اردو
Saturday 27th of November 2021
418
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

دین میں جبر كا نہ ھونا اور اسلام كے علاوہ كسی دین كا قبول نہ ھونا كیسے جمع كیا جاسكتا ھے؟

قرآن ایك حكیم خالق كا كلام ہے جسے انسان كی ہدایت كے لئے بھیجا گیا ہے، جب آپ اس عظیم كتاب كو غور وفكر سے پڑھیں گے تو اس قرآن كو متعدد آیات میں لفظ "نور" سے تعبیر كیا گیا ہے 1

یہ بات اسی وقت سمجھ میں آئے گی جب آپ درج ذیل كی باتوں كو صحیح طریقے سے سمجھ لیں ـ

1) قرآن ایك ایسے قادر، علیم، اورحكیم خدا كی كتاب ہے جس میں ذرا برابر اختلاف، نا ہماہنگی، باطل، اور خرافات كا وجود ہوہی نہیں سكتا ہے كیونكہ خالق كتاب نے واضح طور پر اعلان كیا ہے كہ ـ

"لو كان من عند غیراللہ لوجدوا فیہ اختلافاً كثیرا" 2

اگر قرآن غیر خدا كی طرف سے ہوتا تو اس میں بڑا اختلاف ہوتا ـ

اور" لا یاتیہ الباطل من یدیہ ولا من خلفہ ــــ " 3

جس كے قریب سامنے یا پیچھے كسی طرف سے باطل آبھی نہیں سكتا ہے ـ

2) آیات قرآنی ایك دوسرے سے باہم مرتبط ہیں لہذا آیات كی تفسیر كرتے وقت دوسری آیتوں پر بھی نظر ركھنا ضروری ہے صرف ایك معنی پر اكتفاء كركے خدا كی طرف نسبت دینا صحیح نہیں ہے انھی چیزوں كو رعایت نہ كرنے سے بہت سارے شبہہات، تو ہم، یا مغالطہ وغیرہ ہوتا ہے ـ

3) قرآن كی آیات تدریجی اور موقع ومحل كے اعتبار سے نازل ہوئی ہیں یہ چیز اسی وقت سمجھ میں آئے گی جب شان نزول پر نظر ہو ـ

خاص طور پر آزادی عقیدہ اور غیر مسلم كے متعلق نیز ان كے اخروی مجازات كے سلسلے میں متعدد آیات، قرآن میں آئی ہیں جو ان اصول كو ہر حال میں بیان كررہی ہیں ـ

الف) وہ آیات جو الہی نشانیوں میں غور وفكر كرنے كی دعوت، اور دلیل و برہان كے ذریعہ اعتقاد بیان كررہی ہیں نیز انسان كو ایمان لانے كے متعلق اختیار كلی دے رہی ہیں جیسے " دین میں كوئی جبر نہیں ہے 4 نیز " تم رسول " كہہ دو كہ حق تمہارے پرور دگار كی طرف سے ہے اب جس كا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس كا جی چاہے كافر بن جائے 5 یہی ہیں ـ

ب) جن آیات نے كفار كی مذمت كی ہے یا ان كےلئے عذاب كا وعدہ كیاہے ان میں بعض آیات میں آیا ہے كہ " جہاں بھی انھیں پاؤقتل كردو" یا سورہ بقرہ كی آیت ۱۱۹ اور سورہ نساء كی آیت ۹۱ ـ ۸۹ ـ میں اس قسم كا حكم ہوا ہے نیز سورہ توبہ میں آیا ہے كہ ـ جب بھی ماہ حرام (یعنی جن مہینوں میں جنگ كرنا حرام ہے) ختم ہو تو مشركین كو جہاں بھی پاؤ قتل كردو ان كو اسیر بنادو قید خانہ میں ڈال دو ہر لمحہ ان كی كمینگاہ میں رہو جب توبہ، نماز، زكوة دینے لگیں تو چھوڑ دو كیونكہ خدا بڑا غفار و رحمن ہے 6 اور " اہل كتاب میں سے جو لوگ خدا، اور قیامت پر ایمان نہ لائیں اور جن چیزوں كو خدا اور رسول نے حرام كیا ہے اس كو نہ مانیں اور دین حق كا اقرار نہ كریں تو ان سے جنگ كرو تا كہ وہ لوگ ذلت و خواری كا طوق پہنكر جزیہ (ٹیكس) دینے لگیں " 7

مذكورہ آیات كے اقتباس سے جو نتیجہ لكلتا ہے ان میں چند یہ ہیں ـ

الف) اسلام آزادی فكر كو تسلیم كرتا ہے مگر آزادی عقیدہ كی اجازت نہیں دیتا ہے اس منطق كی روشنی میں شرك و كفر تو ہم و خرافات ہے نہ كہ عقیدہ ـ اگر اس كو عقیدہ مان لیا جائے تو اس سے افكار كا مقیدو منجمد ہونا لازم آتا ہے جو كہ قابل قبول نہیں ہے لہذا آزادی فكر اور آزادی عقیدہ دونوں الگ الگ شئی ہیں ـ

جس دین كو اپنے آئیڈیا لوجی و ایمان پر یقین و اعتماد ہوگا وہ فكر نظر كی آزادی كا قائل ہوگا جس مكتب كی بنیاد ان چیزوں پر نہیں ہوگی وہ فكر و تعقل پر پابندی لگائے گا ـ 8

اس سلسلے میں شہید مطہری نے بڑی پیاری كہی ہے كہ ـ

تاریخ عالم كی كسی كتاب میں یہ نہیں دیكھنے میں آئے گا كہ كسی ملك و حكومت كے افراد جس عقیدے كو مانتے ہوں وہاں پر دوسرے مذاہب كے افراد كا خاص خیال ركھا گیا ہو یہ چیز صرف مسجد النبی (ص) یا مكہ میں دیكھنے میں آئی ہے كہ غیر مسلم اور خدا اور رسول كے منكر، نماز، حج٬ ـــــــــ وغیرہ كو نہیں مانتے ہیں اس كے باوجود ان لوگوں (ملحدوں) كا خیال اور خندہ پیشانی سے (جواب دیا) جارہاہے، ایسی تاریخ صرف اسلام (نہ كہ غیر مسلم) میں نظر آئے گی اسی آزادی كا نتیجہ ہے جو اسلام كو عروج ملا ورنہ اگر آغاز اسلام میں ہی یہ كہہ دیا جاتا كہ ـ

جو ہمارا طرفدار نہیں ہے اس كو مار ڈالو تو پھر آج اسلام كا وجود بھی نظر نہ آتا ـ

چونكہ اس نے مختلف افكار و نظریات كا فراخ دلی كے ساتھ مقابلہ كیاہے اسی بناء پر آج تك زندہ ہے آئندہ بھی اس كا دوام اسی پر منحصر ہے ـ

میں جوانوں كو خبر دار كرتا ہوں كہ اسلام كی بقاء اظہار عقیدہ كی ممانعت سے ممكن نہیں ہے بلكہ اس كی محافظت علمی طاقت سے ممكن ہے لہذا غیر مسلم كے نظریات وافكار كو بیان كرنے سے كبھی نہ روكیں اور ان سے ہمیشہ اچھی طرح سے پیش آئیں ـ 9

اس نظریہ كے مطابق قرآن، انبیاء كی دعوت توحید و یكتائ كی بنیاد پر قائم ہےـ بالفرض اگر اس شعار كو چھوڑ كر لوگوں كے لئے ہر عقیدے كے انتخاب كی آزادی دے دی تب بھی دین ہی كی اصل ہاتھ آئے گی ـ

اسكے علاوہ مذہب اسلام باوجود یكہ ہر پیغیمبر اور اولوا لعزم انبیاء كے عقائد كو تسلیم كرتا ہے لیكن پھر بھی اسكے نزدیك آئیں اسلام ہی قابل قبول ہے ـ در انحالانكہ سارے ادیان الہی كو خدا نے بھیجا ہے اور ان سب كا ایك ہد ف ہے لیكن ہر دور میں فقط ایك ہی دین قابل قبول تھا كہ اس دور میں بھی خدا كا دین اسلام ہے "ان الدین عند اللہ الاسلام" 10

ب) مسلمانوں كے بعض عظیم دانشوروں نے آزادی كی دو قسم تكوینی اور تشریعی كے سلسلے میں لكھا ہے كہ ((انسان گر چہ دینی معاملات میں تكوینی (خلقت كے) لحاظ سے آزاد ہے یعنی كسی دین كو قبول كرنے پر مجبور نہیں ہے لیكن تشریعی لحاظ سے دین حق كو قبول كرنے میں مقید ہےـ

اگرچہ قرآن كریم لوگوں كو ترغیب دلاتا ہے كہ باتیں سب كی سنو لیكن جو اچھی ہو اس پر عمل كرو "فبشر عبادی الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ" 11

لیكن اچھی بات كون لوگ كرتے ہیں جو انسانوں كو شرعی معاملات میں تنہا نہیں چھوڑتے ہیں ـ((ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ و عمل صالحا و قال اننی من المسلمین)) 12

ج) ایك نظریہ یہ ہے كہ اسلام میں آزادی تین طرح كی ہے ـ

1) آزادی تكوینی (فلسفی)

یعنی انسان اپنے ارادے كے دائرے (طبیعی اور در حقیقت خارج میں آزاد ہے اسكے علاوہ اگر اسكو اچھے برے، حرام، مباح، واجب، یا قانون كی اچھا ئی یا برائی كی تعلیم نہ دی جائے تو اس میں چھوڑنے اور امور كے انجام دینے كی صلاحیت پائی جاتی ہے _

2) آزادی شرعی

یعنی انسان كو شرع مقدس نے كسی كام كو انجام دینے یا چھوڑ نے كی آزادی دی ہے ـ بعبارت دیگر ـ انسان جہاں تكوینی اعتبار سے آزاد ہے وہیں شرعی لحاظ سے بھی انتخاب میں آزاد ہے اور اس پر كوئی عقاب و عذاب خدا نہیں ہوگا بشرطیكہ ان موارد میں شریعت نے چھوٹ دے ركھی ہو ـ  

3) آزادی حقوقی (قانونی)

یعنی انسان فلسفی اور شرعی لحاظ سے تو آزاد ہے لیكن شرعی ممنوعیت كے باوجود قوانین و مقررات اجتماعی كے لحاظ سے حاكم كو اختیار ہے كہ امور میں سے كسی ایك كو انجام دے ـ پس ممكن ہے كہ شرعی اعتبار سے بارگاہ خداوندی میں اس انتخاب پر آزاد نہ ہے لیكن قانونی اعتبار سے چھوٹ ہو یا حكومت كی صلاح میں نہ ہو ـ

اسی لئے انسان گرچہ خلقت (تكوینی)كے لحاظ سے آزاد پیدا ہوا ہے لیكن اس نعمت آزادی كی نا شكری كی بناء پر خدا كے یہاں جواہدہ ہے 13

اور شرعی لحاظ سے بھی خود موظف ہے یہی ناشكری و ناقدری كفار كے جہنم میں جانے كی باعث بنے گی، كیونكہ وہ بذات خود اس دنیا میں نہیں آیا، بلكہ خدا نے كمال تك پہونچنے كے لئے اس كو خلق كیا ہے اور ان كے لئے قانونی مجموعہ یقین (اعتماد) اور رفتار (خلاصہ شریعت) اور اخلاق قرار دیا ہے ـ

ان چیزوں كو قبول نہ كرنا گویا پیدا ہونے سے پہلے ہی ان كے باطن میں فتور ہے بعبارت دیگرـ قیامت میں جزاء و سزادینا ایك قرار داد كے تحت نہیں ہے بلكہ ملكوتی چہرے اور جہنمی صورت كو دیكھانا منظور ہے ـ

دنیا میں حكومتی قانون ہونے كی وجہ سے كافر، مشرك كو محصور یا ان كو قتل نہیں كرسكتے ہیں گرچہ شرعی لحاظ سے كفر و شرك كا انتخاب كرنا حرام ہے لیكن قانونی اعتبار سے عقیدے كی آزادی پائی جاتی ہے ـ

لیكن ہرگز اس كا مطلب یہ نہیں ہے كہ كسی گناہ كی سزا اس دنیا میں ہے ہی نہیں اور سب كو آخرت پر موكول كردگیا ہے بلكہ دنیاوی سزائیں شارع (قرآن و سنت) نے حدود اور حكومتی سزا بیان كی ہیں ـ لہذا یہاں پر درج ذیل میں دواہم نكتے كی طرف توجہ كی ضرورت ہے ـ 

1) آزادی عقیدتی كی وظائف

خدا نے لطف و كرم سے كائنات كو خلق كیا اور اس میں اشرف مخلوقات انسان كو قرار دیا 14

الہی حكمت كا تقاضایا یہ ہے كہ عالم كی تخلیق كسی ہدف كے تحت ہوئی ہے اور وہ قرب الہی اور راہ سعادت كی منزل تك پہونچنا ہے 15

یہ ہدف (اسی وقت منزل كمال پر پہونچے گا اور خلافت الہی، مظہر صفات خدا بنے گا جب تك انسان) خدا كی بندگی اختیار نہ كرے، اسی لئے اس نے انسان كو منزل معراج تك پہونچانے كے لئے دین و شریعت كا انتخاب كیا تا كہ كائنات میں ان اعتقادات، اخلاق، اور احكام پر عمل پیرا ہوكر باكمال بن جائے ـ پس انسان اس دنیا میں بذات خود نہیں آیا ہے اور نہ ہی بغیر ہدف كے خلق كیا گیا ہے ـ لہذا خالق كی باتوں كو ٹھكرانا، قانون كی خلاف ورزی، نیزغرض خلقت كو فراموش كرجانا تكوینی اور تشریعی دونوں لحاظ سے غلط ہے ـ پس انسان ہر عقیدے كو اپنا نے میں آزاد نہیں ہے بلكہ ان ہی چیزوں كو اختیار كرسكتا ہے جس كا خالق نے حكم دیا ہے یہی وجہ ہے كہ جن آیات دمیں كفار كی مذمت كی گئی ہے اور ان كوعذاب الہی سے ڈرایا گیا ہے یا جو یہ كہا گیا ہے كہ ـ

اسلام كے علاوہ كوئی دین قابل قبول نہیں ہے انھی چیزوں كی طرف اشارہ ہے ـ 

2) آزادی عقیدہ اور اسلامی جہاد

جو آیات كفار ومشركین سے جہاد كے متعلق آئی ہیں اس سے واضح ہورہا ہے كہ احكام تدریجی ہیں اور وہ ان چار چیزوں پر مشتمل ہیں ـ

الف) مسلمانوں كی ان آیات (بقرہ آیت ۱۰۹، نساء آیت ۷۷، یونس آیت۴۱، مزمل آیت ۱۰ ـ۱، كافرون آیت ۶ ـ) میں دشمنوں سے جنگ نہ كرنے اور صلح و آشتی نیز راہ خدا میں ہر طرح كی اذیت و تكلیف كو برداشت كرنے كی دعوت دی گئی ہے ـ

ب) كفار و مشركین سے لڑنے كی اس ایت (حج آیت ۱۹۰) نے اجازت دی ہے ـ

ج) ظالم و ستمگران سے لڑنے كی ان آیات (بقرہ آیت ۱۹۰، انفال آیت ۶۱، محمد آیت ۲۰۸، بقرہ آیت ۹۱ ـ۹۰، نساء آیت ۹۴، ممتحنہ آیت ۹ـ۸) نے حكم دیا ہے اور یہ بھی تاكید كی ہے كہ اگر وہ لوگ صلح پر آمادہ ہوجائیں توان سے صلح كرلو ـ

د) جن آیات نےاہل كتاب سے جنگ كرنے كو كہا ہے تاكہ وہ ایمان لے آئیں یا حكومت اسلامی میں ہیں تو جزیہ (ٹیكس) دیں وہ یہ (سورہ توبہ كی آیت ۳۶ ـ ۲۹ ـ ۵ ـ۳۷، تحریم آیت ۹، مائدہ آیت ۵۴، فرقان آیت ۱۵۳، بقرہ آیت ۱۹۳، اور انفال كی آیت ۳۹) ہیں نیز انھی آیات نے مشركین سے جہاد كركے مومن بنانے كو كہا ہے ـ

آپ نے ملاحظہ فرمایا كہ مذكورہ پہلی قسم سے لیكر تیسری تك كی آیتیں آزادی عقیدہ كے ذرہ برابر منافی نہیں ہیں اور اگر اختلاف ہے بھی تو جزئی ہے كہ كفار و مشركین كے مقابلہ میں معاشرے كو قدرتمند، اور سیاسی لحاظ سے مسلمانوں كو طاقتور بنانے كے لئے ہے چوتھی قسم والی آیات، خاص طور پر سورہ توبہ كی پانچویں٬ انیسویں، اور چھتسیویں آیت خاص موقع پر نازل ہوئی ہے جو عہد شكنی، صلح و آشتی كی تصریح كررہی ہے اس چیز كو آیت اللہ جوادی آملی نے قرآن كے درس تفسیر میں یوں فرمایا ہے ـ

قرآن كریم نے كفار و مشركین سے جنگ یا ان كو قتل كرنے كو ایمان نہ لانے كی وجہ سے نہیں كیا ہے بلكہ عہد " ایمان " شكنی كرنے كی بناء پر ان كو قتل كرنے كا حكم دیا ہے ـ

"وان نكثوا ایمانھم من بعد عھدھم و طعنوا فی دینكم فقاتلوا آئمةالكفر انھم لا ایمان لھم لعلھم ینتھون 16

نیز علامہ طباطبائی سورہ برائت كی آیات كو ان معنی میں توجیہ كرتے ہوئے فرماتے ہیں ـ

یہ آیتیں حكم شرعی اولی كو بیان نہیں كررہی ہیں بلكہ ان سے احكام دلائی و حكومتی ثابت ہورہے ہیں كہ جب مشركین نے اپنے عہد و پیمان كو توڑ دیا تب آیتیں نازل ہوئیں 17

اسی طرح علامہ سید فضل اللہ نے بھی اسی معنی كو بیان كیا ہے 18

ہم نے مذكورہ مطالب كو كتاب (اسلام میں جبر كی ممانعت اور ان كے موارد استثناء اور حقوق بین الملل معاصر) سے لكھا ہے ـ

بہر حال خلاصہ یہ ہے كہ سارے اسلامی دانشوروں نے تو ہم پرستی، استبداد ذہنی، سیاسی، سماجی، اور بشریت كی نجات كا اسلحہ و ذریعہ جہاد كو قرار دیا ہے یہی اسلام كا طرہ امتیاز و افتخار ہے آزادی عقیدتی كو تكوینی لحاظ سے سبھی قبول كرتے ہیں كیونكہ اس كا ربط قلب سے جس میں جبر كا كوئی دخل نہیں ہے ـ پس اس اعتبار سے جن آیات میں كفار و مشركین كو عذاب و كیفر كردار سے ڈرایا و دھمكایا گیا ہے اس آزادی تكوینی كے منافی نہیں ہے ـ

1. محمد تقی مصباح یزدی، قرآن شناسی، ص ۴۴ـ

2. نساء آیت ۸۲ ـ

3. فصلت آیت ۴۲ ـ

4. بقرہ آیت ۲۵۶ ـ

5. كہف آیت ۲۹ ـ

6. توبہ آیت ۵ ـ

7. توبہ آیت ۲۹ ـ

8. مرتضی مطہری، پیرامون انقلاب اسلامی، ص ۸۱ و ۱۴و ۶ ؛ مرتضی مطہری، آشنائی باقرآن ج۳ ص ۲۲۵ ـ ۲۲۱ ـ

9. مرتضی مطہری، پیرامون انقلاب اسلامی ۸۲ ـ ۸۱ ـ

10. آل عمران آیت ۸۵ ـ

11. زمر آیت ۱۸ ـ ۱۷ ـ

12. فصلت آیت ۳۳ ـ

13. مائدہ آیت ۴۸، انسان آیت ۵۸، ۱۲، ۴، آل عمران آیت ۱۷، مزمل آیت ۱۶۱، بقرہ آیت ۳۹ ـ

14. بقرہ آیت ۲۹، احزاب آیت ۷۲، بقرہ آیت ۳۴، ۳۰، اسراء آیت ۷۰، بقرہ آیت ۳۹ ـ

15. یس آیت ۶۱، ذرایات آیت ۵۶ ـ

16. توبہ آیت ۷۲ ـ

17. علامہ طباطبائی، تفسیر المیزان، ج۹، ص ۳۳ ـ ۳۱ ـ

18. تفسیر المیزان، ج۱۱، ص ۳۳ ـ ۳۱ ـ


source : http://www.sadeqin.com
418
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

کیا اسلامی ممالک کی بنکوں سے قرضہ لینا جائز ہے؟
کیا خدا وند عالم کے وعد و عید حقیقی ھیں ؟
کیا پیغمبر اکرم (ص) امّی تھے؟
شیعھ مذھب کیوں سسب سے بھتر مذھب ھے۔
زمین پر سجدہ / زمین سجدہ گاہ ہے
کیا لقب امیر المومنین صرف مولا علی(ع) کا ہے؟
کیا خدا کے علاوه کسی اور (جیسے پیغمبرصل الله علیه و آله ...
کیا خدا ایسا پتھر بنا سکتا ہے جسے خود بھی نہ اٹھا سکے؟
وحی کیا ھے؟
حلالہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

 
user comment