اردو
Tuesday 18th of May 2021
99
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

پیغمبر (ص) امامت کو الٰہی منصب سمجھتے ہیں

اس میں کوئی کلام نہیں ہے کہ امت کی رہبری کا مسئلہ مسلمان معاشرہ کے لئے اساسی اور حیاتی حیثیت رکھتا ہے۔چنانچہ اسی مسئلہ پر اختلاف پیدا ہوا اور اس نے امت کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان گہرا اختلاف پیدا کردیا ۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)نے تمام چیزوں کے بارے میں واجب، مستحب ،حرام و مکروہ سے متعلق تو ساری باتیں بیان فرمائیں لیکن امت کی قیادت و رہبری اور حاکم کے خصوصیات سے متعلق کوئی بات کیوں بیان نہیں کی؟ کیا انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اتنے اہم موضوع پر کوئی توجہ نہ دی ہوگی بلکہ خاموشی اختیار کی ہوگی اور امت کو بیدار نہ کیا ہوگا؟!

علمائے اہل سنت فرماتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص)نے قیادت وامامت کے طریقہ کے سلسلہ میں نفیاًو اثباتاً کوئی بات نہیں بیان کی اور یہ واضح نہیں کیا کہ قیادت و رہبری کا مسئلہ انتخابی ہے یا تعیینی ہے۔

سچ مچ کیا عقل باور کرتی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)نے اس انتہائی اہم اور حیاتی مسئلہ پر خاموشی اختیار کی ہوگی اور قضیہ کے ان دونوں پہلوں سے متعلق کوئی اشارہ نہ کیا ہوگا؟

عقل کے فیصلہ سے آگے بڑھ کر تاریخ اسلام کا جائزہ بھی اس نظریہ کے خلاف گواہی دیتا ہے ۔اور یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ پیغمبر اسلام (ص)نے مختلف موقعوں پر یہ یاد دہانی کی ہے کہ میرے بعد امت کی قیادت و رہبری کا مسئلہ خدا سے مربوط ہے اور وہ اس سلسلہ میں کوئی اختیار نہیں رکھتے ۔یہاں ہم تاریخ اسلام سے چند نمونے پیش کرتے ہیں :

جب مشرکوں کے ایک قبیلہ کے سردار ”اخنس“ نے اس شرط پر پیغمبر اسلام (ص)کی حمایت کا اظہارکیا کہ اپنے کے بعد امت کی قیادت و سرپرستی آپ(ص) ہمارے حوالے کر جائیں گے تو پیغمبر اسلام (ص) نے اسے جواب دیا کہ” الا مر الیٰ اللہ یضعہ حیث یشاء “یعنی امت کی قیادت کا مسئلہ خدا سے مربوط ہے وہ جسے بہتر سمجھے اس امر کے لئے منتخب کرے گا ۔قبیلہ کا سردار یہ بات سن کر مایوس ہو گیا اور اس نے آنحضرت (ص)کے جواب میں کہلایا کہ یہ بات بالکل درست نہیں ہے کہ رنج و زحمت میں اٹھاؤں اور قیادت و رہبری کسی اور کو ملے! (۱)

تاریخ اسلام میں یہ واقعہ بھی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)نے ”یمامہ“ کے حاکم کو خط لکھ کر اسے اسلام کی دعوت دی اس نے بھی ”اخنس “ کے مانند آنحضرت (ص)سے آپ(ص) کی جانشینی کا تقاضا کیا تو آنحضرت (ص) نے اسے انکار میں جواب دیتے ہوئے فرمایا:”لا ولاکرامۃ“ یعنی یہ کام عزت نفس اور روح کی بلندی سے بعید ہے۔ (۲)

امت کی قیادت و رہبری کا مسئلہ اتنا اہم ہے کہ اس کی اہمیت کو صرف ہم ہی نے محسوس نہیں کیا ہے بلکہ صدر اسلام میں بھی یہ مسئلہ بہت سے لوگوں کی نظر میں بڑی اہمیت رکھتا تھا ۔ مثلا جس وقت خلیفہ دوم ،ابو لوٴ لوٴ کی ضرب سے زخمی ہوئے اور ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمر نے اپنے باپ کو مرتے ہوئے دیکھا تو اپنے باپ سے کہا جتنی جلدی ہو سکے اپنا ایک جانشین معین کیجئے اور امت محمدی (ص) کو بے حاکم وبے سر پرست نہ چھوڑئے ۔

بالکل یہی پیغام ام الموٴمنین عائشہ نے بھی خلیفہ دوم کو کہلایا اور ان سے درخواست کی کہ امت محمدی کے لئے ایک محافظ و نگہبان معین کر جائیں۔اب کیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان دو شخصیتوں نے امت کی قیادت و رہبری کے مسئلہ کی اہمیت کو تو اچھی طرح محسوس کر لیا تھا لیکن رسول اسلام (ص)ان دو افراد کے بقدر بھی اس مسئلہ کی اہمیت کو سمجھ نہیں پائے تھے ؟!

پیغمبر اسلام (ص)کی مدینہ کی دس سالہ زندگی کا ایک ہلکا سا جائزہ لینے کے ساتھ ہی یہ بات پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ آنحضرت (ص) جب بھی کہیں جانے کے لئے مدینہ سے نکلتے تھے کسی نہ کسی کو مدینہ میں اپنا جانشین معین کر جاتے تھے ،تاکہ اس مختصر سی مدت میں بھی جب پیغمبر اکرم (ص) مدینہ میں تشریف نہیں رکھتے لوگ بے سر پرست اور بے پناہ نہ رہیں ۔ کیا یہ بہتر ہے کہ جو جانشین معین کرنے کی اہمیت سے آگاہ ہو اور یہ جانتا ہو کہ حتّٰی مختصر مدت کے لئے بھی جانشین معین کئے بغیر مدینہ کو ترک نہیں کرنا چاہئے ۔وہ دنیا کو ترک کرے اور اپنا کوئی جانشین معین نہ کرے یا کم از کم قیادت و رہبری کی شکل ونوعیت اور حاکمیت کے طریقہ ٴ کار کے بارے میںکچھ نہ کہے ؟!

پیغمبر اسلام (ص)جب کسی علاقہ کو فتح بھی کرتے تھے تو اسے ترک کرنے سے پہلے وہاں ایک حاکم معین فرماتے تھے پھر ان حالات میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے اپنا جانشین معین کرنے میں غفلت سے کام لیا ہوگا اور اس کے لئے میں کوئی فکر نہ کی ہوگی ،جو ان کے بعد امت کی قیادت و رہبری اپنے ہاتھ میں لے سکے اور اسلام کے نو پا درخت کی نگہبانی و سرپرستی کر سکے؟!

نبوت و امامت باہم ہیں

 

متواتراحادیث اور اسلام کی قطعی تاریخ صاف گواہی دیتی ہیں کہ نبوت اور امامت دونوں کا اعلان ایک ہی دن ہوا اور جس روز پیغمبراکرم (ص)خدا کی طرف سے اپنے خاندان والوں کے درمیان اپنی رسالت کا اعلان کرنے پر مامور ہوئے تھے اسی روز آپ (ص) نے اپنا خلیفہ و جانشین بھی معین فرمادیاتھا۔

اسلام کے گرانقدر مفسرین و محدثین لکھتے ہیں کہ جب آیت”و انذر عشیرتک الاقربین“ (شعراء /۲۱۴) نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم (ص)نے حضرت علی علیہ السلام کو خاندان والوں کے لئے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا جنھیں آنحضرت (ص) نے مہمان بلایا تھا۔حضرت علی علیہ السلام نے بھی پیغمبر (ص)کے حکم سے کھانا تیار کیا اور بنی ہاشم کی پینتالیس شخصیتیں اس مجلس میں اکٹھا ہوئیں۔پہلے روز ابو لہب کی بیہودہ باتوں کی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص)اپنی رسالت کا پیغام سنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔دوسرے روز پھر یہ دعوت کی گئی اور مہمانوں کے کھانا کھالینے کے بعد پیغمبر (ص)اپنی جگہ کھڑے ہوئے اور خداوند عالم کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا:

میں تم لوگوں اور دنیا کے تمام انسانوں کے لئے خدا کا پیغامبر ہوں اور تم لوگوں کے لئے دنیا وآخرت کی بھلائی لایا ہوں۔خدانے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو اس دین کی طرف دعوت دوں تم میں سے جو شخص اس کام میں میری ا مدد کرے گا وہ میرا وصی اور جانشین ہوگا۔

اس وقت حضرت علی بن ابیطالب (ع)کے علاوہ کسی نے بھی اٹھ کر پیغمبر (ص)کی نصرت و مدد کا اعلان نہیں کیا۔پیغمبر اکرم (ص)نے حضرت علی علیہ السلام کو بیٹھ جانے کا حکم دیا اور دوبارہ اور تیسری بار بھی اپنا جملہ دہرایا اور ہر بار حضرت علی (ع)کے علاوہ کسی نے آپ (ص) کی حمایت اور اس راہ میں آپ (ص) کی نصرت و فدا کاری کا اظہار نہیں کیا۔اس وقت پیغمبر (ص)نے اپنے خاندان والوں کی طرف رخ کرکے فرمایا: ”ان ھذااٴخی و وصی و خلیفتی فیکم فاسمعوا و اطیعوا“ یعنی علی (ع) میرا بھائی اور تمہارے درمیان میرا وصی و جانشین ہے،پس تم پر لازم ہے کہ اس کا فرمان سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ (۳)

تاریخ کا یہ واقعہ اس قدر مسلّم ہے کہ ابن تیمیہ جس کا خاندان اہل بیت (ع) سے عناد سب پر ظاہر ہے ،کے علاوہ کسی نے بھی اس کی صحت سے انکار نہیں کیا ہے۔یہ حدیث حضرت علی (ع)کی امامت کی دلیل ہونے کے علاوہ اس بات کی سب سے اہم گواہ ہے کہ امامت کا مسئلہ امت کے اختیار میں نہیں ہے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جانشین کا اعلان اس قدر اہم تھا کہ نبوت و امامت دونوں منصبوں کے مالک افراد کا اعلان ایک ہی دن پیغمبر (ص)کے خاندان والوں کے سامنے کیا گیا ۔

یہ واقعہ تین بعثت کو پیش آیا اور اس وقت تک پیغمبر اکرم (ص)کی دعوت مخصوص افراد کے ذریعہ لوگوں تک پہنچائی جاتی تھی اور تقریباً ۵۰پچاس افراد اس وقت تک مسلمان ہوئے تھے۔

۱۔ تاریخ طبری ،ج/۲، ص/۱۷۲

۲۔ تاریخ کامل، ج/۲،ص/۶۳

۳۔ تاریخ طبری ج/۲،ص/۶۲۔۶۳․ تاریخ کامل ج/۲،ص/۴۰۔۴۱․ مسند احمد ،ج/۱،ص/۱۱۱ ۔اور دیگرمآخذ


source : http://www.mahdimission.com
99
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

فرزند رسول حضرت امام موسي کاظم عليہ السلام کي حيات ...
امام زین العابدین (‏ع) کے اخلاق وکمالات
نبوّت عامہ اور امامت
نمازِ وتر کی قنوت میں امام رضا علیہ السلام کی دعا
حضرت علی (ع) کی شخصیت نہج البلاغہ کی نظر میں
نمازِ جمعہ کی قنوت میں امام رضا علیہ السلام کی دعا
مقام و منزلت ائمہ معصومین علیہم السلام در زیارت جامعہ ...
امام زمانہ (عج) کے ظہور اور تعجیلِ فَرَج کے لئے 40 روز ...
امام جواد علیہ السلام کا مختصر تعارف
منزلت امامت، امام رضاعلیہ السلام کی نظر میں

 
user comment