اردو
Sunday 17th of October 2021
1462
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

عظمت کعبہ قرآن کے آئینہ میں

اس دنیا میں خدا کا پہلا گھر خانہ کعبہ ہے ۔ تاریخ عتیق بھی اس بات کی گواہ ہے کہ اس سے قبل کوئی ایک بھی ایسی عبادت گاہ کائنات میں موجود نہیں تھی جسے خدا کا گھر کہا گیا ہو ۔ اس کی تصدیق قرآن مجید بھی ان الفاظ میں کرتا ہے :

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ۔ (سورہ آل عمران آیہ ۹۶)

( بیشک سب سے پہلا مکان جو لوگوں کے لئے بنایا گیا ہے وہ مکہ میں ہے مبارک ہے اور عالمین کے لئے مجسم ھدایت ہے )

ایک تاریخی روایت کے مطابق خانہ کعبہ بیت المقدس کی مسجد الاقصیٰ سے ایک ہزار تین سو سال پہلے تعمیر ہواہے ۔

عصر جاہلیت میں بھی تمام عرب اپنے جاہلی رسم و رواج کے مطابق خانہ کعبہ کا طواف اور حج کیا کرتے تھے ۔

حضرت ابراہم (ع) نے حضرت موسیٰ (ع) سے نوسو برس پہلے اس کی ظاہری تعمیر مکمّل کی اور بارگاہ حق میں دعا کی یہ دعا قرآن کریم میں اس طرح بیان ہوئی ہے :

رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُواْ الصَّلاَةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ۔( سورہ ابراہیم آیہ ۳۷)

(پرور دگار میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے تاکہ نمازیں قائم کریں اب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انھیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرے شکر گزار بندے بن جائیں)

ہجرت کے آٹھارہویں مہینے ماہ شعبان ۲ ھ میں معرکئہ بدر سے ایک ماہ قبل مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس سے منتقل ہو کر کعبہ کی سمت ہو گیا جس کا ذکر قرآن پاک کے سورہ بقرہ میں کیا گیا ہے

خدا وند عالم کا مسلمانوں پر بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمارا قبلہ خانہ کعبہ قرار دیا ۔ چونکہ بیت المقدّس ایسا قبلہ تھا جس کے کئی دعوےدار ہونے کی وجہ سے اسے کئی بار کافر فاتحوں نے ویران اور نجس کیا اور وہاں کے بسنے والوں کو متعدد بار غلام بننا پڑا اور کئی بار وہاں قتل عام بھی جاری رہا ، جو آج بھی شدّت سے ہورہا ہے ، اور تاریخ مسلمانوں کے سکوت پر محوِ حیرت ہے۔

یہ ایک بڑی تعجب خیز بات ہے اور تاریخ عالم میں اس بات کی گواہ ہے کہ گذشتہ پانچ ہزار سالوں میں کسی نے بھی خانہ کعبہ پر اپنی شخصی ملکیت ہونے کا دعوی نہیں کیا ، یہ ایسا انمول شرف ہے کہ دنیا کی کسی عبادت گاہ و معبد کو حاصل نہیں ہوا۔

عرب کے بت پرست بھی اسے بیت اللہ ہی کہا کرتے تھے ۔ اسلام سے پہلے بھی اس کی حرمت ، حفاظت و صیانت خدائے متعال نے شریف نسل عربوں کے ذریعہ فرمائی اور پیغمبر اسلام کے توسط سے مسلمانوں کو تا قیامت اس کا محافظ و پاسبان بنا دیا۔

نبی اکرم (ص) کی ولادت بابرکت سے ایک مہینہ بیس روز پہلے جب یمن کا بادشاہ ابرہہ اپنی ساٹھ ہزار ہاتھیوں کی مسلح فوج لیکر خانہ کعبہ کو ڈھانے کی غرض سے مکّہ کی وادیوں میں آیا تو پروردگار نے اپنے گھر کے حریم کی حفاظت کی خاطر کسی انسانی فوج کا سہارا نہیں لیا ، بلکہ ابابیلوں جیسے نازک اندام پرندوں کے ذریعہ ان ہاتھیوں پرکنکریاں برسا کر ان افواج کو تہس نہس کر دیا ۔ قرآن کریم کے سورہ فیل میں اسی واقع کا ذکر ہے۔

جنّت سے خاص کر اتارے گئے دو اہم پتّھر ، حجر اسود اور مقام ابراھیم ، عہد آدم اور دور ابراھیمی سے اب تک موجود ہیں اور دنیا کے سب سے زیادہ مقدّس پانی کا قدیم چشمہ ، زمزم ، اسی خانہ کعبہ کے قریب ہے ۔ اس کے پانی کو نیکوں کی شراب کہا گیا ہے ، لاکھوں عقیدت مند مسلمان دنیا کے گوشہ و کنار سے اس پانی کو تبرّک کے طور پر لے جاتے ہیں ۔

مکّہ معظمہ اور فضائل خانہ کعبہ میں قرآن حکیم کی کئی آیات نازل ہوئی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے شہر مکّہ کو ( اُم القریٰ) یعنی بستیوں کی ماں کہا ہے ۔اور سورہ التین اور سورہ البلد میں اللہ نے اس شہر پر امن کی قسم کھائی ہے ۔اس شہر میں یہاں کی شہریوں کے علاوہ ، دوسرے تمام لوگوں کو احرام باندھے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے ۔ یہ خصوصیات دنیا کے کسی اور شہر کو نصیب نہیں ہے۔ مسجد الحرام کی عبادت اور یہاں کی ہر نیکی اقطاع عالم میں کی گئی نیکی سے ایک لاکھ گنا زیادہ ہے ۔ یہ مقام اس قدر محترم اور پر امن ہے کہ یہاں نہ صرف خونریزی منع ہے بلکہ نہ کسی جانور کا شکار کیا جا سکتا ہے نہ کسی درخت کو کاٹا اور سبزہ اور گیاہ کو اکھاڑا جا سکتاہے ۔

قرآن پاک میں اسے بیت الحرام یعنی شوکت کا گھر کہا گیا ہے ۔ خانہ کعبہ کے محل وقوع سے متعلق لکھا گیاہے کہ یہ عین عرش الٰہی اور بیت المعمور کے نیچے ہے ۔ علم جغرافیہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کعبہ کے محل وقوع کو ہم ناف زمین کہہ سکتے ہیں ۔ قرآن مجید میں کعبة اللہ اور دیگر شعائر الھی کی تعظیم کو قلوب کا تقویٰ قرار دیا گیا ہے اور اسی طرح متعدد سوروں [ سورہ بقرہ ، ابراھیم ، آل عمران ، مائدہ اور قصص \' میں خانہ کعبہ کے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔


source : http://www.ahkameshia.com
1462
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

دين کا ظلم سے مقابلہ
محرم الحرام اور وحدت مسلمین
خودشناسى اور بامقصد زندگي
نھج البلاغہ
زبان قرآن کی شناخت
مسئلہ وصیت خلافت
تنزانیہ میں «نهج البلاغه» کا ترجمہ سواحیلی زبان میں
امام سجاد کا کردار اور انقلابی حکمت عملی
ائمہ عسکرئین کا عہد امامت اور علمی فیوض
میثاقِ مدینہ

 
user comment