای وَالَّذی بَعَثنی بِالنّبوةِ انّھم یستَضیئوُنَ بِنورِہِ وَینتفعوُنَ بِوِلایتِہِ فی غیبتہِ کانتفاعِ النّاسِ بالشَّمسِ وَان تجَلاّٰھا سَحابٌ ، یا جابُر ھذا مِن مَکنوُنِ سرِّ اللّٰہِ ، وَمخزونِ عِلمِ اللّٰہِ  فاکتمہُ الاَّعَن اہلِہِ “ : (۱)

”اے جابر ! وہ میرے خلفاء و اوصیاء اور مسلمانوں کے امام ہوں گے، ان میں سے اول علی ابن ابی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ کمال الدین، ج۱، ص ۲۵۳ (حدیث، ۳) تفسیر برہان، ج۳، ص ۱۳۴۔

طالب ، پھر حسن، پھر حسین، پھر علی ابن الحسین، پھر محمد ابن علی کہ جن کا نام توریت میں باقر مشہور ہے، اے جابر! تم عنقریب ان کو پاؤ گے جب تم ان سے ملاقات کرنا تو ان کو میرا سلام کہنا، پھر جعفر ابن محمد

الصادق، پھر موسی ابن جعفر، پھر علی ابن موسی، پھر محمد ابن علی، پھر علی ابن محمد، پھر حسن ابن علی ہوں گے، ان کے بعد میرے ہم نام (محمد) اور میری ہم کنیت حجّت خدا ، بقیة اللہ روئے زمین میں اللہ کے بندوں کے درمیان حسن ابن علی علیہم السلام کے فرزند ہوں گے۔

وہ ایسی فرد ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے دست مبارک سے زمین کے تمام مشرق و مغرب کو کامیابی و کامرانی عطا فرمائے گا۔

وہ وہی بزرگوار ہیں جو اپنے شیعوں اور چاہنے والوں کی نظروں سے ایک عرصہ تک غائب ہوجائیں گے آپ کی امت میں سے وہ لوگ اپنے عقیدہٴ امامت پر ثابت قدم رہیں گے کہ جس کے قلب کا امتحان اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ذریعے لے لیا ہوگا۔

جابر نے عرض کیا: اے رسول خدا! کیا حضرت کے شیعوں کو ان کی غیبت کے زمانہ میں کوئی فائدہ حاصل ہوگا؟ تو آنحضرت  نے فرمایا: ہاں ”قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے نبوت (و رسالت) کے ساتھ مبعوث کیا! وہ لوگ آپ کی غیبت میں آپ کی ولایت کے نور کی ضو سے اسی طرح فائدہ اٹھائیں گے جس طرح سورج بادل کو چھپالیتا ہے تو لوگ سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اے جابر! یہ بات اللہ تعالیٰ کے راز میں پوشیدہ ہے، علم الٰہی کے خزانہ میں مخفی ہے، لہٰذا (اس راز کو) اس کے اہل کے سوا دوسروں سے پوشیدہ رکھو“۔

۳۱۔ اہل سنت کے مشہور و معروف علماء میں سے شیخ سلیمان حنفی قندوزی نے اپنی کتاب ینابیع المودة میں کتاب مناقب سے سلیم ابن قیس ھلالی سے روایت نقل کی ہے کہ ایک دن ایک شخص امیر المومنین حضرت علی  - کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا: وہ کون سی مختصر شے ہے کہ جس کی وجہ سے بندہ مومنین میں شامل ہوجاتا ہے؟ اور وہ کون سی مختصر شے ہے کہ جس کی وجہ سے بندہ کافروں یا گمراہوں میں شامل ہوجاتا ہے؟ تو امام علی  - نے فرمایا: جب تم نے سوال کر ہی لیا ہے تو جواب کو سنواور سمجھو:

” امّا اٴدنٰی مایکَوُنُ بِہِ الْعَبْدُ موٴمِناً اٴن یُعَرِّفَہُ اللّٰہ تبارکَ وَ تَعالیٰ نَفسہ فَیُقِرَّلَہُ بِالطّاعَةِ وَ یُعَرِّفَہُ نَبِیَّہُ فَیُقِرَّلَہُ بِالطّاعَةِ ویُعَرِّفَہُ اِمامَہُ وَحجتہُ فی ارضِہِ وَشاھِدَہُ عَلیٰ خَلقِہِ فَیُقِرَّلَہُ بِالطّاعَةِ ․

قُلتُ: یا امیر الموٴمنین وَانِ جَھِلَ جَمیع الاٴشیاءِ اِلاّ ما وَصَفَت ؟

قالَ: نَعَم اِذا اَمَرَ اطاعَ وَاِذا نَھی انتَھی ․

وَادنی مایکوُنُ العَبدُ بِہِ کافِراً مَن زَعَمَ انَّ شَیئاً نَھَی اللّٰہ عَنْہُ انَّ اللّٰہ امَرَہُ بِہِ وَنصبہُ دیناً یتَوَلّی عَلَیہِ ، وَیَزعُم انَّہُ یَعبد اللّٰہ الذی امرَہُ بہِ وَما یعبُدُ الاَّ الشیطانَ․

وَامّا ما یکَوُنُ العبد بہ ضالاً اَن لا یعرِف حجَة اللّٰہ تبارکَ و تعالٰی وَ شاہِدَہُ عَلیٰ عِبادہِ الَّذی اَمَرَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ عِبادَہُ بِطاعَتِہ وَ فَرضَ ولایتَہُ ․

قُلت: یا اَمیرَ الموٴمنینِ صِفھُم لی ․

قالَ: الذینَ قَرنہُ اللّٰہ تعالیٰ بنفِسِہ وَنَبیّہ فقال: <یَاا یّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ>

فَقلت لَہُ: جَعَلَنی اللّٰہ فَداکَ اَوْضِحْ لی ․

فَقالَ: الَّذینَ قالَ رَسوُلُ اللّٰہِ  فی مَواضِعَ وَفی آخِر خُطَبةٍ یَومَ قبضَہُ اللّٰہ عزوَجَلَّ اِلیہِ - اِنّی تَرَکتُ فیکُم اَمْرینِ لَن تَضِلّوا بعدی اِن تَمَسَّکْتُمْ  بھِمٰا ، کِتٰابَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ عِتْرَتی ، اَھْلُ بَیْتی ، فَانَّ اللَّطیفَ الخَبیر ، قَدَ عَھدَ اِلَیَّ اَنَّھُما لَنْ تَفْرقٰا حَتّی یردا عَلَیّ الحوضَ کھاتینِ ، وَجَمَعَ مسبحتَیہِ ، وَلا اقولُ کَھاتَین ، وَجَمَعَ مَسبحَتَہ والوُسطی فَتَمسکَوَا بِھِمٰا وَلا تقدَّموُھم فتضِلّوا “ (۱)

”وہ مختصر سی شے جس کی وجہ سے بندہ مومنین میں شامل ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو اپنی معرفت عطا کرتا ہے پھر وہ اس کی اطاعت کا اقرار کرتا ہے اور اپنے نبی کی اس کو معرفت عطا کرتا ہے۔پھر وہ ان کی اطاعت کا اقرار کرتا ہے نیز اس کو اپنے امام کی معرفت عطا کرتا ہے جو روئے زمین پر اس کی حجّت اور مخلوق پر گواہ ہے پھر وہ اس اطاعت کا اقرار کرتا ہے۔

میں نے عرض کیا: یا امیر المومنین ! جو اوصاف آپ نے بیان فرمائے ہیں اگر ان سب سے ناواقف ہو تو؟ فرمایا: ہاں! اگر اس کو حکم دیا جائے تو وہ اطاعت کرے اور جب اسے منع کیا جائے تو وہ اس سے باز آجائے اور وہ کم ترین شے جس کی وجہ سے بندہ کافروں میں شامل ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان نے کسی چیز کے بارے میں محض یہ خیال کیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے جس کا اس نے حکم دیا ہے لہٰذا اسے اس کے اپنے لیے ایک دین کی شکل دے دی اور اس کی اطاعت اور ولایت کو اپنے لیے لازم بنالیا اور اس نے اپنے خیال میں یہ گمان کیا کہ وہ اللہ کی عبادت کر رہا ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتا بلکہ شیطان کی عبادت کرتا ہے۔

لیکن وہ کم ترین شے جس کی وجہ سے بندہ گمراہوں میں شامل ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ شخص حجّت خدا کی محبت اور اس کے بندوں کے گواہ کی معرفت نہیں رکھتا کہ جس کی اطاعت اور ولایت کو (اپنے بندوں پر) فرض قرار دیا ہے۔

اس شخص نے عرض کیا: یا امیر المومنین ! ان حضرات کی توصیف سے ہمیں آگاہ فرمائیے تو امام علی  - نے فرمایا:

یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور اپنے نبی کی ذات کے ساتھ ذکر کیا اور فرمایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ینابیع المودة، ج۱، ص ۳۴۹۔

<یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ>

اس شخص نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے ذرا مجھے وضاحت سے بیان فرمائیے، تو حضرت علی  - نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کا ذکر رسول خدا  ﷺ نے متعدد مقامات پر فرمایا ہے منجملہ ان میں سے اپنی عمر کے آخری خطبہ میں بھی جن کا ذکر کیا اور فرمایا ہے: ”انی ترکت فیکم امرین لن تضلّوا بعدی ان تمسکتم بھما، کتاب اللّٰہ وعترتی اہل بیتی“ میں تم میں دو چیزیں بطور یادگار چھوڑے جارہا ہوں اگر ان کے دامن سے متمسک رہوگے تو میرے بعد ہرگز ہرگز گمراہ نہ ہوگے ایک کتاب خدا ہے اور دوسرے میرے عترت جو میرے اہل بیت ہیں۔

خدائے لطیف و خبیر نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ یہ دونوں ہرگز ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں گے۔

اللہ ہمیں اور تمام مومنین کو اس رزق سے نوازے انشاء اللہ۔

۳۲۔ کافی میں بطور مسند ابو مسروق نے امام جعفر صادق   - سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت سے عرض کیا کہ ہم علمائے علم کلام سے گفتگو کرتے ہیں اور آیت <اطیعو اللہ و اطیعوا الرسول>(۱) کے ذریعہ ان سے احتجاج کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: یہ مومنین کے بارے میں نازل ہوئی اور آیہٴ مودت <قُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی >(۲) سے احتجاج کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں : یہ عام مومنین کے اقرباء سے محبت کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔

راوی کابیان ہے: جو کچھ مجھے یاد تھا اسی طرح احتجاج کے طور پر ذکر کرتا رہا اور کوئی چیز فروگزار نہیں کی اور سب کو میں نے ذکر کیا پھر بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا تو حضرت نے فرمایا:

”اِذا کانَ ذلِکَ فادعُھُم اِلَی الْمُبٰاھَلَةِ ، قُلتُ: وَکَیفَ اٴصنَعُ ؟ فَقالَ: اٴصْلحْ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ نساء، آیت ۵۹۔

(۲)۔ سورئہ شوریٰ، آیت ۲۳۔

نَفْسَکَ ثَلاٰثاً واٴظنّہ قال: صُمْ وا غتسلِ وابرز اٴنت وھو الی الجبّان ، فشبّک اٴصابعک من یدک الْیُمْنیٰ فی اٴصابعہ ، فابدء بنفسک فقل: اللّھُم رَبَّ السَّمواتِ السَّبع وَ ربَّ الاٴرَضینَ السَّبعِ، عالِمَ الغَیبِ وَالشَّھادةِ الرَّحمٰنَ الرَّحیمُ اِن کانَ اَبوُ مَسروُق جَحدَ حَقّاً وَادَّعیٰ باطِلاً فاٴنِزل عَلَیہِ حُسباناً مِنَ السَّماءِ اوْ عذاباً الیماً ، ثُمّ ردَّ الدَّعوة علیْہِ فَقُل وَاِنْ کان فُلاٰنٌ جَحَدَ حَقّاً وَادَّعیٰ باطِلاً فاٴنزل عَلَیہِ حُسباناً مِنَ السَّمآء او عذاباً الیماً “․

ثُمَّ قالَ لی: ”فَاِنَّکَ لا تَلبثُ اٴن تَریٰ ذلِکَ فیہِ ، فَوَا للّٰہِ ما وجدت خلقاً یجیبُنی علیہِ “ (۱)

”جب ایسی صورت درپیش ہوتو ان کو مباہلہ کی دعوت دینا میں نے دریافت کیا: کیسے مباہلہ کروں، فرمایا: پہلے تین دن اپنے پاکیزگی نفس اور اصلاح کو عبادت کے ذریعہ انجام دو اور روزہ رکھو، غسل انجام دو اور اس کے بعد تم اور تمہارا مخالف دونوں ایک پہاڑ پر جاؤ اس کے بعد اپنے داہنے ہاتھ کی انگلیاں اس کی انگلیوں میں ڈال دو پھر انصاف سے کام لو یعنی پہلے اپنی طرف سے آغاز کرو اور کہو: اے خدا! اے سات آسمان اور سات زمین کے پروردگار! اے ظاہر و غائب کے جاننے والے! اے رحمن و رحیم! اگر ابو مسروق نے حق سے انکار کیا ہے اور باطل کا مدعی ہے تو اس کے لیے آسمان سے بلائے عظیم اور دردناک عذاب نازل فرما پھر یہی الفاظ اپنے مخالف سے کہلواؤ ، اگر (فلاں شخص نے) حق سے انکار کیا اور باطل کا مدعی ہے تو اس کے لیے آسمان سے بلائے عظیم اور دردناک عذاب نازل فرما“۔

۳۳۔ عیاشی نے ابو بصیر سے امام محمد باقر   - سے روایت کی ہے کہ حضرت  - نے فرمایا: آیہٴ <اطیعو اللہ و اطیعوا الرسول>حضرت علی ابن ابی طالب  - کے حق میں نازل ہوئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۵۱۳، وسائل الشیعہ، ج۷، ص ۱۳۔

میں نے عرض کیا: وہ لوگ کہتے ہیں: کون سی رکاوٹ تھی کہ اللہ تعالیٰ حضرت علی  - اور اہل بیت علیہم السلام کا نام اپنی کتاب میں ذکر کرتا؟

تو امام محمد باقر   - نے فرمایا:

” قوُلوُا لَھُمْ اِنَّ اللّٰہ  انزَلَ عَلیٰ رَسوُلِہِ الصَّلاة وَلَم یُسَمّ بہ ثلاثاً وَلا اربعَاً حَتّیٰ کانَ رَسوُل اللّٰہ  ھُوَ الَّذی فَسَّرَ ذَلِکَ لَھُم ․ وَانزَلَ الحجّ وَلَم یُنزِل طوُفوا اُسبُوعاً حَتّیٰ فَسَّرَ ذَلِکَ لَھُم رَسوُلُ اللّٰہ  ﷺ وَاٴنزَلَ<اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ>فنَزلَت فی عَلیٍ والحَسَنَ والحُسینِ  علیہم السلام ․

وَقالَ فی عَلِیٍ مَن کُنتُ مَولاہُ  فَعَلیٌ مَولاہُ ،

وَقالَ رَسوُل اللّٰہ اوُصیکُم بِکِتاب اللّٰہ واھلِ بیتی ، انّی سَاٴَلتُ اللّٰہ ان لا یفرِّقَ بینَھما حَتی یوردَھُما عَلَیَّ الحوضَ ، فَاَعُطانی ذلِکَ ، وَقالَ فَلا تُعَلِّمُوھُم فَاِنَّھُم اٴعلَمُ مِنکُم ، اِنَّھُم لَن یُخرجوُکُم مِن بابِ ھُدیً وَلَن یُدخِلوُکُم فی باب ضَلالٍ،

وَلَو سَکَتَ رَسول اللّٰہِ وَلَم یُبَیِّن اھلَھا لا دعٰاھٰا آل عبّاسٍ وَآل عقیلٍ وآل فُلانٍ وَلکِنْ انزَلَ اللّٰہ فی کتابِہِ <إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا >،(۱)

فکانَ عَلیٌ والحَسنُ والحسیَنُ وَ فاطِمَةُ علیہم السلام  تَاٴویلُ ہذہِ ِالآیة ، فاٴخذَ رَسوُل اللّٰہ بِیَدِ عَلیٍّ وَفاطِمَةَ والحَسَنِ والحسیَنِ صَلَوات اللّٰہ علَیہم ، فاٴدخَلَھُم تحتَ الکِساءِ فی بَیتِ اُمِّ سَلَمةَ وقالَ: اللّھُم اِنَّ لِکُلِّ نبیٍّ ثقلاً واھلاً ،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورئہ احزاب، آیت ۳۳۔

فَھولٓاء ثقلی وَاَھْلی ․

وَقالَت: اُمُّ سَلَمةَ : الستُ مِن اھلِکَ ؟ قالَ اِنَّکِ اِلٰی خیرٍ، وَلٰکِن ھٰوٴُلاٰءِ ثِقلیوَاَھْلی “ (۱)

”تم ان سے کہو: اللہ تعالیٰ نے نماز کو حضرت رسول خدا پر نازل کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ تین رکعت یا چار رکعت یہاں تک کہ اُس کی تفسیر و توضیح رسول خدا نے بیا ن کی، اللہ تعالیٰ نے آیہٴ حج نازل کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ سات طواف کرو یہاں تک کہ رسول خدا نے اس کی تفسیر و تشریح کی اور اللہ تعالیٰ نے آیہٴ <اطیعو اللہ و اطیعوا الرسول>علی، حسن اور حسین علیہم السلام کے حق میں نازل فرمائی۔

اور حضرت علی  - کے بارے میں فرمایا: اے لوگو! جس جس کا میں مولا اور سرپرست ہوں یہ علی بھی اس کے مولا اور سرپرست ہیں۔

اور رسول خدا نے فرمایا: اے لوگو! میں تم میں اللہ کی کتاب اور اپنے اہل بیت کے بارے میں وصیت کرتا ہوں میں نے خدا سے دعا کی تھی کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی بھی جدا نہ ہوں یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں اللہ تعالیٰ نے میری یہ حاجت قبول کی۔

مزید فرمایا: تم ان کو تعلیم نہ دو کیونکہ وہ تم سے زیادہ جاننے والے ہیں اور وہ تم کو باب ہدایت سے نہیں نکلنے دیں گے اور کبھی بھی تمہارے لیے گمراہی کا راستہ ہموار نہیں کریں گے۔

اگر رسول خدا خاموش ہوجاتے اور اپنے اہل بیت کو نہ بتاتے تو یقینا آل عباس، آل عقیل اور فلاں خاندان والے اہل بیت ہونے کا دعویٰ کر بیٹھتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں ان کے بارے میں آیہٴ تطہیر <إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ تفسیر عیاشی، ج۱، ص ۴۰۸ (حدیث ۱۷۰) اصول کافی، ج۱ ، ص ۲۸۶ (حدیث ۱) تفسیر فرات، ج۱، ص ۱۱۰ (حدیث ۱۱۲)۔

تَطْہِیرًا>نازل فرمائی کہ: اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت! ہر قسم کے رجس کو تم سے دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔ لہٰذا علی ، حسن ، حسین، اور فاطمہ علیہم السلام اس آیت کے مصداق ہیں۔

پھر رسول خدا  نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کا دست مبارک پکڑا اور خانہٴ ام سلمہ میں چادر کے اندر داخل کرکے فرمایا: بار الٰہا! (اے میرے پروردگار!) ہر نبی کے کچھ اہل اور گراں قدر ذاتیں اور اہل بیت ہوا کرتے ہیں میرے اہل بیت اور گراں قدر عزیز یہ ہیں۔ ام سلمہ نے عرض کیا: کیا میں آپ کے اہل بیت میں شامل نہیں ہوں؟ تو حضرت نے فرمایا: تم ہمیشہ خیر پر ہو لیکن میرے گراں قدر عزیز اور اہل بیت یہ ہیں۔

۳۴۔ تفسیر صافی میں امام جعفر صادق   - سے روایت نقل ہوئی ہے کہ حضرت  - سے دریافت کیا گیا کہ اسلام کی بنیاد یں کن چیزوں پر قائم ہےں کہ اگر انسان انہیں حاصل کرلے تو اس کا عمل پاک و پاکیزہ ہوجائے گا اور اس کے علاوہ جہل نقصان نہیں پہنچا سکتا ؟ حضرت نے فرمایا:

”  شَہادَةُ  ان  لا  اِلہ اِلاَّ اللّٰہُ وانَّ محمَّد اً رَسوُل اللّٰہ وَالاٴقِرار بما جآءَ بِہِ مِن عِندِ اللّٰہِ وَحَقٌ فی  الاٴموالِ الزکاة ، والوِلایةُ الَّتی امَرَ اللّٰہ بِھا وِلایة آل محمَّدٍ  فَانَّ رَسوُلَ اللّٰہ قال : مَن ماتَ وَلَم یَعرِف امامَہُ ماتَ میتةً جاھِلیةً  قال اللّٰہ تعالیٰ <اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ>فکانَ عَلیٌ علیہ السلام  ثُم صارَ مِن بَعدِہِ الحَسَنُ، ثُم مِن بَعدِہِ الحُسینُ ، ثُمّ مِن بَعدِہِ عَلیُّ بنُ الحُسینُ ، ثُم مِن بَعدِہِ مُحمدٌ بنُ علیٍ ،ثُمَّ ھکَذا یَکُون الامرْ ، اِنَّ الارضَ لا تُصلحُ اِلاَّ بِامِامٍ “ (۱)

اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان تمام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ تفسیر صافی، ج۱، ص ۴۲۸۔

باتوں کا اقرار کرنا جو آنحضرت   خدا کی طرف سے لائے اور اپنے مال میں زکوٰة کا ہونا حق ہے اور وہ ولایت کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے وہ آل محمد ہے اور رسول خدا  نے فرمایا: جو شخص مرگیا اور اس نے اپنے امام کو نہ پہچانا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی جو تم میں سے ہوں لہٰذا وہ علی (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے بعد حسن پھر حسین پھر علی ابن الحسین پھر محمد ابن علی، پھر اسی طرح یہ امر جاری رہے گا، روئے زمین کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر امام کے ذریعہ۔

۳۵۔ سلیم ابن قیس ہلالی نقل کرتے ہیں: حضرت امیر المومنین  - سے دریافت کیا گیا: کم ترین شے جو انسان کو گمراہ کرتی ہے وہ کیا ہے؟ فرمایا:

”اَن لا یَعرِفَ مَن امَرَ اللّٰہ بِطاعَتِہِ وَفرَضَ ولایَتَہُ وَجَعَلَ حُجَّتَہُ فی ارضِہِ وَشاہِدَہُ عَلیٰ خَلقہِ ، قالَ ومَنْ ھُم یا امیر الموٴمنینَ ؟ قالَ: الَّذین قَرَنَھُمْ اللّٰہ بِنَفسِہِ وَنَبیّہِ فَقالَ :<یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ>․

قالَ: فَقَبَّلتُ رَاٴسَہُ وَقُلت: اوضَحتَ لی وَفَرَّجتَ عَنّی واذھَبت کُل شَیٍ کانَ فی قَلبی “․ (۱)

یہ ہے کہ وہ انسان حجّت خدا کی محبت اور اس کے بندوں کے گواہ کی معرفت نہیں رکھتا کہ جس کی اطاعت اور ولایت کو اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے۔

میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین ! وہ کون افراد ہیں؟ فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور اپنے نبی کی ذات کے ساتھ کیا ذکر کیا اور فرمایا: ’(اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو ، رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں“۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سلیم ابن قیس، ص ۵۹، تفسیر صافی، ج۱، ص ۴۲۹۔

راوی کا بیان ہے : میں نے حضرت کے سر مبارک کا بوسہ دیا اور عرض کیا: میرے لیے آپ نے مسئلہ واضح کردیا اور میرے دل کے تمام ہم ّ و غم کو ختم کردیا۔

حضرت امام مہدی کے بارے میںاہل سنت سے مروی احادیث

۳۶۔ خواجہ کلان ، شیخ سلیمان بلخی حنفی اپنی گراں قدر کتاب ”ینابیع المودة“ میں علامہ سمہودی شافعی اپنی کتاب ”جواہر العقدین“ میں ، ابن ہیتمی اپنی کتاب (صواعق محرقہ) میں اور طبرانی اپنی کتاب ”اوسط“ میں ابو ایوب انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا رسول اکرم  کی خدمت میں آپ کے مرض الموت کے موقع پر حاضر ہوئیں اور رو پڑیں، تو رسول اکرم نے فرمایا: ”اِنَّ لِکَرامةِ اللّٰہِ ایّاکِ زَوَّجَکِ مَن ھُو اقدمُھُمْ سِلماً وَاکْثَرُھُمُ عِلْماً “ : (۱)

”آپ کے بارے میں پروردگار کی منجملہ کرامتوں میں سے یہ ہے کہ آپ کی شادی ایسے شخص سے کی جو اسلام لانے میں سب سے پہلے اور علم و دانش کے لحاظ سے سب سے زیادہ جاننے والا ہے“۔

پھر فرمایا: خداوند متعال نے اہل زمین پر نظر ڈالی تو مجھے منتخب کیا، پھر دوبارہ نظر ڈالی تو تمہارے شوہر کو منتخب کیا پھر مجھے وحی کی کہ تمہاری شادی اس سے کردوں اور اسے اپنا وصی قرار دوں۔

”یافاطِمة مِناّ خَیر الانبیآء وَھُوَ ابوکِ وَمِنّا خَیر الاَوصیآء وَھُوَ بَعلکِ وَمِنّا خَیر الشُّہَداء وَھُوَ حمزة عمُّ ابیکِ وَمِنّا مَن لَہُ جَناحانِ یطیر بِھِما فی الجَنَّةِ حَیث شَاء وَھُوَ جَعفر ابنِ عَمِّ ابیکِ وَمِنّا سِبطا ھذِہِ الاُمّة وَسَیّدا شبابِ اہلِ الجَنَّةِ ، الحَسَنُ والحُسینُ ، وَھما ابناکِ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۶۹، مناقب ابن مغازلی، ص ۱۰۱ (حدیث ۱۴۴)، فرائد السمطین، ج۱، ص ۹۲ (حدیث ۶۱)۔

وَالَّذی نَفسی بیدِہِ ، مِنَّا مَھدیُّ ہذھِ الامَّة وَھُو مِن وُلدِکِ“ : (۱)

اے بیٹی فاطمہ! بہترین انبیاء ہم میں سے ہے اور اور وہ تمہارے باپ ہیں اور ہم میں سے بہترین اوصیاء ہیں اور وہ تمہارے شوہر ہیں اور ہم میں سے بہترین شہداء ہیں اور وہ تمہارے باپ کے چچا حمزہ ہیں اور ہم میں سے وہ شخص موجود ہے کہ جس کو دو پر عطا ہوئے ہیں جن کے ذریعے جہاں چاہتے ہیں پرواز کرتے ہیں اور وہ جعفر ہیں تمہارے باپ کے پسر عم اور ہم میں سے اس امت کے دو سبط ہیں اور اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، وہ حسن و حسین ہیں جو تمہارے فرزند ارجمند ہیں۔

اس خدا کی قسم! جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے ہم میں سے اس امت کا مہدی ہے جو تمہاری اولا دمیں سے ہے“۔

۳۷۔ اسی کتاب میں سعید ابن جبیر سے ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم   نے فرمایا:

”اِنَّ عَلیّاً اِمامُ اُمَّتی من بِعدی ، وَمِن وُلدِہِ القائِمُ المُنتظَرُ الَّذی یملاءُ الاٴرضَ قِسطاً وَ عَدلاً کَمٰا مُلئَت جوراً وَ ظُلماً وَالَّذی بعثنی بِالحّقِ بَشیراً وَ نَذیراً اِن الثّٰابتینَ عَلَی القوْلِ بِامِامَتِہِ فی زَمانِ غَیْبَتِةِ لاٴعَزّ مِنَ الکبریتِ الاَحّمر

فقال الیہ جابر بن عبد اللّٰہ فقال : یا رسول اللّٰہ ولِلْقٰائِمِ من وُلْدِکَ غَیْبَةٌ ؟ قال ای وربّی <وَلِیُمَحِّصَ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا وَیَمْحَقَ الْکَافِرِینَ>(۲) ثُمّ قالَ یا جابِر انّ ھذا امرٌ مِن امرِ اللّٰہ وَسِرٌّ مِن سِرِّ اللّٰہ فایّاکَ وَالشَّک فیہِ فانّ الشکَ فی امرِ اللّٰہ عزّوجلّ کُفر “ (۱)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۶۹، صواعق محرقہ، ص ۱۶۵۔

(۲)۔ سورہ آل عمران، آیت ۱۴۱۔

”یقینا علی میرے بعد میری امت کے امام ہیں آپ کے فرزندوں میں قائم المنتظر ہوں گے جو زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی، قسم ہے اس خدا کی کہ جس نے مجھے حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا! وہ لوگ جو آپ کی غیبت کے زمانہ میں آپ کی امامت کے عقیدہ پر ثابت قدم رہیں گے وہ آپ سے زیادہ عزت والے اور کم یاب ہوں گے۔

جابر نے اپنے مقام پر کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے فرزندوں میں سے قائم کے لیے کوئی غیبت ہے؟ فرمایا: ہاں میرے رب کی قسم! ”تاکہ اللہ مومنین کو پاک و پاکیزہ بنائے اور کافروں کو نیست و نابود کرے“

پھر فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے، اور اسرار رب میں سے ایک مخفی بات ہے اس میں کبھی بھی شک نہ کرنا کیونکہ پروردگار کی ذات میں شک کرنا کفر کا باعث ہے“۔

۳۸۔ حسن ابن خالد کا بیان ہے کہ حضرت علی ابن موسیٰ الرضا  - نے فرمایا:

”لا دینَ لِمَن لا وَرَعَ لَہُ <اِنّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰاکُمْ >(۲) ای اعملکُم بالتَّقویٰ ثُمَّ قالَ اِنَّ الرَّابعَ مِن وُلدِی ابنُ سَیِّدَةِ الاِماءِ یُطَھِّرُ اللّٰہ بِہِ الاٴرضَ مِن کُلّ جَورٍ وَظلمٍ وَھُوَ الذی یَشُکُّ النّاسُ فی ولادَتِہِ

وَھُوَ صاحِبُ الغیبةِ ، فاذا خَرَجَ اٴشرَقَتِ الاَرضَ بنور رَبّھا ، وَ وَضَعَ میزانَ العَدل بَینَ النّاسِ فَلا یظلمُ احَدٌ اَحداً

وَھُوَ الذی تُطویٰ لَہُ الاَرضُ وَلا یَکُونَ لَہُ ظِلٌ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۳۶، ینابیع المودة، ج۳، ص ۳۹۷، احقاق الحق، ج۱۳، ص ۱۵۶، کمال الدین، ج۱، ص ۲۸۷ (باب ۲۵، حدیث ۷)۔

(۲)۔ سورہ حجرات، آیت ۱۳۔

وَھُوَ الذی یُنادی مُنادٍ مِن السَّمآء یَسمَعُہُ جَمیعُ اَھْل الاٴرضِ : اَلاٰ اِنّ حُجَّةَ اللّٰہِ قَد ظَھَرَ عِند بیتِ اللّٰہِ فاتّبِعُوہُ ، فَاِنَّ الحقَّ فیہ وَمَعہُ ، وَھُوَ قولُ اللّٰہ عزّوجلّ <إِنْ نَشَاٴْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِنْ السَّمَاءِ آیَةً فَظَلَّتْ اٴَعْنَاقُہُمْ لَہَا خَاضِعِینَ>(۱) وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزّوَجَلَّ <ْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِی مِنْ مَکَانٍ قَرِیبٍ  یَوْمَ یَسْمَعُونَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ ذَلِکَ یَوْمُ الْخُرُوجِ >(۲)  اَیْ خُروجُ وَلَدِیَ الْقآئِمُ الْمُہْدِیُّ علیہ السلام“ (۳)

”اس شخص کے لیے دین نہیں ہے جس کے پاس پرہیزگاری نہیں ہے یقینا اللہ کے نزدیک عزت والا وہ ہے جو تم میں سے زیادہ تقوا اور پرہیز گار ی کے ساتھ زیادہ عمل کرنے والا ہو۔

پھر فرمایا: یقینا میرے فرزندوں میں سے جو چوتھا کنیزوں کی ملکہ (سیدة الاماء) سے ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ زمین کو ہر قسم کے ظلم و جور سے پاک کرے گا۔

وہ وہی شخص ہے کہ جس کی ولادت کے بارے میں لوگ شک و شبہ کریں گے۔

اس کے لیے غیبت کبریٰ ہے، جب ظہور کرے گا تو زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کی میزان قائم کرے گا کوئی شخص کسی شخص پر ظلم نہیں کرے گا آپ وہ ہیں کہ جس کے لیے زمین سمٹ جائے گی (طی الارض کا حامل ہوگا) آپ کا کبھی بھی سایہ نہیں ہوگا۔

آپ وہ بزرگوار ہیں جن کی خاطر آسمان سے ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز کو تمام زمین والے سنیں گے: ”(اے لوگو!) خبردار! یقینا اللہ کے گھر کے پاس حجّت خدا ظاہر ہوگئے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو، کیونکہ وہ خود حق ہے اور حق بھی ان کے ساتھ ہے“  اللہ تعالیٰ کے اس قول کا معنی یہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ سورہ شعراء، آیت ۴۔

(۲)۔ سورہ ق، آیت ۴۱، ۴۲۔

(۳)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۹۶، فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۳۶۔

ہے: ”اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ایسی آیت نازل کردیتے کہ ان کی گردنیں خضوع کے ساتھ جھک جائیں“ مزید فرماتا ہے: ”اور اس دن غور سے سنو جس دن قدرت کا منادی (اسرافیل) قریب ہی کی جگہ آواز دے گا جس دن خدائے آسمان کو سب بخوبی سن لیں گے اور وہی دن قبروں سے نکلنے کا دن ہے“ فرمایا: یعنی میرے فرزند قائم مہدی کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا“۔

۴۰۔ عبایة ابن ربعی جابر (ابن عبد اللہ انصاری) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا: ”انَا سَید النبیّینَ وَعَلِیٌ سَیّد الوَصییَن وَانَّ اوصِیآئی بَعدی اِثنا عَشَر ، اَوّلُھُم عَلِی وَآخرُھم القائم المَہدی - عجل اللّٰہ تعالیٰ فرجہ الشریف “ (۱)

”میں انبیاء کا سردار ہوں اور علی تمام اوصیاء کے سردار ہیں“ میرے بعد میرے اوصیاء بارہ افراد ہیں، ان سب میں اول علی ہیں اور ان میں آخری قائم (آل محمد) مہدی ہیں“۔

۴۱۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول خدا   نے فرمایا:

”اِنَّ اللّٰہَ فَتَحَ ہَذَا الدّینَ بِعَلیٍّ ،وَاذَا قُتلَ فَسَدَ الدّینُ وَلا یُصْلِحُہُ اِلاَّ المَہدِیُّ علیہ السلام “ (۲)

”یقینا اللہ تعالیٰ نے اس دین کو حضرت علی  - کے ذریعہ فتح کیا اور جس زمانے میں وہ قتل کردیے جائیں گے تو دین اسلام تباہ و برباد ہوجائے گا اس کو سوائے حضرت مہدی کے کوئی درست نہیں کرے گا“۔

۴۲۔ ابو نعیم اصفہانی اپنی کتاب ”صفة المہدی“ میں حزیفہ ابن یمان سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم  ﷺ نے ارشاد فرمایا:

”ھٰذِہِ الامّةَ مِن مُلوکٍ جَبابِرَةٍ کَیفَ یقتلوُنَ وَیَطردُونَ المُسلمِینَ اِلاَّ مَن اظھَر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۹۱، مودة القربیٰ، ص ۲۹۔

(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۳۹۴، مودة القربیٰ، ص ۱۲۰۔

طاعَتَھم فَالموٴمن التَّقِیُّ یُصٰانِعُھُمْ بِلِسانِہ وَیفِرُّ مِنھُم بقلبہِ

فَاِذٰا ارادَ اللّٰہ تَبارَکَ وَتَعالیٰ ان یُعیدَ الاِسلامَ عَزیزاً قصَمَ کُلّ جَبّٰارٍ عَنیدٍ ، وَھُوَ القادِر عَلیٰ ما یشآء ، وَاصلَحَ الا مة ، بَعدَ فَسادِھا

یا حذیفة ، لو لم یبق مِنَ الدُّنیا الاَّ یومٌ واحِدٌ لِطَوّل اللّٰہ ذلِکَ الیومَ ، حَتّی یملِک رَجُلٌ مِن اٴھِل بیتی ، یظھِرُ الاسلام َ، وَاللّٰہ لا یخلفُ وَعدَہُ ، وَھُوَ عَلیٰ وَعدِہِ قدیر“ : (۱)

اس امت مسلمہ کے ظالم و جابر بادشاہوں پر وای ہووہ کس طرح مسلمانوں کا قتل کریں گے اور انہیں شہر بدر کریں گے سوائے ان افراد کے جو ان کی اطاعت و فرماں و برداری کرے گا،پرہیز گار مومن ان سے زبانی طور پر بنائے رکھے گا اور قلبی طور پر ان سے دور بھاگے گا۔

جب اللہ تبارک و تعالیٰ اسلام کی عزت کو دوبارہ واپس کرنا چاہے گا تو تمام ظالم اور شرپسندوں کو تباہ و برباد کرے گا وہ اس اسلام کو غلبہ عطا کرے گا، خدا کی قسم! اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

اے حذیفہ! اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہے تو خداوند متعال اس کو طولانی کردے گا یہاں تک کہ ایک شخص میرے اہل بیت میں سے اس کائنات کا مالک ہوگا اور اسلام کو آشکار کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کبھی بھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا وہ اپنے وعدے پورا کرنے کی طاقت رکھتا ہے“۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۹۸، عقد الدّرر، ص ۶۲۔

حضرت مہدی  - پیغمبر اسلام کے بارہویں جانشین ہیں۔

۳۹۔ شیخ الاسلام حموینی اپنی کتاب میں اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا  نے فرمایا:

”اِنّ خُلَفائی اوصیائی حُجَجُ اللّٰہِ عَلَی الخلق بَعدی الاَثنا عَشَرَ ، اَوّلُھُمْ عَلیّ وَآخرھُمُ وَلدی المَھدی ، فینزلُ رُوْح اللّٰہِ عیسیَ بن مَریمَ فیُصَلّیٖ خَلْفَ المہدیِّ ، وَتشرُقُ الارضُ بنورِرَبّھا وَیبلغُ سلطانُہُ المشرِقَ وَالمغرِبَ “ (۱)

”یقینا میرے خلفاء اور میرے اوصیاء میرے بعد مخلوق پر خدا کی حجّت ہیں جو بارہ افراد ہیں، ان میں سے پہلا حضرت علی ابن ابی طالب - ہے اور ان میں کا آخری میرا بیٹا مہدی ہے کہ روح اللہ حضرت عیسیٰ ابن مریم جب آسمان سے نازل ہوں گے تو ان کے پیچھے ان کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے، تو زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی حضرت مہدی کی سلطنت مشرق اور مغرب میں ہوگی“۔

۴۰۔ حموینی اسی طرح ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم  ﷺ نے ارشاد فرمایا:

”اناَ سَیِّدُ النبیّینَ وَعَلِیٌّ سیّدُ الوَصیّینَ وَانَّ اوصیآئی بَعدی اِنثا عَشَرَ ، اولُھم عَلیٌّ وَآخِرھُمُ  المَہدیُّ  علیہ السلام “ (۲)

”میں تمام انبیاء کا سید و سردار ہوں اور حضرت علی  - تمام اوصیاء کے سردار ہیں میرے بعد میرے بارہ اوصیاء ہیں ان میں سے پہلا علی اور ان میں سے آخری مہدی ہے“۔

۴۱۔ ابو الموٴیّد احمد ابن محمد اخطب خوارزم حضرت علی ابن موسیٰ الرضا  - سے بطور مسند اپنے آبائے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۹۵، فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۱۲۔

(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۹۶، فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۱۳۔

کرام سے حضرت رسول اکرم  سے اس ایک حدیث میں کہ جس میں اپنے اہل بیت گرامی کی فضیلت و عظمت اور حدیث کے بعض حصے میں اپنی معراج کے بارے میں گفتگو کی ہے فرمایا:

”فقُلت یارَبّی وَمَن اوصیآئی ؟ فنودیتُ : یا محمَّد اٴوصیائُکَ المَکتوبُونَ عَلیٰ سُرادِقِ عَرشی، فَنَظَرتُ فَرَاٴیْتُ اثنی عَشَرَ نوراً ، و فی کُلِّ نوُرٍ سَطرٌ اخضَر ، عَلَیہ اِسمُ  وَصِیٍّ مِن اوصیآئی اَوَّلُھُم عَلِیٌّ وَآخرِھُمُ القائِمُ الُمَہْدِیُّ علیہ السلام “ (۱)

”میں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میرے اوصیاء کون ہیں؟ آواز قدرت آئی: اے محمد! تیرے اوصیاء کے نام میرے عرش کے سرورق پر لکھے ہوئے ہیں میں نے نظر کی تو بارہ انوار کا مشاہدہ کیا ہر ایک نور میںایک سبز سطر موجود ہے کہ جس میں میرے اوصیاء میں سے ایک وصی کا اسم گرامی تحریر ہے ان میں سے پہلے علی اور ان کے آخر میں قائم مہدی (آل محمد) ہےں“۔

۴۲۔ ابو موید موفق ابن احمد خوارزمی اپنی سند کے ساتھ ابو سلیمان رسول خدا کے چوپان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اکرم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

”لیلةً اُسْرِیَ بی اِلَی السَّمآءِ ( وَساق الحدیثَ اِلیٰ اَن قالَ :) قالَ اللّٰہ تعالیٰ : یا محمَّدُ تحِبُّ ان تراھُم ؟ قُلتُ : نَعَم یا رَبِّ ، قال لی : اُنظر اِلٰی عَینِ العَرشِ ، فَنَظَرتُ فَاذِاً عَلِیٌ وَالحَسن وَالحُسَینُ وَعَلیُّ بنُ الحُسَینِ وَمحمدُ بنُ عَلیٍ وَجعفر بنَ محمَّدٍ وَموسیَ بنُ جعفرٍ وَعَلیُّ بنُ مُوسیٰ وَمحمَّدُ بنُ عَلیٍّ وَ عَلیُّ بنُ محمَّدٍ وَالحَسَنُ بنُ عَلیٍّ وَمحمَّد نِِ المہدیُّ ، ابنُ الحَسَنِ ، کَاَنَّہُ کَوکَبٌ دُرِّیٌّ بَینَھُم ․

وقالَ تعالیٰ: یا محمُد ھٰوٴُلآء حججی عَلیٰ عِبادی وَھُم اوصیائکَ “ (۲)

”جس رات مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا ․․․ تو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! تم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۳۷۹۔

(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۳۸۰، فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۱۹، غایة المرام، ج۲، ص ۲۵۶۔

انہیں دیکھنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہاں اے پروردگار! تو اللہ نے مجھ سے کہا: عرش کے داہنی جانب دیکھو میں نے نظر کی تو اس وقت ناگاہ کیا دیکھتا ہوں کہ (حضرات) علی ، فاطمہ ، حسن ، حسین ، علی ابن الحسین ، محمد ابن علی ، جعفر ابن محمد ، موسی ابن جعفر ، علی ابن موسیٰ  ، محمد ابن علی ، علی ابن محمد ، حسن ابن علی اور محمد مہدی ابن حسن علیہم السلام موجود ہیں جو گویا ان کے درمیان روشن (ستارے)کی طرح ہیں“۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! یہ روئے زمین پر میرے حجج ہیں اور لوگوں کے درمیان تیرے جانشین ہیں“۔

۴۳۔ حموینی نے سعید ابن حبیب سے، ابن عباس سے انہوں نے نبی اکرم   سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:

”ان اوصیائی وَحُجَجَ اللّٰہ عَلیٰ الخلق بَعدی الاثنی عَشَرَ اَوّلُھُم اخی وَآخِرُھُم وَلَدی قیل یا رسوُلَ اللّٰہ   مَن اخوُک ؟ قالَ عَلی  علیہ السلام قیلَ : مَن وَلدَکَ ؟ قالَ: المَہدی الَّذی یملاء الارضَ قِسطاً وَ عَدلاً کَما مُلئِت جَوراً وَظُلماً وَالذی بعَثَنی بالحَق بشیراً وَنذیراً لو لَم یبق مِنَ الدُّنیا الاَّ یومٌ واحِدٌ لِطَوَّل اللّٰہُ  ذٰلِکَ الیومَ حَتی یخرَج فیہِ وَلَدی المَھدی فینزِل روُحُ اللّٰہ عیسیٰ بنُ مَرَیمَ فَیصلّی خَلفَ وَلَدی و تشرق الاَرضُ بنورِ ربّھا وَیبلغُ سلطانُہُ المشرق و المغرِبَ․ (۱)

میرے خلفاء اور اوصیاء میرے بعد مخلوق پر خدا کی حجّت ہیں جو بارہ ہیں ان میں کا پہلا علی  - ہے اور ان میں کا آخری میرا بیٹا ہے، دریافت کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ کے بھائی کون ہیں؟ فرمایا: علی  -۔ آپ کا بیٹا کون ہے؟ فرمایا: مہدی، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح وہ ظلم و جور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۸۶۔

سے بھرچکی ہوگی قسم ہے مجھے اس خدا کی ! کہ جس نے مجھے حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا مبعوث کیا اگر دنیا کا صرف ایک ہی دن باقی رہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو طولانی کردے گا یہاں تک کہ اس میں میرا بیٹا مہدی ظہور کرے گا اور عیسی ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے تو ان کے پیچھے ان کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے، زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی حضرت مہدی کی سلطنت مشرق و مغرب میں ہوگی (انشاء اللہ)۔

۴۴۔ ”وفیہ عن مناقب الخوارزمی باسنادہ عَن اَبی حمزَةِ الثُمالی عَن محمَّدٍ الباقِرِ عَن ابَیہِ عَلیِ بن الحُسینِ عَن اَبیہِ الحُسَینِ بن علیٍ (سَلامُ اللّٰہ عَلَیہم ) قالَ دَخَلَتُ عَلیٰ جَدی رَسُول اللّٰہِ  ﷺ فاجلَسَنی عَلیٰ فَخِذہِ وَقال لی: اِنَّ اللّٰہ اختارَ مِن صُلبِکَ یا حُسَینُ تِسعَة ائمَةٍ  تاسِعُھُم قائِمُھُم وَکُلُّھُم فی الفَضِل والمنزِلة عِند اللّٰہِ سواءٌ “ (۱)

اسی کتاب میں مناقب خوارزمی اپنی سند کے ساتھ ابو حمزہ ثمالی سے حضرت امام محمد باقر   - سے انہوں نے اپنے آباء و اجداد طاہرین سے انہوں نے امام حسین - سے روایت کی ہے کہ میں اپنے جد بزرگوار رسول خدا  کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اپنے زانوئے مبارک پر بٹھایا اور مجھ سے فرمایا: اے حسین! یقینا اللہ تعالیٰ نے تیرے صلب سے نو ائمہ کو منتخب کیا ہے کہ ان میں سے نواں قائم ہے اور وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت و منزلت میں برابر ہیں۔

۴۵۔ ”وفیہ عن مناقب الخوارزمی بسندہ عَن سُلیمِ بن قَیسِ الہِلالی عَن سَلمانِ الفارِسی قالَ دَخَلت عَلیٰ رَسوِلِ اللّٰہِ  واِذاً الحسینُ بن علی ، عَلیٰ فَخذِہِ وَھُوَ یُقَبِّل عینیہ وَیلثم فاہ وَھُوَ یَقولُ انتَ سَیّد ابنِ سَیّدٍ اخو سَیّدٍ انتَ اِمامُ ابنُ اِمامٍ اخو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۲۹۔

اِمامٍ انتَ حجةُ ابنُ حجةِ اخوُ حجَّةٍ واَنتَ ابو حجَجٍ تِسعة تاسِعُھُم قائمھُمْ “ (۱)

پھر اسی کتاب میں سلیم ابن قیس ہلالی سے وہ سلمان فارسی رضوان اللہ علیہم سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم  کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو ناگاہ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین ابن علی  - آنحضرت کے زانوئے مبارک پر تشریف فرما ہیں اور آنحضرت  آپ کی دونوں آنکھوں کو بوسہ دے رہے تھے، ان کے دہن مبارک کو چوم رہے تھے اور فرماتے تھے: تم سید و سردار ہو، سید و سردار کے فرزند ہو، سید و سردار کے بھائی ہو، تم امام ہو امام کے فرزند ہو، امام کے بھائی ہو تم خود حجّت ہو حجّت کے بھائی ہو اور تم نو حجّتوں کے باپ ہو ان میں نواں ان کا قائم (مہدیِ فاطمہ سلام اللہ علیہا) ہے“۔

۴۶۔ ”وفیہ عن المناقب الخوارزمی عن جابر بِن عَبد اللّٰہِ الاَنصاری قالَ قالَ لی رَسُولُ اللّٰہِ  یا جابِرِ انَّ اوصیائی وائمة المُسلِمینَ مِن بَعدی ، اوَّلُھُم عَلیٌ ثُم الحسنَ ثُم الحُسین ثُمَ عَلِی بنُ الحسینُ ثُمَ محمّد بن عَلِیٍّ المعروُفُ بالباقُرُ ، ستدرِکُہُ یا جابِر ، فَاذِا لقیتَہُ فاقراہُ مِنّی السَّلام ثُمَ جَعفَر بن محمَّدُ ثُمَ مُوسیٰ بن جعفَرٍ ثُمّ عَلِی بن موُسیٰ ثُمّ محمَّدُ بن عَلِیٍ ثُمَ عَلی بن محمّدٍ ثُم الحسَنُ بنُ عَلیٍ ثُمَّ القآئم، اسمُہُ اسمی وَکنیتُہ کنیتی ابنُ الحَسَن بن عَلیٍ ، ذلِکَ الذی یفتح اللّٰہ  تبارکَ وَ تعالیٰ عَلیٰ یَدیہ مَشارِق الارضِ وَمَغارِبھَا، ذلِکَ الذی یغیب عَن اولیآئہِ غیبةً لا یثبتُ عَلَی القولِ  بامامتِہِ اِلاَّ مَن امتَحَن اللّٰہ قَلبہ للایمانِ : قالَ جابِر فَقلتُ : یا رَسوُلَ اللّٰہِ فَھَل لِلنّاسِ الانتِفاعُ بِہِ فی غَیبتہِ ؟ فَقالَ : ای والَّذی بَعَثَنی بالنبوةُ انَّھُم یستضیئون نبورِ ولایتہِ فی غیبتہ کانتفاعِ النّاس بالشمسِ وَاِن سَتَرَھا سِحابٌ ، ھذا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۴۹۲۔

مِن مکنوُنِ سِرّ اللّٰہِ ومخزونِ عِلم اللّٰہِ فاکتمہُ اِلاَّ عَن اھلہ “ ․ (۱)

اسی کتاب میں مناقب خوارزمی سے جابر ابن عبد اللہ انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول خدا  ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے جابر ! یقینا میرے اوصیاء جو میرے بعد ائمہٴ مسلمین ہیں ان میں سے جو پہلے ہیں علی پھر حسن پھر علی ابن الحسین پھر محمد ابن علی جو باقر کے نام سے مشہور ہیں اے جابر! عنقریب تم ان کا دیدار کرو گے جب تم ان سے ملاقات کرنا تو ان کو میرا سلام کہنا، پھر جعفر ابن محمد پھر موسی ابن جعفر پھر علی ابن موسی، پھر محمد ابن علی پھر علی ابن محمد پھر حسن ابن علی پھر قائم (آل محمد) ہوں گے کہ جو میرے ہم نام ہوں گے اس کی کنیت میری کنیت پر ہوگی وہ محمد ابن حسن ابن علی ہوں گے ، یہ وہ ہیں کہ جن کے دست مبارک سے خداوند تبارک و تعالیٰ زمین کے تمام مشرق و مغرب کو فتح کرے گا ، یہ وہ ہیں جو اپنے اولیاء سے ایک عرصہ تک ایسا غائب ہوں گے کہ ان کی امامت پر صرف وہی لوگ ثابت قدم رہیں گے جن کے دل کا اللہ تعالیٰ نے امتحان لے لیا ہوگا۔

جابر کہتے ہیں: میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا آپ کی غیبت کے زمانہ میں لوگ فائدہ اٹھائےں گے؟ فرمایا: ہاں قسم ہے اس خدا کی کہ جس نے مجھے نبوت ے ساتھ مبعوث کیا! وہ لوگ آپ کی غیبت میں آپ کی ولایت کے نور کی ضو سے اس طرح فائدہ اٹھائیں گے جس طرح سورج کو بادل پنہان کرلیتا ہے مگر لوگ پھر بھی سورج کی روشنی سے فائدہ حاصل کرتے ہیں، یہ بات تمام لوگوں کے لیے اسرار الٰہی میں سے ہے اور اللہ کے علم میں مخزون ہے اس کو اس کے غیر اہل سے مخفی رکھو۔

۴۷۔ ”وفی نہج البلاغة: قالَ علیٌّ امیر الموٴمنین علیہ السلام : بَلی لا تخلُوا الارضُ مِن قائِمٍ للّٰہِ بحجةٍ امّٰا ظاہِرٌ مَشہُورٌ او خائِفٌ مغموُرٌ“ (۲)

”وَعَن التفتازانی قال قالَ علیٌ کَرَّمَ اللّٰہ وَجھَہُ لا تخلوا لارض مِن امامٍ قائِمٍ للّٰہِ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۴۹۵۔

(۲)۔ نہج البلاغہ، خطبہ۷۔

بحجةٍ اِمّا ظاہِرٌ مشہُورٌ او خائِفٌ مضمودٌ انتھی ۔“ (۱)

نہج البلاغہ میں مولا حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب  - فرماتے ہیں: ہاں روئے زمین کبھی بھی حجّت خدا سے خالی نہیں ہوتی جو دین خدا کو قائم رکھتی ہے، خواہ وہ امام اور حجّت یا ہر ایک گیارہ اماموں کی طرح ظاہر اور مشہور ہو یا امام عصر (عج) عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرح خوف زدہ اور پوشیدہ ہو۔

تفتازانی نے بھی اس حدیث کو حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے اسی مضمون کی طرح الفاظ کے مختصر فرق کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

۴۸۔ ”وفی کتاب المھدی لآیة اللّٰہ السید صدر الدین المعروف بالصّدر(۲) بِاِسنادِہِ عَن عَبدِ الرَّحمنِ بن سمرة قالَ قُلتُ لِلنبی  یا رِسوُلَ اللّٰہِ ارشِدنی اِلیَ النَجاةِ  فَقالَ یابنَ سَمَرة اِذا اختلفَ الاھواءُ وَتَفَرَّقَتِ الآراء فَعَلیکَ بِعَلِی بن ابی طالِبٍ فَانَّہ امامُ اُمَّتی وخلیفَتی علیھمِ مِن بَعدی ، الی ان قالَ : وَانَّ منھُم امامُ امَّتی وَسَیّدی شَباب اھل الجَنَّةِ الحَسَن والحُسینُ وَتسعَةٌ مِن ولد الحُسینِ تاسِعُھُم قائِم امَّتی ۔“ (۳)

آیت اللہ صدر رحمة اللہ علیہ اپنی سند کے ساتھ عبد الرحمن ابن کمرہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں: میں نے پیغمبر اکرم (ص)سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے راہ نجات کی طرف رہنمائی فرمائیں۔ تو فرمایا: اے کمرہ کے بیٹے! جب لوگوں کی ہوائے نفس مختلف ہوجائے اورلوگوں کی رائیں متعدد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ المہدی، سید صدر، ص ۱۰۱۔

(۲)۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید صدرالدین صدر منجملہ مراجع تقلید عظام میں سے ایک ہیں جو حضرت آیت اللہ العظمیٰ حائری رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رحلت کے بعد تین آیات عظام میں سے تھے۔

(۳)۔ المہدی سید صدر، ص ۱۰۱۔

ہوجائیں تو تمہارے لیے لازم ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب  - کے دامن سے متمسک رہو کیونکہ وہ میری امت کا امام اور میرے بعد ان کے لیے میرا جانشین ہے (یہاں تک کہ فرمایا:) اس سے میری امت کے دو امام ایسے ہیں جو جوانان اہل بہشت کے سید و سردار حسن و حسین ہیں اور اولاد حسین (ع) میں سے دوسرے نو افراد ہیں کہ جن میں سے نواں میری امت کا قائم، حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) ہے۔

۴۹۔ ”وفیہ باسنادہ عن ابن مغازلی عَن ابی امامَةٍ عَنِ النَّبیِ وَاِنَّہ قالَ الائمِة بَعدی اِثنا عَشَرَ کُلُّھم مِن قرَیشٍ تسعةٌ  مِن صُلب الحُسینِ وَالمھدِیُّ مِنھُم “ (۱)

اسی کتاب میں ابو امامہ نے نبی اکرم  سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: ”میرے بعد بارہ ائمہ ہیں جو سب کے سب قریش سے ہیں ان میں سے نو افراد اولاد حسین میں سے ہیں اور مہدی بھی ان میں سے ہے۔“

۵۰۔ ”وفیہ باسنادہ عَن اَبی صالح عَن زَید بِن ثابِتٍ عَنِ النَّبیِ  اِنہ قالَ لا یذھَبُ الدنیا حَتّیٰ یقومَ باَمرامَّتی رَجُلٌ مِن صلبِ الحُسین یملاٴھا ( عَدلاً) کَما ملئت جَوراً قُلنا: مَن ھُوَ؟ قالَ ھُوَ الاِمامُ التاسِعُ مِن ولد الحُسینِ علیہ السلام“(۲)

اسی کتاب میں ابو صالح سے وہ زید ابن ثابت سے وہ رسول اکرم  سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا: ”دنیا ختم نہیں ہوگی اور اپنی آخری مدت تک نہیں پہنچے گی یہاں تک کہ ایک شخص حسین - کی صلب سے میری امت کے امر کے لیے قیام کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہوگی، میں نے عرض کیا: وہ کون (بزرگوار) ہیں؟ فرمایا: اولاد حسین ٪ سے نواں امام ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ المہدی، سید صدر، ص ۱۰۴۔

(۲)۔گزشتہ حوالہ۔

۵۱۔ ”وفی تذکرة الاٴمة فی بیانِ اولادِ ابی محمَّدٍ الحَسَن العَسکَری قالَ: مِنھم محمَّدُ الاِمامُ ھُوَ محمَّدُ ابنُ الحَسَنِ بن عَلی بن محمَّد بن عَلی بن مُوسیٰ بن جعَفِر بن محمَّد بِن عَلیّ بن الحُسین بن عَلی بن ابی طالِبٍ وَکنیتہُ ابو عَبِد اللّٰہ وَاَبُو القاسم وَھُوَ الخَلَفُ الحُجةُ صاحِبُ الزَمانِ القائِم والمنتظر والتالی وَھُوَ اخِر الائِمةَ “ (۱)

صاحب تذکرة الامة حضرت ابو محمد حسن عسکری کی اولاد کے بیان میں رقم طراز ہیں: ان میں سے محمد امام ہے اور وہ محمد ابن حسن ابن علی ابن محمد ابن علی ابن موسی ابن جعفر ابن محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب (علیہم السلام) ہیں ان کی کنیت ابو عبداللہ اور ابو القاسم ہے ان کا خلف صالح حجّت، صاحب الزمان، قائم ، منتظر اور قائم ان کے ائمہ میں سے آخری امام ہے۔

۵۲۔ ”وفی صحیحة ابی داوٴد عَن عَلیٍ ( سلامُ اللّٰہ عَلیہِ ) عَنِ النَّبیِ ﷺ انَّہُ لَو لَم یبق مِنَ الدھرِ اِلاَّ یومٌ لَبَعَثَ اللّٰہ رَجُلاً مِن اھلِ بَیتی یملاءُ ھا عَدلاً کما مُلِئَت جَوراً الحدیث “ (۲)

کتاب صحیح ابو داؤد میں حضرت علی  - نے انہوں نے رسول خدا  ﷺ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: ”اگر زمانہ ایک ہی دن باقی رہے تو اس دن یقینا خداوند متعال میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو بھیجے گا وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھردے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہوگی۔“

۵۳۔ ”محمّد بن یوسف الکنجی فی کتاب البیان ومحمّد بن طلحة الشافعی فی کتاب مطالب السئول وسبط بن الجوزی فی کتاب تذکرة الائمة والشعرانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۱۱۶۔

(۲)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۷۷، صحیح ابن داؤد، ج۴، ص ۸۷۔

فی الیواقیت والجواہر قالَ: المھدِیُّ مِن ولدِ الامامِ الحَسنِ العَسکَری مَولدُہُ لیلَةُ النِّصفِ مِن شعبان سَنَةَ خمسٍ وخمسینَ وَ مِاٴتَینِ وَھُو باقٍ الیٰ انَ یجتمع لعیسی بن مریمَ علیہ السلام “ (۱)

محمد ابن یوسف گنجی اپنی کتاب البیان میں ، محمد ابن طلحہ شافعی اپنی کتاب مطالب السوول میں سبط ابن جوزی اپنی کتاب تذکرة الائمة میں اور شعرانی نے اپنی کتاب الیواقیت و الجواہر میں ذکر کیا ہے کہ حضرت مہدی حضرت امام حسن عسکری کی اولاد میں سے ہیں ان کی ولادت باسعادت شب نیمہٴ شعبان سن دو سو پچپن ہجری میں واقع ہوگی وہ زندہ و پائندہ ہیں یہاں تک کہ عیسی ابن مریم امام زمانہ کے ظہور کے وقت باہم جمع ہوں گے۔

۵۴۔ ”عن کتاب فصل الخطاب قالَ وَمِن ائمة اہلِ البَیتِ الطَّیبینَ  ابوُ محمَّدٍ الحَسن العَسکَری ․․․ الی ان قال : وَلَم یُخْلفِ وَلَداً غَیر اَبی القاسم محمَّدٍ المنتظِر المُسمّیٰ بالقائم والحجةِ والمھدی وَصاحِبِ الزمانِ وَخاتِمِ الائِمةِ الاثنا عَشَرَ ․( عند الامامیة) وَکانَ مَولَد المنتظَرِ لَیلَة النِّصف مِن شعبان سَنَة خمس وخمسینَ وَماٴتَینِ امّہُ امُ وَلَدٍ یقالُ لاٴنھا نرجس توفّی ابوُہُ وَھُوَ ابن خَمسِ سنین فاختفی اِلَی الانِ ، وابو محمَّدٍ الحَسَن العَسکری ، ولدُہُ محمَّدٍ المنتظَرِ المھدی رَضی اللّٰہ عنھُما  “ (۲)

صاحب کتاب فصل الخطاب کہتے ہیں: ائمہٴ اہل بیت طیبین و طاہرین میں سے حضرت ابو محمد امام حسن عسکری ․․․․ ہیں یہاں تک کہتے ہیں کہ: ان کا کوئی فرزند خلف موجود نہیں ہے سوائے ابو القاسم محمد منتظر کے کہ جن کا نام قائم، حجّت، مہدی اور صاحب الزمان ہے، اور بارہ اماموں میں سے آخری امام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔دانشمندان عامہ و مہدی موعود کی طرف رجوع کریں، ص ۶۸، ص ۱۲۱۔

(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۵۱۔

کی ولادت شبِ نیمہٴ شعبان میں دو سو پچپن ہجری میں واقع ہوئی، ان کی مادر گرامی کنیز تھیں جن کا اسم گرامی نرجس خاتون تھا وہ صرف پانچ سال کے تھے کہ ان کے پدر بزرگوار دنیا سے رحلت فرما گئے اور فردوس اعلیٰ کی طرف چلے گئے حضرت اس وقت سے اب تک لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں اور وہ ابومحمد امام حسن عسکری  - کے فرزند ارجمند حضرت محمد منتظر مہدی (سلام اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) ہیں۔

۵۵۔ ”و فی عقدالدرر فی الباب الثانی عن الحافظ ابی نعیم فی کتابہ صفة المہدی والامام ابی عمر المقری فی سننہ عن عبد اللّٰہ بن عمر قالَ قالَ رَسوُل اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وآلہِ وَسَلَّم یخرجُ رَجُلٌ مِن اھلِ بیتی یواطی اِسمہ اسمی وخلقُہ خُلقی یملاءُ الاَرض قِسطاً وَعَدلًا الحدیث “ (۱)

کتاب عقد الدرر کے دوسرے باب میں حافظ ابو نعیم سے اپنی کتاب صفة المہدی میں اور امام ابو عمر مقری اپنی کتاب سنن میں عبد اللہ بن عمر سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا: ایک شخص میرے اہل بیت میں سے جس کا نام میرے نام پر ہوگا اور اس کا اخلاق میرا اخلاق ہوگا وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا۔

۵۶۔ ”وفیہ فی الباب المذکور عن الحافظ ابی نعیم فی کتابہ صفة المہدی عن حذیفة بن یمان قالَ قالَ رسوُل اللّٰہ  ﷺ : لولَم یبقَ مِنَ الدُّنیا اِلاَّ یَوم واحِدٌ لَبَعثَ اللّٰہ رَجُلاً اِسمُہ اسمی وَخُلقُہ خُلقی یُکَنی ابُو عَبدِ اللّٰہِ “ (۲)

اس کتاب میں حافظ ابو نعیم سے اپنی کتاب صفة المہدی میں حذیفہ ابن یمان سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا: اگر دنیا کا صرف ایک ہی دن باقی رہے تو اس دن یقینا خداوند متعال ایک شخص کو بھیجے گا جس کا نام میرے نام پر ہوگا اور اس کا اخلاق میرا اخلاق ہوگا اس کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔

(۱)۔ عقد الدرر، ص ۳۱۔

(۲)۔ گزشتہ حوالہ۔

۵۷۔ ”فی ینابیع المودة : فی سورة الدخان <حم  وَالْکِتَابِ الْمُبِینِ  إِنَّا اٴَنزَلْنَاہُ فِی لَیْلَةٍ مُبَارَکَةٍ إِنَّا کُنَّا مُنذِرِینَ  فِیہَا یُفْرَقُ کُلُّ اٴَمْرٍ حَکِیمٍ >:

عن عبد اللّٰہ بن مسکان عَنِ الباقِرِ والصّادِقِ وَالکاظِمِ ( سَلام اللّٰہ عَلَیہم ) قالُوا:انزَلَ اللّٰہ تبارَکَ وَ تَعالی القرآن فی لیلَةٍ مبارکةٍ وَھِیَ لَیلَةُ القَدرِ انزلَ القرآنَ فیھا اِلی البیتِ المعمُورِ جُملَةً واحَدِةً ثُمَّ انزَلَ مِنَ البَیتِ المعمورُ ، علیٰ رَسُولِ اللّٰہِ فی طُولِ ثَلاثٍ وَ عشرین سَنَةً یقدِّرُ اللّٰہ کُلَّ امرِ مِنَ الحَقِ والباطِلِ وَما یَکُونُ فی تِلکَ السَّنَةِ وَلَہُ فیھا البَداء والمَشیَّةُ یُقَدم ما یشآءُ ویوٴخِّرَ ما یَشآء مِنَ الآجالِ والارزاقِ وَالاٴمنِ والسَّلامَةِ والعافِیَةِ وَغَیر ذٰلِکَ ، وَیُلقیہِ رَسُولُ اللّٰہ اِلیٰ امیرِ الموٴمنینَ علیہ السلام وَھُوَ اِلَی الائِمة مِن اولادِہِ عَلَیھِم السَّلامُ حَتّیٰ یَنتھی الیٰ صاحِبِ الزَّمانِ المَھدی علیہ السلام “ (۱)

ینابیع المودة میں نقل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول سورہ دخان میں ذکر ہوا <حم و الکتاب المبین>”واو“ قسم کے لیے ہے روشن کتاب کی قسم ہے ہم نے اس قرآن کو ایک مبارک رات میں جو شب قدر ہے نازل کیا ہے ہم بے شک ہمیشہ عذاب سے ڈرانے والے تھے اس رات میں تمام حکمت و مصلحت کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

عبد اللہ ابن مسکان امام محمد باقر ، امام جعفر صادق اور امام موسیٰ کاظم (علیہم السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کو مبارک رات میں نازل کیا اور وہ شب قدر ہے اللہ تعالیٰ نے اس رات تمام قرآن کو بیت المعمور (چوتھے آسمان) پر ایک دفعہ نازل کیا، پھر اسے اللہ تعالیٰ نے بیت المعمور سے رسول اکرم (ص) پر تیئیس سال کی طویل مدت میں (ضرورت کے مطابق تدریجی طور پرنازل فرمایا اس سال میں جو امر حق اور باطل واقع ہونے والا ہے اللہ ان کو مقدر فرماتا ہے۔

(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۲۸۔

اللہ تعالیٰ اس سال کے اندر بدا اور مشیت الٰہی کے ذریعہ زندگی، رزق، امن و سلامتی اور عافیت وغیرہ کے متعلق جس کے لیے چاہتا ہے تقدیم اور تاخیر کرتا رہتا ہے۔

اور ان مقدّرات کو حضرت رسول اکرم کو عطا کرتا ہے وہ حضرت امیر المومنین کے حوالے کرتے ہیں اور وہ اپنی اولاد کے ائمہ کے سپرد کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ حضرت صاحب الزمان مہدی  آل محمد علیہم السلام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف تک پہنچتا ہے۔

سورئہ دخان کی پہلی آیت جو حروف مقطعات میں سے شروع ہوتی ہے بعض سوروں کے آغاز میں ذکر ہوئے ہیں مفسرین میں سے قدماء اور متاخرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے شیخ جلیل طبرسی رحمة اللہ علیہ نے مجمع البیان (۱) میں گیارہ اقوال ذکر کیے ہیں اور اس کے بارے میں مطالب بیان کیے ہیں علامہ طباطبائی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر المیزان میں سورہ شوریٰ کی تفسیر میں ضروری تحقیقات کو انجام دیا ہے کہ ان سب کی طرف اشارہ کرنا اس مختصر کتاب کے دائرہ سے خارج ہے، صرف اس قدر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان حروف مقطعات اور دوسرے سوروں کے مضامین میں جن کا اسی سے آغاز ہوتا ہے ایک خاص ربط پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ حروف حضرت رسول اسلام (ص) اور خداوند سبحان کے درمیان مخفی اسرار میں سے ہیں کہ جسے عام عقلیں نہیں درک کرسکتیں۔

۵۸۔ ”وفی قولہ تعالیٰ : <والسّماءِ ذاتِ البُرُوجِ >

عَن الاصبَغِ بن نُباتة قالَ سَمِعت ابِن عَبَّاس رَضی اللّٰہ عنھما یقُولُ قالَ رَسُول اللّٰہِ   : انَا السّمآء واَمَّا البُرُوجُ فالائِمةُ مِن اھلِ بیتی وَعِترتی ، اوَّلُھُم عَلیٌّ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ مجمع البیان، ج۱، ص ۴۰۔

واخرھُم المھدِیُّ وھُم اِثناعَشَرَ علیہم السلام “ (۱)

قولہ تعالیٰ <والسمآء ذات البروج>:”واو“ قسم ہے، قسم ہے اس آسمان کی جس کے متعدد برج ہیں۔

اصبغ ابن نباتہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت رسول خدا  نے فرمایا: آسمان سے مراد میں ہوں اور بروج میرے اہل بیت اور میری عترت کے بارہ ائمہ ہیں ان میں سے پہلے حضرت علی اور ان میں سے آخری حضرت مہدی جو بارہویں بزگوار ہیں۔

۵۹۔ ”وفیہ نقلاً عَن فَرائِدِ السِمطینِ بِسَنَدِہِ عَن مُجاھِدٍ عَن ابنِ عَبّاسَ رَضِی اللّٰہ عَنھُما قالَ: قَدِمَ یھودِیٌ یقالُ لَہُ نعثل فَقالَ : یا محَمَّدُ اسئلَکَ عَن اشیاء تلجلج فی صَدری مُنذُ حینٍ فاَنِ اجَابَتنِي عَنھا اسلَمتُ عَلی یَدَیکَ ، قال: سَل یا اٴبا عَمارةَ فقالَ: یا محمَّداً صِف لِی رَبَّکَ فَقالَ  لا یُوصَف اِلاَّ بِما وَصَفَ بِہِ نَفَسہُ وَکیفَ یُوصَف الخالِقُ الذی تعجز العقولُ ان تُدرِکَہُ وَالاوھامُ ان تَنالَہُ وَالخطراتُ ان تحِدَہ والابصارُ اَن تحیطَ بہِ جَلّ وَعَلا عمّا یصِفُہ الواصِفونَ نایٴٍ فی قربِہِ وَقَریبٌ فی نائِہِ ، ھُوَ کَیَّفَ الکَیفَ وَایَّنَ الاینَ ، فَلا یقالَ لَہُ : اینَ ھُو وَھُوَ منقعُ الکَیفیةَ وَالاٴینونیّة ھو الاحَد الصَّمد کَما وَصَفَ نفسہُ والواصِفُونَ لا یبلغُون نعتہ ، <لَم یلد وَلَم یُولَد وَلَم یکن لَہُ کُفُواً احَدٌ >، قالَ: صَدَقتَ یا محمَّدَ  

فَاخبرنی عَن قولکِ انّہُ واحِدٌ لا شَبیہ لَہُ ، الیسَ اللّٰہ واحِدٌ وَالاِنسانُ واحِدٌ؟ فَقالَ  اللّٰہُ عَزَّوَعَلا واحِدٌ حقیقیٌ احَدی المَعنی ، ای لا جزء لَہُ ولا تَرکُب لَہ وَالاِنسانُ واحِدٌ  ثُنائیّ المَعنی مَرکَّبٌ مِن روُحٍ وَبَدنِ ، قال : صدَقتَ ، فَاَخبِرنی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۳۰۔

عَن وَصِیَّکَ مَن ھُوَ ؟ فَما من بَنّیٍ الَّا وَلہُ وصیٌّ وانَّ نبینا مُوسیٰ بن عِمران اوصیٰ یُوشع بن نونٍ ، فَقالَ : انَّ وَصیی عَلی بنُ ابی طالِبٍ وَبَعدَہ سبطای الحَسَنُ والحسینُ ، تتلُوہ تسعَةُ ائمّةٍ مِن صُلبِ الحُسین ، قالَ: یا محمَّد فَسَمِّیِھِم لہ ، قالَ اذا مَضَی الحسینُ فَاِبنُہُ عَلیٌ ، فَاِذا مَضی عَلیٌ فابنُہُ محمَّدٌ ، فَاِذا مضیٰ محمَّد فابنُہُ جَعفَرُ، فاِذا مضیٰ جعفَر فابنہُ موسیٰ ، فَاِذا مَضی مُوسیٰ فابنُہُ عَلی ، فاذا مَضی عَلیٌّ فابنہ محمَّد، فاذا مَضیٰ محمدٌ فاِبنہُ عَلیّ ، فاذا مَضیٰ عَلیُّ فابنہُ الحَسَنُ ، فاِذا مَضیٰ الحسَنُ ، فَابنہُ الحجةُ محمَّدُ المہَدی ، فھولاءِ اثناعَشَرَ ․

قالَ اخبرنی کیفیّةِ مَوتِ عَلِیٍ والحَسنَ والحُسینِ ؟قالَ : یُقتلُ عَلِیٌ بِضرَبَةٍ مِن قرْنِہِ والحَسَنُ یُقتلَ بِالسّمِ وَالحُسینُ بِالذّبحِ ․ قالَ فَاینَ مَکانُھُم ؟ قالَ فی الجَنَّةِ فی دَرَجَتی ، قالَ اشھَدُ ان لا اِلہَ اِلاَّ اللّٰہ وَانَّکَ  رَسوُلُ اللّٰہِ وَاشھَدُ اَنَّھُمُ الاوصیآء بَعدَکَ وَلَقد وَجَدتُ فی کُتُب الانبیآء المتقدِّمةِ وَفیما عَھِدَ اِلینا مُوسیٰ بنُ عِمران علیہ السلام اِنَّہُ اِذا کانَ آخر الزمانِ یخرجُ نبیٌ یقالُ لَہ احمدُ ومحمَّد،  ھُوَ خاتِم الانبیاء لا نبیَّ بعدَہُ فیکُونُ اوصیآئہُ بعدَہُ اِثنا عَشَرَ ، اَوَّلُھُم ابن عَمَّہ وختنِہ والثانی والثالِثُ کانا اخَوَینِ مِن وُلدِہِ ویقتل امَّةُ النبی الاوَّلَ بالسَیفِ وَالثانیِ بِسّمِّ وَالثالِثَ مَعَ جَماعَةٍ مِن اھل بیتہِ باِلسَّیفِ وَبالعطشَ فی موضِعٍ الغربةِ فھوُ کولد الغنَمِ یذبَحُ وَیصبرُ عَلَیٰ القتل لرَفعِ دَرَجاتِہ ودَرجاتِ اَھلِ بَیتہِ وَ ذُرِّیَتہِ ولا خراجِ محبیّہِ واَتباعِہِ مِنَ النّارِ وَتسعةُ الاوصیآء منھُم من اولادِ الثالِثِ فَھولآء الاثِنا عَشَرَ عَدَدَ الاسباطِ ․

قال  : اتَعرِفُ الاسباطَ قالَ نَعَم کانوا اِثنا عَشَرَ اَوَّلُھُم لاوِی بن بَرخِیا وَھُو الَّذی غابَ عَن بنی اسرائیلَ غیبةً ثُمَّ عادَ فَاظھَرَ اللّٰہ بِہِ شَریعَتَہُ بَعد اندرِاسِھا وَقاتَلَ قَرسیطیا الملکَ حَتیٰ قَتَلَ الملِکَ․ قالَ  ﷺ کائنٌ فی امَتی ما کانَ فی بَنی اسرائیل حذو النعَل بِالنعل والقذة بِالقذَةِ وَانَّ الثانی عَشَرَ مِن وُلدی یَغیبُ حَتیٰ لا یُری وَیاٴتی عَلیٰ امَتی بِزَمنٍ لا یبقی مِنَ الاسلامِ اِلاَّ اِسمُہُ وَلایبقی مِنَ القرآنِ اِلاَّ رسمُہُ فحینئذٍ یاٴذَنُ اللّٰہ تَبارکَ و تعالیٰ لَہُ بالخروُجِ فیظھِر اللّٰہ الاِسلام بِہِ ویُجدَّدُہُ ، طوبیٰ بِمَن احبَّھُمْ وتبعھُمْ والوَیل لِمَن ابغضَھُم وَخالفَھُم وَطوبیٰ لمَن تَمسَّکَ بِھُدٰاھُمْ“  (۱)

صاحب فرائد السمطین اپنی سند کے ساتھ مجاہد سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس ناقل ہیں : ایک یہودی پیغمبر اکرم   کی خدمت اقدس میں وارد ہوا جس کا نام نعثل تھا عرض کیا: اے محمد! میں آپ سے چند چیزوں کے بارے میں سوال کرتا ہوں جو دراز مدت سے میرے سینے میں محفوظ ہے اگر آپ اس کا جواب دیں گے تو میں اسلام قبول کروں گا تو آنحضرت نے فرمایا: اے ابو عمارہ! سوال کرو عرض کیا: اے محمد! مجھے اپنے رب کی صفت بیان فرمائیے تو آنحضرت نے فرمایا: اس کی صفت صرف اتنی بیان ہوسکتی ہے جس قدر خود اس نے اپنی صفت بیان کی ہے، وہ پیدا کرنے والے کی توصیف سے کیسے بیان ہوسکتی ہے جس کو پانے سے تمام عقلیں عاجز اور خیالات اس کو حاصل کرنے سے قاصر ہیں نیز تمام قلبی خطورات اس کو محدود یا اس کی تعریف نہیں کرسکتے نہ ہی آنکھیں اس کا احاطہ کرسکتی ہیں جس قدر اس کی صفت بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں وہ اس سے بزرگ و برتر ہے، وہ دور ہونے کے باوجود قریب ہے قریب ہونے کے باوجود دور ہے کیف الکیف اور این الاین ہے اس نے کیف کو کیف بنایا اور کہاں کو کہاں اس نے بنایا، اللہ تعالیٰ واحد حقیقی احدی المعنی ہے وہ ہر جگہ ہے اور تمام چیزوں پر احاطہ کیے ہوئے ہے جس طرح اس نے اپنی توصیف کی ہے وصف بیان کرنے والے اس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)۔ فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۱۸۔

 

 


source : http://www.islamshia-w.com
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:
لینک کوتاه

latest article

کلمہ ٴ ”مو لیٰ“ کے معنی کے متعلق بحث
عید سعید فطر
بنت علی حضرت زینب سلام اللہ علیہا ، ایک مثالی ...
انسان قرآن کی نظر میں
اسلام ميں سماجی حقوق (پہلا حصہ)
تحویل قبلہ
قول و فعل میں یکسانیت اورزبان پر کنٹرول
ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال
امام علی النقی علیہ السلام کی چالیس حدیثیں
جنت البقیع کے یوم انہدام پر قائد ملت جعفریہ ...

 
user comment