اردو
Friday 27th of November 2020
  70
  0
  0

خدا پر ایمان لانے کا راستہ

خدا پر ایمان لانے کی راھیں متعدد ھیں :

اھل اللہ کے لئے اس کی دلیل ومعرفت کا ذریعہ خود اس کی ذات ھے <اٴَوَ لَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اٴَنَّہ عَلیٰ کُلِّ شَیْء ٍشَھِیْد>[1]((یا من دل علی ذاتہ بذاتہ))[2] ،((بک عرفتک واٴنت دللتنی علیک)) [3]

اوراھل اللہ کے علاوہ بقیہ افراد کے لئے چند راہوں کی طرف مختصر طور پر اشارہ کرتے ھیں :

الف):انسان جب بھی خود اپنے یا اپنے حیطہٴِ ادراک میں موجود، موجودات کے کسی بھی جزء کے متعلق غور کرے تو اس نتیجے پر پھنچے گا کہ اس جزء کا نہ هونا محال نھیں ھے اور اس کا هونا یا نہ هونا ممکن ھے۔اس کی ذات عدم کی متقاضی ھے اور نہ ھی وجود کی۔اور مذکورہ صفت کی حامل ھر ذات کوموجود هونے کے لئے ایک سبب کی ضرورت ھے، اسی طرح جس طرح ترازو کے دو مساوی پلڑوں میں سے کسی ایک پلڑے کی دوسرے پر ترجیح بغیرکسی بیرونی عامل وسبب کے ناممکن ھے، اس فرق کے ساتھ کہ ممکن الوجود اپنے سبب کے ذریعے موجود ھے اور سبب نہ هونے کی صورت میں عدم کا شکار ھے اور چونکہ اجزاء عالم میں سے ھر جزء کا وجود اپنے سبب کا محتاج ھے، لہٰذااس نے یا تو خود اپنے آپ کو وجود عطا کیا ھے یا موجودات میں سے اسی جیسے موجود نے اسے وجود بخشا ھے۔ لیکن جب اس کا اپنا وجود ھی  نہ تھا تو خود کو کیسے وجود عطا کرسکتا ھے او راس جیساممکن الوجود جس چیز پر خود قادر نھیں غیر کو کیا دے گا۔اور یہ حکم وقاعدہ جوکائنات کے ھر جزء میں جاری ھے، کل کائنات پر بھی جاری وساری ھے۔

جیسا کہ ایک روشن فضاکا وجود،جس کی اپنی ذاتی روشنی کوئی نھیں اس بات کی دلیل ھے کہ اس روشنی کامبدا ضرور ھے جو اپنے ھی نور سے روشن ومنور ھے ورنہ ایسے مبدا کی غیر موجودگی میں فضا کا روشن ومنور هونا ممکن ھی نھیں ھے، کیونکہ ذاتی طور پر تاریک موجو د کا غیر ، تو درکنار خود کو روشن کرنا بھی محال ھے۔

اسی لئے وجود کائنات اور اس کے کمالات ،مثال کے طورپر حیات، علم اور قدرت، ایک ایسی حقیقت کے وجود کی دلیل ھیں جس کا وجود، حیات، علم اورقدرت کسی غیر کے مرھون منت نھیں<اٴَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اٴَمْ ھُمُ الْخَالِقُوْنَ>[4] ((عن ابی الحسن بن موسی الرضا   (ع) اٴنہ دخل علیہ رجل فقال لہ: یا ابن رسول اللّٰہ! ما الدلیل علی حدوث العالم؟ فقال (ع): اٴنت لم تکن ثم کنت وقد علمت اٴنک لم تکوّن نفسک ولا کوّنک من ھو مثلک))[5]

ابو شاکر دیصانی نے چھٹے امام  (ع) سے پوچھا: اس بات کی کیا دلیل ھے کہ آپ (ع)  کو کوئی خلق کرنے والا ھے؟ امام نے فرمایا: ((وجدت نفسی لا تخلو من إحدی الجھتین، إما اٴن اٴکون صنعتھا اٴنا اٴو صنعھا غیری، فإن کنت صنعتھا اٴنا فلا اٴخلو من اٴحد المعنیین،إما   اٴن اٴکون صنعتھا وکانت موجودة، اٴو صنعتھا وکانت معدومة فإن کنت صنعتھا وکانت موجودة فقد استغنیت بوجودھا عن صنعتھا، و إن کانت معدومة فإنک تعلم اٴن المعدوم لا یحدث شیئًا، فقد ثبت المعنی الثالث اٴن لی صانعاً وھو اللّٰہ رب العالمین))[6]

جو چیز نہ تھی اور موجود هوئی یا تو خود اس نے خود کو وجود عطاکیا یا کسی غیر نے۔ اگر خود اس نے خود کو موجود کیا، یا تو وہ خودپھلے سے موجود تھی اور اس نے خود کو موجود کیا یا پھلے سے موجود نہ تھی،پھلی صورت میں موجود کو وجود عطا کرنا ھے جو محال ھے اور دوسری صورت میں معدوم کو وجود کی علت وسبب قرار دینا ھے اور یہ بھی محال ھے۔ اگر کسی دوسرے نے اسے وجود عطا کیا ھے اور وہ بھی پھلے نہ تھا اور بعد میں موجود هوا ھے تو وہ اسی کی مانند ھے۔

لہٰذا، بحکم عقل جو بھی چیز پھلے نہ تھی اور بعد میں موجود هوئی اس کے لئے ایسے خالق کا هونا ضروری ھے جس کی ذات میں عدم ونابودی کا سرے سے کوئی عمل دخل نہ هو۔

اسی لئے، کائنات میں رونما هونے والی تمام تبدیلیاں اور موجودات اس خالق کے وجود پر دلیل ھیں جسے کسی دوسرے نے خلق نھیں کیا ھے اور وہ مصنوعات ومخلوقات کا ایسا خالق ھے جو خود مصنوع و مخلوق نھیں ھے۔

ب):اگر کسی بیابان میںکوئی ایسا ورق پڑا ملے جس پر الف سے یاء تک تمام حروف تھجی ترتیب سے لکھے هوں،ھر انسان کا ضمیر یہ گواھی دے گا کہ ان حروف کی لکھائی اور ترتیب، فھم و ادراک کا نتیجہ ھیں اور اگر انھی حروف سے کلمہ اور کلمات سے لکھا هوا کلام دیکھے تو اس کلام کی بناوٹ و ترکیب میں موجود دقّت نظر کے ذریعے موٴلف کے علم وحکمت پر استدلال کرے گانیز اگر کسی کی گفتار میں انھی خصوصیات کا مشاھدہ کرے گا تو مقرر کے علم وحکمت کا معترف هو جائے گا۔کیا ایک پودے میں موجود عناصر اولیہ کی ترکیب،کتاب کی ایک سطر کی جملہ بندی سے کم تر ھے، جو لکھنے والے کے علم پر نا قابل انکار دلیل ھے؟!

وہ کونسا علم اور کیسی حکمت ھے جس نے پانی اور مٹی میں بیج کے چھلکے کے لئے موت اور بوسیدگی کا مادہ فراھم کیا ھے اور اس بیج کے مغز کو پودے کی شکل میں زندگی عطا کی ھے ؟!

جڑ کو وہ قدرت وطاقت عطا کی ھے کہ زمین کے دل کو چیرکر مٹی کی تاریک تہوں سے پودے کے لئے خوراک جذب کرتی ھے اور مٹی کے حصوں سے مختلف درختوں کے لئے خوراک فراھم کی ھے، تاکہ ھر پودا اور ھر درخت اپنی مخصوص خوراک حاصل کر سکے اور درختوں کی جڑوں کو ایسا بنا یا ھے کہ وہ اپنی مخصوص خوراک کے علاوہ جو ا س درخت کے مخصوص پھل کو جاملتی ھے، کوئی اور خوراک جذب نہ کریں اور زمین کی کشش ثقل کا مقابلہ کرتے هوئے پانی اور خوراک درخت کے تنے اور شاخوں تک پھنچائیں۔جس وقت جڑیں زمین سے پانی اور خوراک لے کر درخت کے تنے اور شاخوں تک پھنچانے میں مصروف عمل هوتی ھیں، اسی دوران  تنا بھی فضا سے هوا اور روشنی لینے کے عمل کو انجام دے رھا هوتا ھے ((کلّ میسّر لما خلق لہ))[7]،جس قدر بھی کوشش کی جائے کہ جڑ، جسے مٹی کے اعماق تک جانے اور تنا جسے فضا میں سر بلند کرنے کے لئے بنا یا گیا ھے،کو اس حکیمانہ سنت سے روکیں اور اس کے برعکس جڑ کو فضا اور تنے کو مٹی میں قرار دیں تو یہ دونوں قانون کی اس خلاف ورزی کا مقابلہ کرتے هوئے طبیعی طریقہ کار کے مطابق اپنی نشونما جاری رکھیں گے <وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً>[8]

فقط ایک درخت اور ان رگوں کی جو اس کی جڑوں سے ہزار ھا پتوں تک حیرت انگیز نظام کے ساتھ پھنچائی گئی ھیں، بناوٹ اور پتوں کے ھر خلیے کو دی جانے والی قدرت وتوانائی میں غور وفکر، جس کے ذریعے وہ جڑو ں سے اپنی خوراک اورپانی کوجذب کرتے ھیں، اس بات کے لئے کافی ھے کہ انسان لا متناھی علم وحکمت پر ایمان لے آئے <اٴَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَاْلاٴَرْضَ وَ اٴَنْزَلَ لَکُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَنْبَتْنَا بِہ حَدَائِقَ ذَاتَ بَہْجَةٍ مَّا کَانَ لَکُمْ اٴَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَہَا اٴَ إِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ بَلْ ھُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَ>[9]<اٴَ اٴَنْتُمْ اٴَنْشُاٴْتُمْ شَجَرَتَہَا اٴَمْ نَحْنُ الْمُنْشِوٴُنَ>[10] <وَ اٴَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ>[11]

نیز جس پودے اوردرخت کو دیکھیں، جڑ سے لے کر پھل تک حق تعالی کے علم،قدرت اور حکمت کی آیت ونشانی ھے اور ان کی نشونما کے لئے جو آئین مقرر کیا گیا ھے اس کے سامنے سر جھکائے هوئے ھے <وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدْانِ>[12]

جیسا کہ کسی بھی جاندار کی زندگی میں غوروفکر، انسان کے لئے خدا کی طرف رھنماھے۔

ابو شاکر دیصانی نے چھٹے امام (ع) کی خدمت میں حاضر هو کر کھا :اے جعفر بن محمد (علیھما السلام)! مجھے میرے معبود کی جانب رھنمائی فرمائیں۔ ایک چھوٹا بچہ مرغی کے انڈے کے ساتھ کھیل رھا تھا۔

امام (ع) نے اس بچے سے انڈا لے کر فرمایا :”اے دیصانی!اس انڈے کے گرد محکم حصار ھے، اس کا چھلکا سخت ھے اور اس چھلکے کے نیچے باریک جھلی ھے۔ اس باریک جھلی کے نیچے پگھلا هوا سونا اور سیال چاندی موجود ھے جو آپس میں نھیں ملتے۔نہ تو اندر سے کوئی مصلح باھر آیا ھے جو اس کے بارے میں اصلاح کی خبر دے اور نہ ھی کوئی مفسد باھر سے اندر گیا ھے جو فساد کی اطلاع دے اور نہ ھی کوئی یہ جانتا ھے کہ انڈا نر کے لئے بنا یا گیا ھے یا مادہ کے لئے۔“[13]

آیا تصفیہ شدہ چونے کے ذریعے محکم حصار کو، جس میں بے انتھا اسرار پوشیدہ ھیں، کس صاحب تدبیر نے مرغی کے کھائے هوئے دانوں سے جدا کر کے اس کے تخم دان میں چوزے کی پرورش کے لئے ایسا مقام امن بنایا  اور اس کے اندر نطفے کو، صدف میں گوھر کی مانند جگہ دی۔ چونکہ چوزہ اس دوران ماں سے  دور ھے اور رحم مادر میں نھیں ھے جھاں سے اپنی خوراک حاصل کر سکے، لہٰذا اس کے لئے اسی محکم حصار کے اندر اس کے قریب ھی خوراک کا انتظام کیا۔چونے کی سخت دیوار اور چوزے اور اس کی خوراک کے درمیان نرم ونازک جھلی بنا ئی تاکہ چوزہ اور اس کی خوراک حصار کی سختی سے محفوظ رھیں۔ اس اندھیری اور تاریک فضا میں اس کے اعضاء وجوارح کو ہڈیوں، پٹھوں، رگوں، اعصاب اور حواس، جن میں سے فقط اس کی آنکھ کا دقیق مطالعہ محیّرا لعقول ھے، کے ذریعے پایہ تکمیل تک پھنچا کر ھر ایک کو مناسب جگہ قرار دیا۔

اورچونکہ اس چوزے کو اپنی خوراک کے لئے مٹی اور پتھروں کے درمیان سے دانے چننے ھیں، لہٰذا اس کی چونچ ہڈی کی ایک خاص قسم سے بنائی تاکہ زمین پر موجود پتھر وں کے ساتھ ٹکرانے سے اسے کوئی نقصان نہ پھنچے۔ اورکھیں اپنی خوراک سے محروم نہ هوجائے، لہٰذااسے سنگدانہ عطا کیا تاکہ جو بھی دانہ ملے اسے کھاکر اس میں محفوظ کر لے اور پھر اسے بتدریج نظامِ ہضم کے حوالے کرے۔اس کی نازک کھال کو پروں کے ذریعے ڈھانپ کر سردی،گرمی، چوٹ اور جانوروں کے آزار سے محفوظ کیا۔ ضروریات

وواجباتِ زندگی عطا کرنے کے علاوہ ظاھری خوبصورتی جیسے مستحبات سے غفلت نھیں برتی اور اس کے پروں کو دل موہ لینے والے رنگوں سے رنگ دیا، جیسا کہ امام   (ع) نے فرمایا :((تنفلق عن مثل اٴلوان الطواویس))[14]

اور چونکہ چوزے کے تکامل کے لئے مرغی کے سینے کی مناسب حرارت کی ضرورت ھے، وہ مرغی جسے فقط رات کی تاریکی ھی سعی و کوشش اورحرکت سے روک سکتی ھے اچانک اس کی کیفیت یہ هوجاتی ھے کہ تلاش وجستجو کو چھوڑ کر جب تک حرارت کی ضرورت هو، اس انڈے پر بیٹھی رہتی ھے۔

وہ کونسی حکمت ھے جس نے مرغی پر خمار جیسی کیفیت طاری کر دی ھے تاکہ وہ چوزے میں زندگی کی حرکت کو وجود میں لاسکے؟! اور وہ کونسا استاد ھے جس نے اسے دن رات انڈوں کے رخ تبدیل کرنا سکھایا ھے تاکہ چوزے کے اعضاء میں تعادل برقرار رھے،جو چوزے کی راھنمائی کرتا ھے کہ خلقت مکمل هونے کے بعد انڈے کے اس محکم حصار کو چونچ سے توڑدے اور اس میدانِ زندگی میں قدم رکھے جس کے لئے اسے یہ اعضاء وجوارح عطا کئے گئے ھیں۔اور وہ مرغی جو اپنی حیوانی جبلّت کے تحت، فقط اپنی زندگی سے نقصان دہ چیزوں کو دور اورفائدہ مند چیزوں کو انتخاب کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا عمل انجام ھی نہ دیتی تھی، اچانک اس میں ایسا انقلاب برپا هوجاتا ھے کہ اس ناتوان اور کمزور چوزے کی حفاظت کی خاطر سینہ سپر هو جاتی ھے اور جب تک چوزے کے لئے محافظ کی ضرورت ھے، اس میں یہ محبت باقی رہتی ھے ؟!

کیا مرغی کے ایک انڈے کے متعلق غوروفکر، اس خالق کائنات کی رھنمائی کے لئے کافی نھیں ھے کہ <خَلَقَ فَسَوّٰیة وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَھَدیٰ>[15]

اسی لئے امام   (ع) نے فرمایا :((اٴترا لھا مدبر اً؟ قال: فاٴطرق ملیاً، ثم قال: اٴشھد اٴن لا إلہ إلا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ واٴشھد اٴن محمداً عبدہ ورسولہ، واٴنک إمام وحجة من اللّٰہ علی خلقہ واٴنا تائب ممّا کنت فیہ))[16]

ھاں، وھی علم و قدرت اور حکمت جو مٹی کے گھپ اندھیرے میں بیج اور انڈے کے چھلکے کی تاریکی میں چوزے کو کسی ھدف اور مقصد کے لئے پروان چڑھاتا ھے، ماں کے پیٹ اور اس کے رحم کی تاریکیوں میں انسانی نطفے کو، جو ابتداء میں خوردبین سے نظر آنے والے جاندار سے بڑھ کر نھیں هوتا اور اس میں انسانی اعضاء و جوارح کے آثار تک نھیں هوتے، رحمِ مادر سے باھرزندگی بسر کرنے کے لئے تمام ضروریات زندگی سے لیس کرتا ھے۔

مثال کے طور پر جنین میں، ہڈیوں کو اپنی ذمہ داری نبھانے کے لئے مختلف شکل اور حجم میں بنایا، مختلف حرکات کے لئے عضلات کو قرار دیا،دماغ کی حیرت انگیز بناوٹ کے ذریعے مشعلِ ادراک کو روشن کیا اور دل کی فعالیت کے ذریعے جو ھرسال کروڑوں بار دھڑکتا ھے، حرارتِ حیات کو زندگی کے اس مرکز میں محفوظ فرمایا۔

انسانی جسم کی اس سادہ ترین ترکیب میں غوروفکر، عزیز و علیم خدا کی تقدیر پر ایمان لانے کے لئے کافی ھے۔ مثال کے طور پر انسان کے منہ میں تین قسم کے دانت بنائے، پھلے ثنایا اس کے بعد انیاب، پھر اس کے بعد چھوٹے طواحن اور آخر میں بڑے طواحن کو قرار دیا [17]۔اگر ثنایا، انیاب اور چھوٹے طواحن کو بڑے طواحن کی جگہ قرار دیا جاتا تو دانتوں کی ترتیب میں یہ بگاڑ، غذا توڑنے اور چبانے سے لے کر اس چھرے کی بد صورتی اور خوبصورتی میں کیا کردار ادا کرتا ؟!

اگر بھنویں جو آنکھوں کے اوپر ھیں، نیچے اور ناک کے سوراخ، نیچے کے بجائے اوپر کی سمت هوتے تو کیا هوتا؟!

زمین کی آبادی اور اس پر آبا د کاری، چاھے کاشتکاری هو یا مضبوط ترین عمارت یانازک و دقیق ترین صنعت ، سب کے سب، انگلی کی پوروں اور اس پر ناخنوں کے اگنے سے وابستہ ھیں۔

وہ کونسی حکمت ھے جس نے ناخن بنانے والا مادّہ، انسان کی غذا میں فراھم کیا، اسے حیرت انگیز طریقے سے ہضم کے مرحلے سے گزارا اورپھر رگوں میں داخل کر کے انگلیوں کی پوروں تک پھنچایا اور اس تخلیق کی غرض کو مکمل کرنے کے لئے گوشت اور ناخن میں پیوند کے ذریعے ان دونوں کے درمیان ایسا رابطہ بر قرار کیا کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا نھایت طاقت فرسا کام ھے، لیکن غرض ومقصد حاصل هونے کے بعد ان کو اس طرح ایک دوسرے سے جدا کر دیا کہ ناخن آسانی کے ساتھ کاٹے جاسکیں؟!

تعجب آور تو یہ ھے کہ جس غذا سے ناخن کا مادّہ اس سختی کے ساتھ تیار هوا ھے، اسی غذا سے کمالِ لطافت کے ساتھ ایک صاف اورشفاف مادّہ، بینائی کے لئے بھی تیا رہوا ھے جو ہضم وجذب کے مراحل کو طے کرنے کے بعد آنکھ تک جا پھنچتا ھے۔

اگر ان دونوں کے طے شدہ تقسیمِ رزق میں کام الٹ جاتا اورناخن آنکھ سے نکل آتا، جب کہ وہ صاف شفاف مادّہ آنکھوں کی بجائے انگلیوں کی پوروں تک جا پھنچتا، تو انسانی نظامِ زندگی میں کتنا بڑا خلل واقع هوجاتا ؟!

یہ علم وحکمت کے آثار کا سادہ ترین نمونہ ھے جو کسی دقّت نظر کا محتاج نھیں <وَفِیْ اٴَنْفُسِکُمْ اٴَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ>[18]تو انسانی خلقت کے ان عمیق ترین اسرار کے بارے میں کیا کہئے گا کہ جن کی تہہ تک رسائی کے لئے انسان کو اپنے علم کو جدید ترین آلات کی مدد سے کام میں لاتے هوئے،سرجری اور اعضائے انسانی کی خصوصیات و کردار جیسے شعبوں میں اعلیٰ مھارت بھی حاصل کرنی پڑے۔ <اٴَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْ اٴَنْفُسِہِمْ>[19]

جی ھاں، اتنی زیادہ علمی کاوشوں کے بعد اب تک جس موجود کی جلد کی حکمت ھی واضح نہ هوسکی هو، اس کے باطن اور مغز میں کیسے عظیم اسرار پنھاں ھیں، جیسے ملائمات کو جذب کرنے والی شہوت اور ان کی حفاظت ونا ملائمات کو دفع کرنے والے غضب سے لے کر، ان دو کے عملی تعادل کے لئے عقل اور نظری تعادل کے لئے حواس کی ھدایت سے سرفراز کیا گیا ھے<وَ إِنْ تَعُدُّّوْا نِعْمَةَ اللّٰہِ لاَ تُحْصُوْہَا>[20]

حکمت کی ایسی کتاب کو علم وقدرت کے کون سے قلم سے پانی کے ایک قطرے پر لکھاگیاھے؟!<فَلْیَنْظُرِ اْلإِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَةخُلِقَ مِنْ مَّاءٍ دَافِقٍ>[21] <یَخْلُقُکُمْ فِی بُطُوْنِ اٴُمَّھَاتِکُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِی ظُلُمَاتٍ ٍثَلاَثٍ>[22]

یہ کیسا علم اور کیسی قدرت وحکمت ھے کہ جس نے غلیظ وپست پانی میں تیرنے والے خوردبینی حیوان سے ایسا انسان خلق کیا ھے جس کی مشعلِ ادراک، اعماقِ آفاق وانفس کی جستجو کرے <اِقْرَاٴْ وَرَبُّکَ اْلاَکْرَمَةالَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِةعَلَّمَ اْلإِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ[23]اور زمین وآسمان کو اپنی قدرت وجولان ِفکر کا میدان قرار دے؟ <اٴَ لَمْ تَرَوا اٴَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی اْلاٴَرْضِ وَ اٴَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہ ظَاہِرَةً وَّبَاطِنَةً وَّمِنَ النَّاسِ مَنْ یُجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلاَ ھُدًی وَّلاَ کِتَابٍ مُّنِیْرٍ>[24]

اس علم وقدرت اور رحمت وحکمت کے سامنے انسان، خود پروردگار عالم کے اس فرمان کے علاوہ کیا کہہ سکتا ھے کہ <فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اٴَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ>[25] اور اس کے سوا کیا کر سکتا ھے کہ خاک پر گر کر اس کے آستانہٴِ جلال پر ماتھا رگڑ کر کھے:((سبحن ربی الاٴعلی وبحمدہ))

اس آیت کریمہ <سَنُرِیْھِمْ آیَاتِنَا فِی اْلآفَاقِ وَفِی اٴَنْفُسِہِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ>[26]کے مطابق، آفاقِ جھاں میں بھی دقّت ِ نظر ضروری ھے کہ لاکھوں سورج،چاند وستارے جن میں سے بعض کا نور ہزاروں نوری سالوںکے بعد زمین تک پھنچتا ھے، جب کہ نور ھر سیکنڈ میں تقریبا تین لاکھ کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتا ھے، اور جن میں سے بعض کا حجم،زمین کے حجم سے کروڑوں گنا زیادہ ھے، ان سب کے درمیان اتنا گھرا انتظام اتنے دقیق حساب کے ساتھ بر قرار کیا گیا ھے، ان میں سے ھر ایک کو اس طرح اپنے معین مدار میںرکھا گیا  ھے اور قوتِ جاذبہ ودافعہ کے درمیان ایسا عمومی تعادل برقرار ھے کہ ان تمام سیاروں کے درمیان کسی قسم کے ٹکراؤ یاتصادم کا واقع هونا، ناممکن ھے <لاَ الشَّمْسُ یَنْبَغِی لَھَا اٴَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ الَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِی فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ>[27]

زمین کو،جو انسانی زندگی کا مرکز ھے، اس پر محیط ایک کروی فضاء کے ذریعے محفوظ کیا جس سے دن رات ہزاروں شھاب ٹکرا کر ختم هو جاتے ھیں۔

سورج اورزمین کے درمیان اتنا مناسب فاصلہ برقرار کیا کہ معادن، نباتات، حیوانات اور انسانی زندگی کی نشو نما کے اعتبار سے، روشنی وحرارت تما م شرائط کے مطابق موجود رھے۔

زمین کی اپنے مدار اور محور دونوں پر حرکت کو اس طرح منظّم کیا کہ زمین کے زیادہ تر حصے میں طلوع وغروب اور دن ورات ھر آن موجود رھیں، آفتاب طلوع هوتے ھی سورج کی روشنی وحرارت سے نظامِ زندگی کو روشنی اور گرمی ملے اور حصولِ رزق ومعاش کا بازار گرم هوجائے اور غروب آفتاب کے ساتھ ھی آرام وسکون کے لئے رات کا اندھیرا، جو بقاءِ زندگی اور تجدید نشاط کے لئے ضروری ھے، اپنے ڈیرے ڈال دے  تاکہ سورج کی مستقل حرارت یا اس کے مکمل انقطاع سے نظامِ حیات میں کوئی خلل واقع نہ هو <وَ ھُوَ الَّذِی جَعَلَ اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اٴَرَادَ اٴَنْ یَّذَّکَّرَ>[28]<وَ مِنْ رَّحْمَتِہ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہ>[29]<قُلْ اٴَرَاٴًیْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ اللَّیْلَ سَرْمَداً إِلَی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ إِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاٴْتِیْکُمْ بِضِیَاءٍ اٴًفَلاََ تَسْمَعُوْنَ>[30]

نوروظلمت اور روز و شب دونوں، آپس کے انتھا درجے کے تضادّ و اختلاف کے باوجود، مل کر ایک ھی ھدف ومقصد پورا کرنے میں مصروفِ عمل ھیں اور دوسری جانب جو کچھ زمین میں ھے اسے دن اور جو کچھ آسمانوں میں ھے اسے رات کے وقت انسان کی نظروں کے سامنے رکھا گیا ھے تاکہ دن رات آسمانوں اور زمین کے ملک وملکوت انسان کی بصارت اور بصیرت کے سامنے موجود رھیں۔

انسان کے لئے کتابِ وجود کی دن رات ورق گردانی کی تاکہ وہ زمین وآسمان کے صفحے سے آیاتِ خدا کا مطالعہ کر سکے <اٴَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِی مَلَکُوْتِ السَّمَاوَاتِ وَاْلاٴَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنَ شَیْءٍ>[31]<وَکَذٰلِکَ نُرِی ٓ إِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمَاوَاتِ وَاْلاٴَرْضِ وَ لِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوقِنِیْنَ>[32]

وہ انسان جو ذھنِ بشر میں قوانین واسرارِ کا ئنات کے انعکاس کو علم وحکمت کا معیار و ملاک سمجھتا هو،کس طرح ممکن ھے کہ وہ مغز،ذھن اوردانشوروں کے تفکر کو بنانے والے، کائنات پر حکم فرما قوانین کو نافذ کرنے والے اور اسرارِ نظام ھستی کو وجود عطا کرنے والی ھستی کو فاقدِ علم وحکمت سمجھے، حالانکہ تمام مفکرین کے اذھان میں منعکس هوجانے والے قوانین کا ئنات کی نسبت  ان قوانین کے مقابلے میں جو  اب تک مجھول ھیں، ایسی ھے جیسے قطرے کے مقابلے میں ایک سمندر <وَمَا اٴُوْتِیْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلاً>[33]

اس بات پر کیسے یقین کیا جا سکتا ھے کہ کتاب ھستی سے چند سطروں کی نقول تیار کرلینے والا تو علیم وحکیم هو لیکن خود کتابِ وجود کا مصنف، اس نقل تیار کرنے والے کا خالق اور نقل کے وسیلے کو فراھم کرنے والا ھی بے شعور و بے ادراک هو؟!یھی وجہ ھے کہ منکر کی فطرت بھی دانا وتوانا خالق کے وجود کی گواھی و شھادت دیتی ھے <وَلَئِنْ سَاٴَلْتَھُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَاْلاٴَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ فَاٴَنیّٰ یُوٴْفَکُوْنَ>[34] <وَلَئِنْ سَاٴَلْتَھُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمٰواتِ وَاْلاٴًرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَھُنَّ الْعَزِیْزُالْعَلِیْمُ>[35]

منکرین ِ خدا میں سے ایک شخص آٹھویں امام(ع) کے پاس آیا تو امام (ع) نے اس سے فرمایا:اگر تمھارا عقیدہ صحیح هو، جب کہ ایسا نھیں ھے، تب بھی ھمیں نماز،روزہ،زکات اور اقرار سے کوئی نقصان نھیں پھنچا۔ (کیونکہ دینی فرائض جو ایمان لانا،عمل صالح کرنا اور منکرات کو ترک کرنا ھے،روح کے اطمینا ن اور معاشرے کی اصلاح کا سبب ھیں اور اگر بالفرض عبث اور بے کار هوں تب بھی،مبدا ومعاد کے احتمالی وجود کے مقابلے میں ان اعمال کے مطابق عمل کی تکلیف اور نقصان نھایت کم ھے، کیونکہ دفع ِشر اور بے انتھا خیر کثیر کو جلب کرنا،جو محتمل هو، عقلاًضروری ھے)۔

اس شخص نے کھا : جس خدا کے تم لوگ قائل هو وہ کیسا ھے اور کھاں ھے؟

امام  (ع) نے فرمایا :اس نے اَین کو اَینیت اور کیف کو کیفیت عطا کی ھے۔ (وھی اَین و مکان اور کیف و کیفیت کا خلق کرنے والا ھے، جب کہ مخلوق کبھی بھی خالق کے اوصاف و احوال کا حصہ نھیں بن سکتی، کیوں کہ خالق میں مخلوق کے اوصاف موجود هونے کا لازمی نتیجہ یہ ھے کہ خالق مخلوق کا محتاج هوجائے، اسی لئے خداوند متعال کو نہ کسی کیفیت یا مکانیت سے محدود کیا جاسکتا ھے، نہ کسی حس کے ذریعے محسوس کیا جاسکتا ھے اور نہ ھی کسی چیز کے ساتھ پرکھا جا سکتاھے)۔

اس شخص نے کھا:بنا برایں اگراسے کسی حس کے ذریعے محسوس نھیں کیا جاسکتا، تو اس کا وجود نھیں ھے۔

امام   (ع) نے فرمایا : جب تیری حس اس کے ادراک سے عاجز هوئی تو تو ا س کا منکر هوا اور جب ھم نے حواس کو اس کے ادراک سے عاجز پایا تو ھمیں یقین هوا کہ وہ ھمارا پروردگا ر ھے۔(موجودات کو محسوسات تک منحصر سمجھنے والا اس بات سے غافل ھے کہ حس موجود ھے لیکن محسوس نھیں، بینائی اور شنوائی موجود ھے لیکن دیکھی اور سنی نھیں جاسکتی ھے، انسان ادراک کرتا ھے کہ غیر متناھی محدود نھیں ھے جب کہ ھر محسوس هونے والی چیز محدود ومتناھی ھے-------------؛کتنے ھی ذھنی وخارجی موجودات ایسے ھیں جو حس ومحسوسات سے ماوراء ھیں، جب کہ وہ شخص موجود کو محسوس تک محدود خیال کرنے کی وجہ سے خالق ِحس ومحسوس کا منکر هو ا اور امام   (ع) نے اس شخص کی اسی حقیقت کی جانب ھدایت کی کہ حس ومحسوس،وھم وموہوم اور عقل ومعقول کا خالق حس، وھم اورعقل میں نھیں سما سکتا،کیونکہ حواس خمسہ جس چیزکا ادراک کرتے ھیں اس پر محیط هوتے ھیں جب کہ یہ حواس خد اکی مخلوق ھیں اور خالق اپنی مخلوق پر مکمل احاطہ رکھتاھے، لہٰذا خالقِ حس ووھم وعقل کا خودان کے دائرہ ادراک میں آجانا،جبکہ وہ ان پر محیط ھے اور محیط کا محاط میں تبدیل هونا ممکن ھی نھیں ھے اور اگر خداوندِ متعال محسوس یا موہوم یا معقول هو تو حواس سے درک هونے والی اشیاء کے ساتھ شبیہ وشریک قرار پائے گااور اشتراک کا لازمہ اختصاص ھے، جب کہ ترکیب مخلوق کی خصوصیت ھے، لہٰذا اگر خداوندِمتعال حس ووھم وعقل میں سما جائے تو مخلوق هوا نہ کہ خالق)۔

اس نے پوچھا :خدا کب سے ھے ؟

امام (ع) نے فرمایا : تم یہ بتاوٴ کہ کب نہ تھا؟ (خداوندِ متعال جو زمان وزمانیات اور مجردات ومادیات کے لئے قیوم ھے، اس کی ذات اقدس عدم، نابودی اور زمان ومکان سے مبراھے)

پھر اس نے امام (ع) سے پوچھا : پس اس کے وجودکی دلیل کیا ھے ؟

امام (ع) نے آفاق و انفس میں موجود آیاتِ خد ا کی ھدایت کی اور جسم کی بناوٹ میں تفکروتدبر کے ذریعے اس نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ اپنے وجود کی اس بناوٹ میں جن باریک نکات اور لطا ئف ِحکمت کا خیال رکھا گیا ھے، ان کے ذریعے اس خالق کے علم وحکمت کا اندازہ لگائے۔ اسے بادلوں، هوا، سورج،چاند اور ستاروں کی حرکت میں غوروفکر کرنے کو کھا تاکہ اجرام فلکی میں موجود عجائب ِقدرت وغرائب ِحکمت میں تفکر وتدبر کے ذریعے عزیز و علیم کی قدرت تک پھنچ سکے اور متحرکات آسمانی کی حرکت کے ذریعے تغیر وحرکت سے منزہ محرّک پر ایمان لے آئے۔[36]

ج): مادّے و طبیعت میں موجود تغیر وتحول، اس مادّے وطبیعت سے برتر قدرت کی دلیل ھیں،کیونکہ مادّہ یا اس سے منسوب کسی بھی مادّی شے میں تاثیر،وضع ومحاذات کی محتاج ھے۔مثال کے طور پر آگ جو حرارت ِجسم میں تاثیر رکھتی ھے یا چراغ جس کی شعاع فضا کوروشن ومنور کرتی ھے، جب تک آگ یا چراغ کی اس جسم یا فضا کے ساتھ خاص نسبت پیدا نہ هو، ممکن ھی نھیں ھے کہ جسم ا س آگ کی حرارت سے گرم یا فضا اس چراغ کے نور سے روشن و منور هوجائے، اورچونکہ معدوم کے ساتھ وضع اورنسبت کا برقرار هونا محال ھے، لہٰذ ا ایسے موجودات جو پھلے مادہ و طبیعت میں نہ تھے اور بعد میں وجودپایا یا پائےں گے، ان موجودات میں مادہ وطبیعت کی تاثیر ممکن نھیں ھے۔آسمان و زمین میں موجود هونے والا ھر معدوم ایسی قدرت کے وجود کی دلیل ھے جس کو تاثیر کے لئے وضع ومحاذات کی ضرورت نھیں ھے اوروہ ماورائے جسم وجسمانیات ھے<إِنَّمَا اٴَمْرُہ إِذَا اٴَرَادَ شَیْاٴً اٴَنْ یَّقُوْ لَ لَہ کُنْ فَیَکُوْنُ>[37]

د):خدا پر ایمان انسان کی سرشت میں موجود ھے، کیونکہ فطری اعتبار سے انسان اپنے آپ کو ایک مرکز سے وابستہ اور محتاج پاتا ھے، لیکن اسبابِ معیشت کی مصروفیت اور خواھشات نفسانی سے لگاؤ اس وابستگی کے مرکز کو پانے میں رکاوٹ ھیں۔

جب بے چارگی اور ناامیدی اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ھے اور فکر کے تمام چراغوں کو بجھا هو ا اور تمام صاحبان قدرت کو عاجز پاتا ھے، اس کا سویا هوا ضمیر جاگ اٹھتا ھے اور جس غنی بالذات پر فطرتاً بھروسا کئے هوئے ھے، اس سے بے اختیار مدد طلب کرتا ھے<قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِنْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَہ تَضَرُّعاً وَّ خُفْیَةً لَّئِنْ اٴَنْجَاْنَا مِنْ ھٰذِہ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ>[38] <وَ إِذَا مَسَّ اْلإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہ مُنِیْبًا إِلَیْہِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَہ نِعْمَةً مِّنْہُ نَسِيَ مَا کَانَ یَدْعُوْا إِلَیْہِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰہِ اٴَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِہ>[39] <ھُوَ الَّذِی   یُسَیِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتّٰی إِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ وَ جَرَیْنَ بِہِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِہَا جَائَتْہَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَائَہُمُ الْمَوْجُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّ ظَنُّوا اٴَنَّہُمْ اٴُحِیْطَ بِہِمْ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِِّیْنَ لَئِنْ اٴَنْجَیْتَنَا مِنْ ہٰذِہ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ>[40]

ایک شخص نے امام صادق   (ع) سے عرض کی : ((یا ابن رسول اللّٰہ! دلّنی علی اللّٰہ ما هو، فقد اٴکثر علیّ المجادلون و حیرونی۔ فقال لہ: یا عبد اللّٰہ ، ھل رکبت سفینة قط؟ قال: نعم۔ قال: فھل کسر بک حیث لا سفینة تنجیک و لا سباحة تغنیک؟ قال: نعم، قال: فھل تعلق قلبک ھنالک اٴن شیئاً من الاٴشیاء قادر علی اٴن یخلصک من ورطتک؟ قال: نعم، قال الصَّادق (ع): فذلک الشیٴ ھو اللّٰہ القادر علی الإنجاء حیث لا منجي وعلی الإغاثة حیث لا مغیث))[41]

جیسا کہ بے چارگی کے عالم میں دوسروں سے انقطاع ِمطلق کے دوران خداوندِ متعال کی یہ معرفت اور فطری ارتباط حاصل هو جاتا ھے، اختیاری حالت میں بھی اسے علم وعمل جیسے دو پروں کے ذریعے پرواز کر کے حاصل کیا جاسکتا ھے:

حضرت فرماتے ھیں:کیا کبھی کشتی پر سوار هوئے هو؟کہتا ھے :ھاں حضرت فرماتے ھیں :کیا کبھی ایسا بھی هوا ھے کہ کشتی ٹوٹ گئی هو اور وھاں پر کوئی اور کشتی نہ جس پر سوار هو جاوٴ اور نجات مل جائے اور نہ تیرنا آتا هو جس سے تم نجات پاجاوٴ جوا ب دیتا ھے :ھاں حضرت نے فرمایا:  ایسے حال میں تمھارے دل میں کسی قادر توانا کا خیال آیا جو تم کو ابھی بھی نجات دلا سکتا ھے؟کہتا ھے :ھاں حضرت نے فرمایا:بس وھی خدا ھے جو ایسے حالات میں بھی تم کو نجات دے سکتا ھے جب کوئی تمھاری مدد نہ کرسکے۔

اول)یہ کہ نور عقل کے ذریعے انسان، جھالت وغفلت کے پردوں کو پاراکرے اور دیکھے کہ موجودات کا وجود اور ان کے کمالات ذاتی نھیں، بلکہ سب کے سب ذات قدوس کی جانب منتھی هوتے ھیں <ھُوَ اْلاٴَوَّلُ وَاْلآخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ وَھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ>[42] <ھُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِیٴُ الْمُصَوِّرُ لَہ اْلاٴَسْمَاءُ الْحُسْنٰی>[43]

دوم)یہ کہ طھارت وتقویٰ کے ذریعے آلودگی او ر رذایل نفسانی کی کدورت کو گوھرِوجود سے دور کرے، کیونکہ   خدا اور اس کے بندے کے درمیان جھالت وغفلت اور کدورت ِ گناہ کے علاوہ کوئی دوسرا پر دہ نھیں ھے کہ جسے علمی وعملی جھاد کے ذریعے پارا کرنا ضروری ھے<وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا>[44]

چھٹے امام   (ع) نے ابن ابی العوجا ء سے فرمایا :((ویلک وکیف احتجب عنک من اٴراک قدرتہ في نفسک؟ نشؤک ولم تکن و کبرک بعد صغرک و قوتک بعد ضعفک و ضعفک بعد قوتک و سقمک بعد صحتک و صحتک بعد سقمک و رضاک بعد غضبک و غضبک بعد رضاک و حزنک بعد فرحک، و فرحک بعد حزنک و حبک بعد بغضک و بغضک بعد حبک و عزمک بعد إبائک و إباوٴک بعد عزمک و شہوتک بعد کراہتک وکراہتک بعد شہوتک و رغبتک بعد رھبتک و رھبتک بعد رغبتک ورجائک بعد یاٴسک و یاٴسک بعد رجائک و خاطرک بما لم یکن فی وھمک و عزوب ما اٴنت معتقدہ عن ذھنک  و مازال یعد علی قدرتہ التی فی نفسی التی لا اٴدفعھا حتی ظننت اٴنہ سیظھر فیما بیني وبینہ))[45]

توحید

توحید سے مراد ایسے خداوند عالم پر اعتقاد ھے جو یکتا ھے اور اجزاء وصفات کی ترکیب سے مبرا ھے، اس لئے کہ ھر مرکب، وجود کو اجزاء اور ان اجزاء کو ترکیب دینے والے کا محتاج ھے اور محال ھے کہ جو محتاج هو وہ اپنے آپ یا کسی غیر کو وجود عطا کرسکے۔ خداوندمتعال کی ذات وصفات میں اس کا کوئی شریک نھیں ھے۔[46]

اس سے متعلق بعض دلائل کی طرف اشارہ کرتے ھیں :

۱۔تعدد الٰہ سے خداوند متعال میں اشتراک ضروری قرار پاتا ھے اس لئے کہ دونوں خدا ھیں، اور اسی طرح دونوں میں نقطہٴ امتیاز کی ضرورت پیش آتی ھے تاکہ دوگانگی تحقق پیدا کرے اور وہ مرکب جو بعض نکات اشتراک اور بعض نکات امتیاز سے مل کر بنا هو، ممکن ومحتاج ھے۔

۲۔تعدد الہ کا کسی نقطہٴ امتیاز کے بغیر هونا محال ھے اور امتیاز، فقدانِ کمال کا سبب ھے۔ فاقدِ کمال محتاج هوتا ھے اور سلسلہٴِ احتیاج کا ایک ایسے نکتے پر جاکر ختم هونا ضروری ھے جو ھر اعتبار سے غنی بالذات هو، ورنہ محال ھے کہ جو خود وجود کا محتاج وضرور ت مند هو کسی دوسرے کو وجود عطا کرسکے۔

۳۔خدا ایسا موجود ھے جس کے لئے کسی قسم کی کوئی حد مقرر نھیں کیونکہ ھر محدود، دو چیزوں سے مل کر بنا ھے ، ایک اس کا وجوداور دوسرے اس کے وجود کی حد اور کسی بھی وجود کی حد اس وجود میں فقدان اور اس کے منزلِ کمال تک نہ پہچنے کی دلیل ھے اور یہ ترکیب، اقسامِ ترکیب کی بد ترین قسم ھے، کیونکہ ترکیب کی باقی اقسام میں یا تو دو وجودوں کے درمیان ترکیب ھے یا بود ونمود کے درمیان ترکیب ھے، جب کہ ترکیب کی اس قسم میں بود ونبود کے درمیان ترکیب ھے!!  جب کہ خد ا کے حق میں ھر قسم کی ترکیب محال ھے۔وہ ایسا واحد وجود ھے جس کے لئے کسی ثانی کا تصور نھیں، کیونکہ ثانی کا تصور اس کے لئے محدودیت اور متناھی هونے کا حکم رکھتا ھے، لہٰذا وہ ایسا یکتاھے کہ جس کے لئے کوئی ثانی نہ قابل تحقق ھے اور نہ  ھی قابل تصور۔

۴۔ کائنات کے ھر جزء وکل میں وحدتِ نظم برقرار هونے سے وحدت ناظم ثابت هو جاتی ھے، کیونکہ جزئیاتِ انواع کائنات میں موجود تمام اجزاء کے ھر ھر جزء میںموجود نظم وترکیب اور پوری کائنات کے آپس کے ارتباط کے تفصیلی مطالعے سے یہ بات واضح هوجاتی ھے کہ جزء و کل سب ایک ھی علیم ،قدیر اورحکیم خالق کی مخلوق ھیں۔ جیسا کہ ایک درخت کے اجزاء کی ترکیب، ایک حیوان کے اعضاء و قوتوں کی ترکیب اور ان کا ایک دوسرے نیز چاند اور سورج سے ارتباط، اسی طرح منظومہٴ شمسی کا دوسرے منظومات اور کہکشاؤں سے ارتباط، ان سب کے خالق کی وحدانیت کامنہ بولتا ثبوت ھیں۔ایٹم کے مرکزی حصے اور اس کے مدار کے گردگردش کرنے والے اجزاء سے لے کر سورج و منظومہٴِ شمسی کے سیارات اور کہکشاؤں تک، سب اس بات کی علامت ھیں کہ ایٹم،سورج اور کہکشاوٴں کا خالق ایک ھی ھے <و َھُوْ الَّذِي فِي السَّمَاءِ اٴِلٰہٌ وَّ فِی اْلاٴَرْضِ إِلٰہٌ وَّ ھُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْم>[47]<یَا اٴَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِي خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَةالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ اْلاٴَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاءَ بِنَاءً وَّ اٴَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِہ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اٴَنْدَادًا وَّ اٴَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ>[48]

۵۔چھٹے امام   (ع) سے سوال کیا گیا:  صانع وخالقِ کائنات کا ایک سے زیادہ هونا کیوں ممکن نھیں ھے ؟ آپ   (ع) نے فرمایا : اگر دعوٰی کرو کہ دو ھیں تو ان کے درمیان شگاف کا هونا ضروری ھے تاکہ دو بن سکیں، پس یہ شگاف تیسرا هوا اور اگر تین هو گئے تو پھر ان کے درمیان دو شگافوں کا هونا ضروری ھے تاکہ تین محقق هوسکیں،بس یہ تین پانچ هوجائیں گے او راس طرح عدد بے نھایت اعداد تک بڑھتا چلا جائے گا۔ نتیجہ یہ هوا کہ اگر خدا ایک سے زیادہ هوئے تو اعداد میں خداؤں کی نا متناھی تعداد کا هونا ضروری ھے۔[49]

۶۔امیر الموٴمنین   (ع) نے اپنے فرزند امام حسن   (ع) سے فرمایا:((واعلم یابنی اٴنہ لو کان لربک شریک لاٴتتک رسلہ ولراٴیت آثار ملکہ وسلطانہ ولعرفت اٴفعالہ وصفاتہ))[50]

اور وحدانیت پروردگارپر ایمان کا نتیجہ، عبادت میں توحیدِ ھے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نھیں، چونکہ اس کے علاوہ سب عبد اور بندے ھیں<إِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَاْلاٴَرْضِ إِلاَّ آتِی الرَّحْمٰنِ عَبْداً>[51] غیر خد اکی عبودیت وعبادت کرنا ذلیل سے ذلت اٹھانا،فقیر سے بھیک مانگنا بلکہ ذلت سے ذلت اٹھانا اور گداگر سے گداگری کرناھے <یَا اٴَیَُھَا النَّاسُ اٴَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلیَ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ>[52]

وحدانیت خداوندمتعال پر ایمان،اور یہ کہ جو کچھ ھے اسی سے اور اسی کی وجہ سے ھے اور سب کو اسی کی طرف پلٹنا ھے، کو تین جملوں میں خلاصہ کیا جاسکتا ھے ((لا إلہ إلا اللّٰہ))،((لا حول ولا قوة إلا باللّٰہ))، <وَ إِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ اْلاٴُمُوْرُ>[53]

سعادت مند وہ ھے جس کی زبان پر یہ تین مقدّس جملے ھر وقت جاری رھیں، انھی تین جملات کے ساتھ جاگے،سوئے،زندگی بسر کرے، مرے اور یھاں تک کہ<إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ>[54] کی حقیقت کو پالے۔

اور توحید پر ایمان کا اثر یہ ھے کہ فرد ومعاشرے کی فکر و ارادہ ایک ھی مقصد وھدف پرمرتکز رھیں کہ جس سے بڑھ کر، بلکہ اس کے سوا کوئی دوسرا ھدف و مقصد ھے ھی نھیں <قُلْ إِنَّمَا اٴَعِظُکُمْ بِوَاحِدَةٍ اٴَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰہِ مَثْنٰی وَ فُرَادٰی>[55]۔ اس توجہ کے ساتھ کہ اشعہٴِ نفسِ انسانی میں  تمرکزسے انسان کو ایسی قدرت مل جاتی ھے کہ وہ خیالی نقطے میں مشق کے ذریعے حیرت انگیز توانائیاں دکھا سکتا ھے، اگر انسانی فکر اور  ارادے کی شعاعیں  اسی حقیقت کی جانب مرتکز هو ں جومبدا ومنتھی اور <نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَاْلاٴَرْضِ>[56]ھے تو کس بلند واعلیٰ مقام تک رسائی حاصل کر سکتا ھے ؟!

جس فرد ومعاشرے کی <إِنِّی وَجَّھْتُ وَجْھِیْ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمَاوَاتِ وَاْلاٴَرْضَ حَنِیْفاً وَّمَا اٴَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ>[57]کے مقام تک رسائی هو، خیر وسعادت وکمال کا ایسا مرکز بن جائے گا جو تقریر وبیان سے بہت بلند ھے۔

عن اٴبی حمزة عن اٴبی جعفر (ع) :((قال سمعتہ یقول: ما من شيء اٴعظم ثواباً من شھادة اٴن لا إلہ إلا اللّٰہ، لاٴن اللّٰہ عزوجل لا یعدلہ شیٴ ولا یشرکہ فی الاٴمر اٴحد))[58]

اس روایت سے یہ بات واضح هوتی ھے کہ جیسا کہ کوئی بھی چیز خداوند متعال کی مثل وھمسر نھیں، اس ذات قدوس کے امرمیں بھی کوئی اس کا شریک نھیں ھے۔ کوئی عمل اس حقیقت کی گواھی کا مثل و ھمسر نھیں جو کلمہٴِ طیبہٴِ ((لا إلہ إلااللّٰہ))کا مضمون ھے اورعمل کے ساتھ شایان شان جزاکے ثواب میںبھی اس کا کوئی شریک نھیں۔

زبان سے ((لا إلہ إلااللّٰہ)) کی گواھی، دنیا میں جان ومال کی حفاظت کا سبب ھے اور دل سے اس کی گواھی آتش جھنم کے عذاب سے نجات کا باعث ھے اور اس کی جزا بھشت بریںھے۔ یہ کلمہ طیبّہ رحمت رحمانیہ ورحیمیہ کا مظھر ھے۔

چھٹے امام   (ع) سے روایت ھے کہ: خداوند تبارک وتعالی نے اپنی عزت وجلال کی قسم کھائی ھے کہ اھل توحید کو آگ کے عذاب میں ھر گز مبتلا نہ کرے گا۔[59]

اوررسول خدا    (ص)سے منقول ھے: ((ماجزاء من اٴنعم عزوجل علیہ بالتوحید إلا الجنة))[60]

جو اس کلمہ طیبہ کا ھر وقت ورد کرتاھے ، وہ حوادث کی جان لیوا امواج، وسواس اور خواھشات نفسانی کے مقابلے میں کشتی ِ ٴدل کو لنگرِ ((لا إلہ إلا اللّٰہ)) کے ذریعے ھلاکتوں کی گرداب سے نجات دلاتا ھے<اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوَبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ اٴَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ>[61]

کلمہ طیبہ کے حروف کوبالجھر اور بالاخفات دونوں طریقوں سے  ادا کیا جاسکتا ھے کہ جامعِ ذکرِ جلی وخفی ھے اور اسم مقدس ((اللّٰہ))پر مشتمل ھے، کہ امیرالموٴمنین   (ع) سے منقول ھے کہ: ((اللّٰہ)) اسماء خدا میں سے بزرگترین اسم ھے اور ایسا اسم ھے جو کسی مخلوق کے لئے نھیں رکھا گیا۔ اس کی تفسیر یہ ھے کہ غیر خدا سے امید ٹوٹ جانے کے وقت ھر ایک اس کو پکارتا ھے <قُلْ اٴَرَاٴَیْتَکُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُ اللّٰہِ اٴَوْ اٴَتَتْکُمُ السَّاعَةُ اٴَ غَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَةبَلْ إِیَّاہُ تَدْعُوْنَ فَےَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ إِلَیْہِ إِنْ شَاءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ>[62]

ابو سعید خدری نے رسول خدا   (ص)سے روایت کی ھے کہ خداوند جل جلالہ نے حضرت موسی   (ع) سے فرمایا :

اے موسی! اگر آسمانوں، ان کے آباد کرنے والوں (جو امر کی تدبیر کرنے والے ھیں)اور ساتوں زمینوں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور((لا إلہ إلا اللّٰہ)) کو دوسرے پلڑے میں تو یہ دوسرا پلڑا بھاری هوگا۔[63] (یعنی اس کلمے کے مقابلے میں تمام مادّیات ومجرّدات سبک وزن ھیں)۔

عدل

خداوندِ متعال کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے متعدد دلائل ھیں جن میں سے ھم بعض کاتذکرہ کریں گے:

۱۔ھر انسان، چاھے کسی بھی دین ومذھب پر اعتقاد  نہ رکھتاہو،  اپنی فطرت کے مطابق عدل کی اچھائی و حسن اور ظلم کی بدی و برائی کو درک کر سکتا ھے۔حتی اگر کسی ظالم کو ظلم سے نسبت دیں تو اس سے  اظھار نفرت اور عادل کھیں تو خوشی کا اظھار کرتا ھے۔شہوت وغضب کا تابع ظالم فرمانروا، جس کی ساری محنتوں کا نچوڑ نفسانی خواھشات کا حصول  ھے، اگر اس کا واسطہ محکمہ عدالت سے پڑ جائے اور قاضی اس کے زور و زر کی وجہ سے اس کے کسی دشمن کا حق پامال کر کے اس ظالم کے حق میں فیصلہ دے دے، اگر چہ قاضی کا فیصلہ اس کے لئے باعث مسرت وخوشنودی ھے لیکن اس کی عقل وفطرت حکم کی بدی اور حاکم کی پستی کو سمجھ جائیں گے۔جب کہ اس کے برعکس اگر قاضی اس کے زور و زر کے اثر میں نہ آئے اور حق وعدل کا خیال کرے، ظالم اس سے ناراض تو هو گا لیکن فطرتاً وہ قاضی اور اس کے فیصلے کو احترام کی نظر سے دیکھے گا۔

تو کس طرح ممکن ھے کہ جس خدا نے فطرت انسانی میں ظلم کو برا اور عدل کو اس لئے اچھا قرار دیا هو تاکہ اسے عدل کے زیور سے مزین اور ظلم کی آلودگی سے دور کرے اور جو <إِنَّ اللّٰہَ یَاٴْمُرُ بِالْعَدْلِ

وَاْلإِحْسَانِ>[64]، <قُلْ اٴَمَرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ>[65]،<یَادَاودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَةً فِی اْلاٴَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْھَوٰی>[66]جیسی آیات کے مطابق عدل کا حکم دے وہ خود اپنے ملک وحکم میں ظالم هو؟!

۲۔ظلم کی بنیاد یا تو ظلم کی برائی سے لاعلمی، یا مقصد و ھدف تک پھنچنے میں عجز یا لغووعبث کام ھے، جب کہ خداوندِمتعال کی ذات جھل، عجز اور سفا ہت سے پاک ومنزہ ھے۔

لہٰذا، علم، قدرت اور لا متناھی حکمت کا تقاضا یہ ھے کہ خداوند متعال عادل هو اور ھر ظلم و قبیح سے منزہ هو۔

۳۔ ظلم نقص ھے اور خداوندِمتعال کے ظالم هونے کا لازمہ یہ ھے کہ اس کی ترکیب میں کمال ونقصان اور وجود وفقدان بیک وقت شامل هوں، جب کہ اس بات سے قطع نظر کہ یہ ترکیب کی بدترین قسم ھے، کمال ونقص سے مرکب هونے والا موجود  محتاج اور محدود هوتا ھے اور یہ دونوں صفات مخلوق میں پائی جاتی ھیں نہ کہ خالق میں۔

لہٰذا نتیجہ یہ هوا کہ وہ تخلیق کائنات <شَھِدَ اللّٰہُ اٴَنَّہ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ ھُوَ وَالْمَلاَئِکَةُ وَ اٴُوْلُوالْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ>[67]،قوانین واحکام <لَقَدْ اٴَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَ اٴَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ>[68] اور قیامت کے دن لوگوں کے حساب وکتاب <وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ>[69] میں عادل ھے۔

عن الصادق   (ع) :((إنہ ساٴلہ رجل فقال لہ :إن اٴساس الدین التوحید والعدل، وعلمہ کثیر، ولا بد لعاقل منہ، فاٴذکر ما یسھل الوقوف علیہ ویتھیاٴ حفظہ، فقال: اٴما التوحید فاٴن لا تجوّز علی ربک ماجاز علیک، و اٴما العدل فاٴن لا تنسب إلی خالقک ما لامک علیہ))[70] اور ھشام بن حکم سے فرمایا: ((اٴلا اٴعطیک جملة في العدل والتوحید ؟ قال: بلی، جعلت فداک، قال: من العدل اٴن لا تتّھمہ ومن التوحید اٴن لا تتوھّمہ))[71]

اور امیر المومنین   (ع) نے فرمایا:((کل ما استغفرت اللّٰہ منہ فھومنک،وکل ما حمدت اللّٰہ علیہ فھومنہ))[72]

[1] سورہ فصلت، آیت ۵۳۔”اور کیا پروردگار کے لئے یہ بات کافی نھیں ھے کہ وہ ھر شئے کا گواہ اور سب کا دیکھنے والا ھے“۔

[2] بحار الانوار،جلد ۸۴، صفحہ ۳۳۹، بیان مولی الموحدین علیہ السلام۔”اے وہ کہ جس کی ذات دلالت کرتی ھے اس کی ذات پر (اپنی شناخت میں کسی کا محتاج نھیں)

[3] بحارالانوار، جلد ۹۵، صفحہ ۸۲، بیان حضرت امام زین العابدین علیہ السلام۔”تجھ کو تیرے ھی ذریعہ پہچانا ھے اور تو خوداپنی ذات پر دلالت کرتا ھے“۔

[4] سورہ طور، آیت ۳۵۔”کیایہ بغیر کسی چیز کے از خود پیدا هوگئے ھیں یا یہ خودھی پیدا کرنے والے ھیں“۔

[5] بحارالانوار جلد۳، صفحہٴ ۳۶۔حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آکر پوچھتا ھے : ”یابن رسول اللہ  عالَم کے حادث هونے پر کیا دلیل ھے؟حضرت فرماتے ھیں:تم پھلے نھیں تھے پھر تم هوگئے باتحقیق تم جانتے هو کہ تم نے اپنے آپ کو نھیں پیدا کیا(اور یہ بھی جانتے هو کہ)جس نے تم کو وجود بخشا ھے وہ تمھارے جیسا نھیں ھے“۔

[6] سوره توحید، صحفه 290 .

[7] بحارالانور،جلد ۴، صفحہٴ ۲۸۲۔”جو چیز جس امر کے لئے پیدا کی گئی ھے اس کے لئے سھل وآسان ھے“۔

[8] سورہ احزاب ، آیت ۶۲۔”اور خدائی سنت میں کوئی تبدیلی نھیں هو سکتی ھے“۔

[9] سورہ نمل ، آیت ۶۰۔”بھلا وہ کون ھے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ھے اور تمھارے لئے آسمان سے پانی برسایا ھے پھر ھم نے اس سے خوشنما باغ اگائے ھیں کہ تم ان کے درختوں کو نھیں اگا سکتے تھے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور خدا ھے نھیں بلکہ یہ قوم وہ ھے جس نے حق سے عدول کیا ھے۔

[10] سورہ واقعہ، آیت ۷۲۔”اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ھے یا ھم اس کے پیدا کرنے والے ھیں“۔

[11] سورہ حجر، آیت ۱۹۔”اور ھر چیز کو معینہ مقدار کے مطابق پیدا کیا ھے “۔

[12] سورہ الرحمن، آیت ۶۔”اور ستارے اور درخت سب اسی کا سجدہ کررھے ھیں“۔

[13] بحارالانوار، جلد۳، صفحہٴ ۳۱۔

[14] بحارالانوار، جلد ۳، صفحہٴ ۳۲۔ ”اور موروں کے رنگ کی طرح مختلف رنگ پھوٹیں گے“۔

[15] سورہ اعلی، آیت ۲و۳۔”پیدا کیا اور درست بنا یاھے۔جس نے تقدیر معین کی ھے اور پھر ھدایت دی ھے“۔

[16] بحارالانوار، جلد۳، صفحہٴ ۳۲۔”حضرت فرماتے ھیں:کیا اس کے لئے کسی مدبر کو دیکھتے هو:تھوڑی دیر سکوت کے بعد خدا کی وحدانیت ومحمد کی رسالت وآنحضرت کی امامت پر ایمان لے آیا اور اپنے گذشتہ عمل کی توبہ کی“۔

[17] ثنایا: اوپر کے دو دانت جو سامنے کی طرف هوتے ھیں، انیاب: اوپر کے دو نوک دار دانت، طواحن: ڈاڑھیں۔

[18] سورہ ذاریات، آیت ۲۱۔”اور خود تمھارے اندر بھی ۔ کیا تم نھیں دیکھ رھے هو“۔

[19] سورہ روم، آیت ۸۔”کیا ان لوگوں نے اپنے اندر فکر نھیں کی ھے“۔

[20] سورہ نحل، آیت ۱۸۔”اور تم اللہ کی نعمتوں کو شمار نھیں کر سکتے هو“۔

سورہ نحل، آیت ۱۸۔”اور تم اللہ کی نعمتوں کو شمار نھیں کر سکتے هو“۔

[21] سورہ طارق ، آیت۵،۶ ۔”پھر انسان دیکھے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ھے۔وہ ایک اچھلتے هوئے پانی سے پیدا کیا گیا ھے“۔

[22] سورہ زمر، آیت ۶۔ ”وہ تم کو تمھاری ماوٴں کے شکم میں خلق کرتا ھے ایک کے بعد ایک خلقت جو تین تاریکیوں کے درمیان ھے“۔

[23] سورہ علق، آیت ۳،۴،۵۔ ”پڑھو! اور تمھارا پروردگار بزگوار ھے، جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی ھے۔ اور انسان کو وہ سب کچھ بتا دیا ھے جو اسے نھیں معلوم تھا“۔

[24] سورہ لقمان، آیت ۲۰۔”کیا تم لوگوں نے نھیں دیکھا کہ اللہ نے زمین وآسمان کی تمام چیزوں کو تمھارے لئے مسخر کردیا ھے اور تمھارے لئے تمام ظاھری اور باطنی نعمتوں کو مکمل کر دیا ھے اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ھیں جو علم وھدایت اور روشن کتاب کے بغیر بھی خدا کے بارے میں بحث کرتے ھیں“۔

[25] سورہ مٴومنون، آیت ۱۴۔”وہ خدا جو سب سے بہتر خلق کرنے والا ھے“۔

[26] سورہ فصلت، آیت۵۳ ۔”ھم عنقریب اپنی نشانیوں کو تمام اطراف عالم میں اور خود ان کے نفس کے اندر دکھلائیں گے تاکہ ان پر یہ بات واضح هو جائے کہ وہ حق ھے“۔

[27] سورہ یس، آیت۴۰ ۔”نہ آفتاب کے بس میں ھے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات کے لئے ممکن ھے کہ وہ دن سے آگے بڑھ جائے ۔ اور یہ سب کے سب اپنے اپنے فلک اور مدار میں تیرتے رہتے ھیں“۔

[28] سورہ فرقان، آیت۶۲ ۔”اور وھی ھے جس نے رات اور دن میں ایک کو دوسرے کا جانشین بنایا ھے اس کے لئے جو عبرت حاصل کرنا چاہتا ھے“۔

[29] سورہ قصص، آیت ۷۳۔”یہ اس کی رحمت کا ایک حصہ ھے کہ اس نے تمھارے لئے رات لے آئے گا رات اور دن دونوں بنائے ھیں تاکہ آرام بھی کر سکو اور رزق بھی تلاش کر سکو“۔

[30] سورہ قصص، آیت ۷۱۔”آپ کہئے کہ تمھارا کیا خیال ھے اگرخدا تمھارے لئے رات کو قیامت تک کے لئے ابدی بنادے تو کیا اس کے علاوہ اور کوئی معبود ھے جو تمھارے لئے روشنی کو لے آسکے تو کیا تم بات سنتے نھیںہو“۔

[31] سورہ اعراف، آیت۱۸۵ ۔”اور کیا ان لوگوں نے زمین وآسمان کی حکومت اور خدا کی تمام مخلوقات میں غور نھیں کیا“۔

[32] سورہ انعام، آیت۷۵ ۔”اور اسی طرح ھم ابراھیم کو ملکوت آسمان و زمین دکھلائیں گے، اور اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں شامل هو جائیں“۔

[33] سورہ اسراء، آیت۸۵۔”اورتمھیں بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ھے“۔

[34] سورہ عنکبوت، آیت۶۱۔”اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ھے اور آفتاب و ماہتاب کو کس نے مسخر کیا ھے تو فوراً کھیں گے کہ اللہ، تو یہ کدھر بہکے چلے جارھے ھیں“۔

[35] سورہ زخرف، آیت ۹۔”اور آپ ان سے سوال کریں گے کہ زمین وآسمان کو کس نے پیدا کیا ھے تو یقینا یھی کھیں گے کہ ایک زبردست طاقت والی اور ذی علم ھستی نے خلق کیا ھے“۔

[36] توحید، صفحہ ۲۵۰۔

[37] سورہ یس،آیت ۸۲۔”اس کا صرف امر یہ ھے کہ کسی شئے کے بارے میں یہ کھنے کا ارادہ کر لے کہ هو جااور وہ شئے هو جاتی ھے“۔

[38] سورہ انعام، آیت۶۳ ۔”ان سے کہہ دیجئے کہ خشکی اور تری کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ھے جب تم گڑا گڑا کر اور خفیہ طریقہ سے آواز دیتے هو کہ اگر اس مصیبت سے نجات دے دے گا تو ھم شکر گذار بن جائیں گے“۔

[39] سورہ زمر، آیت ۸۔”اور جب انسان کو کوئی تکلیف پھنچتی ھے تو پوری توجہ کے ساتھ پروردگار کو آواز دیتا ھے پھر جب وہ اسے کوئی نعمت دیدیتا ھے تو جس بات کے لئے اس کو پکاررھا تھا اسے یکسر نظر انداز کردیتا ھے اور خدا کے لئے مثل قرار دیتا ھے تاکہ اس کے راستے سے بہکا سکے“۔

[40] سورہ یونس، آیت ۲۲ ۔”وہ خدا وہ ھے جو تمھیں خشکی اور سمندر میں سیرکراتا ھے یھاں تک کہ جب تم کشتی میں تھے اور پاکیزہ هوائیں چلیں اور سارے مسافر خوش هوگئے تو اچانک ایک تیز هواچل گئی اور موجوں نے ھر طرف سے گھیرے میں لے لیا اور یہ خیال پیدا هو گیا کہ چاروں طرف سے گھر گئے ھیں تو دین خالص کے ساتھ اللہ سے دعا طلب کرنے لگے کہ اگر اس مصیبت سے نجات مل گئی تو ھم یقینا شکر گذار وں میں هو جائیں گے“۔

[41] بحارالانوارجلد ۳،صفحہ۴۱،  ترجمہ:  ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: یابن رسول اللہ ! مجھ کو خداکے بارے میں بتایں کہ وہ کیا ھے؟میں نے بہت زیادہ مجادلہ کرنے والوں کو دیکھا لیکن ان سب کی بحثوں نے مجھ کو پریشان کردیا ھے۔

[42] سورہ حدید، آیت ۳۔”وھی اول ھے وھی آخر وھی ظاھر ھے وھی باطن ھے اور وھی ھر شئے کا جاننے والا ھے“۔

[43] سورہ حشر، آیت۲۴ ۔”وہ ایسا خدا ھے جوپیدا کرنے والا، ایجاد کرنے والا اور صورتیں بنانے ولا ھے اس کے لئے بہترین نام ھیں“۔

[44] سورہ عنکبوت، آیت۶۹ ۔”اور جن لوگوں نے ھمارے حق میں جھاد کیا ھے ھم انھیں اپنے راستوں کی ھدایت کریں گے “۔

[45] بحارالانوارجلد۳، صفحہٴ۴۳۔ترجمہ: حضرت ابن ابی العوجاء سے فرماتے ھیں:وای تجھ پر وہ ذات کیسے تجھ سے چھپ سکتی جس نے خود تیرے نفس میں اپنے وجود کا اظھار کیا ھے تو نھیں تھا تجھ کو پید اکیا خود تیرا چھوٹے سے بڑا هونا ، تیری قدرت و توانائی تیری عاجزی کے بعد، تیری ناتوانی قدرت کے با وجود، تیرا مریض هو نا تیری صحت مندی کے بعد، بیماری کے بعد پھر تیراصحتیاب هونا ، تیرا غصہ خوشی کے یا پھر تیری خوشی غصہ کے بعد غم شادی کے بعد و سرور غم و حزن کے بعد تیری دوستی دشمنی کے بعد یا پھر دشمنی دوستی کے بعد، تیرا عزم وارادہ انکار کے بعدیا پھر تیرا انکار کرنا عزم و ارادہ کے بعد تیرا اشتیاق تیری ناراحتی کے بعد یا پھر تیری کراہت شوق کے بعد۔

تیرا شوق و علاقہ خوف وحراس کے بعد یا تیرا ڈرنا رغبت کے بعد تیری امیدی نا امیدی کے بعد یا ناامیدی امیدی کے بعد، جس کو تونے سوچا بھی نہ وہ تمھارے خیال میں آجائے اور جو تمھارے ذھن پر سوار تھا ایک دم غائب هو جائے ۔

ابن ابی العوجا ء کہتا ھے:اس طرح کی قدرت کے آثار کو میرے وجود میں گنوارھے تھے کہ جس کا انکار و چشم پوشی ممکن نھیں تھا یھاں تک مجھ کو احساس هوا کہ عنقریب خدائے وحدہ لاشریک میرے و امام کے درمیان ظاھر هو جائے گا ۔

[46] توحید کے چند مرتبہ ھیں:

توحید ذات:  ھر موجود مرکّب ھے سوائے خداوندعالم کی ذات کے، وہ ایسا واحد ھے جس کی یکتائی عین ذات ھے۔

اس کے علاوہ ھر موجود جز جز هونے کے قابل ھے جس طرح جسم مادہ اور صورت دو جز پر تقسیم هوتا ھے، قوہ وھم میں زمان کو لحظات پر تقسیم کیا جاتا ھے، عقل انسان کو انسانیت و وجود اور ھر متناھی موجود کو محدود اور حد پر منقسم کرتی ھے۔

جنگ جمل کے موقع پر حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے سوال هوا: یا امیر المومنین! (علیہ السلام) کیا آپ فرماتے ھیں: کہ بے شک خدا ایک ھے؟ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، تیرے سوال کا اس حالت میں موقع نھیں ھے۔

حضرت نے جواب دیا: اس کو چھوڑ دو، یہ جو سوال مجھ سے پوچھ رھا ھے، میں وھی اس قوم سے خواھاں هوں، میری مراد توحید ھے، اس کے بعد حضرت نے فرمایا: یہ جملہ کہ خدا ایک ھے، چار قسموں پر تقسیم هوتا ھے۔

اس میں سے دو قسمیں خدا کے سلسلے میں جائز نھیں لیکن دوسری دو قسمیں اس کی ذات کے لئے ثابت ھیں، اور وہ دو قسمیں جو جائز نھیںھیں یہ ھیں:

۱)  وہ ایک جو دعدد میں آتا ھے (جیسے  ۱، ۲، ۳۔۔۔) اس کی واحدانیت، عددی وحدانیت نھیں ھے،کیونکہ اپنا ثانی رکھنے والے واحد، اور اپنا ثانی نہ رکھنے والے واحد پر بطور یکساں واحد کا اطلاق نھیں کیا جاسکتا،  <لَقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا اِنَّ اللهَ ثَالِثُ ثَلاَثَةٍ> (سورہ مائدہ آیت ۷۳، ”بے شک وہ لوگ کافر هوگئے جنھوں کھا :اللہ ان تین میں سے تیسرا ھے“۔

۲)  ایسا واحد جو کسی جنس کی ایک قسم پر اطلاق هوتا هو، مثلاً کھا جائے: ”وہ لوگوں میں سے ایک ھے“، ایسا واحد جو کسی نوع و  صنف کی ایک فرد پر اطلاق هوتا ھے، خداوندعالم پر اطلاق نھیں هوتا کیونکہ اس اطلاق و ا ستعمال میں تشبیہ پائی جاتی ھے، حالانکہ خدا کوئی شبیہ نھیں رکھتا۔

لیکن وہ قسمیں جو خدا کی ذات پر اطلاق کرنا جائز ھے:

۱)وہ ایسا واحد ھے جس کی کوئی شبیہ نھیں ھے۔

۲)   خداوندعالم ایسا واحد جس کی تقسیم عقل و وھم میں بھی ممکن نھیں ھے، (بحار الانوار، ج۳، ص ۲۰۶۔)

تو حید ذات و صفات:یعنی خدا کے صفات ذاتی ھیں، جیسے حیات، علم، قدرت عین ذات ھیں، و گرنہ ذات و صفت جدا جدا هونا تجزیہ و ترکیب کا باعث هوگا، وہ جو اجزاء سے مرّکب هوگا وہ جو اجزاء سے مرکب هو وہ اپنے اجزا کا محتاج هوگا، (اور محتاج خدا نھیں هوسکتا)

اسی طرح اگر صفات کو ذات سے جدا مان لیں تو لازم یہ آتا ھے وہ مرتبہ ذات میں فاقد صفات کمال هو، اور اس کی ذات ان صفات کے امکان کی جہت پائی جائے، بلکہ خود ذات کا ممکن هونا لازم آئے گا، کیونکہ جو ذات صفات کمال سے خالی هو اور امکان صفات کی حامل هو وہ ایسی ذات کی محتاج ھے جو غنی بالذات هو۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ھیں: خدا کی سب سے پھلی عبادت اس کی معرفت حاصل کرنا ھے۔اور اصل معرفت خدا کی وحدانیت کا اقرار ھے، اور نظام توحید یہ ھے کہ اس کی صفات سے صفات کی نفی و انکار کرنا ھے، (زائد بر ذات) اس لئے کہ عقل گواھی دیتی ھے کہ ھر صفت اور موصوف مخلوق هوتے ھیں، اور ھر مخلوق کا وجود اس بات پر گواہ ھے کہ اس کا کوئی خالق ھے، جو نہ صفت ھے اور نہ موصوف۔ (بحار الانوار، ج۵۴، ص ۴۳)

توحید در الوھیت:

<وَإِلَہُکُمْ إِلَہٌ وَاحِدٌ لاَإِلَہَ إِلاَّ هو الرَّحْمَانُ الرَّحِیمُ>  (سورہ بقرہ، آیت ۱۶۳)

”تمھارا خدا خدائے واحد ھے کوئی خدا نھیں جز اس کے جو رحمن و رحیم ھے“۔

توحید در ربوبیت: خداوندعالم کا ارشاد ھے:

<قُلْ اٴَغَیْرَ اللهِ اٴَبْغِی رَبًّا وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ >(سورہ انعام، آیت ۱۶۴)

”کہو کیا اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو رب بنائیں حالانکہ کہ وہ ھر چیز کا پروردگار ھے“۔

<اٴَ اٴَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ اٴَمْ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ (سورہ یوسف، آیت۳۹)

”آیا متفرق و جدا جدا ربّ کا هونا بہتر ھے یا اللہ سبحانہ کا جو واحد اور قھار ھے“۔

توحید در خلق:  <قُلْ اللهُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ وَہُوَ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ> (سورہ رعد، آیت۱۶)

”کہہ دیجئے کہ اللہ ھر چیز کا خالق ھے اور وہ یکتاقھار ھے“۔

<وَالَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لاَیَخْلُقُونَ شَیْئًا وَہُمْ یُخْلَقُونَ> (سورہ نحل، آیت۲۰)

”اور وہ لوگ جن کو خدا کے علاوہ پکارا جاتا ھے وہ کسی کو خلق نھیں کرتے بلکہ وہ خلق کئے جاتے ھیں“۔

توحید در عبادت:یعنی عبادت صرف اسی کی ذات کے لئے منحصر ھے۔

<قُلْ اٴَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلاَنَفْعًا>( سورہ ٴ مائدہ، آیت ۷۶۔)”کہ کیا تم خدا کے علاوہ ان کی عبادت کرتے هو جو تمھارے لئے نہ نفع رکھتے ھیں نہ نقصان ؟)

توحید در اٴمر وحکم خدا:< اٴَلاَلَہُ الْخَلْقُ وَالْاٴَمْرُ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِینَ>( سورہٴ اعراف ، آیت ۵۴۔)

”آگاہ هو جاوٴ صرف خدا کے لئے حکم کرنے و خلق کرنے کا حق ھے بالا مرتبہ ھے خدا کی ذات جو عالمین کا رب ھے“۔

<إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّہ>( سورہ یوسف، آیت ۱۰۔)”کوئی حکم نھیں مگر خدا کا حکم“۔

توحید در خوف وخشیت: (یعنی صرف خدا سے ڈرنا)

<فَلاَتَخَافُوہُمْ وَخَافُونِی إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ>( سورہ آ ل عمران، آیت ۱۷۵۔)”پس ان سے نہ ڈرو اگر صاحبان ایمان هو تو مجھ سے ڈرو“۔

<فَلاَتَخْشَوْا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ>( سورہ مائدہ، آیت ۴۴۔)”لوگوں سے مٹ ڈرو مجھ سے ڈرو(خشیت خدا حاصل کرو“۔

توحید در مُلک: (یعنی کائنات میں صرف اس کی حکومت ھے)

< وَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیکٌ فِی الْمُلْکِ> (سورہ اسراء ، آیت ۱۱۱۔)”کہو ساری تعریفیں ھیں اس خدا کی جس کا کوئی فرزند نھیں اور ملک میں اس کا کوئی شریک نھیں“۔

توحید در ملک نفع وضرر: یعنی نفع و نقصان کا مالک وہ ھے)

<قُلْ لاَاٴَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلاَضَرًّا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ>( سورہ اعراف، آیت ۱۸۸۔)”کہو بس اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نھیں هوں مگر وہ جو اللہ سبحانہ چاھے“۔

< قُلْ فَمَنْ یَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللهِ شَیْئًا إِنْ اٴَرَادَ بِکُمْ ضَرًّا اٴَوْ اٴَرَادَ بِکُمْ نَفْعًا۔۔۔>( سورہ فتح، آیت ۱۱۔)”کہو بس کون ھے تمھارے لئے خدا کے مقابل میں کوئی دوسرا اگر وہ تمھارے لئے نفع و نقصان کا ارادہ کرے“۔

توحید در رزق: (رزاق صرف خدا ھے)

<قُلْ مَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ قُلْ اللهُ>(سورہ سباء، آیت ۲۴۔)”کہو کون ھے جو زمین وآسمان سے تم کو روزی عطاء کرتا ھے کہوخدائے متعال)

<اٴَمَّنْ ہَذَا الَّذِی یَرْزُقُکُمْ إِنْ اٴَمْسَکَ رِزْقَہُ>( سورہ ملک ، آیت ۲۱۔)”آیا کون ھے تم کو روزی دینے والا اگر وہ تمھارے رزق کو روک لے“۔

توحید در توکل: (بھروسہ صرف خدا کی ذات پر)

<وَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ وَکَفَی بِاللهِ وَکِیلاً>( سورہ احزاب، آیت ۳۔)”اور اللہ پر بھروسہ کرو اس کو وکیل بنانا دوسرے سے بے نیاز کردیتا ھے“۔

<اللهُ لاَإِلَہَ إِلاَّ هو وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُؤْمِنُونَ>( سورہ ،تغابن آیت ۱۳۔)”کوئی خدا نھیں سوائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بس مومنوں کو چاہئے خدا پر توکل کریں“۔

توحید در عمل:(عمل صرف خدا کے لئے)

<وَمَا لِاٴَحَدٍ عِنْدَہُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَی ز إِلاَّ ابْتِغَاءَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاٴَعْلَی>(سورہ لیل، آیت ۔۲۰۔۱۹۔)”اور لطف الٰھی یہ ھے کہ)کسی کا اس پر احسان نھیں جس کا اسے بدلہ دیا جاتا ھے بلکہ (وہ تو)صرف اپنے عالیشان پروردگار کی خوشنودی حاصل کر نے کے لئے (دیتاھے)

توحید در توجہ : (انسان کی توجہ صرف خدا کی طرف هونی چاہئے)

<إِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ>( سورہ انعام، آیت ۷۹۔)”بے شک میں نے اپنے رخ اس کی طرف موڑ لیا جس نے زمین وآسمان کو خلق کیا“۔

یہ ان لوگوں کا مقام ھے جو اس راز کو سمجھ چکے ھیں کہ دنیا و مافیھا سب کچھ ھلاک هوجائے گا۔

<کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ إِلاَّ وَجْہَہُ>( سورہ قصص، آیت ۸۸۔)(کائنات میں)ھر چیز ھلا ک هو جائے گی جز اس ذات والاکے“  <کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ ز وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلاَلِ وَالْإِکْرَامِ>( سورہ رحمن، آیت ۲۷۔۲۶۔)”ھر وہ چیز جو روئے زمین پر ھے سب کچھ فنا هونے والی ھے اور باقی رھنے والی (صرف)تیرے پروردگار کی ذات ھے جو صاحب جلالت وکرامت ھے“۔

فطرت میں جو توحید خدا پنھاں ھے اس کی طرف توجہ سے انسان کے ارادہ میں توحید جلوہ نمائی کرتی ھے جس کا نتیجہ یہ ھے کہ <وَعَنَتْ الْوُجُوہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّومِ>(سورہ طہ، آیت۱۱۱)”اور ساری خدائی کے منھ زندہ وپائندہ خدا کے سامنے جھک جائیں گے“۔  (فطرت توحیدی کی طرف توجہ انسان کے ارادہ کو توحید کا جلوہ بنا دیتی ھے)

[47] سورہ زخرف، آیت ۸۴۔”اور وھی وہ ھے جو آسمان میں بھی خد اھے اور زمین میں بھی خدا ھے اور وہ صاحب حکمت بھی ھے“۔

[48] سورہٴ بقرہ، آیت۲۱۔۲۲۔”اے انسانو!پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمھیں بھی پیدا کیا ھے اور تم سے پھلے والوں کو بھی خلق کیا ھے شاید کہ تم اسی طرح متقی اور پرھیزگار بن جاوٴ۔اس پروردگار نے تمھارے لئے زمین کا فرش اور آسمان کا شامیانہ بنایا ھے اور پھر آسمان سے پانی برسا کر تمھاری روزی کے لئے زمین سے پھل نکالے ھیں لہٰذا اس کے لئے کسی کو ھمسراور مثل نہ بناوٴ اور تم جانتے هو“۔

[49] بحار الانوار، ج۳ /۲۳۰۔

[50] نھج البلاغہ خطوط۳۱۔ حضرت کی وصیت امام حسن علیہ السلام کے نام۔

ترجمہ:(جان لو اے میرے لال!اگر خدا کا کوئی شریک هوتا تو اس کے بھیجے هوئے پیامبر بھی تمھارے پاس آتے اور اس کی قدرت وحکومت کے آثار دیکھتے اور اس کی صفات کو پہچانتے)

[51] سورہٴ مریم،آیت ۹۳۔”زمین وآسمان میں کوئی ایسا نھیں ھے جو اس کی بارگاہ میں بندہ هو کر حاضر هونے والا نہ هو“۔

[52] سورہٴ فاطر، آیت۱۵۔”انسانو! تم سب اللہ کی بارگاہ کے فقیر هو اور اللہ غنی (بے نیاز) اور قابل حمد و ثنا ھے“۔

[53] سورہٴ آل عمران، آیت۱۰۹۔”اور اللہ کی طرف پلٹتے ھیں سارے امور“۔

[54] سورہ بقرہ،ا ٓیت۱۵۶۔”ھم اللہ ھی کے لئے ھیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ھیں“۔

[55] سورہ سباء،ا ٓیت۴۶۔”پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میں تمھیں صرف اس بات کی نصیحت کرتا هوںکہ اللہ کے لئے دو دو اور ایک ایک کرکے قیام کرو“۔

[56] سورہ نور،آ یت۳۵۔”اللہ آسمانوں اورزمین کا نور ھے“۔

[57] سورہ انعام، آیت۷۹۔” میرا رخ تمام تر اس خدا کی طرف سے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ھے اور میں استقامت کے ساتھ توحید میں هوں اور مشرکوں میں سے نھیں هوں“۔

[58] توحید صدوق ص۱۹۔

[59] توحید ص۲۰ ۔

[60] توحید ص۲۲۔ اس شخص کی جزا اس کو خدا نے نعمت توحید سے نوازا ھے جز بھشت کچھ نھیں ۔

[61] سورہ ٴ رعد، آیت ۲۸۔”یہ وہ لوگ ھیں جو ایمان لائے ھیں اور ان کے دلوں کو یاد خدا سے اطمینان حاصل هوتا ھے اور آگاہ هو جاوٴ کہ اطمینان یاد خدا سے ھی حاصل هوتاھے“۔

[62] سور ہٴ انعام، آیت۴۰۔۴۱۔”آپ ان سے کہئے کہ تمھارا کیا خیال ھے کہ اگر تمھارے پاس عذاب یا قیامت آجائے تو کیا تم اپنے دعوے کی صداقت میں غیر خدا کو بلاوٴگے۔ تم خدا ھی کو پکاروگے اور وھی اگر چاھے گا تو اس مصیبت کو رفع کر سکتا ھے۔اور تم اپنے مشرکانہ خداوٴں کو بھول جاوٴگے“۔

[63] توحید، ص۳۰۔

[64] سورہ نحل، آیت ۹۰۔”باتحقیق خدا وند متعال عدل واحسان کا امر کرتا ھے“۔

[65] سورہ اعراف، آیت ۲۹۔ ”کہو میرے رب نے انصاف کے ساتھ حکم کیا ھے“۔

[66] سورہ ص، آیت ۲۶۔ ”اے داوٴد (ع)!ھم نے تم کو روئے زمین پر خلیفہ بنایا ھے تو تم لوگوں کے درمیان بالکل ٹھیک فیصلہ کرو اور هویٰ وہوس کی پیروی مت کرو“۔

[67] سورہ آل عمران ، آیت ۱۸۔”خدا نے خود اس بات کی شھادت دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نھیں ھے و کل فرشتوں نے اور صاحبان علم نے جو عدل پر قائم ھیں (یھی شھادت دی) کہ سوائے اس زبردست حکمت والے کے اور کوئی معبود نھیں ھے“۔

[68] سورہ حدید ، آیت ۲۵۔ ”ھم نے یقینا اپنے پیغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بھیجا ھے اور ان کے ساتھ کتاب (انصاف کی)ترازو نازل کی تاکہ لوگ قسط وعدل پر قائم رھیں“۔

[69] سورہ یونس، آیت ۵۴۔ ”اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ حکم کیا جائے گا اور ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نھیں کیا جائے گا“۔

[70] بحار الانوار ج۴ ص۲۶۴۔

امام جعفر صاد ق علیہ السلام فرماتے ھیں :بتحقیق دین کا اساس توحید و عدل ھے اور اس کا علم بھی بہت زیادہ ھے ھر ذی عقل کے لئے لازم و ضروری ھے کہ اس کو حاصل کرے پس میں ان امور کو ذکر کرتا هوں جن پر ٹھھر کر ان کی حفاظت کی آمادگی کرنا آسان ھے پھر فرمایا:بس توحید یعنی وہ چیزیں جو تم پر جائز ھیں خدا پر جائز نہ جاننا “۔

اور عدل:یعنی اپنے خالق کی طرف ان امور کو نہ پلٹانا جن پر اس نے تیری ملامت کی ھے۔

[71] بحار الانوارج ۵ ص۵۸۔

حضرت امام ششم علیہ السلام نے ھشام سے فرمایا:کیا تم کو توحید و عدل کا جملہ عطا کردوں ھشام نے جواب دیا میری جان فدا هو آپ ھاں۔حضرت نے فرمایا:عدل یہ ھے کہ اس کوکسی امر میںمتھم نہ کرو اور توحید یہ ھے کہ کسی بھی طرح کا توھم اس کے بارے میں نہ کرنا“۔

[72] بحار الانوارج۵ ص۵۹۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:ھر وہ چیز جس پر خدا سے استغفار کرتے هو وہ تم سے ھے اور ھر وہ چیز جس پر تم خدا کی حمد کرتے هو وہ خدا سے ھے“۔


source : http://www.fazael.com/
  70
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

کیا علم خدا کی موجوده زمانه کے موسم شناسی اور ...
کتاب شريف "الاستبصار" کا تعارف
عقيدہ توحيد کے بارے ميں آئمہ کرام کے فرامين
اس كی سند میں مندرجہ ذیل راوی ھیں
خداوند عالم نے یه جانتے هوئے که بهت سے لوگ جهنم میں ...
علم معمہ
تقرب خدا کے درجات
جن اور اجنہ کےبارے میں معلومات (قسط -2)
قرآن میں بیان کی گئیں مسلمانوں کی دعائیں
اللہ کی ذات سب صفات کی مالک

 
user comment