اردو
Tuesday 11th of May 2021
671
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

امام محمد باقر عليہ السلام اور سياسي مسائل

زيدي شيعوں نے امامت کے معاملہ ميں تلوار کے ساتھ امام کے قيام کو اپنے مذہب کي ايک بنياد قرار ديا ہے۔ زيدي فرقہ کي نظر ميں ايک علوي فرد اس وقت امام قرار پا سکتا ہے جب وہ مسلح تحريک چلائے۔ بصورتِ ديگر وہ اسے امام نہيں سمجھتے تھے۔ اگر زيديوں کے اس عقيدہ کے نتيجہ کي جانب توجہ کي جائے تو وسيع اسلامي مملکت کے گوشہ و کنار ميں نفسِ زکيہ، ان کے بھائي ابراہيم، حسين بن علي معروف بہ شہيد فخ اور بعض دوسرے افراد کے وسيلہ سے کي جانے والي چند پراگندہ اور ناکام تحريکوں کے علاوہ کچھ اور نظر نہيں آتا۔ طبرستان کي مسلح تحريک جس کے رہبر زيدي تھے يا امامي، اس ميں شکوک و شبہات پائے جاتے ہيں (اگرچہ يقين کے قريب احتمال يہي ہے کہ زيدي تھے) کے علاوہ کسي تحريک نے کوئي خاص کاميابي حاصل نہيں کي۔ جس کا نتيجہ يہ نکلا کہ:

الف: وہ لوگ خدا کے برگزيدہ بندوں، يعني ائمہ طاہرين کے بجائے ہر اس علوي کے پيچھے چل پڑے جو تلوار اٹھا لے۔

ب: ثقافتي اعتبار سے تفسير، فقہ و کلام ميں امامي شيعوں کے مقابلہ ميں زيدي شيعہ کوئي منظم اور مربوط ثقافت نہيں اپنا سکے۔ يہ لوگ فقہ ميں تقريباً ابوحنيفہ کے اور کلام ميں پورے طور پر معتزلہ کے پيروکار تھے۔ اس کے مقابلہ ميں شيعہ ائمہ خصوصاً امام باقرٴ اور امام صادقٴ کے علمي اقدامات کي وجہ سے ايسا مکتب پيدا ہوا جس کي اپني ايک خاص اور بھرپور ثقافت تھي، جو بعد ميں مکتبِ جعفري کے نام سے مشہور ہوئي۔ اگرچہ مکتبِ باقري کے نام سے شہرت بھي غلط نہيں ہے۔ يہ فکري مکتب جو تمام معاملات ميں علومِ اہلبيت کو منظم طور پر پيش کرتا ہے، يہ ان دو اماموں کي نصف صدي (سال ٩٤ سے ١٤٨ ہجري تک) کي دن رات کي کوششوں کا نتيجہ ہے۔

اس زمانے کے سياسي حالات ميں جب کہ اموي اور ان کے بعد عباسي حکمران اپني حکومت کي بقائ کے لئے ہر مخالف طاقت اور ہر مخالفت کو کچل ديا کرتے تھے، ايسے موقف کے انتخاب کے ساتھ طبعي طور پر اہم سياسي اقدامات نہيں کيے جاسکتے تھے۔ اور ہر جگہ واحد خوبي يہي نہيں ہوتي کہ ہر صورت اور ہر قيمت پر سياسي عمل ميں شرکت کي جائے چاہے اس کے لئے معارف حق کے بيان سے چشم پوشي کرني پڑے اور ايک پوري امت پر راستہ ہميشہ کے لئے بند کرديا جائے۔ ائمہ طاہرين نے اس دور ميں اپنا بنيادي موقف يہي قرار دے ديا تھا کہ اسلام کے حقيقي ديني معارف کو بيان کيا جائے اور اپنا اصلي کام يہي چُن ليا تھا کہ مذہبي ثقافت کي تدوين کي جائے جس کا نتيجہ آج ہم بخوبي ديکھ رہے ہيں۔ 

اس کا يہ مطلب بھي نہيں ہے کہ ائمہ نے ظالم حکمرانوں کے خلاف کبھي کوئي موقف نہيں اپنايا۔ تقريباً تمام شيعہ اور حتيٰ کہ بنو اميہ بھي بخوبي جانتے تھے کہ شيعہ رہبر خلافت کے دعويدار ہيں اور ان کا موقف يہ تھا کہ خلافت ان کا اور ان کے آبائ کا حق تھا اور قريش نے زبردستي اس پر قبضہ کرليا ہے۔ اسي لئے ائمہ اپنے شيعوں کو سوائے ضروري، استثنائي اور خاص دلائل کي بنياد پر حکمرانوں کے ساتھ تعاون کرنے سے منع کيا کرتے تھے۔ ليکن يہ عدم تعاون ايک باضابطہ، مسلسل اور مسلحانہ تحريک اور انقلابي قيام کي صورت ميں سامنے نہيں آيا۔ بنابريں مخالفت او عدم تعاون کي دعوت اور منفي رويہ امامٴ کے واضح موقف ميں شامل تھا۔

عقبہ بن بشير نامي ايک شيعہ امام باقرٴ کے پاس آيا اور اپنے قبيلہ ميں اپنے بلند مقام کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا: ہمارے قبيلہ ميں ايک عريف (حکومت کي طرف سے منظور شدہ کسي قوم کا ترجمان يا سردار) تھا جو مر چکا ہے۔ قبيلہ کے لوگ چاہتے ہيں کہ مجھے اس کي جگہ عريف بنا ديں۔ آپٴ اس بارے ميں کيا کہتے ہيں؟ امامٴ نے فرمايا:

کيا تم اپنے حسب اور نسب کا ہم پر احسان جتاتے ہو؟ اللہ تعاليٰ مومنوں کو ان کے ايمان کي وجہ سے بلند مقام ديتا ہے حالانکہ لوگ اسے معمولي سمجھتے ہيں اور کافروں کو ذليل کرتا ہے جبکہ لوگ اسے بڑا سمجھتے ہيں۔ اور يہ جو تم کہہ رہے ہو کہ تمہارے قبيلہ ميں ايک سردار تھا جو مرچکا ہے اور قبيلہ والے تجھے اس کي جگہ پر رکھنا چاہ رہے ہيں، تو اگر تجھے جنت بري لگتي ہے اور وہ تجھے ناپسند ہے تو اپنے قبيلہ کي سرداري کو قبول کرلے کيونکہ اگر حاکم نے کسي مسلمان کا خون بہايا تو تو اس کے خون ميں شريک سمجھا جائے گا اور شايد تجھے ان کي دنيا سے بھي کچھ نہ ملے۔   (١)

يہ روايت بتاتي ہے کہ امامٴ کس طرح سے اپنے شيعوں کو حکومت ميں کسي بھي مقام حتيٰ کہ عريف بننے سے بھي روکتے تھے جس کي کوئي خاص حيثيت بھي نہيں ہوتي تھي۔ اور اس کي دليل يہ تھي کہ لوگوں پر حکمرانوں کے ظلم و ستم اور ان کے گناہوں ميں شيعہ شريک نہ ہوں۔

امام باقرٴ مختلف طريقوں سے لوگوں کو حکمرانوں پر اعتراض اور ان کو نصيحت کرنے کي ترغيب دلايا کرتے تھے۔ آپٴ سے منقول ايک روايت ميں آيا ہے کہ:

من مشيٰ اليٰ سلطان جائرٍ فامرہ بتقوي اللہ و وعظہ و خوّفہ کان لہ مثل اجر الثقلين من الجن و الانس و مثل اجورھم۔

جو ظالم حاکم کے پاس جاکر اسے خدا سے ڈرائے اور نصيحت کرے اور اسے قيامت کا خوف دلائے، اس کے لئے جن و انس کا اجر ہے۔ (٢)

تقيہ وہ بنيادي ترين ڈھال ہے جس کي آڑ ميں شيعوں نے بنو اميہ اور بنو عباس کے سياہ دورِ حکومت ميں اپني حفاظت کي۔ جيسا کہ امام باقرٴ نے اپنے بابا سے نقل کيا کہ آپٴ نے فرمايا:

ان التقيۃَ من ديني و دين آبائي و لادين لمن لاتقيۃَ لہ۔ (٣)

بے شک تقيہ ميرا اور ميرے اجداد کا دين ہے۔ اور جس کے پاس تقيہ نہيں اس کے پاس دين نہيں۔

متعدد تاريخي دلائل اور شواہد واضح طور پر اس بات کا اظہار کرتے ہيں کہ خاندانِ اہلبيت ميں امامت کا دعويٰ موجود رہا ہے۔ اور يہ بات زيادہ تر لوگوں کے لئے اظہر من الشمس تھي اور سب جانتے تھے کہ ائمہ کرام امامت کو صرف اپنا حق سمجھتے ہيں۔ امام باقرٴ اور دوسرے تمام ائمہ حکمرانوں کے کاموں کو باطل اور شرعي طور پر ناجائز قرار ديتے تھے اور اسلامي معاشرے ميں سچي امامت کو برقرار کرنے کي ضرورت کو لوگوں کے لئے بيان کرتے رہتے تھے:

اسي طرح اے محمد (بن مسلم) اس امت کا جو بھي شخص ظاہر و عادل اور خدا کي طرف سے منصوب امام کے بغير زندگي گزارے وہ گمراہي ميں پڑ گيا اور حيراني و سرگرداني ميں مبتلا ہوا۔ اور اگر اسي حال ميں مر گيا تو کفر و نفاق کي حالت ميں مرا۔ اے محمد! ظالم حکمران اور ان کے پيروکار خدا کے دين سے منحرف ہوگئے ہيں۔ وہ خود بھي گمراہي ميں ہيں اور دوسروں کو بھي گمراہي کي طرف کھينچ رہے ہيں۔ جو کام وہ انجام ديتے ہيں يہ اس راکھ کي مانند ہے جس پر طوفاني دن ميں تيز ہوا چلي ہو اور جو کچھ انہوں نے انجام ديا ہے اس ميں سے کچھ بھي ان کے ہاتھ نہيں آئے گا۔ اور يہ حق سے دور کرنے والي گمراہي کے علاوہ کچھ اور نہيں ہے۔ (٤)

ان جملات کا قدرتي نتيجہ لوگوں کو اہلبيت کي طرف بڑھانا اور عوام پر حاکموں اور واليوں کے ظلم و ستم کو ظاہر کرنا تھا۔ امامٴ کا بار بار اس بات پر تکيہ کہ نماز، روزہ، حج اور زکاۃ کے ساتھ ولايت بھي اسلام کے پانچ بنيادي احکام ميں سے ايک ہے، يہ بھي اسي بنياد پر تھا۔ جيسا کہ حديث کے بقيہ حصہ ميں ولايت پر تاکيد کي خاطر فرمايا:

ولم يناد بشيئ کما نودي بالولايۃ، فاخذ الناس باربع و ترکوا الولايۃ۔ (٥)

خدا نے لوگوں کو ولايت سے بڑھ کر کسي چيز کي طرف نہيں بلايا ہے۔ اس کے باوجود لوگوں نے چار کو لے ليا اور ولايت کو چھوڑ ديا۔

روايت ہوئي ہے کہ ايک دن امام باقرٴ ہشام بن عبد الملک کے پاس گئے اور اسے خليفہ اور امير المومنين کي حيثيت سے سلام نہيں کيا۔ ہشام ناراض ہوا اور اپنے ارد گرد موجود افراد کو حکم ديا کہ امامٴ کي سرزنش کريں۔ اس کے بعد ہشام نے امامٴ سے کہا:

لايزال الرجل منکم شقّ عصا المسلمين و دعا الي نفسہ۔ ہر زمانے ميں آپ ميں سے کوئي نہ کوئي مسلمانوں کے درميان اختلاف ڈالتا ہے اور لوگوں کو اپني طرف بلاتا ہے۔ اس کے بعد امامٴ کو برا بھلا کہنا شروع کيا اور دوسروں کو بھي حکم ديا کہ امامٴ کي سرزنش کريں۔ اس موقع پر امامٴ نے لوگوں کي طرف رخ کر کے فرمايا:

اے لوگو! کہاں جارہے ہو اور کہاں لے جائے جارہے ہو؟ تمہارے پہلے کو اللہ نے ہمارے ذريعہ ہدايت دي اور تمہارا اختتام بھي ہم پر ہي ہوگا۔ اگر تم نے جلدي زمامِ حکومت کو ہاتھ ميں لے ليا ہے، تو آخرکار امت مسلمہ کے امور ہمارے ہي ہاتھ ميں ہوں گے۔ کيونکہ ہم وہ خاندان ہيں کہ عاقبت ہمارے ساتھ ہي ہے۔ خدا کا فرمان ہے: نيک انجام متقين کے لئے ہے۔

ہشام نے امامٴ کي گرفتاري کا حکم دے ديا۔ جو لوگ آپٴ کے ساتھ قيدخانہ ميں تھے، وہ آپٴ سے متاثر ہوئے اور آپٴ سے محبت کرنے لگے۔ جب ہشام کو اس بات کي اطلاع ملي تو اس نے حکم ديا کہ آپٴ کو مدينہ واپس بھجوا ديا جائے۔ (٦)

امام باقرٴ کے زمانے ميں اموي حکام اہلبيت کے معاملہ ميں بہت سخت گيري کرتے تھے اور يہ سخت گيري ان کے امامت اور ديني۔سياسي رہبري کے دعويٰ کي وجہ سے تھي کہ وہ بنواميہ کو غاصب سمجھتے تھے۔ تاريخ (کہ جس کے درست يا غلط ہونے کا کچھ صحيح طور پر معلوم نہيں ہے) بتاتي ہے کہ اموي خلفائ ميں صرف عمر بن عبدالعزيز تھا جس نے اہلبيت کے ساتھ نسبتاً نرم رويہ اپنايا تھا۔ اسي لئے اہلسنت نے امام باقرٴ سے روايت کي ہے آپٴ نے فرمايا:

عمر بن عبد العزيز نجيب بني اميہ۔ (٧)

عمر بن عبد العزيز بني اميہ کا نيک آدمي ہے۔

اسي طرح شيعہ کتابوں ميں بھي آيا ہے کہ عمر بن عبد العزيز بيت المال سے اہلبيت کا حصہ ادا کيا کرتا تھا اور اس نے فدک بھي بني ہاشم کو واپس کرديا تھا۔ (٨) ايک روايت ميں آيا ہے کہ ايک مرتبہ امام باقرٴ عمر بن عبد العزيز کے پاس گئے تو اس نے آپٴ سے نصيحت کرنے کي خواہش کي۔ آپٴ نے فرمايا: ميري نصيحت يہ ہے کہ چھوٹي عمر کے مسلمانوں کو اپنے بچوں کي طرح، متوسط عمر والوں کو اپنے بھائيوں کي طرح اور بزرگوں کو اپنے باپ کي طرح سمجھو۔ اپنے بچوں پر رحم کرو، اپنے بھائيوں کي مدد کرو اور اپنے باپ سے نيکي کرو۔ (٩)

اموي دور ميں اہلبيت پر سب سے زيادہ سختياں ہشام بن عبد الملک کي جانب سے ہوئيں۔ اسي کے سخت اور توہين آميز جملات تھے جنہوں نے زيد بن علي کو (سال ١٢٢ ہجري ميں) کوفہ ميں قيام کرنے پر مجبور کرديا۔ زيد کے ساتھ ہشام کي ملاقات ميں اس نے حتيٰ کہ امام باقرٴ کي بھي توہين کي اور امويوں کے مخصوص اندازِ تمسخر اور طريقہ اذيت کے مطابق امامٴ کہ جن کا لقب باقر تھا، انہيں ’’بقرہ‘‘ (گائے) کہا۔ زيد اس کي اس جسارت پر بہت ناراض ہوئے اور فرمايا:

سماہ رسول اللہ ۰ الباقر و انت تسميہ البقرۃ، لشد ما اختلفتما و لتخالفنہ في الآخرۃ کما خالفتہ في الدنيا فيرد الجنۃ و ترد النار۔ (١٠)

رسول اللہ ۰ نے انہيں باقر کہا ہے اور تو انہيں بقرہ (گائے) کہہ رہا ہے۔ تيرے اور رسول اللہ کے درميان کس قدر اختلاف ہے! تو آخرت ميں بھي ان کي اسي طرح مخالفت کرے گا جس طرح سے دنيا ميں کر رہے ہو۔ اس وقت وہ جنت ميں اور تو جہنم ميں داخل ہوگا۔

ہشام کي موجودگي ميں ايک عيسائي نے رسول اللہ ۰ کي توہين کي ليکن ہشام نے کسي ردعمل کا اظہار نہيں کيا۔ اس مسئلہ پر بعد ميں زيد نے بہت سخت ردعمل دکھايا تھا۔ جيسا کہ کہا گيا ہے، يہي رويہ اموي حکومت کے خلاف زيد کے قيام کا اصلي اور اہم محرک بنا تھا۔ اور يہ بات سچ ہے کہ وسيع اسلامي مملکت خاص طور پر مشرقي علاقے اور ايران ميں اموي حکومت کے خلاف مسلسل چلنے والي تحريکوں کا آغاز اسي سے ہوا تھا۔

جيسا کہ شيعہ کتابوں ميں آيا ہے، امام باقرٴ کو ان کے فرزند امام جعفر صادقٴ کے ساتھ شام بلايا گيا تاکہ وہاں ان کي توہين کي جائے اور اس طرح سے حکمران بننے اور مخالفت کرنے کا سودا ان کے سر سے نکال ديا جائے۔ امام صادقٴ نے ايک طويل روايت ميں اس واقعہ کو بيان کيا ہے۔ ہم ذيل ميں اس روايت کا کچھ حصہ آپٴ کي زبان مبارک سے نقل کرتے ہيں:

ايک سال ہشام حج کرنے کے لئے مکہ آيا ہوا تھا۔ امام باقرٴ اور امام صادقٴ بھي اس سال حج کے لئے وہاں موجود تھے۔ امام صادقٴ نے چند ايسے جملے بيان فرمائے جو بنو اميہ پر بنو ہاشم کي برتري کو بيان کر رہے تھے۔ امامٴ نے فرمايا:

حمد اس خدا کے لئے جس نے محمد ۰ کو نبي بنايا اور ہميں ان کے وسيلے سے کرامت بخشي۔ پس ہم اس کي مخلوق ميں برگزيدہ، اس کے بندوں ميں انتخاب شدہ اور اس کي جانب سے منصوب خليفہ ہيں۔ تو باسعادت وہ ہے جس نے ہماري پيروي کي اور بدبخت وہ ہے جس نے ہم سے دشمني اور ہماري مخالفت کي۔

يہ خبر ہشام تک پہنچي تو وہ دمشق تک خاموش رہا اور اس بارے ميں کچھ نہيں بولا۔ دمشق پہنچ کر اس نے مدينہ کے حاکم کے پاس ايک قاصد بھيجا اور اس سے کہا کہ امام باقرٴ اور امام صادقٴ کو شام بھيج دے۔ دونوں امام شام پہنچے۔ ہشام نے ان کي توہين کرنے کے لئے انہيں تين دن تک اجازت نہيں دي اور چوتھے دن اپنے پاس بلايا۔ اس وقت دربار ميں بہت سے بڑے لوگ اور قريش کي بڑي شخصيتيں موجود تھيں۔ اس نے امام باقرٴ (جو سن رسيدہ تھے) سے درخواست کي کہ تير اندازي کے مقابلہ ميں شرکت کريں۔ پہلے تو امامٴ نے بڑھاپے کا بہانہ کر کے اسے ٹالنا چاہا ليکن ہشام نے اصرار کيا۔ مجبوراً امامٴ نے کمان ہاتھ ميں لي اور پہلا تير نشانہ پر بٹھايا۔ اس کے بعد يکے بعد ديگرے نو تير ايک دوسرے کے اوپر بٹھائے۔

ہشام جو حيرت زدہ رہ گيا تھا، کہنے لگا: ما ظننت ان في الارض احدا يرمي مثل ھذا الرامي۔ ميں نہيں سمجھتا کہ زمين پر کوئي ان جيسا تيرانداز ہوگا۔ اس کے بعد بنو اميہ اور بنو ہاشم کي رشتہ داري کا حوالہ دے کر اس نے کوشش کي کہ ان دو خاندانوں کو مساوي قرار دے۔ امام باقرٴ نے تاکيد کي کہ دوسرے خاندان اہلبيت ميں موجود فضائل و کمالات سے محروم ہيں۔

ہشام نے اپني گفتگو کے دوران امير المومنين کے بارے ميں شيعوں کے اعتقاد کا مذاق اڑايا اور بولا: عليٴ علم غيب کا دعويٰ کيا کرتے تھے، حالانکہ خدا نے کسي کو بھي اس سے آگاہ نہيں کيا ہے۔ جواب ميں امامٴ نے امير المومنينٴ کے وسيلہ سے معارفِ قرآن اور علومِ پيغمبر ۰ کے فروغ کي طرف اشارہ کيا۔ آخرکار ہشام نے ان کي آزادي اور مدينہ روانگي کا حکم صادر کرديا۔ اسي دوران شام ميں رہنے والے عيسائيوں اور امام باقرٴ کے درميان ايک ملاقات ہوئي جو حديث کي کتابوں ميں تفصيل سے درج ہے۔ اسي کے بعد ہشام نے حکم ديا تھا کہ جلد از جلد امامٴ دمشق سے روانہ ہوجائيں تاکہ کہيں شام کے رہنے والے آپٴ کے علم سے متاثر نہ ہوجائيں۔ اس کے فوراً بعد اس نے مدينہ کے گورنر کے نام ايک خط بھيجا جس ميں اس نے امام باقرٴ اور امام صادقٴ کے بارے ميں يہ لکھا: ابو تراب کے يہ دو بيٹے جو مدينہ کے لئے شام سے روانہ ہوگئے ہيں، جادوگر ہيں اور اسلام کا جھوٹا اظہار کرتے ہيں۔ کيونکہ يہ عيسائي راہبوں سے متاثر ہوگئے ہيں اور نصاريٰ کي طرف مائل ہوگئے ہيں۔ ميں نے رشتہ داري کي وجہ سے ان کو تکليف نہيں پہنچائي ہے۔ جب وہ مدينہ پہنچيں تو لوگوں سے کہو: جو ان سے کوئي معاملہ يا مصافحہ يا سلام کرے گا ميں اس سے بري الذمہ ہوں۔ کيونکہ يہ اسلام سے منحرف ہوگئے ہيں۔‘‘ لوگ ان باتوں ميں آگئے اور آپٴ کي توہين کي، ليکن امامٴ نے ان کو نصيحت کي اور انہيں عذابِ الہي سے ڈرايا يہاں تک کہ وہ آپٴ کي توہين سے دستبردار ہوگئے۔ (١١)

درجِ بالا روايت اہلبيت کا چہرہ مسخ کرنے کے لئے ہشام کي مکاريوں کي نشاندہي کرتي ہے نيز يہ بھي بتاتي ہے کہ ائمہ طاہرين اہلبيت کا عظيم مرتبہ دکھانے کے لئے کس قدر اصرار کيا کرتے تھے۔

 

حوالہ جات

١۔ الاختصاص ص٢٦١

٢۔ دعائم الاسلام ج١ ص٩٥

٣۔ الکافي ج١ ص١٨٤۔ ١٨٣

٤۔ الکافي ج١ ص ١٨٣

٥۔ الکافي ج١ ص٤٧٨؛ المناقب ج٢ ص٢٨٠

٦۔ تذکرۃ الحفاظ ج١ ص١١٩

٧۔ قرب الاسناد ص١٧٢

٨۔ الخصال ج١ ص٥١ اور ديکھئے: امالي طوسي ص٨٠، تاريخ الخلفائ ص٢٣٢

٩۔ بھجۃ المجالس ج٣ ص٢٥٠؛ مختصر تاريخ دمشق ج٢٣ ص٧٧

١٠۔ شرح نھج البلاغہ ابن ابي الحديد ج٧ ص١٣٢؛ عمدۃ الطالب ص١٩٤

١١۔ دلائل الامامۃ ص١٠٤؛ امان الاخطار ص٥٢؛ بحار الانوار ج٤٦ ص٣٠٦؛ ديکھئے: تفسير علي بن ابراہيم قمي ص٨٨؛ مناقب آل ابي طالب ج٣ ص٣٣٤ اور ٣٤٨

 


source : http://www.tebyan.net
671
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

تقلید کیوں ضروری ہے؟
امام حسین (ع) کے چند زرین اقوال
حضرت زھرا علمائے اھل سنت کی نطر میں
حضرت علی علیه السلام اور خطبه شقشقیه کی نسبت
حضرت امام حسین علیہ السلام کی سبق آموز زندگی
اقوال حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
حدیث "لا نورث، ما ترکناہ صدقۃ" کا افسانہ ـ 1
منتظرین امام(عج)کے وظائف پر ایک نگاہ
پیغمبر اسلام(ص) : فاطمہ (س) میرے جگر کا ٹکڑا ہے
امام زین العابدین علیہ السلام اخلاق کی دنیامیں

 
user comment