اردو
Friday 6th of August 2021
157
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

ایمان نہ رکھنے والی اقوام کیوں عیش و عشرت میں ہیں؟

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: < وَلَوْ اٴَنَّ اٴَہْلَ الْقُرَی آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ>(1) ”اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کر لےتے تو ہم ان کے لئے زمین وآسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے“۔

اس آیت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایمان اور تقویٰ ،رحمت الٰہی اور برکات کا موجب ہے تو پھر ان قوموں کے پاس بہت زیادہ نعمتیں کیوں پائی جاتی ہیں جن کے پاس ایمان نہیں ہے! ان کی زندگی بہترین ہوتی ہے،اور ان کو پریشانی نہیں ہوتی، ایسا کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب درج ذیل دو نکات پر توجہ کرنے سے روشن ہوجائے گا:

۱۔یہ تصور کرنا کہ بے ایمان قوم و ملت نعمتوں سے مالا مال ہے؛ ایک غلط فہمی ہے، جو ایک دوسری غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور وہ مال و دولت ہی کو خوش بختی سمجھ لیناہے۔

عام طور پر عوام الناس میں یہی تصور پایا جاتا ہے کہ جس قوم و ملت کے پاس ترقی یافتہ ٹیکنیک ہے یا بہت زیادہ مال و دولت ہے وہی خوش بخت ہے، حالانکہ اگر ان اقوام میں جاکر نزدیک سے دیکھیں تو ان کے یہاں نفسیاتی اور جسمانی بے پناہ درد اور مشکلات پائی جا تی ہیں اور اگر نزدیک سے دیکھیں تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ان میں سے متعدد لوگ دنیا کے سب سے ناچار افراد ہیں، قطع نظر اس بات سے کہ یہی نسبی ترقی ان کی سعی و کوشش، نظم و نسق اور ذمہ داری کے ا حساس جیسے اصول پر عمل کا نتیجہ ہیں، جو انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات میں بیان ہوئے ہیں۔

ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ اخباروں میں یہ بات شایع ہوئی کہ امریکہ کے شہر ”نیویورک“ میں (جو مادی لحاظ سے دنیا کا سب سے مالدار اور ترقی یافتہ شہر ہے)اچانک (طولانی مدت کے لئے) بجلی چلی گئی اور ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا:” بہت سے لوگوں نے دکانوں پر حملہ کردیا اور دکانوں کو لوٹ لےا، اس موقع پر پولیس نے تین ہزار لوگوں کو گرفتار کرلیا“۔

یہ بات طے ہے کہ لٹیروں کی تعدادان گرفتار ہونے والوں سے کئی گنا زیادہ ہوگی جو موقع سے فرار نہ کرسکے اور پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے، اور یہ بھی مسلم ہے کہ یہ لٹیرے کوئی تجربہ کار نہیں تھے جس سے انھوں نے ایک پروگرام کے تحت ایسا کیا ہو کیونکہ یہ واقعہ اچانک پیش آیا تھا۔

لہٰذا ہم اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اس ترقی یافتہ اور مالدار شہر کے ہزاروں لوگ چند گھنٹوں کے لئے بجلی جانے پر ”لیٹرے“ بن سکتے ہیں، یہ صرف اخلاقی پستی کی دلیل نہیں ہے بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس شہر میں اجتماعی نا امنی کس قدر پائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ اخباروں میں اس خبر کا بھی اضافہ کیا جو در اصل پہلی خبر کا ہی تتمہ تھا کہ انھیں دنوں ایک مشہور و معروف شخصیت نیویورک کے بہت بڑے ہوٹل میں قیام پذیر تھی، چنانچہ وہ کہتا ہے: بجلی جانے کے سبب ہوٹل کے ہال اور راستوں میں آمد و رفت خطرناک صورت اختیار کر چکی تھی کیونکہ ہوٹل کے ذمہ دار لوگوں نے آمد و رفت سے منع کردیا تھا کہ کوئی بھی اکیلا کمرے سے باہر نہ نکلے، کہیں لٹیروں کا اسیر نہ ہوجائے، لہٰذا مسافروں کی کم و بیش دس دس کے گروپ میں وہ بھی مسلح افراد کے ساتھ آمد و رفت ہوتی تھی اور مسافر اپنے اپنے کمروں میں پہنچائے جاتے تھے ! اس کے بعد یہی شخص کہتا ہے کہ جب تک شدید بھوک نہیں لگتی تھی کوئی بھی باہر نکلنے کی جرائت نہیں کرتا تھا!!

لیکن پسماندہ مشرقی ممالک میں اس طرح بجلی جانے سے اس طرح کی مشکلات پیش نہیں آتیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان ترقی یافتہ اور مالدار ممالک میں امنیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

ان کے علاوہ چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ وہاں قتل کرنا پانی پینے کی طرح آسان ہے، اور قتل بہت ہی آسانی سے ہوتے رہتے ہیں، اور ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر کسی کو ساری دنیا بھی بخش دی جائے تاکہ ایسے ماحول میں زندگی کرے تو ایسا شخص دنیا کا سب سے پریشاں حال ہوگا، اور امنیت کی مشکل اس کی مشکلات میں سے ایک ہے۔

اس کے علاوہ اجتماعی طور پر بہت سی مشکلات پائی جاتی ہیں جو خود اپنی جگہ دردناک ہیں، لہٰذا ان تمام چیزوں کے پیش نظر مال و دولت کو باعث خوشبختی تصور نہیں کرنا چاہئے۔

۲۔ لیکن یہ کہنا کہ جن معاشروں میں ایمان اور پرہیزگاری پائی جاتی ہے وہ پسماندہ ہیں، تو اگر ایمان اور پرہیزگاری سے مراد صرف اسلام اور تعلیمات ا نبیاء کے اصول کی پابندی کا دعویٰ ہو تو ہم بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایسے افراد پسماندہ ہیں۔

لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایمان اور پرہیزگاری کی حقیقت یہ ہے کہ ان کا اثر زندگی کے ہر پہلو پر دکھائی دے، صرف اسلام کا دعویٰ کرنے سے مشکل حل نہیں ہوتی۔

نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج اسلام اور انبیا الٰہی کی تعلیمات کو بہت سے اسلامی معاشروں میں یا بالکل ترک کردیا گیا ہے یا آدھا چھوڑ دیا گیا ہے، لہٰذا ان معاشروں کا حال حقیقی مسلمانوں جیسا نہیں ہے۔

اسلام، طہارت، صحیح عمل، امانت اور سعی و کوشش کی دعوت دیتا ہے، لیکن کہاں ہے امانت اور سعی و کوشش؟

اسلام، علم و دانش اور بیداری و ہوشیاری کی دعوت دیتا ہے، لیکن کہاں ہے علم و آگاہی؟ اسلام، اتحاد اور فدارکاری کی دعوت دیتا ہے، لیکن کیا اسلامی معاشروں میں ان اصول پر عمل کیا جارہا ہے؟ جبکہ پسماندہ ہیں؟! اس بنا پر یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ اسلام ایک الگ چیز ہے اور ہم مسلمان ایک الگ چیز، (ورنہ اگر اسلام کے اصول اور قواعد پر عمل کیا جائے تو اسلام اس نظام الٰہی کا نام ہے جس کے اصول پر عمل کرتے ہوئے مسلمان خوش حال نظر آئیں گے)(2)

(1) سورہ اعراف ، آیت۹۶

(2) تفسیر نمونہ ، جلد ۶، صفحہ ۲۶۸

 

 


source : http://www.islaminurdu.com
157
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

کیا عالم مادہ ، حادث ہے؟
ابليس نے مخالفت كيوں كي؟
صفات جمال و جلال سے کیا مراد ہے؟
کس طرح کائنات کی ہر شئی خداکی تسبیح کرتی ہے؟
حضرت مہدی علیہ السلام کے جسمی اور روحی اوصاف کیا ہیں؟
خداوندعالم کی طرف سے ہدایت و گمراہی کے کیا معنی ہیں؟-2
حقیقت و واقعیت کے درمیان فرق کیا ہے؟ کیا یہ دوثابت ...
جب انسان اشرف المخلوقات ہے تو کیوں جنات کو نہیں دیکھ ...
اخلاق کسے کہتے ہیں؟
زکات کے مسائل کی تفصیل بیان کر دیجیے

 
user comment