اردو
Thursday 17th of June 2021
534
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

اسلامی جہاد کا مقصد

جہاد کا مقصد پروردگار کی خوشنودی کا حصول ، اجتماعی عدالت کا قیام، ان لو گوں کی حمایت جو مکرو فریب اور گمراہی کی زد میں ہیں، انسانی معاشرے سے بت پرستی کی بساط الٹنا اور اجتماعی احکام الہٰی کا نفاذ

وَقَاتِلُوھُمْ حَتَّی لاَتَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ لِلَّہِ فَإِنْ انتَھَوْا فَلاَعُدْوَانَ إِلاَّ عَلَی الظَّالِمِینَ۔

اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ ( اور بت پرستی اور لوگوں سے سلب آزادی کی حالت) باقی نہ رہے اور دین خدا کے لیے مخصوص ہوجائے پس اگر وہ ( اپنی غلط روش سے ) دستبردار ہوجائیں ( تو ان سے مزاحمت نہ کرو کیونکہ -) تعدی اور تجاوز ظالموں کے علاوہ کسی کا شیوہ نہیں ہے ۔

اس آیت میں اسلامی جہاد کا مقصد بیان کیا گیا ہے ۔ آیت کے مطابق جنگ کا ہدف و اغراض نہیں ہیں جو عموماً جنگوں میں لوگوں کی ہوتی ہیں ۔ اسلامی جہاد نہ زمین فرماروائی اور کشور کشائی کے لیے ہے اور نہ غنائم پر قبضہ کرنے کے لئے ۔

اس کا مقصد اپنے مال کی فرخت کے لئے منڈیوں کا حصول ہے نہ خام مال پر قضبہ اور نہ ہی یہ جہاد ایک نسل کی دوسری نسل پر فوقیت قائم کرنے کے لئے ہے بلکہ اس کا مقصد ہے فقط پروردگار کی خوشنودی کا حصول ، اجتماعی عدالت کا قیام ان لو گوں کی حمایت جو مکرو فریب اور گمراہی کی زد میں ہیں ، انسانی معاشرے سے شکر اور بت پرستی کی بساط الٹنا اور احکام اجتماعی الہٰی کا نفاذ ۔ اس بناء پر جیساکہ مشاہدہ بتاتا ہ کہ اسلامی جنگ اس لئے ہوتی ہے کہ انسانی معاشرے میں فتنہ باقی نہ رہے اور توحید پرستی کا دین تمام انسانی معاشروں میں رواج پائے۔

آیت کے ذیل میں مزید ارشاد ہوتا ہے کہ لوٹ آیے اور کفر ، فساد اور بت پرستی سے دست بردار ہو جانے کی صورت میں مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ ان سے متعرض نہ ہوں اور گذشتہ واقعات کا انتقام لینے کے در پے نہ ہوں اور ماضی کو بھول جائیں کیونکہ تعرض اور تجاوز فقط سمتگر اور ظالم لوگ ہی کیا کرتے ہیں ۔

۱۔ ابتدائی جہاد ِ آزادی

خدا وند عالم کے احکام اور پروگرام نوع انسان کی سعادت، آزادی ، تکامل ، خوش بختی اور آسائش و آرام کے لئے ہیں اور اس نے انبیاء و مرسلین کا یہ فریضہ قرار دیا ہے کہ ان احکام کو لوگوں تک پہنچائیں ۔ اب اگر کوئی شخص یا گروہ ان احکام کو تبلیغ کو اپنے پست منافع سے مزاحم سمجھتے ہوئے اس کی راہ میں روڑے اٹکائے تو انہیں حق پہنچتا ہے کہ وہ پہلے صلحو آشتی سے اور اگر اس سے ممکن نہ ہوتو قوت و طاقت سے اپنی دعوت کی راہ سے یہ رکاوٹیں ہٹادیں اور اپنے لیے تبلیغ کی آزادی حاصۺ کریں ۔

دوسرے لفظوں میں تمام معاشروں میں لوگ یہ حق رکھتے ہیں کہ راہ حق کی طرف دعوت دینے والوں کی آوازسنیں اور ان کی دعوت قبول کرنے میں آزاد ہوں ۔ اب اگر کچھ لوگ ان کا یہ جائز حق چھیننا چاہیں اور انہیں جازت نہ دیں کہ وہ راہ حق کی طرف پکاریں نے والوں کی پکار گوشِ دل سے سن سکیں اور فکری واجتماعی قید و بند سے آزاد ہوں تو پھر ان پروگراموں کے طرفداروں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ حصول آزادی کے لئے ہر ذریعہاستعمال کریں ۔ یہیں سے اسلام اور دیگر آسمانی ادیان میں ” ابتہ الیٰ جہاد“ کی ضرورت واضھ ہوتی ہے ۔

اس طرح اگر لوگ مومنین پر دباوٴ ڈالیں کہ وہ اپنے پرانے مذہب کی طرف لوٹ جائیں تو یہ دباوٴ دور کرنے کے لیے بھی ہر ذریعہ استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

۲۔ دفاعی جہاد

بعض کسی فرد یا گروہ پر جنگ ٹھونسی جاتی ہے اور اس پر تجاوز کیا جاتا ہے یا دشمن اس کی غفلت سے فائدہ اٹھاکر اچانک حملہ کردیتا ہے ایسی صورت میں حملے کا نشانہ بننے والے فرد یا گروہ کو تمام آسمانی اور انسانی قوانین دفاع کا حق دیتے ہیں ۔ اسے حق پہنچتا ہے کہ ایسے میں جو کچھ اس سے اپنے وجود کی بقاء کے لیے بن پڑے کرے اور اپنی حفاظت کے لیے کوئی دقیقہ فرگذاشت نہ کرے ۔ جہاد کی اس قسم کو ” دفاعی جہاد“ کہتے ہیں ، احد ، احزاب ، موتہ ، تبوک ، حنین اوربعض دیگر اسلامی جہاد کے اسی حصے کا جزو ہیں اور یہ سب جنگیں دفاعی پہلو کی حامل ہیں ۔

۳۔ شرک و بت پرستی کے خلاف جہاد

اسلام لوگوں کو یہ آخری اور بلند ترین دین انتخاب کرنے کی دعوت دیتا ہے اس کے باوجود عقیدے کی آزادی کو بھی محترم شمار کرتا ہے ۔ اسی لیے آسمانی کتب کی حامل قوموں کو اسلام نےکافی مہلت اور رعایت دی ہے کہ وہ مطالعہ اور غور و فکر سے دین اسلام کو قبول کریں اور اگر اسے قبول نہ کریں تب بھی ان سے اسلام ایک اہم پیمان اقلیت والا معاملہ کرتا ہے اور مخصوص شرائط کے ساتھ جو پیچیدہ ہیں نہ مشکل ان سے صلح آشتی سے باہمی زندگی گذارتا ہے ۔

لیکن ․․․․شرک اور بت پرستی کوئی دین اور آئین نہیں اور نہ ہی وہ قابل احترام ہے بلکہ وہ تو ایک قسم کی بے ہودگی ، کجروی اورحماقت ہے ، دراصل وہ ایک فکری اور اخلاقی بیماری ہے جس کی ہر قیمت پر ریشہ کنی ضروری ہے ، دوسروں کی فکر ونظر کی آزادی اور احترام کے الفاظ ان کے لئے استعمال ہوتے ہیں جن کے فکر و عقیدہ کی کم از کم کوئی صحیح بنیاد تو ہو لیکن کجروی ، بے ہودگی ، گمراہی اور بیماری تو کوئی ایسی چیز نہیں جسے محترم سمجھاجائے ۔ اسی لئے اسلام حکم دیتا ہے کہ جیسے بھی ہوانسانی معاشرے سے بت پرستی کی ریشہ کنی کی جائے چاہے اس کے لیے جنگ مول لینا پڑے ۔ بت خانے اور بت پرستی کے آثار صلح صفائی سے نہ مٹ سکیں تو قوت و طاقت کے بل بوتہ پر انہیں ویران و منہدم کیا جانا چاہئیے ۔

مدینہ میں جہاد کا حکم کیوں دیا گیا

ہم جانتے ہیں کہ جہاد ہجرت کے دوسرے سال مسلمانوں پر واجب ہوا ، اس سے پہلے واجب نہ تھا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مکہ میں ایک تو مسلمانوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ مسلح قیام عملاً خود کشی کے مترادف تھا اور دوسری طرف مکہ میں دشمن بہت زیادہ طاقتور تھا لہٰذا مکہ کے اندر ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہ تھا ۔

جب پیغمبر اسلام مدینہ تشریف لائے تو بہت سے لوگ آپ پر ایمان لے آئے اور آپ نے اپنی دعوت مدینہ کے اندر اور باہر ہر طرف پھیلائی ۔ اس طرح آپ ایک مختصر سی حکومت کے قیام اور دشمن کے مقابلے میں ضروری وسائل جمع کرنے کے قابل ہوگئے مدینہ چونکہ مکہ سے کافی دور تھا اس لیے یہ امور آسانی سے انجام پا گئے ، انقلاب اور آزادی پسند قوتیں دشمن سے مقابلے اور دفاع کے لئے تیار ہو گئیں ۔

فتنہ کا قرانی مفہوم

لفظ فتنہ اور اس کے مشتقات قرآن میں مختلف معانی میں استعمال ہوئے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں :

۱۔ آزمائش و امتحان ․․․․ جیسے یہ آیت ہے :

”احسب الناس ان یترکوآ ان یقولوا اٰمنّا و ھم لایفتنون“۔( عنکبوت آیہ۲۰)

کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کایہ کہنا کافی ہے کہ وہ ایمان لے آئیں ہیں اور ان کا امتحان اور آزمائش نہیں ہوگی؟

۲۔ فریب دہی ․․․․ ارشاد الہٰی ہے : ” یا بنی اٰدم لا یفتننکم الشیطان․․․․․“

اے اولاد آدم شیطان تمہیں مکرو فریب نہ دے( اعراف آیت ۲۷)

۳۔ بلاء اور عذاب ․․․․․فرمان الہٰی ہے : ” واتّقوا فتنة لاتبصیبن الذین ظلموا خاصة“۔ ( انفال ۲۵)

اس عذاب سے ڈرو جو فقط ظالموں ہی کے لئے نہیں ( بلکہ ان کے لئے بھی ہے جنہوں نے خود تو ظلم نہیں کیا لیکن ظلم ہوتا رہا اور وہ چپ رہے۔

۴۔ شرک و بت پرستی اور مومنین کی راہ میں رکاوٹ بنا ․․․․․․ارشاد ہوتا ہے : ”وقاتلواھم حتیٰ لاتکون فتنة و یکون الدّین کلہ للہ“۔(انفال آیت ۳۹)

ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ شرک اور بت پرستی با قی نہ رہے اور دین صرف اللہ سے مخصوص ہو جائے ۔

۵۔ گمراہ کرنا اور گمراہی ․․․․․․․․․ سورہٴ مائدہ میں ہے : ” و من یرد اللہ فتنتہ فلن تملک لہ من اللہ شیئاً“ ( مائدہ آیت ۳۱)

اور جسے خدا گمراہ کر دے ( اور اس سے توفیق سب کرلے تو تم اس کے مقابلے میں کوئی قدرت نہیں رکھتے۔

بعید نہیں کہ ان کے تمام معانی ایک ہی بنیاد پر ہو( جیسے مشترک الفاظ کی یہی صورت ہوتی ہے ) اور وہ بنیاد یہ ہے کہ فتنہ کا اصل لغوی معنیٰ ہے کہ سونے اور چاندی کو آگ کے دباوٴ کے نیچے رکھنا تاکہ خالص اور ناخالص حصّہ جدا ہوجائے ، اس لئے جہاں کہیں دباوٴاور سختی ہو یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ مثلاً امتحان کے مواقع پر شدت اور مشکل ہوتی ہے جو انسان کے امتحان کا باعث بنتی ہے ۔ عذاب بھی شدت کی ایک قسم ہے ۔ فریب سے بھی یہی مفہوم نکلتا ہے کیونکہ مختلف ذرائع سے کسی کو دھوکا دیکر دباوٴ ہی ڈالا جاتا ہے ۔ یہی حال کفر اور مخلوق کی ہدایت کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک میں ایک قسم کا دباوٴ اور شدت پائی جاتی ہے ۔


source : http://www.taghrib.ir
534
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

قرآن و سنت کی روشنی میں امت اسلامیہ کی بیداری
ساباط و کربلا ایک ہی مقصد کے دونام
شیعہ اثنا عشری عقائد کا مختصر تعارف
رمضان المبارک کے فضائل
غدیر کا ھدف امام کا معین کرنا-2
اقوال حضرت امام علی النقی علیہ السلام
امام جعفر صادق (ع ) کے احادیث
شیر خدا اور شیر رسول جناب حمزہ علیہ السلام
حضرت فاطمہ (س)کی شہادت افسانہ نہیں ہے
جھوٹ

 
user comment